Skip to main content

Full text of "Ahadees-ul-Mozooa Fi-Fazail-e-Muaviyah"

See other formats


ا مت 


۴ 


بب 


ال[ 


ہوں۔ : 


0 


لاھور۔ پا 


کستاتن 


8۰ لیے رو یل ہی سار یت 
د ےک کے ٠ً‏ کش کاعاا 
5 رکاج خی 2 
یں او یں 0 ۳ 
مم 6ر کے پا ۵۲0 
سک رو و بی رو بی رع با منوربوں یں ودت 


















ات 





وو 





یو 
کنینرڑ 
٦‏ ا پت ہک ہہ ےج 


کال :جا معراسلا هپ لا ہور 








مات 


مار وی 


ر ریچ کال ر :جا معاسلا میےءلا ہور 





۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





نامکتابں : الأحادیث الموضوعة في فضائل معاویة 
پوفرٹٹگ _: علا ےناج رنقظْیر, یءاو شر لف 

قحب 2 ررض 

کپونگ نے مر طابرفشی اد شرف(بابل پر 


بک درک گھرھا 
قرو ؛: 1000 
الطبعةالاولی ہے ۹٤٤٥ھ‏ اگست 2018 
نس 
پر : شارآرٹ پرلیں(رائویٹ)ل یش یکل ہیر 


(9ن:138507 3575 042. 


بثر : مکتَداب الیفل,زمور 


8 0321 .21 500 41 0300 ۳۵۸۰ ۰۸١۱۲+نا5ف5۰-5ھ+۲۸/۸۸۵ءہ۔:۰‏ ا٥٥٥‏ 
<ەہ ہو00 11 :الا طەطمط××فہ: 
ڈسٹری بیوٹرز 
ضیارالقآان پل یکیشن بش روڈلا ہور/اردہ با زار کرای 
عحیائ یکپ نخاشہ: جن مارکی ٹک اہی 
کک جو شی کرای 
0300-2124630 
ا یککارپورفشنءاتبال رو کن جول :راوپنڈی 
تک الا می : نم لبار 
کی خورشی رات نز دکینال ریس ٹاو :اد ٹریف(ہاول پچر) 


507 249 ممدہ: 


۱۸ نا0915 .٢٠ا‏ ۷۴ صمناد (ا۳5 ۷۷۱۱۷۸ ۸۷۰۷ 
:1981327205+ ×7 
.2131331 لطا ۶۲۵۰۵۳٠۵۷‏ 





























ے۔ گے وھ 


ا قوْلَا سَدِيْڈا, 


َايھَاالَِیْنَ امَْوْااتقُوااللّه رَفُوْ 


” امےایمائن دالو !این ےڈ رواورسینی با تو“ 





۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


مَنْ یْقل عَلَي مَالَمْ اقل قَليتَبَوَا مَقَعدَة مِنَ النار. 
ٹس مر ےھوانے سے دوبات کیچ جویس ن ےکی ف مکی 
ق سے چا یی ےکدداپنا لمکا نینم شش منانے“- 


کے مہ 0 
لے ت6 


إِن هذا الامر لا َصُلَحخ لطُلقَاء وَلَاْبَاءِالْلقاءِ ء لوق 


ِنْ اي مَا اِسْمَذيَرّثُ مَا جَمَعُتُ ليذ بن أَبيُ سُفََانَ 
أَييَ سُقَيَانَ وَلَايَة الشًام. 
”ناس ام کے لیلق راورطتا کی اوہ دک نیس + او راگ رٹیل موجودہ 
صورت حا لک پیل سے بھانپ لیا تو زی بن الوسغیان اور 
ماد ہین ابوسفیا نکوشا مک یککومت ند دج“ 





۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ہق اپنی رس معمول یس یکا لکول سنت کےا خی اورق می مم ین 
کرام کے ام مفسو بپکرن ےکی جسار تکرتا ہے جننپوں نے مس ی تعتب ے 
پالاتر رتچ ہوئے جس احادیشان وب شی صاحبھا الصلاۃ والتسلیمہ 
کذب دوہال سے منزد درا رک کے جذ بہ سے سرشارہوکراورگوا قب وتا را 
سے بے پرواپوکیفر باتک معاد کی شان یں نب یکریم حا کو بھی 
تقو ل ہیں فصو آامام الم محد لین ادرامیرالمو سن ن الد یشسید:الیام 
اسحاق بین ابرا تیم نف لی مروزیی العروف این راعو مہرم ال تھالیٰ علیہ- 
چرام نماک امام حام اور دوس رے ان کے مو دی مح دی نکرام رح لڈم 
انین۔ 

لہ اپنی رعت اورخی الرت پان کےکشل بھن مار ءکا حثرآن تل 
ران صدق وصفال ف مان ۓےچن یں ہواکےزغ پر چلنانمی سآ تھارجنہوں نے 
کٹ جانا قبول فر ما لگ رم وضو احاد یت اورعوٹ کا سہارا ‏ ےکرڑثدہ رہنا 
پندنفر ایا 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ طا‎ 2131331. 





الْحَمۂ لله رَبَ اْعَالَمیَْ وَالصّلاۂوَالسّلامُ عَلٰی سَیَدِنَ مُعَمُدِ 
وٌعلیٰ آل الطَيَِيَْالَاهِرِيْن الْمُطَهَرِینَ ء وَأَصْحَابِ 
الرَاضِدین المُجْميْنَ, 


اسباںہ۔ تالیف 

لکناب کے اسبابتالیف می سب سے بذاسبب دو رحاضریش موضوں و با١ل‏ اعادیث کے بڑ حت 
ہوۓ رعقا نکوروک ےکی ایک ادفی یکیش ہے۔ یو تو ہردورش ہرد نیم انی تی مکی رد ارچ دکاروں 
کی تحداد ڑھانے کے لیے احادییٹ موضصوصدو باطل ہکاسہارالیقی رہ ہے لان پاضیقر جب مل وجو دش سآنے والی 
ای تفص نظیم نے اس سلملہ میس پیل تام رپکاڑذ ڈدے ہیں رام لروف جب جا مسودالف تٹھادر 
کرای یل ۱۹۹۰ء سے 1۹۹۸رک ہ خطیب نات خطابات عم سور اش کی رکرتے ہوۓے میں ن ےکہا 
ٹھا:ق رآ ن نکی طر ف1و اوراحماریٹ موضضوں ے نمچ ریفس موصوحع روایا تکوطو رمشال بین 
کرتے ہو ےکہاتھ اکٹ یں ایی ہی روایات پپند ہی کی لک قاب زیادہ۔اقا قکا بات ےگہدہ ردات 
”ین تس مو ج ھی ریس پور می رےخلاف ایک ایم گیا۔ 

مجدا تظا مم کے پا غقای تآگ یمکرتہارےخطیب نے عحفرت صاح بک کاب پرا کی ککردیاے؛ 
عالاکنر ٹل ن بھی فذیضان سن تکامطالعہ بین سکیا تھا تقر ےک ہمیہرےخلاف دن بن فطاگ رم سےگرمت ہی 
گنی تیج مجبورا”فیضان سنت“ کامطالد شر غکرنا با سب سے پل وت ردابیت تلا لکی ءال کے بحدس یرک 
مطاہکیاق ا سکتا ب کو وضو وہل روایات مو پایا۔ پھر نے ان قام روایا تکیکم دک رنااورآن کے 
با نیکوواش کر شرو حکردیا یھ یریت روابات باطلہ دوستو ںک میلس میں زبان پربھی آ جائی ش٠‏ 
نیب دوس تنم رات نے چو مچھوٹے ٹیپ ریا رڈر می ستفو اکر کےآ کے پہچچادیا۔ ہہرعال مرا 
اڑسی پان کی ا طلاع حفرت صاح ب کوک یدودوم ری جھناکا رہ کے پا لتش ریف لا ۓے ء رد ددورتھاجب طخرت 
صاحب ش بیس رکھارادریش ٹل تھ اوردوالف سب کے ڈو م ھی ۔کذت وش کے بعدتشریف لے سے 
اور ریش معلوم ہوا ہآنپوں نے گج مقامات سے رجو عکرلیاہے اور تندہاپڈیشن میں اصلاح مج کرد 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 





ك2 2 جس حب نے مان می اپ اس پور یکا بکویمنسو کر نےکااعلان 
کرداہے۔ چیب ہو اکا غہوں نے ا سکتا ب کیو غکردیاج بقول ان کے بارگاورسال تاب شس 
مو لتی ؟ می وک ا ستتاب م کس یکا خواب م رق اک ہرسول الد ام نے د تاب اٹھارگ یی اور پسیدنا 
وٹ ما ورای ححفرت مقر ڈیہ اکورکھا دک اکرفرمار ہے تھے: 
”نی فیضان نت ' ہے اور بیگ الال تا در کی طرف سے مب رکی امت کے ےتفہ ہے“ 


(فیضان سنت قدیمء؛نظرٹانی شدہ ایڈیشن؛٤ص۳)‏ 
یہاں می بات قائل ذکر ےک فان سقت کی وضو وہاٹل رولیات کےخلاف میرے اس تق 
موادتیاہوگیاتھا:أ ےن ایام ٹس علام لام ول سعیرکی رم ا علیہ پوس علار مخت خیب الرتما ن صاحب 
اور ول مفتقی جرف ق نی دامت برکاتھم اورفنض دوسرے علا ءکرام نے بھی تر ت رفا پڑ ھا تھاادرسوائے ایک 
صاحب کے باقی سب علاءکرام نے زورد ےکرف مایاتھاکہ ا ںکتا بکوچییوادو۔ میں اس سلسلہمی لت بز پکا 
شکا رت اک راچا تک ایک دککھیرے پا ایک اعطا نکی پہ تیآ کی نس سککھاہواتاکہ ذگو تی اسلائ کی جانب 
سے دیس نطائی ( یم المرارں ) کی کلاس زکافلال تار ےآ از ہو ہے ۔ اس پر نے ای لی میس اپن 
ات کشا ئ رن ےکا دادور ککردیااورا سی دق تب رپ ری سے ان کے در نظائی کےآ ا زکااعلا نگیا- 
یعدم سحدانظامی نے تجب سے پہ پچ اکہآپ نے بڑکی دی سے اعلا نکیا ؛کیاکوئی ڈیل ہو ؟ یں نے 
کہا: جو مارک قدم انہوں نے اٹھال یا ے ا کی بروات یہ تکی خراہیاں دورہو ای ںگی اور یی ایا ہانگ٠‏ 
لین ار بت یکہ ہس نظ بدن کی با چرکوئی مناقن ا سم ریف سکیا اوس نے ارک چا پک کہ 
ںی نے پل سارے ریا ڈتڑڈانے۔ 
پیل یلگ جس فا اعمال میں م وضو ورائل روایات بیا نکرتے حے اوراب حقانددنظریات مل 
بھی م وضو وباطل روایات بیا نکر نے تک گے ہیں ۔' فیضان امیرمتاوی “کاب ایی بیگین اور ملطیوں 
کا ای ککڑئی ہے او رھ راس کے بحدٗینل پ جھ یہ میا نکیاگیا ال سے تسار حدریں ہی ٹو ٹگکیں۔عرکي 
معاو لنگرمعادي فیضاج معاوےء مساحد معادی اور بے خطاد ب گناہ معاوبے وخرہ ءال نت میں یں کل 
اعصیی کی ای تی مال یں ال جالی۔ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





مساحد معادیبنانے پراعتزاضلٹں 
پل ینزو ںکی توداوٹش ساد محادیہ بیگگ بنا میں ء اس بجی اعترائ شکرن کاکوئی اخقیا نہیں٠‏ 
آ خرنبوی پٹ لگوئی ن بھی تق پور ہوناہے۔ امام لی رص اللعلیرسید نمی بن ای طااب نے سے روا تکرتے 
ہی ںک رن یکریم نے فرایا: 
مُوْشِکٔ ا تأَِيَ عملی الَاسِ زَمَان انیقی مِنْ الإسلام لا ِسْمة ء ولا 


یی من اْقرّآن إِلّأ رَسْمٰ ء مَسَاجِهْھُم عَامِرَة وَِی خَرَاب مِنْ الْھُڈٰی. 
” ترجب ج ےک رلوکوں پراییازما نآ اجس اسلام باقی نی ر ےگا زاس کے 
تام کے ب رآ نک یکوئی نز باقی نجیر ےک ہز سک حلادت وکریر کے:مساجدآباد ہو ںگی 
اور ہرایت سے بر پادہوںگی“۔ 
(الجامع لشعب الایمان ج٣‏ ص۳۱۷ء۳۱۸حدیث ۳٦۷ا‏ ؛السنن الواردة فی الفتن ج١‏ ص١۱۲‏ 
حدیث٣۲۳)؛مشکاۃج١‏ ص۹۱حدیث٢۲۷)‏ 
کی صدی میس چو بی جس جو بادشا و خوداوراس کےگورنرمساجد کےننہروں پرانعام بات طبقہ پر ضرف 
کست یحم امن تکرتے ر ہے لی اک حافظ رح ال علی ےکا : 
َاتْحَذُوْالَنَهعَلی المَابر سْنَة 
”ا نہوں نےمضروں سید صلی لاعت یکول ربق بعال یھ“ 
(فتح الباري ج۷ ص٤ ٣٤‏ ءوط: ج۸ ص )٥٤٤‏ 
خو سوچ !اس با دشا کے نام پر نے دای مسا جدرشش ہد تکہاں ےآ ۓگ ؟ 
پاصییبے ومولیتے 1 وکا لے 4 و ہیں 
ماد ماد کےاعلان پا ایی ہو لے ےکا ایی ان چم ناعصیت ولوکی کی دکالت پرنما مو یلوگناہ 
کے ہیں ۔ ینیم تصرف بیکعلرزاسلاف ےہ ٹگئی گنول نمی ای تکی جیادرکودی ے- 
۔د ان لوکگوں نے ال می تکرام یہ کے مقدس اسماء کےساتحافظ ”صلی السلاام کے یا کھنے کے مت کو 
اپ ںکتاب یم در جکردیاے جم لک نام ہے کفریکمات کے بارے می سوال وجواب تنعل کے لے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





رم 7227 227 یڈ وک سز“ اظفراے۔ 
۴۔ مسیدناعلی اون یکریم الام کا بھاکی کنےکو ےا دی بیو لکیاے اود ال یں سی نصلی تا یگ ی 
یں 
٣۔‏ سادا تکرام کے بارے میں ہلگاانداذاخقیارکرتے ہیں او رکچ ہی کہ دو خورکو سوک ک ٹوا وکزت 
اص٥‏ لکن ےکیکوشش م تک یاکرمیں ںآ خر ا سکبی درگ نماط روک ا ھا جا ؟ 
۴ موصوف ان یگوج سآ لکومخراوریا کومقدم رکھتے ہیں او ”سحابہ وائل بیت کچ ہیں ال میت 
ھا ز فی کے ھا لاق رآن وسنت نے انی مقدم رکھا ہے او قاع ابل سنتچھی ای پہ ہے موب چودرود 
ریف پڑھاجاجاہےأس می ںفورکرنے سے جی تھائل ائل سنت معلوم ہو چا جا ہے 

بہرحالی ہلوگ ناصیی تکیفروغ دےر ہے ہیں اس نیبرود کا بککھناپڑی ہے۔ یاد رک ! 
امت مل رقرآن دسنت کے ساتوساتمھفت ال صاف ستھرے دی نکی پابند سے چوائل یی تکرام مہم السلام ٠‏ 
خلطا داش بن او را ہین کا دن ہے .امت لوکیت زدودی نکی ھا پانزنیس ہے سوجولڑگ ال اسلام 
رن ملوک مسا کرناچا جج ہیں دوکتائی مم ماورطاةرکیوں نہ ول ؛ہم ان کے خلاف اپچیآواز ضرور بد 
میں گے اک چےکندروناقوال دی ھا۔ 
خطرات وغدشات 

بج یقت اٹچی طرح معلوم سےکسی عالم دی نکی خواو وس یکھی مل بککر لق رس ہو یے 
اتل فکرہ خر ےکا با ٹنیس ہوتائیان خی رعالماو پر پان سی لیم کے بانٰی کی بربقررے اتلاف 
کرن خطرات وخدشات سے نما نیس بوتا کن ال کے پاوجودی احاد یٹ موقسوص وباطلہ اور تاصبیبیں کے غلاف 
آ واز لن کر ضروریبپھتا ہوں :اک میراشارمحروفعدیث”مَیٰ رآی منْکُم مُنگوا“ پلک رۓ والوں 
جہ حسم تو رر حأ۔اللهمِنَ نْعْلک 
ال ڈازن سغفف سا 

واٹع ر ےکہ ہیاری ا ترک مس بھی حلت بل رکی ت جسانی یا دینیل بل ہکتاب وسنت :اصول 


۶۲۵۰۵۵٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


حد یٹ یکم اس ءال جال اورقا رکا تب نر یکن بک عدد سے شا مادیرشش بیا نکردواحاد یٹ موضو وکا طلان 
وا اکر نا ہے۔ ال مکل یس چم نے رولیے اورددال دوفوں رح کے دلائل چی کر کے وہل اورصواب وخطا 
کووا کر نک یکوشل ے۔ 

اج نے اکپ رٹش اعتدال وقاز نکوائم رک ےک یکو کیا ےکی عبار تکوسیاقی دسباق سے بٹاکر 
خی ککھاہڈنڈ ینیل مارکی اورمیرے موقف کے خلاف میرے ساس ےکوئی موا دیا وس سے ہکھھی ںنہیں 
چائیں با یٹ کر کےا کا جوا بککھا ہے۔اظھارد لال اوراطا ق کی ہش نے یہی لک اکظاں 
باتقوام ا چجائ لی ٹجلخن ومقرین کےاکٹر پظریے کےخلاف ہے ءال کےا ہام اباب چا ییا- 

پچ دک زمانے لک کشیب وفراز جوارے دخرات اورخوارنج وط اص بکینط مطاقت سے ہیل 
ہوں کن چونکہ ناعصعی ت کا عالیرملہانائی شد ید ہے اس جوا قب وت گی پرد ا یے یراس پرخطرداری ںش 
مرکو دیاہے۔ یہاں تفیقتجگذ ہناشن رہ ےک جن ال سے ال عاجزنے پردداتھااے بے زیادہ 
رقازہ سال وا عبان برازض متس ہل جح فرپڈز 
1 چقدہواورگیل ان یس سے اکٹرکی پا کی زج یں با ہوک ہیں ۔ یی اییے بہت سےجعفراتکوذاتی طور پر 
جانا یں میرک ان گار ہ ےک بلاش تہ لیک شرئی تقیقت ہلان ناصعی تک حال یتم لکول ممو یم( 
یں ہے ؛لذا خداراپ یآداز فا ُیں لوگو ںکودا اشنم سے بچا میں اورسید نا بن یاسریشی انڈماکی طرح 
انیس جن کی طرف بلائیں اک رص نتم ہے ہکیاہو بھی من لوگوں کے مرا نے غیع رہعخرا کیج یآ 
پڑت ہے۔سیدنامام عالی مقام اجب بال کے سرامنۓے؟ۓ تق دکننامقلم تھے؟ کاراب وسنت می پاصل 
کے متقابلہی سن تھا شحخصیات کے نےکادکزکیس ہے؟ کیاہمار ےٹک رین نے بماععت کے ما بی تھا آن ےکا 
ذکری لکیا؟ آخرآنہوں ن ےکیوں فر مایا ےت 

ارچ بت ہیں بجماعت کی ہیں میں 
بے ہے عم ااں لابلس إلااسے ے 

پیل معرے میں لفظ ”جماععت اورووسرے مس لفظ مھ ٹورف رما ہے اوراگ رھ آجاۓے ور 
کھڑے ہوجا یے اور پا نحص ڈالے! 

جا ہم میرک !ا لکنذ ار لکاز فی ےجعرا تک طرف ہے جوخ دوس من لو تھا ئسو کرت ہیں٠‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





ور ہتقیقت یر ےک تھا یکا راس درس تنئیں۔ ۲۲ر جب المرجب ۱۴۳۹ھ تےأ لق تھا یک با تک 
عدتک درستتتحی ٠ب‏ عاج ھی خودأ ںچھائیکاشاہد ن۲٣‏ رجب ال جب کے بعد سے نےکرتاحال لگ اور 
یرون لک سے متعددمقامات سے اپنے اپ انداز لی وئیجینلداورسیشل میا چوآوازی ںآ ری ہیں :ءا نکی 
مو جودکی لئ یکا بہانہ درس تی ؛الہتہ ہہ با تا سےک ینف ہون بھی باقی سے وَاللة غاب علی اھر 
موضو عدی شک احریف 

لف“ مو عکامصدر”ؤَ صع“ ہے اوراس کے معال یپ ذیل ہیں: 

نا نگڑا ادکیینہنانا ءا 3اکرن؛تقصان أُٹھاناء اپآ پکوذ می لکرن انڑل وبیارہوا''_ 


(مصباح اللغات ص۹۰۱) 
حافظائن تج رعسقلا لی مت ال علیغ مات ہیں: 
”امو ضوع: کامق ہے چپائی ہدز کچے ہیں :فلاں نے فلاں پر کیاتن 
کیپ چپا لکردیا۔ زہ لف مرح ےگرادہے کےےعنی مم بھی ستعمل ےر 
(النکت ص۳۰۷) 
جو با اکا سے مابت نہ ہدوہ ا ںی طرف مفسو بک اگویااس ہز برق چیک د یا ہے۔ بلا وت ایا 
کرنے ولاٹش ان طرف سے با تگھ کر ہخووکوکمین ناما ہے اپ مرج ےکوسا کرت ہےاورایئ اعلتق 
کی نظ ری ذیل بیس اور بکارہوجا اہ لی اکر شاہر ہوا ے_ 


حد بی وضو غکااصطاا یئ 
امام این الصلا ع رر لٹ علیہکھت ہیں : 
لوصو : وَهُو المَخْتلَق المَصنوْع 
'موضو]ءکھڑیی ہوئیجھوٹی حدی کت یں''۔ 
(مقدمه ابن الصلاح ص۲۸) 
اما مکنائی ران عیفر مات ہیں: 
َاصْطلاغا و العییث الَمعَُلق لزغ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


”اصططا می شین می لگھڑیی ہوئی چھوئی حعدی ےکوعد یٹ موضوں کچ ہیں'“_ 
(تریه الشریعةج١ص٥)‏ 
وضو ور عث یان مر نے پر ویش یڑ 
ریم نتر اش یلدسید نی ان سے روا تکر تے ہی ںک ہنکمم مم نےف مایا : 
لا نَكُِبُوا عَلي فَِنهُمَیْ دب عَليقَلِْج انار 
”بج وٹ مت پا نرھو:ج لن نے جھپجصوٹ باندحااسے چا ی کرد ‌نم می وائل ہز 
(بخاري ص٢٢‏ حدیث٦١٦۱۰؛مسلم‏ ص٥حدیث١)‏ 
ححضرتز ہی لہ با نکر تے ہی ںکی نے رسول الد مل کوفرماتے بوئے سنا: 
مَْ کَذّب عَليْ لیقع بن الا 
'ج یڈ نے بجھ وٹ باندھا تاس ایی کہ دہاچاکا :نینم می ہیائے“۔ 
(بخاري ص٢٢‏ حدیث۱۰۷) 
ھا یے عامارنین کے لے مرش ہ ےکی وضو ل(ہائی ہوئی حدبیث او ریف حد یٹ می فرق ے٠‏ 
ضعیحد ین فف ال اعمال می شرا ئا کے رات وقو لکی انی ہلان احکام ءقاداورمائل می ںی گرم ضوع 
ح سی صورت می بھی تال قبو لیس ہوئی بخوادوءکتناحی خوبصورتکلام پڑفی ہو- 
نا تہا دص شی نکاحد یٹ شی لجھوٹ لولنا 
علاء حدیث واساءرچال نے اپنے تر ہکی رشفی یلککھاہ ےک حدیث کے مواملہ یس بقنامجھوٹ نام 
ہادصا ین سے سرزدہوتا سے اتا دبصرے لوگوں ےکی ہوتا_ چنا جج امام سلم رحر اڈ علیہلکھت می ںیک ہنطرت 
بن سعیدرلطان رم ال علیہ نے فرمیا: 
مر الصٌالِحین فی وه أَكذَتِ بِنهُم فی الْعدیبِ. 
تم نے (ن ‏ نہد صا لی نکوعدیث سے یاد کاچ می سبچھوٹ نہیں دی“ 
(صحیح مسلم ص١٠)‏ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


یی سرت گور ھا 


عدیث مل ا نکازیادمرہونا 

حد ی گھڑرنے می بھی مین کے نز دک سب سے زیادہعفرنامتہایسھاء وصوفیہ ہیں ۔ چنا رشن 
کرام نے اپنے وٹ تج کی ر نیف مایاہے: 

الرَاضِغُؤن لیت أَسنات وَأعُظمُهُمْصَرَرا وم می السْسَزِنِلي الژّهُِ 

وَضغوا الد یساب یما رما بل اس مَرُصٰرْعاهِميَبِهِم رُُزا 

َِنَھم. 

”اعادی ٹگیڑنے والو ںک یکئی اقسام ہیں اوران ٹس سے سب سے زیادہمعفردوقوم ہے جوز ہر 

وعباد کی طرفمنسوب ہےءانبوں نے اپ ےمان ٹا بب وکراحاد ی ٹیگھڑی اور وگول 

نے ان پراختاکرتے ہو وواحادیث قد لک رئش“ 
(مقدمةابن الصلاح ص۲۸ ؛التقریب والتیسیرللنووي ص ۱۸۷ ؛تدریب الراوي ج١‏ ص ٣۳۳۲‏ 
التب صرتقوالشذ کربۃ ج١‏ ص٦٦۲‏ ؛النکت للعسقلانی ص ۷٦۳؛فتح‏ المغیث ج١ص۲۸۳؛‏ الشذ 
الفیاح ج١‏ ص٣٤۲؛شرمُ‏ شرح نخبة الفکر ص۷١١٤‏ ؛تنزیه الشریعة المرفوعةج١ص١۱)‏ 

ا لیے عابد ین وزاہد بن سےکواماور جال خی نآ کھیں بن رکر کےا عاد یٹم وضو تو لکر لیے ہیںجان 
نقا وین اوناطعلامکرام ا۲ نکی عبادت ور یاضت سے قطعا مرخ بل ہہوتے اورآن سے حد یٹ تو لکر نے 
کوز مرن اور شاب پنے سےجھی ذیادہبر اھت ہیں ۔ چناخچراما مکی رم ار علیرابان بن ال عیاش ال راعد 
کے عالا ت یی کھت ہیں: 

”رب نمی تۓےکہا:بان صا ںین تھا ابو حا تم کچ ہیں :تھا دہ صا اشن لن روک 

ائرمٹھا''۔ 

(تھذیب الکمال ج٢‏ ص )٠٢‏ 

امام اہن ضا ن‌فرمات ہیں: 

”ابا ن عباد تگنذار بندوں ے تھا ال لک ودک شب قیام می گر اورون روزے 
ےکنا نجھوٹا ای تھ اراس نے نحضرت الس لہ سے پنددوسواحاد یٹ روا تک ن ےکا کوک 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


کیا۔ان ٹس سے ایک عد ی بھی این لص پاخمارگیاجاۓ“_ 
(میزان الاعتدال ج١‏ ص۱۲۷ ؛تھذیب التھذیب ج۱(ص٤۹)‏ 
حخرتشعہ “لاف ما یکرت تھے 
”بن بن ال عیاش سے دردای تک نے سےگد ھھےکا پاب پی لھا یت ہے“ 
(میزان الاعتدال ج۱١ص١٢۱)‏ 
ایی صورتحال اس کے بے زدرقاش یکیجا۔ چنا چک نین اورامامابوداوف ات ہیں: 
”ووساخ ننس تھا۔ ابا فرماتے ہیں :وأ“ تھا اور بہت رونے دالا تھا بدا فا لی 
بن موی فی کے ہیں :ییدرڈاشی نے ساشھسال فا کی یی روز ےر کے کرس 
کا بن لاغمروک درم وگیاادرا ںانک تد یل ہوگیا“۔ 
سلا مین ال یش کے ہیں٠‏ 
”وک ہکرت تھا:لوگ وا و قیاصت کے د نکی پیا لکو یاؤکر کے ٹھنڈے پانی ہوگربیکرلو 
اس نے پالیس سا تک خو دو پیاسا رکھا صرف پا روز کے بعدلق نکر تا تھا۔ ہشام ین 
سان کے ہیں :اس نےعمل چالس ہی ںگر کیہ یہاں کک ا کی بی جھ یں اور 
یں ا2ی ہوگئیں۔ دہاک کیا کرت تھا :لوگ !اس دن سے پل رواش دا ن/وىوم البکاء 
(ردن کادن) کے ہیں۔اس دن سے پپیلینو دک رلو جب تم پرفوحہکیاجاے۔ بادرکھوا وج 
:کا نام دح اس ےتھاکرد دای ےآپ فدص ذیادوکرتے تے۔اے بوڑھو!اےلو جوانو! 
اپ آپ پررولوەدویوں دعخفکرر ہا ہوتااورآنسوؤ لک ی:جچٹریاں ال کے رشماروں اور ڈاڑشی پ 
جار ہوتں۔ 
صرت شڈ ااکرتے ت: 
”گر می زنکروں نو دہ مھ یز ید راشی سے ردایت لیے سے زیادوکروب ہے یھی 
فر مات :اگ ریس راہ یکر وں تو دہ یھ یز یداش کی ردایت لے سے یادہ ند ہے 
(تھذیب لکمال ملخصاًج۳۲٣ص ۷۷۰٦٢‏ ؛تھذیب التھذیب ج۷ ص )۱۳۳٣۱۳۲‏ 
مطلب بی ےکہ ہیارے یھ شی نعواممکالافعا مکی ط رع جبدددستارہ رونا اور پکاراور انی بکروں کے 


۶۲۱۰۵۸٠۵5۷ ۷ط‎ 2707 


مار سے موب ہوتے تھے اورنہج ینعی بن رک کے ایے لوکوں سے حدیث ردای کر تے تھے ۔ ہا ل کوٹ 
لوگ ںکی زبان پربض مر بھی جاری ہوجاجاہے اس لے بعدا تق ا ےینس ےکوئی روایتمقول ہو 
نہیں ریا سی نآ نکر یکاوخینٹش بتاگیاھا؟ 
ہرخوبصور ت کلام ود یکل ہوتا 
جس رح حدی ثگھڑرنے ‏ نام بادص الین وصوفیہ سب سے زیادہ محر ہیںاسی طرن گی ہوئی 
اعادی کوقجو لکرنے مم بھی بھی طبقہسب سے زیادومعخر ہے :اہناحف کلام کے نکی طر نیس جانا یچ 
یح شی کرا کقق پراخادکر نا ایوہ "لشل من ال “ہن کے یسوی لک ہوت ہیں ) 
جس رج ہرچتی یسوی ہوئی ای طر رخوصور تکلام حد یی ہوتا۔ چنا نچ اف اترم سقلا لی رج 
ال علیہ ایک زا بن مھ ب نی موی۱ مروف این ودعان کے پش کرد جھوی“ حد یٹ پت ردکرتے ہوئۓے 
فرماتے ہیں: 
وَإِن کان الْكَلامُالَذِي یه عَسَن رَمَوَاعظ بَليَْةء زلیس لخب اہ 
تب کل مُممَحسيٍِإِلی الرسولِ غليه الصْلاۂ وَا لام کُزّمَافالة 
الزسُوْلَ فلا عَسَنْء وَلَیْسَ کل عَسَيِقَاله سز ل8 
”گر چا کلام میں تین باتیں اور ینغ یں موجود ہیں لیک نس ینف سکواازت 
ٹی کہ جراچھی باتکورسول ال و کی طرف مو بکرے۔اس بےکہرسول اللر ا 
کا ہف مان خوصورت ہے بن ہرخواصورت بات رسول الد کاخ مان نیش“ 
(لسان المیزان ج٦‏ ص ۳۸۹) 
امام موی اوردوسر ےب شین ایی بافل احاد یٹ بنانے اورقو لکرنے والو ںک تزد یرم سککصت ہیں: 
مس یٹس کے لے جائ نی کہ د ہکا مکوا چا کررسول اللہ اٹ کی طر فکوئی 
7رف مو بکر ےہاگ چدددکلام فی نض تی ہو۔ پل باشیہرسول الہ نل کا ہرفربا نک 
لیکن ہر بات رسول اللہ پل کافر ما نکئیں۔ال مقام یں خو ب فو رکیاجاۓے ہکیوکے 
قرموں سے بس اورخقلوں کےگمراہ ہو چان کا مقام ہے ەاوررسول اور کم نے کی حر یٹ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


می جنیہف مائی ےکی جے وٹ باندھناسی عامس پرحوٹ باند ہت ےکی طر نی سونس 

شع نے بے پان او جےکرجھوٹ باندہمادوا اٹھکا نینم میں بنائے '_ 
(ذیل اللألي ص٢١٣‏ مطبع علوي للمحمد علي بخش خاں لکھنوي۱۳۰۳ھ؛الزیادات علی 
الموضوعات للسیوطي ص ٠‏ ۹سر ارالمرفوعة للقاري ص ۲۸۲؛ کشف الخفاء ج٢‏ ص ۷٤٥٣؛‏ 
الآارالمرفوعة للكھنويٴص ۱۷) 
کک کے باوجودحد یٹ با نکر ے٤اگم‏ 

گزشدسطو ریس م وضو حد بث بیا نکر نے پرٹنس شی دکاذکرہواد ہن عااورقصدآ تو حد یٹ میان 
رن پیش جگہاک رس یٹ کی حد یٹ کے بارے مل ادف اشک پیداہوہجاے اوراس کے باوجوددہ ال 
حد بی ثگہ بیا نکرڈاےتة وی اس دوکیدرٹ شائل ہے۔ چنا نجرا این ماجہ مت ال علی یسید نام یاحہ ے رداہت 
کرت ہی ںکہرسول اللہ یل نےفرمایا: 

مَْ خدث عَيْيْ وبا وَمُوََری أَنَه كذِبّ هو اد الكاؤِتیي. 

رس نے بھ ےکوی حد ٹیلف لکی درا نحائیکہ دہ بھتا ہوک دہکهوئیٰ ےد ویجوڑوں مل 

سےای ککھوگاے'۔ 
(سنن ابن ماجه ص۱۹ حدیث۳۸؛سنن الترمذي ج٤‏ ص۳۹۷حدیث ٢٦٦۲؛صحیح‏ مسلم 
(مقدمۃ]ص٤)‏ 
ضحی جرد کا سہارا 

یہاں ایک بات ذ ہک نپشھن فرب می ےکن اکام شی کرام نے شمان معاد یش داردشد نل اعادیٹ 
کاپ یتپ موضوعات مس یعاد یٹ شبور پٹ کنب ش کہا کہ ا نکی سن رشعیف ہے پاسندسرے سے ہے 
نہیں اور ون کےتفن می بھی رکاکت سےنذدرائل دو احاد یٹ م وضو ہی ہیں ین فنض خاتین اورزآقین 
خصوںائز”م وضوغ'' کی ٹووہں رت ہیں اور ج بکک صراحالفظم وضو ن ہو کچ ژ ںک رھد مٹ٣ضوخ‏ 
نہیں ہے بکیونکی ححرٹ نے ا سکووضو نی سکہا۔ دراصل ب ہدعو رش کرام کے اصول سے اکراف ہے۔ 
جولک ای ہیر ری ےکام نےر سے ہیں أ نہیں معلوم ہونا چا یکن کے ا طز لکونایا جات رن 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


کے موصوف کے مطااب مس جواحاد یٹ آ گی ہیں ا نکی سندن کے فضا لکی احادییٹ سے زیادومقبوط ےپزا 
انیس چیک دہ ايل یلیم تے از چانمیں ہیں ایمانہ ہو ان 2 لیے ا نکااپناط پل ىیکواں 


خابت ہ+جاہے۔ 


فاری گون؟ 
سوال پیداہوتا ےک فماد یکون؟ جموٹی اور ضورع احادیٹ بیا نکر نے وانے لوگ ا ان اعادمیٹ 
پاطلہکی نشا ند یکر نے وا لے لک؟ ملا عمرآیاسہوآبیان شر کے ذر بیتلتضعصنفین رمقرربن احا یٹ موضور 
یلا کے ہوں اوکوا مان احاد یٹ موضسو کرو لکر چےہوں اور بعدرکوو کین وات کر ےکر وگواجشن اح یٹ 
کوقم رز جال ہنا ہو بی موضسوع او وی ہیں ۔ اگ اس پرکو فی فسادکھا ہو جا ےو تا ہے !ال فسادیکون؟ 
ںکو بھی مھا جاسکنا کرٹ لکپفیاں و ٹی زی یااددیات :ناک مارکیٹ یل پٹھاری ہوں 
اورکوام ا ن تی اشیاء وادویا تکواتعا لکررے ہوں اورعرصہ بعدکو ئن بر خمن سے ماب کرد ےک یہ 
زی چلی ہیں اور پھر وس پرفساوکھٹراہوجائے ولا یے !اصسل فساد کون بی سی بنانے والاء ادون٘س نے 
ا نکاجی ہون آشگارردیا؟ 
ال پہدائملھ رو فک ای کآپ جقی ماع تفر را ہے !میہرے پا کرا تی بیسوا لآیاھا: 
ناشورہ کے روز جوٹس بعداززوال دورکعت مال پڑھے؛ اس کے پا یل 
گر شنہ کے اور پا بر ںآتند کےگنا معاف ہوجاتے ہیں“ 
جب مل نے بسوال پ لات ماک نے ز ہاچ چا یىی ے؟ 
می کہا :مرا وٹ ہے۔أ نٹ نے اف می چا اک رکہا:فلاںمولانا کے ہیں : عاشورہ کے 
نوا لکی بی روا ت مرا ؟ رٹھوٹ ہے۔ ال پآ ہت آ ہتمر ےخلاف شور گیا نو جب بجھ برا زھاً انوہ وی 
روایت أ یہن نے١‏ یےدسالہیش پڑھیاجی جووپا ںک یعس نا مور مرا یشحخضیات کے نام سے چا یں سال 
سے ”نو اخ لپھرمالح رام کےکنوان سے ہرسال شال وت تھااورمسا دش پچادیاجا تا تھا۔ لی الہ کٹ نے 
ڈے عاص٥‏ لک کےا سک مطال کی قذ وہل رسال جهو لی رویا ت سےکھ پور تھا۔ ری طرف سےثزوت بی 
کرنے پردورسالہچچنا بن ہوگیالکن پیلک شس پڑے باذہ وہای اورجرم شھے جیمشنپورکرد گیا 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۱ لجا‎ 2131331. 





پیش سے میدن کادستو رہ ےکنا ہاوگ شرت یا نرہ ینشخیت ہو یاد دیہان کے جم کے ذمرداروہ 
نو یں بل خر جب مظلوم ہوتا ہے ۔آ پق رآن' ید ی نو ری فر مات ےکر تصورسلطا ن٣‏ یا یک اورخا و ار لکاتھا 
مرقی مل سیدنابیسف اق ڑے رہے۔ ہارے دوریل عا تکشممتازصاعبہ ج بتک پل کی اشیا تورووش 
کیو وخیر ہپ پچھاپے مارتی ہیں اور شیا کا لی املاوٹ شدہہونا اب تک لی ہیں ا نک یت ری کک جانی 
ری اور جبأنہوں نے سان وت تک ٹیہ تھڈلا تق وہ بجر مقر اد ہا اوں.۔۔ 
فیضا ام رمعادیکا مل فکون؟ 

ہرچتدکہکتاب ” فیضان امیرمعاوی''کےآغاز شش تایاگیا ےکہ ہس کے وین ا افرادہیں بن 
حقیقت ہی ےکہآن جارو ںکیاحثی تکے کی سے زیاددئیں ہے ۔ اس سللے می اص اورع رکز یکردارآن کے 
ام رکا ہے؛اوراصو لبھی بھی ےک کا رندوں کےکام مکی مہدت ان کے سردارکی طرف می ہولی ہے۔ ا تعالی نے 
بھی بجی اصول میا فربایاہے۔ چنا ےق آآن مجیدریش تعددمقامات پہ جہاں مہ ڈکر ہےکرفرونی لوگ بی اس انل 
کے پچ ںکوز جک تے تد میں صیفہ واجدسے ا کا فا لاف رگو کو گکہایاہے ہف ریا مسلبّےخ 
أبماء ہم پچ ( ان کے بیو کوذ عکرتا کزامقصص ]٠:‏ عالائہ تقایل ےہا نے اپنےہاتھوں 
ےکی چا لکیا ہدجام لاٰڑناۃ نے بہت سے پچ ںکوخو دز کیا و 

سو چون کارفدو ںکاکامامی رج یکا کام ہوتاہےاس یم ن کاب فیضان ام رمعاوی' یہت امیر 
ای سز تک عطر فبچھ کی ہے ؛کیوککہ وج اس کےجرک ولف ہیں اوروجی قاسم فیا ن امیر معاد یہ ہیں- 
امھیرشام کے پارے ٹیل ناک احقیاط 

مرن یل بڑ ا خطاو ب گنا وحضرت مواو وی رہ بیانات کے بح ٹم لوگ انی تقر روج ریش اور 
ٹل میڈ بابرا میرشام کے خلا فبٹڑاس نال ر سے ہیں ۔ٹیح انی معاذایڈفی مل مکہہر ہے ہیں ١(‏ )اور 
اس ےھ یآ کے بڑھر ہے ہیں لہا قا ری نکرام سےگنذ اش ہ ےک دانع اعقیا اک ضبوگی سے تھے ری 
اویٹرئی عدودےتچاوزم ت کیج ۔ بل شیا نکی خطا میں اورز یادتاں وظیبرہہمارے الا فکرام ن بھی میا نک 





)0 اکر پیج اکا برا کرام ان کےایمان کے بارے می تحفظات ربھتے تھے 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ جا‎ 2131331. 





یں ۳ ادا یم 272ات بھی شی عددد ےجا وزصت جج در تکنداللد 


موا خی وضرو رہوگا ا 


کیابغاوت ودب باعٹگن ے؟ 
یقن ہمارے اسلا فکرام نے ض ور ان کے پارے می پاخیہطا تی ظا لم چائراورمتددری وخ الفاظ 
اتال سے ہیںگمردد ال ےآ گنیس مڑ ھھے۔ لا ہوارے مدارکِ ال سنت مم بی پڑھائی جانے وا ینخل 
مہو رکب میں ہے: 
وَِالجْمْللميقلْ عي الشلف الْمُجْمهدین وَالْماءِ الصَالِحَِْ جوا 
ال علی معَاریة رَأخزاہ ءِئ عَية امم اه وَاْحرْزَْج لی الما , مز 
لا جب لن 
”خلاصہیہ ہ ےکہاسلا ف بد بن اورعلاءصاین سے محاویراور اس کےگرودیاعنت 
رن ےکا جوا زمنقو ل ٹیس ہے ؛کیوک ہا نکااچائی معاملراام کے خطاف رو اور بفاوت ے 
اوروواحن توف ب تی ں/ح“_ 
(شرح العقائدص ٣٣٣٣٣٤‏ ۳مکتبةالمدینةءکراچي ءوط:مکتبةالحسن مع الئبراس ص ٣۰٣۳ء‏ 
وط:مکتبة رشیدیه کوئٹ ص )٠٥٥‏ 
ایے ہی مو تی فقہاورمحرث ملا ارکی رہم الش علیہ نے ا۲ نکی رف خطاء بغادت تروع اورضمادگی 
شہد تلوت چا ئزرکھا ےگ رصن یں و ہککھتے ہیں : 
ُا مُعاوِيَةوَأبَغۂ قَيجُوْ ِسمَنهُمإِلی العط وَلیغي وَالْحْرُزَج وَالْمسَادِء اما 
”محادرراوران کےجتی نکی طرف خطاءبغادت بخ روج اورفسادکی بس تکرنا لجا کڑےءالبھ 
ان پاعن ت/ لمجا زیں“_ 
(شرح الشفا للقاري ج٦ص٢٥٠)‏ 
شاو ہدالحز یز فاروقی عیرت دبلوئی رم الڈرعل بھی انیل حخلب ‏ میک بکیبرہاود بات یقراردیتے یی 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 


لیا انت تع کرت ہیں۔أنمہوں نےاککھا ہے: 
”اب ماس بات پآ ن ےک جب اس( معادی مک باقی اود مك جات ہیں2 
لن یکیو ںی سکرتے؟ ا لکاجواب ائل سنت کےنزدریک یی ےکم بگناوکیر: براعنت 
جائزئیں اود اخ یچھی م نک بکیی ہکا سے پھ راس کوک رات چائزہو؟“_ 
(تحفه اثنا عشریه ص )۳٣٣۳‏ 
اک ادرسقام پشاہعبداھ زی نے انی امو تحص ار می پکیرہ ب فاورا ‏ کہا 
ین ساتحدجی خر مایا ےکان پرلعنت جا نہیں ۔ و ہککت ہیں: 
”شقن ال حدیٹ نے بعد روایا ت دد یاف کیا ےکہ ی کات شائأقمالی ے 
خالی زہ تے اس تبہت سے خال یی سکہ جناب ذوالنور بن ححخرت عثان خہ کے معا مم یں چو 
تحصب اموریاورترشیہ مل تھا کی وجہ سے بی ترکات نخرت امیرمعادیہ سے قوش لآۓ ٠‏ 
کا اہ نی بجی سح کہردد مرک بکیرداور بیقر ا دیے جاٗیں -وَالغاِی فیس بأفلل 
لغ ترجہ :فاستق اگ نہیں ۔ 
(فتاوی عزیزی کامل ص٤٤٦)‏ 
خلاصہ یر ےکہ ہرعال بیس اتال ضرورکی ہے سوج رح امیرشا کو بے خطاد ب گنا ءہکہنا اور نکی 
شمان یں م وضو احعاد یث اورآ مار باطلہ بیا نکر نااخترال کے منائی ہے ای طرح ا۲ نکیا خطاء بغادت بخروعء 
فق اور ضسادکی جہ سےاُن پبلعنتکر بھی اعترال ےتاوزے۔ 
اتک اکا؟ 
مرکورہ ال ین حوالہ جات سے معلوم ہواکہ اوت بشر وج فمضی اورفسادکی وجہ سے ان پراھن تک رن چائز 
نی ہے ۔سوال پیدا تا ےکہ ان بات کی وہ ے ُن پان تکرن و جا ئن نل نکیا ىہ با یں ا نکی ایم 
وی روکی مان کن ہیں؟ اس پرعرشش ےک پچھعلا ءاسلام اس طرف گے ہی کان کے نام کے سات یمیس الفاظ 
استعا لکر نا درستت یں ۔ چنا ئل عد یے عال “ولا نا نین حیرت دیلو یپکھت ہیں: 
حرت یی یہ کے متقا مہ یس جہاں اھیرمحاد یکا تذکرہ ہووہاں لفطا ”حرہت'“ اور دعا کے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


الفا کنا درس تینیش کین ا نہوں نآ خری خلیۂ راشلد کےخلاف بفاو کی ہے :ہنا نکو 
فلذکارادرہاٹ یق جھنا چپ اورال ےآ گے پڑ ےکر۲ نکو برا چھ اکنا درس ت نیل ہےە اس سے 
با ن‌لرکاچنے““- 
(فتاوی نذیریه ج٣ص٤٤٠)‏ 
لین ہار تنعل رکرام نے اس با کو چھامت تر ارد یاہے۔ چناچیولا ایی ٹشھ کھت ہیں: 
”نی یلت چا لکاکرتے ہی ںکہ جب حفرت موٹیٰ یکم ال تھالی دہ انگ ریم 
کےساتدامی رمعادی شی اللہ تی عنکا نام لیا جا فو شی ال تی عنہ تہ کہا جاے مج پل 
ہام ہے علاءکرام نے صحا کے اسا ۓ لیب کے ات مطا یی وڈ تھا لی عن ہر کی ےکا 
تعکم دیا ریا تا خیش یی یگڑھناے“۔ 
(بھارشریعت ج١[الف]حصه‏ اول ص۷٥۲‏ ءمکتبةالمدینة+ کراچي) 
مولا ان میشین دولوٹی نے تو مش روط با اھ یٹھی ء سے مو لا :ا موی نے چھال تقر اردیائین‌علاءموحیا 
ال مان ن کسی شرطے کے می رطلقان کے نام کےساتھ '' خی کہناابپند ید وکہاہے۔ چنا مجر ووککھت ہیں: 
ھا ہکرام کے لیے شی انڈ نتم کہنامستحب ہے ماسواابوسفیانہمحادیدگرو ین 
العاش ہمخیرہ بن شعباو رح رەوبنع جنرب کے ان پا ےسکوت س تخب ہے ءا نکامحاطہ ار 
تھاکی کے پپردکردیاجاۓ ءا نکو بر کہا جا اورندجی ا نکینتری کا جائۓ '- 
(کنزالحقائق من فقه خیرالخلائق ص٢‏ ۲۳) 
اصولی طور پر ان علاءمٹش سے علامہ وحیدالتہما نک بات می زیادو ون ہے ہکیونہ جو رعف اورشرف 
انا نک نم۷ سبب ہو گرانسان خودا شر فکوقائم درک ا ا کی قا کی راتی .ا سکی وا مال 
ےک اگرکوئیعال دن اپن مقا مرح کا خی فیس رکت تو وخندالائس مضکم رجتاہے اورنجی منداللہ _حابیت 
بھی ای کسی جیز ہے اوروو ایی جز ولا نیس جس کاانسان سے دا ہو الکن نہ ہو ہآ خر ببت سےصحا ہم رت بھی 
ہو گے تھے؟لنی الہ یکہ جولوک دیدارنوئی اریت نبوئی هاق کےشر فکوائم ضدرکھ کے اور کیم من 
سے بی رم شدد ےل علامکرام دصرف یکہا نلم سےدست بردار ہو گے بل نمی برایھ کہا۔ امام 
دا فی نے بسربن الی ارطا 7 صحالی کےا ن مظال مکی وج سے جس نے اپ بادشاہ معاوی کےعم سے ڈڑاے 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لاط‎ 2131331. 





تھے سکوھھاپی ما سن کے باوجودکھاے:”وَلمْ نکن له ِسْیقَامَة بعد ا .“(یکریم تی 
ا کک اتقا می درد یی ) محر ٹ مھ شون اوردوسرےمعقرات نے أ لک مل سے“ (براآدی) 
کہاہ ےج اک آ گے باحوالششصو لآ ےکی .فی ما کرام ےک نزد یک بھی صھ فی ا سے فائدونہ 
نے وانے لو تا لیئر ہے تھے چنا مچرھاف و شنی رح لعل کھت ہیں : 

وی ان عباسٍ قالَ : يَقُوْلْ اعم :اي صَجب رَمُول اللہ ف8 رَكَای مَمَ 

رسُولِ اللہ فلا ء وغل خَلق خَيْر ین نو 

”سید اہین عاس چون فر مایا لونک کچ ہیں :می راباپ رسول اش حا کاصحا ہی تھااور 

دورسول الہ ان کا تی تھاء ھا لاک پان ج لی تس کے پاپ سےکبترہے'۔ 
(سجمۓ الزوائدج١‏ ص۳١۱‏ حدیث٤٤٣؛کشف‏ الأستار ج١‏ ص ٦٦حدیث۸۸؛البحرالز‏ خارچ 
۱ ص۲۷۷ حدیث۸٥٥٥؛مختصرزوائد‏ البزارج١‏ ص ۱۰۹ حدیث )٦٦‏ 

عانفشٹی نےککھاہے :ا ںکومام مزا نے روا تکیاے اوران کےتام راچ حدیث کے اوک ہیں۔ 

!کلام می سید نان عباس نے ا شخعی کی صحاریت کاانکارکی سکیا ای رح امام طیرالی 
عمبدال مان بن ئسرہ سے دوای تک تے ہی کہا نول نے جیا نکیا: 

مَر با لمِشدادِ ئن السُود رَجْلَفَقَال : لف الع َاتانِ لان رَأنَا 
رَسُولَ الف ء فاجْحَمَم المفدَاد عَصَبً وَقَال : ھا الَاسُ ! لا تمَمَنَوْا امراف 
غَيیة الله فَكُم مم قد اه مم رز 
”دنا مقداین ا مود قرب سے ایش راق ا ن ےپ ند وگھوں 

نے کامیالی پائی جوسول اللہ خفأ کی ذیارت سے سشرف ہودہیں۔اس پہسیدنامقدادچچد 

ایچائیحضب ناک ہو ے اورقرماا:لوگو ا اس امرکی تنام کرد -ے لھا ن تی رکھاے 

بہت سےلوکوں ن ےآپ با کو یکھایک نأ ہوں ن ےآ پ کے دیدار سے فا دہ نداھایا“'۔ 
(مسند الشامیین للطبراني ج٢‏ ص۲۸٢۹۰۱٣١حدیث۱۰۸۱؛المعجم‏ الکبیرج ٢٢١ص۸٥۲٢‏ حدیث 
۸ تاریخ دمشق [مفصلا]ج ٦٦‏ ص۱۸۰؛مختصرتاریخ دمشق ج٢۲٢ص )۲٢٢‏ 


درئسل مہاجر ین وانصار کے بع کس یٹ کان تا خلہصحابیت میں شائل بناج یکا نیس ما گیا بل 


۶۲۵۰۵۵٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





کش ح با گی کے ا بھی لان مکی لگ ے۔ 
چنا ارشادباری تال ے: 

َالسابقُون الو من المُهَاجرِیْن وَالّانضارِوَالِّيْ الوم بِاِحَسَان رَّضِي 

اللَهُعَنهُم وَرَصَوْاعَنَةٌُ 

”اورسب سے اگل پیل ہہ جراورافصارادرجو بھلائی کے ساتحد ان کے پیردہوے اشن سے 

راشی اوروہ اش ےراشی'۔(التوبة:١۰٠)‏ 

امیرشامماج تھے ادرقہجی انصاریی؛اوردوسابقون اولون اور'ہا جربین دانصار با کےش بھی یل تے_ 
چنا یسید لی دس لقن اولان جس ےبھی تھےہمہاجزیھی تھے اورخلیفراشدیھی تھےان ام رشام نے نکی 
اتا کی اورندجی !نیس خلی لی مکی تھا علا ریعبدالرشیدڈمائی دیو بند کھت ہیں : 

”صفرت محاوبہ یہن مرے سے نہم اج ہیں نہ افصاریی :سان ای نکا نو ذک رہ یکیابگلہ 

خر تک لکرماڈوحمہ سے بغادتکر کے َال اقم پاخحسان )ہی یلت ے 

یرد رہے“۔ 

(حضرت علیئلچہ اورقصاصِ عثمان ظچہ ص۹۱) 

علا نمی کا اتد عدہ ہ ےلکن معاطلہ یبا تک وٹ بلکہامیرشام نے تام خلا داش بن اور 

مھا بین وانصار کی اتجاع ےبھی روگردانی کی یدنہ سید نصلی خیل کی ان تمام مجن دانصار نے 

بیعت اوراا کی جنہوں نے خلطا لا شلوگی جت واجا کی اور می رشام ان س بک اتا ےگرم 
رہےتے۔ 

ا نہوں نے لن مار نہپ ھکی اتباح بھی روگرداٰی کیی ؛کیوکہ ہرخلیہ را شدکی اس کے وصال کے 
وت عائقلء ہا ورام خلاقخت ولا دو جوڑش یگ رن ہس س ےکی نےبھی اپنے فی ےکوا ای عہد مق نی سکیا 
تھا یرام نے انی وت ےئ ا لکل هی اپنے نیت کر یز ید پایکواپنای عہدمقررکردیاتھااو یہچارول 
خلفاء راشد بن کی اتباع سےکھلا نراف اورا تا بالاحسا نکی سراسرخلاف ورزکی ہے۔ سو جب وو تام 
ہاج بین واصار اور چا روں خلفاء راشد ین جلدکی اتا سے مھردم ر ہے نو پگ رعلامہ دجیدالز ما نیکا موتفت رآن 
سفن تک ررشنی یش حابت بواکددہ””ضی الڈ عن کے ت شس ر ےن کے بعدعا م نذ مین دبادق 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۸ لجا‎ 2131331. 


کیقول میں وزنمعلوم ہوتا ہے 

وا رہ ےکہسورۃالو کی نرکودہ بالاآیت مل رضاے الھی کے لیے ہاج بین دانصار کا اجاع 
الا الع شرط ہےاورجزاشرط کے یں ہہوتی- 
فا تہ 

”یی شع ہیادوس سی الفاط کےیتحا ہماربی وذ کودہ بالا تن علا کی عبارات پہ ناک 
کےےطو پر ہے۔ بد اقم الھرو فکاا انج ٹنیس ہا لہ مس اق الھروف ف بذ ب ہ ےکرشنن لوکوں نے بکورہ 
پالرابیوں کے عطادہو ماج کےٹتجروں سی نی اورآن کے ال می تکرام ڈو پر ضرف یوکست وأ کیل 
لعنتبھ یکرت رہ اورتاوقت وفات ال سے بھی شرکر کے بی کیسییدنا عم ری نعبدالھ یلد نےکر اس 
رٹکیا یا ان کےتن می أنفیی الف طاسقتال سی جا نہیں بای یمنل ابق تع لک بھتا ہی ںک گر 
کو لیٹس نیکریم پا کوبرا کا کات یمک یسا کوک ہن یکریم حا نے ف ایاجس نےی جج 
کوس کیا اس نے جھےستکیا“۔ جیکہ گی مضیقت ہےک سید یلیڈ جوسب تم اورلصن تکی بای ری 
ا ںکاؤک یف لکتب تا رن می نویل بل ہکتب عدیث مم بھی ہے اوراحاددہٹ یع اورحصنہ سے ابت ہے ۔لی 
الہ یکن ایال می ا رییٹفظسی الفا کون ککرر ہاہوں چون فی رتناز سا .کرام ٹل کے ناموں کے سراتٹھی 
ای الفا کا استعال صرف تب ہے + وا بل او رسب کے نرک م لگن ویش ہوتاء تی دوس رے پل جس 
مھ خ دش وس ہور ہے ۔امیدد ہےکعلا وق دوٹوں پہلوو ںکومنظر رھت ہوۓکوئی عل ٹیس گے_ 
الا 

قا ری نکرام سے التاس ہ ےک ا لکتا بکوم پاش اورمنوامیہپاشیعہ دک کی عییک سے پڑ ھن ےکی ججاۓے 
تح اسلائی نل“ _گاہ سے پھیس اورمیرکی جو بات سی کے ذائی ماج ءاند تمشح اور نے سنا ےنظری کیل 
لہ و اتی غافیت وو نیس چا یک دو ڑم رد ڑا شع ویر یدے اجتتابکرتے ہوئے اورسیاق وسبا لکوقا 2 
رکتے ہو داائل کےساتھ یھ گا فر ما نیس کی رھ حصکرسوں_ 

اللَ ا نَا الَْق حَقًا وَارَزْقًَ اَِاعَةُ 


وَأرِنا ابَاطل بَاطِلا وَارزلنا ا6ۃ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


ان ‌معا دی لو عدمغڈل 

مواوہ بن ال فیا نکاشیا رمک الک مہ کےاُن دوڈھائی زا رلوگوں یس ہوا ہے جو کہ کے بع یور 
اسلام لا ۔ا لیے لوگو ںکوحدی کی رو سے طلقا راورمولفغۃ الکو بپکہاجا تھا اور ون دوفو ںاطگوں سے الن کے 
اور یم ما ہکرام پچ کے ماشین قیفرہوتی تھی :ھی اکہ مار یکتاب 'السصْسحَابَة شلام مل وضاحت 
یک کئی ہے۔ طلقا کون کک کے بعد سے نےکر وصالی صعفی حم کک نکی زندگی می ڈھائی سال لے ہیں۔ 
می رے سس رک کی مطالعہ کے مطا لبق ان ڈحائی سالوں ٹل اس نادان کے علادوددہٹرار سے راندعلتقا مل ہے یکا 
بھی شان می زبان وی زان سےکوئ یج عدبیت اب تی ہے ۔محاو یبن ای فیا نکیھی خبوکی زنر ٹل 
أ سے ہی شب وروز لے جج دوسرے طلقا ءکو لے .اب تین مو شی کرام کے مطا بی ان ڈھائی سلوں یں 
شمان محاد ہیی س بھی ز بان نو مت لم ےکوئی حد یث صادرل ہوثی- 


شا بن معادی یل بشاراحادیث ڑل 

سوال پپڑاہوتا ہ ےک ہل رکیاوجہ ےک شازن محادی یی لبکشزت اعادبیشگ رد لک تی ہیں؟ 

ا لکاجواب یہ ےک معادمہ جن ال مفیان چا یجس سا کک اققد رٹ در سے ہیں :ٹیس سال جزدی 
ات اراویڈی سا لگی اق ار أ۲ نکی شان یں ینس قراحاد یٹ گر اردجی ہیں دو سب ان کے دوسرےٹیں 
سال دور( ۴۸۰ھ سے ٤٤ھ‏ )کی پرولت وجودیشآ یں پھٹ خوران یی کے دوریل بنا یکسکیں اور چوگ ۶٦۷ھ‏ 
کے بحدبھی ہنوام کی علومت رہی ای لے بعد می بھی ا نکی شان یش احاد یت بش کیا ای ہیں ۔یہاںایے 
پہلیھی ذ جن یش رہ ےکہ جہاں ایک طرف اق ادکی برولت فضا لکی اعاد یٹ وجودٹ شآ رد یچھیں و ہیں دوسری 
طرف الیی ہستبو کی بر تکھی ہورجیتھی جن کےاقا کے لی ےعن ری جائی تھیں۔۔ ان دوٰوں صورقو ںکا 
ذکرامام ذئیی رح ال علی نے ہو ںکیاے: 

وَخلت مُعَاويَة خی کكیز مجن وَیَعَلوْی لہ وَبَْسْلَونَه ماق 
مَلَگھُم بانْگرَم وَالُجلم وَالعَاء ء وَإِا قد وَلدزا الام علی عُب وَتَرَنٔی 

أوْلَاهُّهُمْ لی ڈلک ...وَنشووْا عَلَی اللْضَب ء قوذ الله من الْهُوئٰ۔ 

”موادہہ کے کک لوق ای ری جواس سے تکرپی ءاس کے بارے می لوک نی اور 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





کوفضیلت د تی یاتذ اس لیک آضہوں نے ان پہسخاودت یلم اورعطاء سے پادشائ کی 
اوریائ لیےکہودشام ہش أم کی عبت پ دا ہوئے اور پر نک اولادے 7ء یت پل 
اور ن کین دمااصیت ( و ال بیت) پ +وئی .ہم خوائش ینس سے ال تھا کی نا ٹش 
آتےیں“۔ 
(سیراعلام اللبلاء ج٣۴ص۱۲۸)‏ 
امام ذئی کےالفاظ' تَعوْذ اللہ من ای“ سےمعلوم ہوتا ےک ائل خر لوک بیدعندواٹی ذال 
خواہشا تک کیل کے لیےکرتے تھے ۔فرق ىہ ہ ےک عام با دشا ہو ںکی شان ‏ تاد واشعا رک جاتے ہیں 
اور چولگ ماک بادشا ہت ما ہریز مان وت کےقر جب نیا شردغ ہوی اس لا نکی شان یل تھ کرٹ 
کے یئ کیا حادیرث ہتائ گنی اس میق تکوعلارٹ انی نے یوں میا نکیا : 
”'عد یو کی توین موامیہ کے زمانہ ریش ہوئی جنہوں نے پپرے ٭۹ بی بک 
سندھ سے الیٹیا ۓےکو کک اوران سکک ماج جائمع می شآل فاعل کی نو بی نکی اور جم 
میں پرس رنب رحفرتىلی لہ پیش ن بویا ٹنکڑول بٹرارولی ہیں ام رمواورہ و یرد کے 
ففضائل می ہنوایں“۔ 
(سیرة النبي كك ج١‏ ص٦٢)‏ 
:گا ونیدی شڈ کیعظمت بتربان 
یکر شون دونوں پاتوں کے تلق آما:فر ماگ تے۔ ایک طرف نے آپ نے فر مایا تھا:” جس 
تہادرے بارے میس بیفد شی سکم میرے بعدشر ککرو یمان مس بیخدش دکتا ہو نکی دنیاداری ٹل باہم 
مقابلرکروگے“'۔ دوس ری طف فرمایاتھا: ”جس نےع یکو براکہا اس نے یھ ہداکہا“۔ بیددخوں با تس پگ بادشائی 
کے دور میں بع وٹ یں ۔اولین پاش وکو کر ن ےکی خا را کی جھوٹیتت ری بھی شرد ہو یھی اور سی 
متصد کےععمول کے لے سید عی لہ رسب تم اوراحن بھی شرو ہوٹیھی۔ چنا ناما ان عبدالہ گی مت 
ال عل کھت ہی ںکحخرت ای الا ود رم اش علیہ نے فمایا: 
آڈٹحے الس وَهُم تلاث طبقاتِ : ال دی حون لا ء رَأْلْ ذََُ يُسُرنَ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


مَُاوِيَةء وَخوَارِغ 
”یش نے لوکگو ںکون طیقات میس پاا :اٹل دی سید لی نشی یی ےحبت رکھت ہیں :اب 
دنیامعادبیکو چا تج ہیںءاورت ا طقف ار حسُفَهاء٘نّ ییڈں مکاے'- 
(الاستیعاب ج٣‏ ص ۲۱۳) 
امام ائین ع اکر نے اس سکس مس ایک حدیت نی ما بھ ول ف مکی سے بحرت ابوسعیدخد ری متلنہ 
بیانکرتے ہی ںک۔دسول اللہ پا نے فرمایا: 
لائىهط عَلِيًِلَامَافق اوفَاِق اُوْصَاجبْ فیا 
”نعل ود ہیں فض ر جےگاجگرمنافی بافاستن یادیادار'- 
(تاریخ دمشق ج٤٣‏ ص۲۸۵؛مختصرتاریخ دمشق ج۱۷ ص ۰ ۳۷) 
امام این اکر مت الش علی ایک اورتقام می کے ہیں : 
”مال وشن سید دا سلہ مل نے ایک مرح ای کس کے عا رین کقریب چاکرآواز گائی: 
یاشیث بن ربج !ال پرایکٗش نے پردہکی دوسری جاب ےجواب دیا”لیک یاأئه“ 
(ائی میں حاضرہوں )تا مال وشن دیشی اڈ رکتہانے فرماا کیا تہاری مالس میں رسول الد ا 
کوبراکہا جا ہے؟ ان ول نے جوا دیا: 
نا نَهُْلَخيْنا ررض وو الْعَیاو الڈّیا. 
م پجھا سی باٹنں کے ہیں جن ے جا راقصودد یی منفعت ہے_ 
ال پہاملموؤن نےفرماا یش نے رسول ال لم کوفریاتے ہو سا تھا جھ ننس نے لی 
لہ کو براکہا یق نے مھ براکہاا ونس نے بجھے براکہا می نے ال تھا یکو یر اکا“ 
(تاریخ دمشق ج٤١٤‏ ص٥٥٥؛مختصرتاریخ‏ دمشق ج۱۸١ص‏ ۸۳) 
اس الین بادشاتی کا کرام وپ جست بحم اوران تکی اتی رجی ا سک لحقق کے لے 
ار کاب "لا تَوا أتابیٰ “(میر ےسا کو برا کہ )کامطالف رم ے! 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ما ہر نا مکح یثگجی دجو وکا گے 

جہاںکز تی پروپینڈراء لی اور با اسب زی تع ہوجامی تذدال مفاد یرت لوکو ںکواپنے اپ جھہر 
دکھلانے اورقبت پانے کے موا خوب میس رآ تے ہیں ۔ چنامچ رس دورکے مفمادپستوں نے الک چلاکیا سے 
اعادیث بت کی اور نکوی نگ بت متتوں پر ھا یاک یلم حدیث کے چہابڑہاورتا زجطرا بھی دو کھا گے 
گے ءا نکی برک کی صطاحیت وا ب د ےکی دز وکھوے ےکوقو یکر کے ای یم الشا ن کنب میں در 
کے ۔آپ تران ہوں ک کہ پیلے ایشا کی شان می پنض اعاد یٹ سلم می پگ سککیں۔ اس حد یٹ 
گی وج تب سےا بتک ح شی نکر امرب ہیں ذ را ت٠ی‏ ںآ پکھی م یتما شا طا حطر اتھیں- 


2 سرک یل م وضو حر یٹ 
کوئیف سک یکواپی بات ز بت یی منواسکتا نا بھی فقآپ کے مات مل کی دیائل 
مریٹ کے تھی مو شین کے اقوال پی کرد پاہوں ہہ گے پکی مض یک ہآ پ سل شی فکوامامسل کا تاب 
کے ہو ے أس می اس پاطل حدیث کے وقو لاکن قرارو یں پا کن .ایام سلم رص اش علرکھت ہیں : 
نت ابو رُمَیْلِ ء عَدليئ ابنْ عَبّاسٍ قَال : کان الْمسْلِمُوْنَ لَاينظُرُونَْ 
لی اي سفَيانَ لا يقَاِدرنة فَقَالَ اي لا : اي الله تلاٹ أعطييهھنْء قال: 
ھم .کال :دی اخ الغزب وَأجملةء ام خبنةبنٹ اي سفيان ارک ۔ 
قالی :نَم . قال : وَتعَارِيَةُتَجْعَله ایا بین یک . قَال: نَم . قال : وَنَوتْرَنيَ 
یی اَل الکفاز ء کُمَا تحث أَقَاِلُ المْسْلِمیْنَ . قال :نَم 
قال : أبززمیْلِ : وَلوا اه طلَبَ ذلک من اي ف2 ء ما اغطَاۂ ڈلک ء 
اه لم يَكُنْ يَسَنُ خلا قال : نَم 
ابوزنل نے بیا نکیا ےکہ یھ سینا اہن عباس پل نے فرمایاکہاوسفیا نکی طرف 
ملا ن تےکر تے تے اورنہ خی ا۲ نکوساتھٹھانابہندکر تے تھے۔اس پرانہوں نے بارگاونہوکی 
یع لکیا:یارسول اولد اج جن ری عطافانمیں ٠آ‏ تا شک نےفراازاں۔انہوں 
نے عف کیا 





۶۲۵۰۵۳٠٥۵ طا‎ 2131331. 


لہ ہرےیاں پرےعرب سے یراو جمیلہعورت ام حییبہ ہے ء مس أےآپ کے 
نیا مد بیاہوں حور می نےفرمایا:نَغمءہاں- 
٢۔‏ مھاو یبآ پ انا کاتب بناتیں جحقور مل نے فربایافغمءہال- 
وورآپ مھ امی رمق رفرما یں کہ می سکفار کے خلاف ائی رب جن کفکروں جٹس 
ط رع مسلمانوں کےخلا فکرج تھا حور خلا نےفربایا:كعمءہاں- 
راوقی حعدبیث ابو یل کت ہیں: اگرابوسفیان ٹ یکریم َ سے سوا شدکر تے و 
حضور ال ازخودعطانغماتے ٢اس‏ ےکپ سے جو چےنگی ما اگ جال آپ تسم ےا 
چو فرراتے تھے 
(صحیح مسلم ص ۸٦۱۱حدیٹ )۲٥٥٢‏ 
اکر چہ روا تک مسلرش ےلیک ن ٹن مو ین کے نز دیک ای می سپنض راو ںگووتم ہوا ےاور 
بی مرک بی وضو ہے۔ چنا ناما ممجر ین فو نید یککھت ہیں: 
”یں پچ فاطانے بتایا ہے :اس حد یت می پنخ راو یو ںکو و ہم ہوا ہے ؛کیونکیمحرفت حد یٹ 
رن دانے دپأخفصوں می بھی اختلاف نیس ےک رن یکریم ا نے ام می کے ساتھ نیا 
کک ےیک کیا تھا ءا وقت دوعوشہمی رای اددابھیآ نکا با پکاف رھ“ 
(الجمع بین الصحیحین ج۲ص۱۳۱) 
بی راوئ یکا ہم ہوکتا ے؟ اس کے تلق امام این جوز کلت ہیں : 
”مھ ٹین نے اس و مکینبع تر مہب ن کمارگطر کی ہے من سعیرنے ا سکی 
اعاد بی ثگحی فکہا ہےءاماماسم رہ نا٘بل ن بھی ای طر حکھاہے۔ میا وج ہ ےک۔امام بفارل 
نے ال سے روای ٹیل کی ۔امام سلم نے ال سے فق ال لیے ردای کیا ےک می نین 
نے اکس کے بارے می کہا: دہ ٹہ ہے ۔ا م کے ہیں: اس حدیث می لکھطادہم ہے ؛کیونکہقام 
راودیو ںکااجماح ےکہرسول اللہ ما نے جا کے پا پا کیا تھااورسی نے مک عیشہ 
یش آپ کے سا تھا مج بک نیا ںکیاتھ ا“ 


(جامع المسانید لاین الجوزي ج٤‏ ص ١١٤١حدیث۲۹۸۲)‏ 


۶۴۵۰۵٠٥٥ لجا‎ 2131331. 


امام‌ابن جو زی ای ایک او نیف میں مز کھت ہیں : 
اس می کوئی اتا فی سکرابوسفیان اور ماد ین کہ کے وقت ۸بجری مل اسلام 
اۓءاوہیں بھی معو مکی سک بکرم ا ن بھی ابوسفیا نکوامی رمق کیا ہو نمی این 
ناصرنے اہوبدانڈائد کی سے ددای تکیا ےک عافظ ایی ین این سیر نے فرمایا: ال 
حد یٹ کے وضو ہونے می لکوئی شیک نی اوران یں سار یآ خ تینکر مہ بن مار سے ہے 
(کشف المشکل من حدیث الصحیحین ج٢ص٤٤٦)‏ 
امام وشتاٰ ال اورامام سنوی شی ن بھی اسی طر حککھاہے_ 
(إكعالُ إکمال المعلم ج۸ ص۷٤١ء۸٢٦٣‏ ؛مکمل إکمال الاکمال ج۸ ص۲۷٣ )٥٦٢۲۸۷‏ 
خیال ر ےک کر مہ ین مار کذب اشک تہستن۰ی جیا نآ ںکیےرال ہم اورخنطرب الیدی ٹکہاگیا 
ہے اوداام زی نے ا کی لی حدی کی مگرف ایا ہے۔دبھے: 
(سیراعلام البلاء ج۷ص ۱۳۷) 
تقاصی عوائ ریۃ اللعل بج یڈتا ط الفا اش سب ہک ھکہ ہی ہیں ۔ دوککھت ہیں : 
الذئوَكَع فی مسلم نذا عَرٔبَ ٹا جال اعت 
”نشین کےنزد یک سسش ریف می اس حدبیت کےےتحلق انچائی جیب بات وات ہوئی ے'۔ 
(إکمال المعلم بفوائدمسلم ج۷ص٥٥٤)‏ 
امام ان جو زگ وی روکی مرکو وعبارت می جو مل آیڑے: 
”ہیں بیھی معونأی ںک ہن یکریم جن بھی ابوسفیا نکوامی مق ریا“ 
اس سے انوں نے درب بالاعد یٹ کے تسرے جم کی طرف اشار کیا شس سے دہ بی داش جکرنا 
چا تن ہی ںکراگر بعدی ٹی صلی مکی جا ال ٹس ہکن یکر تال نے اسفیا نک بردرقواست پِنَعَمْ 
ف مایا سال پیداہوتا ےک جحضور ح نے بی وعدوکب پپداغر مایا اورس جنگ میں !فیا نکوامی مقررکیا؟ 
ای حد یٹ الو اب صد بی تن خا ن تو عی ن بھی اس روابی تکوقبو لن سکیا د ہلل پٹ کے بعد 
کت ہیں: 
مُذ : وَعُل هذو اخْمَالاث لا تَغْلو عنْ بعد ء فالإمگالُ باق ء وَالرَرَايَأَیْرُ 


۶۲٥۰۵۵٠٥١ اط‎ 2131:331.ہٌ٥‎ 





خَاليَة من القََطاَِالْعلَطِ فی سِیَاقه۔ 
نم سکپتا ہوں :متام تاو یلا تتکلف سے خای یس اشکال یھی باقی ہے اورروای تکامضن 
خلا یاخالد سے فا یں ۓے'_ 
(السراج الوھاج من کشف مطالب صحیح مسلم بن الحجاج +٤ج۹‏ ص )٦٦٦‏ 
اعد بیث کے خیش جواہو زم لکاقول ہے اس کے بارے میس اب حد یٹ مصنف علا ریف ی الرحان 
مصیا کور کین ہیں: 
قؤل أبيْزَيْلٍ نذا وَتَعِيل عَْرُ َء اي ب8 لم کن لِبَطی 
الإمَارَةً عَمُوْمَ لِمَنْ طَلَبَهَاِ 
”اہو زس لکاریقول اور کی با نکردوعات دوفوں خی رمتول ہیں٢‏ اس ےکن یک رم 
ٹا مھ ]م۲ کوامار تی رت تھ جوطل بکرح تر 
(منة المنعم في شرح صحیح مسلم ج٤‏ ص )٥٤١‏ 
امام اہن الصلائ اورعافظای نک رن ملف اہ مالات سے ا عد بی ٹک وقا ئل قبول بنا ےکی بب تکیشٹل 
کیا ہین دوکوئی الییٹھویں بات لانے سے قاصرر ہے ہیں جس پیعفل کن ہو۔ چنا چرعلا این ہررن 
شا نے اپتی جو مت بن شرع یش اس حدریث پسی حا لگفشوکی ہے۔انہوں نے پیے نان دی 
کےتامماقوا لف سے میں اورک ز ںاما ے: 
وَهٰذا الَْهبٔ بنا ِنفَرَة و الإمَامْمُسلِمرَمَۂ الله تَقالیٰ عن أصْخَابِ 
امھت ء اَی أؤ هد ایی مَوْسُوُعلا زیخ الاسڈلال بھ 
”ام مادرحدیٹ کے مقا لہ اس حد یر ٹکو روا تکر نے می امام سکم رم اللعلی تھا 
یں ادرف بر ےک بعد یٹم وضو ے: یس سے یئل لیج ہیں“ 
(الکوکب الوھاج ء ج٤‏ ١٦ص١۳٥)‏ 
موی شاسین رشین ن بھی امام اکن صلاح اوردوسرے جح شی نکرا مکی تاو یلا تکاس تر وکر 
دیاپےاو رکا کرای نامناسبتاویلات ےکی راو کا خطاکاتو لک را آسان ہے- 


فتح المنعم ۹ص ٢٥٥‏ 
200-7 0ہ 


رت الثحادیث الموضوعة فی افضائل معاویۃ 
علامہاکن تی مت ہیں: 
َھنڈ الیث عَلط لا عق یہء ال أْزمُحَمَد بن زم وَهوَمَوسُوُعٌ 
”نہیں حدی ثکاخلط ہو کوگ نیس لیران من ےکہا :اور سی تک کے 
میضوں ہے“ 
(زاد المعادج١ص١۱۰)‏ 
علامہموصوف نے اس دوای تک شد یوق بن تد یدکی ہے اور ا ںکوقائل قبول بنانے میں ینس قرر 
او یلا تکی جات یں رہ رتا وی لکستر دک ہے بی کیٹنض بن تاویلات اما تی اورامام منذ ری رما ہا 
ابی مرن ےبھی صادد می ا نی ںیہر وکردیاہے۔دراقم الھروف پیل ہہ چا ےک ہا مکی اعاد 7 
کے پل مون پرائی مفبوماسند یس چڑھاد یی کہ بڑے بڑوں کے مغ چک راگ ۔ 
صحت عحد بی کی ضدرمی ںآ تک یکمتا تی 
اس طلقاء خاندان کے فضال کے اشبات یسل مکی حدی کمحت پر اصرار کے باوث لوگوں 
سے بارگاویوی شقن کی ابا تبھی جوئی اور نہوں نے یہا ںتک مود اک ہنکمم نےتحی یکا خرایا 
ہوگا۔ ہر چندکہ کت غانہ بات ہارے دوہ پھاکھی او ری چاردی ےکن سی معاص رکا نام کنا مزا سب 
نمی سک کوک ان کا مل ہیاک باٹل پرڈٹ جاتے ہیں اور سی جا تس یلیم سےشائع شد ناب مکی 
گئی ہوق برق ر جو غ سوج ینمی سکیا چا مکنا ہکیوک یم والو ںکودین سے زیاد یوب ہوئی ہے۔ اس لیے 
م یٹس اق کا جم لی پفی مد اب نشم کےالفانذٗخ‌ لکرنامنا سب متا ہوں۔۔ دو وھ ہیں 
َفَالَث طَابِفَة : بل مَأله ا بجَدَة لَه الَقد نظ لِقليه ء فنَه کاوٗ قد 
َرَرُجَھ بِفَیْر إِفتَارہء وَهذَابَاطلُ ءا ئن بالیي 2ء وا یلق بقل ابی 
سُفَانَ ء وَلَم يك مِنْ ڈلک شَي٤۔‏ ۱ 
ای کگردون کہا جم ابسفیان نےآپ خائنہ سے اپ د لک لی کے ےتجد بد 
یا کی درقواس کرای ہیوک آپ نے ام یہ کےسا تح نکی می کے دی شاد یکیھی۔ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ىہ باعل ہے :نٹ یکریم ناف کے بارے یں یتو رکیاجاسکساہے نہ برابیفیا نک عقل کے 
لا ہاور نی ان پاقوں یش سے چھھہوا“۔ 
(زاد المعادج١‏ ص۱۰۸۰۱۰۷) 
ادر کہ اس حدی ٹکو وضو قراردیے والے مہ پاروعلما الام ہیں: 
محدسٹ جح ری نف امیر 
علامدائی زم ظاہری 
ا ا ابنالجوزی 
تانشی عیاض انی 
اما مالین ذبی 
امام جشنان ال گی 
امام سنوی انی کی 
علامہابن تیرالجوز یی 
نواب صد مس توق 
مفی الرجمان مبارپوری 
موی شا ین لائین 
این م ری شنی 
لپذاکری فر ما جفرات ےگذارش ہ ےکرمیرےخلاف ڈعڈ وراپے باب پرنفا ہونے تال اپتےطص 


کا پحوتصہ ان جحخرات پرہکال مج گا۔ 


علم نشین کامیدان ذؿ ہے ؛لہاہ ا کو ہےکہ دہ ال میدان مم اپنی پت ےکھوڑے 


دواۓے ین ر الم الھروف ترکودہ پالم شی نک شی کی ری می مل مکی اس روای تکوبضی لی اور پل 
کھتا ہے کیک یمان کرت رآن ید کےعلاہکو تاب بیشان نیش رع کرد وکا با لک آ مل ے 
پک ہو۔ارشادباری تھالٰڑے: 


الہ کاں فی نے کان الاطا بک مکل وککوا ایک نج ےید 
ت5 لاب عَزَيْز ایا لباطل مِن يَيييَکَيِ وَلامِنْ علفهِ لے 00ا 


” اور یلک بیطال بکتاب ہے اس کے نز دی کی1 سکتا باعل ناس کے ساس سے اور نہ 

جچ یچ ےہ ریا تی ہہوئی ہے بڑےحست وانے :سب خو بیاں مرا ےکی طرف سے“ 

(خم السجدۂة: )٦٢٤٤١٤‏ 

جب تر نگم کےعلا دہ زشا نس یچگی دوس تاب کوعاص یس پر کیک اکن ہ ےکہت وین 
حدیث کے دورٹ أس وقت کے شائی خاندا نکی شان می ا کرد ہچھوٹی اور ال حد یرثکع ملم می نہیں 
تح سک ؟ اوراکرج سلم یی بل عد یٹ وائل ہوکتی ہن بچھرکی دوسر یکنا بکاکیاپ چھا؟ 
احادیٹث فضائلِ معاو یل وو وه 

نکر حاد یرٹ نویے آ یاکحت دم میں امت سل کا قوام عالم جس ایامقام راو رمک حاصل 
ہے جوِس ام تکاخاصہ گر چون ہن وین عدیٹ اسلام کے اولین شماعی نماندان کے دوری ہوئی اور ال 
ادا نکی شان ‏ شپٹڑوں برارو ںی یہ یپ شاراعادیٹ بنائ یی اس ل یھو ٹکیا کشر ت گار نے 
بڑے ہد ےتفل مندو ںکورت زد ہکردیا۔ امو شی نکرام نے ایی اکراحادیر کون مست روکرد پان رش 
روایات سے دوج دوک رکھا گے بجی اک سطن تر ری مم اڑی بال حد یٹ کادائل ہوجانارینس پر مل 
پٹ ہوگی۔سوازیصورت عال یل ود شی نکرام کے دوگر وہ ہو گے ۔ ایک بڑ ےکر وہ کے مطا تی شاب محادبرٹل 
کوئی بھی جح حد رٹنس ے اوردوم !گر دوش روایا کا تال فو ےگ رقائل بہونے کے باوجوددوگرودخووکو 
تہب اورگویگو یکیفیت ےی کال سکا_ ا سکیٹننض مثالی سآ گے پچ لکرامام این عساکروظی رہ کے توالے 
کی کی اوروہال ‏ نکا از بھی لیاجا ۓےگا۔ جوگرو شاپن معاوہ می اس بھی حددث نبدکی موا کے دجو دکا 
بیس و تی نکاگردہ ہے اورس کے رض ل امام این راو میرتمنۃ ان علیہ ہیں- 


قولاماماسحاق من راسح بج 

میا ال کہ یں امام ابویقوب اسحاق بن ارا یم اُعفلی را زی شم النیسابودگی ءالحروف پان 
راعو یسوی ۲۳۸ اك تار فککھتا لیکن جب می نے ا نکی سوا اورحالات کے لیے طلو کت بکا رخ گیا 
دنگ رمگیاکہآن ہے عالات کےسندرییس سےکییالوں اورکیاسچھوڑوں؟ عنق را تنا عون شکرتاہو ںکہ یہام 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۸ طا‎ 2131331. 


جہاںامام ا ینیل اور نین کے معواصربین مس سے ومیں یراع دوفوں حعفرات کے استابھی ہیں 
بس یملس میں ریتنوںحفرات اکٹھے ہوچاتے نے صدریگلس امام اسحا کوجی بای جات۔امام ابو رع رازگ ان 
کے نما حلاظد وٹ سے میں + امام ان مل کے علادوسحاح ستہ کےما مح ٹین ان کے ش اگرد میں +امام دا بھی 
!ان کے شاگرد ہیں۔امام بفاری نے نی مکی ایت پر بفارگکوترجیب دیاھا۔بلا اتلاف ا نکومام حر سو 
امرال من ف الد یٹ اوراامصنائمۃ اسلمین کے القاب د یئ ۔ ا نکی مرف فی پگ رشا فی کی نت 
بھی عائی ےت ہم زیاد وک ے کرد خودیچت تھے اوزتقیر سے بلند تھے جر وت یل می امام اج بن شی 
اوردوسرے اکا رکی ط رح ا نکی امام تکالہ بناج تا بعلم عد یٹ کےساتحوسا تح فقہاو یل مکلام دخقا می لچھی 
ا نکوامام ماناگیاے- 

ا نکی قوت حفط کے پارے می بش تی العقول واقاتمنقول ہیں :جن میں سے ایک داقعرمقام 
طھاکی من سبت ےق لکرتاہوں ۔الن کے ایک ش گر ین مھ بن خالد میا نکر تے ہیں : 

می نے نکی ۲۳۸۹ھ یں فرماتے ہوئے سنا: یں ایک لاکھاحادیث شش سے ہرہر 

عد بی ٹکو یوں یاورکتا ہو ںک گیا ا ب بھی د ود اہو سک فطاں حدبیٹ فلا متقام پرموجود 

ہے۔ناش سے ستر برا احادیٹ ہز بای از ہیں اود چا جزا وی احادی ثول 

لور پیا ہیں ٹ شکیاگیا :موی اعاد یٹ یاوکر ن ےکاکیافا دہ ؟ خر ماا: انی باوکر ن ےکا مقعیر 

بی جب کن اعادیٹ کےاہارش مر ےسا سن کوئیمھیوٹی عد بی گمز رےآذ میا سے ال 

مر ال دوں جس طط رح سرسے جوں نثالی جائی ے“۔ 
(تاریخ بغدادج٦‏ ص٥٣٥۳؛تھذیب‏ الکمال ج٢‏ ص۳۸۵)؛الإمام اسحاق بن راہویه ومسندہء 
للدکتور عبدالففورالبلوشي ص ۸۰) 

ہی ںکھوٹی اورکھرکی دبھوٹی اور رگی اعاد یٹ کے مان فر نکرنے وانے اس اہ یرٹ نے دوک انداز 
کا ےک شان معاویش کو چیک زی شش ہے۔ چنا نچر مم این الج کی رم لعل کھت ہیں : 

نا زاجِز بی طاجِر ء نان ام بی الْحْسَیْنِ اي ء دق او عَبْد اللہ 

الام قال: شمفث أیا لاس مُحَمْد بَْْقوْبَ بن يُوسٌفء َقوْلَ: مغ 


کے نے رق رہد سے ئی تو یے ھے گے 
بي یقول: 5 إسحاق بن إِبراهیم ! اي فو لا تع رای ےم 


00 
یل دوب اي ماد يد 
”یل ذاہرئن طاہرنے بیا نکیا ءا نپوں ن ےکہا: می ارب ن ین تابلی نے بیان 
کیا أنیں اوییبدادشد ام نے بیا نکیاء و کے میں :یش نے مھ بن تقوب بن لیس کو بیان 
کرتے ہوۓ سناءانہوں نےکہا: نل نے اپ واللد سے سنا ءانہوں ‏ ےکہا: یل نے اعام اسماقی 
بن ابرائی پفلیکیفراتے ہوے منا:ن یکر سے معاد بن الوفیا نکی فضیلت ٹل 
کوئ یج چزنتو ل یں مر“ 


موزاضلی ایی نی میں شا معادے 
فضائلٍ معاویے م لھوئی اعادیٹ کے انا امام اج ین بل کے استاذاوران کے قر سی سی ایام 
اسحاقی بن راحو یکا قو لت آپ پڑت گے ہیں ۔نا ہر ےک راس متلہیٹش امام ام دکابھی ان سے تادل خیال ہوتا 
ہوگالین امام ام رحرت ایل علیہ ال سللے می بہت زیادوختاط تھے اورحکو کوت پیا دیے تھے دنا رٹنس اوقات 
میں نی بھی نا موٹی کاروز و تڑ نا پا ورایک سوال کے جواب می انیس چجبورأا عترا فک ناپ اک معاوی کے 
فا لی کی شنی مج می ہنائۓے یئ ۔ چناچامام اہن الجوزئی رم ال علیگمل سند کےس ات ھکھت ہیں: 
انا جب اللہ زی احمة الْجرِیرِي ء نَا محمة بن علی بن القُج ء انا 
الدارفُطيِي ء حَدَ ابو الْحْسَیٰنِ عَيْ اللہ بن إِنرَاهیْمَ بن جَغفر بی ار الْزازء 
أبيْ فَفْلُءُ : ا تقو فی لی وَمُعَاوِبَة ؟ فَاْرَق تم قال: یش ول ِنْهمَا ؟ إِنٔ 
غَیًا ان کان کُیئٔر الغداء فَفتَش أَغدَاوُه لَه اقم يَجدُوا ء فَجَاء وا إِلی 
رَجْلٍ قد حَارَبَُ وَفَاتَلَه فَأطْرُزَۂ کیاڈا مِنْهُملٍَ 
یں مالین احرجر کن بی نکیا انی گب نی اٹ نے یا نکیا رس ام 
انی نے بیا نکیاءأنیس اپواسین عبداش ین ارائیم ی نج ظمرین میارالیز از نے بیا نکیاء 
یں ابوسعیر ین الھرفی نے بیا نکیا تی عبدانش بن امرب نشی نے بیا نکیاءددفرماتے ہیں : 
نے اپ الد سےایکسوال مم نکیا آپسیدن لی انی یہ اورمعاد یک یتح 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


کیافرماتے ہیں؟ اس پرانہوں نے انا جک لاہ چھرسرٗٹھاکرفرماا: یش ان دوفو کے بارے 
می سک یاکہوں؟ سرن علی یفاک الا عداء( بہت شمنوں دانے )تہ ان کے شمنوں نے ان 
کیب حاش کیو نہ پاے۔ پچھردو ا نف سکی طرفمعود ہو ےجس نے ان سے جنگ اور 
لڑائ یکین سازنشی کےیقت ا سے بڑھانا شرو ںاگروی“'۔ 
(الموضوعات لاہن الجوزي ج٢‏ ص۲۳ءوط: ج٢‏ ص ۳٦۲؛تنزیه‏ الشریعة للکناني ج٢‏ ص۰۷ء۸) 
اایکن کےظام پبرعاف کا چائمّہ 
حاذط این تر ستقلا نی رم ال علیہ نے امام اسعاقی بن راعو یاوراام ارم المظطیہادوٰوں اَل 
کر نے کے بعد یو ںتھھروفرمایاے: 
قفا پھنڈا إلٰی ما اعتَلقوْةلِتعَارِيَةن اْفَضَابلِ مِمّا لا أَضْلٌلَه . وَقَد وَرَه فِيُ 
فضابل مُعَاوَِة أاویٔث کْرَةٌ لکن لیس فِيّْهَا ما َضَخ مِنْ طَرِىٔق الإِسَْادِ ء 
زہڈلک جَوم اق بی رازہ وَالْساِ وََيرّهُمَاء الم 
”اس سےا نہوں نے ُن بےاصل روایا تک طرف اشثار ہکیاہے جولوگوں نے محادیے کے 
فخال ی سکھڑیائیں فضائش معاو یرم کشر ت روایات وارد ہی لن ان لکول روایت 
ایاگییں ےجس کا سح ہو امام ا سحاقی بن راو ءا مام نمائی ور دوس رےعلاء عد یٹ 
جن کا لی قول ہے وذ م'۔ 


(فتح الباري ج۷ص٤٣٤٤١ءوط:‏ ج۷ص۱۲۱ءوط: ج۸ ص٤۷٦)‏ 


شان معاو ری یں نت لکب ورسال 
ناحالل ام رشا مک شان مین وکوگی ستل ناب میرک یاظر کی سک رک الہ ج کنا ب بھی ان کےتوالہ 
سےسان ےکی ہے ددان کے دفاع یں یآ گی سےء گر چا سکاعنوا نکافضائل ومن قب کا یکیو نتھا۔عانظ 
ال علیہ نےبھی”فصسح الہسازیی“ میں ای مقام مض مق می نک یکن بکاذکرکیا ےک ن انیس قامل اتاد 
تی ںکرداتا۔ چتاشجردہ کک ہیں: 
”بن الی امم نے منا قب معاو یہ شی ایک رسالککھواتھاءامی رح اپ رفلا تحلب 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


اوراہوگرالتقاش ن ےگ یاکھاتھا۔ امام ان الجوزکی نے ات کناب''السص وضو عبات“ ان 

جعقرا تک یکتب سے پیجھا حادییث ذکرفر بای ہیں اورن سب کے بدا مام اسحاقی ین راو یکا 

قول چلا یا ےکہمعاد کی شان می لکوئی بھی غاب تکیں ہے 

(فتح الباري ج۷ ص٤٤١ءوط:‏ ج۷ ص ۱۲۱ ءوط: ج۸ ص )٦۷٤٤‏ 

ہمارے دو بھی ُن کے فضائل کے منوان سے پکھرسال ساس ےآ تے یلین سب میں موشوع 
داش روا تکیبھرمار ہے او رٹل وقال ےو تا کوئی ایک روا ت بھی خال یں ے_ 

کہاجاتا ہ ےکر فضال یادفاج معادی یس فاضل بر یلئی نے بھی متجددر سال کے ہیں راگ یہ باتک ہو 
وروی سی کے پال ُن کے رسائل مس ےکوی رسالم مو جودہوقذ را وگرم ا نچ رکوض رونا یت فرما یا جاے ٠‏ 
می اس زا وضو پرا کشخ ےآ گادی ضردر یبھتاہوں۔ 
ولس ابن راع یی کے مو رین 

امام اسعاقی بن راع رہ کےقو لکوامام این الجوزکی کے علاد مث اپوائسین مبارک :علامہاکن' مم ہی 
امام ذاہیءعلام یچرالد بن فیردذہ بادی :اما نی :امام انی ءعطامہائن مرگ لا ی ار ەعطا مہا عراق انان ٠‏ 
علا یگ طا ہنی :ٹن بدا میرث د ہل ہعلا میتی فیٴ :قاضی شوکایعلا مہم بدالرمان مارگ اورعطا کہ 
ارٹیدذمانی ن بھی ت مد انف کیا ہے سو رذیل میس ہم ان علاءکی تر یوات دعبارات جس ےل کے الفاظد 
کل کر ر ہے ہیں اوینخ کے الا کی طرف نشا یکر ہے ہیں- 


ابواین مارک طیوری لی 


خیب بقدادی کے شاگرداورامام این الجوزکی کے استاذالاسا تہ ہیں +ا نکی وفات ۵۰۰ھ مل ہو 
تین کےشاکرج ابوطا ہراتھ رین جح اصمہانیٴ فی متونی ۷ھ نے ان کےکلا مایخ ف کب ہے نف کر 
کے ”اسیو دیعات “کے نام ے ای کئھوع تیارکیا۔ ا ہویش دوامام اب نشی لکاد وکام لا ئے ہیں جوم 
اس یکل ااماین الوزی کےجوانے تی لکرپیے می ںکمحاہ یکو نے سید اع اتی کی شی میں 
چڑھایاے۔ 
(الطیوریات لأأہی الحسین مبارك بن عبد الجبارالطیوري ص٦۱۳۸‏ ء۶أُضواء السلفءالریاض) 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


علا مان تم 
علامہابن تیم مطلقًا حاد یٹ وضو مکی علامات کے بیان مم کھت ہیں: 
وَمِن لک مَاوَضَفَه بَعْض جَھُلَة السُنة فی فَصَابِلِ مُعَاوِيَة . َال إُِاق 
از لاخ فيَفَصُلِ مُعَاريةَيِ أبيَ سان غن اي فلا ضی٤‏ 
”'اورأنی می سے وو احاد یٹ ہیں ینف جال سنیوں نے فضائل محاومی میں مال 
ہیں۔امام اسحاقی مین راعو یفرماتو ہیں :فضیلتہ معادیہ جن ال سفیان یل ن یکر لے 
کوئی 6ھ جزٹا ہیں ےآ 
(المنارالمنیف فی الصحیح والضعیف ص١١۱)‏ 
امام ذئی شانق 
انہوں نے بلاق دیداماماسحاقی بن راعو ہہ کقو لکومقمرررکھاے۔ 
(سیرأعلام النبلاء ج٣ص۱۳۲)‏ 
امام یی شا 9ف 
امام یی شانتی نے ان کاب "لی الم مصنوعۃ“ مشش اماماسحاق بن راع ییرمۃ الشعلي)اقول 
نر کےساتذن لکیاہےاور اریخ السخلفاءہ“ یس ایام امہ ناش لکاوبق لف لکیاہے جو ہم وس یکل مام 
ان الوزکی اورحافظ این ت رسای رم الش ہم کے حوالہ سے دد نک ہی ںکہ معاو کسی نا علی لد کے 
شنوں نے بڑھایاادریڑھایاے۔ 
(اللالي المصنوعة للسیوطي ج١‏ ص٤ ٣٤‏ ؛تاریخ الخلفاء للسیوطي ص١٥۱ءوط:‏ ص ۳۰٣۳ء‏ 
وط:دارابن حزم ص )۱٥۹‏ 
امام وصوف بفاررلکی شر سککھت ہیں : 
اب ذگر مُعَاویة: مق وا مََْبَة متخ فی فطَالله حَیٰةء 
کكَمَا فَالَه ابْنْ رَاهُوَْہ, 





۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ساب خر مغاوَة: تق نی سکہاءاس لیک ان کےفضال م کو چنزییج 
نیس ہے +ی اک امام ائن اہین ےف مایا ہے 
(التوشیح شرح الجامع الصحیح للسیوطي ج٦‏ ص۲۳۷۹) 
علامہاین ئج رش یی شانی 
علامسائن تجرگی اٹ تاب ”المصواعق اممحرقة“ کے ”الساب العاسع“( وی باب کی تسری 
فمل کے نخ رم سیدناعی لہ فا ک کن مم کھاے: 
وَآغْرَ جج السَلَفي فی الطيْوِْباتِ عَنْ بد الله بن ُحْمَة بن عَنمَل ٠‏ قَال: مَألك 
أبِيْعَنْ عَلِي وَمُعَاوَةء ”فقال : الما عحلبا تحان تیر الاغداء ء َفتْش اه 
أُداوٰه ضَیْت فَلمْجڈوٰۂ ء فجَاء وا إإلی رَجُل قڈ حَارَبَۂ وَقََلةَأطْررٰۂ کید 
معن لمات ٢ھ‏ مدان یڈیل ےد کیا چک 
أُنہوں نے فرماا: یش نے اپ داللد سےسیدناعلی خطداورمحاو یہ ک ےعلق در یاق تکیاتانہوں 
نے فرماا: ان لوا سینا کیااک رالاعداء( بہت شنوں دانے تھے ہسوان کے شضوں نے 
ان کےخلاف پتل کر چاہاق نہ ایا قد شش لک طرف لوس نے آن سے ہنگ اور 
فا لکیا تفر یب کار یکرت ہو ۓ أے بڑھانا شر اکردیا“۔ 
(الصواعق المحرقةقص ۱۲۷ءوط:ص۳۷۸) 
ہیی مرف تماش ‏ ےکر علامدائن ججرگی ا قول سے باخمرہونے اورا ا لک نے کے پاوجودس کے 
خلا فک عطرف ال ہو گے ۔أنپوں نے اپت یکتاب ”سطظھیسر الس جسان “می حعلمکطاموضو روایا توفضاُل 
معاویہ بش در عکردیاہے ۔ شی سبچھتاہوں شاب یراس لیےکوئی تج بک با تی کہا نہوں نے بی ےتنب ایک 
ایشا ہک فر ا ایل می اھ یٹھی۔نظاہر کیج سن کی شان ایک بیج حدیث تہ ہواوریگرأ لکی 
شثان مل شائی فا نکیل م سکناب تیاہن ڑ جا ےتور طب دای کصواباق یکیارہ جا تا ہے؟ ان شا ءاش 
پچ ند جفات میں علا مہ ای نتمرگی کے ا لککامم بش تص رو لکیاجا ۓےگا۔ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


اس نکی ب نٹ ہکنانی شاف 
انہوں نے امام اسعاق من راو ہیا ودامامام رم انڈنیہادووں کےاقوا لف١لکیا‏ ے۔ 
(تنزیه الشریعة المرفوعة ج٢ص‏ ۸۰۷) 
ینآ گے نہوں نے امام موی کے جوانے سےککھاہ ےک مواویہکی شان شی عدنک تین اعاد یٹ 
قا ئل قیول ہنی ہیں ۔داقم ال رو فکچتا ےک ہام سیوٹی رم الیل علیر نے ول امام این ماک کی ردیح سکیا 
ہے اددے ان تنوں حفرا کی انی ہے اور بات دی ہے جو امام اسحاقی بن راج یر نے فرمائی ہے۔ ان شاء 
الڈرآندبفیات می دودہ کادودھ پا کاپالٰ ہوجا ۓگا۔ 
علامیچرالد گن ڈرو زآبادی 
موضونی کت ہیں: 
”ففاکی معادیرکے باب ملکوئ یک حد نیش ہے 
(سفرالسعادة للفیرو زآبادي ص١١٤)‏ 
علا ری نضیل ای 
علامہمصوف نے حافدائن تجرمسقلا ٰکی عبار تشخ انف لک کےا کول مکیاہے۔ 
(الفجرالساطع علی الصحیح الجامع ج۹ص۹۳۰۹۲) 
علامہ بدرالد بن گنی 
امام ارک مت الش علیہ نے بفارکیش ریف می فضائل معادمہ امن قب معاد یک بجاۓ ”باب کُر 
مسعاویَة“ کاعنوان :ا مک ےہا کین جی یں امام بدداللد بی نٗنی رم ال علیہ نے فر مایا ہے :اس لی کہ ال 
باب شی دہ کیل جوا نکی فحضیلت پر ولا تکرے۔ اس پردوسوالقا ‏ مکرتے ہو ےکھت ہیں: 
َإن قُلّت: قڈ وَرَد فی فصِیلیہ أُحادیِث کِيْرَة . قُلت : نَم ء وَلکن ليْسَ 


ھا خییٔے يَصِح من رق الإستاد ء نَم علیہ لِسَحَاق بيرَاهَؤَة رَالَسَالیُ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ لطا‎ 2131331. 


وََيْرقَا. 
”گر مک کہا نکی شان مت بہت اعادیث داردہوئی میں ۔ یش لکچتا ہول :گی پال ٠‏ 
ین ُن مس سنداکوئی بھی حد یٹنیس ہے :اس کی امام اسحاقی بن راو :امام فسالی اور 
دوسر ےد شی کرام رنہ یڈنم نے تعفر مائی ہے“ 
(عمدة القاري ج٦١١ص )۳٣٣‏ 


2 کی دق 


نہ فللیه 


ایا نی رح ابشرعلیکاباب کےمنوان پہ اس با تکووقو فک نادرستننیس ہے؛ اس یکر امام بفارگ 

رن الرعلیرنے اپنی یم فضال اصحا کی کناب میں تقر یبال ے زا ند اواب پ ”باب ذ کر“ کاگوان قائم 
کیا ہے لاق یت کی ۔ اس سللے جس اصل بات بی ہ ےک امام ہار ماوق علیرنے انا یتکلف سے 
کام لیا اورمعاد کی شرت سے موب ہونی ںی رح ا نکاذکرا نی میں داخ لکرناضروریمچھا ے٠‏ 
ورلوہ کت سے ای ےسا ہکرام کے فضائ لکو ہار یسکیس لا مین ےنال یں وا طور براعادیٹ 
نو یآ ئی ہیں .ارح نکرامگومعلوم ہونا چان کہامام بفاری رق ال علیرامیرشام کےہی مل سید این عباس م 
کا ہیقرل ال لیے لاۓ می ںکہمعادیہ نے ایک ھریبہ وترو کا ایک رکعت پڑھی فوائن الی ملیکہ نے سید نا این 
عباس ڈوک کا تکرتے ہوم ۓگہاکہأغوں نے وتر و ںکی ایک رکعت پڑھی ہے۔ اس پرسیدناائن عیاس وڈ 
نےفرمایا: 


سی 


”نہیں“ 


ان ریف رھ 

بلاشیسی انسا نکافتہ+ونافضیل تک بات ےگ رش رط ری ےک دہ ہا عقید داد ال ہو۔اگرکول فق انعام 
پا ہستیوں ےفف رکتاہوتذ ای فقاہ تک س کا مکی ؟ یا رکئے اس اص تکا سب سے بڈابد نت بدا مان 
بی بی فی قااورای نے سیدناعلی کو یکیاتھاءأ سکی خقاہت کےگواہ خلریہ“ حمالت سید عم رجہ ہیں ۔ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


(بخاري ص ٥٥٣٥حذیٹ۳۷۲۵)‏ 


چنا نام ذزئ کھت ہیں: 
”ان لوگوں یس ے تھا نہوں نےق رن اورف ہس یھی ءال نے ق رن سیدنامواؤ بن تبل 
لاہ ےسیکھا تھا۔امی لیے سینا عم لد ےکمردجکن الا یل دکو اکا تھا: 
قرب داز ید ارَعمَان ہی مُلُجم من الْمسجد لَلم لاس اقآ وَالْيقّة. 
عبدال مان من مک اگ سج کےق ری بکرددت کرد ولوگو ںکوق رن جمیداورف الیم رے'_ 
(تاریخ الاسلام للذعبي ملخصاًج٣ص )٦٦٦‏ 
حاف رم الشرعلی ہلت ہؤں: 
َفر انی دہ الّئَة ال الب عي اي صلی الله یه الہ 
َسَلَم بل لین اي کالب 
”رم لِم ےل کے ساتھدمایت ہ ےکردہاسل اعم تکاسب سے بڈابد نت 
ہے ہسید نمی ہنالی طا اب لکرن ےکی وج ے'۔ 
(الإاصابة ج٥‏ ص ۸۵ء تر جمة٣۱۹٦۳)‏ 
ال معقام پبلاجھرہسید نان عباس یپ سے ای سلسل وقر ٹس مم ایک اورروایت بھ کن مج ایام 
لاو تفی رم ال حلیگل سن کے ات ھکھت ہیں : 
”رم ہے ہیں:ش سیداہن عای وپ کے ساتح ماد کے پا تھاک دا ت کا ایک حصہ 
گذرجانے کے بعدمحاد پا تھے اورایک رکعت وت پڑھی۔اس پہا ئن ع با لد نے فرمیا: 
مِنْ این تَرٰی أَخْذَقَا الْحمَارُ؟ 
نیا مار کہاں سے لے لی؟“_ 
(شرح معاني الآثار ج١‏ ص۲۸۹؛فیض الباري شرح صحیح البخاري للکشمیري ج٤‏ ص )٥۹٤‏ 
علام راج بن !سا یل اکورانی شاف یٹ ھی 
علا اوران الاڈ ھی متوقی ۸۹۳ کت یں 
مق عَْرَسُوْل الله خَْنَا فی اقب مُعَاوِية بوی ان عبِاسِ قال: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


ِن فَقیْة ء وَالطّاھر ا اہن عَباس نما قال هذا الكَلامَ قب ان ان عَبَاسِ مِن 
عم أُصخَابِ عَليٍ ء بَلْ ان وَزِيرَالهُوَتُمِيْرَاِ 
”نہ یکریم نم سے منا قب معاوی ہم سکوگی یتقو ل نیس ماسواقولل ان عیاس کے 
کہأنہوں نے فر مایا :دوفقیہ ہیں ۔ ظاہری ‏ ےکمرائن عباسل نے مہ با ت لیے ای ءکیولہ 
ان عپاس یودن علی ذز ےکی ساتھیوں سے تے بلمہودان کے وزمردشی رت“ 
(الکوٹرالجاري!إلی ریاض احادیث صحیح البخاري ج٦‏ ص۹۸٥)‏ 
مطلب بی ےکرسید لی لہ کین کے لیے الییے سا زگارعالا ٹیل تےکر وی الا علا با گر 
کت بردودواٹس یس پاشندگان ت رن مل ہواتھ ہن میس سید نا این عبانس چللہ کے نابائغ جو ںکوز کیا 
گیا ھا اورسیدن مجن عدکی یلد اوران کےس رتو ںکویھی ای دو رمآ لک ایا تاور نی ںکہاگیاتھا کی ے 
زار ہد جا ڈور کے لے تار ہو جا .وا ی ےکا ٹکھانے والیمکلت می تماق باتک را آ سان نیل تھا۔ 
بیہاں شن تین واقعا تکی مرف اشا رمک یمیا سے ان شاءالث یق نکی لآ مندہفیات یآ نےگی۔ 
علا میلو نی شانی 
علا ما اشیل ب جیلو نی شی متوقی ۱۱۷۲ کھت ہیں: 
”او رفضال معاد کے جاب می لکوئ یک حد ٹل ہے“ 
(کشف الخقاء ومزیل الالباس ج۲ص٤۴۸)‏ 
اعگی ا ری نٹ ی 
طا گی ارک رۃ ال علیہ نے لین علام ابن تم جوز ین کی ر ھا ہے۔ 
(الأسرارالمرقفوعةص ٦٤٤‏ ءو مترجم اردوص ۲۰۹) 
یز ای تقارکی نے ”هر قا “لی امیرشا مکوحز فء بای طا غاد تار کاب ون تر اردیاے۔أ نکا 
کم لکوامع ت جم جار یناب ”الہ بای “ می ماطظغ نہیں 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


علام یش رطا ہری تی 
عذا رم وصو فی ہیں: 
اخ رز یل مرحم 
”فضیلت ماو یم کو یک مرف غ یں ے'۔ 
(مجمع بحارالأنوارج ٥ص )۲٢٢‏ 


عبدائق مرے دبلو تی 
یق رہ اث عل ککجت ہیں: 
وَاغَم ا ادن فلڑا :لمح فی فضَائلِ معَاِيَة یك , كذَ فی زمفر 
السعادق رَكَذَاقَالَ السُْزْطِيٰ. 
”جان میک ہح دش کرام نے فرمایاہے :فا معاو یش لکوئ یج حد یٹنیس ہے :ای طررا 
(سفرالسعادة) یل ہےاورالیماقی امام سیلڑگی نے کہا کے“ 
(لمعات التنقیح شرح مشکاۃالمصابیح ج۹ص۷۷۰) 
عفن رم ال علیہنے انی دوسرکی تصانف م بھی ایر حکھاہے۔ 
(أشعة اللمعات للشیخ عبدالحق ج٤‏ ص١٦۷۱‏ ؛مدارج النبوۃ للشیخ عبدالحق ج٢‏ ص٥‏ ۸٦؛شرح‏ 
سفرالسعادة للشیخ عبدالحق ص٢٢٣٢)‏ 
مولا نارشیداحکنگود یع یک یتآ فر بی 
مولا رشیداحمگشگودی نار شریف یس ”تباب تر ما وی جیی کھت ہیں٠‏ 
”امام بفادکی نے اس مقام پرکنواان تب لکرد اہ :من قب ےت یی سکیا ہکوہ ان ںس 
صحبت اورفقاہت سے زیادواورکئی منقّت بیا نف کی حالانکہ اک سحا یش نشتڑل ے“_ 
(تشریحات بخاري ج٥‏ ص )٦١٢‏ 
خماہرہ ےک سھاپی اور فی بہت سا کرام تے بکہمحادیہ ےبھی بل کر تھے پکرخودسو ہیک یآ رام 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


ار کیا چززلاے؟ ہشن اوصاف مشش سب شترک ہوں أٹی اوصا فکو نے رکنش کےعقی میں جاب انکر 
د اکن ساکمالی ہے؟علامہ وحیدالٹ مان اٹل عدبیث نے امام بقادگی کے اط ریم لکو اوھ را دھ کے تن کروں 
ےک رکیاہے۔ دداصل امام بفاریکاقصود اس جاب کے قیام سے دفار محاد بی ے ‏ ان محاديءجیر کہ 
حافظڈا نت رسلا لی نےکھھاہے: 

لکن بَیْقي نرہ اِسْتبَط مَا یدع ہم رُووْسُ الرَوَافضِ۔ 

”نل نا نہوں نے اپٹی باریک بنی سے وہا تخب کیا ےجس سے روا کے مرقنو کا داع 

ہوجاۓ''۔ 

(فتح الباري ج۸ ص٤٤١)‏ 

گی ال :امام بظار کی ارک بی قال داد ہے ہکیو نیس معاد کی اف را ط تفر یا کےت کر ےکا زس سے 
تلق بے کیونک یسید ناربن ماس رجہ نے معاو یکذ دبطلان پرکہانذدہرالْش یذ ہوں گے ا؟ سینا خز یکن 
جابت طلنہ ‏ ےگروو محاو پکوضلالت پک ہاقذو ہکیوں نہرالْی ہوں؟ امام عم ابوحفیقہ :امام مھ بن سن شیباٰی 
اور ٹراپ ارابعہ کے قہاء یچ نے معاو پک قائلء بای ء طاشیء بی ء چائر ‏ طالم اورصتحد یکسا ہے نوہ س ببھی 
کیوں تہ رافضی ہوں؟ سیدباعی لہ نے بھی محاد یکو با فی بھوکرأس سے جن ککاتی تو دوھی اندر سے نشی ہوں 
گے۲؟ خیکریم ام ےبھی اس پود ےگرو وو ہا خی او رآ کی طرف دا گی مایا تھا تذمحاذ اللرآپ پگ یدگ 
گار ؛ الا خول وَلا فُرّةَإِلاباللہِ 

می سکپتاہوں :ک ویک بانہآۓ اورکوئی مانے ىانہ مان ا ن تق او یقت مہ ہ ےک معاد ہکا 
ناوت :خر وخ فماد فلالت او رکناب وسنت سے روگ ر دای کے ت کرو ں صلی وأ سےکڑیس بلیتی وہضل٠‏ 
رایت وطلاات اورصواپ وخطا کےا ہار سے ہے ۔ :ذس صرف اوبصر فجن کرییان ری اش نما سے بنراری 
کوکہاجاجاے۔ 
موا نا مھ زکر اید یفخ 

لی یٹ ولا ناحج زکریاد ی فی کھت یں. 

”اسحاق جن راحو یر ےکپ اہ ےکہامیرمعاوی کے منا قب م لکوئ یت حدی ٹل ے٠‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


اس امام بنادگی نے منا ق بکالفطصراح ذکرکی ںکیا“'_ 
(تشریحات بخاري ج٥‏ ص )٢١٢‏ 
فاصمل دیو بن موا نا عبرالقاورڈاگی 
علامہموصوف موا نارشیداح وی اورمولا ا مد زگ یامد فی دوخول ک ےکا مکی شر اورتا یرم سککت 
ہیں: 
”ا ضسمائی سے پ چھاگیاکرففل محاویرے بارےم کوئ یج حدیث ے؟ تا نہوں 
نے جواب د کردا برابر راب رجھوٹ چا میں نیت تم فضال ہپ پچھتے ہو ونس پر نکواں 
ف در ماراپیاگیاکہجان سے پاتھھ دیون پڑئے“۔ 
(تشریحات بخاري ج٥‏ ص٥١١٦‏ ءکتب خانه مجیدیه ؛ملتان) 
علام یبال شیدنما یت دی بندی 
علام بد الرشینعمالی عافظط این تج رحسقلالی کے حوال ےکھت ہیں : 
أَحرَج ابی الْعوْزِي مِنْ طَریٔق بد الله ئن أخمّد بن عَنَلِء مَألث أييٰ: 
ما تَفُوْلْ فِي غَليٍ وَمُعَاَِة٥فَأَطْرَق‏ تُمُفالَ اِعُلَمْ ان عَلِيًا کان کَییْر الاغداءِ 
فَفَتَْش أَغدَاوٰهلَه الم يَجدزا لَمَدُوْا إِلی رَجْلٍ قد حَارََه وَقَاتَله فَاطْرَوْةْ 
”حافظ ای جوزی نے بستدعبدالطہ جن ادی نشی لاف کیا ےکہممش نے ا والد 
محتماماما تج ےی دمعادی کے بارے من دد اف تک اکن دوفوں کے بارے می لآ پکیا 
فرماتے ہی ت2 آپ نے س ھکال پچرف مایا اد کھوتخ تی شی اتال عنہ کے ین بہت 
تءآن منوں نے ضرت کےیب بہت اش بے ؛ ہار جک مارکر جب پیھو نل کات چھرہے 
چال پک کرش یھی نے آپ سے جن ککا ا لکوعدے بڑھانے چڑھانے گے 
اما عو نے شنانعلی کے ج سکید ‏ کم کی نشان دج یکی ہم ی''فتھ ہصیے'' 
ہے جس کے کر سے ما لک یکنا ںپھرک پٹ نی ہیں عنہایت انسول سےکہنا نا ےک فقتہ 


۶۷۵۰۵٥٠۵۷١ 5 215:0 


خوابید !اس دور یل پھر ار ہو چلا ے'۔ 
(حضرت عل لہ اورقصاص عثمانظلہ للعلامة عبدالرشید النعماني ص١١١٥۱)‏ 
شایدعلا مان نے بیاپنے لن کک رک با تکی ہوگینک نکی افسوں ےک ینعی حی کی رشن ی می یے 
کروفریب پر یلو ی مل بکرم بھی پیداہوگیاے۔فالی الله المشتکي وهوالمستعان۔ 
قاضصی شوکا نل لحدریٹث 
تی صاحب نے شاپ معاد ریش ہت ساری ہال اعاد یش لکر نے کے بھدیل سن د کے ساتھایام 
ابئ رامویتاقولً کر کےا سب پ پان چردیاے۔ 
(الفوائد المجموعة فی الأحادیث الموضوعة للش وکانيی ص٤۷١٥)‏ 
علام دا رہمائن مبارک پور ائل عد مث 
شارت ری علایمہدال مان مبارک پودگی نے بحوال ہم لاگ امام اساقی بن راو بیاورامام اھ بن 
تضبل مدرم کےن دونوں اقو ا لک[ کہ کےاُن ہحمل اتا قکیاہے جوا ش رد یش امام این الجو زی اور 
عافظرمتزائڈیہم ےأ لکر ہچ ہیں اط کی بات بی ہےکہبیتائی ا نول نے جائع تر نیل ”باب مناقب 
معاوبۃ'“ کے تکی سےہکو با لت تید ےا نہوں ن گملا اس مقام پراما مت جرکی ررمت ال علیرے اظماراخخلاف 
اد 
(تحفة الأحوذي شرح جامع الترمذي ج١۰١ص )۳٣٣‏ 
علاءوحیدالڑ مان ائلحد ہٹ 
علا مہ وحیدا ما ں لت ہژں: 
”امام بنقاری نے اود ابو ںکی رع یں نہکہاکرمعاد ےکی فضیلت :کیہ نکی فقیلت ٹل 
کوئی عد یٹ یں ہوئی امام نسائی اوراسحاقی راع رن ایا یکا 
(تیسیر الباري شرح صحیح البخاري ج٥‏ ص ۹۰) 
علا رم خصوف ا گنی سککت ہیں: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


”ام ہخارکی نے ایک م فو حد یش چھی محاو کی فضیلت مس بیانمش لک ءادھ اھر 
کےت نکر ےگردیے۔ اما سال نے ایک اع کاب خصائح سکہرقی جنا بکلی مخ کے نضئل 
مرج بک تو خارتیوں نے ان پر لو وکیا اورک ہک محاد ےگ فضیلت ‏ لپھی تم ن ےکوی کتاب 
تکھی ہے؟انہوں ن کہا :ا نکی فضیل تکہاں ےآ گی یا نک فضیلت م شکوئی عد یٹک 
نی ہوئی ؛الہت ایک حدیث ىہ ہ ےک الا نکا پیش :کھرہے۔ :پر نخا رگم دودول نے امام 
نما یکوھینسوں اورلاتوں ےش میرک رڈ“ 
(تیسیرالباري شرح صحیح البخاري ج٥‏ ص۹۲۰۹۱) 
علامراین تی یی 
علامدابن تیمیہ جو دید روف میں اس قد رشد ید تھےک ا نکی تد یدکر کرت نف متضوبی کے 
ہکلب ہوگئ تے :جیا اکرا ما گی اورعافطائ نج رح سقلائیٰ نے فربااہے :و ویھی اس بات کے ال ہیں اکمعادی 
کی شان مہ لکوئی حدبیٹےننیں ہے۔ چنامچردوکھت ہیں: 
خصوصامعاد یں یکول فخیل تج عدیٹ ٹفل ے'_ 
(مٹھاج السنة ج۷ ص )٠٤‏ 
ایک ادرمقامش اکھت ہیں: 
وَصَائقَة وَضَهُوالِمُعَاوِية فَصَالوَرَوَوا أَُاویِک عَنِ اي ف فی ذلِک 
کُلها کِذب. 
”ای کگردہنے معاودیہ کے لیے فضائ لگھٹرے ہیں اور نٰہوں نے اس سے میں نی 
گرم شلام سے احاد یٹ ردی تکی ہیں جوس بکیاس بجھوٹ ہیں“_ 
(مٹھاج السنةج٤‏ ص٠ )٤‏ 
ایک اورعقام یل موصوف نے امام ان الجوزکی رم ال علیہ کے حوالہ سےککھا ہے : 
”ایک متحص ب توم نے سدیت کاؤوٹ یکا أغٰہوں نے فیابت معاو یل احاد یٹ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





3 یں وو روا ضرا زار 7۶ نغہوں ۓے 
محاد کی نذضت ٹل اعاد یٹنا میں اوردوفو تچ خطای ہیں“ ٭ 
(مٹھاج السنج٤‏ ص٤٣ )٥٤١۷٤٤٤‏ 


امام انال ارک 

امام اححاقی بن راو ہہ رحمۃ علیہ کےقو لکی تا یر در رخ ذ یل قولی سےگھی ہوٹی ہے ۔علامہ بلاذ دک علیہ 
ار ۃ کھت یں: 

وَتقَبيٰ العْسَیْيْعَلِيٍ بی وع یَخییٰعَ عَبْد اللہ المَارک, 

قال :هَامْس قَوْم يسا لوَْ عَیْ فطَابل معَاوِيةء تب مُعَابَةأ ترک 

كُفَل, 

”یج ین ب نمی بن اسودنے با نکیا اہول نے مھ سے روا کیا نہوں نے اس پر 

ال بن الارک لف لکیاہ ےک ہا نہوں نے فرماا: یہاں ایک وم ہے جوفضائي معاوی کے 

متعلقی سوا لکرتی ہے ھا لاک ماد کے نے اتا کائی ہ ےک انیس پچھوڑدیا جاۓ'- 

(انساب الأشراف للبلاذري ج٥ص۱۳۷)‏ 

مجوئی حدیث میا نکرنے پمرےلۃی 

مگیزشنۃسطورمی ںآپ فاضل دیی ہن رمولا اع بدالقاد رای اورائل حد بیث عا لم مولا نادجیدا مان خا کا 
کلام بڑھ گے ہی ںک۔ اما نسائی رم ال علیہکوخباان معاویراورشنان مل نے فقط اس لیے شمیرکردیاکہ امام 
موصوف أ نیس فضال معاو یی سکوئی حدبیث بی لکر نے سے قاصصرر ہے۔ امام نسائی مت الشرعلیہکی شہادت کے 
اسباب شیل فقطا می ایک جب ما نکیاگیاہے۔اس وا قکوامام ان الجوزئی ءسپط این الجوگی امام ان ھکر 
امام ذٗری ءعلامراین خلکان *حافظ ای نیکشرہعلا چری بردئیہعلا این الحرا شی شا وعبدال تی یرٹ دوگ 
اواب سد بت تن ان تو گی ن بھی فک رکیاے۔ 
(المننظم لابن الجوزي ج٣١‏ ص١٥۱؛مرآة‏ الزمان لسبط این الجوزي ج٦١‏ ص٣‏ ٤٤؛‏ مختصر 


تاریخ دمشق ج۳٣ص٢۰‏ ۰سیرأعلام النبلاء ج١٤١‏ ص۱۲۹ ؛وفیات الأعیان ج١‏ ص۷۷ ؛البدایة 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 





والنھهایةج٢۲١۱ص١١؟؛الوفیات‏ لابن تغري بردي ج١‏ ص۷۷؛شذرات الذمب ج٤‏ ص ۱۷؛بستان 


المحدثین ۲۹۷ ؛التاج المکلل للقتوجي ص۱۹) 
انس بکمابوں میں یہ بات شترگ ہ ےک فضائل معاو یی حد یٹ چٹ لکر نے سے ا رر ے امام 
نسائی ری اللہ علیکیش ہی رکردیاگیا۔ ال مقام پر مہ ناج زآ پکواڈ ھک داسعدد ےکر بہ چتتا ےک لا ے !گر 
ات پڑے محدث کے پا شالن معاومی ش لکوئی عدبیث ہوئی اکر چیضعیف یتو دوموت سے ہچ ےکی خاطر 
أ کس حد یٹوچ کر نے سےکیوں در ککرۓ؟ 
ارس سےمعلوم ہو اک رای نقادحرث کے ند بک ز با لن زدعا ممدث”الّْهْمْ اجْمَلهُ هَادِيمَهُدِب “گی 
قائ ذک ری بی ورندہ بی نکر جان چچٹرا لت ۔ 
امام ھا رمۃ الشعلیہ پر صا بکابہب؟ 
انی مصاع بکاسامنا امام حاکم رمع اللدعلیہکوگ یکر نا پان کے دور کے جال پیروں کے ھر بین 
جات تھےکدہ شاب معادی لئ حدبیث پیک مس اور وگ ہن کییلم می ںکوئی تال (کرحد گی یں 
ا لے دن لوگو ںکیفر کش ود کرنے سے قاصرر تد ولوگ زیادتوں پرات رآ ۔ نچ ددع رکرام 
نے سد کے سا تھوککھا ےکا وع بدا رما ن لگ عیا کرت ہیں: 
می او ہدارا اکم کے پا یگیا چیہ ددا ہدنب نک ام کے پیر دکاروں کےمنالم 
گی و سے اپ نےگھ می حصورہوکردہ سے تھ:"لا یمک الْطْرُوْغ إِلی الْمَسْجیہ (ان 
کامس کی رف ڈلنائکن نیس تا) 
ؤذللک أَلَهُمْ کُسرُوا مِئَرَۂ وَمَعوْه ِ الْرُوْج ء فقْلت :َو حَرَجتٌ 
لیت فِیٰ ففضاببل ہڈا الرّمُلِ یَغييٗ مُقاوية لا سَُرَحُت بن طذو المِخَةء 
اور ال ےک ہن لوکوں نے ا نکامضج رت و اتھااورباہ لن سے کرد یاتھا۔ مل 
نے امام حاکم سے حور شکیا:اگرآپ ام پش ش شی معاویہ کے فا ہس پچھوردای کرد اور 
اما مگراد یت آپ ال مصعیبت سےنجات پا جاہیں گے .نو نے فر مایا :می راد لیس ماجتاء 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





میبراد کی مات ءمی راد یل اع“ 
(المسننظم لابن الجوزي ج٥١١‏ ص۰٤١؛سیراعلام‏ النبلاہ ج۱۷ ص٥۱۷؛طبقات‏ الشافعیةالکیری 
للسبکی ج٤‏ ص١١٦٢‏ مرآے الزمان لسبط این الجوزي ج۱۸ ص۲۳۸ء۲۳۹۰ ؛الوافي بالوفیات 
للصفدي ج٣ص )۲۹٢‏ 

اندازہ کے !اشن پادشاہ کے دوریش جواعادی یگھڑ یگئ یی اور و یل پچ یس اوچمردہ حا 
الناس کےکاوںاورعزاجوں می رچ ہس بھ یگئی ھی ءاگراکی اعادییٹ کے بیان دا لاء ےکوی باہر:نظا دی اور 
پرہیزگارحرٹ اتا بکرت تو اعاد یٹ موضصوص کے عادکی اوررسیالوگ اس ےکیوک رین سے ٹین دتے ؟ سوجب 
کک وضو و بائل روابات کے رسا محبائن معاد یلیگ باقی میں گے أس وق ت کک الک احعادییٹ ے اجقلاب 
کرنے والوں پر رن کےفتے کے ر ہیں کے,مساچدیش دا ےکی ممانعت ہہوٹی رہ گی اورمصاب ولتالیف 
بھی رہیںگی۔ 
مم نک ا مکاتعارف 

ایام ماک رقۃ اللہ علیہ رن لوگوں نے ما لم ڈہاے تھے انی لکرامیرال کہا ا ا تھاکہ دو بن 
ام کے پیر دکار تے۔اام ذئبی رم الف علیشھب نز ام کے حامات م کھت ہیں : 

”وہ تا نکاباشندہتھاہبرتی :شاک ام ہکا زابدہ عاہداو وکا تمہ دوردو رگ 
ا کی شہرتتجحی :اس کے پیر دک رکیر جلیان ددشد یرت ین سیف روایات بیا نکر تھاء جیما 
کاب ضپانع ن ےکا ہے ۔دوزسواہوگ یا سی راس نے دی بین جب ایارک رلیاء ال نے 


عباد گار یڑ اتیل امم ھ“_ 
(سیراعلام النبلاہ مُلحَصٌاج١۱‏ ص٢٢٠٢٥٢٥٤)‏ 
امام بی نے یکا نی تا رام ”الع الال لمران کپاہے۔ 
(تاریخ الاسلام للذھبي ج۱۹ ص ۳۱۰) 
ھیزان الاخترال اورلمان! پر ان مل ٤ے:‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


”ول اج ومْرننڈؤن“(أل کے ردارب“ ری تے)یفناہدرش بن 
بت ںکی وجہ ےآ سا لکک تیج پڈار باء را سے الاگیا نوہ یت ال قد لک طرف چلا 
گیااوردوس کن( ۵۵٥ھ‏ پ مس شام یس مرکیااورایک حر تکک اس کے م ید بین ا کا رپ 
تن موک ٹیر ہے 
(میزان الاعتدال ج٤‏ ص٢۲‏ ؛لسان المیزان ج۷ ص )٥٦٤‏ 
مبالن محاد یہ کے نز ویک عد بی کنا چائز 
تیرا نگ بات بی ےک یبال محاد کے ام فرقہ کےنندیک تصرف پہکہ پیل سےگھڑی ہوگی موضوع 
وہاٹل روایا تک بیا نکرنا جات تھا لگ دہ ازخودعد ی ٹگھڑرٌۓےکویھی چائز لیے تے۔ چنا ماما دوک اورددسرے 
شی کرام رحنۃ اڈیشیہ مککت ہیں : 
َاغْلَم : أىتَعَمد وَضٌع الدیثِ عَرَامُإحْماع الْمُسِمیْن الِيَْيعتَُ 
بِھمفِی الِحُمَاع ء وَشَذتِ الْکرَامَِة ء الفِرقَة الْمُبَْدِعَةُء فَجَوزْث وَضْعَه فی 
الَْرِّْیْبِ وَالْرْمِيْبٍ وَالزّه 
”جان می ےکر عدآحد یٹ ہش کنا ان مسلرافوں کے نز دکیک رام ہے جن جھیں اما 
می شارکیا اتا ہے اورک امیہبدڑقی فرقہ نے ا نک دا ول ا غہوں نے تیب وتر عیب اورژحد 
مس حد یٹ گھڑت جات زقراردیا“ 
(المٹھاج شرح صحیح مسلم لابن الحجاج ج١‏ ص۱۷؛مکمل إکمال الاکمال ج١‏ ص٦۳؛‏ 
شرح نخبةالفکرللعسقلاني ص ۸۱۰۸۰؛تدریب الراوي ج١‏ ص۳۲٣۳؛فتح‏ المغیث ج١‏ ص۲۲۸۷ 
۸ ئتزیە الشریعةج۱١ص١۱)‏ 
ذرا اس دو کےصوثی اورپ کااوراپے دور کوٹ اور پیرکامواز ت2 کچ ! 
گیل امک تگکراس کے پیردکاروں اورم یی نک یکر تی بی تھاقوت وشوکتکاا نک تھاءدور 
دورسنکشہرت رکت تھا موقسو و انل ردایات چلاجاتھااوردوخوداور اس کےم یل بن ماد کےعحت تھے 
ہمارے دور کے ہے پر ال یا تشم بددورگیل امنیس بل کی انلم ہوں کےءالہتہ باقی باتوں مم ا نکا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





وگ ی گرا مکا موا -ہقا سی نیک رام خووک ری راقم الھروف چن کچھ سے قاصر ہے مرکو گنس موصوف کے 
رید ینک یکرت بقوت وشوکت ( فی وئی گن لک عکیت ) دوردورتک شبرت فضائل اعمال یں موضوع 
درا دوایات میا نکر ن ےک جرأتءامیرشام سے انڑیعحبت اوران کے فضال مس م وضو روایا تک یک ت 
وغی رو دنظر کھت ہہوے ازخودمواز تکرن چا ےک رسکتاہے۔ 
دک رطلتقا کی شاان می احادی ٹکیو ڑل ؟ 

یقن ف ما ہے !اگرسحاو یکواس قر طول اق ارنہم تو جس رح ا نکی شان می لکوئی کچ حد ہیں 
ہے ایر نکی شان می لکوئی وضو او زی روا ت بھی ن بوئی ۔ ہم پلاکھ یگ ہیں کن کر کے بعددو ہار 
سے زائدگی لوگ مور مان ہو ے اورطلقا ءکہلاۓ کن ان ٹس ےک یک شان می بھی ای اعاد یئل 
یں جن کمعادیہ کے گے بھائی یبن ابوسفیا نکی شان ‏ لپھیکوئی کن حد نیش ہے + ھا لاک خلا ء نے 
نیش معادی سے اض لکہاہے۔ چنا این تھی نےکھھاے : 

َأحُوْۂيَرِيڈ َضَلُبنَة۔ 

او سک بھائی یزید اس ے فلت“ 

(منٹھاج السنة ج٤‏ ص )٦۱۳۹‏ 

2 کہ کے بعد سے نےکر وصال تو لق تک تقر با یس مین سب طلقاء نے جیساں ہا ز با 
کی ال ےکس کی شان میس جوبحوصادر ہو تافط ای عرص ہی عی ہونا تھا ہآ خرکیاوجہ ےکن اس ماہ 
یل محاد ہک شان شی اعادی ٹکا انبا رن گگیااوراس کے لے ہردو شا نل ا1ی جوخلغاء ار بعہ جو سیت 
سا بقون اون ٹس ےکس بھی عحال کی اعادی یٹ یٹس بین ہوئی یکین باقں میا سے خلفا مار عہ ال 
ےبھی بڑھاکر وکا ن ےک یکو کی کئی :ہی اک آ کے پپھو مال سآ می کی عوال بی ہےکہ اس ق رک رفا کی 
خر وی ہکا ؟کیادنیاکاکوئی عا لم حیرث :فقہ متا اویل من آدٹی ا سک یکوئی معتول وج کر شر یکا 


موت عطافریاےگا؟ 
حادم شِفضاِ معادییٹل دو اگروہ 
لین مو شی کرام میں ے!کٹرنے امام اسعاقی من راو یتین ےقو لا یکیاہے او ریچ نے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


ا الفاحیت الموضّن منویة ٠‏ 
سوا تا یکاہ لی اکم ہامام7 کی رتمۃ ال علیہ کے علاو صحاحع سنہ کے باقی تما مم شی نکاشالن معاو ہش 
کوئی دانع حدبیث ن لا نایا نہ لاسکااسسکوتی اتا ق کی رشن وبیل ہے ان کے بن ٹیم رشن فال محاویے 
میں احادیٹ موضسو ہک یکثزت کے سام مرجوب ہو ےن یلو یکیفیت کےساتھد دن اعادی کی نکی 
کات میں ڈا لے پرجبو ہے لی اک امام اب ن حسم اکررمت الشرعلی رو رہ نان برا نکی خیڈنحی ہے۔انشاء 
ماس فی فص ل کوک ری سے 
ازخودفضائل بنا ےکا ط ریت 

دورحا ریش حدبیٹ بش عکرناا وگنال نی رکرو اتا لی سندل :امشکل ہے :اس لیے پلک 
پیل سے ؤش عکردہ ال روا یا تکرز ردق تال قول :اکر انا رابھا داش کن ےکی لکرتے میں با چا 
اورموضوئٔ ردایت سے ذ ای لکل پچ ےفضیلت بنانےکیکوش شلکرتے ہیں بن حعرات نے فضائل ماد پہ 
جدکتا رای ےس میں بیدوفوں ریت موجود ہیں۔أنہوں نے اپ یکتاب یں فضائل معادی یش جواولن 
عنوان ائ مکیا ہے اس میں ہیر ددفوں با تل جع ہیں ہ]شنی ا نہوں نے جن حدٴث سے فضیلت تد کر ن ےکی 
کش شکی ہے دو حدیٹموضصوع دبا لبھی ہے اوراس سے جوفضیلت اخ ذٗ ئی ہے دویھی مصنوگی اوزلی ے۔ 
تفصیل دررچ ذی لمنوان تحت ملاحظیف یں 


علم ہوتاییا 

ایال سنت* عم پوت ای عنوان تا مک س ےکک ہیں: 

نم یکری مل اتی علیہ ہیل مکی بارگا و قول اسلام کے لیے لوگ جوقی در 
جوق حاضرہواکرتے ۔ ایک ون کی پادشا ہو ںکی اولا د سے ححضرت سینا دال بن تج ررض اللر 
تالی عنہ وفدکی صورت می بارگا و رسالمت صلی اوڈرتھالیٰ علی دالیم می قول اسلام کے لیے 
حا رہوے و انیس سوا کرام رضسوان او تزا ہم این نے بتا اہن یکر مکی اللہ تھا 
علیہ لہ یلم نے تن دن پل یتہار ےآ ن ےکی شارت ارشاوظر با یتین یکر صلی ار 
تال لی وآلہ لم نے ان پر یچ شفقت فرمائیءان کے لیے اپفا چاددسبارک بپچھادکیءاپنے 
تقریب بٹھایاہمتبرافقدس پان کے لیت من یعمات ارشاوفرماےء برک تک دعافرمائی اوران 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





کے قیام کے لیے مکا نکی نشاندجیکاکام ای کت نیقی نو جوان کے سپ رف مایا( تاقی ے بیقر 
ٹو جوا نبھی ایک سردارک ہکا فر زن تھا لیکن درسگاونبوت ےی ىاب ہونے اوصحبت صلی 
سےاخلاقی وا دا ب سی کی ہرکت سے اس کے ماع مس ذ ‏ وچھیاسردارول والی بات نیقی ) نا 
کرئاسلی تھا لی علیہ ال ہویل مکحم پاتے ہی وونو جوا نر تفر تسین ول بن تجرشی ایر 
تواٹی عنہ کے ہمراہ پل دیارححضرت سدنا ول بن ری اولدتھالی عنراشی برسوار تھے جب وہ 
تریئی و جوان سات ات پل رہ تھا۔ چوک یگ ری شد یی اس لے بکجددی پیل نے کے بعد 
اس قریئی نو جوان نے حفرت سینا دائل بن چرریشی ادڈدتالی عحن ےکہا:” گی بہت شد یھ 
ہے اب میرے پائول اندد ےجھی جن گے ہیں ۔آپ مجھے اپنے خیچ سوا رک ییجی حفرت 
سیدن وائل بین چجرریشی اتا لی عنہر نے صاف اکا رکردیا ری فو جوان ت ےکہارکم اکم 1 
جوتے جیپ کے لی دے دی اکر سکرىی سے پا سکوں ۔حضرت سینا ئل بن تچ شی 
ارتا لی عنرن ےکہاہتم ان لوگوں میس سے یش ہوجو بادشا ہو ںکالم اس مان یں یتمہارے لیے 
اتا یکاٹی ہےکمیریی ای کے ساۓ میس لے رہد بک نکر می و جوان نے نما تن کا 
مظاہرءکیااورز بن بھی جوا یکاردائی شہکی ۔ وش تگز رگا اوروونوجوان پورے مل شام 
کاگورنری نیگیا۔ ایک پارححقرت سیا ول بن ٹرش اللتالی عنرا یق می فواجون کے پال 
آے ہکا بگورزر بن چکا تھا۔ ذو قرب خوجوا نآ پت ی الد تھالی حنہ کے ساتھ نبامت 
اترام سے لآ یا اور ای کے اس واقہکا بدلہ مک ےکی جا ححضرت سیدنا ول بن تج ری 
ال توالی عدکواپنے ساتھحقت پر ٹھاااورف ابا :میرا نت مبتر ہے یآ پک اٹ یک کان؟ 
حضرت سیدناوائل بن ججرشی اللہ تعالٰی عنہ ن ےکھا: اے امی رالم وین اٹ ال دقت یانیا 
ملمان ہواتھمااور جا ہلی کا رواع تی تھاجوٹیش ن ےکیا۔ اب الل دز ویج نے کیل اسلام سے 
سرذرازف مایا اورآپ نے جوکیا ہے وی اسلامکاعلریقہ ہے۔حفرت سینا ال بن ری 
ال تھالی عنراس قرنیئی جوان کے رو بے سے اس ف رحاش ہو ےکہآپ نے فر مایا کاٹ مل 
نے یں اپ ےآ گے سوارکیاہوتامشعجم صغیرمن اسم یحیئٰ٢٢/٤٢۱ءمسندیزارء‏ 


مسند وائل بن حجر ٢٣/٤٣۳ءتاریخ‏ المدینة المٹورۃءوفد وائل حجرالحضرمی 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 


۲٢‏ ء٣‏ الاصابةءوائل بن حجر ٦٦٤/٦‏ ءرقم:۹۱۲۰ملخصام 
شبٹھے ٹڑٹھ اسلا می چھایو! آپ جانے ہی ںک نیف برداش تک نے کے باو جو زضن 
لوک ےپ نے وانے یئ دبا رقر یق فو جوا نکون تھے؟ من یکر مکی اتال علی ول 
لم ےئل انقررحالی اورکاپ وی حضرت سید :امیر معاد یت اولدتعالی عن تھ“- 
(فیضانِ امیرمعاویة رضی الله تعالیٰ عنهءص ٠٣٤٤‏ 0 
افو ںکہبیردایت سن دورما دوفو ں صورتوں میس م وضو و ٹل ے- 
حرہث ناو رکا سز رم وضو ہونا 
بعد یٹ سن دس لیے ال ہ ےکا کی سندرہش ایک راو مجن تمرہے ‏ عافطمسقلاٰی رح اللرعلیہ 
نےککھاہے: 
مََاکیْرٌء.... فان ابو أَنحمَد الا : لیْس باْقَوِيِ عِنْدهم. 


تو یئیں ۓے'۔ 
(لسان المیزان ج۷ ص۸۰۷٣‏ رقم التر جمة: )٥٦٦ ٣‏ 
بیالفانں ”ال معجم الصغیر “ کے عاشی شی لبھی موجود ہیں جن سکاوالموصوف نے دیاے۔اور ”'لهُ 
هار کےالفاظامامذئبی ن ےککھے ہیں اورحافظط نے ا نیل مر ررکھاہے۔ 

(میزان الاعتدال ج٦ص١ ٦۰‏ ؛المغني فی الضعفاء للذھبي ج٢ص۱۷۷)‏ 

امام یفاری رم اش عل کھت ہیں: 
مححمۂ بی محر بن بد العًر بن ؤال بن مجر اْحضرَيْأَُْففرِ 
الکََدِئ كُوْفِيٰء یه لطَر . مع عَمَّة سَعیْذ بن عَبْد الْجَمرِ عَن ابی ء قال لی ابنْ 
خُجر وَوََد یڈ الْبًار بعد مَوتِ الہ بسن هر . وَقَالَ َِرَعَنْأبي إَِاق 








عَنْ عَبْد الْجَبارِ مث اي ء ولا رخ 
”ھن تج رین بدا زار بین ول بن تج رج اییڈٹتفرکند کون می نظ رہے۔اس نے 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 





اپنے پچاستی ئن بدا لجبارگن اریہ (اپنے باپ گا اگل ] سے سنا۔ نے اکن تجرنے بیا نکیا: 
عبدالچباراپنے با پکا موت سے پچ مہ بعد پراہوا۔اوردہ جوفطرنے ابواسحاقی سے مبدالپپار 
تق لکیاک ہار ےکی اضجغٹ ابی“( نے اپے باپ سے سا یں 
(التاریخ الکبیرللبخاري ج١‏ ص۹٦‏ رقم الترجمة٤١٥)‏ 
ا لکامغبوم یہ ےکمیجھ بن جھرنے اپنے پا سید سے سن ےکا تو لکیاءسعی اکنا ہ ےک أ نے اپ باپ 
بدا لہپار سے سماع تکی ؛ اور جبارکا کی ہےک راس نے اپ واللدوانل بن تر سے سنا۔امام بفادکیافرماتے ہیں : 
جبا رت اپنے باپ دا لک وفات ےھچ ماوبحعد پیدا ہوا أس نے اتی وا لادت یگ لکی ےکن لیا؟ 
قول بفارگ نہ نز مطلب 
امام یفارگ رت لعل کی عبارت یئھب نت رکے بارے میس ج "وہ نر“( اس می نظ رہے ) آیا 
ہےء اس سےامعام بفار یک یکیامراد ہے؟علاء اصول عد یث فر ماتے ثیں :اس سے امام بفاری رخش ت2 
متروک اورچھوٹے ہو ےکی طرف اشار کرد ہے ہیں۔ چنا نچ امام ذ ہبی اشن داددالواعی کے عالات ٹل 
کھت ہیں: 
رَقة قَال الَْارِيٌ : لہ نطَز ء زَلا بَقُْلَ ھذاإِلالِيْمَن تمُا ان 
”لام یفارگ نے کے ارے می کہا اس می نظ ہے اور یرد اکڈرا ٹل کے بارے 
مس کے میں جوھوٹ میں لوٹ ہو 
(میزان الاعتدال ج٤‏ ص۹۲) 
ایک اورعقام یس امام ذئ یککھت ہیں: 
هو عِنْده أمَْاعَلا بن لضف 
”ایا انس امام بفاری کےنزد ریلخیف ےزیادماواے“۔ 


(الموقظة فی علم مصطلح الحدیث ص۸۳) 
امام ذنہی نے عفان من فا کے عالات ‏ بھی امام بای سے ”یہ لف لکیاہےاو یل رأس پ 


یج رہکیاے: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


فُذۓ : الْمْهَمُ بوَضْع ذو الاحَادِیٔثِ عُعْمَان ء وَقل ایکون عِْد البعَارِيٰ 
رَجْلْ لہ ربا رَمُوَمَھُم 
من کہا ہوں: عشان من فان احادیث کےکھٹرنے میں ملوٹ ہے :امام بفار یکنج رہش 
کے بارے یس ”یہ و“ کے ہیں نزو جم (حد بث می لبھوٹا) ہوا ہے 
(میزان الاعتدال ج٥ص٦٦)‏ 
امام زین الد ین ع بد ال رت عراتی اوراماممسیاوئی رت اوڈیگہا لیت ہیں : 
وََّلائ ِْهِنطرء وَفَلان سَکنُوْا عَنه ‏ وَاتَان ابا ران یَفُولّهَمَ الَْارِی 
”فلاں می نظ ہے اورفاں سے م رشن نے سکوت اتی رکیا ہہ برددٰوں بات امام 
بفائ یٹ کے بارے می کچ ہی جن کی حدی ٹکو شین نے تککردیا 2 
(التبصرة والتذ کرۃ شرح ألفیة العراقي ج٢١‏ ص١١؛فتح‏ المغیث بشرح ألفیةالحدیث ج۲ص۲۹۰) 
امام ار یکین ارت یس جو پچ ےکہ گیا ای با تکوزیادہدضاحت کے ساتھ امام این حبان رم ائٹر 
علیہ نے ول مماا نکیاے: 
مُحشْڈئی محر ئن بد مر ول ہن ُجر اَم اَی 
حفیٰ کَن ‏ عفر مین ال الکو ری عن عق وید ئن بد العبًارِ 
اه بد العًَار عَنْ ینہ وائل بی مجر بِسعةمنْكوةء بنْها لھا 
ول می حَيث رَسُْلِ اللہ فل لٹ ہِنْ حَِیثِ وائل بی خُجرٍِء وََِهَا 
أىیَاهِنْ َیرث وائل بن عُجر مُحمصَرَة ج٥‏ با لی الّكضيرَأْرط لِّھاء 
ومن شیا مَوْضُوَْةً لیس من کلام رَسُولِ اللہ 8لا لا وُر الا محیجا یج یہ ء 
وأ غبْذ الجَبار نْ َال فَإِنه وَلَد بد وُت الہ بَِة امھ ء مات وَال بن 
محر وأ مد العَار حَابل یہء رَهذاضرت بی الْقطع ازم بد 
الْحْجَةٌُ 
”ھی نججری نکیرا این و نج رج یکندر یکو دا سکیف انار بح 


۶۲۵۰۰۵٥٥١ ۷ا‎ 2131:331۳ 





کوفکاباشندہ ہے۔ بیاپے پچاسعیدی نکبدالجبار سے ردای تکرتا ہے ہکبد لجبا راب باپ داُل 
مین تجھرے ایک غیرمت ذف سے ردابی تکرتاہے۔أ نف کی یھ پا ںی ال مد ,ول 
کے طور پیلتی ےکن وائل بن جھری سد می راوراس سےٹمف کش ری ری ول بن 
سے جال ےبھیلتی ہیں :جنھیں دو اضسا نے کے طور پرلایاسے اورآن مم افراط سےکام لیا 
ہے :اور نکی پھھ زی تی ہیں کلاس خوی لہ سےا نکاکوگ ی٥ک‏ یں ,ان سے ولیل 
ینا جائزنئیں ہے۔ باقی ربا عبدالچبارین دا لکامحالطہ وہ اپے با پک وفات سے پچ ماہ بعد 
پیراہواءہل بن کی وفات ہوک ی ھی اوردا اتی واللدہ کے کم یس تھا پا کا حدم 
ص۲ امم سے جس سے ولیل ایس ہوٹی“۔ 
(کتاب المجروحین لابن حبان ج٢‏ ص۲۷۳ءوط:ج ٢ص )۲۸٢‏ 
مصوف نے ”المعجم امصغی رے جوعد ٹف لک ےا سک سندی بی ہے۔لاحظفر ایے: 
حتف اود يَغی بی بد اللہ بن مجر بن بد العمًارِ بن وَائل بن 
خر الَضَريَ الف ء علق عَِيْمُحَمہبْ مجر بن عبد اجار عَڈَا 
سَعِيُڈ بْٔ بد الجبارِ عَْ الہ سد 
(المعجم الصغیرللطبراني ج٢١ص١٤١٥)‏ 
ابآ پ توداندازوفرا ےکا نکینف لکردوحد یے سد ای پا ےکاے۔ 
آپ نے دیکھاکہ حر یث سندام ضوع ہےءاورہمارےنزدیک بیشن کےلیاظط ےبھی م وضو ہے۔ 
امام این حبان کےتزی کے مطابقی ال می بن جج رھ میں وائل ین چرس ےکی لائے ہیں اھ پان 
افسا وی طوریی پرلا ے ہیں ءلشنی ریھوٹ وی کامموصہ ہے۔امی را سنت نے اس روایت کے اندرا میں شل 
تاب پرزیادہادکیاوددد یکتاب ہے جن کا أُغپوں نے سب سے پیک حوالد در نعکیاہے اور غہوں نے جا 
وی روای نأ لکی سے اس قرطوال بھی ا نکی درخ کرد کب مل ےفاا یتا بن ”المعجم 
اللصغیر“ یش ہے چیا ہوں نے ا سکاب کےحوالہ سےبھی اس حدی کال اتد لال مان ہے لپاہماراان 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


سےسوال ہےکہ دو اس حد یٹک ل صلی مکرۓے ہیں یا ”نمیٹھا ہپ ہپ :او رکڑ واتھ وھ وانے مواملہ کے مطا تی 
طول بنغض الغاب وَمعفرُن بَغض کے مرکب ہوتے ہیں۔ 
ار نکرام!”المعجم الصغیر“ یش بیالفاڈنٹ می مک ول من چجرازخوددر بارمعاد لآ تھے 
بلمہ یہ کور ےک نی معادی نے اپنے ددبارمل طط بکیتھا.سوال پیداہوتا ےک ہأنہوں نے ا سن یکا نکر 
کیو ںکچی سکیا ؟ اس یک ہاگرد ذکرکرتے فوال حدیث سے فضیلت و ماد کل بللہ نذمست معاد يك ۔آ ےا 
ایض جملوں ےا ھہوں نے رف 1ظ رکا ذرائن جھلو ںکوھینورے پڑھ میج: 
فََمٌا مَلَکَ مُعَاوَِةُبَ رَجْلأمِْ فُرَیش يُقَالَ لَه بس بُْ ايي أرطَاةءفَفلَلَهُ 
قذ ضَمَمْث إِلَیْک الَاحِیَةفَاخْرُخ بَِیْفِکَ ‏ فَإذا تَعلَفَْ اوَاۃ انام لَسَمْ 
یٹک اَی خی بر لی لمییة, مل لئ 
َیْ اب هي هُمْاشرُجإِلیٰ عَضَرَمَوت فَاْْ َْأیٰتََْيٰ ء ون اضبْ 
ؤال بن عُجر فأَي ہہ ء تفع وَأضَابَ وَابِلا عَي فججاءَ ب یه ء مر مُعَارَِةانْ 
نَا ریعلقی)زأؤن آا. 
”رحب معاومہ بادشاہ ہو وأ نٰہوں نے ایک قریٹ ینف سکوییا یشے بسرین ال 
رط کباجاجاتھا۔ ا لکوکہا :یھی ایک علاقہ دیتاہوں سوقم اپے کر کے مات نگل چھر 
جبتم مک شام سے ہاہرلکل جا ؤگواریال لیا:سوجزشح بھی میری ہیعت سے ایارک ےت 
ا سک لکردینات کم ینہپنچوہچھرجب مد ین میس داقل ہونا نأ نف کا کرد ینا جومیری 
بیع ت کا انا رکرے۔ پچ رتو تکاڑ غکرناہسودہاں ہرأ ٹن سک کرد ینا جومیریی بیع تکا 
انا رکرےءاوداگرقم واکل بن ترک پا و ا سے میرے پاس لاناء یس بسرن ےگ مکی لک اور 
سی نے وا لکوز نہ پاپا تا سے معاد کے در پارٹش لیا کل رمعا دی نے ال سے ماتقا تام 
دی ا سے طاتقا تک اجازت دگ“'_ 
(المعجم الصغیرج١ص١٤۱)‏ 
اس کے بد جوا ل ک7 جم/ضوف ےہ ںیاے: 
”حضرت سیدہا وال بن ری اللتھائی عندکواپنے سات ھققت پر نٹھابااد رف مابا :مرا 


۶٣۵۰۵٠۵۷ زط‎ 2131391. 





2 س تو 

نت بہت ہے یآ پک او یک یکو ان؟ جضرت سیا واکل بن تج شی ارڈ تھائی ضر ےکہا:اے 
ام رالاؤنشن ابیش اس وقت تیانیاملمان ہواتھا اود جا ہلی تک ردا جع دتی تھاج یل نےکیا۔اب 
ال چا نے یں اسلام سے مرف ازفرما اہ اورآپ نے جوکیا ہے دتی اسلا مار بیقہ ہے“ 





(قیضان امیرمعاویة رضی اللّه تعالیٰ عله ص٣٥)‏ 

ہرچتکہہمارااعتاد ال ردایت پل ہےءچوکہ وٹ دی کا ھوصہ جےلکان دوسرکی ردابات سے 
ات ےکس بن ال ارطا نے محادیہ ک ےمم کے مطااق مت مواویہ کے مک بین اورسید کی من ک ےکی نکو 
تد کیاتھاء نی وج ےک رشن مرن سب نے اس بس بن الی ار طا کو اس کے“ھاٹی ہونے کے پاوجود برا 
شف سکہا ہے :جیا ا سکیل ای مہدی اوق نات ےئنوان ےتآ ےکی ۔الن شا ءانڈتھالی- 

ہاں وال یہ ےک جب معفرموت کے علاقہ یں یعت موادیہ کے مگ ری نکو دی ککردیاگیااو چرس 
بھ اتک ماحول سےٹگا لکر ال ین تجرکو بس رین الی ارطا ان ساتھ ذظ ولا یا ا دردربارمحاد ریش بی کرد یا ال 
میں کل من تج رکا لیم ہے ات مین ؟ رآ نیس اپ قنت پرٹ ھکر ۳یا +اسا لن لکاواقہ یا وکراتے ہہ ےکہنا: 
می راققت اچھاہے یاتہاری اٹ یک یکو ان ؟ کیا سوال ذاش نی ہے ؟ننن بلکہاس می کب رہے ہیی وجہ ےکم 
ول ین راس پش رمندہ ہونے اورأننی لٹسی چوڑی وضاح تک ناپ علم و برکا تقاضا تق یقھاکہدہازخوددربار 
معاو می لبھیآتے فان سے سوا لکیاجاجااورنہ دی أُ نی دوواقہ باوکرایاچاجا؛] ںکااشي ہوت اک دہخود ول 
بی ول میں شرمندہ ہوجاتے اور بعد جس لوگو ںکی مالس مس بیا نکر تے پچھرتے کرک طرش ےکیٹ نے 
اس کےسات و سلو کیا ان اس نے الع میرییپشقی مکی اورمی ری زیاد کون بائن پیھی :ہلا ئے! 

یہاں یک سوال بیٹگی ےک صسوف تن ےکہا: می را تحت اچھاے تہارک اش یک یکو ہا ن؟کیاییٹابتکیا 
چاستا کان کل یکر ام اورضلنغا مراشمد ین یہ کے دورمی ںبھ ین تکاتصو رتا ؟' 
کیامییعت ک ےکرک لکیا جا سکتا ے؟ 

ای حد یٹ شل ےک معادیرنے ازخودشظرو ںکيطرف شک اوران پ رمالا رگم دی /خمرا 
میعت سے اکارکرے ا کا کرد ینا۔ یکس شریعت ہس ہ ےک جیٹس جیعت نہکرے ا کو لکردو۔سیدنا 
عبادہ بن صامت مل جوانصار ا کےسردار ے,أنہوں فی کرکین شی یڈنم کی بیج تننی لک اتی کیا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


ازاہدیت لوس موقر ف انل اون ق0 

یی ک رین شی انڈےکہمانے انی ر لکرادیاتھا؟ شرییت ئش بیعت سے ااکارکرنے وانےفردداح کا کر نے 
ک کوئی اجاز تکجیں ےہا ں ال“ ہیں ےکوی لم ضا وت مرآٹھا ے وأ س بفاو کو اور پا یو ںکت کی 
رف لانے کے بے ےق رآن جی فا ل کاب قاعد دع مآیاہے۔متاویہاگرسیداعلی خیلدکی حیات می یں خیدہ 
رتی تھا اس کاسی نفکرشورش کے فی رلوگو ںک لک دہی ےکا رڈ رکر اکس ش رمعت کے مطا بی ھا؟ 
رولت مہ کے وومر۔ ے ‏ لے 

ارہ پل جلوں کے علادہ اس عدیث کے پھاور جم ہبھی ہیں جن ہیں موصسوف نے حذ فکردیاے ء؛ 
آ یے !ذرا نی لبھی بج می ۔ جہاں ان جملوں کے مطالعہ سے اس حد بی ٹ کا موضسوع ہوناعیال ہوگا و ہیں ال 
حد یٹ کوقائل اتد لال بک الو ںکی خیاخ ت کاپ لہ کم جا ےگا چنا نچ جب ول بن جھرنے اپ معذرت 
ٹپ لکن محاد یہن ان سےکہا: 

فُمَامَنعَکَ بی تُصْرِنا ء وَقَڈ الْخََکَ عُنمَان لِفَةُوْمِهُراء لٹ : 

لک فان رَُلا مُو أَ بِمْتْمَان نک ء قال : وَكَیفَ يَكُون أَحَق بِم-ْمَانَ 

یيٰء وا ارب إلیٰعُتمان فی النْسَبِ ؟ لت : إِنٗ اي 8 کان آخلی بین عَليُ 

وَعْتمَائ فالخ اؤلیٰ بن ان اَم ء ولس أقَابلُ المّهَاجرِین ء قال : اسنا 

ثُقَاجِرِیٔنْ ؟فُنُۓ : أولّسن قد الما جَمیْقا؛ وَححمّة أھری ء عَضَرْث 

زشزل اللہ ہلل وذ رع رَأَمۂ نو اْمَشْرق وَقذ عضَرَۂ جع کیھز تم ره لی 

بَصَرَهُء َقَال: اَنْكُمْ اشن تحقطع اللَیٍِ الم ء فَشْذَد اما رَعَجِلَ وقَعَةہ 

فَفُث لہ یب الوم : یَارَسوْل اللَو! رما اليتَیْ؛ َال :بابلا بِدَ لت 

سَیْفان فی الإمّلام فَاعسَزلَهمَاء فَقال : امْبَخت دم ؛فُلك :لا وَلكتَیُ 

أَصْبَحُث نَاصِخا لِلمْسْلِمیْنَ ءَقَال مَُاوِيَةً : لرْسَمث ذَا وَعَلِمنه نَا ُلڈٹٹُک. 

میم رلیٰ صَخْرَوَفضَرََه عتی انکر .قَقَالَ: ارک لوم َخملون علبَاء 

فشْلث : یق تَصْنعبقولِ رَسُولِ الله 8 : من أخبْ الَنَضازلبَهِيٰ ء وَمَنْ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ لطا‎ 2131331. 





یں جھاری مددکر نے سےمس بیز نے ردکا ھا لاک سینا عثان ٹن ےتھہیں مع ر 
معز رای تھا ؟ یی تن ےکہا: آپ نے ایییڈن کےساتقا لکیاہے جوآپ سے بڑکرعٹان 
کاتی دار ہے۔معاویے کہا :دہ کی بھھ سے بڑ ہک رثا ن کات دار ہے مھا لاحک با لعثا کا 
زیاددق ری ہوں؟ یٹس ن ‏ ےکہا: ن یکرمم دنہ نے سیداعلی اورعثان کے مان واخیات فر بای 
تھی اور بھوائی پچ زادے زیادومقرب ہوتا ہے+اور مہ مہا جربین کے خلاف جن کبھ نہیں 
کرتا۔ محادی رت ےکہا: کیا ب مہا کیل ہیں ؟ یش تن ےکھا: فی ہتزکی لک ہہ تم دوفو لکوہارے 
حال پریچھوڑدیں۔اوردوسرکی دیل یہ ےکم رسول اوقہخ ا کی بارگاوٹس حاض رہوا۔آپ 
نے اپنا عراقرس مشر قکیطرف بلندکررکھ تھا ورلوگو ںکا ایک بت تفم جو دتھاء کر پ نے اپ 
اد مارک جھکاتے ہو ئے ارشادفر ماقم پران حر را تک ماخند خت میں کےء پھرآپ نے 
نکی شدت سرت جیا نکی ادرنا لین یگ یکا انہارفر مایا ودک وم یس سے میس نے سوا لکیا: 
ارسول شاو ہے نے ہوں گے؟فر مایا ا ول جب تم اسلام می دویکوارو ںوکرا ا یموق 
ان سےکناروئش ہوجانا۔اس پر معاوی ‏ ےکھا: کات شڑلی ہو نے ہایس ن ےکھا ہی نان ٹیل 
مسلماو ںکی خرقوای چا تاہوں۔معاویہ نےکہا: یش نے تہارا می خیال سنا ہوتا اورائل سے 
آ تہ ہوا ہوتا میں بلاحای نہ ن ےکہا کیا آپ نے سیدناعخثا نکی شارت کے وقت 
سی ھ بن سلمہانصاری لہ اویل دیھاتھک ود اپنیکوارکوا اک رایک چنا نکی طرف بڑ سے 
اوراس پ مارک رأ سے تو ڑدیا تھا؟ اس بر معاویہ ن کہا :اس (افصار)قوم نے جمارےخلاف 
ج کی ہے۔ یس کہا : ھچ سول اللہ کے اس قو کیاکی کیپ نےفرمایا تھا 
جس نے انصار یٹ ے مب تکی نہ سےمحب تک وہ ےمحب تکی اورجنل نے انصار ڈے 
کمن اس نے بج ےنتف کی وج ےٹنف لرکھا“۔ 

(المعجم الصغیر ج٢‏ ص )۱٥٤١١١١‏ 
جولڑک اس روای کو ا قاملٍ استدلا لگردانے ہیں .ان سے چنرسوال ہیں: 
1 کیاسیدنائلی وحثان ریش انڈ ما کے این موااتکاق لم ے؟ 


۶۲۵۰۵۵٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





کن ہ ےکہ ہار ےامی ال سقت ا موا ما تکوغا کر ڈالیش کون انیل موا زا“ صلی رنیم 
اسر الا تی ے_ 
٢۔‏ ممیامھاد میٹ ہاج ین یش سے ے؟ 
ہس میامحاد یرگ حمااعت نکر نے کانام خیعیت ے؟ 
۳ مھادمیینے مفرت ول بک ن جج ٹکو اپ ہا لکیوں بلایا تھا 07 ں‌ۓے؟ 
۵۔ ممادبانفصاریٹکوا پاش نکیوں ھت تھہکس جنگ مس انصار نے ان پ ملک یاتا؟ 

تار کرام نشایدا می ال سنتدشش سےس مہ ہوں :ینک حاطب امم لتم کے لوگوں کے نز دیک ہر 
تھی وت بات ا قول ہوتی ہے۔ چنا لچ نہوں نے اپ کاب کے سب پل کل یقکھاے : 

”'کتاب کے خریدارمتوجہ ہھوں: کنا بک طاعت نایا خر ی ہو یاصفا تغ ہیں 

اپانڑنگ می لآ کے چچیچ ہو سے ہو ں تو مکالمد ید ےجو فررائیل“_ 

گرائیں کک ےکی ق ٹنیس ہو کان سے اگرکوی یلع ہوکئی ہوق یس سے؟ گ وک یی ءھالانکہ ا نکی 
ےکا بمتقوی مواد کے اط سے نے فیعردم وضو روابات اود ئل مو یلات پچنی ہے۔تا ہم انصاف پپند 
تا ری کرام ےی ای یی اکر نہوں نے اس طویل روای تک یفصمل تو یور سے پڑھاتذچہاں ان پ 
اس روای تکام وضو وہل ہونا عیاں ہوگاءوہیں ان پر تقیقتبھی مشف ہوجا ےگ یک اگر برای تک بھی 
ہوٹی ت تب بھی امی ابی نت نے جوا سے اتد لا لکیاہےڑ عم ہوق ایا 'مرحال اٹل ے۔ 
تیم 

می کاعئی ہے :بر باراددپ دقار :جآ پ ہوالہ ارک بھی ہی ںکہموصوف ای اس می خوا تاد 
سید حبدالہ نکعریخۃپہ بیس پڑے اورکینے گے ام اس سے اوراس کے پاپ سے زیادہخلافت کت دار 
ہیں ەادرسیدناہ نریڈ مم کے ساتئے از راوخوف ا بکشائی نکر کے کیا یکا نام لم ہے؟ زا یلیم کے 
ساسئے احطف بک نشی سکوکہنا ڑا :پچ بوی سقتہاراخوف اورجھوٹ ہویش قذر بک خوف کسی داقی اوشتق 
میم کے ساس کے بولا بھی وشوارہوتا ے؟ 

علم معاد یرم حد یٹ اکوئ بھی یں ہے بک نآمجارواقوال ہیں اوران میں !کٹ وضسوم ہوں اور 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


رت 
ٹل دقالی ہے زکوئیبھی ول خال نیس سے _ پھر جو یل رآ تواو بھی سب مصنوٹی اور تکلف تھابجق یک ایک 
عربرأان ے تخوداس موی نکااظہارشی ہوگیاتھا۔ ددم ییمتورہ نے ون کےسا سے سید عثان یی ش 
رون ےگ اورشکای تک نےگ یت آغہوں نے ےل دی ہو ےکہا: 
یا بنْتأخجي !إِن اللّاس أغطَونَا سُلط فَأَظْھَرنَا لهُم جِلْمَانَختَعََبُ, 
َأطھرُزا لن طَاَةنَهتَهَا جفذ ‏ فَِغنَاهمْهذا بھڈ...... 
ھی یں نے ہی ںککومت دی تذہم نے ان کے لیے وویلم نا ہرکیاہ جس کے 
نچفضب ہےاورأغہوں نے ہمارے لیے اطاعت ما ہرکی ہے یس کے بین کین ہے وم نے 
ان کےساتھھاا کا سودا ال کے سا ت ھکیاے.....۔ 
(البدایة والنھایة ج۸ ص۱۹۲؛مختصرتاریخ دمشق ج٢٢ص٤٦)‏ 
اموئی خلاممانالیالدنانے "لم معاویة' کےنام سے تغل نیک رسا لھا ہے ءأس می ںکوئی ایک 
ایی ابیانیں ےن یت میا ہوتا وہ پر داقن کےآخر سے مصنوعی ت کیک ری ہے .لاہن لیم 
کیرک رکا سے جوسیدنا عان فی یی ےکوتتول ر ینا تا تاجن نے سیدنا رین عدریی ند اوران کے سا یو ںکو 
ات یکرا یا جاک ؟ ملق لآ ےکی اور جوق رن :اط اور ا ایت تی کے ساتین ستصول اققہارکی 
ار برس رپا ہوا اعل مکام ایاپ دیگنڑ اہ جتب سے ا بکک لابا جار پاے۔ائ لکو پر پینر ا فقط شی 
خی ںکبہر ہیاس دوری کھیٹچض حا لیک ا سکی موی تکو پھانپ گے تھے۔ چنا امام این ماک رشا می 
اورعا فظطاہ کشا یککھت ہیں : 
٥ك‏ فُوْمٌ مُعَاوِیَة عِنَ شَرِيْکب فَقَالَ بَعْضْهُمْ : کان عَِيْمَا ؟فَقَال: لیس بِعیٔم 
مَیْ سَففة اق وَفَتَل عَلي بن اي طَالبٍ. 
”ایق نے قاضی شی ککییچاش میں مواو یکا ؤکرکی تاجن نےکہا چیم تھے؟ ُنہوں 
نے مایا دی جس نےت کو نہ بی ناادرسید کی نال طالب ند سے جن کی '- 
(مختصرتاریخ دمشق ج٥۲‏ ص۳۸؛انساب الأشراف ج٥‏ ص۱۳۷ ؛البدایة والنھایة ج١١‏ ص 
۷ ؟؛وط:قطر ج۸ص۱۸۸ ؛العلم الشامخ ص٣‏ ۳۱) 
علام بلاذ ری ایام پچعم ابوعضیہ کے نما امش یٹ ہکاقول سند کے اتھذخ لکرتے ہو ئے کھت ہیں: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


0 

دُکر مُعَاوِيَة ند الّغمَشِ فَقَلوْا : کان عَلِیْمَا ء فَقَال الغمَش : یت 
ون عَِیْما وف لعل رَطَلَبَ رم ہذم عُنْمائ مَْ لم وم هُوَرَمُ 
عُتْمَان ؟ وَعَيْرْۂ کان ول بِعتْمَانَ مه 

”امام امش یچ ہک یکس میں محاد یکا ذک رکیامیا و لوکوں ن ےکہازدہ میم تے۔امام 
امش نے ف ما :و کی ےلیم ہ ومن جل ہا نہوں نے سیدرنائی لہ کے ساتھ جن کک اور اس 
یس سے قداص عثان لہ کے مطال ہکا ڈھونک رچا یا نے ایاگ کیا ۔بھلاوہ اور 
صاع عمان؟ دوسرے لوک ُن ےز یادوحضرت مان لہ کےتی دا رج“ 


(أنساب الأشراف ج٥ص۱۳۷)‏ 


رین ای ارات صھالی کے مال م 

ابآ یے اذ را پٹ کے عالا تک جا ئا ہجھی لے لیے نس کے مظا لمکا خوداس روابیت می بھی کر 
ہے ےکتاب 'فیضان امیر ماد یش عم ہ وق ایا کےعنوان علم معاو اہ تےکر ن ےکی پا لکوشنل 
ککئی۔ کن کے عالما تکا کاٹ مطال کر نے کے بعد جو پمیر ےلم می سآ یا ا کا خلاصہی ے: 

ا کا شراب ٹکیا جا تا ہے ؛ رین انَائی سک دل سفا اک اورالم تھا۔ ماد کامگورن تھا ءال 
شی سکو سی نی ون کی خلافت کے دورجی می ںان حلاقول یس کھ گی چہاں کے لک سید ناعلی ح کی خلات 
واطاعت پرقائم ےہ کہ انیب ککھایاجاۓے ۔ ال لک صحامیت مم اختلاف ہے۔امام کی نین فرماتے 
ہیں :ال مین کے مطابق ال سے ن کیم ف پلک یکوئی حد یٹ منقو لیس ہے اورائل شا م کے ہی ںک راس 
نے ب یکر الہ سے احاد ی کی ماع تک ہے۔ 
سرسحا ی اھر برا آ دی تھا 

ھ مال بھی تھا ت برا آ دی تھا۔ چنا ناما اہن تن اوردوسرےمعفرا تفر ماتے ہیں : 

کا بُسْرْينْاَييُ رماة زَجُْل سُوْمْررَجلا سُوٰ٣ٌا).‏ 

نیس رین الی ار طا این تھا“ 


(یحییٰ بن معین وکتایه التاریخ ج٢‏ ص۸ :الاستیعاب في معرفة الأصحاب ج١‏ ص١١١؛تاریخ‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥١ لطا‎ 2131331. 





دمشق ج١۱١ص )۱٥١‏ 
بہت سےعلا کرام نےککھاہ ےک اما وارلنی نے فرمایا: 
سر بی اي اڑطاۃء وَقَال: اب أُرعَاةأبُوعَبّْ الرّحمان لہ ضحم ء لم نکنل 
ابوعبدالرمان بس بن الی ارطا ۶ا ورابن ارطا جج یکہاجاجا ہے بسھالی قھا لان ٹیک ریم ا 
کے بعدأ کی استقا تی ریڈی''_ 


(تاریخ دمشق ج١١‏ ص١٢١؛تھذیب‏ الکمال ج٤‏ ص٦٦؛تذھیب‏ تھذیب الکمال للذهبي ج٢‏ 
ص١٦٢‏ ؛تھذیب التھذیب ج١‏ ص٤۰٦٠‏ اُسدالغابة ج١‏ ص٥‏ ۳۷؛الاستیعاب ج١‏ ص ۱۰۱ ؛العواصم 
و القواصم فی الذب عن سنة أبی القاسم للیماني ج٣‏ ص۷٢۲‏ ؛الروض الباسم فی الذب عن سنة 
أبی القاسم ص )۲٥٢‏ 
اگرقا ری کرام یہاں بیو پی کی حتف بای سک مس رین ال ار ط7ا ستنقاصت سےکیو ل کرد ہوگیا تھا 
نپ بت ےعقد ےوحل جا یں گے سکم اصولی ےک استقا مت جی می بات ہے؛اکی لے برنمازٹش 
ا ای مال ے:٭اِهین الضِرَاطً الْمْسْتَقِيْم پچ یٹس راو رات سے بک گیا تھا او رشن نہستتہوں ےبحہت 
کےبخیرا یما ن قلب میس داقل بیائیں ہوتاان سے عداوت رکھتاتھا۔ چنا غیتوددعلا وکرا کے ہیں : 
وَكايّ مِنْ شِیْقَةمُعَاِيَة بی اي سُفمَانَ ء وَهَهد مم معاِيَة مِهِينَ ء وکا 
اوه وَكهَةإِلی الم واللجکاز فِي َو سَمَةأریِينَوََمره ان يَقَری مَنْ کا 
فئ طاغةعلی زم لعل ہمگة زلمدتةَوَایم أَلغلا فَیْعَة 
”بی معاویہ جن الی سفیان کے شیع (طرقداروں )سے تھاادر تک “ین یل معادیے 
کےساتھدھا معادی نے ا لکوسنہ ہت کےآغناز کن اورتمازکی طرف روا کیااو رگم دیاکہ 
جولوک لاعت ہی پان ہوں ھن نکر نک کاس تا ممکردےقو ال نے خوب ۲ن سے جنگ 
کی۔ پوس نے بررمہ:عھ یندمنورواو ین شیل افعا ل تی کا ا را بگیا“- 
(تاریخ دمشق ج١١‏ ص١٢۱‏ ؛تھذیب الکمال ج٤‏ ص٦1؛مختصرتاریخ‏ دمشق ج٥‏ ص ٣۱۸۳‏ 


تھذیب التھذیب ج۱( ص٤۹٥٥)‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


نمرمواو پیک محب اود یکامففلییوں ؟ 
برنخل کے عالات ومظا لمکا مطالعہکر تے ہو ئے یں تجرت ٹیس ڈو ا ہوا کہ ماس فرسفاک اور 
بے رت رکیوں تھا :لین اس دنت وق پل ہوکیاجب جج یمعلو ہو کہ ا رش سے تھا۔ امام مخلطا یی نے 
ککھاے: 
قال أبُوذاوٰد : گا بُسْرَ عَجّاما فی الْجَاهِليّةء وَهُوَین مُسِمَة الج 
”ابوداوفریاتے ہیں:اسرجابلیت میں ام اور کہ کےےمسلانوں میں ےھ 
(إکمال تھذیب الکمال ج٢٦‏ ص۳۷۹) 
خٌ کر کے بعدرمسلران ہونے وا نےلوگو ںکوطاتقا وچ کہا چا تا ہے :سواگر دوطلقا ء یش ے تھا پھر اس 
کیا محاد یہ کے سا تحبت لا زمہگی۔ال ل ےک خطری بات کہ ”اہنس مل لی انس “(جنںٹٹ کی 
طرف ران ہوئی ہے )لییق: 
کو ین ہام ۱ى۱6سسلٰ پاز 
کب .) میق با ہبہ با 
حدیث پاک شی ٤ے:‏ 
جن بد اللہ ء قال: ال رَسُول الله 8 : المهَاجر وَانْسَار 
بَعَْمُهُم أُرلَاء شض فی الڈنَ وَالآجِرةء وَالطُلَقَاه بِنْفُریش ء وَلْمقَءُ بن 
یل ء بَعَصْهُمْ أولِيءُبََض فی الڈیَ وَالآخرۃ. 
”نطرت جرمین عبداید بیا نکر تے ہی ںکہرسول الشد میم نے فرمایا :ہاج بن وانصار دی 
اورآشرت میں ایل دمرے کے دوست ہیں ءادرق یش کے علق ء اورتقیف کے خنقاء دمیااور 
آفحرت یس ایک دوسرے کےدوست ہیں“ 
(مسنداأاحمد ج٤‏ ص ۳٣٣‏ وط: ج٦‏ ص٥٥٣٢‏ حدیث۲۷١۱۹؛صحیح‏ ابن حبان ج١٦٦ص ٠٥٠٢‏ 
حدیث ۷۲٢٢‏ ؛المستدرك ج٤‏ ص۸۰؛المعجم الکبی ج٢‏ ص٣٣۳٣۶٣ ۳٣‏ حدیث ۰۵‌۱مءء م۲۳۴" 
وص٣٣٤۳‏ حدیث۸٤٢۲؛مجمع‏ الزوائدج١١۸ص١٥)‏ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


متاد ییحی طلقاء ٹس سے تے اور یس بن الی ارطا ھی طلقا ء مس سے نھانذ ا سکی ایک مہا ج رشن سیر 
لی یلد ےکسےقی ؟ ا کی اپنے طلقاء سے جی جینی ادرخوب بی با کرد ہا د+قی مم اناد جن یمان سب 
نوا یٹھاتھا۔ 
یی اکا بک یع ن اغزش 
رین الی ارطا کے عالات کے مطالعہ کے دورائن می رے سا ےن اکا یمحر شی کرام رحیۃ ان مکی 
السی عیارتآ گی جوخقئ ال سنت کے ممناٹی ہے ءلڑتی اس سے خی رن یکیحصصت کےعقیر ےکی انی ہے٤‏ اور 
چون اکٹل توم مگ مل زیادد اما نظ بی رھت ہیں اس لے ضرورکی رہ ےکہ یہال أم شی مث کے الفاظ 
ن٠ل‏ اک کے ۲ نکی تد یکر وگی جاے تکیگوام دخوائص سب کے سا نے اصل تقیق ت؟ جائۓ۔ امام نکی الد بن بن 
عبد انی منز ری را عل ہلت ہیں: 
”اب“ کی یی ٢نی‏ “کی جزم اورآخ ری کے ساتھھ ہے۔ برق یی عاعرکی 
ہےاورا لک یکنیت ابوعبدالرجماان ہے۔ ا لک عحاءیت ٹس اخلاف ہے :ایک تل بی ےکی 
صحالی تھا اوردوسراقول ہے سے مال نی تھا ءا کی پیدائش دصال وک مہ ے دوسا لنل 
ہوئی ءال کے وا ات شمجور ہیں ۔محرث می کن مان ال کو براگھتے ۔ 
وَهذا يد علی أنعَِدۂ لا مُخبَالَد 
”اود یل دلال تکرتا ہ ےن کے نز دریک و ہمھائ یئ تھا''_ 
(مختصر سٹن ابی داود ج٣‏ ص۸٦۱)‏ 
امام من رکی رم ا رعلیکا یھر ہ عق تدائل سنت کے سراسرخلاف ہے ۔کیادہمیتا رد ینا چابتتے ہی ںکہ 
سرن الی ارطا کے جوواتعات مشمپور ہیں دہ اس سے فق ال لیے سرزدہوئ ےکر ومعال یں تھا کیا صحالہی سے 
اہیےنالمانہ وا قحات سر زی ہو سک ؟کیاصعا یصو تے؟ لئ خرن ضکیابس ھا نیش فولین نس کےعکم روہ 
سمارےمطظالم ڈھا تاد بادہندآجد شی عحالی ہے پانجں؟ 
یادرکھئ اصحابیت ای تی مکل تو ےگ رای برای سے بیان ےکی ڈ ھا ل نیس ہے ہنا اگرکوئی صحالی 
شرف عحابی تک خودلا نرک گنو یم کےا اکا یر ہتا تق رآان جمیدیں اعبات ال موجن شی 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


شرف صحابی کی خو داع نہ رک ےویم کےاسٹھا کت نیس رتا ق رن ری اعبات الین تی 
نو نکوجہاں پیفر ما گیا ےک دہ عا جودت ںکی ما نزیٹس ہیں د ہیں بٹھی فا گیا ےک اگرووسی برائ یکا 
ہب ہ میں ٹیس دو ہراعراب دیا جات گا ۔(الأ سز اب : ۲۰۴۱٣۴ ٠‏ ۳ سوجب اعیات المونین رضوان 
انی نکو یہا ںک فرماد امیا تق ریس ین الی ارطا ورس کےس براپا نک یکریاحشیت ہے؟ خلاصہ یہ ےک 
اما منذ ری رت ال عل یکا کودہ الا تروس راس رق ئل نت کےمنائی ے- 
پاشندرگا نی تن پر پہلاتلہآورکون؟ 

چت طول یکر مہادردھ ینمنورہ پر اس ربن ای ارطا کے جن تو ںکا کر ہوا, ان سے معلوم ہو اکہ بیز ید 
بن مواومی کےگگم سے سلم ان عقہ نے ت من ریف پر جو ہکیامگیاتھاوو دوس ال او تملہ تل بسرجن 
ال ارطا نے معاومہ:نالی فان کےعم سے پاشتدیگان تین پرتملہکیاتھااورافعا ل تیج ہکاا را بکیاتھاد 
حیات م توب میں ان کے نین برمظا م 

ماود کےیگم سے بس رین ارطا نے بیسارے مظالم سید :ای کی خلافت ھی ہس ُن ک ےی نکرام 
بر سیے قھاورز ردق أن سےمعاد کی بجعت لی ۔ چنا نج تحددعلا وکرا مکھے ہیں: 

”معادیرنے بس جن الی ارطا کوشام سے ای اکر کے ات روا ہکیاقودوئچل پڑت یک 

مھ یدمنورہ اس وقت وہاں کےکورنرسول اللہ ان کے “حا سینا ا لداب انصا رک لہ 

تےاذدددہاں سےسیدن می دک طر فکوفہ پھاگ میئے .ریس بن الی ادطا منج نکی پر چڑھ 

رانا رکولکارنے لیا نار از تی میاضچارایش نے اس مقام پیش فیعشان ہم 

ہے کہ دکیاتھا۔ 

اےال م ید !اگرجھ ے ای رالمؤن نے عہدحدلا ہت مر تہارے ہر پالنغ شھ کو کر 

دتا۔ ال مدینرنے اس کے پا پرمحاہ ےکی میعم تکی ٠‏ اوراس نے ہو س لک طرف پیا مگیا 

اورکپا:خدا ی ام امیرے ہاں تہارے لےکوئی اٹل اور ند دی تہا ری مع تقٌول ے جب 

ککرنم صوالی رسول جابر ین ع بداو شی ال اعت کے لیے نی کرو ٹیل سیدن جابر 

خد خفرطور پرام)ل نین سید وا مس تی اکن پاکے پاس حاض رہد او رن شکیا: 


3 مھ > ا ےا 
اي حَحٍیْث علیٰ وثيئ وَهذہبیعة صالو 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


”ای اش ات د بین برخدیسو لکرتاہول ءکوگہ گرا قک جصت ے'“_ 
' ما پک نے فر بای می راخیالی ہ ےکآپ میصتکرلیس یم نے اپنے نک نال 

سل وش یکا ےکوی بیج تکر نے۔ بل سینا جابر یہ کل اود بس رب نآطا کے پا بے 

محاد گی ہیس تک گیا۔ال کے بععدبسرنے رین منورہ کے بہت سےگحھرد ںکومسما رکردیا۔ پھر 

سی نے کیکرم یکا ٹر غکیاوہاں الو موی اشھری یل ہگورخر تھذد درد ہو گئے ۔ اسرکومہ بات 

کی اس ن ہی اودسو یکواذ یٹنیس د ےسک ء سا نکامق اورفضیلت جات ہوں- 

چلرأس نے من نکار غ کیا وردہاں ڈس وقت عیداوشہ بن ع اس من عبدالمطلب سید ناعلی ج 

کےگورنرتے,أنیں جب بس رکآ ن ےکی الا یتو وسید ای دک طرف چے گے ؛اورابنا 

ناب ہدابع ال مدان ھراد قکومق رک سے ۔ عید ا بن اس کے ماشہ بش تک بلب نکبد 

العدان سے دوچ تھے جوتمام بچوں سے زیاد خواصورت ء ند یرد ادرامچای صاف اور چک 

دارتھے۔بسرنے ان دوفوں پچو ںکوک نکی ماں کےساخے ذ کرد اق وو بی لی دبوائی ہی 
(تاریخ دمشق ج١١‏ ص١٢١٥٠٣٣٥۱؛تھذیب‏ الکمال ج٤‏ ص٦٦؛تاریخ‏ الرسل والملوك والأمم چ 
٥۵ص۱۳۹؛الکامل‏ فی التاریخ ج٢‏ ص ۷۳۲؛اٴسدالغابة ج١‏ ص٤‏ ۳۷۰۲۳۷؛مر آةالزمان ج٦‏ ص 
۷ بالبدایة والٹھایۃج ۳٣٣۸۲ ص١ ٠‏ ۸٢)؛تاریخ‏ الاسلام للذھبي جح٥‏ ص ۹٦۳؛تھذیب‏ التھذیب 
ملخصاج١‏ ص۰۹٥؛‏ الاصابة (إشارۃً ومثیتاً]ج١ص )٥٤٤‏ 
بتت معادبہیتت طاا لت 

او پآ پ نے پڑھاکرمسیدن جابر ج نکبداللہ نے معاو ےکی بیع تکواپنے دی کے لی خطرداور یکو 
یت ضلال تقر اردیا۔امام بفارگیا ن گی ایک مقام پبرحیت معادیہ کے پارے می ام کمن سییروا مس اور 
سیدنا رن کبدائل پٹ کے دکال میں ام من یی الڈعنہا سے ہے جماأن کیا ے: 

می بھی جاقی ہو ںکہ یگ ران کی میعت ہے“ 


(التاریخ الصغیرللبخاري ج١‏ ص )۱١١‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥١ طا‎ 2131331. 


ے جیعت معیقمتں فلا کہوں؟ اس لی ےک اس وقت سید ناعلی ج خلیفہ تھ اورغلید* راشروعاد لک 
موجودگی مج کی دوسر ےکی خلاقت ش رما چائزننیس بلکہ اس دوسرے مدگا خلا تک کرد ہے کاعم ہے۔ای 
یے ام اتلچ نےفرایاھاۃ 

َْ لمت الفامة لعل هو أصَل من جمارِأفلہ۔ 

”ٹس سید علی ہچ دکی خلافتکون مان تذددا ےگ اود تھے ےبھی زیادوکراہ ہے“ 

(مناقب الإمام اأحمد لاہن الجوزي ص )۲٢۰‏ 
نک سید نا جرب نبداللہ نان تا شری عدودوقود سے زیادو واقف تھے ای لیا نہوں نے مب 
ما گرا یپ قراردہاھااو ریو رآیس جن ال ارطا کے اتپ تدمعاو یی ای 
قاتل اک رخ موا سس حصاب ہوگا؟ 

بھی ابھ یپ مشعدوکتب کے جوانے سے پڑھ پچ ہی کبس جن الی ارطا نے جن میں سیدناعبدالشہ 
بن عاس مہ سپٹ ںکوآ نکی ماں کے ساہنے ذ نکر یھت نکی ماں دلیالی ہو یی ۔ ا واق ام 
خی ن بھی ذکرکیا ہے اورصرا تھا ےک راس جن ای ارطا ۃکومحاد یر نے کی اتھا- 
(التاریخ الصغیرللبخاري ج١ص١‏ کھذیب الکمال ج٤‏ ص٦٦)؛تھذیب‏ التھذیب ج١‏ ص 
۹ ءتذھیب تھذیب الکمال للذھبي ج۲٢‏ ص۱۷) 

جب ادام بفاری رمۃالل علیہ نے اپےلم سے بدا دی دیا ےئ را موئ پان سےسوال ا 
ہے کیک وواپنیالسجامع الصحیح“ یں ”ساب ذ کر معاویة اف راکرس یز بن نیدی مل ے 
قا نک یکوئی فضیلت م سکوئی حد یٹنیس لا کیمگرسید نا این عیاس میٹ سے ان کے صحالی اورفقیہ ہون ےکاقول 
لائے ہیں ۔ سوا می ہے ےک اک رکوکی نس ف بھی ہواورسھا یھی ہواورا سس کے یم ےا سک یعلوم تکاکوگ یآ دی 
دنکرلوگوں کےساتھوس تن با چو ںکویھی نکی والد* کےسا سے با عطود بی ری جم گناہ کے نکردے 
امت کے دن ایک کی مس زاکی راو عحابیت ادرنقا ہت حا وگ ياخگل؟ 


کے مظالمکاذ ممدارکون؟ 
ذرافورکر کے جا ےکہ یس رین ای ارطا کے پارے میں تک ہاگیاک ددتضوراکریم نز ے بعصراط 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


7غ 
سم ےیٹ چکاتھا ینس حالھم ک ےنلم ہکان ہوکردہ بر بیت :شوع دب کی اورضساد ہیا تا پاء ال کے ہارے 
یش جوارےائ کاکیانم ہے :جیلو ھامم سا بقون اولون میس ےی قھا کہ بس بن الی ارطا کی ط رح طلقا ٹیل 
سے ای تھا الہ لیک بارکیل بلکہ جار بارس خکرجلا ےکھد یمور ہ مکیگرمہاودع پر تےکر ن ےکی بج ے هم 
نال ارطاة تل و“ اور رت قر ار ایااددین کےگم پردہیسب فا م ڈھا تر ہادہییگر'رَخْل 
ضالخ: شی القراو رت یم ر؟ 
گرا بھی تکاوہسے بس بن الی ارطا یم ود ول سو قرار پیا راس کےع کم کے 
پارے شی علا وی اورائل انصا فکاکیانم ہے ا کیادہجوں کےقوں ”لی اخ“ اوریینل القدررہیں ےۓ 
ا وذ مددارگی ان گی عادہوی ۔ ای پھر ہار ےک ککاعا مآ دی ری ماق جیانب ہوگاک ماخ 
اڈل ٹون می کوٹ اود اب ہو شکاسفاک اورفسادی جوناقویس رین ال ارطا کی طرح سکم ےگ رآنہیں 
نمرانوں نے اس مب یتکاآرڈردیاتھادہوجوں کےقو ل نکی ؛پ می گار بے خطا اور بےگناوہں- 
قا ری رام !آ پک م ٹیک ہآ پکحو ٹکوگپگارقراردیی اور ک افو کو یصو ںآ پ مرکو 
نام دفا بزقرارد یی اورال کے حا مکو بے خطاو ب نہ برا ابا لک فرتون کے پر کی حکومت کے 
کارنرے بی اس رانک کے پچ ںکوجوؤ جرتے تھے الل تعالی نے اس ذ کی نبدت جہا ںکئی مقامات پرآن 
کارندو ںکی طرف فر مکی ہدیں' مقا اتپ خودفکو نک طر ف پگ فر ای ہے ۔ارشاد بای تھال ے: 
فِرغَوْن علایٔ ازس رَجِمَل املھا بَا يسَمْبت طَاناُم 
یع َء مم خی َء مم بن کان بن الین 
”بے شک کون لوسر ای ن گیا سرز ین( مص ہش اود ا نے بنادیادہاں 
کے اشندو ںکوگرووگردوہ د کرد رکرن چا تا تھا ای کگردوکواان یس ےک یاکرناان کے 
بیو ںکواورزندہ وڈ د یا ا نکی گور لکوہ یگ دوفساد بر پاکرنے والوں ےت“ 
(القصص )٠٤‏ 
مسلرخوا تح نکولوٹڑ یہ اکرف روش تکرنا 
ض۳ کی عدیہ ہب ےکم رن اپ ارطا نے سط خواج نکولونڈی ہناد بازارط فروشت کے لیےکھڑ کر 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





ہب سس رس گا 


دیا۔چنانرامامذ بی نے پیل ویو ں کھاے: 
”وأ لکی خیف تی ن تبروں یل سے ای اعمال ہیں جیسے تاج نے سے تے'۔ 
اس کے بح رکوہ الا تین وا تا لکل سیےاورپرککھا ے: 
قَسِي يَسَاء تُسلِمَاتِ ء لَأِْمْنَ فی السُوُق, 
”چرس نے سم خو ات وی تایاقو دو ا زار کڈ یکیگئش“'- 
(تاریخ الاسلام للذهبي ج٥‏ ص۹٦۳)‏ 
دوسرےمقا م میں کین ہیں: 
”ودوفروخت کے ےکھڑی گئیں/۔ 
(سیراعلام النبلاء ج٣‏ ص )٦٤٤‏ 
امام ان مہدالہراودا ام اکن ایز کین ےکا : 
گی أولَ مُسِمَاتِ سُبیْنَ فی الإسّلام. 
یں دوہی سکرتوا تن ہیں جواسلام می لوبڈی بنا یک“ 
(الاستیعاب ج١‏ ص١۱۰؛اسدالغابج۱(ص۳۷۵)‏ 
تمام اب سی رنےککھا ےک جب سید نام لد نے سن اراس خعیث نے بچو لت ککوذ کات ا غہوں 
نے ان سکو بددھادگ ذو ری عریس پاگل ہوکیاتھا 
بیہاں نواص بکی طرف سے ایک اعتراض تائم ہوسلنا ےک سیدن ھی حقدکا ایک پیر دکاریھی سخاکیت 
(خون بہانے )کا منکب ہداتھ۔ ا لک جواب ہہ ہ ےکسیدنائگی نے بس رین الیاطا کے مظال مات تع 
کرنے کے لیے جا یہ بن قلر ا ہکوکیاتھااورآن بی منقامات پرکجیجاتھاجہال محاد یہ کے چیردکاروں نے مظا لم 
ڈڑھاۓ تے۔ ا واقعات لے ہی سک جار جن قدامہ سے نل میس یکو زیادلی ہوگ یی یس اہی دا تھا تک 
جا رج کھکرد یی کرناچابتء الہ کہا ہو سکیا کی ذمہداری سیدنا یز یس ڈالی اتی اس لک جارے 
بن رام ابھی ا نکارروائیوں می مصروف ےک موی فقاو شی دکرد گی تھا۔ اہر ےک اکر وو زندہ ہوتے اور 


2131331.05 جا ۶۲۵۰۵۵۱۵۷۸ 





رے وووووچھ۔ "قح سار سر موی را 

انی اپ کسی نماتند ہک یکوئی بے اختدا لی معلوم ہوئی توضرورأسی ط رح صب شرییزت مواخ وفریاتے جس طرح 
یکر لاپین فرستاد وا کرام ری فروگزاشتوں پرمواغوفراۓے تے۔ ا ل ےک " عَلي می وَأنَا 
ِنّْڈ“اور”غَليٰ .32 القُزّآن وَالْقْرَآنُ غَع علی““کا می اضاے۔ 
”اللْهْمْ عَلَمْ مُعَاوبَة“ ک مض و ہو 

بادرھنا ام کہ سا شقن سا ہکرام کی شان مم فردآفر دنس قددراحاد نی یں الا پر برحد یٹ 
کے مقالہ می امیرشا مکی شان میں ا نکی دشا کی بدولت اعادی ےکھڑ کی اور جک دہ حدشی ںکتب 
مو جو ہیں۔ بیحد بی سینا عہدان یی کی شان مم داردشدوعد یٹ کے مقابلہ یکھڈ یکئی ہے_ 
ا کی سندیش ایکٹ مواوی جن صا ہے؛ ال کے پارے می گر چرتعد یل کے اقوا لبھی سے ہی ہگرال 
شام کے بارے بل ال لک ردایت کے بارے ش لتحفظاتکااظمارکیا گیا ہے۔ پیل ہم ا کی جرح می لق 
اقو ال کر ہے میں اورآخر مس ائل شا مکی اھاہ بی ٹ کے بارے یس نما قول پٹ کی ے۔ 

حافظائہن تر سقلا نی فرراتے ہیں: 

کان يَخْیی بُنْ سَعِیْدِ لا يَرْضَاۂ. 

یبن سعیداے پینرم کرت تھ“۔ 

اپ قی ما نین سے ایک قولی ہ+دو کیچ ہیں :ان مہدی جب ماد کناصا ےکوگی حد یٹ 
روابی تکر تے ےکی بین سعیدرأنکی لچھٹرک د نے اورفر مات : 
یش هد الخاویٔك؟ 
”کی حدشں یں؟“۔ 
ابوصا ںی فراءامامابداساق فزاری تی کر تے ہی یکا نہوں ٹےکھا: 
َا کان بأهلِ ا یُرُوی عَْةٌ 
ننوواس لاک یکا سی سے عحدیث دوای تک جاے'_ 
29 مج نع بداو ین خارا لی انکر تے ہیں: 
لاس يَرُوُوْْ عَنة ء وَرعَمُوا انلم کن یَذرِیٰ اي هَيْء الَيبِك. 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





یعس رر وش ٣‏ سن ۓ۔ 


(تھذیب التھذیب ج٦‏ ص ۳۳۳۰۳۳۲) 


امام این عد فرماتے ہیں: 
”معاد یکن صا کے پا صا عد ٹچ ہوئی ہے+ابن دجب کے پا ایس کے 
متعلق ای ککتاب ہےءابوصاغ کے پا بھی ا کی ای کاب ہے اوراین بد اورمھن 
کے پا اہ لکی ہہت احادیث ہیں :ال سےلیث یش ربمن الس کی اورنقرلوکوں نے روای تکیا 
ہاور اس سے روایت مل 7ر ج کی لگگھتا- 
عِنْدِيٰ صَذوْق .ِا اه يَقَع فيی أُحَادِیْک إِقَرَاذَات 
رے ندرک دو ا گرا لک اعاد یٹ شی لتفردات ہوتے ہیں''۔ 
(الکامل لابن عدي ج۸ص۸٣۱)‏ 
امن دک کا یئاہ ہے ہیی دش کرام ے با ےکرک انی حدی کا ردایت 
تھا ہو ا سکی دو حد یٹ مگ بھی جا ۓےگی.آ گے پل لکرحد یرٹ مک رکیتتربیف میں اس سللے می پش ات کا 
تو لآ ے۔ا بآپ معاوبہ جن صا کے بارے می دو خائقول ملا حظ ہف ما میں جن سکی وجہ سے ا کی 
روا گرد٤عد‏ بث اب لق لجا ہوئی_ 
امام اہن ال فیرحت ا علیف مات ہیں: 
ا یهب یب ال الام جئا۔ 
”ماد یہن صا ال شا مکی حد یف م انال ائڑی عدنٹی بیا نکرماھا“'_ 
(تھذیب الکمال ج۲۸ص۱۸۹ ۶> ءتھذیب التھذیب ج٦‏ ص ۰۳۳۲٣۳۳۳ءملحْصا‏ 
اد پرامام این عدییکاقو لگنذر کا ہے اور .امام ابن ال خیش ہکاقولی ہے بیددوفوںقول اس حد ی ٹک 
یثیت کےشین کے لے انچائی لیت کے عائل ہیں سی روایت مر تنفردہوناور وص ال شام سے 
خراب(ائی روایات ) لا نآ خر ون دونوں اقوال کات ہکیاے؟ مج معاو یبن صا صی بھی ہے اورٹص 
شام می کا ای لع ہے ءاورسیدنا می لیے عدادت اورموادیہ ےحبت مم ابی مع سب سے گے تھے۔ 
اس حعدبیث مل دوس ابی ایک شمائی راوکی ہے اوردہ حارث بن ز یادشائی ہے۔امام ذئیککھیے ہیں:حارث بن 


۶۲۵۰۵٠٥١۸ جا‎ 213۲331. ۸( 





چڑے ا ہت رت .تب گا 
زیادگہول ہے۔ ای ےکی امام الڑھاغم ن ےکہاہے۔ 
(میزان الاعتدال ج۱ ص۸٦۱‏ ؛الجرح والتعدیل ج٣؟ص۷۵)‏ 
ا اما بدالہ رم الع اس راوئی سے بی عدیرنلٰخ لکرنے کے بح دکیھت ہیں: 
الارِث بن زَيَادٍ مَجُهُوْلَلاعرَف بغَْرِ هھذا الْعَِبْيٰ. 
”حارث من ز یادشپولی ہے ءا عد یث کے بغی رو یں جا گیا“ 
(الاستیعاب ج٢‏ ص )۲١۷‏ 
حافطوعسقلالی نےبھی اع مکومقر ررکھا ہے :و کھت ہیں : 
گی ہاں امام اوھ بن مبدالرنے اس صاحب کے عالات بی دا ےکہ ہنجپوگی ہے اورال 
کی حد یٹ مر ے۔ 
(تھذیب التهذیب ج١‏ ص )٥٦٦‏ 
طرن اپی داودا ون اتسائ کا گی ہےامام ذ بی اورحاذطعستقلاٹی رم ایک ان بھی اس کے 
ترجہ میں "اور ”اس ؛ی رڈ کرای طرف اشار ہکیاہے۔اس کے باوجودان دونوں را کا سکوگہول 
قرارو نا صعفی خی سے.آ کل سک ےمتققن نے بھی اس کے جھبول بہون کو بصرف ہ کہ برق رر رکھا ہے بیجس 
نے اس سلملہمیش عافظاصاحب ےگجھی اختلا فک۷ردیا ہے ۔حافظ تم ال علیہ نے ا لکو”'تقریب التھذیب“ 
یس ”لین الحدیث“(حد یٹ م سکرور)لھات آ کل ک یتین نے اس پریوں اخلا فکیا: 
بل مَجْهُوْلَ تَفَوَة بالرِوَقَة َنهيون بی سَیْف الکَلاعي ء وَلم رق 
یسوی ابی جتانِ ء لذلک َال الذّغِي مَجْھُزلَ ‏ وَقال ابی بد الْرَمَجْهوْل ‏ 
نبکہ یجول ے؛اس سے فقط اس ین سیف الکلاگی نے ردای تکیا ہے :اوران 
حبان کےسواا ںکوسی نے ممت ریش سکہاءاسی لیے ذبہی ن کہا ٹول ہیے+اورای بدا رنے 
کہا:ہیٹھپول ے اور ںی حر یٹمگرۓے“۔ 


(تحریرتقریب التھذیبءللد کور بشارعوادء وشعیب الاأُر توؤوطء ج١(ص٣٢۲۳۴٢۶٥۴٣۲)‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


امام ابوداود اور امام نمی نے ایک حدیث رای تک ہے جح سکی سندشس یراو بھی ہے ۔ححخرت 
عربائ من سار یہ عفر ماتے ہیں : 
انی رَسُوْلُ الله لی السَحُوْرِ فی رَمَضَان فَقَالَ:َلُمَإِلی العداء الْمَارک. 
'رسول اولد شیا نے رمفمان السبارک شش بھےبھری کےکھان ےکی طرف بلا یا تفر مایا: آ2 
مبار ککھان ےکی طرف“۔ 
(سنن أٌبي داود ج۲ ص٥٢١حدیث٤ ۲۳٣‏ ؛سنن النسائي ص٣٣‏ ٣حدیث۳٦۲۱)‏ 
سن ای داوداو رن !نمی میں بیحدمثا تی ےمان مندا مرش بعد بیث ایک مقام برای سنداور 
ف اشن کےس اتی سےاوردوسرے مظام بر ا سم حدثنا عبد الرحمان بن مھدي ء عن معاویة ۔ 
یعني ابن صالح ۔عن یونس بن سیف عن الحارٹ بن زیاد ءعن أبي رُھم عن العرباض بن 
ساریة السلّمي“ے ىعديٹآلّےاورا اس ےن میں بباضافدے: 
ثُم سَبفلة يَقولَ:الّهُمْ عم مُا ِب الکََابَوَالْحسَاب زَقه غاب 
”ری ن ےآ پکوفرماتے ہوئے سنا: اے اللرا ماد یکوکنّاب اورتسا ب ھا ے اورا ے 
عذاب سے چالے'۔ 
(مسندأحمد ج۲۸ ص ۳۸۳۰۳۸۲حدیث۱۷۱۵۲) 
انس می سعبدالرحمائن بین بدگ جوکہ ایک نہ داوکی ہیںانکن دہ معاد یبن صارٗ سے روا تکرردے 
ہیں اورہم اس تک لکھھ یچ ہی ںکہجبعبدالرمان نم ہدگی امام کن سید کے سساتے معادم کن صا ے 
کوئی حدیٹ بی کرت قودواڑیں ڈائفکرفریاتے ”یش ضنذہ الحادیٹ؟ '( کسی مدشیںیں؟)غز 
آپ بیگگ پڑت جچے ہی ںکہمعاو بن صا ال شام کے بارے میں نی رہ انیل اوراو کی عدنشأیں لام تھا۔ پگ 
(بری اوراشٹی ) حد یٹھی ان هی انونھی احعادیت یل سے ایگ ے- 
حافڈڈنی اس حد یٹک لکر نے کے بح دککھتے ہیں : 
”نا لکوامام بزارنے روایر کیا اورامام ات نے طو لی حد یت یل ردای تکیاے 
اورامامطبرائی نے روای تکیاہے+اوراس شس عارث بن زیاد ہے ھکیس جات اکر ینےاں 
کی ش کی ہوا سے فتط بس بن سیف نے ردای تکیاہےء اس کے باقی راو ٹہ ہیں اور 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


0 
بس میں اختاف ے'۔ 
(مجمع الزوائد ج۱۹ ص۲۹۹۰۲۹۸ حدیث ١‏ ۲()۱۵۹( 
اس ہی ےقم وغی رہکی وجہ سے دورعاض رکیپتخ لقن نے ”لم لی لداب المبتازر کک کال 
حدی کان لی مکیا کم الله لغ مُعاَِة الاب وَالحس اب کواضافقراردتنے ہد ےاکھاے: 
وَیَقبة لف الْحَدِیٔث لا اعلم لھا طُرقَ وا شَوَامداء هي مُْكرَة 
”اس حدیٹ کے باقی الفاظ کےطرق ادرشواہرکوکیس جا تی ہے جم ینگ روے“۔ 
(الأحادیثٹ الواردة في فضائل الصحابة للدکتورسعد الصاعدي ج۹ ص )٥٤٤‏ 
گر حدی ٹس ےکھے ہیں؟ ا سک اش لآ تندوحد یٹ کے تآ ری ہے ۔ یہاں عافاکسقلا رق الڈر 
علیہ نے ال عد بیٹ پرایک اورجھانے ہےبھی جر نکی ہے ومن مییئے۔ د کی ہیں : 


7 لع 
ل٦‏ 


”نقیہ نے اس حد یٹک صعمل قراردیاے“۔ 
(تھذیب التھذیب ج١‏ ص )٦٦٦‏ 
شال یٹ علا فلام ول سعیدی رہ الڈعلی مل روایت کےےگمج کھت ہیں : 
”مم حدیٹ ضیف ے اورمرسل او نع ے ےکم دج کی ہے :کیو لس لہ 
کشر تدراوئی عذف ہبوت ہیں ءا ںيم یرتا علاءکااتقاقی ہے'۔ 


(مقدمه شرح صحیح مسلم ج۱١ص١٢۱)‏ 
امام فادئی رم ال عل یھت ہیں: 
شا یی 6غ فا 6و رہ ہے غرل تو ون ورام قوف 
الەفضل اسُوْا الا َنالمتقَطع وَهُو اسُوَا حَالامَن المرْسَلِ ء وَمُوَلَايَقُوْمْ 
به حُجّة 


نا روای تکاحا ل تفع سےذیادہ برا ہوتا ہے او تفع کا ال مرسٌل ےگ زیادہ 
راچا ہے او رم م رک ے چتتائ یں موی“ 
(فتح المغیٹ ج۱ص۱۷۹) 
یی مل حد یی ےکولطور ٹل ج یکر نا ورست نل ہے۔ا بآ پ خودانداز:فرمای ےکہائل عدی ٹکو 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


60 
یض ےم ربنضش نے ہجپول اورٹتحض نے مض لکہاے,اوردکتے رسحودن ےکہاک انیس اس کے طرق اورشواپر 
بھی یں لے _ا سک مطلب ىیہ ہ ےکر محادیہ بن صا ال عدی ٹک زوامت تھاہےء ود اگر یٹس کے 
نزد یک صدو قیبھی ہے تا ہما سکا اس روایت می ستف دا حد بی ولگ بنار اے ء راس عد یکا آخریینصو 
حصہ من نسائی اورسمن ال داوم حیننیل پاسکا :ننس روابیت یل اہ عم ہوں و کیک رمقول ہو ُنّے؟ 
الفاط کے ہی یھ رسے بی وضسوں مت ن ایک اورسندپرچھی چلا یکاہ :ننس مل معاویہ جن صا نال ے۔ 
یے ا سکیگھی نرنے لیت ہیں اما طبرالی رض ان علی کھت ہیں : 
خَدفَن مُحَمّ بی عَلِيٍ ئن فُعَیْبٍ السُمْسَار ءآن خَالِ بن داش ء فا سُلَیْمانْ 
اَل ال ِعَارَِة : اللهُمٌعَلمه کاب وَالْحسَاب رَمَكنله فی الُلاو 
”نٹ یکر ا نے معادیہ کے لیے دع فرماگی:اے اود !ا ںکوکیاب وصاب مکھادےاورال 
کوشہروں پرککو مت رے“۔ 
(المعجم الکبیر ج۱۹ ص ٣۳۹‏ حدیث١١٠۱)‏ 
حافنٹی کک ہں: 
”ا سکواما برای نے جبلہ نعط کی سند سے مہم لد سے روایت کیا اورجل۔ 
کیمسلمتےماعت اتیل ہے :لہ اعد یٹ مل ہے اس کےپنف راو یو کی نذش نکی 
گئی ہےاونعض می اتلاف ے'۔ 
(مجمع الزوائدج ۱۹ص ۲۹۹حدیث۸۹۳٥۱)‏ 
جب جبلہ نےمسلم یلد نہیں سنا اس سی اون سے سناہوگاء وو سکون ہے؟ سپ معلوم 
نیسای امام ذ ابی نے ایک مقام پر حدیثکو'غنٰ رَجُل“( یٹس سے دوای تکیاےءاورجب 
سن کوئ یکن مخ ہق محدشین ا سے ئہول قراردتتے ہیں۔ چنا نام ذبی کھت ہیں : 
مکل ال ان قال :لہ رَجْلَ مُْهْزل. 
”ابو ہلا لی نی سک ہی ںکہجیلہ نعط نے این سے روای کیا یٹ نےمسلہ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ طا‎ 2131331. 


0 ۱ 
(سیرأعلام النبلاء ج٣‏ ص٤ )۱۲٥١۱١‏ 
امام ذئسی ایک اورمظقام پراسی سند کے ساتھ بعد یٹ لاے ہیں اوددپال ال ںکاگ مگ بیا نکیا ے- 
فرماتے ہیں: 
لَاْرَف ء وَالْخَْرْمُنْكُوبِمَوق 
"وش فیس جاناگیاءاور بیعد یش مردی ے'- 
(میزان الاعتدال ج٢٦ص١١۱)‏ 
حرش نکی اصطلاع می ؛ مکمرحد یٴ “کے پارے میں متحدداقوال ہی ںای نجرس ب کا ییساں ے۔ 
امام ذئ یکھتے ہیں: 
وَهوَمَا ا الرَاوِي الضِْیْفُ یہ ء وَقَذ یع مُفرَد الصّدُوقِ مُنگرا۔ 
یب گرحد یی وو ےج لکی روایت مم ضعیف راو ی تھا ہواوراھی یچ راوگ یکا تھاوا یھر 
شارکیاجاتاے'۔ 
(الموقظة في علم مصطلح الحدیث ص٤٦١)‏ 
ا تحرف می وفع مقرٰذ لوق مکزا“ (ارنی دراو کاجھا ھی مک رشارکیاجاا 
ہے )کا جملراختائی قائ فور ہے۔آ پکویادہوگاک محاویہ کن صارغ کے باارے امام ان عدی نے صدد کا 
تو لکر نے کے باوج دک ھک دوپنن روایات لا نے یل مفرد( تھا ) ہوتاے۔ 
مر یٹ مرک 7 
فقت میں مکگرأ ےکہاجاج سے جن سکودگل مستروکرنے پرجبور ہو ح شی نکی اصططاع می بھی می می 
موجودہے۔ چنا ختطیب بفدادیککھت ہیں : 
مت رمق ب نشم میا کرت ہیں :لعض احادیثکانور ون کے اجا ل ےکی رر رشن ہوتا 
ےق ہمان محرو فپکھت ہیں راوج کیلمت را کی تارب یکیمامندہوئی یت ہم نہیں 
مگ رھت ہیں ۔امام اوزائی با نکرتے ہیں :ہم احادیٹ نے تھے نو نکی اپنے رفقاء کے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


سان ییں ٹی کر تے جس طر حکھو نے س ےکوی کیا جا اہ ہبی جن اعاد یکم محروف 
کھت نہ قو لک لت اورجنہیںع رھت نہیں و ککرد ہےر 
(الکفایة في علم الروایقص ٣١٤‏ ؛الکشف الحثیث للحلبي ص ۳۱) 
یل ر ےکریض مح رشن کے نز ویک حدیث مگ رکاش رشد ضیف اعادیث می ہوتا ےلان اکر 
أ سے ضوع دمردو کے متراوف مات ہیں ۔ چنا یہو رق شی عب راتا ابوفدق رحس الل مل کھت ہیں : 
َلَفْظ ”مْنْگر“ کرام بطُلِقونه عَلی”لْموْصُو ع“ بُشِيرُوْن بلک إِلٰی لگارَۃ 
مَعَاۂ مَع صعُف إِسْنَادم رَبُطُلان لبُوْكه 
”می ین لفظ ”نک“ کااطلاق ی1ک وضو عد یٹ پرکرتے ہیں ء دواس لف سے من کے 
ایند یرہ ہون ےکی طرف اشار وک تے ہیں ,ا لکی سندکاتعف اورشبو تک بطلان ای کے 
علادہ :وتاے'۔ 
اس کے بدا نہوں نے اس پرمتحددالیس کیل ۔لاحظف رما :(تعلیقسات:المصنوع في 
معرفة الحدیث الموضوع للقاري‌ص )٠٢‏ 
او پر1کرہو پا ےکامام ذبی نے ال حد يی ث کس رق راردیاءاور چوک ہ اکٹ لفظ عد یٹ موضسوحع کے 
یے استعال ہوتاے,اس لیے حافظد این تج رسقلاٰی نے ان ںکوسوضسوع ہی اھاہے۔ چنا خی دو امام ذئبی کےعمکو 
ہر ار رکھے ہہوگۓ ھ درک یں 
َلََلَ الافَة فی الحَدِیْبِ من الرّجْل المَْهُرلٍِ 
”شا یما حدیث مآ تئولٹ سے ہے'۔ 
(لسان المیزان ج٢‏ ص )٦٣٤٤‏ 
رس عبارت میں لف“ آفة* گا ستوال ضحِ حدیث کے لیس پلگہانکہارش کے لیے ہے۔ چنا نچ 
ام برھانالد بی اورعلا مان کرای اککنائیافظ''آفة کی اصطدا ی7 ٹج ہی کی ہیں: 
قھلذم کَتيَةعَن الوضْع. 
”بعد ٹکھڑنے سےکتایے'۔ 


(الکشف الحثیث عمن رمي بوضع الحدیث ص٠۰‏ ۹؛تنزیه الشریعة المرفوعة ج۱ ص٣٣)‏ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 


رکٹ ۱ 
ان سے بہگی حعد یٹ کے بارے م لآپ پڑھ یچ ہیں کہا ےگھی م رشین نے مگ کہا ہے اور بھی مگر 
ہے معلوم ہواکہ ہر دووں حدنٹیں م وضو( جلی ) ہیں ۔ نیز یحد یٹ ایگ اورسند گی مروکی ہے ہے ! 
ا سک جائ وی نے لیت ہیں ۔ڈاکسحودالص عدئ کھت ہیں : 
وی ابی عَرَفةعَیْشبَةبی سَوَارِ ء عَنْ رز بن عُنمَاَ الرّحبيءأيرَمُولَ 
الله 8ه دا ِعَارِيَة فقَالَ : الله عَلَنة الكَابَ وَالْحسَاب وق العلَاب. 
”ام نع عرفہ نے از شیابہ جن سوار ازم یبن عثان ری رای تکیا ےک رسول الد مم نے 
معادیہ کت میں دھاکی توف مایا : اے اللد ! ا ںکوکناب وصاب سکھادے اورعزاب سے 
چاے“۔ 
(الأحادیٹ الواردة في فضائل الصحابةج۹ ص )٥٤٤‏ 
ڈاکٹسودنے اس کے بھدکھا ہے : 
”یذ من شا ن ٹہ داوکی ےراس پ نمی ( وشن ائل میت ) ہونےکاالرام ہے“ 
سک ہوں :فط لامش بہ خی کڑس مکا ای تھا۔ امام سمعا نی اوردوسرےحخقرا کلت ہی ںک۔ 
ىی بد بت دشا مسترستم ینعی فا اعت کرت ھا۔ 
(الأنساب للسمعاني ج٣‏ ص ٥٥‏ ؛إکمال تھذیب الکمال ج٤‏ ص٤٥)‏ 
پیشانی تھا ورسد نی ررحنی اق کے فضائل سے پڑ جھا۔ ا کی شی کاایک داہ لا حظ کے ایام 
ابواياع ری ء حا فان ج سال اورعلا مہ ذ ہبی رم اڈ کھت ہیں: 
”اجمربن سعیدالداری ہ این سلیمان الردزی ‏ تنْف لک تے ہی ںکہاخہوں نے 
بیالنکیا: نے اسائل جن عیاش سے متا ءانہوں نے فر ما کیل نے بیز بن عثان کے 
ساتمعرمکۃ امک مرتک سفرکی:' جع سب خ وَيع “ (ووسیدناکل چچہ 
پرست وأتم الحنتکرتار اپ دوک کرت تھا کٹ یکری) عق ےک کی شان می لوگ جوبے 
حد یٹ لکرتے ہیں ”نت می بعنزكة ان من مز سی می لیکن سض واۓ 
نے فھاکی ے۔ا ےپ چھاگیااسل ا دکیایں؟ کنا نت بی بخنزلة 
اون بن مُُمسی“ (میرے نزد یک ترامقاممایما ےی اکیمویٰ یق کے نز دک 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ لجا‎ 2131331. 


قارو نکا)ماذ الہ جب ال سےکوئی سحرث ہو چتاکہکیا تی لع تکرتا ہے؟ نوہ 
انا رکرااور جب ال ۓكہاجا بک گل رص تک متا ظتا ان ہس باررقت ۶ء 
اوردو سب پجھال ل گرا کیل اس سے روا تح یٹ مل ا یقاب شکیاجاے''- 
(نھذیب الکمال ج٥‏ ص۷۷٦‏ ؛تھذیب التھذیب ج٢١ص١‏ ۳۲ء وط:ج١‏ ص۹۹٦؛تذھیب‏ تھذیب 
الکمال للذھبي ج٢‏ ص٤٦٠‏ ۲ میزان الاعتدال ج٢‏ ص۲۱۹ملخصاً) 
رخثز بردس ت حر ث تھاء بقادکاش را یف مس اس سے دوعدشگیںیگئیں نٹ ہونے کے پاوجودے 
مردو کہ ارت تھا: 
نا إِمَامَُا رَلكُمْ إِمَامُكُمم. 
2 تمہارے لیتمہارامام اور ہمارے لیے ارام“ 
کب یکچا: 
ا أییز رگم أینز :یی کا معاربََلَكُمْ عليٰ. 
”مار لے رای راو بہار ےل یہاراامی یش ہمارے لیے معادیاو بہار لیگ 
(تمذیب الکال للمزي ج٥ص٥۷١؛تذھیب‏ تھذیب الکمال للذھبي ج٢‏ ص٢٤٤۲؛تھذیب‏ 
التھذیب ج۱ ص۹۹٦)‏ 
امیر ے/عدیث'اللْهْمٌ عَلَم مُعَاويَة یتاتب :ایخ یکوکیل بھی سییمیئں :ا کی رد 
ہی سکوئی زیکوئی ا یماراوی ضرور ےج سکوسدا لی یہ سے عداو تی ما ورپ شرو میں ام ای نل وتم اہ 
لی کوانے کیہ ےہ کر عدا شیک جب نشی قح کو عیب دی کات ند نے ا سس 
چڑھاناش رد کردیاجوان کےساتھڑتا۸ا- 


”ال عَلَمْ مُعَارية“ کاخا فی ؛ نا 
سح یے لی ہون ےکی سب سےا دیق رآ نکر مک بد تی میں 
وَالسُايفُون الّوَونَ من المُّهَاجرین وَالّنضارِوَالائْنَ ايهوهُم ِاِحْسَان رّضي 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


”ناورسب س ےآ کےآکے سب سے پیل پل یمان لانے دالے مہا جر من اور انار ے 

اورنہوں نے پیرو کی ا نکی کی سے ءراشی ہوگیا اہ تال ی ان سےاوررائی ہو گگئ ووال 

سے ۔(التویة:ء 0۰ 

اکر یعدیٹ وضو نموئ تو دجائے وی طض روران کےتی ‏ ققول ہوق او اگردع قول ہول 
تا آ یت ٹل ہ ےک ھا جن دافصا سے بعددالے جولگ ہی ںان کے لیے رضاتے الیل صورت میں سے 
کرد وھ جن داصارکی تار الا سان شی ہ اتا مکی ھا سن مل سروست فا واج ہیں اور 
خلغا ار ڈلانے صاحب ولا دہونے کے باوچودا ادا وااوک مہ ٹس با یا جا میرشاماپنے لنٹ تر 
یکا چا اما ۔یہاں اس ”َعلبکم شلبیٰ رن علق لزابین گی ٹل 
رای ملموگاک نہیں نے عدیث دق رآن دہف ںکویس پیشت ڈال دیھاجاکہی ات ما قاری ۓ 
ند ات حدیث نۂ لنڈ ڈو یکنا ھرکھی ےد مرے ام پت رآ نکمم مہا جریں 
وانفسار ہل یتجربیف کے بعدارشاواٹی ے: 

اي ا زا َعيممَفْرْْرْ رَّ یآ رَلاخرنً لب تَا بازتان 

ولا تَجْغَلْ فی قُنوبنَا يِلَالِلدِيْنَ َو ٰ 

اوددہ جو ان کے بعد ئئ دوموش لکرتے ہیں :اے ہعارے رب !می پنش دے اور جوارے 

ان ھا ںکوگی جھایمان لانے ٹل ہم سےسبق تک کے اور مارےدلوں جس اییان وااوں 

کے می ےکوئی کی ادرفت باقی درک“ (الحشر:۱۰) 

مفرینکرام مان جھاغ ز من نغد ہم پھک می ری س کھت یں. 

قي انوه الد نز َة الْهَاجرِِن وَالنْضار إلی تم الویائز 

”شف کرنے وانے :ارد ولگ زیں جوا جرب دسا کے امت ؟ یں موا 






(الوسیط للواحدي ج٤‏ ص٢۲۷‏ ؛معالم التنزیل ج۸ ص ۷۹؛لباب التأویل ج٤‏ ص ۲۷۲؛تفسیر 
الجلالینں ص٥١۲)‏ 

ٹودفرمایے !آیت مس مل ا کے بعدنے والو ںکا یں پا ھا جن دانسا کے بد انۓے 
والوںکاذکر ہے۔لپذاکوئی صحایہ کے دوری مہا جن وانصار چہ کے سات اض ر کے اور انیس دھ یا وو 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ طط‎ 2131331. 


رك 
”نل“ (کینے )کا مرنکب ہوگا۔س اگ ہا بین دانصار یٹ کے بحدکا وکس خافا اش گرا کیا سکاغار 
الین پالاصمان می نی ہاو خودانصاف فر ماب ےکم اگرکو یفن سید لی ٹکو برای فدہ کیک رتا تین 
پالاحان بی سے ہ سکم ہے؟ نز اکابرانصار لن ےکئی بارامی رشامکوسودئی محاعلات مین کا اوران کے سا 
اعادیٹ ہیفاق ف رای گر وو ےس نہوئے۔اکرآن کت می دق ”الله غَِم مَُاويَة 
اکسا“ کےالفاظ نی صدیث اوردعا خابت ہولی ‏ وولاحالیۂ اج بین دانعصارکی اتا عکرتے ؛اس لی ےکہ 
ہا جر بین واٰصار یٹ سے بعد بی آ نے وا نے انسانوں می ےکوئ بھی انسان ا نکی اتا کے خی رضسواان ال 
سے بپروورئیں ہو کھا۔ 
ہنقا بل شان م تو یبا ال حریٹ 
یس پیل ون لکر کا ہو نک رشان دبین وایمان نے ائل مبیت دسا ہکرام وڈڈدکی ہرہفضیلت کے مقا مہ 
حدیث :نان ےکیکیشن کی ہے۔دررج ذ یل باعل روای تکوسید :ای ہک ا حوبیت کے مقابلہ یس ہنایااور 
ما گیا ےج سککااعلان خزد) فی یم فر ما گیاتھا۔ اما این مر رم الشرعلطو یل سند کے جح کھت ہیں : 
کَخمل اي 88 غللی أمْ حَةء وَرأس معَاوِيَةَِِئْ محخرِقالُفليْهہ ‏ ال لھا: 
تین ؟ اٹ : وَمَالیٰ لا اجب اي ؟ فَقال اي ھ : قب الله وَرَسْلَ 
یکریم ا حفرت ام حیہ کے ہا ںتش ریف لا ۓ ‏ در نحائیہ معاد کسر نکی 
گود یں تھاا رد ا نکی جوٗیں وکال رح یی .آ تا اف نے انی مایا کیم اس سےیحبت 
کرک ی ہو؟ ا نہوں نے عو کیا: مج ےکیاہواکہ ‏ اپنے بھائی سے حبت شرکروں؟ اس پ نیک رم 
لن نے فرمایا: بے ںنک ال اور أ لکارسو لپچھی اس عحب تکرتے ہیں 
(تاریخ دمشق ج۹١٥ص‏ ۸۹) 
ام اہی نت نے بھی ری وضو بل روایتکگھماری ے۔ 
(فیضان امیرمعاویه رضی الله تعالیٰ عنه ص ۰۶۱٦۹‏ ۱۷) 
امام این مس اکرنے ا ےش کی سند سے روای کیا اور شی نے ا کید بن پک رالاشعری سے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


رایت کیا اورائل کے پارے می ککھا ے: 
مَجْھُوْل فی الب وَالرِوَایَةء عَدین غَْرْ مَْفُوْظِ. 
”ینب اورردایت دوفوں می پچپول ہے ءا لکی حد یٹ خی رتفوظط ے“_ 
(کتاب الضعفاء للعقیلي ج٢‏ ص ۲۳۷) 
ام ذبیاورسقلاٹی دوفوں نے محر تی کے لن الفاظ ےاقا قکیاے- 
(میزان الاعتدال ج۲ ص۳۹۸؛لسان المیزان ج٤‏ ص٤٤٥)‏ 
اس کے بحدامام ذ بی نے حد یف فرمئی ہے اورآ خر رککھا ے: 
”نپ پیا ے'۔ 
(میزان الاعتدال ج۲ ص۳۹۸ وط: ج١٤‏ ص۹٦)‏ 
عاففامسقلانٰیٰ نے وضاحتذ ال ے/ ”فَهدلا غَْرْ ضحیْج“ کےالفاظیحد گی کے امام 
ذ ابی کے ہیں٠‏ اودامام ذ ہی ن بھی یی ڈوک می لکیاکہرالغا شی کے ہیں اورضہی حافظ رح ال نے ان الفاظ پہ 
امام یی ےاخظطا فیاے- 
حافدنی نے اس ردای تکوامامرا یکی ”الس سعصسجم الکبی و“ ےئ لکیا ےگ برای کے وع 
سن میں موجو یں سے طہرد یکی رک ھا جزامغقو ہیں یقن ران مس ہوگی ۔عاف ہنی فرماتے ہیں: 
الہ من لمْأُفرلهُم 
اس یسایپ ےداوکی ہیں ج نہیں ایس جات“ 
(مجمع الزوائد۹ ص )۳٣٣‏ 


غخداجان کرد ہک ےکس ےآفت کے پرکا نے ہوں گے؟ 
تپ اخام اورپ رچال ٹل ”لَمْ “او ر”غیْرْصَحیٔح“ 
کےالفاط کے استعال میں اصط ای ذرقی 
اجھی اچھ یپ نے جو کور ہحدبیث کےآخ ریس امام ذئی کے میا لفاظ پڑ ھے ہیں ”ھا غَيْوُ تج 


٥٥٥٥٥٥0 لطا‎ 2131331. 


۸ 
(ں بیعد یٹ نیس ہے )نذا لکامطلب پیل ہے کہاگ بحدیٹ ں نیس یت لسن وخی رہ ہگی کہ ال 
کامطلب پر ےکرہ وضو وانل ددایت ہے۔ ا لکی دیلل یہ ہےک رما حد یٹ ج بکتتب اظام وخرہٹ گی 
حدبیث کےثتحاق "لا سخ ء لکیم صسخ“ وغی رالفا ظط استعا لک تے ہیں تووہاں اصطداتی کی مرادہوتاہے اور 
صورت سأ عد یٹ ہ تجح تکك 2 ہوئی لن ب قواعدأ کاشارعدہ ٹچ سے مل در ےکی 
احاد یٹ شی ہوسکنا ہے اورد و اٹل امتمدلا لبھی ہوٹی ےمان اییےالفاظاج بکب ”مو ضوعات: ضعفاء“ 
او کپ اس ءالر جال ی ش7 یں تووہاں اس حد یٹک موضوع وہل ہونامرادہوتا ہے اور قائل امت لا لال 
ہگ . چنا نیش پو قش عبدافتائ ابوفدہ حم لعل کھت میں: 
ول بی العدزث :لاخ ءاُز: لایٹ : أُز:لم َصخ, آز. لوٹ 
أؤ: لس بضجیحء آؤ: لیس بغاببء اُ: عَيْزلابت ء از :لات یه صَيذ 
جوومعیہ َالْوه فِیٔ كت الصْعفاء او المَوٴصٰوُعاتِ فَالْمرَاد بہ 
أؤ کدیِۓ الْمَدگورمَوصُوْم ءا يِف بِشَيو من الضِحةء وَإِذَا راف 
تُب أُحاویٔث الاحکام ء فَالْمْرَا بهتَقي الضَِحُةِالاضْطَلاحَة 
من رخ کرام یحدیٹ کے پارےم 'لایصح 'یا”لایشبت'ی''لم یصح“ یا 
”لم یثبت“ "لیس بصحیح“ لیس بثابت“'ی''غیرثابت“ا'لایثبت فيه شيء “ 
وخ روالفا ظا جواستعا لکرتے ہیں ءنکران کےاییے اقوا لکتب”'ضسعسفساء “او رکب 





''سوضوعات“ یں ہو تذا لکا مطلب رہ ہوتا ےک کور وعد ےم ضوع( جن ےادر 

اکن کےایےاقوال کنب عدبیٹ می ہول قزاسل ے اصطلا تیعم ت کیٹ ی مرا ہولی ے“- 

7 مج لکش وفدواپے ش زاب راکیڑ کی رح ات ہاکی لو مل عارت لا ہیں٠‏ س عبار تکا ایک 
۲ زی قلہیے: 

وَلاَلژمْ بی الأزلِ فی الْحسن أُوِالضٌغف ء وََلرم من الاني البطَلان. 

یتقو اول سے حدیث کےاصظاتی سن بضع فکائی لا زمئی تی لن دوسر ول سے 

لان لا زمآجاۓ“۔ 


(ظفر الأمائي بشرح مختصر السید الشریف الجرجاني ص٤۷٦٦ء۸٦٦؛مقدمة:المصنوع‏ في 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


کا االمادیٹ الموضوعدفی فضائل معاوید 





معرفة الحدیث المەوضوع لعلی اقاری ص۲۷ء۲۸) 

شاوفد ہرم الل عل کی ہہ بش تقر ببا(۹) فیفحات بی ہوئی ہے.أس یس ا نہوں نے اس موضوع 
پر”مسزان الاعصدالء لسان المیزانء الموضوعات لابن الجوزی:اللَلي المصنوعة“ ورع) 
کتب سے بہت سار ہایس ٹن کی ہیں اودوا نکیا ےک جب ال یکتب لک حدی کوخی رن کہا جات 
ال سے ال حد ی ٹکا موضوا ہونامراد ہوا ہے ۔أنوں نے فر مہ ےکہ یی متلہانجائی لیف ہے +بڑے بڑے 
اك ہی مس عو ری را بد 

ات مہ .ان یش سے بی حدم 
کی سی یٹ عبدالڈرین پکار کے ار مرککھاے : 

قا ایی : غِڈ الله بی نگار مَجُھوْلَ ء عَییلة غَْر مَعفزظِ. 

یکین ےکھارخبدا نین ہکا بول ہے ءا کی حد فو یں ہے“ 
دوس ری ردایت می بل مان بن اہی ال اد ہے۔ اس کے بارے میس ان الجوز کھت ہیں: 
هذا خدک لاَصخ ء َفیه غَبْڈ الرَحْمَانِ بن أبی الژَد ‏ قال أعمَذ : مو 
مُضْطِرّب الحدیْثِ ء وَقَالَ يَخیی وَالرًازِي : لا یحم یہ 
”بدمد فو ہے اس میں بد رجمان بن الی ال تاد ہےء امام احدفر ماتے ہیں: 
وومخقطربےالید یٹ پےادرمحدث گی اودانڑھاتم دانزئیات ےکھا:اسی سے دلی فیس لی انی “_ 
(العلل المتناعیة فی الأحادیث الواھیة ج١‏ ص ۷۲۷ء۲۷۸ حدیث٥ )٥٤٤٤٤ ٤‏ 

تی محدثکااپنے ضا لے پر بدا اترنا 

ضیال رہ ےک۔امام این جو زی رحاش علی لکاب”العدل المتناھیة فی الاحادیث الواھیة“/ا 
شا رپ تضعفاء بی ہوتا ہے اوراہپ جواصول میا نکیاٴ گیا ےا نل فت تب ”مو ضوعحات'“ انیل پک کنب 
”ضعفاء“ کا ذک ری ہے :ہنا مام اہن الجوزکیکا ”لعل“ ا حدییت کے بارے می سککئ”'هلذًا دب 

سخ“ اس کےا نما رو ضوفیت کے لیے ہے سن یاضعیف کے لیس ۔جبأننہوں نے یی اپ ای 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





492 
کتاب کےمقدمفرمایاے: 

وَفَد جَمَعُثُ فِي هذَا الْکتاپ الَّادیٔک الشْىِينَة الشََلُزلِ الْكييرَة العْللِ۔ 

”نیم نے ا کاب می دواحاد بیج کی ہیں جوشد ینز اورک تم لی ہیں 

العلل المتناهیة فی الأحادیث الواهیة ج١‏ ص۱۷) 

رآ ن کا کوروشد یتب ضیف حدیث پڑھذا حدیت لاخ کک مق کیا ے؟کیام یکہ 
وو سکیرالتلل اور یدالنلٹزرل والی حدبی کون باضعیف خایتکرناچا جج ہیں انیل بل زکورالصدرضاب 
کے مطابن وہ ا لکا وضو ہونا ا برفرمار سے ہیں۔ باقی ربا نکا یھ ناک دہ ا لںکتاب مس فا شد یتین 
ضیف احاویٹ در عکرریں گے وضو یں ۔اس پرمیریگزارش ہےک رای ضا بح خی ا مکیاکرتے ہیں 
اتی الامکان رات ے رٹل پھیکر تے ہی مکل پور نجس اتزتے اور نی رگن ہے ۔اکرا الکن 
ہت لو قکیکناہوں اوغا قک یناب می ںکیافرق ہوتا؟ دب اما یی ے "ال جصامع اللصغیر“ کے 
مق رم می شککھا ےکہأ ہو نے اپ ال کنا بکوموضوع احعادیٹ سےتفوظارکھا ےشن اس دگوگی کے باوجود 
نک تاب می پنض موضو مع 1ار یھی وزٹل ہنیس ارآ مند یفحات می ”الڈن سبْقة لاگ 
صورت میں ایک شا لآ ۓےگی۔ فی ایملہ کہ امام ابن جوزکی رم ایند علیکاشد ید مع تزلزل اور لکی شگار 
حد یٹ کےآخ رم کل ئ”ذًا حدزت لایخ سس حد یٹ کےۂ وضو ہون ےکی طرف اشاردہے۔ اک 
یر ولئل وتاحید یی ےکددامام ذ تی چنجوں نے۳ ھیسزان اللاعتعدال “ می اس حدیث پ اتا ”َهذًا عَيْرْ 
ضیح“ اہو نے ا درا کب میں اس حدیٹےکوصاف موسوم اورجھوٹ یداہ اور لٗ ھی نے 
وٹ آینت ڈھائی ےا سک نٹا ند یبھی فرمادکی ہے .امام ذئبی ررمتۃ ال علیدنے اپٹی ای ککتاب یس بیوالن 
قائمکیاہے: 

فَمن البَاطيْلِ المَختلَقة 

؛ٹگھڑی ہوئی اطل حدشیں۔ 

راس ححدی ٹکڑیی ای نون یفخ لکرکے ا سکابطلان نا ہرکیاہے او برای چندز ید اٹل 
اعادییٹ در کر نے کے ھا ہے: 
وو ا٥ٌحاویِٹ‏ طَاجِرَ الْرَضْع, وَاللهاُعلَمٍ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ا الأحادیث الموضوعة فی فضائل معاویة مت 





”نس بیقاماعادیت داش طور یر موضوغ ہیں وادذ رم 
(سیرأعلام النبلاء ج٣‏ ص۱۲۹۶۱۱۲۸) 
امام ذ بی نے ایک اورسقام می کا ے: 
وَهذا حَدیٔث کَذِبٌ ء روَا ِقَاتَ وی اب رِجَاءء فَهُوَالاَةُ 
”ول حد یٹ ہے :اس داد ہیں ما سوا ئن دجام کےء ایس و یآ نت ہے“ 
(تلخیص کتاب العلل المتناهیة للذهبي ص۹۰) 
ھن لوک مفال آفرئی ےکام لیے ہوئے کے ہی ںک انام ذ ذ ای نے ال عدی ثکو وضو عکھاتڑے 
پآ نہوں ن ےکوی ماخ در خی لکیا۔ا یلوگ اپ یکمال مرا رما پرشا بای کے سفن ہیں گان لوکوں کے 
دریک امام ذ بی یک یکتب ماخ کا در ننیں رکتتر ین کے وا ابا نہوں نے رالل پر بح تکر نے کے بعد 
لیا رس کے اکن ماما دک رہے؟ اگ سی سے ہکا جقزو ون ے الو فکرے اوران 
کنب سےزیاد ہمتاخ سے ا حدی کان یک از ضیف ہونای وب ےکررے۔ 
کھاجا مکنا ےک خواہخواہ پان دھائی چا یی امام ان عساکرکی اخ لکردہردایت پر اتکی دی 
ین یے امام این سم ارسے می پوچھ لیت ہی ںکہ کنا کے فزد یک زی یٹ عد یت کاکنم ہے ۔ سو جانتا 
چا يک ”تاریخ مدینة دمشق لاین عساکرءج۱۹ء دار الفکر؛ بیروتء الطبعة الأولیٰ۱۸١٣۱م“‏ 
امیرشامکا 7 جم( جم تکرہ )۵ھ سے شردغ ہوک رف۲۴ ٹم ہوت ہے .امام این مس اکرنے م۵دے 
ےگ ابتائی او رید یکلشگوکی ہے , ب۰ فی ۷۸ سے ۰۹ا تک دواحاد یٹ چلائَی یج نکولوگوں نے امرشام 
کی شان می خودہ ناک رحفوراکرم ال کی طر ف مو بک ردیاہےءاو ربچ خ۷ ٭ابرک کر نہوں نے امام اسعاق 
نا راع یکا ریشب رق ین قو لق لکڑے: 
لاتصخ خی ايل فی فطل نیف 
نکمم پل کی زبان اقرس سحےفضیاب معاو یی شکوئی چتزعا رن 
(تاریخ دمشق ج۹١٥ص )۱۰١‏ 
ول أ نوں نے زیث حدیٹ کے ساتحوساتھرنذشتسطورکی قام احعادیرے موضوے با گرہڑے 
اور رآ خریں ا غوں نے انافیصلہ یں دیاے: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





وَأصَح ما رُوِي فی َضْلِ معاویَة بث اب عَموَة عي ان عَباٍ اه 
کان ایب الف .قد أحََجَة مُسلم فی صَجیٔجہء َبَعَنۂ خیب عِزنَاضِ: 
للَّهم عَلمْهْلکَابَ ‏ وَبفدۂ بث ابی اي عَيرَة: اللَّْمَ حم فادب مَهُبا. 
” اورمحاد ےک فضیلت بی جو ہچھوردای تکیاگیا ےا یش زیادوےذیاد ہق ردایت 
وہ ہے جوا وق نے امن کیا ال ےردای تک یک دن یکرئم فمپ ےکاحب تھے ,ا سک سلم نے 
پا شش دکرکیاے :ا کے بعتضرت ‏ با کیسمٹے'اللٰهمٌ عَمة کاب“ 
اورال کے بعدائنا کیب روکی بعد یث ے”'اللْهُم اَل َاديا مُهُدِي“. 
(تاریخ دمشق ج۹٥ص١٠۱)‏ 
امام بیزڈلی ن بھی انم اک رکا پیا مخ کے 
(الزیادات علی الموضوعات ص۰۱ ۳۰۲۰۳) 
جب امام ای نع اکر کے مطابق امیر شا مکی شان مس زیادہ سے یادہ لاک قدل فقط ہشن روابات ہیں 
بر وین فیضان امیرمحاون کی یا نکر دہز بجٹ عد یشادد باتی ردایا تس کھاتے می جا می اگی؟ 
خی ر ہکرام کرنے جن تین ردایا تکوفضاتل معادی سی عدنگ تاب لق ل تایاے .ان ٹل 
بھی مو خرالرکردوروایتیں م وضو ہیں :جن سے ای ''اللْهُمٌ عم مُعَاوِيَة الاب پربات گ٤‏ ے٠‏ 
دوسرتی پآ تن بمفیات می پچ ذظ رآ ری ہے؛اوراول الکرج بھی فضیلت نیس بس کے بر موالل ےہ 
جیا عقرب یل 1ری ے۔ 
اےاوقد !ا کا پیم یلم سےگھردرے 
شان معاویہ می گر ش کر نے والی موقوع روایات مل ایک ردایت ہ چھی ہے۔اس روای کنل 
مقررین نے امام ایی رحمد الشعلیکی ”التاریخ الکبیر“ کیا ےلین سان بر دعب ڈ ار ےل 
ا کوامام نقارٹی نے ذک رکیا ہے ہبرحا امام ہار یلھصتے ہیں: 
وَخیٍیٗ الْکتفِیٔ مولی مرن مم اقرشِی ء نز الكَامَ مع التب 


8ء فال زلِيٰ.. ٢إشخاق‏ بِْ یرد ء نَا مُحَمَة يْْ مبارک الضُورِيٗء قال: ا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 





خود پٹ یپھی) موی خلا ھا یددی ےجس نے سیدناام زو ےل لکیاھا کر ما ا ٹنیس 
آگائۓے ےء نمس دتر اتی را کی مو بھی لی نش می ہوگتی۔سیدناع رن ا نطاب نعل 
فرماتےہیں: 
فَعطّث عاۃ ۂ لی قلاثِ من ء کان رض لَاغتَز فِي اي 
”بھی می رےول میں پننی کے لیے پچ ھکذکا سار اہ یبا ںک ککدہ یڑ امیا اس نے شام میس 
شراب پل أ ںکوعد ا یگفی: ریش نے ا ںکاوخیف تن سٹک محدودکردیا۔ داد کے ہیں: 
اس ےل سیدنا عم لن نے أ ےد براروخیفہ والوں یں شا لکررکھاق“_ 
(تھذیب الکمال ج٣۰٣ص ٣٤٤‏ ؛ تھذیب التھذیب ج٦ص۷۱۰)‏ 
ایام علا الد ین مفلطا ضن کھت ہیں : 
ال ابْنْ شِهَاب: مات عَرْكَ فی الْعْمر زَعَمُوْا. 
”ان شہابف مات ہیں لوکویں نےگہاند و شراب شی رت ہو ن ےکی حالت ٹیل مرا تھا 
(إکمال تھذیب الکمال ج۱۲١ص )۲١٢‏ 
یادر ےک پٹ بھی مک کے مسلرانوں یس ےتا انا کا شارطلقا ریش ہوا ہے جن داد ین 
أ حا کچھ جات ہے اور بلاش حا بت ایک رع شف لک نویلا سض کش کی آ دی جا کرتار ے 
اس ےکوکی مواغزہ ہوگا اورنہ د یکوگی ساب ءالہستہ بردی صا کرام یپ کو اشنا حاصل ہےء ران کے بعد 
بجعت رضوان والو ںکورضاے ال یکا دو سنا مالین و جنگ یمش روط ءکیونکہفرمایاگیا: 
”نوہس نے ہد ڑا ایس نے اپے بڑےعدکھڑا“۔ 
والفتح:١٠)‏ 
علا کرام نے فر یپا ےک اتی حفرات پرسا شی نکاافقتام ہو اتا ہے۔ا ںکیئخمیل جمارے رمالہ 
”الصحابة والطلقاء “ یں ھی جانی ہے۔ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


۳ 


نے 
۱ رع 

در اش سے معلوم ہواکہ خرکودالصدرحدبیث کے برسب داوئ بات ا موئی ہیں اپچگرآن کے لام 
ہیں اورش نیچھی ہیں۔ کہ نی اورصدق بین خالد کے درمیان ۸۳ یا۱۸ بر ںکافرقی ہے اس لیے ی۴ سک باجا 
سکتا کرس فلکم نے بعد ی ٹگھ کر ذکوروسند پر چڑ ھادیءجیک یقت مہ ےکہ ای عدیٹو ںکاگھٹنا ایک دور 
یس باتقاحعدہدنرے می شال تھا۔علا من ی انی کھت یں: 

”کھنکڑوں براروں حدشٹیں امیرمعادریوغی رہ کےفضانل میں جنوائیں“_ 

(سیرة النبي ا ج ١ص۹٦)‏ 

چوکہمنوامیہ کے دوریش حد یٹ گھڑرن ےکا دعنداع روج ءال می ئن ہ ےک یی نے اتد 
رگے کے لیے حدی ٹک راو یوں پر چڑھادکی ەد۔ یہاںپہ بات ذ نشین رہ ےک رمق نت گا جاح تن 
سنرکی یی انی تی بلک اف ری سندکو وضو حد یٹ پر چڑ ھادیا جات تھا۔ چنا مچرعلا مبرھانالد بن 
کس ۱ 

وَضَرْبّ يُقلبوْنَ سَنَذ الحَدِیٔثِ لِیْسْتقرَبَ ء فَيْقرِبُ فی ِمّاعم مِنهُمم 

”اوریکف لیک دی ید کر ن کی نخاطرحدی ٹک سن رتدب کر تے ہیں جاکہ 

رقبت پبدا کی جاہلچ دہ ان راویو ںکی وج ےأس حدی کی ماعت می دی نے '_ 

!ُ (الکشف الحٹیث للحلبي ص۲۹) 





0 

کیاامام بنارٹ کی امک تام وفوق میں؟ 
اس روابیت یں بھی :نی یکن ون کارروائ یک یکئی ےا نکنزامتلماءصاحب فا تماتہاندازجش ال روابیت 
کو یکرتے ر ہے اود باورکراتے رہ ےکہ میامام بفارگیانے بیا نکیا ہے ہوظیبرہ دی رہ کالما ءصاح بکانے 
جا خلط ہ ےک امام بغار کی تا اصاؤف مم ہیں۔ا نکی تما مکتپ مج ڑہیں لہ بعقام فا نکی ”الجامع 
امصحیح “ کوجی حاصل ہے تا ہم ال پریھی امام امت نی اوردوچھی اختلاف واعترائ سےم رکیل ہے۔ 

چنا نیعلا سید مشش یی ز بیدی رمۃاللعلی 'حد یم دو کے تارف م سککھت ہں: 
وَکَذا ِا سَقط غُل رِعَالہ فمخُخۂ فی ضیح الْخارب بِشَْأ َال <٠...‏ 


”زری“ دَل علی اَل لت عِنْدۂ ء اوبِيْڈ گر" و ”َال“ قیہمَقَال ء وَآما فِي عَبْر 
صَجِیْجمِفْمَرُُوذَلَايَقبل. 
”ورای رح جب امام ہفاری اپے تام راو یو ںکوگرادیں تو ایی حدی ٹکانم ىہ ےک اگروہ 
بای یش ہواوراام بفارکی أ سے ”فمسسال “یا زی“ سے لاے ہو و بیانداز الپ 
دلالم تکرتا ہےردوعد بیث الع کےنزدریک مات ہےءاوراگ ”یکو“ یا” َال“ سے لاۓے 
ہو ں ت2 راس میس کلا مک یکنا 55 ہے اور ارک کے علادہ ا نکی دوس یکتاب یل ہلا 
سدرمدیث :دم دودےا سےقجو لیکن سکیا جا ےگا“ 
(بلغةالاریب فيمصطلح آثارالحبیب ص۱۹۲) 
اپناخو و پناک ”الصاریخ الکبیر' یش درخ شدہ اک ایی روای کی رائل قول ہک ےجس 
یس دوراویوں کے درمیان ۲۸ ا ۸۳سا لکافرقی ہے؟ قا ری نکرام مق حور رہ ےک ہآسالٰی کنا یں یکسا معجر 
یں می ںیا نکنزالعلماء صاح بکاکمال د ھت ےک دہ امام ار کی تا مکتابو ںکو یما تقر اردے ر ہیں ! 
کیا علابقن سےالی مفالطدآ فرب یک وت کی ماق ے؟ 
امام ذ ہی ال م وضو روا أ٣‏ کر نے کے بعد صا جز دہ کے جوالہ ےق لکر تتے ہی ںکہانہوں نے 
کھا: 
مل بوَحشي ولا او 
فی اور کے پاپ می متہشفول مود 
(تاریع الاسلام للذهبي چ٤‏ ص ۳۱۰) 
رق رب فکاخیال ے ریفض اذا باتم کےلوکویں نے اس حد ی ٹکو جک کے اسے ون یکی طرف 
مو بگردباہوگاء ور نش ری ھت ر بے وا تح سکوا لیے دہنرے سکیا 6کان؟ 


”الم ملا ما“ کم بین سسوال 
اس روا تک بیا نکر ۓ والول ے چارا۔والٰ ےک اکر بیدوایت ان کےنز دک اور ا یں 
پکوردماے تبوی ”الله ال جم و جِلما“ (اےاللد!اس کے پیی ںیلم یلم سےکھردے )جتاب معادیے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


کرت می متبول ا ریا ےکم وصوف دوسرے سال قہکیاارکا نک ادا گی می بھی اکا سحاہ ڈو 
ےتاج ہوتے تھے؟ مح رش نکرام ن ھا ہےک ایک متا نہوں نے سی نا سعدرجن ای دتا می میٹ ےعوف لکیا: 
پا ہد سو وہ و او 
بَض سُنَيه ء طف نَطْرْف ہک. 
ج2ا 1 ہیں جن یں اس جک نے ر سے دو ررکھا ہے بت کہم ال کی 
محض تی ںہو لے گے,اپزا؟ اپ طواف ش رو غگک ریہ م1 پ کےساتمطوا فکرتے جا میں 


37 





(تاریخ دمشق ج٤١‏ ص۱۱۹؛مختصرتاریخ دمشق ج۱۷ ص ٣٣۳؛‏ البدایة والنھایة ج٥‏ ص٥٥٣‏ 
وط: ج۷ص٥٦٥٢٤)‏ 

ایمان سے لا یئے ١دعا‏ ے نبوکی ئن کیا ات ض رن ک پیم ےھ رکا ہکاوہ دوسرو لکا 
خاح ×تاے؟ اک ابی باٹ می املمسیدا صلی لی بھی سی تلہم دوسرے ک تاج ہوے؟ 
نورۓ' 

خیالی ر ہ ےکر اما مان ع کر نے فضا سعاو یش زیاد سے زیادہ جن تن روایا تک یکھاتے ٹل 
رکھا ہے پیدداحیت اکن کے علادہ ہےء لہا یروایت ان کے و یک بھی تقاٹل اتا یں - 


تتحال لزغ“ میس اط لروایت 

یں ای تام لیک تنہیں ضا معاوی مک موا یں مل خمال الھ نین خال المومین “کی رٹ 
لات ىی رج میگ 2013ء میس جلالپی صاحب نے الوان اقبالی ہلا ہورش اورمیشن''فیضان امیرمحادی“ 
نے ویر وضو ول روایات کے ساتحوسات ایک م وضو روایت لفظا تخل امن کے بارے می کی 
با نکر ڈالی ءاورجلالی صاحب نے و اچائی فا جمانہانداز ی سکہاکہ اورقاورسحا ہکرام پپچوی امیرشا مکوخال 
الم ن کے تھے چوک جلا لی صاحب نے ا لوف رواب تکوددمخٹ ر کے جوانے سے بیا نکیا سے اورم وشن 
”فیضان امیرمواوی ان بھی متحددتوالہ جات کے ساتھ پہلاحوالہ درخ رکا دی ہے ء لہا جھ مچھی اس روالہت 
کی سے پاسن ذف لکرر ہے ہیں۔۔امام سیوٹی ران عل کھت ہیں: 0ت 


َأَرَع عبْد بی حمَیْهء وا المْورء وَائیْ دی ء وَائْْمَردزلہ 
َالْهقی فی الڈلابل ‏ وَائنْ اکر من رق الکلِيَء عَىْأبيْ صاِجء عن ان 
ا هن يَعْعَلبَيْمكُم َبَيْنَ الین عَاديُميَنهُمْ مر٥ۂ)‏ 
قمال : کات اْمَوَة هٔ اي مل اللهبَْنهُم نوع اي فا ام تيَة نٹ اب 
فیا ضازث أم زین رَضَاز اه حَال لن 
تھی ححطرق ے ازالوصاح رواےت ہ ےکہمسیدنا این عباس اہ نے ارشاوال ہی : 
قریب ےک اقم مم اوران مہ جن سےتمہارے دشن ہیں دؤتقکردے پک 
تی یں فرایا:یحبت جواندتھالی نے ان کے درمیان پیدافرمائی دہ یکریم پل کا ام جب 
بنت ال مفیان سے شاد یکر ہے۔ لی دوا مالین ہولکیس اورمعاو یخال الین ہ گیا 
(الدرالمنٹورج٤‏ ١ص )٦١٤‏ 
انس یک یحد یٹ رولی اوردرلی دوفو ل طرح موضوع( جلی ہے درلیڈ ا کا موضوح ہوعاا سیر 
ود لو تک ی رہ ال علیہ کے ا کلام سے دا ہوتا ہے : 
َأَن نلم ا تَرَوّجَھَا کان وَقتَ مجرَۃ العبْمَة :وَنُرُوْلِ هو الآَاتِ سَنَة ِب 
من الھِجْرَة ء فَمَا دک رَلا بُگاڈ یَصِخُ بظاھرہ ء وَفي لوہ ن ان عَبًاسٍ مَقَالِ 
آپ جاسن ہی ںکہام جیب سے شادک ججرت عش کے دقت ہو یی جیا نآیاتکاتذول 
چگری یس بواءاہا جھ یھ جیا نکیاکیاھاہردہ یح یس اورائن عباس خچ سے اس کےشبوت 
کلام ہے 





(روح المعاني ج۲۷ص۷۹) 

مطلب یی ےک آیت میں ستفیل مم مودت پد کرد ےکا ذکر ہے چرام لن ام عیب سے شادل 

اس سے پیل ہو یی ماہذاجھ اض میں ہو کات رآن میں ا سکاستبل یں ہن یسے میا نکیا اسکتا ے؟ سو 
وہای ےکی با تکاسید نا این ع با ںیہ سے تقول ہونابعیر ہے +اس لے علا آ لی رم الل علیہ نے راہ اول 
کی جرح وتحد ہگ کے حھصٹ می بے افی تفآ یف ماد کائن عیاش سے اس ردایت کےوت کلام ہے۔ 
و وکیے؟ اس سال یس سن کےپن راویوں کے احوال سے معالمہ دات ہو جا گا۔۔اعا مدکی د تو مامح < 


ککھاے نین رمق الب ء غن اب ضاڑج“( نے ابوصان سے روا تکیا کی ادرابوصا نے 
دوفو ںکوین تھے؟ امام ای نک اکرنے بیروای بی أف لکر نے کے بعد ان دوڈو ںکاتمارف لو ںکرایاے: 
ابدصا کا نام باذامگی ہے اون یکا نا م بن ساحب ہے“ 
(تاریخ دمشق ج۳ص۲۰۸) 
علما اس ال جال نے ا لک کوک اب اودسا کہا ےءاور ا یکذ اب نے خوداترا فکیاکہ جو ال 
نے ازابوصا رح روای کیا سے دجھوٹ ہے۔ چنا امام این عدکی انی سند کے سات ھککھت ہیں : 
قال الک : کل مَيٌوِأُدِث عَنْأبيْ ضالج قَهُز کذْبٌ. 
”کی ن کہا :روہ چز جوشی نے الوصاح سے دوای تکی اود کوٹ ہے 
(الکامل فی ضعفاء الرجال ج۷ص٤‏ ۲۷ ٠٤‏ کھذیب التھذیب ج٥ص٥۹٦)‏ 
جج ابوصاغ باذامگی سےا نے روا کیا ےا کے تلق حافطای نج رسقا لی کھت ہیں : 
فال ابٔنْ اي خيقَمَةعَن ابْن مَعِیبٍ :یس بو بَا وإِذا رَوی عَله الْکلِيٰ 
لیس می ۱ 
”ان ال ی خیشہ اب نیشن یف لکرتے ہی ںکہاسل سے روای تر نے مم لکوئی حر 
نیس ہےەاور جب اس ےکی روا تک ے ذو وقائل انقازکیسں ہے 
(تھذیب التھذیب ج۱ص۴۳۹۱) 
خو یکاے: 
قال لی اُوْصَالج :طز کل شَيْء رَوَیْت عَيء غنْ ایی عَباس قلاتَرُوہ 
”یھ ابوصاغ ‏ ےکہانغورکرلواہردہ نز جوقم نے ہھ سے اابن عباس روای کی ہے ذاب 
اےمتردای تکیاکرو“_ 
(الکامل فی ضعفاء الرجال ج۷ ص )۲۷٢‏ 
معلوم ہواک پیسیدنا ان ع با پٹٹکا ول نیش ہے :انس سے اتد لا لکر تاجن خوش ٹھی ہے ۔ کر 
تی سی نا ان عباس یکا قول ہوا وش عطلقا ران عیاش ک بھی خال(ماموں ) ہوتے اوردہ اپ امول 
کیاتظ کرت ,چی ہانہوں نلج مال میں موصو فکوایک جافورکک یرک نے یس عاسویں :ہف ماگ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


جیباکہ ”ضرح معاني الآخار باب اپ وق“ یل ا نکی نر موجودہے۔و بی ےےبھی سینا این عیاس چو ے 
می بییچش کرانلی مکی ق کوک رکی جاکتی ہے جس کے بارے می انیس معلو مت کرد کرام مت 
نم دع تکرجاڑے؟ 


مُعَاوَِةبنْأَبيٴ سُفَانَ اَخُلم... 
”فیضان امیرسعاد یکم ون نے پیل یکنوان قائ مکیا ہے اسب ےمم کے : 
”حفرت سینا شدادبین اویل شی اتی عنفرباتے ہیں ٹیک رب صلی الشرعلی دہ 
لم ےا شا طرایاِمْعَاوِيَةُ بِنْ ابی سُغيَانَ اَعُلمٍْ ای وََجْوَدُهَا شی مری امت 
بس معاومیہبن ابوسغیان سب سے ند باراودرگی ہیں“ 
(فیضان امیر معاویه ص۱۷۸) 
امیرالی نت نے ا انل روایت پ۰ بالترقیب ا نج کب کےھوالے د بے ہیں: 
[ا] بغیة الباحث ء للھیٹمي ]٢(‏ السنةء للخلال ]٣(‏ المطالب العالیةء للعسقلاني. 
ان یس سے کا کاب 'بسفیة الیساحث “ فص حا ضر کلف وک زین احرصا باب کر یانے 
تین کی ہےأسی سے صاف نا رہوجا ا ےکہ ببحد یٹم وضو ہے وہ کھت ہیں: 
فی إِسسادهبَشِیْرمُنْ زافان مم ء وَشْمَر بی صْج نرک ء رَکَفبَة ْنْ 
رَاهُوْة, 
”ا کی سندیش پٹ رین زاذان حعدی گھڑنے می ملوث ہےءادجھری نک ٹروک سے اور 
امام ائلن راع بر نے ا جوا قراردیاے“- 
(بغیةالباحٹ ص۸۹۲ءحاشیة۹۰۸وص۸۹۳حاشی٢حدیث )۹٦۰۵‏ 
یردتیااماماینرا نہ زماز یی ہیں ج نکاقول شردئ سآ کا ےکرفضائل معاوییش نیکم 
کی ز ان ارس ےکوی چیا تی ے۔ 
اما مان الجوزئی دم ا عراش روا تکودوسنروں سے لا ے ہیں اور خ۲ فر مایا ے 


هذا یك تُوهُوْعٌ عَلی رَسُوِ الله 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۱ لطا‎ 2131331. 


”بعد یٹ رسول اہقف ھی ہوئی ے'- 
(الموضوعات لابن الجوزي ج۲ص۲۹) 
اس حد یٹ کے راوگ یی بن زاذ ان کے بارے ٹیل امام ذ کی اف رماتے ہیں : 
”ام داششنی اوردوس رے مھ شی کرام نے اسے سح فکاہے :امام ان الجوزی نے 
اس بعد ی ٹگھڑرن کاالرام لگا ہے اور ینان ن ےکھاہے: سس بِضي و“ (میقائل 
(میزان الاعتدال ج۲٦ص٤٦)‏ 
حافظ اہنت رحسقلالیٰ نے اس کےعلادہیےگیکلھاے: 
َال اب عَديِ:أَحَادللة لَیْس لها نوز 
”امام این عدکی ےکہا :ا کی رولیات بیو ر میں 
(لسان المیزان ج٢‏ ص۴۲۱) 
علامہبرھان ہی نے امام اہن‌الجوذئی ےگل اتا تکیاے۔ 
(الکشف الحثیث عمن رمي بوضع الحدیث ص۷۸۰۷۷) 
ال شس دوسراراو یم نع یی عدوکی ہے۔حافظھاینتجرسقلا کی تھذیب التصذیب“ می الک 
تع پل میس ایک قو لبھیمنقو نہیں ا کوک اب ء وضا اورسگرالید ی ٹہ اگیاےءاور''تقریب التھذدیب“ 
یس ن الا ظط بیس خلاص بی ںکیامکیاہے: 
مَتْرْوَک كََیَه إِسْخاق بُنُ رَاهویَة. 
”یت روک ہے اماماسحاق بن راع رین ان لکوجھوٹا تق ارد ہے 
(تھذیب التھذیب ج٤‏ ص٢۲‏ ۷؛تحریرتقریب التهذیب ج٣ص٢٦۷)‏ 
ا نی اک ہیں: 
لیس بل وَلَامَمونِ ‏ فا ان نان : کان مم یس الْحَيبْک. 
نی ہےادرنرقی اشن ہے اما مان حبان نےےفرمایا ہے :بعد بی کھت ھا“ 
(میزان الاعتدال ج٣‏ ص٦٠‏ ٢ءوط:ج٥‏ ص٤٦ 0٢‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


۳۔ ”السنةل لس خلال “شی بعد یٹ دوسندوں سے ہے موی سند می شداد بن اول سے الو لا ہے 
رای کی ےشن ا ل کان ےسا ایت ہیی ۔حافظ جمال الین ری ادرھاطکستقالیٰ نے تن سواہ 
سے ا لک ردای تک ناذک رکیاہے ان یل شدادین او لک نام میس ہے لاسما ءال چای سے اولا کی شظاہت تو 
مقول پان اس کے سات یی مقول ے: 
َضَرِيٌتَبِيِٗفة رکا يَبلُ لی لی 
”ری جا لی اور تھا ورسیدناعی فدہ کےخلا ف جوا کرجا تی“ 
(معرفة الثقات للعجلي ج٢ص‏ ۰ ۳؛تاریخ الٹقات للعجلي ص ۲١۷‏ ؛تھذیب الکمال ج١٤١ص‏ 
٦ہ‏ ؛تھذیب التھذیب ج٣‏ ص )٥۸۸‏ 
”السنة لسلسخلال “جس دوسرکی سندوجی ہے جس مس بن جن زاذ ان اور ری نع ہے اور ''بغیة 
الباحث“ کی سندی بھی بجی دوفوں راوی یں اور ان پر لام و چنکاے۔ 
۳۔ تسراحوالہ ”الس صطالب العالیة “ کا ہاور کی سند بھی یی بن زان موجود ہے یزاس میں 
شدادبن اویل “حا لی ےگحو لککاروای کر ناک رکیاگیا ےلان منداجد شی نگحو لکاشدادمن اویل ےسا خابہت 
نیس ہے۔ چنا مد شی نے بی روایت ذکرکر نے کے بجرککھا ے: 
ََابَاعبَشِيْرَ علی هذا الْحَدیْث وَلا مرف إِلَابہ 
”ا حد یٹ یش نشی کی متابع تما سکیکئی اوراس کےسوابحد یٹنیس ا یگ '_ 
(کتاب الضعفاء للعقیلي ج١‏ ص ۱٢١١‏ ؛لسان المیزان ج٢ص٣۳۲)‏ 
امام ائنالجوزئی نے ای لکودوفوں سندوں سےا وکرفر مایا ے: 
فی الطَرِيقیْ جمَاعَةمُجْروْخُوْن ءوَالمنّهَم هي بَشِيربنْ زان 
نأ کون لہ اي تَذليِْم ن الشَعقَِء وڈ املطَ فی ِسَا وہ 
”ناس سند کے دوفو رلیقوں می پیش نکی ایک جماعت ہےادرمی رے نز یک دی 
بن زاذان اس میلملوث ہے یا سی نے خوددی الکو کیا ہے یا مس نے ضعفاء تلق 
قرلیس(فری بکاری کی ہاو رنج سکھڑ ہذکردی ہے“ 
(الموضوعات لابن الجوزي ج٢‏ ص ۳۰) 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


مطلب یہ ہ ےک اس روایت کے م وضو ہونے یف ھکوئی کیکیں سان ىینف نکی کہ ا ںکوجنایا 
پشبن زاذان نے ہے ماس اورنے ۔ 
ہا ںکوگٹس امام سیوگ یک ”اللالی ال مصسوعۃ کےحوالرے مفالطآف یپ یکرسکماے کیو 
ہوں نے امام ابا لچوزگی کے رکوہ ال الفاط کے بعرکھا ہے : 
شُذُۓ: فی اللَسان : مال ابٔیْ اي ایم مَأَل اي عَنهَقَالَ: ضَالخ 
الْحَدِیْب ءوَاللهُ أعُلم 
تنم تا ہوں:' لان المیزان'' ‏ ہے :انال عاتم ےکا نٹ نے اپ والد 
سےاس کےتحلق پچ بچھا ا نہوں ن ےکہا :دو صا لیر یث ہہ وا ایم 
(ائلالي المصنوعة للسیوطي ج١‏ ص٤٢٤٥)‏ 
لن ریفری بکارکینیس چ لک کیوکہ ”لدسان المیسزان“ کے یا لطاظافۃا نشی رین زاذان کےت تق 
ہیں کہ بی سندمی بی رکا ٹن عھری نکی بھی موجود ہے اور کوک اب قراردگیاہے ؛اہائ٥‏ لآفت اس کی 
طرف ےے۔ 
محر ث اہن عراق انان نےکھھا ےکا نے خوداحاد یی گھڑرنےکااحترا فکیاہے- 
(تنزیه الشریعةالمرفوعة عن اخبارالشنیعة الموضوعةج۱ص۹۱) 
پھر ہا بیٹھی یادرکھنا چا “کین 'لسان المیزان“ سے امام سییوٹی رم ا رعلیرنے بی رین زاذ ان 
کی تقد گی میس پیاکلوتاقو لف لکیاےأسی میں سات اقوال ُ نکی جرح مم بھی موجود ہیں اوران اقوال یں اس 
کو'لَیْس بِشَ یو“ کےساتحوساتھ حد حم ثگھڑ نے مس علوتء وأسس اورب اج کہا اکیاے۔امامائن عد گکادہ 
تقو ل بھی ای مہ ذکور ہے ج پیلوش لکیاجا کا ےک ا لک ردایات باور ہیں 'او رام این حیا نکاریق لگ 
صوہورے: 
َلبَ اَم لی بی ء عَتی بل 
”ا سک حد یت پرد ہم ال بآ گیا یک دہاش قرادپائیں“۔ 


(لسان المیزان ج٢‏ ص ۳۲۱۶۳۲۰) 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


امرائل ہت ےوال 

امیرائگل نت سےسوال ہےکہاگرآن کے نز دریک بیحدیٹ موضو نیس ہپ را نل چاہ اک دہ 
ایک دفعہ اس کےالفاظط ی فو رفرمانمیں ء بن ہی سأ لکردوالفاط ہیں: 

مُعَاوِيَة بی ابيٴ سُفيَانَأُحْلمامييٰ وَأجُوَكُمَا. 

”نمی ری مت شی مواو ہکن ابوسفیان سب سے مھ دباراورگی ل''۔ 

عرلی الفاظ کے ساتھ تر جم کے الفاظجھی ا نی کے ہیں ۔کیادہ جھ بےےنجرکو یہ لا لن ےکی زحمت 

گوارافمائمیں کہ اس حدیث بل '' یس“ کالفطابھی ہے اوران کے تر جم بھی امت کالئظط داش سے کیا 
معاو پا نأخ نک رینپ ےبھی زیاد یم اورزیاد وی تج نکا را وا لی میں شر کرنے پرمقابلہہوتا تھا؟ ال 
مج یکو رھ ہیں اویمی ںھ ہی ںک یآ خکیارا اکا نآ کل لا کبادس پک رصدق دا خاش ےکی بڑے 
گیاخھاجن سےسیدنا عمرڈدچجیکنیس ہوع کے تے؟ 


معاوخلیفٴ اول ےکھی زیادیم؟ 

تاری نکرام امیراخیالی ہج ےکہ می ھا زاورپ محقریات ا سوال کے جواب سے محردم تی ر ہیں گے 
کیوکہ ہوارے پیدہربان یل کل محاو اعم می سیداابوکر خی ےکھی ان لکہہ گے ہیں اور باقاعدوخلیدۂ 
او ل کا نام لیاےء اور تقیقت ہ کہ جوعم میس زیادہ ہوسخادت دشباعت وغیرہ ش بھی وی زیادہ وتاے ءال 
لیے فادت وشواع تیم کے فی رہوج یی کک ۔ بجی وج ےک یق رآن جی می سید :ا سابل ناش ف بای اگیا 
ہے رھالی امی را سن ت کھت ہیں : 

”حضرت سید ناش بن سی مین رم اللدتھاٹی علی ہف ماتے ہیں :ایک دفعہحخرتسیرنا 

عبدالشہ بین گرریشی ال تما یممانے فر مایا ححضرت سینا معاو یجن الوسفیان شی ال تھا ٰٰ عنہ 

لوگوں ٹس سب سے زیاد حوصلہ منداورسب سے زیادہعیم اطع ہیں ۔حاض رب ماس نے عوض 

کی :کیا ام کمن ححضرت سیدناصد اتکی ریش اف تھالی ع ےبھی زیادہ؟ تو ححقرت سینا 

عبدایشر بن عمردیشی ارتا کتانے فربایا :سد ناصد تی اکبررشی الشدتعاٹی عنہاپنے مقام اور 

مرج کے انار ےت حضرت سی ناامیرسواد بی شی اللتالٰی عدہ سے مبتراوراضل ہی مان 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 


ححضرت سینا امیرمعادر یی الڈرتالی عنہز اد ول م(بردبار کل“ 
(فیضان امیرمعاویه رضی الله تعالیٰ عنه ص٤٤ )٥٤٤‏ 
آ انی نکیا خوب فرمایاتھا: 
”جب تراحیادد 77 جھچ یل 
(صحیح البخاري ص ١۷۷‏ حدیث )۳٣۸ ٣٤٣۳٣۸٣‏ 
شی امس سن مس خلا ل “کی ردای تن ر۱۸۱ ہےء ال مل فظ 
سیدناالویگرصر یه ری ایس بل سیدنا اعم لہ گی فوقی تکاذکر ہے۔امرا بل سن تکمعلوم ہونا چا بکہے 
ردایت رولی اوردرلیپ' دو ں صصورنوں شں پا اض ہے دا ال گے کا کی سنری ایک راوکی ھب ۶برا لک 
بن جرت جبول ہے اہنذانکن ےکہ ہیل سی نےکھطاباہوءاوردرلیڈ ال لے پاضلی ہ ےک خوداس حدبیث کے 
رای سینا ای ن یی ال ہمامعاد کال عدنک خرن مھت ےک دہ ال کے دربارٹش پچ ہو لے سےبھی 
گبراتے تے۔ چنانچہ بفاری شری کی عدی ٹہ ر×۱+۸) یش ہ ےک ای جا میں معادی ےکا جن ہم 
سےزیادہخاف تکاط دارہودہ ذرااپنے ینگ تو ا نے ہمیق سر ھا ۓ و سینا ن رجہ اس موق پراظہار 
طن سے رہ گے تھے ءکیوں رہ گے تے؟ خودآن سے ج یکن مین دوف مات ہیں: 
نی ڈدگیاک میرک بات سے یادوتف بی پیداہوگی کول دیئی تک فو بت جا 
پچ گی اورمی ری بات کاکوئی اورمطلب لیاجانۓےگا۔ ویش نے جنت جس اپے ا کو باوکیا(اور 
اگ بی )عیب کہا پ نے اپ ےآ پکوتفوظکرلیااوربچالیا“_ 
(بخاري ص ٥٥٢حدیث۸٤٦٦))‏ 
میم د جرد ہار کے سان تکوئی امن بھی پچ ہو لے ےکی کھج راتا چہ جات وہ رن گمررشی ا تما 
گھرا جانہیں جوا نی اپنے والدادرسید اکر ےبھی زیادہعیم مات تے؟ امیرائل سن تک یحقن ے 
روگردا یکر نے ےبھی ؟مخوف زدہ ہیں ںین ہما رے سا نے ایل تال بھی ہی ںہن کےمحدوحع کےسا نے ایا 
بوازادشوارتھاجوان کے مفاد کے خلاف وت تھا۔ چناج تد دعلما ءکرام سینا امام سن بصرکی خٹجدے رواہت 
کرت ہی ںک ہا نہوں نے فرمایا: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 






فَتَکَلمُوْاء وَالاحنف سَاکت ء لَقَالَ مُعَارِبَةً :نَكَلمُ ي 

: بخروء فا : اف الله إِ کِبٔتُ وَأَحَالْكُم إ اِنْ صَتَقُثُ. 

”کو معاو بک یجلس مکی چڑکا کیا اس می خوب ب کی جن احف میں 

خاش ر ہے+اس پرمعادی نے نکی لکھا:اے ابق بھی سھبولو۔ أ ہوں نے فرماا: اگ می 

گھوٹ إولو نو مرا اکاڈر ہےادراگر کچ وو ں تر تہاراڈرۓے“_ 
(الطبقات الکبری ج۹ص٤‏ ۹؛الکامل فی اللغةللمیردج۱ص۹۸؛المنتظم ج٦‏ ص۰۹۳٥‏ ۹؛ تاریخ 
دمشق ج٤ ٢‏ ص۳۲۷؛عیون الأخبار ج٢‏ ص۱۸۰؛تھذیب الکمال ج١‏ ص ۷۹٦؛‏ سیرأعلام النبلاء 
ج٤ص۹۲؛شاریخ‏ الاسلام للذھبي ج٥‏ ص٣٣‏ ۳؛تذھیب تھذیب الکمال ج١‏ ص۲۹۱؛کنز الدرر 
لاین ايك ج٤‏ ص٤٥٤‏ ؛العقدالفریدج١ص٥٤؛تاریخ‏ اسلام للندوي حصهہ سوم ص٢۲۹)‏ 

اگراحف میس )نہ فی کرکین یل ےبھی زیادوعی مھت تن کےسائے انظہائقن ےکیوں 
خوف زدہ ہوتے؟ شایدکوی یس ائ کی رتا و لکر ےکرانف ب تی سکوت کے عادی تھے ءال لیے انہوں 
نے دہکہاجکہا نان بیتاویل ال ےاس نیک د ہق یکوآدی تھے اورظا ہر کہ ہج ہق نگوئیآسان کٹل 
ہوٹی ءال کات والابھ ین پیندہد۔ چنا خچ بجی انف م نیس تھے جوایک م رت سید اع تد کے جلا لھرے 
در اٹ سپھمات نگوکی ےکس رہ کے تے۔ چنا امام امن سعدرکھتے ہیں : 

نسیب عم نے ہلیم تیلکا کرک ان ا نکی غرستفمائی اس پ رت اضف نے 

کے ہوک رکہا:امی رای وشن بھے بل ےکی احجازت د ہے افماا: و لیے ۔انہوں ت کہا آپ 

نے می مکا فک رکیا تو پورے قیلھکی مت کردکیءعالائکہ وہجھی دوس رےلوگو ںکی ط رع لوک ہی 

ہیں ءاورلوگوں بی ایڑھشھی ہوتے ہیں اور بر ےبھی۔ سینا عفد نے فرماا:آپ نے ت ےکہا۔ 

پچلرسیدنعمر بد نے خواصورت ط ری سے معزر تک“ 
(الطبقمات الکبری لابن سعدج۹ص۹۳:سیرأعلام النبلاء ج٤‏ ص۹۱؛تاریخ دمشق ج٤‏ ٢ص‏ 
٥ءمختصرتاریخ‏ دمشق ج١‏ ١ص١٤٤٢‏ ؛ تاریخ الاسلام للھبي ج٥‏ ص )۳٤۹‏ 

یر ال سنت نے اپی یش لکردہ روایت می محادیکوفاروقی اعم یہ ےبھی زباد یی کہا ا عامۃ 
الا کو جلایاجان ۓکہہہکیاکرمی؟ 1یا دو انف ب نیس جا لی کےن لکوی نظ رھت ہو ے سی نا عح روز یاد جم 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لجا‎ 2131331. 


یں تو 


ول اہی ن گرا ہم یاارشارنوی ولا 
ام رای سنت ےا ے نین می ہ ےک یک ریم ا نے بیورکی امت 
ہے یاد یم او یلیم سید اع ای کوفر مایا تھا۔ چنا چا تا ۓےکانجات ح ٹہ نے سر7 سا ءالھالین لیس 
السسلام کون کے کا سارک کے وق تفر ماباتھا: 
َُاتَرْضَیْنَ ین نی رَجنُک اقم اتييٴ مِلما وَأَكَرَهُمْ عِما َأَعظمَهُم حِمَا؟ 
”اقم اس بات پردائشی نیل ہوکش نےتہارا اح یکل ےکا ہے جومیرکی اصت ش 
اسلام کےلیاظہ سے من سب سے بل کیم اوران سب سے بر کیم ہے ؟۔ 
(سنداأاحمدج٥ص٢۲وج٦‏ ص٣‏ ۷۹حدیث٣‏ ۷٣٢۲۰؛فضائل‏ الصحابةۃج۲ص۸٥۹حدیث‏ 
٦‏ ٗء] المعجم الکبیر چ٠‏ ٢ص‏ ۲۲۹ ؛المصنف لابن أٌبي شیبة ج٦‏ ص٣٦٣۳۷حدیث۳۲۱۲۲ء‏ وط: 
ج۷ ۹ص١٣۱۳ ٠٤‏ حمدیث٤۲۷۹١؛الأحاد‏ والمثاني ج١‏ ص ٢‏ حدیث۹٦۱؛المعجم‏ الکبیر 
ج١‏ ص٥٥حدیيث١٥۱ءوط‏ :ج١‏ ص۷٦‏ حدیث ۱٥١‏ ؛الاستیعاب ج٣ص۲۰۳ءعن‏ أبي 
إسحاق؛سیراأعلام النبلاء ج٢‏ ص٦٦‏ تاریخ دمشق ج٤٤‏ ص١٢١‏ ؛مختصرتاریخ دمشق ج۱۷ 
ص ٣٤٤٣٤٣٣۷‏ ٣۳؛الریاض‏ النضرۃ ج٤‏ ص۱۳۸؛مسند فاطمة الزھراء للسیوطي ص ٥ ٠‏ حدیث ٦٦۷‏ 
درالسحابة للش وکاني ص )٠٠٢‏ 
عافاڈشی نےفرمایے: 
”اس حدی کوامام اتداورامامطی رای نے روای کیا ہے؛اورا کی سند می ایک ٹل خالدین ہمان 
ہے امام !بڑعا تم اوردوسرےعلاء نے ا کی قش فرماکی ہے اور جاقی تاس راوی پقہ ہیں 
(مجمع الزوائدج۹ ص ۱۰١‏ وط: ج۹ ص١۳٢١‏ حدیث٥‏ ۹٥٣۱ء‏ وط: ج۹ ص ۸۵حدیث٥ )۱٢٤۹‏ 
شا شاکرنےفر مایا :ال لکی سنینسن ہے۔ 
(مسندأحمد ج٥١۱ص٤‏ ۱۷ حدیث )۲۰۱۸٢‏ 


سیدااب نعمریی اوہ کی طرف مفسو ب تو لکواگر پچ صلی مکیا جا دہ ال حدبیث نبوئی خلا کے 


۶۲۵۰۵7٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


خلاف ہے یراس سے متاویکاسیدن لہ سے زیاد لیم ہونالازمآتاہے :تکاس حد بش کی رو یلم لم 
می مواوی شی نکرکین پٹوھی سینا لی مز سے مفضو لٹھہرتے ہیں ہمارے نز دک تواین رد 
طرف مو ببقول اٹل ہے دن چوک موصوف کے نز دی ںتول ای ن عم یقاب قول ہے بل اامیدک جال 
دو کورالصدرحد یٹ نوک شا اورقو لا عم تل کے درمیان مطا بت ضمردر با نف ایل گے_ 

زیدوضاح گی ہو جا نو کر نوازی ہو یکہمواو خی نکریھین شی اڈنا سے ما زیو لیم تھے 
لح صورقوں میں؟اگ رض صورقوں میں زیادہجیم تھ تو وکون سی صورتی ںتھیں؟ جک معلوم ہو بین 
کرکین ٹون صورتوں مم کیوں اورک پچ رہ سے ؟ گی نکرییین پک ذ وت مقر میں فطری رجکی 
اور پ دی طور عم تق اک تھا ور یک کےاکیاس برسوں مس مل تعیت نوک کے باوجودیگی ا سح 
کک نہ سکا جن سپ معاد کافناری او ٹیپل تھا تذ اللہ تواٹی نے اس ت بی تکیتت ری کیو ں خر بای ؟ذراسورۃ 
کی خر آ یت کے ان الفاط زع أُْرَع مَطأه فا ره تق فسوی علیٰ وق بقجبْ 
لززاغ بیط ہم الغاز یہ (ییے ای اق ار نے اچا ھا مل ب4ا سے طاقت دی پلرد ین ہوئی برای 
صاقی پرکڑکی ہی مکسانو ںکویھ ای ہے ران ےکافخروں کے د ل پیش ہیں مھا برکرام مکی تیشان مان 
ہوئی کس می !ورفر میں !رجا کی ںک جح پت قک شا نکوذ اط جب الڑ راغ سے مین فر مار اے 
سک کوٹ ام نے اور سک تر یی تک ن ےکی کیا نک تر یت کو کی ر ٹج کان سے دولی کلم 
یس بڑہ گے جو اس وق تکافر کے؟ 

رو نکریھین نی اوڈکن را اعرشتض حلقاء ےب یکم تال تالی نے انیس نی الاخاء لا ک۷ 
وز کیوں بنایا؟ جہ وز فی می بوچھداھانے والا ہے ؛ اور پوچھ ماوٹی ہو یا ممنوی دونوں کے لےعلم وحوصلہ 
درکا رتا ےفَتَدبْرُوْا! 


بھی ریٹجر یھی یئ 

قارکی کرام اورائ لتق مقررین دواصمظین س ےگزازش ہ ےک ہی دہ تج برک ورای ناصعیوں کے 
سا مے پیل ہیا کم یکلم میں سید عی النضتی فی کریین شی اکا بھی زیاد تھے. پھ مالین 
کے رل می "و رف ما میں پل رآ یگ لم معاو میں سید ای نعر کی طرف مفسوب ڈرکورہ الا مجوناقول بین 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۸ دا‎ 2131531. 


کر کہ مواو ]خی نکریین زی اما ےبھی زیاد وحم تے اوراس پر جوریل سمات ے1 اس م فور 
فبائمیں۔اگرآپ نے ای اکیا تل حا ہآپ پردو ہش سے ایک بات ضردرعیاں ہوگی جا اصویو لکومعاویے کے 
پارے می کچھو ٹےتول سے پاتھھ و نے یں گے برا نکی ناصصمی ت کاب دہ چاک ہو جا ۓگا- 
شمائن محاو رٹل وع حد بی ث کا الوکھاطریقہ 
ہنامیہ کے شائی دورمی ا نکی شمان یش چہاں صاف ری سندوںپ لی اورخق من چڑھانے کا 
ط یا جی اک سلم کے توانے سے ایک مال پٹ کا جاہچگی ہے و ہیں ایک لر یقہ یھی رہاکہ پل سے 
موجوداور یت بنا ےم نکی ا ضف کلام نک رآ خیش ای فآ دھ جملہ ام شا مکی شان مس شائ لکردیا جا جاتھا- 
زی جث حدیث شل پارلوگول ۓ ”بغیة الباحث للھیٹمی“ ے٭' مُعَاوِيةبُنْ اي سُفيانَ أَعلَمْ أتيُ 
وأ ڈھا“ کا جم انف لکیاےاأ سم ایج یکارروائ یکیگئی ے, اس کےٹشن می حعقرات الوم بعثان بی 
این مسعودہابوز راوراہوالدرداء کے سات نا مآ ہیں اورآ ٹھواں نام معاو یکا سے مان ال مق نیکھٹرنے 
والے بد نیش ک کروی یہ ےک دوال پا ٥ت‏ نکوصاف ری سنا جامنیل پہنالکا۔ 
ای ہی ہیرا یبر یکرت ہو ئۓ ایک شمپورضن سے تا جن کلام :نک را س کےآخرمیں“ وَصاجب 
زی مقاویَة ابی فیا کا جم شا لکردیاگیاتھا:ج سکویارلگوں ن ےپنکھی نرک کے اپ کاب یل 
دک رداے۔ چنا کھابی: 
”حضرت سید نا ان عپاس شی الل تا عنرے روابہت ہ ےک ایک دانع نچ یککرییم گل 
الل تی علیہ یہ لم ن ےش ۃممشرہ کے فضائل بین فرماۓ اورتحقرت ام رمحاو یرش اللّ 
تا لی عنہکابھی یں ذکرفرمایا: محاد یہن ال فان مرے داز داروں ٹش سے ہیں جن نے الن 
تمام سب تکی دونحجات پاگیا اوج نے ان ٹف رکھا ہلاگ ہوگیا''رضسرف 
المصطفی ؛جامع ابواب الفضائل والمناقبءباب فضائل الأریعةو سائر الصحابة 
اُحمعینءفصل ومن فضائل بعض الصحابقمحتمعین؛٦/۸۹ریاض‏ النضرۃءالباب 
الٹائیءالفصل الرابع فی وصف کل واحد-۔۔الخ ١/٦۳مختصراً)‏ 
(فیضانِ امیر معاویه رضی الله تعالیٰ عنه ص:۱۷۳) 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





یرروامی گی مضوخ وباٴل ئن إ کا موضو رع ہونا چس جاعتاج بک ککہ ا لکا 
مل من سا سے ن ہو پیک ا سکامطن مع سندد یھت ہیں چنا ینس مقام اورجٹس روایت سے ان لوگ 
نے ماو یک شان بس اس روای تکا خر مد أ چک کیا ےےء مکل روا یت ہرے: 
وَعَيِ ابْن عَبَاس رَضِي الله عَنهمَا ال : قال رَسُولَ اللق :رم اتی 
تی انکر ء رازم فی دئر اللہ ُمَرُء وَأقَُهُمْعَيَاءُ غْمَانُ بُنْ عَفانَ ء 
انظام لی ُ يک کاپ ,رَلکلتِي و خر کا َلَکَُ عٌََْ: 


الرَحْمٰنِ قء رَعَبُ الخ بن غزفِ الژّرِي نجار لان وا َو غیَیْدَةَ 
بُن الْجرّا "٘‪صجہ ہم ہی 
مُعَارِيَةُبنْ اَييْ سُفَانَ فَمَن اَحَيهُمْ قد نَجَا وَمَنْ اَبعَضَهُملَقَدُ 

”سید این عپا بن عبدالمطلب دی ا نکر تے ہی ںکہ رسول الڈر مس 
میبری پودی امت سے میرک اصت پرسب زیادہ رم اوک ہیں ء دن ای مج گن سب سے 
زیاد وق ئ یع ہیں :سب سے بڑحوکرذیاددحیاداعطالن ہیں اوران سب سے افض لی ہیں اور ہر 
یکا ایک جوارکی ہوتا سے اورمی رے جوار یل وز ہی ہیں ءاو رس ططرف سعد بن ای دقا رز 
کر ےی ای طرف ہوگا ءادرسعیدبن زیدرحمان ف کےکحبووں ٹل سے ہے اورعبر 
الرعحمان می نگوف ہُ ہرکی رہمان ال کے تا ہجروں بیس سے سے اورابوحبیرہ بن جا قد اور 
کے رسو لکا اشن ہےء اور ہ رب یکا ایک بجیدرکی ہوا ہے او رمیا یدگ معاد یہ جن سغیان ہے :سو 
جھ اٹ نے ان سب سےحب تک قددنجات پاگیاادیٹ نے ان ےا رکھا تہ لاک ہھ 


7 


(شرف المصطفی ج٦‏ ص۸۹ حدیث ٥۹۸‏ ۲؛الریاض النضرۃج١ص٣۳[علمیة]وط:دارالغرب‏ 
ج۱ص۲۱۸ءوط:دارالمعرفة ج١‏ ص ۳۱) 

ببروایت تمددو جوم سے وضو وبا اللے: 
ا اتلڈا لکیہ با ندے 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 


7چ 
۳۔ خانیاا لی کہا کوگی روایت سید نا عہدالش بن عباس می نبرا مطلب پٹ ھکی سند سے شاب تی ہے۔ 
”فیضان امیرسعاو “کے مولین حعفرا تکو مج اچم ےک دہ اتی وی تذ نائی ا وروس ا لکوت یکر کے یبھی 
مندابن عیاسں یہ ےکم سن کے سا تھ بر دایت دکھاد سں! 
٣۔‏ ہلاس ےکس بد نت نے اس روای تکوش کیاہے+اخلب بیہ کرس نے مل عدبیث کن 
کوسا نے رت ہہوئے ا سے کیا ہے جوکنپ صا ومسا خیرم ”رم اي“ اور ٣اا‏ اي“ کےالفاظ 
مآ کی سے اورف تاس :1 ہی نک سید نا ای نمراورسید نا جار نمبدائلہ یٹ ےآلی ہے ۔ جائمع ت نی ے 
اس حدی ثکامم مت نئع ت جلاف بایئے اما مت نرک رق لعل کھت ہیں: 
اس بی مالک فَال قال رَسُوَ اللہ ہل اُرّحَم أتجي بائي او نگرء 
َأَكهم فی ار الِفمَر ء وَأَصتهُمْ عَيَاءعُتمَا ء وَأروّهُم تاب الراني بن 
گحغب ء وَأرَههُم زیڈ بی قابت ء وَألَمُهُمْ الال وَالْخرام ماد جَبلٍ الا 
َإِ لکل أُوأبسً وَإِن این ممدو الََةَائو غَيدةَ بی جراج . هذا یك 
”سیدن الس جن ما نک لہ ما نکر تے ہی ںکہرسول اللہ خلا نے فر بای :می ریی امت یس میرئی 
ات پرسب سےزیاد+ ران اوک ہیں ؛اھکامم'لھی مس سب سےزیاد ٤خ‏ تک ریشم دمیا ٹل 
سب سےزیادہ چان علال وترامرکوسب سے زیادہ چان وانے موا بن تل بجکرف نل 
کےسب سے( یادہعا لم زید بن ٹابت اورسب سے اتچھےقار الب نکعب ہیں( )۔سخواہر 
اص تکا ایک اشٹن ہوتا ہے اوراس امت کے اشن الوعبیرہ بن جراب ہیں ییعد یٹ ض٣‏ نک 
ۓے۔ 
(سنن الترمذي ج٦‏ ص ۱۲۷ ءحدیث ۰ ۳۷۹۱۰۱۳۷۹) 
اما مت نکی کےعلادہ ال حد یٹ کوامام ات ءامام ان ماحہ اما نسائی امام الوداودطی"' ای اما مھا وی ؛ا ما این 
ان ءامام اب وی ماما حا ا یی ام یفوی لی بت نی نےبھی ڈکرکیاے۔ 


(سعداحصمد ج۳٣ص‏ ۱۸ء وص۱۲۸ء وط:شاکر ج۱۱ ص ٣۳۲٣٣٣٣‏ حدیث ۱۲۸۳۹ء 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


[ ۱ 
٭۶٣‏ کسسنن ابن ماجه ص٤٣٤حدیث١٥٥؛فضائل‏ الصحابة للنسائي ص٤١‏ حدیث ۱۳۸ و 
ص٥٥حدیث۱۸۲ء:‏ مسندابي داود للطیالسي ج٣‏ ص٥١٢‏ حدیث ٢٢٢۲؛شرح‏ مشکل الآثار 
ج٢‏ ص ۲۷۹ حدیث۸۰۸؛صحیح ابن حبسان ج ٦١ص٢۷‏ حدیث۷۱۳۱ء وص٦۸‏ حدیث 
۷ء وص۲۳۸حدیث ۷۲٢٢‏ ؛مسند أبي یعلیٰ ج١١‏ ص١٤٢۱‏ حدیث٣٥٦۷٦٢‏ ؛المستدرك 
للحاکم ج٣‏ ص٤٢٣‏ ءوط:ج٣‏ ص۷۷٣‏ حدیث٣۷۸٦؛السنن‏ الکبری للبيھقي ج٦‏ ص ۳٣٣‏ 
حدیث٦۱۲۱۸؛شرح‏ السنة للبغوي ج١ ١‏ ص ٣۱۳١‏ حدیث ۰ ۲۹۳؛ معالم التنزیل ج۷ ص٦٢۳٣‏ 
مصابیح السنة ج٤‏ ص۱۷۹ ۰۶ حدیث ٣۷۸۷‏ ؛مشکوۃ ج٣‏ ص ۲۷ ۱۷حدیث )١٦٦٦٦‏ 
ان ٹیش سے !ڈراہ بات التب میں اوران شش ےکک یچھ کاب می دہ جملنٹی ے جوم وصو فک ال 
کردوروایت بیس محاد کی شاان شل بای افاظ''وَصَاجبٔ سِرَئ مُعَارَِةُبْنْ اي فان "٣رث‏ 
حدیث"أزْحم اف سطری 
اھرال سن تيئلزردوری ٹ”َزْحَمْ آئيٰ“ کےالفاظ ےشرو ہولیٰ ہے ناسل سن کے ساتھ 
مس یبھی مث نے ۱ ا ںکوسید نا ای ن۶ا اکس ےرام تگیا ہےاورند یکا ”'وَضَاجبْ بس مَُاَِةً ۳ 
اي مسا “ کےالفاظ ذکرسیے ہیں بتئ یک شہورمھرٹ نطیب بفدادی نے ا حد بی ثکو(۵] طرقی سے 
روا تگیا ہےاورکوئی ا بن ائن عیاس سے روکی ہے اورند یی مبالفاظطآ ے ہیں۔ 
(الفصلُ للوصل فی المدرج للنقل ص ٦۷٦ءتا۸۷٥)‏ 
معاو اور یز کے بہت بڑے وی ل مہو نصصی قاضی این ال بی ای نے بھی اس حد بی ٹن کیا ہے 
گھردوکھی ای الفاظلانے سےقاصرر ہے۔دجھ ا 
(العواصم من القواصم ص )۲٥٢‏ 
آ ایت کےجواری کتنے ے؟ 
اںحدی ۷ض اکرنے وال بھی شا ید ویصو فکی طرع تاس جا کیم ہیں تو اگ حابگرام 
جوارگی فتط ایک بی تھے اورووسی نز یبن الوام لہ تھے بعد بی ٹگھٹرنے وا لے جال نے سید ناظوہ 


بنعجیدائل یی جار ادا ہے .اس کےالفاظئ فورفر ان ا”وَكلٍ ِي عَوَارِي وَحَوَارِبٔئُ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


ة الو “(ادرہ رن یکا ایک عواریی ہوتا ہے اورمی رےجواریعلمدوز بی ہیں ) یکا کرام ایک سے 
زم رھواربی ےآ ماود ی نیس تھے۔ چنا غیرمتجد دید شی نکرا مگھت ہیں : 

نافع قَال : سَیغ ا عُمَر رَخْلَايَقزلَ: ا فی خَوَارِي رَسُزلِ اللہ تقال 

بن عمَر: إِنْ كُنَْ مِنْ آلِ الژَْرِوَإِلَاقلا۔ 

”رت نان با نکرتے ہیں :سیدناائ نع یہ نے ایی کو کے ہوئے سنا :یں رسول 

الد ام کے حوارکیک با ہوں۔اس پرسیدنا ای نعمریلند نے فرمایا: اگ رذ لی ز ہیر سے ہے 

فیہاء ور من ایک 
(المصنف لاہن أبی‌شیبة [مسحمد عوٌامة]ج ۱۷ ص ٥٥١‏ حدیث۳۲۸۳۳؛فضائل 
الصحابة ج٢‏ ص ۹۲۱حدیث٥۱۲۷؛المعجم‏ الکبیر ج١‏ ص ۱۱۹ حدیث٢۲۲؛الطبقات‏ الکبریٰ 
لاہن سعد[علمیة]ج۳ص۷۸ءوط: ج۳ ص۹۹؛معرفةالصحابة لأبي نعیم ج١‏ ص١١۱‏ حدیث 
۷ ؛تاریخ دمشق ج۱۸ ص٥‏ ۳۷؛ کشف الأستار ج٣‏ ص ٢٢۲حدیث٤‏ ۹٥۲؛إتحاف‏ الخیرۃ 
المھرۃج۹ص١‏ ۹حدیث ۹۰۰۱؛الاصابةج٢‏ ص٤٤٣‏ ؛المطالب العالیة ج٦١‏ ص٢٣٢٢‏ حدیث 
۰مك")"۲" 

اماماین صا اکر کے ہاں الفاظ ہی ںکرسید نا نمی انڈنجمانے ا ہ٢‏ کوفایا: 

ِ کن اہن لیر َلاَق کَلَبْتَ, 

”اک رز کا نا ا ٹھیک دور جا ن ےگھوٹ ہوا ہے 

(تاریخ دمشق ج۱۸١ص‏ ۳۷۵) 

جن لوگوں نے سیداای نگھریشی اکا ےسوا لکیا: 

هَل کان أحَد الله خَوَارِي رَسُوْلِ الله 9 عَيْر الزَیْرِ ؟ قال :لا اَم 

”کیاسیدناز ہیر کے علادہ اورکوئی نیس مج سکورسول اولد لہ کاجوار یکہاجاے؟ فرمایا: 

میں اح“ 
(الطبقات الکبری لابن سعدج۳ص۹۹ءوط: ج۳ص۷۸؛تاریخ دمشق ج۱۸ ص٣۳۷‏ ؛الأ حادیث 


الواردۃ في فضائل الصحابة ج۷ ص )۱۳۳٣۱۳۲‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


0 
بجی سوا خودسیدناز رین العوام لد سےکیاگ یک ہکیارسول الخ نےآپ کے سوائسی اورکیی 
حواری ف مایا تھا؟أنہوں نے جواپافرمایا: 
لا ء اللہ ما لِم فَالهَاللَحَدِ غَيْرِي 
نیس ءاول یئم ای نی جا ناکیآپ فا نے میرےس وا یکو یف ایام 
(تاریخ دمشق ج۱۸ ص ۳۷۰۰۳۱۹) 
علام جال ٰٰنے ”جامصع کسراحات الأو لیا“ ٹس جچہاں اولیا گرا مکی اقسمام اوران کے نا مککھے ہیں 
و ہیں ا نہوں نے وضاحت ےکا ےک تواری ہرز مانے مل فقظا ایک ہوتا ہے میک دقت ایک ے زا میں 
ہوتے او رتضموراکرمم طف کی کا ہرکی حیات شش اس درجہ پرسیدرناز ہی رین التوام داز تے_ 
(جامع کرامات الأولیاء ج١‏ ص ۷۰ء ومترجم اردوج١‏ ص )٣٣۰‏ 
ہرتتین سے معلوم بواکہ وٹ عدیٹ بنانے وااأنش بڑھاکھا جال تھااورجوخرض منین خی 
”ضاجب موی مُعاوَِة ین اي سُفيان “ کے جملہکی وج سے ا حد یکو گے چا تار ایا چلانا ہے أ کی 
یرت بھی بوجہٹرب یتعقب جواب دےکگی ے۔ 
حدبی ثکوآدعامالتاے پاہرا؟ 
امیرالگی ہلت نے ہوا لاب ”شرف المصطفی'' ”صَاجبْ ہِرَي مُعَاوَةً “کاچ لیج پل 
ردایت ہے اچ ک لیا ےأس یں ایک جملہیکگی ہے:”ؤَأفضلهم علیٰ بن اب کالب“ (اوران سب ے 
أفض لی بن الی طالب ہیں خل ٭و در کہ اس روای تک ابتزایش ”اع أُيسي“' کےالفاظط می ںبھرغلماء 
علا ‏ یپ کےاساء میں او مل وَاَفطسلهم خی من اي کالب“ ہے اس لے اس بھلرش* مم “ 
تی مرقع تا لف أیص یٹنیس بگ غاغا وخلاش ول ۃ کے اس بھی ہیں ءاذراموصسوف سے لپ مچھا جا ۓے جب ان 
کے نز دیک بعد یثہقائلقولی ےت کیاوہ1 اس حد ی ٹک تر کے مطا لی سید صلی اوغا رما ش لے 
أفضل ماتۓ ہیں بابرا نکاایمان نتا”'وَصَاجبْ بِرَي مُعَارِيَةُ “کے جملہ بجی ے؟ 


دوٹل سےایک 


اگرامیرابل نت زیر جٹ حدی ےکڑل مان ہی ق بر نیل ”وَصاجب سبريٰ تعاوِبَة“ کے تد 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


کےساتدس ات اف لع غلیٰ ون اب طاللب“ کے ای انتا ہوگا کان اس صورت می انیس ایمان 
سے ہاتھ جونا پٹ یی گے ؛کیوکہ ان کے نز د یک سید ا بک رصد بی انم ءکرا مہم السلام کے بعدتاملوکوں 
ےل ہیں اورسی مسلما نکااس مم اتا ف یں ۔ چنا چا نہوں نے اپ ایک خطاب کے دورا ن*کہا: 
”سد ناصد بی اکبریضی اللدتوالی عنہ ىہ یق سیدروں کےجھ یآ قا ہیں رسبیدروں کےبھی 
اک ای کال ہیں یہ ان میںکوئی اختلا ف نہیں ےک تام انانوں شع 
نیوں کے بعوسب سے فل بی کریضی ال تھالی ع نکی ذ ات سے ہس مافو ںکاایس میں 
الا فی ۓ'۔ 
(ٹی وی چینل پرخطاب سے ماخوذ) 
آ ری الفا ظط مسلرانو کا اس میس اتا ف نیش ےج حورفرماکر بای ےک دوال عدییث کے جملہ 
”زأفسضلؤْع خی ناب ایب“ کےہطابق سید می :ا کے نضل مان کت ہیں؟ اب نعل مک دہ 
افنضلیت م موی ے جا نبچچٹرانے کے لے "اجب مسیٰ مُعاوية کے ہمد ےکی دست بردار یکا 
اخہارکرتے ہیں پاپ یکتاب میں در خکردوگل م وضو حدی ےکوی تیر پادکچے ہیں ۔ انیس دوجس سے ایک ت 
کرناہوگا۔ 


ام رائلی سنت سےالتمال 

یا تزامی راب نت سے القا سکرا ےکمتلنففضیل ٹن مال ہیں سےنیں سے نال کفرو 
اعلام سے ہے یلکن کہ جب أنہوں ن ےکا مسلرانو کااس میں اختلاف یں ےق اس وت ان کے 
ز جن می شا یر شیع طیقہ ہوگا ہکن انیل معلوم ہونا ای کہ یرت سے سا کرام وحا ین عظام سید نعلی الیلاکی 
اتخلیت کے ال تے۔ میرے مطالہ کے مطابقی سید این مسعودرسییر عباس بن عبدالمطلب :ا نکیل اولا دہ 
امامنن لام مین امام ز بیع الابد ین تما بن پاشھم ہمذ یہ بن پان ہخز یی من حابت سلممان فاریء الوزر 
فارکی *مقلدادین اسودہشباب بن الا رتء جا بر جن بد اوہ ابوسحیرخدرگیء ز یجن ارل لیب نکعب ؛خثان بن 
حفیف :ہل بین یف یر یدہ بن تیب ابدالیوب انصاری ءابدایشم ین التیہان انصاری ءابوامضیل عامر بن 
وا سینا زی نگ اور ددسرے بہت سے حقرات سینا عکی نی دکی افضلیت کے قائل جھے_ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 


ال کے ساتھ مات انیل یھی بادرکنا ا کہ جڈٹ اصول دی نکامکرن ہو سے خی سی ںکہاجا 
ککتا. لاو کے جس مق یکو ہمارے ہاں کےبض تطددین خی سلم اورکاف کھت ہیں. اس عق کلک مین 
ٹین لپیا د کے جات ہیں *ھالانک تن شر نکی مسا جم ذکیاعدو و ھی نی سلمکاداخلیع ہے۔ 
صَاجبُ الْحَاجَة أُغمٰی 

بی بفرورت پاتقب انسان افراط وذر یکا شکارہوجاتا ہےەأ کی لعصیرتسلب ہوجائی ہے اوروہ غیر 
موازن اور نی رمتقرل ہو جا تا ہے .٣و‏ چون ہملک معاد یہی شھان ‏ کوئ بھی حدبیث نبوئیکئیں ہے اس لے جس 
سکیا ےی نکادفاح ]کاچ ہا خوادد ہکتقادی بڑاعالم اورحیرٹ تھا ال ے داسن اختقدال بچھو ٹیگ یا اور ے 
اپنی ضرورت ودک نے کے لے ان یو ںکاعتانع ہوناپڈاجھ پل کے مقام دمرجہ سے بس یں ۔ ای 
صورتب حا لکا گار علامہاین تجرگی سی و ھآوشخصبی بھی ہو یھی ۔ ہوا کہا ٹل ان کے دور کے ایک ہندی 
باشاہ سلطان ہماپوں ہرنے امرش مکی شان ‏ کنا ب کک ہک فر مل کی تا نہوں نے شاحی فر مکی اتیل 
''تسطھیرالجنان واللسان عن ٹلب معاویة بن اي سفیان ”کا باکھناشرو فربالی۔ابشالن 
معاومہ یادفار] معادی لک لچ مواد تھی اس ےننس اپے مقام دعرتہ سے نین ےآ نا اوران ناپپند یرہ 
چیزوں پکذاراک رن پڑاجان کے سابقہمقام کے شایان شا نی تس _ 

نو نے اپنینشبورتری نکتاب”انصواعق اممحرقۃ' مال عد یکو پا طرلیقوں ےق کیا 
تھائین کن ہش ےکی ایک ش لبھی ”وَضاجب ری ما وڈ“ کےالفافڈئیش ہیں۔دبجھۓ! 


(الصواعق المحرقةءمکتبة فیاضء منصورۃء مصرء ص ۲۳۷ء ۲۳۸ء ۲۳۹ء وط: دارالوطن ؛ص 


۴۲۲ ]۲)۲ 
نم کیانکرنا'سطظھیسر اسان ''(مشی فا معاوہ )یش انی انی ھی نظ را ندازکرد وٹ 
رواے تکو لیٹاءڑا_ 


(تطھیرالجنان ص٤٥٥٦٢)‏ 
شامی فر ماش پم یکئی جں تاب مج غہوں نے نصرف برک ہافل روا تکودر کر کے اپ مقام 
وعرتبہگوکرادیا پیج احادیث سے استند لا لک نے بھی وہ پتجتیکاشکار ہو گے ا ںکتاب مل داع 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ جا‎ 2131331. 


معاو یکر ےکرتے ان سے ايل امیر بد بی نیا تک فی ہوئی نم سط رح این تبیرے ”منھاج 
السنة ٹُ ہوگیھی ۔”سططھیسر الس سان“ دکیالجف ح دی نکرام نے قو ا نک یکتاب "ال صواعق 
المحر کے بارے می پھ یتحفقاتکاانہارکیاے۔ چنا می تق رح ال علیہککتت ہیں: 
وشیخ ابن حجرمکی د رصواعق محرقة کەد ود شیعەبا دکد 
وجوہاواشد طریق 'کردہ داد:تشدد وتعصب داد٭۷است۔ 
”اہن تج ری نے صواعق حرقہ یں جتنہوں نے شھیجو ںکا رکم دجو بات اورمعقہد بط رق ےکیا 
ہے اس می أنہوں نے تشد قب افقی کی ے''۔ 
(تکمیل الایمان فارسي ص١٥۱‏ ؛ومترجم اردوءازمفتی سیدغلام معین الدین نعیمی؛ص۱۱۱) 
تجبور یوں یس ولا عو ماد یک ی ملسا ممیت 
اکر برانہمنا ںوی عرت کروں :درائصل علا مہاب تجرش کی بیو ریو ںکاممالہ ضسطھسر الجتان “ 
ایبائی ہے جی اکہ ایق یب می ہار ےگا الامتمطتی ات یار اھ یکاسعاللہر اہے۔ نہوں نے 
انی ددکتاوں می کھا کٹ یکریم ا ےکی سان ےکوخال الم وی نکہنا جا نون رن جب دوتف طلقا ء کے 
دفاع یکنا بک یق أس میں اپے اسم سے انیس خال ال نک دیا کیا ن کے نزدیک ج بات 
بی دوک وں جس ناج زی ءودی بات طلقاء کے دفا رم پیٹ یناب شس جائزہوئی۔ بہت سے مقامات پہ 
علامدائن ری بھی ا بی ہوگیاءأنہوں نے پان طربقول سے اس حدبی ٹکو لصو اعق ال محر قة' بل 
در جکیانکرن میں ہہ جم نئاس لا قۓےلین جب معاویہ کے دفا عم سکنا ب کک بپٹھے تیامح غانصلاعیتو ںکو 
پس پش ت ڈالے ہو اس م وضو حد یٹ پر جا لکن یس ان کے مدو ںکشان ٹل ”صَاجب ری 
مقاوَڈ“ کاراٹل بھی جودے۔ 
تار نکرام اجس ط رع ریم وضو وہل روایات عارۃ امن کیمگموں میس وعو لموک کی فاطراور 
فرش فا در جکاگئی ہیں لیضخالالمؤنشن بکاحب وقی مفقہاورفا ا عرب وم وغیرہالفا ظیفح دفاعی کی 
نکر ےکھے اور بونے جات ہیں ءورتہان کنل ُن ے ب یکر خال المونیشن کا تب وقی :فقاو فاتھیںگزر 
کچ ہیں ءان کے لی بالفاظ لا ںکثزت سےکیوں کی ہو نے جاتے ؟ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


و‌_ 2۵ 

موضوخ اعاد یی ٹکا ام پرائز 

مصوف نے معاویہ کےعلم یس چو وضو عد یٹ نبوئی شی کی اس می سآ ٹھوا نہ رحاکم شا مکودیگیا 
ہےاوزین س موضوغ عدبیث یل ”ضس اسب سی ممعساویَة “کچل آیاےأس میں کشر شر ے پیر 
میارواں نر۲ نکا ہے مس پو چچتاہوں :کیاعشر ہیشرہ کے فو رآبعد يہ اوررسول اللہ خر نے علق کا 
دبج نایاے ا للع تک یکرامت ہے؟ آخرکیاوج ہو یکر ایکشیق انمان ا جاپ بدرہ ا ماپ أُع اور بیصت 
رضسوان والوں ےکی ال ہوگیا؟ 

العوامکالاثعام لو کی اریت ھی چا لکاشارجولی ہے نی بادشاہ اورسرکاری علماء ٹس طرف 
جات ہیں لے جاتے ہیں۔ چناغچاسلا مکی اشن بادشاتی اورأس کے بابعد کے دوریل جواحاد یر موضو اور 
روایا تی باطلہ وجودیی سآ ی ر ہیں ا نکاس دور کےگوام الا پہ وس فق گب راڈ ہواکہ د٤ع‏ اکم شا مکففضیات ٹش 
گیا جو یں اور ٹھوریںفہمرے اُٹھاکم پا نچ یں در بے پر ل ےآ اورخلفاء ار ہعہ کے فو بعد اپ مامو کو 
درجردےدیااوراے ال قد ہکومساجد پرکند وکرادیا۔ چنا می ہقاضی ا لوک ران الع بی ما نا ھی ا با تکومادے 
کی متولی تکی دییل کےعطور کھت اہے: 

مَکُتُوْبْ لیٰأوابِ مَسَاجیقا : عَیْرْ الا بَئذ رَسُوْلِ اللہ ل8 انکر ء لم 

”بفدادکی ماج کے دروازوں پرکھھا ہواتھا:رسول الڈد مہ کے بحرسب سے مرا بوکر پھر 

عم پلرتٹان :نی ٹوب رم یتو ںکاماموں معاد یہ ہے“ 

(العواصم من القواصم ص٣۳۲)‏ 

جمارے دو رشان معا دی یش مصو فک یکتاب میں ور حکردہ اور۷ ٦پ‏ یا نکردر ضوع ول 
روایا تکااسل ققرر برااٹڑ ہوا ےک خودن کے ت بیت بافت ان تی کے مرکز یس بک رن ھی سے لو چتتے ہوئۓے 
درکھا ۓ گئے'* سید امیر معاومہ لہ انل ہیں یاسد نا صلی خودسو چک وت اسلائی یادوسر۔ ےو جواتوں 
کے ذہنوں ٹیل ایی سوالا کیو ںجغم نے ر سے ہیں ؟ پچ رموصوف نے وس سوا کیا جوا ببھی شا رات ط ریہ 
سے لیاہہ رتی کے انداز جس دیا۔نو جوا نکوتااجا کہ بیٹااسیدبعلی یہ کے بحدگشر؛مشرہ کے اتی تر رات 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ہیں می راصحاب رر پچلراصحاب احدہ پر بیعت رون وانےء پھر برضاورظبت اورطویا سام قبو کر نے والے 
اور کہ کے بح مو رااسلام لا نے وانےاُن لوگو ںکا رجہ ہے جنہوں نے اسلاءقبو لکر کے اچیجیلل سے اور 
ہاج بین دانصار ہٹوک اتا غکی۔ 


مع دی مھ سے ہوا ورشنم سے 
موصصو فک جاب سےایک اورموضو حدیث لاح فرما ہے !دہ کھت ہیں : 
”حفرت سود نا عبد اور بی نعھریشی ایشدتھال یحنہماردابیت نر ماتے ہیں :ایک روز نیکم 
رووف رتیم صلی ا تھائی علیہ دلہ یلم نے ارشاوظرب :ایی تمہارے درمیان ایک؟ ےگا 
ووجنتی ےت حضرت سینا محاوبی تی اتا ٹی عندداشل ہوئے۔ پیار ےآ قاء مد نے والے 
مصطفی صلی ال تھالی علیہ الہ یلم نے فرمایا:معاوی تم سے اورتم جج سے ہوبر پیسی الد 
تھالیٰ علی لہ یلم نے دوائلیاں (درمیالی اورانس کےساتحدداٹی ‏ ملاکرفرماانم نت کے دروازہ 
پپھصرےس ات اس رہوگ 
(فیضان امیر معاویة لہ ص۱۷۱) 
ا ددایت پرانوں نے پا تتابویں کے جوانے دیے ہیں ءان مم سےکوئ یکنا ببھی ایی جس 
ال روایت پرجر نی ہو پہلاوالیحدث؟ جر یک یکتاب 'الشس بعۃ* کابے؛أ قش دام 
ذئی کے ھوانے سے دوم تھا ہوا کہ بیردات باٹل ے- 
(الشریعة للأجري ج٥‏ ص ٢٣٤٤٤٤ ٤٤٤‏ حدیث؛ ۱۹۲۵۰۱۹۲) 
دوسراحالہ'مسند الفر دوس “کا ہےہمندالفردوں کے نے نین ]لق مس اس حدی اگل سند 
'نزہسر السضردوس“ ےکی ہے :شس مس ایک داوی مبدالعزی: جن کی ہے۔ لا کائی نےبھی اس موضوع 
روای تک کیاہے اور سکی سد پھی اہی راو یکا نام موجود ہے اور ہاں ا کی ضہدت' ال رد زی بھیآکھی 
ہوئی ہے۔لالکا یک یناب ”شسرح اصسول اعتقاد اصل السنةۃ کے( وم راج بن سعد کن ران 
الف دی انےککھاہ ےک راک ید ہی ےجس سکوفزٹ میشا رکب جا جا تو یشیف ہے- 
می سکپتا ہوں: اہ نف کا تسائگلی ہے کون ما معزیی امام ذبی ادرحافطہ دخی رون ےکھاے: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


ت0 الأحادیث الموضوعة فی فضائل معاویة 
”امام بنفارکی نے ان لکوحدیث اش کر نے ( نے والاکپاہے:ابرایم ین من ر 
نے اس کوٹ تق رارد ہا ہے مصحب ز برٹی نے ا کوک ا بکہاہے اورمحرٹے ٹین ےکہاے: 
بیٹقردادیوں ے پاضل رایت لاتاے“- 
(ملکْسّا:تهذیب الکمال ج۱۸ ص۲۱۹؛میزان الاعتدال ج٢‏ ص٦٦٣‏ ءدارالمعرفة؛تھذیب 
التھذیب ج١٤ص۱۳۴‏ ٢؛تحریرتقریب‏ التھذیب ج۲٦ص٣۳۷)‏ 
تسراحوالہ ”لسان المیزان “کا ے چنسطور بعد اس پتھرەآر پاے۔ 
چوتھا حوال فلا لکی ”الین لا ہے اورا کی ند ے: 
ال : عتَیي إِْمَاعِيلْ بن غَباىی ء عنْ عَيد الرَّحْمَانِ بی عَبّْد الله بن ار 
(کتاب السنة للخلال ج۱ص٤٤٣‏ حدیث٣‏ ۷۰) 
ا اس سندشس پیل راد یکا نام ”رب ہے اود ال کے با پکانام مرکو رکیل ہے :ناش سکا پاپ بی معلوم 
نوا کے پارے می سکیاکہاجاسکتا ے؟ 
٢۔‏ دوسرارادگی ھب نمص٦فی‏ ہے؛اس کے پارے میں جرح وتمعدبل کے دوفوں اقوال لے ہیں ۔حاف اب 
جرخسقلایٰ نے تماقا لک خلاصہ یو اتل کیاے: 
صَدوق ء لَه أوْهَامَ وَكان يُدَلَسُ. 
ا ہےہأس ک ےک دم ہے اوردہ یس (فری بکیاریپکرتاھ۔ 
(تقریب التھذیب ص۸۹۷) 
۳۔ اس میں تس راراوئیعبدالع یب نھرہے۔ ”السنة مللعحالال“ کےکعحق ن کہا ہ ےکہ بی طامرتاتھا- 
۴۔ چوتھاراوئی ا سا شیل من عیاش ہے+ اس کے بارے یس مکود سے : 
ضذوق فی روائتہ عن ال تَلیہء مُخَلَط فيعَيْرِمم 
بیاپنےش رکےلوگوں سے روایت یس سیا تھا ددسروں کےسما تج خلطاصل کر نے والا تھا“ 


(تقریب التھذیب ص )۱٤١‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ جا‎ 2131331. 


0 نچواں رادکی بدا رجمان بی نپ دالشکعد بنارہے۔عافظاصا حب اس کے پارے مقر کت یں: 
صَلوق بُعْطِی. 
ہے خ اک تاہے۔ 
(تقریب التھذیب ص٥۰۸أ)‏ 

اما مان حبان اس کے عالا تم کھت ہیں : 

گا عیبر نأ بَا لا بَا علیہ عمش الْعَطَأفیٌ رونیہ ا 
یور الاجا حج بِعَبْره إِذَا ار 

”اپ پاپ[ ع بدا جن د ینار سے ردایت مم کی کےس اجس اتوا شس یمنفرد 
روایات لات ھھا ٹس می ا لک متاہص تن لکی چا ی شی ء جب بیردایت مم منفردہوتذاس ے 
ولیل لاج مڑہیں نے ات 





(کتاب المجروحین لابن حبان ج٢ص١٥)‏ 
ال ردایت ٹل مچیاصورت عالی ہے +کہ اپ باپ سے روا تک داے۔ 
ال روابیت یل پانچواں حوال :تار این مسا رکا ہےءاورال لکی سنیٹ ایک راو یمبدالھ یجن بے 


ورس کے پارے شی حافڈ این اکر نےکتھاہے: 


ال الحَطیْبْ:عَبْذ ابر بن بَکرِ صَعِیّٔت ء وََنْ دُونَ مَجْھَزلْن 
فطیب ن کہا :عبدالزی: بین بکنضعیف ہے اورس کےسوابائی لوک ول ہیں“ 

(تاریخ ابن عساکر ج۹ ص۹۸ء۹۹) 
خطیب بفدادبی نے اپنی تار نیش نے عبدالھزیز بن ہرکی یس جرح ود یل می گج یکن سکہا فا ںکا 


تمارفکرایاے گن ہ ےکا نک کی او رکاب میس ہالفاظا مو جود ہو ۔ بہرعالی حافط این ع اک کے نز ویک 
بھی بیردایت “وضو ہے ؛کیوککہ بین جن روایات کے علاوہ ہے جوان ع اکر کے خیال م سی عدتک تال 
قول ہیں ۔ زجب وس سندمیش بقول این ع اکر یک داوئیعیف اور باقی سب بمبولی ہیں نو راس خاص ہاب 
ین (فضال محاویہ )یش پبول ہہونے کے ش کا فدہ دو لو کی اٹھا سکت جتوفضائل مواويکوغا بت و 
درپے ہیں ءکیوکہای تام ج وین امام اسحاق بن راج اوردوصرے تماما لنین حی رین کےئز وک 


2221 ا 5 لت 


گج 
ہیںءای لے دوصرااف را گے ہی ںکرفضال معاومہ کو بھی جع حد یر ٹنوی ںآئی- 


ام ال سنت وخمرہکی دید ود لی رک او رت رآ تکاگیاکھنا! 
موصوف اوران کے حوار یو ںکی دیدہ دگیرکی اورتراأت ملا حظفرما ےک انہوں نے اس بائل حد یٹ پہ 
حافظطائ تج رع سقلا یی کی شبورتناب'لمسان السمیز ان “کا والہگجیٹھوک دپاے :عالاکہعا فظرحمرالل نے واتم 
7 آ+“" یئ !احافظط رم اللدعلی کےکمل الفا ظا لا حظفرباۓے: 
غَبْة الْعَزیُز بی بَخر المروَِيٰ ء عَن إِسْمَاعِیْل بن عیاش بِبر اط ٠‏ 
وَقَذ طَعَن فِْہ عَبَاس الاْرِي ء وَالّفُظٌ لَ ء وَعَبْد الله بْنْأَحْمَد ء وَعَيْرْهمَاء 
فَفَالُرا: عَدَنكَ عَبْ الْعَرِیْر بن بَخر ء حَدقا ِسْمَاِیْل بْ غَباص, عَنْ عَبْد 
الرَمَان بن غْد ال ئن ار غن ایی ء عؿ اہن مز ء ا رَسُْل اللہ ل8 
قال:الان يَشلعُ عَلَْكُم رَُلْ و ال الْجَنَةء فَلَع مُعَارِيَةًء َقَال: اك بَِيٗ 
اه وَن نک : لنَزاحَمیي لی باب الج کان وَأَفَارَ یه 
”عبدالحزی:زبین جال دز اس اگل مین عیاش سے پل روایت لااہے؛اورالل مل 
عباس المدودی نے نکیا ہے اوربالفاظاکی کے ہیں دادرپدائش بن اد اور دوس رےاوگوں ن کہا 
ہے :یں ہدایز جن بگرنے بیا نکیا اس ن ےکا میس اس ایل ین عیاش نے از بدل ران 
بی نعبدالشد بن د ارہ از وی خودءازای نگمردشی انل مابیا نکیا ءانہوں ‏ ےکہا: ویک رسول الد 
نے فربایا:ابھی تمہارے ہاں ایک جشتی نٹ آ ے گا تذ ماد یہ ا ہر ہوئے۔ اس ب ہآپ 
ڑپ نے مایا م اے محاو رابج سے ہواو میم سے ہول یقن تم درواز ا جفت پرمھرے 
ساتھ ایوںل جا گے اورآپ نے اپٹی دوانکیوں ے اشا روف مایا“ 5 











(لسان المیزان جح٤‏ ص ۳۷۹ء وط: ج٥ص١۱۹)‏ 
اص رفا طاءام بی کے ہیں جحافط رم ادڈنکہانے بات دیانل سی ہیں۔ 
(میزان الاعتدال ج٤‏ ص۹۰۳۰۸٥۳)‏ 
امام ذ بی رتیۃ ال علی ایک اورعقام ران کے بارےم لکل ہیں: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


یڈ ار یکر الْمرَزیّءعنِْسمَاِيل ان بَا ء بعر کب ٠‏ 
يْظَرمَنْ ذا؟ 
”عمبدالھ زی بن جکزلمروزکی نے اسمائل بن عیاش سے ای کبموٹی عد یث روای تک 
ہے دکھا جا ۓکرددکون ے؟“'_ 
(المغني فی الضعفاء ج١‏ ص٥٥٤‏ ترجمة:۴۷۲۳) 
ہاں ایک بات باد ےک ہش ج٘ سکتاب می بھی یہ باعل عد بی ث کی ہے ان سب میں عبدال زی نام 
برا رآیا جک را لکی ول یت بلڑقی ری سے .یل عبدالھ یز بین برا وہ بدالھز ین می دظیرہ گیا حدبیٹ 
گھڑنے ولا شا طس اپ ولدریت تر ہے :اس لیے چھازہ ری کرام یش کی ئل شیاشت می 
مکل سے ددپار ہو ےمگرروایت کے بظلاان مل انی کوقی شی نی ہوا گیا سح شی نک را مکوواردات کے ہو 
جانے برک یس لن ن چم پٹ نے بیداردا کی ہے اک دہاپے اپ دنا ےا لے دح شین کے 
یک چھلاد ےکی حیقیت اتقیارکر کا کن ا لکا یلب نیش ہکان کے نزدیک ہہ با٠ل‏ ردایہت قائل 
قبول ہوئی۔ ا تقسورکواام ران الد ی نی نے اچچھے انداز جس ات کیا ےد وککھت ہیں : 
غٔذ العَر خر : عَنِممَامِيْلَ بُں عباض بعر بَاطلِ وذ نیہ 
ثُمْ در اللُيي الیک ء فی لُوَة كلای : بعر باطلِ مع لہ : رذ طینَ 
لہ ان يَكؤن أَنهمَ بوضیہء الله أغلم ۱ 
”عبدالھ یبن بر اساگیل من عیاش سے پال حد یٹ لا یاہے اور مع نکیا 
گیاہےہ بل :بی نے دہ حدیث کک ہے کےکظام مم حد بی ٹک ال سکیل مج قو تک 
ہونااورسما تج ھی بیکہ کہ می لن نکیاگیا ہے ءا جا تک غھاز س ےک دی ال حد بی کے 
گھز نے میں لوت ہےہ واندایکم۔ 
(الکشف الحثیث ص۸٦۱‏ رقم الٹر جمة٤٤٥)‏ 
اس سےمعلوم ہواکہ ال روایت کے موضصوع وہل ہہونے می ساسح مکاکوئی شن ک کنل :ال ال بات 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 


یل شک ہ کہ ال ا پاک جار تکا مرک بکوان ہے؟وجی بات ہوک داروا تکاہونا سمل م گر وارداتی 
کنفرم:ئیں .امام برحان الد ی یھی نے اس حد ٹکو م وضو نے می امام یہی کے جس ظا مکی قو تکا ڈگ رکیا 
ہے وق تاذب یکا ایک اورکناب ےبھی تک ری ہے .أنہوں نے ”سی اعلام البلاہ “ می یتم 
کےنذ ہز ب کےضیردوٹوک انداز یس اس حد ی ٹکو م وضو اور مق( ءال ہو گی کباہے۔ چنا نأ نہوں نے 
پیل فضال مواو پیش چندم وضو داطل روایات پر یو عموا ن قائ مکیاے: 
”ضگکھڑی ہوئی ال روایا تکاخوں“_ 
(سیراعلام النبلاء ج۲۳ص۱۲۸) 
پکرتحدد ال روایات کےساتھ ال روای تکیشگرأف لکیاے اورآ خر فر مایا ے: 
َھاذہ الََحَاويك طَاجِرَالْوّضٌع. 
”نل ماحادیث بداہیۂ موضوں ؤں“_ 
(سیراعلام البلاء ج٣١ص۱۳۱)‏ 
انام اوائی نکی بن ئحداکنانی نے بھی اس حد ی ثکو ع ل صلی مکیا ہے۔ چنا چا نہوں نے اس روای تک 
ور جکر نے کے بعد بدالعزی: کین می ملف اقوا لگ سی ہی ںان اس حدبیث کے پاٹ ہونے یںکوتی 
اخلافںگیا-۔ ۱ 
(تنزیه الشریعة المرفوعة للكناني ج٢‏ ص ٠‏ 
لا بے !جن مقمات براس حدی ٹکو وضوع وبا لکہاگیاے:مصو فکا ان ہی مقامات سے ال 
روا یتکواكھیں نکر کلف لکرد الع ی بڑئی جسارت اوھی خیامت ے؟ 
تقا ری نکرام !اس مرعلہ پچ رآ پکوااماسعاقی بن راو برجم اللعلکوداد یناپ ےک اکس بات 
کی تہتک بعددانے محدشین بیارتل وقال کے بحد نے ہیں ا نہوں نے دوٹوک اندا زی اس با تکافیملہ 
صدیوں پیل یکر راک فا مواد یہ لکوئی عد شی ٹاہ تل _جزاۂ الله تال َّ ون الْعلم 
وَالْعُلمَاء وَالوَیِْ عَيرَا. 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


کان یم 
ککہ تک لتقریپااکیس بی سم کق رہن می رس بازل ہوتار ہاور سمل عرصم متحددتضرات 


یی ا کامتے تی کرۓے رم ےبمکن ےلپ عادت دوگ ٥‏ مکوا ےکن بر کت ہیں کے یکن ان یس نے 
کس یکویھی ایی دعادورخوشنوریمصطلی میا نی بل وق یک محاد یلاحب +ولّ- چان ایال سنت 
کھت یں: 
“لم اموسنین حفرت سدرتاعاکشرصد یقہ شی الل تھا لی عنہاف بای ہیں :ہ یکر مل 
ا تائی علیہ دآلہ لمحتم حیپ یی افتھائی خنہاکے پا جلووف ما تھی نے دروازے 
پر تک دی ضویسلی ال تھالی علی وآلہ ہم نے فرمایا:دیکھوکون سے؟ عف کی : معاویڑنی 
ال تالی عنہ) ہیںہآ پم٥لی‏ اللہ تعاٹیٰ علیہ لہ وعلم نے فرمایا: ای جالوہنضرت سیدن امیر 
معاو ہی نشی اللدتھالی عنرفدمت اقرس جس حاض ہو ے نو آپ دشی اتی عنہ نے کان ہنم 
رکھا ہواتھاجنس ےآ پکتا ہت ما اکر تے تے۔ یکر سی اف تھا لی علی لہ یلم نےفرمایا: 
معاو ات ہار ےکان بن مکیسا ے؟ رت سیدن امی رمعاوی نشی ال تعالی عنہ نے عون لکا: 
ا را مکواوذعز اوراس کےرسو ل٥ی‏ ارتا ئی علیہ لہ یلم کے لے تیاررکتا ہوں۔ 
یکر مل اللہ تالی علیہ دآلہ یلم نے فرمایا:اللعے وع تہارے ہ یکی طرف سےتکہیں 
جنزاۓ خی رعطافرماۓ ‏ میریی خوائشل ہ ےکیتم صصرف و یک کماہ تکیاکرداور جس ہ ربچھوٹا ڑا 
ام انز و کی وتی سے یکر ہوں مکی امحسو ںکرو کے جب اوقدع وخ "میں پشاک 
پنا ےگا ؟ مق خلافت عطاف رما ۓگگا۔ ( ری باتک نکر ) ضرت سیدہتا ام حییہ شی ال تھا ی 
نہیں ادرضورسی الٹرتوالی علیہ دلہویلم کے روبر ویک رر کی :یارسولانڈلی ال حا 
علیددآلہ یم کیا شع وخ میرے بھائ یکوخلافت عطافر ما ےگا؟آ پم٥لی‏ اللہ تی علیہ 
لہ ویلم نے ف مایا ہاں !لین اس ہس آز شی ہے.آز اک ہےہآز مکش سے .ام لمونین 
حفرت سی تا تم یی شی اوفتھائی عتہانے عوت کی :ارسول انش لی اوظرتعالی علیہ لہ لم! 
آ پان کے لیے دعافرماد یج یکر سی الف رتھالی علیہ دآلہ یلم !نے دعا :الم می 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


0 ّ 
بالددی ہ وَجَنيه دی ء واغفزة فی الرَة وَالڈولی' شی اےاشعز وحن معاوے 
(ریشی ال تھالی عنہ کو ہدایت پرٹا بت کی عطافرماءاکیل بلاکت سےتفو اف مااوردمیاوآخرت 
میا نکی مففر ےر“ 
(فیضانِ امیر معاویه ص )۱٦۹۱٦۷‏ 
بعد یٹم وو ہے :اما مطجرالی نے ا سکور وا تکر نے کے ھا ہے : 
ُم رو هذا الُحدیٔك عَنْ مِشام إِلّا عَْةُ الله يَخٰی, تَقرّذ ؛ه السَرَيٌٍ 
”ال حد ی ٹکو ہشام بدا جن می کے علاد وی نے دای تن کیا سرئی ا کی ردایت 
تھا 
(المعجم الأوسط ج٢‏ ص۲۳۳ حدیث۱۸۳۸) 
ئک یکون ے؟ نز کی بین عائکم بی نکبل ہے ۔علماءاسا ءال چالی نے ان لکوسارقی الید یٹ تکاذب؛ 
وضاع(حد یٹ گھنے دالا)اورسوقوف عدیے(ج سکی سن رتضور شال تک نہ تی ہو )کوم رف غ لن س کا 
سمل سن تضور شوہ تک پچ ہو نانے ولاتھا۔ چنا خچامام این عد کھت ہیں: 
السرَي بن غایی گنی انا سَهُلِ :شر الْعبیْك. 
”رک ن ما ممیت اہ ھی یعدیث برا ھا“ 
(الکامل في ضعفاء الرجال ج٤ص٥٥٠)‏ 
سار ار یٹک مطلب 
عدیث چان ےکامطل بکیاے؟ لفظ جر عم کے شد یدالفاظط سے ہے۔امامممطاو یلت ہیں : 
سَِفةالْحَدِیْث ان ون مُحدث یَنفَرۂ بدیٔث فیَجيٗء السَارڈ 
وَبعِئ اه َمفة اطَامِنْ شبْخ ذَاکٔ الْمَحَقِثِ. 
”عدی کی چودک یہ ےک کوک محد لی حدی ثکی ردایت می نفرد ہو چلرارتیق 
رون کر ےراس ن بھی مل حدرث سے ببحد ی ث کی ہے 
(فتح المغیث ج٢‏ ص ۲۹۰) 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


ا 29 

یی ملاں چور ہا گاگواو۔امام ذ ہبی حدریٹ مقلوب ( جم سکامتن دوسری سندپہ یا نددوسر ےکن ب ہلگ 

جا ءمیاراوئوں کے نا موں بٹش ردو برل ہوجاۓ :ملا رہب نکیحب ہکحب بن مرہ ہوجائے )کن رلی فک تے 
ہو ےکھت ہیں: 





رَكب مَْنَا علیٰ إسنَاد لَیْس لَهء قَھُوَ سَارق الْحَدِبٔٹٰ 
اشن رش و وا ا کے وووھو رٹ 
في حَفقّه : فَلانْ يَسْرِق الحَدِيْك ء وَمِنْ ڈلک ان یَسُرِق حَدِیا 





”کوٹ قد اایاکرےاو کیم نکوایی سند پر چڑھادے جوسندا نت نکی نہ 
ہو وہ' سسارق ال حصدیث“ےءاو ربج سے وہ کے بارے می ںکہاجاتاے:”ضلان 
یسرق المحدیث“(فلاں حد یث برا ہے ودای مرقہ سے بینگ ہےککوڈئ٠ع‏ کی سے 
اکیاعد بی ٹک ماع تکادگوئیکرے جس نے اس ےکی نو 
(الموقظة في علم مصطلح الحدیث ص٦٠)‏ 
یپوٹ سےبجوٹ چلاۓ؛اور یس (سز کی جن عاصکم )مجھوٹاحی تھا۔ چنا نچرامام ذن یھت ہیں : 
کَدَبَه ايْنْ عَرَاش. 
”محر ٹ این خراش نے ا سکویجھوٹا تق راردیا ہے 
(میزان الاعتدال ج٣‏ ص٢‏ ۱۷) 
حافظ اہن تج ركسقا لی نے این خراش کےقو لکومترر رک ہو عرید بک لھا ےک ہز کی ین عاعم 
حد گج کھت تھا۔ چنا چا نہوں نے ال لک یکفی ‏ وضو روایات در کرنے کے بھدککھا ے: 
وَقال اللَقّاشُ فِي'مَوَضوُعاتہ“ فی الْحَِیْثِ الجِیر : وَضَغَة السُرَیٰ. 
”محر ٹ لقاشمی نے اپ کاب ”سو ضوعات “می لآ خریی حد یٹ کے بارے می کہا الکو 
زی ےکھرا'۔ 
(لسان المیزان ج٤‏ ص۲۳) 
بن دو محدشین نے ا سکیاگھڑی ہوئی عد یٹول میں درخ ذی لی حد یٹ ای ذکرکیاے: 


پت ا ک وگ و یں و ا دارڈو یں ہدرک ہے رظادھ 
وَمِنْ مَضَائیے أَنه تی بحَدِیٔ مَتَة.”وََیْت خول امرش وَرفَة ِيْھَا مَکُتُوْبَ: 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


ج2 
مُحَمْذ رُسُوْل اللہ ء اوک الصَدِیق 
”ا سکی مھھیبتوں یل سے بیگی ےل۳و ایک عد یٹ لا یاجش کامطن ہے :نیس نے عون کے 
ار ولیک پھول دسیکھا ننس می ککھا ہواتھا جج اہ کے رسول ہیں ءالوبکرصد بی ہیں“ 
(میزان الاعتدال ج٣ص٤‏ ۱۷ ؛لسان المیزان جح٤‏ ص )۲٢۲‏ 
ابت ہواکہ یش شک اب تھا سارق تھاہطن اورسندی عراردوبد لکرتا تھا درحد یہ ٹٹگھت تھا .سی 
لیے امام این پان رم علیہ نےککھا ہے: 
کان تَا يسْرِق الْحدیٔث ء وَیْرَْعالموّقُوقاتِ ءا يَجلُ الاحُجاج بہ۔ 
”مہ لفدادکاباشندہ تھا٤حدیث‏ برا تھااورموقو ذا کو فوع بناج تھا اس سے ال حاضص لکرن 
جائزیں ہے“ 
(کتاب المجروحین لابن حبان ج١‏ ص ٥٣٥۳ءوط:‏ ج١‏ ص )٥٤٤‏ 
تتاب'فیمضان امیر معاویۂ “کا مل فکوئی امہ نی کشم ددورامیرائگی نت ہے ؛اگرامیر 
ایل سضتتکی مو ئی حالم ہوتا یا خودتارحالم ہوتا قد وو رکر اک جب امامطبرائی نے عدبیث کےآ خی اشاروکردیا 
تھاکہ فرط بہ شر“ (ا کی ردایت م مک اکیلا ہے )تو دداس حدی ٹکیپ کرت مآ یل حدیٹ 
سے دلیل اص لکر علا بھی ہے پانیل یکن چونکہ ہزحمتگوارائو کیاکی ال سے معلوم ہا ہ ےک بیتالیف 
ھن اعراء کی ہےہکیک شقن ےا رارجی تی جداتے ہیں۔ 


تی بہونے رش ریگوای 
امی ال سنت نے موضصوع وہاطل ردایات کے ساتحھ ساتھ اپنے عدوع کے چلقی ہونے پرایک جیب 
خر یبگ رونا وا یجی اق لکیاے۔ چت رو کھت ہیں: 
”حضرت سینا عوف مین ما نک ای بنا تعالی عفر بات ہیں :یش ار بجاکےےایک 
ایگ جای س فیلولرکرر ات جواب سور میں تبدیل ہو کا سے ۔ میں اج کک راکراٹھ ھا 
مس نے دبیکعادہال ایک شی سو جودتھا جومی رکی جاب ڑھد ہانتھاء ٹیش نے ہتھیاراٹھان کاارادہ 
کیا شیرن کہا“ رک جاپے جں تھ آ پکوایک پیا دی ےآیا ہوں۔ یٹس نے پچ چھا: تچ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


می نے بھجاہے؟ شی رن ےکھا :اون دز دج نے ھپ کے پا لبھیچا ےکآ پکوقیردو ںکہ 
حقرت سید معاو ہیی ال تائی عزجأشتی ہیں ۔ ‏ نے پو چھا رکون معادی؟تذ شی رن ےکہا: 
ححضرت موا وہہ بن ای سفریان شی الطدتھا ٰ عتہ۔ 
(فیضان امیرمعاویة ظص٦۱۸)‏ 
ہرچندکہ ہمارا مو ضوغ ا نتعلی واطل روایات کے بطلان پنشگوکر نا ہے ہج نکویچجولوک اپنی رف سے 
گھ رک رعدبیت بد ا ہرکرتے تہ ا للحاظطظ سے پیقصہ ہمار ےم وضو کا نیش ہےتا ما کے بارے میل 
بی انتا وف جکہ اگ نکھت داقعہ ہے۔ چنا چرعافذڈنی نے اس واق اف لکر نے کے بھدکھا ہے : 
”اس میس ایک رادئی ایور لن الی مریم ہے ”فذ ِحخلط(اورووا خلا طکا شگارھا)''۔ 
(مجمع الزوائدج۹ ص )۳٥۷‏ 
ات میس انل اکا لی ے: 
”تق لکافاسدہونااور یو ںکاخلاملطے ہون؛اوراصطلا مح ین می بڑ اپ ےکی وج 
ےق لکاخراب ہو جاناء ند ھا ہ جانے اورکابوں کے ہج جال ےک وجہ سے روایا توغاط 
ملاکردج“'_ 
(موسوعة علوم الحدیث للغوري ج۱١ص۱۷۳)‏ 
حاات ای ابو جن ال می مکی کہ اس سےج نشی نے بدداقعدددای تکیاہے امام ذ بی نے سس 
کواسی واقہکی وج سے مور والرا مھ رایا ہے۔ چنا غیرد دککجت ہیں: 
کڈ یم بی الْخولای ء عَْأيٰ نگر ئن أبِيمَزیمَ سال یك ء 
وَھُوَمُنکو 
”مین عیب الفولاٹی نے الویکر جن الی ری الفساٹی سے ایک حد یت روای تک ے اوروہ 
منگز(ری)ج'۔ 
(المغتي فی الضعفاء ج٢‏ ص٦۱۷+میزان‏ الاعتدال ج٦‏ ص ٤٠١‏ ؛لسان المیزان ِج۷ص٥٢)‏ 
ای دوایت شی ایک اوریھی بڑئی خرالی ہ٤‏ دہ یےکہ ال یں ایک راوئی ھب زیادالا یتحصی ے۔ 
پر کہ لکش کویشپدر بد نت ایم زین عٹا نکی طرح ٹک گیاہے اوداا سم کے علادوصحاح سز سے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


۳ ۱ ً 
اتی من نے اس سے عد یٹپ کی ےگ یہ نی (ائل بی تکارش٠ن‏ ) تھا۔ ناخ حافط این تج رسلا رم 
ال عل کھت ہیں: 
َال الْحَاكِمْ : اشْتهَرَعَنة النْصَب کَخَرِير بن عُفْمَان 
”امام اکم رم ال علیرنےف مایا سے :م یبن عثا نکی ماعند نکی ناحصعیت مور ہے“ 
(تھذیب التھذیب ج۵8ص٦۸٤)‏ 
انز یادا لھا ی کے بارے یل عد مه بر 
امام ذ بی رق الل علیہ نے عھ جن ز یادالہا یتص یکی ناصمیت کے بارے می امام ھاکم مت الشد علیہ سے 
اخلا فاےاورکہاے: 
انم ا سک یکوئی برائی نیس جا ماسواقوگی حا میتی کےا نہوں نٹ ےکھا :امام بخارگ 
ے انان یھ بن ز یاداو رھپ بن عثان سے ردایت کی ہے :اوردہ دوٹوں ان لوگوں سے 
ہاج نکی ناصبیت (ائل بیت سے عداوت )مشبور ہے میس (ذ؛پی )تا ہوں :مل جم بن 
زیادکی اس خرا کیل جاتا“'_ 
(میزان الاعتدال ج٦ص١٥٠)‏ 
میں( فی )کا ہوں :اس محاملہ یں امام ذ بی رحمت اللعل یہک تنسبت امام حا رم الشعلکاقول زیادہ 
وزنی سے ہکیوکمہ بی جن ز با وھ کاہاشند و راودا لف سای لہ ےکن بیس شا میوں بھی زبا وقت 
جے۔ چنا نشور ما رجف رافیات علامہ اق تکموئ یلص ہیل : 
ا اف الّاس غلٰی علي :8ء بصِهِمْنَ مَع معَاوِيَة انال جمص وَأَكثَرَ 
هُم تَریضٌا عَلیهوَجقا في حَرَیم 
”سیا لی چچ کے خلا فگشکر محاہ یش سب سے زیاد دض تی تے۔ معاو نے 
نیس سینا علی لہ کے خلاف بہت زیادہ ا پھاراتھا در اپتی نک میں خوب استعا لکیاتھ“'_ 
(معجم البلدان ج٢‏ ص )۳٣۹‏ 
خودایام یی ری ال علیہ نککھا ہے: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





معن ایل عَلیٰ فَكفُرْاعنْ ذلِک. 
”ایل تحص سید اعلی کی فی کرت تھے بت ہن میں اساشیل ین عیاش پیدا 
ہو ءا نہوں نے ا نکوفضا لپ٦‏ نع ےآ گا وف رمایاتودوال سے پا زآ گے“ 


(سیرأاعلام التبلاء للذھبي ج۸ص۸٣‏ ۱ ؛تاریخ الاسلام للذھبي ج٢۱۲ص۷۲؛تذھیب‏ تھذیب 
الکمال للذھبي ج١‏ ص ۳۷۷) 

امام جمال اللد بین مرکی اوراجن خلکان وغیب رون بھی ای طر حککھا ہے _ 

(تھذیب الکمال ج٣‏ ص٠‏ ۱۷؛وفیات الأعیان ج٤‏ ص۰ ۳٣٢؛بغیة‏ الطلب ج ٤‏ ص ۱۷۳۱) 

امام :ہی رر ال لیر نے ال لکمصوت کے بارے می ھا ہے : 

ُکي فی نو الارتَيْن 

ےھ حقرب ‏ رھ“'۔ 

(سیراأعلام النبلاء ج٦ص۱۸۸)‏ 

نک صملین ۳ات میں ہوئی ادرآپ انی انی بڑھ کے ہی کہ اس جنگ می جولوگ سب سے بڑ کر 
سیداعی یچ کے خلاف تھ دواہ تع تھے انا لس ججریی یس مرنے والا یش ھن زیا ہی اس جنگ 
میں ش یک ہوا ہو ان ہوا ہوک از ا ںاخبل سے اس عدکک امام حا رق لعل کی بات وز لی معلوم ہوتی ے 
کہاوال دورٹیں شمام کے ش کن یں روک را سکاناصبیت کے اثرات سےتفوظار ہنا بد ہے ۔ائ ںکولوں مچھاچا 
متا ےک جس طر) امی راب سنت کے ز مرسا ید کر فیضان امیر ماد یہ تےنھردمر ہنا ید ہے ای ط رح شام کے 
شیص میں رہکرناصصیت کے اشرات سےتفوظط ر ہنی رتھا۔ جن صفین یس جولوک اعت معادیہ بل شیک 
جک ہو تے ا یں نو اص بکہا ایا ہے۔ چنا حا فطدائن جم سقلاٹی خوار جع اورخواصب کےفرقی می امام ران 
سے اخطلا فک تے ہو ےکھت ہیں: 

َإنمَا ہُو ضف النواصب أَتبَا ع معَاوَِة بصِقَْنَ, 

” نواصب ا نلوگو ںکارصف ہے جنوں نےمضفین یں معاد ےکی چچرد لکل“ 


(فتح الباري ج ۱۷ص )٥٦٦‏ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۵۸ لجا‎ 231331. 


۷۳ 
ے۳ ء اور * “موی پرا ین کی وج سے ناحبیت کےآ نا زکادو تھا اوس دور کے شا ھی لوک سی با علی 
یہس ےانفس رکھتے ےتیک رعلامداین یٹک نے بھی ال حقیق تکپتلی مکیاہے۔ چنا نچ دہ رون کی تر دید 

میں اکھت ہیں: 
وُکڈلک من جَهُلهمْ وَنَعصْهِم َنهُم فصو ال الام ء لِكوْنهِمْ کا 
فنھم اڑا نیف عَلًا. 
”ودای رع پیا نکی جات او تحصب ہ ےک ووائل شام ےئن رکھتے ہیں اس 
لی ےکس میس او دوریں لوک سید نی یہ ےفف رھت تھے 
(مٹھاج السنةج٤ص١٣۱)‏ 
ای رع علامسائن تیمیر نے ایک اورعقام مس اخترا فکیا جک اکٹ شائی سید تی لہ ےا رکھتے 
تے۔ چنانچرددشامیو کی اطاعت پذ مو یکاذکرکرتے ہو ےکھت ہیں: 
”ان یس شی نیس تھے بکمہان مج س ےک رسیدناعی ند ٹن رکھتے اوران پرستکرتے 
ہے 
(مٹھاج السنةج٦ص٤٤٣)‏ 
شا قح سکب یف حالت سلسل جار رجی یکرت اسائیل ین عیاش متوگ ۸۱ھ وہاں پیدا 
ہو ےنآ نکی ماع جمیلہ سے اس برائی می کیآئی وی اکہ ال ےن لککھاجا کا ہے لی الہ کیج جن ذیاد 
ای کے بارے امام ذ ھی رمع ال علیکاقول عدم تھب پڑنی ہے اوران کے مق بلہ یی امام اکم رن اللعل یکا 
قول وزنی ہے۔سو مجن ز یادالھانی اصی (شن ابل مبیت )تھا ال لے نے شیک ذ بای مھت بثارت 
کے واقعدکی روایت مل ش یک وکر اپ امیرسے دو قکاشموت بی کیا۔ اب یہاں ذ رام اجمی٘ل رر الطعلیر 
کےأسقول میں 1یک مرت فو رفا می جس میں ا نہوں نے ف رما اک زشمنان می یی ۃکوجب اُ نکی ذات 
مطبرہ می ںکوئی عیب :اتا نہوں نے ا یو سکوچڑھان ش رو حکردیاجون کےساتولڑتار ا 
خطاصہمی ہج کیرک ا لکھای مم شی نشم میں: 


ہس می ابوگر ین ال مر سان متعيطے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ لطا‎ 2131331. 


*" 
۴۔ محھرمن عیب خ انی محگرالل یت ہے اور لک بیدادی تیگ مُنگڑے 
۳۔ اوبجگ ینز بادالھا تی اص ے۔ 
واج رر ےکرمعت بح خی نکرا مکاکامایےناصصی پاشھتی راویوں سے پچھان بین ککرحد یٹ لیا تھا :انا گر 
کی ایی ے بفارک ڈسلم وغیر ہا لکوئی حدی ٹآ جا تما لنٹ کے ہریاط سے صاف ھرے ہونے 
کی دی ہےاورنہجی بفاری وس مکاراوی ہونامصحس تکی ول ہے۔اگرکوئی٢ٹ‏ ای ا چھتا ےت دو اتقو ںکی یا 
یر بتاے۔ 


ام رای سن تک یکارگری 

امیرابل سنت نے تصرف پیکیجتخلطلقا کی شمان می لی اود ال ردایا کیک بارکی ہے بگکہان کے 
الب ومتای بکوشھی فضال مان ےکی اکا مشش کیا ہے۔ چنا نچ شجورترین حدیث” ما مَنَعَک ان تَسْبٌ یا 
شراب“( جفرت لی شی التھالی عدکو برا لا کینے ےی کس بات نے روک رکھاہے؟ )کے ال بیت اطظیار 
عبت کے باب شی ذکرکردیاہے۔میہ باب نول نے اپٹ کنب کےمفے پرقائ مکیا ہے اورپ یف ے پہ 
کل حدیٹ ذکرکردی‌ے۔ 

(فیضان امیرمعاويه ص٢ )۷٥١۷‏ 

حالاککہ ال حد یٹ یل اکم شام سینا سعد بن الی دقائ حلہ سے وع لو مکرر ہے می ںک و ہکیو ںیل 
سید می خرس کر تے ؟ کیاکی کے فضائل سن ےکی نخاط را یا سوا کیا جات ہے؟ درائل امیرشمام نے بیسوال 
ال کیااک دو اوران کے تا مگورنرز الا ماشاء الہ یداع لہ یرست بشتم اون تکرتے سے اور چوککہ 
سیدناسعدرینالی دقاص پل رس دھنرے سے پاک تھے اس ےکن سے سوا لکیاگیاتھا۔اس م ضوع کامل 
شقن کے لیے ہار یکتاب' لا مب١‏ ابی “(میرےبھا کو برا کہ کاعطالدفر ہے ! 
مم نو یکو امن لک رن ےکاارادہ 

ابی رح امیرائی نت نے امیر شام کے نا جامذ اداد نیعت نبوی ینان ےکی ناکام کش کی یکن 
درو گوراحافظ ناش کے مطااقی ددسرےمقام پراپنی یتر کےخلاف کک گئے ۔ چنا نچر دہ کھت ہیں: 

”رت سیدنامی ماد ہی شی الد تھا لی عنہرسول انیل اویل تھالیٰ علیہ الہ یلم ے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ جا‎ 2131331. 





الأحادیث الموضوعة فی فضائل معاوید 


کے بزح ت خر فرہاتے تھ چنا وہ۵ جریم حضرتسدتامیرسعاو ین افقال 
عنرنے و فر مایا چرم نشیف لا ے ذ آپ نے سح گی شریف میں موجوڑ ی٥ک‏ ری ری ارڈ 
توالی علیر ول و مکامبرشریف اورعصامبارک اپنے ساد شام لے جان کا ارادوفبایاء جب 
اس اراد وی خی رتفرت سید ابو رو او رتضرت سینا جا رب ندنل شی اڈ تھا یہ اکوہوئ یت 
آپ دوفول نے فراازی درس تنچیل ‏ ےک ہآ پ بک جچکہ سے جظاد یی جن تہ ا ےگ 
ارم نوس مسلی اللتھالی علیہ لہ یلم نے رکھا تاور پ سی اش تالی علیہ الہ دسلم کےعصا 
مبار ککویھی مد ینہ سے جداک رن ٹھی کی ۔ اس الا رآ پ رشی ال تاٹی عنرنے اپاارادوترک 
فُرمادیا“۔(البدایةوالتھایة ج٥ص )٢٥٥‏ 
(فیضانِ امیرمعاویه ص٦٦٦۷١)‏ 
ارس یٹ کےسرٹش دباغ شرییف وجود وو انصاف ے 6لا ۓےکہ ہیک یسائشق ےنید ینممظ مہ پہ 
شا مکوا ورس وی تاا دش قکوت بی دىی جاے ؟اگرامیرائل سنت اوران کے مر یی نبھی اس جر تک 
مش ھت ہیں پرخدانی حافط ہے- مدکی دوانواییشفینئیس بای ناک جسارتتشٹ یک ا سکینھوس تک بج 
سے رشن دن تاریک شب مس بد لگی تھا۔ چا نچ می ال سنت خودی پیک یگ ہی ںکہ: 
”نی اکم رم دوعالم ام سنوی مل ایک ستون سے کیک اکر خطبرارشاوفرماتے تھے۔ 
بے سن جربی میس ضط کے لے سو رتبوی می سککڑ یکا ررکھامگیا( کہ پیار ےآ قا ال 
شرف فرماہوکرخطبدارشادفر میں )۔ححفرت سیدامیرمحادہ تی اللتحالٰ خندنے چا کہ 
اتب ریت کا مک شام لے جا میں ۔ چنا نپ رش ال تھالی عنرنے جب ان کواا کی لہ 
سے ٹا ق اچ تک سار ےشرٹش ایا نجرا چھاگیاکردن میں تار ےظرآنے گے۔ بیہنظر 
دک کر حضرت سینا امی رمحاد یی نشی اللہ تاٹی عنہ نے ارادو رک فر مادیا“۔( مدار ج الو ةٍخ٣‏ 
ص۷۰٣‏ 
(فیضانِ امیرمعاویه رضی الله عنه ص٦٢١)‏ 
ذراسوی ک جا ےکد نکا الا ایک ہوجا کہتارےنظ رن لک می تھے :اس تا رب ی اس یلم 
نس تھ اعت ضق* 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


7 بت کیوں پا ری کان نےل؟ 

وائر ےکی داقندامیرابل سنتدنے ”الیدایة والھایةا کےتوانے ے کیا اور یحد یئل 
تا ہے:اورعقو لبھی واقری سے ہے وصو ف گر چا انل ل١‏ بے مطلوب می کا میا ب یل ہو کہ 
تام ا نک یکارروائی سے اتتا تو خابت ہوگ یک گرا نمی ضرورت پڑ ےا تا رتا ک ای ان کے نز دیک قائل 
قبول ہوپائی ہیں ءورنہان کے نز دک جار کاکوئی اخقیاریں ۔ چنا غچرانہوں نے اپ ا یکتاب ‏ فیضان امم 
محاوی“ صظ ۱۰۳ب تار سےخلاف نو ببھڑ ا نشالی ہے ۔ بیکیساانصاف ہج کہ جب تار کک یکتاب 
سے اپے مدوں کیکوئی شانق ہو ہار چبجھوئی یی تو چلردو تار ککتاب ممتجرہوجاۓ اورجب أی 
محدو نکی رم تکاذکرآجاے تو ھرجار ما فیرحت ہوجانی ے؟ 
87 گے ہوے پر نالیم 

امیرایل سن تکامعلوم ہونا ایک ٹ یکر اہ ےمضسوب یآ پکی بخائی اورلگاکی ہوٹ سی چوک 
بلا خرس کے مقام سے ہٹانا شف یں بتتی الا مکان أسے جو ںکاتوں اس کے مقام پرادرا سی حالت پقائم 
رکناصشقی ہے عوصسوف کے نز یک طلقا ہکامفقی سہ ‏ ےک دسح دنبوئی شریف شی نصب شد ومن می پا کو 
اکھاکرشام نے جا میں :جیلسابقون اولون ھا کرام یپ اضق ریت کہ دو عذر کے باوجودڑھی تضور ا کی 
نصب شدوکسی چیک بنانا مان یتم مھ تھے۔ چنا یرامام احداوردوسرے مد شی نکرام سید نا عیدرا جن عبال 
ا سے دواجی تکر تے ہی ںک ا ننہوں نے یا ن فرمایا: 
”نسیدناعباس بن عبدالمطلب یپ کاب نالہ سید نا عمرٹد یگ رگاہ برتھا۔ ایک مرتہ دہ 





بجع کے دن لاس ز یب تن نر ؛کرتخریف نے ار ہے تےکہآن پہ پرنالدے پا یگرا۔ ال 
یں خو نکی مین تی وگ اس دن سیدناعیاس جن کے لیےجچھت پردوپرنرے ذ نع سے 
گے تھے۔سیدناعمرندنے اس پرنا ٹکو ٹانےکاعکم دے دی سے ہشادیاگیا۔بچردہ اپے 
گھروائیل گے اوردوسر ےکیٹ ے ز ی بت نکر کے لوگو ںکونمان پڑ ھائی ۔ سید نا عباس بن عمبد 
ال مطلب ۔ڈ ان کے ہا تخرف لا اورقرماا: خدایش ماس مقام پررسول ال مل نے خود 
پرنالہر ضس بکیاتھا۔سدنابھرجدنے ع ضکیا:ی شلآپ سے رز وراتکرتاہو ںک ہآپ 2 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


پیسوارہوکرد ہپ نالردو ار دلگا یں سییدنا عباس نے ایے ج کی“ 
(مسندأحمدبتحقیق أحمد شاکر ج٢‏ ص۳۹۷ حدیث ٠‏ ۷۹ ؛الطبقات الکبریٰ لابن سعد ج٤‏ 
ص۱۹۱۸؛المستشدرك قدیم ج٣‏ ص ۳۳۱ء۳۳۲ سیر اعلام النبلاء ج٢‏ ص ٦۹؛محض‏ الصواب 
فی مناقب عمرین الخطاب ءلابن المبرد حنبلي ص٢۹٤)‏ 


خودی مواز نکر ےکنشق ناماو رعبت ی سے یاد تی ؟ 


امیرائل سن تک بددیاق 

حدقاء ےش ہی امیرائل سنت نے جو حا یت لک ہے اس میں ا ہوں نے بد تن خی تکی 
ہے۔ مل نے برق بین انل یی ےکہا ےک موصوف نے اپینے مطلوب کے مطابق اس حکایت بی ایک ایی ے لف کا 
اضافکیا ےجس نےیضمو نکوکس بد لکررکودیاہے؛ ارد سر سا کالفا ہے۔انٰہوں نے بیحکایت تن عبد 
مر ثدبلوی رم ال علیکی بدار الو ۃفاری اف لکی ہے؛اورأس میس لفط سرت یا سک معن 
ایی اکوئی انیل ننس سے اس حای تکوددرنگ دیاجا کے جوموصوف نے دی ےک وش لکی ہے ۔ہوصوف نے 
نت لکر نکی ود یش وحبت اورتحسولیپتوک بیا نکیا ہکان امیرشا مکی غیت مس ہہ با تی تھی ۔ دو نبرکو 
کیو ایر ے تے؟1 بے اخودآن ے بی مو مکر لیت ہیں ۔ش عق رم ان عل کھت ہیں : 

پس معاویهازیں خیال محال ب ںںگشت ویشیمان مد : واعتذا رآنرا 

باصحاب 'گفت 'کەمقصد من تقحص وتقق دآن بود تا ا ووا زمین 

نخور×باشد۔ 

”ننس معاو یہ ا یعوال خیالی ے با زآ گے اورشرمند وہہ ۓے اد رابکوا لکاغزر یمیا نگیاکہ 

ا کو ھی اورٹٹڈ ےکا مقمد یھ اکا کوز ین نے ترکھالیا ہ2“ 

(مدارج النبوۃ فارسي ج٢‏ ص ۳۲۷) 

خداجان کہ بجی بین مقیقت تھایا ”لمح غذ افو جع“ تھاء ہہ رحال بقول امیر شا منبش یکو 
أکھاڑ ن ےکا سبب ود تھا جوقوداغوں نے جیا نکیا ءاباامیرائل سن تکو چا کہ دہ ان کےقول پر اخ" دک بی ء 
نی ٹلا نے سے پازر میں اورشاہ سذ یادوشاہ کے وفادار نے ےک یاوشش دک بی۔ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


مال سض تک اطلاع کے عرش 

امیرالی سنت سے ہجوزفریپ ابمل سن تکیگزازش ہےک یش عبدالخ محرث دبلوی رت الیل علیہ سے ابیے 
موادکی تق تع جک یجس ےا نکارابھاراصی ہو سک ؛کیون دو امام ارک کے نے امام اسحاقی ین راب کے إں 
مضبورقول پرا ا دفرماتے ےک ماد یہکی شان شی لکوئی حد یٹ نبوئیکیس ہے چنا ما نہوں نے اس قو لکو 
اپ چارکنابوں یش جلاکیردر کیا ہے جیماکہہم اس ےکل اُ نکی چارو ںکتاہو ںکاوالددے پگ ہیں۔ نیز 
اُنہوں نے اپن یکتاب ”مسا ثیست بسالصنة فی أیام اللسخۃ “جس کات جم لا ء دیو بن نے“ من کے ماووسا لی“ 
کےنام سکیا ہے یش امیرشا مکی باگیکذب میا نیف لکیا ہے اور تا وی یکا سہارنیسلیا۔ ال تقیقتکاوکر 
آ تد صفیات مل یز دی یت اتا آسان؟''عنوان کےکتمتآرپاے۔ 
علام لا ی اور وضو رخ احادمٹ 

قا ری نکرامامیرائل سن تک یکتاب فیمسان امیس مھا وید یس اھ یکائی ایا موادموجود ےج کی 
تق کی جاۓتذ مارک کاری دامع ہو جا ۓگ بین ہم ا خی نکی اورویت کے لے مو خرکرتے ہو ے 
علامبجلالی صاح بک بیا نکردہم وضو د انل ردایا تک شی کی طرفآتے ہیں۔ 
وَمُعَاوِیَة حَلفتھَا 

علامہجلا لی صاحب نے 2013 یش 'شان امیرمحاویی ینا ریش دیرم ضوع روابات کے ساتھ 
ات سب ذ ہگ روایہتگھی بیا نکی ے: 

نا مب الم وَعَلِيبَاکهَا وَمعاِيةُعَلقَّهھا. 

نمی یل کاشبرہوں بی ا سکادروازہ ہیں اورستاو یس دروا ےکی منڈئی ژں“_ 

(فردوس الأخبارج١ص۷۷ءحدیث١١١؛الفردوس‏ بماثورالخطاب ج١‏ ص٤٤‏ حدیث١۱۰)‏ 

ادا واو! ا یکم پریجی بکنڈ کی لان ےک وشن شک کی ۔حد یی ٹگھڑنے وانے بد بت نے اس م وت ہے 
جیا نم لکیاکہ ا لکن کی پرتالاحھ یکلتاتھا یش اور کہ ددداز جب مفتع) ہوتاق کنڑ یکھو لکر ہوجپاتو ڑگر؟ 
کفزالھا ما ءصاحپ !3را1 ددای تک یکوئی سندبی جلائ لک ہو اہ رچتر ”فسردوس الاخبسار“ مم نایا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





ا 3۶ةذ۳ تر کک تہ 
سے بےےنیہوں تے رن میس اورحاطب ای کم کے واصلین وخطباء شی سکیا فرقی ہوا؟ یڈ ے بڑے القاب وا لے 
لیک گر ای یکتابو ںکی حقیت سے بے فی ہی تو مقام افنسوں ہےءاوراگ راخ ہیں اورپ رچھی متائع اورشوا ہے 
یرس ہے سنداورم ضوع رواحی تٹھوک ماری ہق دن وایما نکا دای حافظ ہے۔ 


فردوس الأخبارللدیلم یکا جثیت 
ہر چندکہامام دنٹھی حافطالند یٹ اورصا دی تاکن ؛نہوں نے اپنی لا سکاب میں ایی حدحٹی موار 
اہ کیا سکا ہکن حصہفظ ان جی کے پا فھاءاو راکش محر شین الییااس یکرت ےکن کے پا جواور 
جیا موارموجود ہے دوجو ںکا نو ںتفوظ ہوجاے۔آ گے ذ مہ دارکی علا کی ہولٰی کرد وکنب اصمول صدبیث اوراساء 
الر جا لکی مرو ےس بھی حر ی کو کے بحدقیو لک یش بامستروکرومیی ءال سے مصلف برک لڈم ہو چاتا 
ہے اورسمارگی ذمددار کاب کے قارکی پآ جاتی ہے ۔ا کو یو ں بجی ےکوگیٹس مفید وی رمفیراشیاءکاڈعیراگا 
کراذ لن عام دےد ےکا ڈعیرے ج سکوجومفیر تھے لے دو نے جا ۔ اناگ راس ڈیر ےکوینٹص خیر 
مفید چا ٹھاکر چا نے نوا سک ڈگاء نف لکانصو مھا جا ےگا ءڈ ھی لگانے وا لن انیس ۔ امام دیٹھی نے بھی 
سی مقصدکو نظ رکھت ہوے دستیاب مواوک یکچاج کرد یاتھا۔آ یئ د یھت ہی ںک نال ین نے ان کے بارے میں 
اوران کش کرد ہمواد کے پارے می سکیا کہا ہے؟ امام ذ ہی یھت ہیں : 
:هو مَُوْىَط الحفظ ء وَغَيرٰۂ اَقَنْمَنةٍ 
نوودرمیانہحفظاوانے تے اوردوصرےمح ھخین ان سےزیاد ماہ رت“ 
(سیرأعلام اللبلاء ج۱۹ص٢۲۹)‏ 
لن الفاظا یش ایک اط سے ُن کے انا نک یکنزدریی بین یکی مرف اشادہ ہےءچنانچرامام ذببی انی 
دوس رت یکتاب می کھت ہیں 
”وو درمیالی محرفت وانے تاور ما ہیں ج“_ 
(تاریخ الاسلام للذھبي ج٣‏ ٣ص )۲٢٢‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





ہے 
القت ےلنظ قان ا کر یں 'اوضگاة ضیا مز کت ے/ر)اور 
”ون من“ اتکی ”'خافذق “(ماہ رمک یاگیا ےج لف ”حا ذق“ کامصد رداق ہے ۔ امام این نظوراف لٹ 
یں: 
الَْذَاقَةِ المَهَارَةفيَ کل عَمَلِ. 
ہرکام مس گہارتکا ہوناحذ ات ہے 
(لسان العرب ج۳ص٤۹)‏ 
وٹیو یکا مکوخھ بی ادرمہارت ےکر ےآز دہ کا مس ”شقن “اور ''خاؤق“ (ماہر )ا 
جاتاے۔امام دنھی رح الش یکا ذکرمحرت ہونے کے جوانے س ےکی ایا ہے اور چونکہ ودک عدبیت مل ”من 
میں مس ادزوریاں پائی لی یں۔ چنا یمحر ٹائن اسلائ ان 
کےا سکام(مموصحد یف ) کے تحلق کے ہیں 
قإؤ ضاجبَ کاب الفَردوُس جم ہین الصجیٔح وَالسُقیم : وَبََع بہ 
(لاجلال إلی ان ار اي من الْموْصُوُع. 
”تاب الفردویں کے مصنف نے اپ یکناب مج شی کردیاا وفوبت یہا تک کی 
کہ تکی موضسوغئ اعاد بی گگی در جکردبیی“_ 
(فتاوی ومسائل ابن الصلاح ۰ص۱۷۲) 
شاو خبدالت زی محرٹ دملو یھت یں 
حافظ یحییٰ بن مند۷درحق ا وگفتہ ”کہ جوانے زیرك 
وحسن خلق درمذھب سنت متصلب ست ٠‏ وازاعتزال دو مرد 
ک مے'گوودلیر:اما دزاتقان معرفت وعل ما وقصوراست :در 
صحیح وسقیمتمم زنمی 'کند: ولِھٰذا ددیں کتاب اوم وضوعات 
ووعیات تود٭ہ توج×مندرج۔ 
”حافظ بن مند ون کے بیادصاف بیا نکر تے ہی ںکہدونای یل جوانبخلبق 
اورمر ہب سنت بی متصدب (جحت )ءاخترال سے دو رہن ممگواورول کے دلیرتتھےہگرآان کے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ لطا‎ 2131331. 


۳ 
انان ہم فت اویل می پئوقصو رادم اور حدبیٹ یش اقا کی کر سھتے تےءاسی لے 
ا نکیا تاب می کرت سے وقوعات اورواہیات (کروردوایات ) ددع ہیں“- 
(بستان المحدثینء مع ترجمه ص )۱٦١‏ 
سو کر لا ےک جن محقرات نے امام دیٹھی اور نک کاب کے بارے مل بیتھرہکیاے :ا نکا 
مقصدکیا ےکیا ان کامتصوپض ؤُ نکی غیبت ے نیہ ہرکنئیس !بل رآ نکا مقصمد یہ ےکا نک یکتاب سے 
استفادءکرنے وا ہش پرا خی طلازم سے اکن افو ںکہ ہمارے دو ری سکنزالاسا ہلا نے وا نے لوگوں نے 
جب إ لکناب سےاستفادوکیا وھ واصیرت دوفو ںکوتر بادکہردیا_خبُک الشٌيٰ٤يْمِيرَبِْمُ“'‏ 
بلاسندرحد یشک حثیت؟ 
جب لام1 ککتاب'فردوس الاار مک ہشیت ا چو کر ےحدیث یش 
کس قراط لام ہے:ع یدرس میک جب اس می اور تام ردیات میں چی بلاسند ارول 
ایا دک نیس بلمہ شد ید اغقا کی ضردرت ہے ہیوک ہ فی رسکاب سے سن کے ایریا نگردہ عدی ٹگ کول 
حیشی ٹنیس مال یگئی ۔ چنا ماما معانی کھت ہیں: 
قِِئ الَخَْربِذَا نَعرّث عَن رود ساد بَا کات بکُزا۔ 
”جب اعاد یٹ سند سے خال ہوں تددوڈم ب یدہہیں“- 
(ادب الاملاء والاستملاء ص١۱)‏ 
امیرالؤتن نی الد یرت شع مت ا عیفر مات ہیں: 
عیب لیس لہ دق َو خرن هرَحَلوََقُل. 
”ہی حدیٹ جس می کا ”شا *نہ ہو دوکتر ے ہو ۓےگھا کی ربکا ہے 
(ادب الإملاء والاستملاء ص۳١‏ ؛المدخل فياأصول الحدیث للحاکم ص۱۷ ؛الکامل في ضعفاء 
الرجال ج١‏ ص۰۷ ۱ سناد من الدین لأبي غدص )٠٢‏ 
کنزالھاماءنے جوروایت بیا نکی سے ال قوودشھی اریے نی با محر ٹک غیت کاب سے ہے ادر 
انا ےسندیھی ہے .ادا خودفیصلفرماے کرس ردای تکوام بر ہکہاجاۓ ہے ہو ےھاہ کی مر کر 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


)۳۰ 
کہا جا پاکوگ انام دیا جاۓے؟ 
بے سندحد یی بیا نک ےکاضابط 
علا واصول حدیث نے ضابط کیا ےک ج بکوگی ایی ردایت جیا نکر پٹ جاۓ جوحیف اورے 
سند ہو براوراست ا لک ہد تتضور نہ کی طر فکر ناج زی ۔ چنا امام ان الصلا ح ھچ ہیں: 
ِا ڈگ رِوَايَة الحَدیٔث الصعیٔف بعر إِسنَاو قلاتَقل لہ : ال رَمُوْلُ 
الل وذ ركذ ؛ وَما شْيَهمِنْ الألفاظ العازنة اه فان ذلک : زَإِنْمَا 


کذاء اوٴبَ 





عَنه کذا کذاء اورَرَه عَلْهُء 





أوججاۃ َلةأؤزوی بَعْصهُمْ: وَمَا اه ڈلک. 
”جب ت بلاسندضحیف عدبیت روای تکرنا چا ہوق یوں کوک رسول اللہ خَكقا نے ایا 
ایا فا یا ورنہعی اس جیے دوس رےئی فا ظط استعا لکی اک وکرسول اللہ خپانے می میفر مایا 
ہے سای صدیف کے بارے میقم یو ںک اکر وک رسول او مہ سے اس ا طرحع ردایت 
کیامگیاء ایل اس اس طرح روای ت کی یا آپ سے اس طرع منقول ہوایاٹس نے اس 
رع روا تکیااوراس چییے دوسرے الفاظاستعا لکیاک رو 
(معرفة انواع علم الحدیثءتحقیق الفحلءص )۲١٢‏ 
لین فاضل بفداوکنزالعلماء نے تما ضصوا کو الا ۓے طاقی رکھتے ہو فقتاضحیف اور بے سنددینیں 
وضو او رٹحلی روای تکوواتج ا وص رع الطا ظط ف مان صعلی ول ہنا ال مل وك یه رَاجمُون. 
الس ردایت کے وضسوئ رددد ہن ےک ایک نل ای ہ ےکم دیٹھاا کول نے متا یں .ا نکی 
تتاب کے علاودا مات انکتب یس ےکک بھی ممتج رت ناب مل اس حد یٹ کاکوگی سراغ یس لت راو خلا اصول 
عدیشاے وا کیا ےک جوکوئ یٹ ای حدیث لا جوأس کے علادوددسرول کے پا نہ ہہ وق لیں 
کی جا گی۔ چنا اما مان ااصلاح کلت ہیں: 
ال اْقيٰ: فمَن جَاۃ الوم بحَدیٔثِ لا يوَْد عِنْذ عمیْعهِم لَمبقبَل من 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


07ت سس رت 
”ا تبقی فراتے ہیں :یں نکو ین کوٹ ای حد یت لا ۓ جودوصرے تما مو شین کے 
پان پائی جاےتودہ اس ےقو یئوک جا گی“ 
(علوم الحدیث ءبتحقیق نورالدین عترص ۱۲۱ءوط:ص ٢ ٣٤‏ ؛التقیید والیضاح للعراقي ج١‏ ص 
٣٣۳‏ بالشذ الفیاح للأبناسی ص ٦٦۲؛الوضع‏ فی الحدیث ج١(ص٣۴۰)‏ 
ذ راشحار کیک جلا لی صاح بکی بیا نکردواس روایت میں کت مجع ہو ھی : 
ا 'فردوس الانحبار“ کے صن کا خی رباہرہونا 
۳ہ تاب 'فردوس الأخبار“ کا فی رت ہو 
اس می ںیم و وضو روایا تکا جکشرت ہونا 
ا سک اعاد یٹ کا بے سد ہونا 
۵ او وص ز ہبش ردایت ہل امام دن یکاضفروہونا 
ىہ پا سم ہیںء ون ہش ےکوئی ایک ع مبھی ہو تی ازم ہوتی ہے دنن افسو ںکہ با چم ہونے 
کے باوج دجلالی صاحب نے نمھیں بنرکر کے پیم وضوغ روایت بڑے فاتمانہانداز می اورا ا ینحمطراقی کے 
ساتھ بیا نکرڈا ی۔فیاللاأسف! 
٣‏ مَدِيَةُ الم “رم دوداضافہ 
سیر لی انی ےکی شان ٹش واردہوۓ والیشجورحریث" انا مَدِیْنَةُ الْعلم وَعلی اھ“ پے 
اضی بد ری سچھی مض واعظین نے ببھہستبوں کے اسماء مبا رک کااضافہکیاتاق اس ددر کے س امن نے ان سے 
سی دنت سندکا مطال کیا تھا تق ا سک اب خطی بکو ان جچھٹرانامشکل ہوک تھا اس خطی بکا نام ا ایل بی نمی 
نشی استاباذ کی الواعط ےوہ ۲۴۸۹ ہہ یس مراتھا. حا فط ان تج رسای رم ال علی رای کے حالات می کلت 
ہیں 
”نخیفہ ہنی ااصوری با نکر تے ہی ںکیںمی ں کل بن بشرنے اپ الفاظ مکی با مین 
کیاکر سیل نشم یس دخ کر تھا ایک مرج ایک نےکھڑزے جوکراس سےحد یٹ 
"نا مبنة عم خی باْھا“ تلق در یانتکیا تد کنگا: 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


فا مْخْمَضَرء وَإَِمَاھُو: ”انا مَدِینة الیلم وَأُوْیَکرِأَمَاسُهَاء وَعمَرٔ 
جِیْطَاهَاء وَعْنْمَائ سَفْفهَاء رَعَلیٔ بَابھا۔ َال :فَسَالوه ا بْعْرِعَلَهْم 
إِسُتَافَه فَوَعَلهُمْ ہہ 
”تقر اورپوری یں ہے: می لع مکاشیرہوں اورا وک را نکی میاد ہےءاورعم ران کی 
د ارس ے؛اورعثان ا لک جچعت ہے اوریلی ا کادرواز ہ ہے ۔کہل کے ہیں :لوکوں 
نے اس سے سندکا مطال کیا ة ال نے الع سے وعد وکیا 
(لسان المیزان ج١‏ ص٦٦٦ءرقم‏ الترجمة٣۱۳۳۲ء‏ وط: ج٢ص١٥۱ءرقم‏ الترجمة )۳۱۲۰٣‏ 
حافظطائن مس اکر نگ یداتھ یا نگیاے- 
(تاریخ دمشق ج۹ ص )٠٢‏ 
ونیک کیا وع د؟ رد و فت کیو ٹا یی تھ بک اب این کراب تھا۔ چنا خچراام ان ا معا لی 
کی ہیں: 
ای الله کَذابِ ان کَذّاب. 
”ا سںکویھوٹا تچھو ن کا پٹ اک ہاجا ا ھا“ ۔ 
حافظ رح ال لیت میں: 
'عبدالھ نشی مش ناوات ازوسحد بن ابویک رالا سا یی امام ھاکم + مع مھی اور 
اوألفضل الفزائی اوردوسرےمعخرات فرماتے ہیں :یہ تھے بیا نکرتاتھا او رجھوٹ اوت 
اورا کے چرے پر تین والی علامس تن تی نشی غرماتے ہیں: یس انف عیدالل بن 
سعدبزی کے پاس مک مکزرۃ میں حاضرہوا ننس ک تح و چھا:انہوں نے ف مایا دوجھوٹا 
ھوٹ کابیٹا ہے ناس سےعد یٹ لی جالی ہے اورنہجی ا لک یکو عزت ہے۔ می نے 
ا کی اوداس کے با پکی اعادی ثکی تق کی نذمعلوم ہواکہ وی نکھت مو ںکوج 
نروپ چڑھاچاے“۔ 
(لسان المیزان ج١‏ ص٦٦٦ءوط:‏ ج٢ص١٥۱)‏ 


امام ذئ یھت ہیں: 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


(۳ 
ال ابنْ طُاھر : مَرّقُوا حَدبةَينَ یه بت الَقيسِ. 
ان طاہرنے جیا نکیا :لوگوں نے اس کے روبروبیت ا مقر کے اندرا سکیل( جوٹٰ) 
عدشیں پھاڑڈالگیں“_ 
(میزان الاعتدال ج۱ص۳۹۸رقم١ ۱۳٣۳‏ ؛لسان المیزان ج١‏ ص٦٦٦ءوط:‏ ج١ص )۱٥١١‏ 


ام ای ماک نے بھی اس وا کواپٹی سند کے ساتھ عبت المقدس کے امام سحدالراوبی ےخ لکیا 


ہےسدہ ما نکر ت ہیں: 
شا ظْهَر للصْحَابنًا کِذُبْ إِسْمَاعِیل بن می :أحضَرُوْاجَمِیع مَا 
کو عَنه وَهَْقوا وََمَوا یہ بَينيلَلهٌ 


”جب جمارےساتھیوں پراسائیل من شا کا جھوٹعیاں ہوا أنہوں نے جو جس 
ےاکھاھاساررےکاسمارے لے ئے اورأ کو پھا کرس کےآ کے پیک دی 
(تاریخ دمشق ج۹ ص )٠٢‏ 
اور واضا ذی رضیے پردزل 
”ابونگر أسا ایخ“ کےاضاذہ کے مردود وضو اود ہاشل ہونے کے مر یلال بی ہیں 
سب سے !پروی مہ ہےکہ ا لک یکوئی نزیس ہے؛اورآپ پرال ےل ”وَمْعَاویَة عَلقْْه “کی 
ترد ریش بلاسندعد یثکامگم اور کی قباحت دانضح ہوہگی ے۔ 
۳ -دوری ول می ےک ح خی کرام نےفر مااہے: اس کے الفاظط یش کات ہے ۔ چنا خچامام مدکی نے 
عدیث ”انا مَدِبَة یلم وَخلیٰبابْجا وا عباس نان سے روای تکر نے کے بعدتحدداوراحادی گی گر 
خر ائی ہیں اوران می می عدیت ”و أ اما اوھ ”ومُاوَة خلقنكا یھی ذکرکیاےاورآخرشش 
کیا ے: 
با لُمْمْلَةفَکُْهَ صَويْقَةء وَالْفَاطٔ أَكنْرِما رکِگڈء رَأنَا عَیبك 
ابی غَبّاس ء مل هُوَحَسَن. 
” خلاصہ یہ ےک بیقا میقم ضیف سے اوران کے اکر کے کیک میں اوران 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


0" 
سب سے ان حد یٹ این ال ہے بد ون ىی ہے“ 
(المقاصد الحسنة في بیان کثیر من الأحادیث المشتھرۃ علی الألسنة ص ۱۷۰) 
شح نی نے بھی ابی طر کا ے_ 
(کشف الخفاء ومزیل الالباس ج۱١‏ ص۱۸۵) 
ارہ ےک امام اوک عبارت یل ”فشک صَعیقَ' ےضحب اصطلای مراڈیش بللہ یالفاظ 
ان احادیٹ موضو مکوستردکرنے کے عق یس ہیں٤‏ ورنہ بے سندحد یت پرکوئ یع مکیسا؟ بہرعالی بی حد یٹ 
وموضوئد نل ھی ہے ہی اک امام بی اورحافخسقلالی نے تفر ای ہے ۔اا مم ادئی نےبھی اہے جن کی 
تا ئیفرمائی ہہ غہوں نے اس حد یٹ کے الفاظ ”و ک اک سےا یطرف اشارہر مایا ہے چوک الفا دی 
” کاگا کو شی کرام نے موضسو حد یک علمات شی شارکیاہے۔ چنا خ یٹول امام مفاوی متودرعل رام 
نےککھاے واللفظ للنووي: 
َقَڈ وُسَث أحاوٹ یَنْهَد برَصُبھا رِكاكهلمُطهَا َمَعاقَ. 
نپ بہت کی اعادیث شیع ک کٹ جن کے موضسوغ ہونے پرن کے الفاظاورستائی کا رک 
بوناگوای دا ے“۔ 
(التقریب والتیسیرللنووي ص٤٣‏ ؛معرفةانواع علوم الحدیث لابن الصلاح ص٢۰٢؛فتح‏ المفیٹ 
للسخاوي ج٢‏ ص۱۲۷ ؛تدریب الراوي ج١‏ ص ٣‏ ۳۲۵۰۴۲) 
الس حدیث'”أ وک أنسا مہا“ افش ادرموک رککت بی ےکحد ی ٹگھڑنے وا نے خی کو 
مو یی ہو کہ ا یک کھوپڑئی سے لکیار اہے۔ درو گوراحافظتباشدہأس مق نے بین اعم 
)ون گی ساس (بنیاد)سیدالویر ٹک ہناد یاہے+عالاک کو گی استی اپنے نکی اسا نیش ہوسکتا ذر١‏ 
ورھپ کہعتد و کی وعہ سے وہ تی بوئ یگراہی می چتلا ہوگیا؟ سعلوماعدا کل شی وگ رای 
کی میتی وادیوں میں بکگن ہوگا؟ 
ون اس دی کے م وضو ہو نے کےم دو لاک تس ری ول بی ےک ال لکوبیا نکر نے والاشن واعظ 
تقااورواصفین اپنے ووظ نی با میا نکرنے کےشوق اورسانشن سے داد لیے کے ذوقق می پرطرع کا 
رطب ویائ ہن کرد تنے ہیں ء می موجہ ےک علاءاساءالر جال جب حد یٹ مس نیس کا خیرمحترہوابیان 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


۳ 

رج وا ا ”الصوفي“ اور”القاص*“ اذا ںکرتے ہیں می طرح گر 
وہمقمر لغ ہوقواخط الو اعظ ک یپھیصراحتکرتے ہیں ۔اس عد بی ٹکو بیا نکرنے وا نل "ا سماعیل 
بن علمي بن حسین بن بنندار بن اللمشضی یو سعد الأاستراباذی الواعظ“ کے نام کےسا تی لفظ 
واع وا غرم وا کر نے میں یج یعمت ہے 

خلاصہ ىہ ےک جب ال حدىیث پر وہ اضاف رم دودد وضو قر اردرے د پاگیا جوخلفا ءملا ٹج غان 
می سکھ ایا تو تو پرٹنن علتا کے بارے می ایی ااضا فکیوگرقول ہوسا ے؟ 

سو ںکجلا لی صاحب کے عقدہسیمینار کےش رکا میس ی جم تی ٹج یکن سےا سی وقت ستدکامطالبہ 
کرت اوراش ردای تک ضیثیت دد الف ت گر ن ےک یوشت کرت ۔ا اکر چروی بی یکارڈشش اس روا یت کو مل دی 
ینس حعفرا کا تی مکی طرف بڑحت ہہوئۓ د یا جاسکنا ےگمرز با نکوو وی مرکت یل لا شا دای 
یےک ای مات ین لوگو ںکرا کا خوف ہوتاسے بین ترت ےکیجاس مس موجودلا بھی ایی ال روایات پہ 
خاش ر ہے۔لیقین فرماہے !ایی جھوٹی احادیے پرسیھینار یل ش رک علاء یں دم ہو د تج اککو یک یٹ 
ع کم اُدھارکھا کرام بک کے سامئے وم نود ہوا ہے۔ 


داھ یک روایات اورعلا اتال 
ای کرام !ددم ای نا تک نزلحلرا شطیب ر ہے ہیں؟آپ تیران ہوں م ےکک راسلامعلامہ 
ڈ کشا تال رر ال علیہ کے دورہ بھی ای خطباء ھجک ن ملک راسلامُن سے بہت مالییل تھے۔ چنا مد مایا 
لو ءکناں ہوکرفرماتے ہیں ے 
باعظ ہیں زن اضاد بد حم ار ہے شف او بد 
(واخ اکا ییعال ےگوہ ہاتھ ہلا بلاکرکھانیاں جیا نکرتاہےءاا لک تق ری متیت 
یت اورلفاتی بللد+وثی ے) 
ازظیب و ری گار او نیف وشاذ بل کار اہ 
(وواۓ وع م خیب اورویی کےجوانےد ا ہے :شاذ ضیف اورمرل اعاد یٹ ےکام چلاتاے ) 
(اسرارورموز )۱٢١‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۸ طا‎ 2131331. 


ذراتقسورفرما جےکہ جب ایوان اقبال مم می دیٹی سے ہہ محضورع ردایت جیا نکا جاری ہوگ ال 
وت رر اتال پرکیاگزرری ہوگی؟ 
گنز الھاماء سے دوس٢‏ ی۸ وضو ور ےث 

کنزالعلماء نے ایوان اپال میں ایک اوراییاعھی نز ا بھی شی کیا جن سکو ہار ےتمام کے تمام ناہرب 
سلم حد یفن سے مستردکر گے ہیں أنہوں نے من سکتاب سےاس روای تک لکیا ےھ شی کرام نے أس 
کے مصنف کے بارے مج سکہا ےکا س نے عمرأی ہم وضو حد بی ذکرکی ہے۔ ا ںکانام کید مین بن 
ابرامیمالبورقائی( یھ کےنزدیک :الجوزقالی )سے دوکھتا ے: 

بر مُحَمّذ بی طاھر ء أحْبرَنَ احْمَة بُنْ عَلي بی بت ء َال : عَدنَا 
یسر رن عَبْد الله ينْ غديٰ الحافظ ء قال:عَدن بد اللہِبنُ 





از --- وع کاڈ :ا رسُزل الله :ا 


ا لا 


وہر امس ور در سد سو 





لیے شی رون ء فَوَانِمْهَام الزنَزجدء فقُوْل: 
مُعَاوِيَة ا فيقُوْلَ : لَِیْک يَا مُحمَذ افَاقُوْلَ: ان كُنْتَ مِنْ تَمَايیْنْ غاما ؛ فقو :ِ 





فی رَزضةفخٹ عرش بی ااجیہ وََجطيي: وَأَحَِ 
کت سڈ 
”سناس بن ما لکل یا نکر تے ہی ںکہرسول اللہ نک نے ف مایا نیس (قیامت 
کےدن )ا معاویہ جن ابوسغیان کے علادہ اپ ےی صحا یکوخی حا ض ری پا لگاء ٹل أ ے۸۰ یا 
مالک یں ویکمو ںگاہ رد +۸۰ یا* بی بعدسگ اذخرکی انی پر ےکر مر طرف 
گا جورحعت ای سے ڈھی ہوئی ہی اس کے پا کل ذ برچد کے ہوں کے نوم ںکہوںگا: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


: ۵: 

معاد یراو ئن شک ےگا :لبیک باحھ ای لکہو ںگا رت +۸ بی س ےکہاں تھے؟ دہع کر ےگا: 

اپنے رب کے گر کے ین ایک باغ مل تھا سودہ بھ سے س رک یکرتا تھا ادریش اس سے یس 

ا سک نی کرت تااوردہ چجھےظمتد بت تھاءاوراس نے فر بای اس کیٹ ہے ج ہیں دیا 

میں بر اکا جات تا 

(الأباطیل والمناکیروالصحاح والمشاھیر ج١‏ ص )۲٥٢ ثیدح١٢١ ص:طوء۲٦٢٢٤٢ ٢‏ 

اس تا لک حد یٹک مندپککا میا جاۓ مہ جانتا چیک گر ماد یکو با زازفڈاس لے ماک 
نیس دنیایش پراکہاجا جا تھاةایمااعمزازخلفاء ار بعہ جن ہکوکیوں شہ لا ؟ کی نیس برآئی سںکہاگمیااوراب کت کن ںکہا 
چاتا؟ 


جورقا لٰٰ کی ضوع رواہت کلام 

حم نے انس روابی کی سندکا تر ج نی ںکیاء دہ فقط نام ہی ںان می سآ پ خودفورف یئ ۔ سد دوسرا 
ام جم نکی بن ایت (خطیب بفدادی )کا ہے ۔نس سند سے جودرقالی نے اس روا کش لکیا ہے ؛ ہیی 
سن دخطیب بفداو یک کاب میس مرکور ہے خطیب بخعدادکی نے اس روا تکو وک کر نے کے بح لھا : 

هذا عَدیث بَاطِل إِسنَاذا وَمََاء وَنَرَاهمِما وَضَفَه الْوَكیْلء وَأن إِسَادَه رِجَاله 

كُلْهْم قاث ہوۂ. 

”بعد یٹ سنداونشن دوفوں کے اط سے پاٹل ہے؛ب مھت ہی کہا سکووکیل نت ےگھڑرا ہے٠‏ 

اس کےتا رای تہ ہیں ماسوااس (وکیل ) کے“۔ 

(تاریخ بغدادج۹ ص٤٤٤‏ ءوط: ج۹ ص ٥٤٤٤٦٤٥٤٤‏ ءوط:ج۱۱ص١۱۱)‏ 

خلی بکی عبارت یں وکیل سے مراواس سن دک پانچواں رای عبدال ین تطنص ہے خیب بقدادنی نے 
ا یکوعد بی گھڑرنے والاقراردیا ہے اوراس کے علاوہباقی راد یو لکوک اہ ۔ ال سےمعلوم ہوا ےک امرش 
نے ےم نگھٹرکراس سند پر ھادیاہے_ذ راو رفر رجلا ےک جودرقاٹی نے اس حدبیث کے بارے میں خطیب 
بنداد یکاعم پڑھااورجا انیس ہوگا؟ یق اود جانا ہوگاک نکیا کے دفاج معاو یکر نے وانے باروں کے 
پا لوٹ روایات اود انل تاویلات کےعلاددے یکیا؟ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


اس سندیس چو تھ راوکی عبدانشر بن عدی الیافظ ]شک امام ان عدکی ہیں -أُنہوں نے پراہ راس تگیراللد 
2 تفص الوکیل سےسناے اور نہویں نے اس کےعالات مش1 اس ردایت کنل لو ںگھاے: 
یم ضرِبْرٌ كت عَنة کان مَسرِق الْحدِیْك و ال عَليْ مِنْ جفُظإ أحَاویكَ 
مَوْسٰرْعَةء ولا اتک أَنَههُوَالَذِي َسَتَهَاِ 
”اندھاشن تھا می نے اس سے دی اکھی ہیںء یہ حدشی رات تھااور یھ زبانی طور یہ 
موسوغ ا حاد تیاکھوا جا تاور ےکوئی شی ک نج سکم ال نے عی ان احادی کوک ہے“ 
پچھریی روا یق لکر نے کے بھدککھاے: 
من یموضوغ حدیٹ ہے ءا لکواسی و بدایشری نف ن ےگا 
(الکامل في ضعفاء الرجال ج٥‏ ص٣٤٤٤٤٤٦)‏ 
ایام این جوزئی ن بھی ان عدی او رخطیب بفداد یاگوش کر کےائس عد یٹلا وضو تراردیاے۔ 
(الموضوعات لابن الجوزي ج٢‏ ص۲۳ ءوط: ج۲١ص۳٦٦)‏ 
امام ینوی نے امام این الجوزگ کی بجر حکو تصرف ب کیم رر رکھا ہے بلہائن ماک کے جوا نے سے ائ کو 
حدم کدیگی اکمدیاے۔ 
(اللالي المصنوعة فی الأحادیث الموضوعةج١ص٤٤٥)‏ 
ہارے مات امام بن ع اک رکی جو طبوع ما رشن موجود ہے اس ٹل دوسنروں سے پیردایت مرگور 
ہے کی سندپرامامابین عدکی او لیب بخداد کی جر عکوم رر رکھتے ہوے اس روای تکوسندآاورمتا ا لتلیم 
کیایا ہے اوردوسربی سن کے ب کو تج مو جو یں _ امام سبیوٹی نے جو الف کے : 
قال ابنْ عَسَاکِرَ:هذا عَدِیك منگرء ولیہ غَيْروَاجد من الْمَجَامِیلِ. 
”ابع ہار ےکہا :ید یٹ نکر ہے اوداس شی تحد وکنا راوی ؤں“_ 
(اللالي المصنوعة فی الأحادیث الموضوعة ج١‏ ص )٥٦٤٤‏ 
بیالفاظہ ہارے سام ”تاریخ مدینقة دمشق “کے طیو لن یس موجو ویش ہیں متا جم امام سیوٹی کے 
نمی ان الفا کا ہونالیجیکیس امام مان موراف یی نے ”صاریخ مدینة دصشق کی ہشیش فرمائی ےاس 


.2131331 لطا ۶۲۵۰۵۳۱۵۷۸ 


میا غہوں نے اس روابی تکوذکرکر نے کے بھدیکھا ے: 
هھذا حَدِیث مَوْصوع ء بَاطل إِسنَاذا وَمَْا. 
”بعد یٹگھڑی ہوئی ہے سنداورحن دوفوں کے اط سے پاٹل ہے 
(مختصرتاریخ دمشق ج٢٥5ص۳٣)‏ 
عاشقان طلقا ءکا کہواہونا 
تا یے! امام این عدی متوفی ۳۷۵ مہ اورتطیب بفدادی فی ٣٣۴ھ‏ نے جواس یٹ کے موضوغ 
ہونے اورائس کے راوکی کے واشخ ہو ن ےکی فص ری کی سے کیااس تص ری کوجورقانی متوفی ۵۴۳“ ن ریس بڑھا 
ہوگا؟ جب الن دوخ مد شن نے وا تع لور پرلکیددیا ےکہ برحد یٹ مو ضوع ہے اورال کو کر نے (بنانے اور 
گھڑرنے ) والا عبد اشن تفص الوکیل ہے تو ایت ہواکہ جورقا نی نے ماس موضوج روای گیا نکیاے ۔ 
چنانچرھافدائن تسقلا لی ال حدی کن“ نکی ویرے جورقانی برا ھا تجبکرتے ہو ےکھت ہیں: 
لٹ : وَالَتَبْ أ الجََْقاِيٰأُحْرَجَة ِنْ طَرِئق اہن عَِيٍ ‏ وَقة قال اب عَِيٍ 
بعد تَخْرِنجم: کب غَنْۂء کان يَسرِق الحدِیك و أئلیٰ عَليْمِنْ جفُظہ 
أحاویك مَوْصُوْعَةء ولا امک أَنَههُو الدِيٰ وَضَغَھَا. 
مم سکپتا ہوں :تب ےک جوزقاکی نے اس حد بی ٹکوامام ان عدٹیکی سند سےبھی روای تکر 
د اے؛ عالانکہاہن عدگی نے اس حد ی ٹکو ذک رک نے کے بح دکہاہے :بعد یٹ موصوح ہے ء اور 
ا سکوای عبدادڈ بی تفص نے بش کیا گھٹرا ہےہأسل نے اپنے حافط سے جھے وضو 
اعاد بمٹیلکھوائیں ء می شیک نی سکر کہ ال عد بی ٹکواس نے جیگھ ٹراہ 
(لسان المیزان ج٤‏ ص٤٤٦٦٥)‏ 
بت سطرح حافنڈاینمرخستقلا یرس ال علیہ جو زقا نی کیکارددائی خر ت زدہ ہی ںکردہ٘ سکاب ے 
اس حدی کی لکرد پاے.أس مش ا حدی کیم او رک الفاظط می وضو عکہاگیا گر نے پگ یھی 
یسید اکر نے کے لیے محادیکی شان ٹس بی وضو ال ردای تیوک دکی ہے :ای ط رح ران اھ و فٹھی 
ران ہےکہ ہوارے دوری بھی لیک وانست ااسی موضوع اعاد ی ٹکو چلا ر ہے ہیں۔ لو لکنا ےکور ے 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


ا بتک عاشقاج معاوری مزا جب فواہیں کیوں ن ہولج حد یٹ پاکگ ئل ے:”الوْوَاع جَُنوْة 
ُجنة فا تغارف بنْھا لت وَمَاََاكرَينھا خلت“ 
: 
کن الما او عیرا موی عد میٹ 
جلالی صاحب ن بھی ا نمی اورموضصوح حد بی کون ہیا نکیا ؛کیو ان کے ہاتھ بل '”الأباطیل 
وا سنا کیر“ کا جو و جودتھاأس کے عا شی میں انا مکت کا حوال مو جود ہشن سے ہم نے انی حد بی کا 
ضورع ہن یا نکیا ے۔ علاوواز بی جللی صاح بکی میز یرتا رجش اور علام للا یم جو پیش اور ان 
دیو ںکتاپوں می اس روای تک وضو و ال قر ارد گا ےن ا نہوں نے ان دوفو ںکتابوں ےصرفنظر 
کرت ہو ۓےکپکٹل جورقا یک یکا بکاز کیااور دا وضو ردایت بیا نکر ڈالی .ہی موضوغ حد بیٹ 
کو با نکر وانے کے لیے جووعیدآئی ہے اس سے ملائوقی نزیس ہو تے ۔بنخس اعاد یٹ یں سےک جآ 
کسی حدیت کےیجھوٹ ہونےکائ یمان ہو بھی ش دو بالی ہے۔رسول اللہ نے فرایا: 
مَیْ خدث عغَييْ حَِین وَهُویری أنَهُ كَذِبٌ قَهُو أَحَد الّكَاؤَینِ. 
”نہ ین نے بجھ ےکوئی حد یلق لکی درآخحائیکہ اس نے چھاکردہجوٹی ہن وجوڑوں 
میس سے ایک کھوناے۔ 
(سٹن الشرمذي ج٤‏ ص۳۹۷ حدیث ٢٦٦٤۲؛(سنن‏ ابن ماجه ص۱۹ حدیث۳۸)؛مسند أبي داود 
للطیالسی ج٢‏ ص١‏ حدیث ٢۷۲؛صحیح‏ مسلم [مقدمة]ص٤)‏ 
عافظای نج رخسقلاٹی اوراما او رح نکیا لیکن کے پارے ب کھت ہیں: 
وکنقی پھلڈہ الْجمْلَةوَعِیذا مَیْڈا ِي حَقمَْ ری الْحيیْك فَيطَاه 
کِذت ء فضْلا عْ أن تق ڈلک وَلا یل 8 جَعَلالْمُحَدّث پڈلک 
مُشَا رکا لِکاؤیه فِي وَصعہ. 
ناس لے میں ام نٹ کے بارے میں کافی شدیددمیدہے جس نےصسی حدی ٹکو 
تو ٹگا نکر نے کے پاوجد ما نکردیاہ جا دہ ض پا کا وٹ ہوناعیاں ہواور 
وہ أ کا بویٹ ہون وا ندکرے؛اس ل ےک ہآپ ملق نے حدبیت بیا نکرنے والے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


کوکذب مل حد بی ٹگٹڑنے والے کےساتحوش ری ککیا ہے 
(النکت علی کتاب این الصلاح للعسقلاني ص۸۳۹؛فتح المغیث للسخاوي ج٢‏ ص٠‏ +0 


کن ز لھا کےا ما مرک یک مکی 


ال حدی ٹک جو رقانی نے" صن “کہاہے اورجلا لی صاحب نے ُن کے اس قو لکوسراجے ہو ت ےکہا 
ہ ےکدامام جورقانی نے فرمایا: بعد ی ٹن ہکان انسو سک یجلا ی صاحب اوران کے اما ینس خوش ھی 
ہے دوکیے؟ منے !امام گی فرماتے ہیں: 
فُلے : ہنا ہی امج اصع ء فقبخ الله لکل لن ِخْتلقةء رَفانَ 
الْجَورفَاني بقلّۃ غَقُلِ : هھذَا عَیِیك عَسَنْ, 
”نم سکہتا ہوں: ریہ برتربین موضوخح حد یٹ ہےءاللہتھالی وی لکورسواکرے اس ےْ 
یا للوکھراہے :اور جورقائی ےک می کے سات ھکید یا: بعد اشن ہے 
(احادیث مختارۃ من موضوعات الجورقاني وابن الجوزيءللذهبي ص۱١۱۲)‏ 
محر ث اہ نع اق اکلنالی نے امام ذچی کیقو لکو برقراررکھاہے۔ 
(تنزیه الشریعة المرفوعۃج۲ص۷) 
علامذئبی نے ”سیر اعلام النلاہ“ می ایک منوان ما مکیا:” من البَاطیْل الْمُخْتلقذ (گھڑی 
ہوئی ال حدنشیں ) پھر ںمنوان کے تحت اس روای تکپکھی لاک راس کےانی ہو نے پھر گادے۔ 
(سیراعلام النبلاء ج٣‏ ص )٣٣۰‏ 
چک کن زالعلما ءصاحب ا فلخ کتقول روش ہوئے؛لبذاا بآ پ فر ماب ےک جو زقاٹ یکو 
علام بی ےگ رئف لکہا ہا پٹ لکوکیا ھا جا جس نے ا سک مف لکی روای تکوتد ا آ کے پیا نکردیا؟' 
موضو احادیٹ کے جک ےکلببیت 
اعادبی ٹگھڑرنے والوں کلف منقاص یں ایک متدد بجی تھاک وداپے قا دی نکی شالن مل اعاد یٹ 
بناتے ےتا اک جن ُن کے تام کے ممقائلل ہے ا سکوکیست ایا جاۓ .سو جولوگوں نے نو بی کی بجر 
سے اپٹی طرف سے اعادیث بنا یں اورپجولوکوں نے مصبدی تکا کا رہوگ رن اعاد بے ٹآرقو لکیا اد رآ گے چلایا_ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


الأحادیث الموضوع فی فضائل معاویة ز۵٥‏ 

ہدک جودرقانی نے خوداس حدی ٹکونیس بنا ان ال نے بو تخب ننصرف یوکہ اک جح ی حدی ثکوقّو لکیا 
کا ںکوعدیثٹ جن :ناک رآ بھی چلایا۔ چنا غچ حا فان جک سقلای رہ ان عل گنت ہیں: 

اق لُمرزقی عیة مدکزر نمرج عَْمْقیم ہكم قال: :ھا 

حَییۓ عَسَنْفَرِيْبَ ۔ هب الْوْرِيفَيْمَاقَرَأث بط : نهوذ الله من 
لصَيّةء فَإن مُصَیْفَ ھذا الَكتَاب لا يف علیہ أن هذّا الحِیٔك مَوصُوْ. 
جہذقال نے ذکادحدی ےکا سندسےازس چرام چلا یا رما :بعد یس نف ریب 
از و ئا رت اف ا اک 
بڑھا ہے : ج۲ مکصبیت سے الل کی پاٹ شآتے ہیں ءا ںکتاپ(الأباطیل والمناکیر) 
کے صنف پراس حدی ٹکاموضوغ ہو شی 





(لسان المیزان ج٤‏ ص٤٤٦)‏ 

یی جوزقانی برا حد یٹ کا میسو ہو نی تھا چ رمیا نے اس حدی ٹس نکر ڈالا۔ یس ٹہ پکتا 
ہوں: جوزقال یکو خی نے ام ٹیس وکھڈیا کت پأچھارابنکن جلالٹی صاح بکواس یز نے اس ذ لی ل کرت 
پرأپھارا؟جوزقالی کے سا توف بن عد کی د وکا تھی جس مس اس حدی کی اور موقصو عکہامکیا ے٠‏ 
لن جلائی صاحب کے سا تناما ان عدیی؛امام اہن جوزکی ءا نام این ع کر :امام این نو راف لق ی رام ذببی ٠‏ 
حافوعسقلایٰ امام بیوگی :اما مکنائی اورقاضی شوکاٰی کی عبارات موجو نیس اجب ہ ےک ود یکتاب کے حاشیہ 
پان س بکتابو ںکا نام مرقو قایس سےا غہوں نے بح بیث پڑ ھک رستائی اورسیمینار کے ماظ می نکو ا سکا ئل 
بھی دکھایا۔ 

رم النروف اس سللل میں پچ کے سے قاصر ہے +قا رین بجی خودفیصلہفر بای سک جلائی صاح بکوکل 
نز نےأ ادا دہ کودہ اب ہتیق کے نک سب منفل اورتصب جورقای کے کے لے ہجو ہوۓ؟ 
حد بیث بنانے واا لع روشصیرت سے انرعا 

آپ پڑت گے ہی کرال حعدی ثکاداشع (ہیانے والا)عبداڈرنخضس الویل ہے ریلم حدیت کے 
اہین نے اس بد بن تکشل او راد ددفوں سے اندھاھر ارد یا ہے۔ دونھا ہر بنا سے لو یی رد مھا جیما 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


الأحادیث الموضوعةفی فضائل معاو یة 





راس کےعالات شا 7 سر “(اندھا)ہونام وم ےر ا ات 
نصیرۃ" (عفل ) کااندھا یھ کہایاہے۔ چنا ماما ذئبی ای م وضو( تل )حدیٹکودر عکرۓ کے بعد 
اس کےواشع(گھڑنے وائے ) عبدافہ بن طض الوکیل بجر عکرتے ہو ےکھت ہیں : 

شُلّت : نَا کَانَ هي لائن غديٍ ان باعل بالأحْذِ عنْ هنذا الُجَالِ الغملی 

ار وَالصِيرۃء اي قال الله وَمَنْ کان فی لہ می هر فی الاجرَۃ 

مم وَأصُل سیل چ4(اإسرا۔:۷۲] 

”نمی کا ہول :امام ان عدکی کے شایان شا ن نیش تھاک دہ اس دنال سے عدبیث لیے مل 

مشفول ہوتے جوا کھھاورنل دونوں سے اندھا سے اورہجش سکی رت میس اتال یکاارشاد ے 

اور جوٹس ہر ہااسں دخیائٹش اناد وا خرت می بھی اندھاہوگااورب وک مکردوراوہدگا ا 

(میزان الاعتدال ج٢‏ ص ٣٦٤٤‏ ءوط:ج١٤ص٤۸)‏ 
حافظداہ تمرم سقلا لی ن بھی ا تی روک و ات رکھا ہے اورکوئی اتا ہی سکیا 


(لسان المیزان ج٤‏ ص )٦٦٤٦٦٤٤‏ 





ییییناروالوں کے پارے می سکیاگم؟ 

آپ نے جانلیاکہمنس نے ال حدبی ٹکوخوددی رنابااو مرا ا سے ناقد عن حدیث نے دنیاوآخرت 
دونوں می اندھاءدچالل او رگا وقراردیااورچگرٹس نے اس حر ی کے ون کہا ےکم عقل اورمتحصب قرار 
دیا۔اب بیرذئیشعورقا رین ہی بای سک جن صاحبانعلم نے 2013ء می ایوان اتال ٠ل‏ مور ش''شان ایم 
معاو یھنا امش ای کعفل کے اند ھھےکی بنائی ہوک اوردوسر ےکم لس بکراکھی ہوئی ا بی حدی کا 
مرے نے سک جیا نکیا اورستاءأ شی سک اکہاجا ئے اورک یا کچھا جا ؟ 
مصببیت انب اکرد اے 

امام ابنالجوزکی اورحافدای نت رخ سقلای رم ایک ان ص رانا کہا ہ ےک جو رقالی برای حد یثکا وضو 
ہو لی نرقھایکن دہج یھی میا نکر نے سے با ہآ یا ۔کیوں؟ اس لیک ںعصببیت اورحصب نے اس کے لیے ایا 
کر آسا نکردیاتھا حعببیت او تحص بکیا ہے؟ مقر دا حظ غرم ہے :ولا نا عبدالفیظا بلیاو یلکھتے ہیں 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ لطا‎ 2131331. 


نع ائعاںا مدت بماا لک اکا ہے گا ے٥‏ 
”الخضب: دیُل ھا رہو جانے کے بھی کو تقو لکرنا مع تحضیات :لخب تو مکی 
عبی تکی بنا پک ٹس مدوکر نے والاالحضبن انی“ 
(مصباح اللغات ص٥٥٠٤)‏ 
سوال پیدراہوتا ےکر بداول ب تفص الوکیل اورجورقالی وغیر کسی عحببیت نے ا گنا وٹی تکت 
کر نے پرابھارا؟ مھ شی نکرام نے ایی ردایت کےقنت ا ںصببیت ےکی پردواٹھا اہے۔ چتانچا ما این 
لجوزی نے پیلےاماماسحاقی بن راو یکا دوقو لی لکیائنس شس ےک معادییکی شان کو یک حد یٹنیس :پھر 
ایام رہ ناخ لکاو تو فق لکیاجنس سےا صصبی تک پردہ چاک ہوجا ا ہے۔ چنا نجرد کت ہیں: 
”یں اللہ جن اص مکی نے جیا نکیاہ نی شھ ینمی ا نے با نکیا نل 
امام دارئی نے بیا نکیا انیس ابواسین عبداوہ بن ابرائیم بن "عفن خیارالز از نے بیان 
کیاہ انی ابوسعیرین ای نے با نکیاہ نی شکمبداللہ بن ارب نل نے بیا نکیاەوہ 
فرماتے ہیں: میس نے اپنے واللد سے ایک سوال می عو ضکیا: آپ سید لی لی یہ اور 
معاوبہ کےمتحل کیا فر ات ہیں؟ اس پرانہوں نے اپنا س چک لیا چرس أُٹھاکرفرمایا: جن 
دوٹوں کے پارے می سکیا کہوں؟ سید نا علی یک الا عداء( بہت جشنوں وانے )ےہ ان 
کے ہشمنوں نے ان ککےعیب تلاش کیےانہ ہاے ۔ پچھروہ اس نٹ کی طرف معوجر ہو جس 
نے ان سے جک اورلڑ اک یکین سازن کےجقت أسے بڑھانا رو حکردیا“'۔ 
(الموضوعات لابن الجوزي ج٢‏ ص۲۳ ءوط: ج٢‏ ص ٢٦۲؛تنزیه‏ الشریعة المرفوعة للکناني ج٢‏ 
ص۸۷) 
حافظان تجریتقلا یرم الل علی ا ںکلا مان٣‏ لکر نے کے بعدفرماتے ہیں : 
”اس ےا غہوں نے ان بے اصسل روایا تکی رف اشمار ہکیا ہے جولوکوں نے معاویے 
کےفضال می لگ ینئی فضائل معاو یم جکشرت روایات ارد ہیں کن ان یں ےکوی 
بھی روایت ایس سے جس کی سن ہوم امام اسحاقی بن راھو یہ امام نسائی اور دوسرے 
علا و صدیث پٹ کش قول ے واد عم 


(فتح الباري ج۷ ص٤۷٣‏ ءوط: ج۷ص۱۲۱) 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ ا‎ 2131331. 


یی لکام تحددحوال جات کے ساتحشع ۶ بپاعارت پپییج ا لکیاجاپکاے- 

امام اتراوردوسرے ات کےا کلام سےمعلوم ہوا کا وگوں نے سید ناعی یہی شی یس موا دیلیشان 
میں اعاد یث کس اور نا یں بب دای تفص الوکی لکواسی نی یش د ال اوردنیا و خر مس بھ یرت 
سے اندھاکامگیااور جو رقا یکواسی ڈشن یکی وج ےگ تل اور تعص بکہاگیا۔ اب ہم بیکھناد رسچھانے سےتاصر 
ہی کہ جلالی صاحب نے ایک ہ یٹس میں جناب معاو ےکی شان مں ایکنجیں پگ تعدبچی او رھوٹٰ اعاد یٹ 
پیا نکرڈ ای أ نہیں نے ا پھاراہوگا ہیں ان سے بیگٹیا کت أُ نٹ کےتحضب می ںونیس ہوئی 
جس کاأنہوں نے اپیکقر کے دوران بی اسکر من پ 101ا )کلپ چلایا؟ 


جب اکا مح دنین کرام نے بفخ سی تقصب وعناد کے صراحنافرمادیاہ ےکم شالن معاد یہ شس ز باب خوگی 
دن ےکوئیبھ یک حد بث تقو نیش وت ام ائل اسلام بر لازم ہکوہ نکی شان با نکر نے ےل 
ڈن یمتلقی ہربرروای ک یق نکرل یکر یں :اک تی نک یھی ہوئی ردایات جیا نکر ن گا وجہ سے ان 
کا شارزشمنا نپ ال تی یش نہوجاۓ۔ 


نز لماک اص ی امام 

یں بصد افو ںک کن زالتلما ,کا طائلکر جہا لقرارپذ مرہوادہ مقام جا قرارزیش ہے۔أ نہوں نے 
عد دی شی یک تق نکوایں پیش ڈا لک رج نف (جورقالی ) سےقول برا دکیاوو نمی (شن اٹل میت )تھا- 
ا کی یکل یہ ےک اس نے ٹھتضطلقا ءکافقطا دفا نی کیب ان کے دفاغ مس مبالی یکیاہے۔ چناچر ال 
نے انی کاب می چوجلائی صاحب کے سا تی ءجناب معاومیہ کے فضال جیا نکر تےکرتے ای ک جوا 
جملہینگیک ما ےجا ب معادی نے سیدا یتو لدکی اطاعح تکیانی اور بات اتی ”فْسَمح مُعَاريَةً لہ 
وک مغ“ لین جب سید لی ند الین کے بارے مس محاو گی بات نہ ای ق نر ۱ال کے لیے تیار ہھ 
سے تے۔ چنا ند دکھتاے: 

فَخرَع تُقَاتِلُ لی اشَرٍنْل ء َبَاَعلهُجَنھُور الصَْحَابَة َميْلابْخصلی مِنَ 

الَابعِییَإِلَی أنْ اسُتقَرالمْر عَلی الَحکِیٔم بَذ الْحْرُوْب الْعَظِیْمَةء فحُکِمَلَه 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ جا‎ 2131331. 


6 

شنیں د٥(‏ معاوی) تاو بل کےساتدقال کے لیے کے اوج بورسحابراورا نیگنت تا تین نے 

نکی بیع تکری۰ یہا ں کن شی گوں کے بعدسحام کیم پرآ ران کت یس خلافت 

کافیصلیاگیااورا کی دنا نکی خلافت پراجما ا ہوگیا“- 

(الأباطیل والمناکیر ج١‏ ص۲۰۷ءوط:١۱۰)‏ 

فنةُ الله عَلی الكاذِبْنَ .اس عبارت یس جورقا یک منفل اور بد بت نے پچاجھوٹ لونے ہیں : 
ا ارات ےگہا: محادی نے تاو یی پر جن کک ءا لکا یکنا اس حدثٹ متو ات کے خلاف ہے جس یس ےکہ 
سیدن عما رن پاس چک ہا ٹیگ وڈ کر ےگا ۔ اگ رآ ن کان ککرنا ا وی پرہوتاقوو بای ضہہوتے۔ 

ا کی بیہ بات أ می عد یٹ کےچھی خلاف ہے جس مل ارشاوننوئی ما ےکی نے جس رح جیل 
قرآن) کی کی ہیں لی دای طر موی قرآن رک ۷ری گے۔ 

ا کی یہ بات سیدن عمار جن یا ری ان نھ رجات کےبھی خلاف ہے جن می انہوں نے فا کان 
لو ںکا"إِ مُت قلَ مَظُلوْمَ“ کا اپ بہانہ ہے درتقیقت ریلوگ جن لق ں او وق کے دلداد ہو یگ 
ہیں أ نکی س بوڈ نیس جا تے۔ 

(البدایة والنھایة(قطر] ج۷ ص٤٤١٤‏ وط:بتحقیق عبدالمحسن الت ركي ج١١‏ ص۷٢٢٢)‏ 

یا لک مہ جات أ مس اٹ کےگھی خلاف ہے ینس بی سید عمارجن یس جن ےگر دو موہ کے پارے 
مین مایا تھا:” نم خلی الضائ (وولوک نات پر یں )۔ 
(مسندأحمد ج٤‏ ص۳۱۹ وط: ج٦‏ ص ٤٤٠ءحدیث‏ ۱۹۰۹۰ وشحقیق أُحمدشاکرج١ ١‏ ص 
۳٣ء‏ صحیح ابن حبان ج١٥٥ص‏ ٤٥٥٥ء ٤٥٥‏ ءحدیث ۷۰۱۸۰) 
۳۔ جودقانی کا دوس رائجھوٹ یہ ہ کہا نےکھھا حکرلڑائی تال بمبورسحاہ نے معاد کی مع تک 
تھی اور یہ پالکل ال ہے:أس وقت محادیہ کے ساتھجمپدریھا ڑل بک فا فرب خوردوشائی لوگ جھے 
۳ چو را ن ےج رکب قاعدہفیص یق رادد ا ہے عالائہروہ خلت ہکیدا دک نی ایک چا لتی- 
۲۔ را نے یلیم کے دن محاد کی خلافت اور ہیعت پراجماع گید دیاء چوس راس باٹل ہے ۔کیادہہے 
بادرکرانا چا رتا ےک راس وت سیدن می الن‌ی کی خلاطتکالعدم مو تی ؟ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


)۳ 
ا باتکلا ںکتاب ”الاب اطیل والممنا کی“ کےعتی ن بھی مستروکردیا ہے ہیلہا کاب کے 
مقدم گار نے اس پودے بیا نکومپالقٹراردیاے- 
(مقدمة:الأباطیل والمناکیرص٥٤)‏ 
آ گے ٹچ لکرس نے سید ناما مض نپ ٹل دکی خطافت سے دتتبردار یکا ذک رکا ہے اورامام پک نے جھ 
تیزۂ ال الا مکی خاطر ہاو نف استہ معاللات معاو یہ کے سرد سی ءاس مور یکو جورقاٹی نے بلا تا ول ومتقال 
ااع قر ارد یا ہے عالائ تاب وسن کی رپنی یں دہ ایک وا کی نس می معاو ےکی لیاقت دصلاحیت 
لاٹ فی تی ہزاروںستیاں ماویہ سے کہتزموجوچٹی گر ڈککروں سےکگرا ٤‏ کے خطرے کے یی نظر 
سیدن ابا تن ددست بردارہو گے تھے ۔اگرامام پک دست بردارنہ ہوتے قذامیرشام قولڑائی کے لے تار 
تھے مطلب یہ ہ ےکن پراجھا انیس ہواپگ وفع ضا د کے لیے جو نز نہیں مطلو تھی دون کے سپ ردکر دی 
ھی رضاوہت ےکک کوامیر بنا اور ہے اورشرسے جچے کچ ےک یکوپھد یناور ٣ی‏ رکتتا ہے۔اس فر قکو 
جن کے ل ےتسب ذ ہل واقی شورف مایے !امام ذئ یککھتے ہیں : 
عمرو ین الک مکوانہ سے روا کر تے ہی ںک۔سیدنا سعدن الی ودقائ ول معاد یہ کے 
ال ےو یں امیر الم ون کے الفاظ سےسلام ‏ ہکیا۔ محادمی نے ان لک وجہ پچی تو اُنہوں 
نے فرمایا: جم من ہیں اورہھم ن ےآ پکواپناا مکی بنایاچرسیدر نا سحد جن الا وفائ ذڈندنے 
ف ماقم تاس عالی می بہت خوش ہوہاورانش کیم ایس اگراس مقام پوت ہاں اب تم ہو 
جھےاس میس خوگی ضہہوٹ یک یس ذروبرابرخون بہاکر یی تقام حاص لکرتا۔ 
(سیراعلام النبلاء ج١‏ ص ١٢۲٦۱؛مسالك‏ الأبصارلابن فضل الله العمري ج٤ ٢‏ ص۲۷۲ ؛الأنساب 
للبلاذري ج٥ص۳۱)‏ 
جس سےمعلوم ہواک سینا سعد ین ای وقائص خ لن کےنزو ریک تھائ حا نکی ڈنل با تھا ل نقصور 
حصو لت اورد نیا تی .سیدن عماربن پاس رید( ج نی شییطا نکی شراگیٹریی ےکفو طف ما پاگیاہے )بھی 
فر رات ےک تام رس بہان .ال جز تحمول اقار ہے خوداھیر شا یی اس یقت کااخترا ف تھا 
چنا اما منسوی سند کے ات کھت ہیں: 
”نسعید بن سو یدرنے ہیا نکیاکہمعاویرنےمی کوض سے بابیلہ کےعقام پغمازبجعہ پڑھال 2 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 





خی کا: 
َا فا تَْنکُم لَِسُوْمُو وَلالْصَلوْ وا َِحْجُوا وَا إِْزٌگڑاء قد عَرَكُ 
َنكُمْتَفْعَلُوْن ذلک وَلَکن إِنَمَافَاتلكُمل نََمرّعَلَيكُمْء قد اُعْطَانی الله 
ڈلک وَأتُمْ کارِمُون. 
نم نے تمہارے ساتحھ اس نی جن کک کت روزے رکھوء ناس ل ےک نماز 
اوہ کر وادرنہ تی ال لی ےک کو اداکردء یل جا تنا ہو لںکخم یسب اھکر تے ہہولیان مل 
نے ذفقط اس یےتمہارے ساتھ جن ککی ےک تم پعکوصتکر و ںو اد تعالی نے بے برعطا 
کردگی ھا لائیقم اپپن کرت ہو 
(المعرفة والتاریخ للفسويٍ ص٦‏ ٦٦؛تاریخ‏ دمشق ج۹٦‏ ص ١٥٥؛سیر‏ أعلام النبلاء ج٣‏ ص ٦١٤١۷‏ 
البدایة والتھایة ج۸ ص ٠‏ ٴ۹ ءوط: ج١‏ :ص٤٤٤٣٣٥٣٦)‏ 
امس ن پیلد نے مبرداری کے وقت جوکڑ واکھونٹ پیا تاس پرآن کے نیرخواو را کی اکش ریت 
ا را ٹین :اس کے فیچ ار ج یس تھارخودسدعی الرنشی توف ا گے تھے: 
”اقم نے محاد یک امارتکونا بین دکیا نتم دیھوم ےکرگردنی ںکندعول ےک فک ٹکرگ ری گی 
(سیراعلام البلاء ج٣ص١١۱)‏ 
مین ہعارااقز ارضہر ہا ملک انارک شکار ہو جا ۓ گا بل کے اییے بھ یا تک مناخ رکو دنظر رکتے 
ہوۓ امارتے معاد یرک برداش تکیاگیا درنہ دہ دبین پپنداشفائ کی گا یش پیند ید ویش تھے۔ ام ال من سیرہ 
عاکشرصد یقہ شی اللخنہانے ا نکی امارت کے بارے مل جھ [9118۲9]د پے تھ اگران ہم نو رکیا 
جاےقذ ئل تقیقت عیاں ہوجائی سےا نہوں نے ان کیمککتکود نیوئی سلطت قرارد یا تھا او رکہاتھا کیا فرگون 
کوککک یس ملاتھا؟ ان کے اصمل الفاط ی نورق مایں .امام این ع اکر امام ذ ۰بی ورای نیک رحالا تی محاویی ٹل 
سن کےساتق کھت ہیں : 
غي الَسَوَد بی یرم قالَ: لٹ ِعَاشَة : الا تین لج وَن الشُلقَاءِ برع 
َصْحَاب مُحَمدٍ فی الَِلاقة ؟قَالَث : وَمَا تَعَجَبُ بن ذلِک ؟ مُو سُلطَان الله 
وی الْوَالْفَاچرَء وذ لک فَرْعَونْ بِضرَاَریَع منَسَنَو 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


”حفرت اسودجن پ: رسکی ہیں :ٹیش نے سید دا شید شی اڈ عتہا سے مت شکیا: 
کیا آ پکوَج بیس ہوک غلاقت کے موابلہ می ںتضور خلا کے سحا ہکرام لہ کے ساتھ لیا 
شس مناز ‏ کرد پاہے جوطلقاء یں سے ہے؟أہوں نے فرمایاہم ال معالمہ یں قیرت زدہ 
کیوں ہو؟شداکا لک ےوہ ایل دذا بج رای ککود ےد ا ہے فرکون نکی مربچارہ× 
سال حلوک تکییھی'۔ 
(تاریخ دمشق ج۹٦‏ ص ١٣۱؛مختصرتاریخ‏ دمشق ج٢٢‏ ص ٤٤؛سیر‏ اأعلام النبلاء ج٣‏ ص ٦١٤١٤‏ 
البدایة والٹھ۹ایة ج١١‏ ص٠۰‏ ٤٦ء‏ وط: ج۸ ص٠‏ ۱۹؛الدر المنشور ج۳٣٣ص ۱۲٠٢‏ ٦٢۲۱ء‏ سورۂ 
الزخرفءآیة:٥٥٦٤)‏ 
”اق نے تھر کی ےک جناب معاو یک یعکومت الد سے وجودی آلیتی“_ 
(إزالة الخفاء ج١ص )۲٥٢٢ ٢‏ 
بجی تقیقت سید نا سعدبن الی دقائص خلدنے بیا نکی اورا یکااعتراف خودمحادیے ‏ ےآ کیا أنہوں 
نے قال کے ذر ہیجے قصاص عفان نیس لاہ اق ا حاص٦‏ لکیا جع اکہ چندسلورش لککھا جا کا ہے۔ نیزامام خزال 
کصت یں: 
گال مَُاوِبَة رَضِي الله َقالیٰ عَنه : خٹُوا بِمَعالی المُورَِِعَلرّقا یلم 
اك لِلَلافة اه فَهَمَتُٹ بھا قَیلٹھا. 
”محاد ہنی ال تھالی نر ےکی: بلنلدا مور کے لیے بمت پیداکروتاک أ نیس حواص لکر 
لوا با شی خلت کے لیے ای نیس تھا ہسو میس نے اس کے لیے بتک تو أ سے پالیا“۔ 


(سرالعالمین للغزاليص٥)‏ 
قول معاو ه٢‏ سض بکسا “می جو رک رکے با ےک جب ا نکی جمت دی خلاف تکاجمول تھا پھر 


قصاصصس کلت رولوکیاکہاجاتگا؟ 

ال جلا لی صاح بکام مکل امام جورقای کا شی کواجما تر ارد تیالو ںکااما مر نکی بی 
دست بردار یکواہما اورا نکی رضاورغبت قرارد ینااقت ہے۔اکابر بن کے اگوارفیصلہ کے سیا تُےگوام کا اس 
پکرعا امو در ہنا ا ٹک بات سے او روا ای جات پراجماغ ھٹا لگ بات ےہان دیوں پالڑں میں فرق را 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ دا‎ 2131331. 


پڑکی خراو ںکاباعث مأاے- 
متا ءکومنصب سوچ پرندامت 

ال رہ ےک رطلقا ( بھی منصب کے اک نہیں تے ات نی حفرات یھ نے طلقا کوورنر یرہ 
یا قھادواپی زندگی کےآخری ایام مش اپنے اس فیصلہپرنادم ہو تے۔اس با امھ لتق کے لے رات 
الھرو فک یکتاب”الحابهوَالطلا “کا مطالف را ۓے! 
ہز یدگ اماصت اورجورقالی 

جورقالی :جم سکوجلالی صاحب اپنامام ماتے ہیں ءدہ :ید حبی ث کا عائی تھاء چنا نجرا نے امیرشا مگ 
عکومت کے بحدشبت انداز سے یز ید یدک خلاف تکا کر کیا ہے اور سک جح کوٹ بر تک ن ےک یکیششل میں 
کوٹ رایات پلائی ہیں ۔شل: 
ا اولبیدوایت کرک یک ہی اکم پا نےفرمیا: 

نر مھا اوران کے بیو کے باررے می میرا شیا لرینا۔ ببعد بی شفریب ہے 
اک دوس رک کہ محادیدیدمتور ہآ ےہاک نے ج: یدکی تی تکرکی ہے ادا بھی ا کی مج تکرو- 
۳ را کو پخ کر ن ےکی خاطریرردایت چلائ یکر ج بی شک خلافت پر معت ہوا لوس ے 
خلا فکھڑاہونانداری ے۔ 

(کتاب الأباطیل والمناکیرملخصاًج١‏ ص ٢٦۲ءوط:ص١۱۲)‏ 

اس لے بش مار یگزارشل یہ ہےکہ جودرقالی کی شی لکردہ مکی روایت موضصو وبال ہےەاس مل 
”وأبَابہٰ“ کےالفاظ یش دوننفرد ہے؛أ لک کاب کے عطادودوسر کب بی بیالطا نیس لے اور ہم اس سے 
لم حعدیٹ کے ائمہ یلق لکرچے ہی ںکہ اک رین ایی بات لا جودہسروں کے ہاں نہ پائی جیائے تذ 
سے قو لئ سکیاجاۓےگا۔ یزاس نے جس عدی ٹکو نکہاتھاپ نے دیکھاک ہا کی وج سے انم نے الکو 
کنل او تحص بکہا ہے اور نے اس حدی ٹکو اہےأ سے د ال اورد نیا ہآخرت می اندھاقراردیاے+ 
لرخودانداز یی ےک تعدب شکودہخووفر پل مگرد بات ا سک حقی تکیاہوگ؟ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 





ٹپ چتاہوں: جو رقاٹیٰ چا تاکیا ہے ؟کیائ یکم معاو کی وجہ سے کن کےلن بت مجر بزید پیکا خال رکا 
جاے؟ ہجو رقا یک غبادت دفو ایت سفا ہت اوررماقت ےک أ سے عحد یی ٹگھڑرنے می خیال ہیل د اکا 
ک یکھوپڑگی ےنگ لکیار ہے؟ کہا ںتک اس حد یی ٹکوقائ لم لقراردےسکتا ہے۔؟ اکر یہال وو اس موضوع] 
حدی کلم طلقاء کےکذت نشی بز یح کا خلاف تک ایت می لایا ےق گے پچ لکرعم رین سعدکی 
مایت ٹڈ یکر ےگا کون مین سعدممیدا نکر با ء می الین ماس نکا پر سالا رتھاءاگر چد شی معال یا 
سینا سحدربن الی دقاعص یکا بنا تھا؟ راس یک راس موضسوع عد یث اورال سے استمد لا لکا نشج سی ناامام 
نینج کےوقن می سکیا ےگا ؟ 

جورالی بد بت انی م وضو احعادیے پر وگ لکرت ےکران ےکا خواہای کان اس سے پا بچھاجا ےک 
جن اھرا شا مکی ددوکا گرا ےانوں‌ۓ ”افج رَخْم الله ضیٔ ال یت“( یں اپنے اٹل بیت کے 
پارے می یں ال یازکراتاہوں )پرکفام لیا؟ 
”صُخَابي“ کےاملی مصدراقیکون؟ 

یاد رتا پا ہرد ہحد یٹ جس شی اھ یا نی میں لفظ ”صْخايٰ“ سے قطا بک ایا ے؛أ نے 
اون نطب ولیک ہیں جوم حد یب کے بعدسلمان ہوے لا "ِخفَطُوْني ۳ اَصَخَابيٰ“ کےالفاظ سے 
ہف ضیف اعاد یٹ آئی ہیں ا لا وا ابی“ سےالفاط ے جو سک اعایشنقول ؤں.ان ٹش 
جن صھا رکرام چھ کے خیال رک اعم سے وہ السا بقون الا ولون اورہا جر بین دانصار خیں یدادر ید وہفرات ہیل 
جوعد یک ینغ تل مشکل وت مم مشرف باسلام مہو ءاورجولدک ان کے بعدمسطمان ہو ئے دای تام 
احادیث پگ لکر نے کے پان ہیں اور پور ام کی طرح دو یم مما کی وق تیاور نکی احاع کے ملف 
ہیں۔ائیی احادیث جار لکَاب”الصّحَابَهُرَ الطلفا “مس لاف مائی جانمیں- 


کن اما ء کے ای اما مکی حاللت 

کٹ زالتاماء نے جو رقال یکواما مہا ہے اور جو رقاب :یکا امام مات ہے یمام ابی رت علیہ نے 
یھ کے ہارے مرکھاے: 

کان تَاصِبيًا۔ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ طا‎ 2131331. 





”وو ناصصی ل(وشن ال میت )ھ“'۔ 


(سیراعلام النبلاء ج٤‏ ص ۳۷) 
1 اںەکییاے؟ خووفو ریجے! 


بذدکی یعت اتا آسان؟ 

جودرقانیٰ نے بزیدکی ہع تکوآسمان ب اکر کیا ےک راس محادیبد یمور ہے اورک اک ہم نے با یھ 
کی بیع تک ری ہے تو بھی اہ سکی یع تکرو۔ مہ جورقانی کی وھک دی سے ہکوہ یمام راتا آسائ کن تھا 
زیدگی وت کے لیے رشوتیں دی یککیں ہبوٹ ہو لاگیاہپھمکیاں د نکی :وک دن کی کی سی ان 
ٹ سے ایک ایک لے پر دا لکااخبار ہے دنن یہاں فا ایک حوالہ پرجی ات کرت ہوں ءاور یقاس اس 
شحخصی تک یکتاب سے ہے جن کے نام کے بغی اک وہند کسی عا مکیعلھی سندکا ل نیس ہبیش عبدرلتی 
عرت دبلو یکھت ہیں: 

٭٤۵ھ“‏ شں امب رمعاوی نے کیا اوراپن بے ینگ ول عہدی کے لیے دوسرے 

لوگوں کے ساتھر رت عبداہ بن حرط ٹکو بویا اوران ےکھا:اے ائن عرر! آپ ؟هم س کہا 

کرت تھے:”' چھے اس شب نار ہ بھی سوناپین نکیل جب ہم پرکوگی ام رنہم اب سلمائوں 

میس فماد انکیٹ کی اورا نکی ای کے دوگر ےکر نے ےت مک وتفوظط د یکنا چاتاہوں۔ال ھپ 

خر تعبدائدان عمریدکنڑے ہو٤‏ اورجدوصلا ۃ کے بح دکہا :نتم سے پی بھی انا ہے 

ہیں اوران کےبھی فرزند تھ اورتہاراجیٹا ان کےفرزندوں سے مہ ریس ۔ ائن خلفا ءرانش بی 

نے اپنے بیٹوں کے لیے ددام نا پن دکیاجقم اپنے بے کے ےکنا جات ہو۔ داقعریہ ‏ ےکہ 

أنہوں نے خلیضکااتجاب عامملوگوں پ رھ وڑااور ہردورکےسلمائوں نے اع خوداخقیاری 

کے ٹڈ نظراپنے لیے خلی کا اتا بکیا۔ اب عحالت موجودہآپ مج ڈدار ہے ہی ںکہ شش 

ملانو ںکی مت روفوت کے دوگکرے :کروں ۔ دای مسلرانوں میں انتا رکر نے وا انیل 

ہوں :یش امت سل کاایک فردہوں۔ جب ادص ت امیا پراجما عکر لےگی تو بھی ا نکو 

مان لو گا۔ میک نکر امیرمحادیہ ن ےکہا۔ انل درآپ پ ررحت ناز للکرے۔ ل(ی ےکر ععرت 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


عبرالڈام چرچ وائں چے گ٤غ_‏ 

چھرامیرمعاویہ نے عبداانن ائنع ابوکرصمد بی دک جاد اکر پک طرح ان بھی 
کہا :دورا نگم میں جع ےکپرارٹن نٹ کظا مکرتے وت ےکہ ‏ آ پکنگائن گیا انلم 
آپ کے بے یز یدکی وف عہدیی ک تلق ہم لوگوں ن ےآ پکوا کیل دا عام منالیاے- 
ند آ پکاریگان پالکل ہا ہے۔ جمارامقصصد یہ ےک رام لمائنپس شورکی می کسی بات 
پتفی ہو جانمیں۔ورنہٹیش جتائے دبتاہو سک تذقہ اندازیکابارآپ کےکندنموں پر ہےگا- 
ات کرک رحفر تعبدالرشن جانے کے لے بی گے امی رمحاد یرٹ ےۃکہا:اےالڈمی ری مدکراور 
یز ری وک عہدری وخلافت کےا سے میربی ذا تکوفوظط رکب رعبدالرنشن ےکا اے 
چاے والے!یہاں سے شامیوں کے پا انال نہ جانے دہچے۔ جھے خوف ہےکمیرے 
اس محاللہ یآ پ سیق تک رٹیل گے۔ بے صرف اتی مبلت دہچی کہ یں س ب کٹ ع کر 
دی ںدآپ نے بج تک۸ر سی ہے۔ گل رضپ دقواہ جوچا ےکر جےگا۔ 

اس کے بحدامی رمعاد یہ نے عبدائل ران ز ہیر ٹکو ماد اک رکہا: اے اعن ز برا حم اس تیز 
لٹ یکی ماخ ہو جو ایک بل ےئگ لکر دوسربی کس جاتی ہے ۔م الین ےک ابوگر ظر 
کےفم زندوں ےیل پگ ہواوران کان می تم نے ھ چوک دیا ہے اوران دولو ںکوان 
کی ذائی راے کےخلا فک اور کن میس راے دقیا پآ مادءکردیا ہے۔ میک نکر بدالڈ اہن 
زی جن ےکہا:اگ رآ پت شی سے زار ہو گے ہیں و بصرشوق استتعطاءدجیچتے اوراس کے 
بعداپنے صاجزادوکوکھڑا کی کہم ا کی وع تککی ں قوفر ما ےک یب کی یل اور سک 
کہا ما میں ؟ کیوگ دوخیغہمو جو در ہیں گے اوروا ر ‏ ےکہوقت واحدریش دوخلیفنیں ہو گت 
یک رک رعبدالڈر ان ز بے یئ ۔ اس کے بدامیرمعاد یہ نے ضر پر چڑ ھک رت دشا کے بھدکھا: 
می نے واشفائ کی ىہ بات می ہی ںکہائن ابوک راہن عراوراہن ز ہی ری مت پہ یایک 
خلاف کی بب تنم لک۷ر بی کے ما لاہ ان رات نے برضا ورقبت پز دکی یع کک ہے 
بیس نکرشامیوں ن کہا ہم ال وقت ہرگز ہگز لیو سک میں گے المت اس وقت مان لی 
کے جب د ہپس بک موجودکی ٹیس بیعت ب: یکاعلی الا علان اق ارکرریی کے ۔بصورت دن رہم 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ان کے رت کرد گے۔اس پرامیرمعاویرئےکہا مان اللہ تففراللبقری کی شان حل 

ال قد رجل پازیی اور پیشرارت۔یادرکھوآج کے بعدقم ٹس سے کی زبان ےآمددایی 

گتتاغ فیس ڈہسفوں۔اس کے بع دنہ رےا تر جھج۔ 

لوگوں نے پا بی مکہنا رو عکیاکہاین الو وائن ماود اع زہیرنے ہی تک گ٠‏ 

عالاککہ مہ رسہجفرات می کچ ر ےک ہم مس سےکسی نے یز بدکی یع ت کی لک ہے اور 

کیفیت کوک ہاں اونکیس لی شت دنٹیاقوال ز بان پرلاتے رہ اودامیرمعادییھ ید 

سے روانہموکرملکت شام وائیل چلے گے '۔ 
(ساثبت بالسنة عن أعمال السنةہمترجم اردو:مومن کے ماہ وسال ص٦۳ء۳۷ء۳۸؛تاریخ‏ خلیفة 
بن خیاط ص٢٢٢٢٤٣ ٢٢‏ ؛الأٰوائل لأبي لال المسکري ص٢٣٣‏ ٣٣۳٢؛تاریخ‏ الخلفاء للسیوطي 
ص۹٣۴۲ء‏ ۳۲۷) 

اس ےآپ پہ یتقیقت عیال ہوک کہ کی می تکس طرع ک داد رخدی انصاف فر بای کہ 
جورقا نی کات :یسا نکہنا یم کے بحد تب معاوبیپراجھا ]کاو ل/ :ال حدگ درست ے؟ 


رارون؟ 

جورقالی نے پیل اپ طودپہ یز یدک بی تکا منعق ہو جانا نا ہرکیاے رتس ر ےکر ھا ےک جوغیفہ 
کی بیعت کے بحدأس کے خلا فکیاہودو دا ے۔ :معلوم دواس ےک سکم سکوخدا رق اردےد پا ہے آیاامام 
عای مقام اوران کے اصحابکو پا واقت زمرہ کےتعفرا تک یجلالی صاحب تیب سے یں ؛کینگراا مکی رکوس 
کے پچ" ردکاریبجھد کت ہیں۔ 


اما مکنزامتلما کی ناصعیت پردوسرکی دنُل 

جورقای کی ناصیی ت کامریدشموت ملاظ فر یا ےکہاس نے اپت یکتاب می سید نی خلدکی شان پا 
ای ار عادی الف ہخطرب او سح رقراردے دیاش نکورخین نے تاوس لی کیاے۔ داقعیہ ےک 
بی اکرم دی نے جب شرکین کے محابر نتم کرنےکااعلا نکراناچاہاق ایک رک کے موققدپرمناسب پک 
اش یکی قیادت اورکفارے براء تکااعلان ء دوفو ںکام سی ناالوکرصد بی لہ کے سپردفرماے ۔ چگرآپ نے 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





صحابہ کمشورے پراوج احعادبیٹ کے مطابقی جب ریل ة کےگرت کر نے پرکفار سے اعلان براء کنل 
سید ناالوبگرصدر ای پند سے دائپیل نےکرسید نی لہ کے سپ ردکردیا اوداا لکی تو جیہ یہ ان ف بائّ اریم ے 
کی معاہد کے انام کے لیے تضور شا کا خودجانا ودنہ آپ کےق ری رش ہدارا جانا ضردرکی ہے۔ ال مور 
پھآپ ىا نے با لفاظارشا فریاۓ: -َ 
لی یی وَآنَا ِنةء ولا مُزقِي عَييْإِأ انا أُزعَلیٌ. 
می جھ سے ہے اورش اس سے ول ء اپئی ذمہ دارگی خوداداکرو ںگایائلی (جڑہ) ادا 
کر ےا“ 
(خصائص علی بتحقیق الحویني ص۸۳حدیث ۱ ۷۲۰۷) 
ان اعادی ٹکلاستروکر ن ےکی اط رجورقالی نے والسصسلاف یی ذلک ''کاعنوان قائ کر کےا 
کے مقالریش دعد برا لکی جس می حیل ےکر متاسب رق دا رصق نے اواکرا ےلین ہر 
اکم منقام پرسودر7ا لت کی کل یس اعلان براءدت سید :عیفر بات رہے۔اکی عدبیث کین یل بی دوصریی 
چاراحادیث کے ات مطابقت موجود ےن جورقالیکیعصببیت وناصعیت نے بی کت لم اس حدریٹ سے 
ان احادی شکوستردکردیا۔ حافظ لد امام ائن جرح سقاٰی رم ال علی نے جو رقانی کےا بوڈ ےط کل پ 
یں جج ردکیاے: 
فَفَد أشُطَأمَیْ کم بِالَضٔع بِمُجَد مغالقة الْنْة ملق ء رَكَُرین ڈلک 
عو فِيتاب' الیل“ لد 
سن ھی نے خطا جس نےیگض ظا ہر طلغ سنت ےم حدیث یشوخ ام گا 
دا اوراکٹریکارددائی جو ذقالی نے اپ تتاب الا باطیل “مم کی ۓے'_ 
(النکت علی کتاب این الصلاح ص٤٥۸)‏ 
اما کنزالتلما کی ناصیت پرتسری رل 
:فا کی تصحی تک ایک اوردیل بی ہک دو می کرام شس تافا یل ہااسلا مکی ولا رے 
امامکہدی کے ہونےکامکرہے۔ا نے ”ساب السمہدی“ مم پل دوعدنٹیں ور عگیںءآن میس ےکی 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





حد یث یٹ ہ ےک ری اکرم ‏ نے فرمایا: 


المَهُدِي رَجْل من وَلَيِيٰ۔ 

”می میری اولادٹش سے ای یٹس ہوا 
دوسربی کے الفاظ ہیں: 

الْمَهُدِيٌ بن ول فَطِمَةٌ 


”نمبدی سید دفاط کی اولادے ہوگا“_ 
بج رفی خصلاف ذلک“ کےمنوان ‏ ےت ت ایک و بل عحد یٹ در ح مر کے لن دونوں عد یو ںو 
مستررکردیاہأس لو لی حد یث کے خرکی الفاظا می ہیں : 
ا مَهُدِيإِلَا عِیْسَی بُيْمَریُم 
”گی بن م رب عہاالسلام کے علادوکوئی مہ یئل“ 
(کتاب الٗباطیل والمناکیر ج١‏ ص ۳۱۹۲۳۱۷) 
لن تنوں ا حاد یی پر جدقانی نے جوکلاممکیاہ ےس سے نود سک یکتاب ک تین نے بھی نات نیش 
کیابقققین کےا سکلا کا رین یا جولدک جورقا یکاپنا امام مات ہیں خودعی دک لی .میس یہاں فقط ہابت 
کرنا ‏ کہ جورقانی بد بت چونکہ ناصصی اس لیس نے امام مہدیکا اکا رکیا۔ خداجان ےکعلا ی صاح بکا 
میلان امام ان عدگی : خطیب بقدادی مامام ان الجوزگی+ امام ذببی حافظ این تمسقلا فی امام وی اورا ما این 
عراقی انان وغیر: کے با ےک ہمقل اورنصب جورقانیٰ کی طر فکیوں ہوگیا؟ جماری ان سےگز اہ ہکوہ 
اس نظ رشان فر ائمیں درز یکو یکا سوقویل جا ےگا ہع: 
تی و ہیں پخاک جہا ںکاخیرھا 
خیالی ر کہ یہاں ہم نے مدآ سی اما ممبدری بیط کےسیددفا مہ علیھاالسلا مکی اولادسے ہونے 
کےوت پ ولا نیش دیےءاس ل کہ یمن رات سے خابت ہے اورعلا اسلا مکی اس بفل تصایف موجود 
ہیں۔ چندصانیف کے نام ملا حظہہوں: 
عقدالدرر في اأخبار المنتظر وھوالمھدي: علامہلوسف بن گنی ندال زی: اکر !سی 
الشاضھی بمتوکی ۹۸۵ح ہمکعب المنار الا رونا ڑرقاء- 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


المہادیی :وک رھ اراس ا شی لا مقدمءالدارالعالمیءااامکندریی:_ 
الاحتجاج بالائر علی من أنکرالمہدی'المنتظر : تمودب نع بدرانڈر اتک ری ہمطبوع ال یاي_ 
القول المختصرفی علامات المہدیالمنتظر :این ترکی ممکعت القرآنءالقاعۃ_ 
العرف الوردي فی أخبارالمہہدیء امام یڑ ؛داراککتب العلمیہ بروت۔ یکا ب”الحاوي للفتاوي'" 
بھی ہے۔ 
البرھان في علامات مھدي آخرالزمانء یی بن ضام الد 2 تق بندیءدارالقر ار یھو رای 
امام این عس اکر کےقو لکا امہ 

امام ان عساکرنے انی شر ہآفا قیتھنیف ”تسارییخ صسدیسدة دھشسق “مس فضائل معادیی می بکثزت 
اعاد یٹ در کی ہین ان کے بقول ان قاماحاد یس سے فجن اعاد یث ا قیول ہیں ءاوردہ یہ میں: 
ا۔ . لان ای البيھے قد أُعَرَجَدُمْسلمٌ فی صَحیٔجہ‌یعع یلا فی الله بهْكَه“ 
٢۔ ‏ وَبَعْدَۂ حَيِیْث عِرَْاضِ: اللَهُم عَلمْة الْكََابَ. 
۳۔ وَبَعْدَهحَیِیْك ابٔنْ أي غُمَيْرَة:ِ اللْهْمَ جْعَلَه مَادِی مَھُدیا 

امن مس اکرکا کور وین روایا تکویلت مواوب مج سی عدتک درستقرارد بنا ا١ل‏ ہے یو آقار 
اش رحعدیث نے عدی یٹ گ باف کوموضسو قرارد اہ :جیا کہم ال ےش لکھ گے ہیں ءاورعد یٹ این ال 
حر ”اللْهُم الہ ہمادبا مئاکویگی م وو قراردیا ہے۔ان شا لاس پک نہ گا گی۔ 
رجی حد یٹ این ع ا تو دہ حد بی ےئش میں ہے :"لا اطع ال بط (الل راس کے پیٹکودھرے) 
ال ے ا نکی نیل تک وگ رماہت ہوگی؟ بت بدد ما ھن کے بارے میں ق٠ول‏ ہوگئیی اور و کھاتے 
کھات تنک نو جات تیگ ری ہیں ہوتے تے۔دودن شل مات مرک تے ےد کان ےمم بر چپ اتا 
بڑ ہج یکو ونبۂ جج یکھڑے ہوکری دے سے تھے .سو ےا یمععابت ہے یاراحت ہدعائے خی سے 
بادعا ۓےطرر؟ 

حا شام کےت س بردعارقت تب قرار انی اگردہعا ماد دمتقرل من کے برابرکھ کر رہوجاتے ؛ 
ین اییانییس ہوا مل نکی دواۓ ضررژن کےغلاف بی قول ہویی اور نک یی ںکجرت تھا۔ چنا خ یبن 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





اعاد بیث یل ع را حخا رالفا ظا ہیں: 


نیس ا ن ںاھ یپھ یی ں کر“ 
(دلائل النبوۃللبيھقي ج٦‏ ص ٣٤‏ ٢٦سبل‏ الھدی ج١۰١ص٢۲۱)‏ 
اام زر”قاٹی رمۃ اش علیہ ”لا اش اللہ بط “کے جملکیترج ی سککت ہیں: 
ُء عَليه عَلی الْممَادر وید عَليه قول :”نَم شب بعْلهَاقا" وَرْعِمَ 
َعا له با الله ره القَاعَةءلَْس بِحَيٌو۔ 
”جو بات الف ذ من لآ لی ہے دوہی ےکہ مین کےخلاف بددھا ہے الک ہپ 
تقو دی ہے ”اض بننهأذا“اورک مایا ےکیآپ پل نے ان کن می دعا 
ف ماک یکر ادتقا انیس قاع ت تعیب فر ما یہ یکا رقال ے'۔ 
(شرح الزرقاني علی المواعب ج٢١١ص )٦٤‏ 
ہس مقام پرامام تطما لی رع الش علیہ نے خیا کیا ےکہ بردعا ئن کے خلاف نمی تہ ان کےون مل 
تبول وی .أنہوں نے اپنے اس خیا لکی تاحورش یہاں اللهٰم اف ججلما و ما“ کےالفاظ پڑنی رواہت 
در خ کی ہے۔امام ز رای رم اللعلیہ نے اس دی لکواست کر تے ہو نے فر مایا ےکم می دلیل درستت یل ے+ 
کیوکہ ہانگ الگ تے ہیں رام لفرو فکتا کہ بیٹگیٹھیک لکن زیادہ بات یہ ےک بیددمری ردایت 
موضو و ال ہے چوک ہام تسا فی رق ا علیہکی اس طرف توم نی لگُی اس لیے دہاش سے استند لا لکر نے 
میس مور ہیں ۔ اس کل میں امام ز رای رق الیل عل ہکا اتد ا لتو کی اور بل کلف ہے ۔السی صی جال فک رج 
امام گی رق ال علیہ ن ےکی ہے وو کھت ہیں: 
الْمَعُلُوْمْ بن حالِ مُعَارِية ین لاس اق الله سُججَابَ فنه دَُاء لييّ ا 
وََلْ مه والله تعالیٰ اعلم_ ان ٹرک إِجَاَة دَغوۃ اي ه8 وَإِجَبَةُ دوہ 
واج لی اور ء ّی عَلى المصَلَی فی الصٌّاة ِقزلہ تغالیٰ:طاممَجِموا لله 
َللزّمُزْلِإِهَا َغاكُم لیم4 فضَاز مُْمہطً لِلدغاءِ علیہ ء وہ ۂ لی 


۶۲۵۰۵۵٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





”وو یل جومعاد یکا حا لی محروف ےال لاق رر مال نے 
ٹ یکریم ا کی دعاکو اس کےخلا فقو ل فر مایا ا کا سبب دائلد الم ىہ ہ ےک دہ نچ مکی 
لہ کے بلا نے پر حا ضرنہ ہے ھا لان ہآپ شرف کے بلاےے پفورأحاضرہونا واجب ے٠‏ 
7یک ہنمازی نماز میس ہولج بکھی۔ چنا نچ ارشادا ی0 ے: لی ککپوالط اوررو لکوچپ وہ 
تھی بلاۓ ماک یں زندگی دے پچ لیس دہ اس دجاۓ ضر کے تح نکھہرے ۔آپ لہ 
کیا دعا ےضر رن کےخلاف لد قول ہوئی ہے اورغی تن کے لیے رت بن جاتی ے'۔ 


(حاشیة السندي علی صحیح مسلم ص۸٦١)‏ 
امام نی رم ال علیہ نے خوبککھاے,أ نکش ےدام ہو اکیین کےخلاف دعاۓ رر یی 
رع طر کی موشگایو ںکی ہا پیل یٹس کے حال مم دی تو رکر لا یہ ۔اگرھی دعاے ضر 
ودای أ لین کا حال ہوگیا وو دعا اس کےخلاف می قبول ہوائی_ 
امام ذ نی ن بھی اییاہی کلف مطلب بیا نکیاہے۔ دہ باعل ناو یلا تک ترد یٹ کھت ہیں : 
فَسَرَۂ بط الْمُجِبین قال:لا شیع الله مه ء محت یلا نَگونَ مِمن یو ُيَوْمْ 
القيَامَة ء لی الْعَبْرَعَنه اه قال : أطُوَلَ الس شَبْا فی الڈنیا اطوَلهُم جُوْعاَيَوْمْ 
لقث : دا مَا صَخء وَالأوِيْلَ رَکیٔکک... وَقَد ای مُعَارِيَةُمَعْلوٰذ یِنَ 
اوْكَلو 
”ںین نے اس جم کٹخ رکرتے ہوت ےکا ہے :لق کا پیٹ نہر ےتک دہ قیامت 
کے دن ان لوگوں یں سے نہ ہوں جویپھ کے ہہوں گے ؛کیون ایک عد بیث میں ہے :د نال زیادہ 
پھر ےلوگ قیاصت کے دن زیادہ یھ کے ہو گے۔ یس (ذبہی پا ہوں :نکی ے 
اور کیک تاویگی ہے.. .اور جلاشبمعاد یکا شارت ز یاد وکھانے والوں میس ہوم تھا“'_ 
(سیرأعلام النبلاء ج٣‏ ص١٢۱١٢١٢۱۲)‏ 


یئ جا نکرفضیلت بنان ےک موی 
قا ری کرام ؟ذراامام ذ کی عبارت می فورف بای ںکہامی رشام کین اور عراش نمس طط رح پردور 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۸ لطا‎ 2131331. 


ری 
یس اقطراب وا اج کا شکارر ہے ہیں ء وس بھی دوجس فضائل معاوب کے نال یں ر ہے پگ جوڑنو کر کے 
فضال وش کرت اورہناتے رہے۔انداز وق یمک سل مکی ننس ححد ی ٹےکودوفضیلتں معاد یہ شل سب احاد یٹ 
سے یادہں بت ہیں+ اس ےبھی دہ براوراست ا نکی فضیلت خابت ن۰ی کر کے برا کے ساتحدو ونیک اور 
حدم ےکھلانے ک ےتاج ہوے ہیں۔ چنا خی لم مس "لا ابع ال نکی حد مث تال ایک حد یٹ 
میس ےک ہن یک ریم ال نے سید داع مل مکوف مایا :اے ا میم ایس نے اپنے رب کے سات ایک شرط ٹکیا ہے 
اور کی بارگا وٹ عق کیاے: 
تنا َفرارژطی تَمَايَڑھٰی شر وَأطَبْ کَمَايَقَطَب الَفَرُ 
ای اد َغوزث عَليہ بن اي بتغوَء لیس لھا بأفلِ ء ان یجْعَلهَالَهَھُوْرٍ 
وُرَكاهوَفزَةُنْقَرَن ِا نوم الْقيَاةِ 
”نمی بشری ہوں.أسی طر خوش ہوتا ہوںجنس ط رح پشرخوش ہودنا ہے اورأسی رح 
مفہناک ہوتا ہوں جس طرح بش خظہناک ہوتا ہے ؛ لی مس اپنی امت مج سی کے خلاف 
بد عاکردول :جن سکیا ووائل نہہوتووہ أس بدداکواس کے لیے طہارت :تیراو رق تکا ایما 
ذر یہ متا ےجس کی بدوات دو قیاصت کے دن أ ل(رب )کےقر جب +وجاے' 
(صحیح مسلم ءکتاب البر والصلة والًدابءباب من لعنہ النبي فل أُوسبّ و دعا عليهء ولیس هو 
أهلّلذلك ؛ کان لە زکاہٗ وَأُجرًا ورحمةءص٦٠۱۲۰ءحدیث٢٢٦۲)‏ 
ایی شریف یں بعد یٹ جشٹھیرآپو ںآلی ے: 
لم فا من سیک ء فاخغل ذلک له قزَة لیک يَوم ايد 
”ا اللدا ہیں می٘ کسی مؤی نکوست کروں و ا سکواس کے لیے قیاصت کے دن اچ 
خرر تکا سب باے“۔ 
(بخاري ص۸۸۳ حدیث )٦٦٦٦‏ 
یس چپ کر کا ہو ںکہاگرنیوی بددعا ئن کے خلاف قبول نہ ہوئی ہوٹی اوردہ نال مو نکی طرح 
ایک یمن کےکھانے سے سی رہوجاتے ےچ رکہا جا سک اک کہ کا یرٹ صب وستورددصرے موی نکی 
طرح ہیگرجا تا ہے :لندایوی بدد ان کے لیے قا مت کے دن اث قرہت ہوجا ےگ کن چوک اہیا نیٹ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





یا ہے ا الأحادیث الموضوعةفی فضائلمعاویة 
ااوروہیبقیں ہو جے 1 اس لیے ان ددفویں صد یو ںکو سط ارم وٹین نے جوٹی خیذکر نے یکول ونش کیا ہے وہ 
میساء نوا ہوگیااورجنہوں نے اعد بث کا الف مق بیا نکیا ہے ا۲ نکابیان تق ادریئی برمفقیقت نا ہت 


ہوا۔ 


ایک اشکال اوراس ےگ لکاسوال 
ہر چن کیا تھا لی کےساتحوشرط ےکر ن ےکی بیحد یٹ مین مچکہپکئی اود ال یش ہےکہ: 
”نی بشرچی ہہوں اود بشرکی طرح خصکرتاہوں ؛لپا گرم کی سلمکومت عم پالصن نکردوں 
تڑا ےرم ت ناد یا“ 
ےا کل ہی لان ہوا کہ ال حد یٹ کے بنلس بہتکی کی اعاد یٹ ٹی اشن سےا حد یرٹ کے 
ممو نکینقی ہوٹی ہے لا لیک عدیت مل نادم رسول سید انس بن ما لک مہا نہکرتے ہی ںکہرعول الڈر 
نم نے فرمایا: 
لم يك الِْيٰ ق سَبباء ولا فَكَاضًاء ولا لمنا 
”یرم ذس کر نے بش بو لے اوران تکر نے وا یس جھے۔ 
(بخاري ص۲٢۸‏ حدیث )٥٦٦٦ ثیدح۸٤٤صوء٦٦ ٦٣‏ 
خوزسلمشریف مل تکورەیاب ہاب سن لعنہ النبي فلا أوسبە أو دعا عليہء ولیس ھو أمللا 
لذلك ؛کان لە زکا٤‏ وأَجرًا ور حم تال ایک عدبیث !لن الفاظ ہآ لی ے: 
نیلم أبْعَث مان وَِنمَا ينُت رَححمَة 
”نی اہن تر نے والائیس بھی امیا ء بت ررمتىی بھچاگیاہوں“_ 
(صحیح مسلم ص٤ ٢١‏ حدیٹ۹۹٥۲)‏ 
ضر تد اشن رد جیا نکر تے ہیں : 
”نم رسول اللہ یل کی زبان اقدس ے صادرشدہ ہرپر جا تککھ لیت تھا تقر لی نے بے 
ردکاا کات ہر باتکگہ لیت بل وَرَسُوْل اللہ فل تفر کلم فی الَْطَبِ وَالرٍّضَ“ 
(عالائہ رسول ایل ن بش ہیں مقصہاورٹی دونوں حالتوں می کلام فرماتے ہیں ) نوس 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ طا‎ 2131331. 


کے ےر کگیا۔ رش نے ہی بات رسول اللہ خ اق کون کت آپ نے فرمایا: 
اتنب ء َو الّذِيٌ تَقَِي دہ فا يَخْرْج منهإلَاعَق 
”لوس ذا تک اجس کےقبضہ“ قدرت بل میرک مان ہے یہاں ےی کے سواچھ 
خی ںوت 
(سٹن أبي داودج٤‏ ص ٣۸۰‏ حدیث٤٣٣٦۳؛‏ المصنف لابن ابی شیبةج٣٤١٤٦٦‏ حدیث 
۷ءممسند أحمد ج٣ص ٢٣٥٥‏ حدیث ٦٦٦٦ء‏ وص٦٦٦‏ حدیث ٣۹۷۷‏ [علمیة]ء وط: 
الأرنوط: ج١۱‏ ص٥۷٦٥۸۷٦‏ حدیث ٦٥٦٦‏ ؛سنن الدارمي ج١‏ ص٥۸حدیث٤۸]؛المستدرك‏ ج 
١ص٤ ٠١‏ حدیث٣٣٦۳وط:‏ ج١‏ ص٢۳۰حدیث٣٣٦۳؛فتح‏ المنان ج٣‏ ص۸٦۲‏ حدیث ٦٥٤٤‏ 
تقییدالعلم للخطیب ص۹۷حدیث )۱٢١١‏ 
یی احاد یٹ یل الفاط ہی ںکہآنہوں نےحی لکیا: 
بَازشول الله !اتب مَا مع مک ؟ فان : نَم فلت فی الرْصَا 
سط ؟ قال : تَغم .لها هي ان ال فی ذلک إِلّا حا 
”یا رسول اد اکیائی سآپ ے جوکھی سنوںت کول یکر وں؟ ف مای:ہال ء شش نےعوتل 
کیا خٹی اورفصہ یس بھی ؟ فر مایا اہ یہ مناس بنجی سکہ می ال عاات می بھی عفن کے 
سوا یھ اولوں“۔ 
(سندأحمد(شاکر]ج٦ص‏ ١١٤٤٤٠١حدیث۹۳۰٢؛المستدرك‏ ج١ص١۰٠‏ ؛تقبیدالعلم 
للخطیب ص۹۱ ۹۲۰حدیث؛ ۱۳ وص٦۹حدیث )۱١١‏ 
ایک اورمقام بر تحخر تکبدایش رک نگھردخ لف مات ہی ںکہییش نٹ کیا: 
فی اب رض ؛ فان :کَعم:لَي لا اُز اہ عَا. 
”خحضب اوررض کی حالت می بھی ؟ف مایا ا ؛کیوئکہ ٹس !ان دوفوں عالتوں می بھی ضن جی 
ال ہوں''_ 
(مسندأحمد[شاکر] ج٦‏ ص٤٤٥٣‏ حدیث۷۰۲۰) 


کت یفاری ول مکی مکور +حد میٹ کے مقاللہش براحادیٹز یاددقائ ٹج ممعلوم ہورجی میں اور ے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۸ لطا‎ 2131331. 





اس ارشا دای کےجھی مطا بی ہیں: 
وَمَا معن الهویٰ إِنهُوإِلَاوَحَييُوّحی۔ 
”اور وکوئی بات انی خوائٹل ےکی سکرتے ‏ وو نی مم روگی جوا نی لکی اتی ہے“ 
(النجم: )٥٤٤‏ 


دودنکن :لک بات دق خدا 
شش عم کت پ لاکھوں سلام 
لذا یتلکن ہ ےکہاییے دن اقرس ےس بھی حال می خلاف تق جھلئگل جائۓ ۹ اکر یہ یات مات 
لی جاے تق ئل رگصص تکاکیا موکانہر ہا ؟ سو ججھنا ارہ می نکی زمبجٹ حد یٹ نی سآ ری می راد ڑل مان رپا 
کرحالت خصہ یس لسان خبوی انم ےکوئ یبھی ناج جات کی ہدہخواددہ کی ک ےت می دعائۓ خر ہو یادءواے 
ضر الم سے اتی ہ ےک ہاگ را نیس سور ؟ ال مکی مدکدرہ الا یت اور ا نخخلف احادیث کے بای نکو لق 
معلوم ہو بج یضرورآگگاوف انمیں۔ 
الہ ہاگ یو ںکہاجاتۓےگ ہی یکریم ا نےیض رح لدھاین ہو ن ےکی وج سے بارگا وا لی جس ایاعر 
کرد یا فی ن تقیقت م۲ بھی ایا ہوا ںکیآپ یکذ ان اق ےکی سکخلاف :اضق بد عااکوئی گی 
خلاف تن لفظ اہو فنمَا اد دَضؤث علیہ من ایی الخ“ وغیروالفاظ ہشتل اعایٹۃالِ 
اخقبارادرقا بآم ہوک ہیں ۔ وال الم ۔ 
الله اجُعَلَه مَادِیا مُهْدِيا کا وضو ہونا 
ال حد یثےکوامیرشا مکی فضیلت می ںیم ایل مھا جا ا ہے. ای رائل سنت ن بھی ا کش لکیاے۔ 
(فیضان امیرمعاویه ص١٦۱)‏ 
کفزالقماءصاحب نے ال حد یث پرفاتمانہاورفاخراشہانداز می ںگفلگوگی ہے او رکا ےک انس پ امام 
تر کی رم العلیہ نے ''صتساقسب مععاویة' کا باب ائ م کا ہے رائم اھر وف اس حد ی کی سندی اور حوی 
حییت پراس سکنل ابنیپخ کب میں حب ضرورییخظ نوک کا ہے اب میں اس پل رڑشی ڈالنا 
ضرور تا ہوں _ا نل ے جواراعقھیرا لاعمرى رضاح تا کک مان ل دعائٌحد یٹک ہونا 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 






وق ا سکی فضیل تکی دییل ہوتا سے من ساتحدعی یرد نا بھی ضروری ہوتا ےک ہآ یا یس دعاکیقولی تک ناخ 
نخس می پائی کی بتیں؟ 
ان‌ال یگیرہکی صحا بی تکامکول ہونا 

ار شا مک یآ تندوزنگی می اس دع اک تا خی پائی یی کی راد پائی یکس جانی کہ بیعد یے ہی 
موضوخع۔ اس حدی کاھرک کی راوئی ینس کے صلی ہونےکا وٹ کیا گیا ہے اس کے بارے میس امام این ال 
عاتم کھت ہیں: 

وِلمَا هُو ان أييُ غُمَيْرَة لم يَسَفة بن اي ھذا الحیبْك. 

دوائن ال یھی ردہےاوراسل نے بھیکرم مم سے بعد یشک کی“ 

(کتاب العلل لابن أبي حاتم ج٦‏ ص۸۲١ءوط:ج٦ص۳۷۲)‏ 

عافظذجی نےبھی ان ال یکمیروکی صحابیت مس اختلا فکاقو لأف لکیاہے٠‏ اگ چراشبو نے بیگگ کہا 

ےک ہتاہریہ کرد دحا ے۔ 





(تاریخ الاسلام للذھهبي ج٢‏ ص٤٣٤۳؛وط:‏ ج٤‏ ص ۳۰۹) 
عافڈائینتجرحسقلالی ن ےبھ یکھھا ہے: 
أ لک محامیت ش اخلاف ےا 
(تقریب التھذیب ص۹۳٦)‏ 
مام ای بدال این ای البزرئی ءعافظط ام تج رسقلا لی اور بدا مان مارک پور نےکھاے: 
”ضا ںکا ال ہونا ان ےادرندی بیعد مشثابت ہے“ 
(الاستیعاب ج٢‏ ص٦۳۸٦اسدالغایة‏ ج٣‏ ص٤ ٤۹‏ تھذیب التھذیب ج٥‏ ص ٣٥١‏ ؛تحفة الأحوذي 
چ۰ ١صہ‏ ۱ ۳( 
حانظمخلطاُ تی رت ال علیدنے دوٹوک انداز می ھا ے: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


الأجادیث الموضوعةفی قضائ لمعاویۂ ‏ 
”ا لک حد یٹ یل اشطراب ہے؛اا کی مھا یت شاب تل ہے“ 
(الانابۃإلی معرفة المختلف فیھم من الصحابةج٢ص‏ ۲۳) 
۸7 
1 عمبدال مان دنن ال کی روک صحابیت یں اشنا فکوسب نے لی مکیاے 
٢۔‏ چھوتعفرات نے س کےسھالی ہو ن ےکا صاف الک رکیاے۔ 
جب ا لکی صحایت “کوک ہی بن حد ی کی سند یل ا لکانام ہے دو حدبیث اقطراب سےمنزہ 
ومرا پش بھی جانحتقی: بی وج ےک حرش نکرام اس اضطراب سے مان نٹ پچٹرا کے ۔ چنا امام مغخلطا تی نے 
صاضتھاے: 





الله اجْمَله یھدیا وَلَايَخإِسنَادُ حَدییہ هذا ِْم 
”لم اڈ ادا مهدیا مرن کےنزدیک ا حد یک سنددرست ئل ےا 
(الانابة إلی معرفة المختلف فیھم من الصحابة ج٢‏ ص ۲۳) 
سوجب ات علاء دمح رین نے عمبدالرجمان ابع ا یگمیروکی صحا ہی تکاا فک رکیاہے اور مام ان ای عاتم 
نے دوٹوک اخداز می لکہا ےکس نے برح کیا ہیی تذ پچ رسندااس حد یٹ کے م وضو وہل ہونے یل 
کیا تک باقی رہ جاتا ہے ؟ کان الت خی می شآجان ےک وجہ سے اس حد یکو ما ناما زم ہوگیااورال کی سند پ 
کلام مو ہوگیا؟ 


انال گی رہکہا ںکاباشندوتھا؟ 

اس حد بی ث کے بضتی ہونے کےشواہرٹس سے ایک اہم شاہد بجی ےک جس عبدال مان این ال گی روکو 
سای اکر کیا گیا دو نصرف کشا تھا بی تاور ای لک کے بارے یس باحوالکت کچ ہیی 
کہ دوسید نمی مل سے عدادت ش شامیوں ےبھی زیادوقت تھے۔ یپ اس باتک پوریخصیل تجمن 
زیادالبانی تلق عد مت کےنوان ک تحت ایک مر ردوبارہ پٹ ےکربرخو دی سو جاک آ خر فضائل معاد یی 
احادیٹ ف یہی لوکوں س ےکیوں مروئی ہیں؟ اگ رآ پل فکڑ ال ملایں او رام این ل کا دوقول 
بھی شال ف رپ تھیں جس میں انہوں نے فربا اک ”سای لاک رالاعداء تھےءان کے دشنو ںکوجب ان کے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


یو ںکیٹو وی ناکائی ہولی ہو نے اپ کو چڑ ھن ش رو عکردیاجان کے س اتل تارق آپ پہ ال 
حد یک حقایت کے وو ںک اق یگل جا گی ءاورآپ ماتنئ پرمبودہوجاننیں مگ ےکا ما ت ری رم ال علیہ 
نے وس حدی ثکواپنی من می در خکر کے دوک رکھایا ہے ۔اگردہ اپنے استفذ امام اسحاقی بن راو یرم الشعلیہ 
کقول می فور دنن فرماتے نے !اس دوک سےتفوظار ہے ۔ 
ارڈ نکا ال حدیث ےاعحاضئٴضل 

صحاع ست یش سے بعد یت فقطضلن التر خی شش ہے بن الترخری سے اس سکوامام بٹوئی نے مصاع 
امن یش در کیا ہے اورظا ہر ےک مشکا 7 الصائع ش لبھی ری موجود ہے وہ دو مصاع انت پراضافہ سے سن 
الت فی اورمصائعالنۃداورمشکا مصاع کے شارشن میں سےبنف نے اس حدی کی شر کی سے بن نے 
ا لکواپپی شر کن سے ہی اناد یا ہے اور یوں ا نہوں ن تھا اس پرعدم اعت دکاانہارکرد یاےء+ اون نے 
ا سکو بای تقو رکھا ےکن اس کے مع بعدجی امام اسحاقی بین راویراوردورے محر شی نکرا مکاتو لأف لک کےقول 
اکی حد بی پرعدماعتادکاانکہارکردیا ہے۔ چنا امام یی نے ا لکواب کاب ”'قوت المغعذی علی 
جسامع الترمذی“ سےاڑادیاہے؛امام ینادکی نے ا لکومصائعال*کی شر می میں دکی اما مجن 
دای کی ام ھن چیا کی حد یکا نی شر ٗی لیا 
(قوت المغتذي علی جامع الترمذي‌للسیوطي ج٢‏ ص٢٣۰١؛‏ تحفة الأبرارشر ح مشکاۃ المصابیح 
ج٣ص٥٦۷٦؛المفاتیح‏ شرح المصابیح ج٦ص۴۰۳)‏ 

یش دا مرن دیلوئی رح الشرعلیرنے ا ک ری شر کے بھرکھاے: 

(سفر السعادق) وَكَذَاقَالَ السَيوْطِيٍ 

”ان می ےکر دش کرام نے فراباہے :فضائل معاو یرش لکوئی تی حدیرٹنئی ے٠‏ 
ای رح (سفرالسعادۃ یس ہےاورالیاقی امام مندٹی ت کہا“ 
(لمعات التنقیح شر ح مشکاةالمصابیح ج۹ ص ۷۷۵) 
صلی عالم علا ہج بدالرحمان بن عبدا تم مبارکیودیی نے ال حدی ٹک پھوتشرج کے بعدحافظط این چم 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





عحسقلاثی ریت اش علیکاو دع 
(تحفقالأحوذي ج١١‏ ص )۳٣٤٣٣ ٣٣‏ 

ذرانمورف رما یی ےکم شائن محاد یہی امام کی رح الشعل .کی در خکردوحدییث کے بداعام این راو بے 
اوردوسرے مو شی نکرام کےقو لاف لکر ن ےےکاکیامقصدد ہے؟کیااس کے سواکوئی اوزمقدہوس کنا ےکن کے 
نز یک اما نرک کے مقابلریش امام امن را<و تن زیادہقائلاعتارے؟ 
”ا اخْعَلة مایا“ کےم یر نی ےسوال 

جمنلوکوں کے نز ریک بیعد یٹ ان ہےےان ےسوال ہ ےک گر بحد یٹ نوک طقل ےل مال 
حیامت نوک طس ز پان ارس سے صادد ہو گی ہوگی ٠اس‏ وت سے نےکرمواو کی مو تک کآقر یب۵۳ سال 
نے یں کان باون (52)سالوں میں اس حدی کی اطلاع خودا پش کی ہوئیج٘ کی شثان می بی صادر 
ہوگی؟اگرو وس حدبیث سے باخمر تھے اس پر یل پا نے اوراگرأ نیل فیس ہوک تذ چرس حدم اطلا کی وج 
کیاہے؟ نزی از ان وک فا سے کی برائی ا لاٹی یس جوالفاطا صادرہوتے تھہان کے کچ ےکوگی واتد 
اوروجہول تی سیر شی نکی اصطلاح یس و دوحد ی ٹکماجا تا ہے ۔کیا ال عد بی کیچ یکو شان ورورے؟ 
×ٌ‌ اجْعَلَةُ هَادِیّا مُهَدِيا“ کادرای چائہ 

جب بعد یث ندال ق معططرب ہ ےکہ اس کے مرک کی راو یکی صعابیت دی مق لوک ہے ےچک رآ ہے ا 
اب ہم درا ال عدٹ نی افشلوکر نت ہیں جک معلوم ہوک ےکہ اس حدیث کے بارے می ان مح رین 
کرام مکاقوگل درست ہے جو ال عدیث کے رکز کی راو یکویحال لی رکرتے ہیں اورندقی اس حد یی کسی مکرتے 
ہیں با ن کات لچ ے جوا ںیما صلی مکرتے ہیں اور ا لکی حد یکو سی عدتک مات ہیں؟ 

اعاد ملف امور وم وضووات شقل ہوتی ہیں :لا ام نی ءوعدہ وعیدہ اض یک خراو تخب لکی پیل 
مگوئی وغیرہ۔اگرسی حدیے میں ستتت لک بن کو یک یکئی ہو دیکھا جا ےٹاک دہ تق لق ی بک بات ہے بالعید 


گی ؟ پچ را سکی سح تکوب ہک ےکاداردیدارفتتاسندیکیش ہوگا لگ اس کے من وشن کوگھی جانچا جا ۓگا خلا ایک 
حد مث ے: 


ڈنیا سَیْعَةُ آلافِ سَنَةء آتا فی آخرقا اف 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


”دن یاکیعمرمات بڈرارسالی ہہ یس اس کے خی رارسا یش ہوں“- 
(الجامع الصغیرللسیوطي حدیثٹ۷۸٤۲٦)‏ 

جب کک _ججری ماووسائل کےفحاظ سے ایک ہرارسال ہو ےیل ہو ئے تھے اس وق تک ا حد یٹ 
کی سند بر بات ہوتی رجی اوٰشض مو رین نے ا سکوسندا موضوع با ل قراردبابھی تھا ئن جب ساقذاں ار 
سال یئ ہوگیاتذاب ا کی سندپکلا مکر ن ےکی ضرو کیل تی ءا کان ہی اس کے پال وٹ ےکوعیا یکر 
ےہ کاب ۱۲۳۹ سے سواگرولا دتیص مشاہ سےآ خرئی ہرارسا لکوشارکیاجائے ذس عد یٹ مل 
میا نکردودنیای عمرسے پا وسال اوپرہو کے ہیں اب لا بے !عظمت “لف مال کا تحفط اس حدری ٹکو 
موضوغ وبا ال تقرارد ین یش سے یا ےئ اب تکرنے میں؟ 

بی ببی معاللہ ”الم اعل ادا م-دِ کی حد یثکا ہے ۔فرق اتا کرس حد یٹ می بل 
یا ایک با یی چک حدیٹ میں ای سی ڈعی نٹ کےتن می دعاالفاظ ہیں ؛اندا کی فت سرک 
ہی نیس دبکھا جاۓ گا بن می ںبھیخورکیا جا ۓےگاکہ جح نٹ کےتق مس یددھا یگ یا کک یرت 
وکرداریش ا دعاکی جحلک نما یا ںبھی ہوک یی بای ں؟ اس دعا ےن صے ہیں : 
۔۔ ال اَل ادا( اے الد !ا لکوہرامت دی والابتا) 
۲ مَمدب( را تیافیادے) 
۳۔ الد بہ(اورال کےذر ہی اورو ںکوہرامتدے ) 
ای در یکالئی اندام یا فی حضرات ےبفض؟ 

جم ہرمز پڑ جج یں :طرفیئنے الضِرَاط المْستَقِیْم صِرَاط الین اَعَمَْ عَلَيْهمٰ4 
حد یٹ پک کے مطاب کی پل انام می ےک ہأے جنتکاداخلل جاے اہنداض کزان الگ بات کی 
ین ےکی ںکی سح ایکون انعام اق ہے اورکو نکی یکن جن ؟ سو ںکولو جوا نان اٹل جنت دی سرداری ے 
نوازاگیا ہن کے ہریت باقتۃاورانعام يافۃ ہونے میس قتامسی شش کک گنک ہیں 


کیاما متس نکی اتکی شبادت مصیب تن تی ؟ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 


0" افآمادیث الموضوعتفی فحائل موی 
ام تک ن ےک کوٹ کی جانی ہہ أس کے ول مس ان انعام باقن ہستیو ںکیکت یمعحبتتٹھی؟ذرافورسے ہڑ ھن ! 
امامابوداوداپپی سن کے سات رھت ہیں: 
”خالد یا نکرتے ہیں :رت مقدام بن مو دیکرب دہ رون اسوداورا ل تکس بین سے جن 
اسدکاایکننس معاوب کے پا لآے۔معاو ین ےحفرت مقدام حلند سےکہا: 
أُلِمْت أن ا سی بُنْ عَليٍ نوقَي؟ قَرَجُع القّدام فَقالَلََرَخْل: 
انَراا مُصِيَة ؟ قَال لَۂ : وَلِملا زا مُمِیمَة وَقَد وَمَعَ رَْولُ اللہ 9 فی 
حجرہء فقَال: ہڈا تی وَحْسَيْنمِْ عَليٍ؟فَقَال الّسْدِيٰ : جَمْرَةٌأفَا الله 
8ء فبال : فَقَلَ المفْدامٰ: ما اناء قلا ایخ اليْوْم خی ایک وَأْمََِک نَا 
تَکوَۂء مم فبان: یا مُعاوِیَأً! إِن انا ضدفك َصَیِقیي ء وَإِئ انا كَذَبْ لَکكذَتيٰ, 
قال : اَل 
قال : فأٰنيِدکَ بالله ء مَلْ مغ رَسُول الله بھی عَىْلیْس اللقب؟ قال: 
نَم .قَالَ:فَأَنيِدکَ باللہء تل لم أئ رَسُول الله 8 تھی عغ لیس الْریر* 
قَال: نَم 
ال :فأنيک باللہء ل تَغلم ا رَسُل الف تھنی عَنْ جُلزد البَبَاع 
وَالرگوّب عَلَيْهَا ؟قَال: نَعَم 
ال : فو الله لق رٹ هذ کُلَهفِيی بک یا مغا ِب َال مُعَاوَةً: قذ بد 
لن أنوَ نک یا مِفدامُ ‏ قَالَ حَالِڈ: فَأمَرَ ل مُعَاوِيَ بِمَا لمَأمر لِصَاجِيَیه ء 
َْرّكھا لقدامٌ لی أاہہ ‏ وَلَم بط الّسْیِیٔ 





اذا شیا ما أُحَذَ ء قَبلَغ ذلَکَ مُعَاوِيَةء فَقَال: اما اليفدام فَرَجْلُ كَرِیم بَسَطٌ 


َء وا الّسْدِي فَرَجْل عَسَنْ الإمشاک یه 

کیاقم جانے ہین بنپلی وفات پانگھے؟اس پرقرت مقدامٹجدنے ''ن للهوَإِنَِلَِ 
اج سو“ کہاءاس ینعی نے انی سکہادکیق ا سکومصیب ت بت بد؟أنپوں نے ا سکو 
فرمایا :اٹ اس با تکوکیوں :رمصعیب تککھوں جک رسول اوقہ یم نے نیس اپ یکود میں ٹ اکر 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


ف با یاتھا: یھو سے ہاو زی نکی سے ہے'۔اس برا مدکی ےکہا:ووایک ا گار تھا اللر 
پےچانے بھادیا۔ خال کے ہیں :اس پرمقدام نے معادیی کہا نع یلت مکو اس وق تک 
نی بچھوڑو گاج بک ککیمیں فص دلا ئل اورد ینہ سنا ول جو ہیں ناگوار ہو رف مایا : 
اےمعاو اٹل بات ثرو کرت ہوںءاگمرمی پ حکہوں نے می ری تصحد بی کر نااوراگرمی شبھوٹ 
لوت میربی تر دیرکرد ہنا۔ محاد ین ےکہا: ٹل ایمان یگرو ںگا۔ 
حضرت مقدام من نے فمایا: میں او دافم د ےکر پت ہوں :کات نے رسول الد 
شا سو نکی ممانمت ہک ای ؟ ا نہوں نےکھا: ال ۔ 
حخرت مقدام لی نے فرمایا: یں ا یدنم د ےکربو تا ہوں :کیاتم جات ہوک رسول 
اللہ شم نے نشم بے سے تن فربایا؟ ا نہوں ن ےکہا: ان 
حضرت مقدام یلد نے فر مایا: ہیں الشدکیم د ےکر لپ چا ہوں :کیاتم پان ہوک رسول 
اللہ لم نے درندو ںکی جلرکو نے اوراس پر ٹین ےت فرمایاتھا؟ أغوں ‏ ےکہانہاں- 

اس پرفرت مقدام ول نے فماا: قد ایم !اے محادبرائش یسب پوتہارےگم 
وبا ہوں۔اس پرمعادیہ ت کہا اے مقدام ! یھ معلوم ہے ہآ جع ممں تم سے جا ڈںل 
پچٹراسکتا الم کے ہیں :اس کے بعدموادیہ نے حر مقدام لہ کے لیے ات ما انم دیا 
کا ان کے دوسرے سراتھیوں کے لیے تدد یا اوران کے بب کاو یقہدوسود اردان لوگوں 
کے پرابرکر دیا۔ بی جعقرات مقدام ملندنے دو سب پکھھاپنے ساقھیوں می شی مکردیا۔ غاد 
کے ہیں :اد یکو جو طاتھادہ اس ن ےس کون دیا۔ یج رمعاو اتی اُنہوں ‏ ےکہا:عقدام 
ای کرٹ ہیں أنہوں نے اپ پت کول دی ہااسدی قدواپی کنا لیتق ے 
سجائے والاے“- 

(سنن أَبي داود بتحقیق الألبانی ص۷۳۸ حدیث )٥١٤٤‏ 
”اتا مُصیْمَة“ کا ات لکون؟ 

سن ابوداو کمن میں پ نی رن ےک یکوشش ت ہک کی لیکن تقیقت پچ رھ یی رونئی کی سض ابودادد 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





یش سے ”فان کہ لھا یلزا یکن ن ےکا رکا آپ اسےمصیبت پت ہیں؟ )نچ ایک اسدل 
شر ےکی ”مر ھا ال یھ“ (ودایک !زار ھت الشرنے بھادا)سوال ہے ےک اگر یوون 
غیرڈرئی ‏ غیراخلاتی اوٹع با ٹس معاو یہ کے علادہ دوسرے دننصوں ن ےکی تو حضرت مقدام ند نے معادیگ 
کھ رب یکھربی سنا کیوںشرو عکردیا؟دراصل ان یس سے ہی بات کے قائل خودمعا دہ میں ہی ا امام اج٠‏ 
امام رای ہیام این ع اکر امام ذبی ورس ا فی ؟ باد کاخ لکرد+حد یرٹ مس رفص رح موجود ہے : 

َقَال لم مُعَاَِةً : اَرَاا مُصِیَ 

”و مادیرنے ان لکہا کیا آپ ا لکومعحیبت جکھت ہیں؟''_ 
(سندأحمد(بتحقیق أحمد شاکر] ج۳٣١‏ ص٥۲۹‏ حدیث۱۷۱۲۳ءوط:[شعیب] ج۲۸ ص 
٦حدیث۱۷۱۸۹؛المعجم‏ الکبیرج٣ص٣‏ ۳حدیث۸٢٦۲؛تاریخ‏ دمشق ج ٦٦ص‏ ۱۸۷ء 
۸ سیر أعلام البلاء ج٣‏ ص۸٥۱ء۹۲٥۱‏ ؛عون المعبود في مجلد واحد ص٢۱۸۸‏ وط:ج ۱١‏ 
ص۱۹۰۱۱۸۹) 

کہ دوس اقول اسدئی نٹ نے ازخوڈنش سکیا ہلاس سے پو امیا اس نے میہف لکی خوانئش سے 
مطابقی جوابد یا أ پک کے می خود بادشادحلاصت محاوییی تےءأنہوں نے ہی اد سے پا چھا: 

مَا نول انت ؟ َال : جَمٰرَةأظفنْث. 

مت کیا کے ہو؟ سن ےکہا: ایک انار تھا بچھادیاگیا“۔ 

(سیراعلام النبلاء ج٣‏ ص۸٥۱؛المعجم‏ الکبیر ج ۰ ٢‏ ص ۹٢٦۲حدیث٦٦٣)‏ 

الال نے اس حدی ٹ لوج کہا ہے ہی اح شا اکر کھا:ا لک سنج ہے اورامام ذئپی رج ان علیہ نے 
فرما یا :ا کی سندقوی٤ے-‏ 

معلوم ہوا حضرت مقدام یا یٹس پرجی برہم ہو تھے جس نے ہی غیرشرتی اورخیبراخلاقی الفاظ 
ہونے تھے اورودمحاویہ تھے ۔اگرذ تن ای داد کے الا اگوی مدنظررکھا جا ےت ببھی سینا مقدام کا معادیے 
رگم ہوناقا تم ہے انس لی ےک گنو سے وقت تچروں کے تیر( 0۲981009×* ۴۹۵(21 )می روہ 
دکورہے تے۔ 

”شمل ِا یرش با یہ“ دراصسل محاو ہیاس اظہارضیال م٭**00×)اس لے ہو گے سے 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


کر ہو نے جن لوگوں کے سان ”اق را ممصیة“ (کیام سے مصحیبت وھ ہو۹ )بد وس ب ٹول سینا 
مقدام بن مع درب خٹدشائی تھےہأغہوں ن ےم نکیاکرسب ابل یس اپنے ہم خیال ہیں مین ضردری ن نل 
ہار ےشائی ان کےہم خیال ہوںکوئی نم ِيغاة“کامص داقن پھر یجس مس پٹ بھی و سک تھا 
سوالیباتی ہوا۔ ای لے ہانگکی 
فضربیش گسان‌ مب ےک خالیست 

شہادرت'امامنسن ایا ختٌل؟ 

یواتف دوسرے الفاظ ٹ علامہائن خکان اورعلامہ دمیری ن بھین‌ لکییاے اس میں ےک معاویے 
نے سیا امام سمل کی شہاد تک یتر نک کہا : 


راع قلبي. 
نفمیرےدلی نے راحت عاص٥‏ لک ہے 


ان دوفو لکتاوں میس بای نرکور ےک این عاس ینس وفت شام یس تھے ءا نغہوں نے معاوے 
کے چرے پہخوٹی کےا ارد ےو وج ہنی ءمعاد یرت ےکھا: 

مات الْحَسَن, 

ری 


(ملخصاً:وفیات الأعیان ج٢‏ ص٦٦‏ ۷٦؛حیاة‏ الحیوان ج١‏ ص۲٢۲۱)‏ 


ماغفاين صطنی وم -ےسوالات 

یہاں ب چو ل”اللْهُمْ ال ادا“ کےم یدن و مصتحین کےتمام عاشقان صلی پا ے 
سانئے الوم اورامی ئل سنت وجلالی صاحب کےسا نے بافضویش چندسوالات رکتے ہیں اورانیس لی لے اور 
رسول اللہ ما کا داد ےکر پو پچ ہی ںک دوامانت ودیاتت اورعدل وانصا فکو رظ کت ہو ئے میں ! 
اد یکر دم وب کے انتا لکومصبت تن ھن او أنٹس ا گار وق ارریے کےقول پر نشی رہناء 
اظھاینض ہے یااظمارکبت؟ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


٢۔‏ شہادت امام مت نکی کوبت نہجھنا؛أ ےکی راح تکہنا اورامام سن خول کو الگا دق ارد ہے 
والےکوالٹا یی د بنا د لکوتھا مکرایمان اورانتصاف سے بتا ےک امےقول مل سےتضور دا کواذ ی کی 
بی یاراصحت؟اگرراحت کت ےکاقو لکیا جا نواس پرشوت جن کیا جائۓے ودنہ تلایا جا ۓک اگ ررسول الشد 
ٹل کوایۂ ا نے والاکوئی صا یہلا تا ہق دوب ذیل ایت سے می ہت ے؟ 
الین بُوهُونْاللوَرَسْوَْه عَهُملل'فی الڈن وَال۷اجرۃ رَأَعدلهُمْ عَذَاب میا 
”یلگ جولوک اذ اپپچپاتے ہیں اللداوراس کے رسو لکوالل تی کی اپئی ررقت ہےمحردمکر 
د تا ہے ءؤ نیا بھی اورآخرت یل بھی اور ال نے تیارکررکھا ہے ان کے لیے زس اکن عذ اب 
(الأحزاب:۷٦)‏ 
۳۔ رییلس میں نب یکریم پا کیحبوب تین ستی کے بارے یس ایما تی انہارخیال ار ہدامت ٹل 
ےلضادیہے؟ 
۳ ا حد یٹ سید امام تن خیلدکی شان می لآ کرد و فور ا سے ہیں۔ا سک کی ری ہکن 
ہیں نین سب سے واحح ریہ ہ ےکہوہ ہوم وصورے“ فی یم تھے چنا ایک عد یث ہد ے: 
” سیداابیکرصد بی طف نما زعص یڑ ہکرتشریف لے جار ہے ےہ نہوں نے دیکھا 
کہہسیدنا ام نی لی چوں کے س ات کیل رہے ےت ا نہوں نے نی اپ اکند سے پہ 
أُٹھالیاادرفرماا:میرے وال دق بان ہوںہآپ ن یکرمم مآ کے ھکل ہیں لی کے ہ رشحل 
نیس ہیں ءاورسد کی تاد ہن رہے۔ 
(بخاري ص٤٣۸٣‏ حدیثٹ٣٣٣۳ءوص ٢٥٥‏ حدیث ۰٣‏ ۳۷۵) 
لپذوول یر ات رککر ای ںکرشک ل صلی نو کے اویل ہو ےکومصیبت ت ہنا یمان ہش بحبت 
اور رایت کاکونسادرجٍ ے؟ 
۵ نکر د۳ل نی انا بپچھول فر بای نیس در با رمحاو ہہ انگار ہکہاجاۓ اوردد شرف پیکٹ 
سے مس ضہہوں پگ الا اس من بیجن کو نیدی ء یش می لالہ کاانادربوے؟ 
٦۔‏ جم رحیو بت قکیکوب دا اپنابپچھول فر بای أنی سکوئی انگارہ چا کیا دازندی سك پآواز 
بلندرکرنے کےمراوفس؟ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


ے۔ اگ پھلوگوں کے نز د یک ایا ھا رخیال اہتچاد ہو یکونااجتتجاد ہے :ایک اجر ولا یادواجروالا؟ 
۸۔- اس حد یٹ ٹل محادریکا ول لعف بر ہدایت ہے باسیدنامقدام بن مدکرب نک زرل ؟ 
۹۔ اس حدیٹ یٹ ہ ےکسیدنامقدام بین محدیکرب مہ نے سونے ؛ر]م اوردرنرو ںک یکھال کے استمال 
کےہتفل مم انت نبوئی بیا نکی ذمعادیہ نے ُ نکی تر دید نکر :جس پر غہوں نے فرما یا اے محادیرای ہے 
سب پچھیتہار ےگھ می د سنا ہوں ماہبا لکیپھ یکوئی تد یکر کے اون دی تا ول ہش دو یھی کہ سے 
کہ ہہ زی ت ہار ےگھرکی خوا تن استعا لکرتی ہیں۔ چان حرت مقدام ایک شائ یٹس تتے اوردہاں کے 
ال وعالات نے اف تھے اس لے ان کے سان خودصاحب معام ہک بھی تر دید اورتاو لی نہ لی نی 
دوس رک ناو کیا ےگ ؟لنداسوال ام ہوتا کہ جب یچنوا یت ران بو ےکر نکااستدال 
ایت ہے یا ضلالمت؟ اگ ہدایت ہو ٹا بت کیج او راگ ہدای نیت رجلا ےک ”'اللْهْمٌ اجعَلة َاديا“ 
کیحتادرتولیتکہا ںگئی؟ 
٭ا۔ہ وہ ہارمحادیہ شی لآ نے نو تو ں اس یہی یکنا نہوں نے حرت مقدام لوک دوسرے دڑخنموں 
سےذیاددمال دیا الک مجگیاے؟ 
ال حفرت مقدام نے ددال اپ پا نرکھاادرستیوں می ضیکرد یا شگیوں؟ 
پارگا و متاد ہی میں تعمول فر بکاطریقہ 

کلاۓ صفائی قوذاہ مکی احاد ٹک اپنی اپئی تا وی کرت ہیں اورکرتے ر ہیں گ ےئیک نٹ لوگ ںکا 
تلم اس مقام پرگی یکا شکاریس ہواادر وت باتک گئ۔اسدیننی نےسیدناما مم نکی یکو ج ج را 
(ا ارہ اکھا تق کیو ںکہااوداا کا مطل بکیا ہے؟ ا سک یتشرجع می مول پیل اھ سہار ری اورموا پاش لق 
منلیمآباد کھت ہیں: 

فَقَال السدِئ: لیا لِرِصَاء مُعَايَة وَتَقرباِِہ ِعَمرَة فا اللّم تقالی, اي 

أُخْمَغا وَأَالَ شَرََ رُوِْقَ وَفَِِها 

”اسدکی نے محاو ےکی خوشفنودی اور ںکاقرب حاص٥‏ لکر نے کے لی ےکہا: دہ ایک اہگارہ تھا 

سےائل و نے بھادیا ]شی ا تھالی نے سے بچھاد ما اراس کےجھٹ کے کے شراورف کو ز انل 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





کرویا“_ 


(یڈل المجھودفیي حل سنن أبي داود ج۱۷ ص١١١٥۱ءوط:‏ ج۱۷ ص۹؛عون المعبود في مجلد 
واحد ص٤‏ ۱۸۸ وط:ج ۱۱ ص۱۹۱) 
تب ےک رج کےقی می حھادیی ءمہدی اور ”و اد بے اس کےذرمیج اورو کو ہرامتادے ) 
کے الفاظط بی دعا اوک یکیاک یا ہے أ کی بارگاہ مس تق رب اورخوشنودبی کےحصو لانیک مر یقہبییگی تھاکائل 
بی کک را مہم السلام کے خلا فبھراس ٹا کے جا اور دی دم ہدک یکی بارگا کارب حاص٥‏ لکرتے چا 
ارشام نے ال ہی تک قررتگی 
ایل حدیے عا لیٹس ا نیم1 ہاو کھت ہیں: 
َالْعَجَبْ کل الْعَجَب می مُعَارِية نَا عرَف قَذرَ اَل الَیْتِ عم قَالَ 
ما قبالء إ نٹ الس بن عَلیٍ رض الله َنه ِنْ ام الْمَصَاِبٍء رَجّزی 
الله الْمِفْدَم وَرَصِي عَنه لها نگٹ عن تَکلمالْعَق خی أُھَرَه ء رَهگذا 
مان الژین الال النخصِ. 
”معادیہ نب اوررت ہے؛أ غہوں نے ال می کی ریس چانی بک ہآ ہوں نے وک پاجھ 
کہا۔ ینک سید سن من علی جال وکی وفات بڑکی مصیبت ے۷ اللہ تھا لی ضرت مقرام یل کو 
زا خی رعطافر ا ہ بلاشبرد وف کے انار نا مو ضددہ کے کہ سے ظاہرکردیااور 
بی یکا لیس می نکی شان وی ہے“ 
(عون المعبود في مجلد واحد ص٤‏ ۱۸۸وط: ج ۱۱ ص۱۹۱) 
حادکی مود کیک انصار یپپچڑے براسلوک 
قرآن بی انصاریٹےکیھی لسن الا ولون فر ماگ "اہ نان امیرشمام نے ان کے سات گی اچھا 
سلو بی سکیا تھا اوراحاد یٹ مبا رک اس نارواسلو ککی بی کوٹ یبھ یآ گی ہے۔ چنا نیرسید ناس ین ما لک 
ید ماا نکر تے ہی ںکرسول اود نے انصار ہی فکوفمیا: 
ِنّكُم مَتَلقوَْ َعَديٰ ار ء اض رؤا خی تَلقَونيَءوَمَوْعِدكُمْالعَوط. 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 





د۱0 ظ2 7 7۳2۳92 
ہار ےتھہارے لن کی وش سے“ 3 


(بخاريءکتاب مناقب الانصارءیاب قول النبي ہل للاأنصار:اصبروا حتیٰ تلقوني علی الحوض+ 


حدیث۳۷۹۳) 
علاءے "أَة کامت کیا .ما کیم مق پرددسرو ںکوت چا دئی جا ےکی ۔ چوکہ ینید جن کی 
تی او سجن ل قرب سے تی اذا لکائنقر جب پوراہونا ضردری تھا عوال پیداہوتا ہ ےک یرکب پورگ ہو 
اوراصار کےسساتجھبہاروااور گی لو ککب شرو ہوا؟'امی راب سنت سے القماسی ہ ےکہوہذرا فور ے ملا حظہ 
ف انی ںک انار یہ کے اعد اس ترچجی سلو کا مرتکب پ شی سکون تھا ملعلی تا کی وش عبد" تی یرٹ 
دلو یمڈیکا کے ہیں : 
َال الیْمَرِيٰ: کان طذہ اکر فِي رن مُعَاوِيَة 
”علام جھ کی فر مات ہیں :ری شی سلوک معاو کے مانے میں ہوا 
(شرح الشفا لعلي القاري ج١‏ ص٦۹١؛مدارج‏ النبوةص )۲٥٢‏ 
کن ہک بگ وی کسی بااد نٹ شکوطمی قاری :ٹن بدا سیرث دولدتی اورعطا ری سے قول 
سے اففاتی نہ ہو ہم ابی نام فہاد باادب لوکوں کے ساس ےکتب عدی ٹک تر پیٹ بے دیے ہیں۔ امام حا 
رت ال علیہكیجت ہیں: 
عَنْ مِقسَم أن ایا وب لی مُعَاوِيَةفَكرَله خَاجَة ء قَالَ: اسب صَاجبَ 
عُفمانَ ؟ قَال: اما ا رَسُوْلَ الله قد أخَيرَن اه سَيْعَِيَْا بَغقۂ اقَرَةَء قَال : وَمَا 
اُمَرَكُم ۷ فال: أمَرَن ا ضر عَى نَره غليهالْوْضء قَال : فَاصْبرُواء قال: 
قغْضِبِ ابو ايوْبَ ولف ان لَايْكلْمة ادا 
تلم موا نکرتے ہی ںکنضرت اباب انصارکی لے نے ماد کے پا ںآ کرای 
کوئی ضرورت ذکرفرمائی نذمحادیہ ن ےکم ہکیاتم عثان کے تا لککیں ہو؟ل(معاوی رسب انصار 
ری کوالی ایت تھے )حفرت ااوالییب ینہ نے فر مایا :ہیں رسول اللہ ذف نے تردی یت یک 
آپ کے بت دتنقر یب “یں شی سلو ککاسام ناکرا ہوگا۔معاد یٹ ےکھا: ادیپ ن ےکی ںکیا 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ جا‎ 2131331. 





تم دیاھا؟ف مکی ںآپ نے مرکا دیاتھا۔ معادین ےکی چق مرکرو یش کک ہیں٠‏ 
ال پرنفرت ابواہیب خلت ضب ناک ہوۓ اوح مکھائ یک وویھ بھی معاویہ کے س ات کلام 
یں کر سے“ 
(المستدرك ج٣‏ ص ٥٥۹‏ ءوط: ج٣ص ٢٣٥٥‏ ءحدیث ٥۳٦؛حیاۃ‏ الصحابة للکاندھلوي ج١‏ ص 
۷؛المعجم الکبیر ج٤‏ ص ١۱۲ءحدیث٦۳۸۷)؛مجمع‏ الزوائد ج۹ ص ۳۲۲ءوط: ج۱۹ ص 
٣‏ حدیث )۱٥۷١ ٢١‏ 
اما طبرالٰی یبن روابات شی ہ ےک می بن ول سیا ابوایوب انارک مل نے معاومہ کے سا نے 
اپنے مرف ہون ےکی شکای تکاگا۔ 
(المعجم الکبیر ج٤‏ ص۱۱۸ءحدیث۳۸۰۲۲؛مجمع الزوائد ج۹ ص۳۲۳ءوط: ج۱۹ص٣ ٣۳٣‏ 
حدیث١١۷٥۱)‏ 
ام ھاکم اورامام ذبی دوفوں نے ا حدی ٹاو جکہاے۔ 
(تلخیص المستدرك علی المستدرك للذهبي ج٣‏ ص )٥٦٠٠٠٦٥٤۹‏ 
آگےاسی سند کےساتحھ بعد یث دہ باروتخصیذ آئی ہےء اس یس ہ ےکرسیدناابواوب انصاری تہ سرز جن 
روم یش چہادییش نشرک ت کے لیے جار ہے تھے 
ٹیس ا نکاگرمحاوہ پر ہواتمعاویہ نے اُن سے زیادئی کا ءچھردوغزوہ سےلونے تی 
نہوں نے ان سے یا دی کی اور نکی طرف سراٹھکرکھی ندیکھا“۔ 
(المستدرك ج۳٣‏ ص ٥٤٤‏ ءوط: ج٣ص ٢٢٥٥‏ ءحدیث )٤۹١٢‏ 
ریہ جاور گی سلوک صرف سید ناالوایوب امصارکی کک عی محدوددشہر پاب سید نا یسح رخدرق 
افصارتی لن ن بھی موا وہہ کےسا نے رحد بث شی کی انی لپھی محادیہ نے صا فکہددیا: تم ھب رج کرو 
(مسندأحمد(شاکر ج۰١‏ ص ۲۸۱۱۲۸۰ حدیث۱۱۷۸۱) 
سید عباد بن صامت انصاریی ہیی ایک وت پر بعد یٹ کر نے پر گکہاگیا- 


(تاریخ دمشق ج١٦٢ص١ 0٣‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ طا‎ 2131331. 


سیدناا بَا دوانصارکی یٹ ہکوگی الما یکہاگیا۔ چنا ناما مبدالرزاقی صنعانی لہ کھت ہیں : 

”ام سعف سید عبدااش بن ممرب نگل بین الوطالاب چپ سے روای تکرتے ہی کہ 
معاو یہ جب ح ینیمنود ہآ ۓ و ا نکی طاتقات سید ناالوقادہ انصارکی "ند سے ہوگی؛أنہوں نے 
ان سے پو چھا:اے انصاری جماعت !سب لوک بے ۓآ ے میا نم نی ںآ ہے نہیں بے 
سے طاقجات ےکس جیز نے ددکا؟ اہول نے فرمایا: ہا رے پا سواد یا ںیل ہیں معاویہ 
نےکھا :وشیا ںکہا ںنکیں؟أنہوں نے فربایا: 

غَفَرنَاقا فی طُلبک وَطَلبِ أیْک َو بَذرِء قال: لم قال أُوفَادَة : إِن 
رَسُؤل الله 8 فان لَسَ :بنا آَری بَغدۂ َء ال معاِية: مات رَكُم ؛ال: 
رن ان ضر عَی تَلْقَّۂُء فَالَ: فَاضبرُا ختی تَلقوٰۂُ 

انیل ہم بدرکی جنگ یں تہارک او تہادے با پک اش مک پاچ ہیں ۔رادل 
کے ہیں :سد لود لہ نے فرمایا: رسول اللہ مم نے تی ف مایا تھا ا مآپ کے بعد 
ترشچی لوک میں کے معادرینے و چھا: نچ رآپ نشی ںک ام دہاتھا؟ ا نہوں نے فرمایا: 
شی لآپ ٹڈ نے اپنے ساتھطاقا تک کب رکرن ےکا دیاتھا۔ معادری ےکہا: پچ رم آپ 
لہ کے سا تج عطا ظا تک نے کک نھب رکرو ریہ بات ححشرت کال رتمالن بکن مان رن ات 
انار شی اکا کےفرزن وی 2 آنہوں نےےفرمیا: 

ل ادِغ مُعَاَِهَبْنْ عَرْبِ أیْر الْمْوْمِییْنْ لت کلام 
فإن صَإبرٴوْو وَمظِرْزْكُمْ إلیٰ نوم الْعَابُي وَالْجسَام 
”نشم ردارامحواو بن رب امیر ال نکومراکلام تیادہ یگ گہ مصاب اور حا ح 
کےد نک برک نے وانے ہیں اورقہارااتظارکر نے وانے ہیں“ 





(المصنف للامام عبدالرزاق ج١۱‏ ص ٦٦حدیث۱۹۹۰۹؛الاستیعاب‏ ج٢‏ ص۷٤۲؛تاریخ‏ دمشق 
ج٣‏ ۳ص٦۲۹؛تاریخ‏ الخلفاء للسیوطي ص۳٣۳۳؛عون‏ القدیرمن فتاوی ورسائل ابن الأمیرج ٥‏ 
ص )۴٤٤٣٣٣۹‏ 


ری تحصب سے الا ہوکر می سک اصار یٹ کے ساتحایے جفا ناروا لوک اور نکی تج لی لکوک کیا 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ طا‎ 2131331. 


جائے بحیت یاعداومت؟ اد ےک انار یدوم بارک مطبقہ ہے ج نکی رآ نکریم می اح چا یگ ہے ۔ارشاد 
ای تھالی ے: 

وَالصابِقومَ ول من المُهاجرِين وَألَصَارِوَالِْن اَعْرْهُمِْإحسَان رَضی 

الله عَنهُمََْرَصُواعَنمٌ 

”اورسب ےآ گےآگے سب سے پیل پیل امان لانے وا لے مجر بین وانصارے اوروہ 

جنہوں نے پروی یکی ا نکی مدکی سے راضشی ہوگیا تی ان سے اورراشی ہے وہ اس 

سے ۔(التوبة:١١٠)‏ 

اتا حا محبت کے لفیزی ہہولی جس انصار خلہ ےعحب تکوا یما نکی نشالی اوران سفن سکونفا کی علاصت 
فرب گیاے۔سید ناس بن مالک نہ جیا نکر تے ہی ںکرسول الد پل نے فرمایا: 

آية یمان خبٔ النصَارِوَآَةُ القَاقِ بنُسُ الّنضَارِ 

”اففصار ےےکبت ایما نکی نشانی ہے اورانصار یٹ ے لف منافق تک فشانی ہے '۔ 

(بخاري: کتاب مناقب الأنصارء باب حب الأنصار؛ ص٥٥١٦‏ حدیث ٢‏ ۳۷۸) 

اب ایک طرف بفار کی لال حد ی ٹکوسا سے یئ اورددس کی طرف سیدناابو ایب انصاری:سیر:االسپر 
خدرگی انصارگی :سینا عبادہ بن صامت الصارگی اورسی تال وظادہ انصصاریی چپ کے ساتھ پرکورہ الا ٹارواسلو ککو 
امن رکوکرخود یقاس ةعد مٹ پا لک ردےال٣اخگیاے؟‏ 

امیرشام نے میز بان رسول سیدناابوایوب انصاری ید ے اس فرنارواسلوک نکی اکا ہوں ن ےک مکھا 
کرکہا :دہ پیش کے لیے معادیہ کے سسات ھپ رکلام نیس ہوں گے .را تم روف التمائ سک رتا ےک ایک مجح مث 
پک یش دوبارفودفر کراپ آپ سے پ چین ےک رجح پ۲ کا شان می الک جائع دھا کی وکیا اس ےی 
ہستیوں کےسات براس او لکن ہے جو(بقول شا) یس ےبھی زیادہہدایت یا فنداورانعام پافیتیں؟ 
میز پان ٢ئ‏ کا اورسی نا امن عانل مھ 

بیہاں ىہ با تبھی ونظرر ےک می عم رسیدداور تید +میززبان رسول سینا ابواییب انصا ری جال داتعہ 
کے بعد بصروتشریف لے مع تووہاں ا نکی ملاقات سید نا داہن عیا ںیہ ے ہو ءاوردہ ال وقت سیا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





تتست 


ا انا اب ِي ره حرج لک بن مکی کم حَرَجُت لرَمُولِ 
اللٰه نفلاء فَأر اَل فعَرَجُواء وَأعطَاۂ کل شَيءٍ کان فی الذارِ ءفَلَما کان وَفٹ 
اْطلاقہ قال:حَاجَنْکَ ؟ قال خَاجَحئ عطالیٰوَتَمَاييةاِْبَعملُوه فِي ارح 
کان عطاۂ ۂ ازع ة ال نَأمْعفهَلذ حَشسَ یزار وَأطَۂ عِشْرين الف رین 
عَبدا, ۱ 

”ناے ااوالییب ا چاہتاہو کہ جآ پک ناطرأی رع اپنےمسکن ےئل 
جانؤں جن۲س رح آپ رسول اولد ا کی خا نل گے تھے :نچ نہوں نے اپنے اٹل دعیال 
کوکم دا ذو ولگل گے اور جردہ یز جوکحھیش مو جوڑھی دوچھی ُننیں کے لے بوڈ گے بج رجب 
جانے ا کہا آ پک یکوکی اد ضرورت؟ ا غپوں ن ےک می راوطیفہ اور خلام دج ری 
ز شن یکا مکرریں۔۲ نکاوطیفہ ار ذرادد ینا تھا تا سےسیدنا این عیاس پا نے پا گناکردیا 
اور یش ہیں برارد ینار ویفہاور چا لام وے“_ 


(المستدرك ج٣‏ ص ٦٤٤‏ ءوط: ج٣ص٥٥٣٥حدیث٥١٤۹٢)‏ 
لاچ کےساتحوسلوک کے بی ڈھو ن ےپ کے سا سے ہیں ۔ ایک لوک موادیہہ دوس رسکی ابی 
عیای۔ایھان وانصاف سے فرماپیے !ان میس سے سخ ںپھراسلو کک کا ہے ؟ سینا عبدالہ جن یل و کایا 


یھ ک جس کے بارے می ”الم اجْعلة ادا کی دھا کا وو کیا جاجاے؟ 


تالق کی رف دع وک کی مبدت پرخاموتی ؟ 


اما مشگھادئیءامام خطای اوراما می رر الم کل سند کے ات کھت ہیں: 

الْوْرِي عَیْ أبیْه عَنْ عُبايةفَالَ: هر قَتْل ا الشْرَفِ جِنْذ مُعارَِةء َقَالَ:اْ 
یَأی:كائ قََلَهغدراء َال مُحَمة بی مَسْلَمَة : معابۂ رمک رَسُزْلْ 
الف تم لا تُکز وَاللٰہِلَاْطلَي راک سَفف بَیّت ابداء ولا يخْلُولِیْ مَم هد 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


090 
منرت عبایہبیا نکر تے ہی ںکمماو یہ کے دد بارش شکحب بن اشرف ےق لکاوکر 
بواتقذابن پان ن ےکہا: وہ وو ک کان تا اس بر تقرت مین مسلمہ نے فرمیا:”اے 
معاو را تیرےسا نے نیکریم نا کی طرف دم وکیکی ہس تکی جارہی ہے پی یھ ی تن نع نمی ںکر 
رے؟الشی ام او ھی ایک یت کےساررٹش میں ہوں کے :اور یی بھ یبھی 

تھا لگیا یں ا سک لکردوںگا“_ 

یداع ما نکر نے کے بدا تی رم ال علیرن ےککھاے: 

اب کک جو بے اس مل ٹس جیا نکر چک ہیں اور جونقر جب جیا نک یی گے ال 

ےکپ بن اشر کی غدایی؛ ا کی ع ٹنیا کی کری مل اورآپ کے سحابہ طز 

ا سکی تضور ما اورس پرکرام یہ کے سا تح عدادت اوران کے خلاف بجن کا نے وغیبرہ سے 

ا سن (ابن اشن ]کاکذاب ہوناءا کی را ےکا براہونااورال کےقو لکا شع ہونظا رہ 

جا ۓےگااورحب بن اشر فکا تق ہو ققق ہو جا ےگا 
(شرح مشکل الآشارج١‏ ص٠‏ ۹ حدیٹ۲۰۰؛معالم السنن ج٢‏ ص۳۳۷؛دلائل النبوۃ 
للبیھقي ج٣ص۱۹۳)‏ 

اس واقےگوعلامہائع یب :امام بی اورعلا مجن تیم ن بھی وک رکیاہے۔ 
(الصارم المسلول لابن تیمیةص ٠‏ ۹؛السیف المسلول علی من سب الرسول للسبکي ص۲٣۳؛‏ 
أحکام أھل الذمة ج٣‏ ص۸٤٢۱)‏ 

بی بن سلمہ یہ دہ ہیں جنہوں تےکحب بن اشر فک کاتھا۔علا مان سیر نے ان کے وا کال 
تفحیلع بجی مظریا نی ہے۔ با جولاگ حديث”اللٰهُمُ اجعَلههَادِا مَهُلِيا وَامد ب۸ یت ے 
گی ہیں ہمان ےسوال کہ جب معا وہ کےسا نے رسول اوفہ ول کی طرف جھوک ہک ند تک جاردیاگی 
قذ اس وقت و دعاکی مقبولی تکہاںگئی ہوئیشی اورامی رشا مکی خیرت اسلائی بحبتہ کی مل ادرحاد مت 
ومسدی تکہال چک یگی؟ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ طا‎ 2131331. 


امام گی رحمت ا عل کی ایک تاویل 
یہاں امام مکی رجم ال علیہ سے و حدم مھ برایک خلطماویل ہی پیل نہوں ن ےپ اک وا کی نے 
اس واقہکی بت در بارمروا نکی طر کی ہے بکان دوسر ےتا ممحقرات نے ود ارمعاو بش دی ا لکاوقً 
ما نکیا ہے ۔ لھا ہے : 
لعل مَروَان أُومعَاوِيَة۔ إِنقَتَ ان الفصّة کاٹ ند إنمَاشگٹ عَنْ 
لم یرہ ان ون ابْیَاِیْن إِنَمَا نسَبَ الْفدر إلی ان مَسْلَمَة وَأَصْحَابء 
و َحقُق بنا نَسبَةإِلی رسُولِ اللہ َلميَمََنتَ فِي قلہٍ 
شایدمردان بامحادریہنے ۔اگمرغایت ہوک داقن کے سراتے می لآیا۔ مہف کو 
فن یرنے سےاس لیے باز رہ ےکہأ نو نے سکچھاکہاجن پان دوک کی فمیست ان سلمہ اور 
ان کےسماتھیو ںکی طر فکرد ا ہے :اگ رن پروام ہوجا کال نے وو ہک خہعت رسول 
الہ ٹا کر کی ےووہ سک کر نے می تو قف شک ہے“۔ 
(السیف المسلول علی من سب الرسول ص۳۰۲۴) 
امام گی راع کی اس تا وی لکاشع او کلف پپٹی ہن پلک وائعح ہے کوک سیدن بن سلمہ حول 
نے واخطکاف الفاظطا ۲ فر مایا تھا: 
َامَُاوِيةْدر عِنْدَکَ رَسُوْلْ الله ہنُم لا تُکڑ ؟ 
”اے معا وبا تیرے سا نے ب یکریم اق کی طرف دوک کی بس تکی جاری سے پگ رنج ینم برا 
یں مارے؟۔ 
یں پرامرشام نے اتی وضاح تکرناچھ یگوارا نہ یکہ :اھب نل مہ ایآ پک طرف ل9 لنبعت 
کر ا ےحضور نا کی رف یں ۔أ نہوں نے فذاس عدکک بے پروائ یک یکم بن مسلمہ لہ نیس اس 
گمتاٹی پہر ا قراردتنے ہو ہا ںت کک ہس ےکم اورق بھی ایک جچھت ےئ نی ہوں کے نان اس 
کے باوجودمعادیہ نے این پاش نکوڈا ظا کنیا لکر نت ھکھاء بعد یہ ہ ےک ہا غہوں نے اتی ذات سےکھی 
تھست پاغایڈ یکودورک رن مناسب نہ مھا ۔ک یاکوئی عاشقی رسول مھا سکنا ہےکات بڑے واقہ برا قد رما موی 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


میںآ خررازکیاتھم؟؟؟ 
تجب سے کہ ہوارے ات ان لوکوں کے ناجاتزدفاع میس بے گی جاو یلت میس شخول ہوجاتے ہیں 
جنہوں نےمضبروں سید نمی یرتشم اودلع ہکرت ےکرائ ےکورم بنالاتھا*ھالاحک ہچ عدیٹ ہ ےک 
جس نے کوس کیا اس نے ےس ہکیا۔سوایی لوکوں سےکیا تق ت کی چانقی ہکوہ یکتا کڈ لک ری 
گے۔ جوصاحب اس ق یلیم یاعلم تےکر یکتا غکوٹ ھکنابھی ان کیعلم کے مناٹی تھا ئن سے میٹ کر کہ 
دہ متا غ کو کر یں کے انائی سادگی ہے۔ ہاں جن ہستیوں(معاذاللہم ےک یکستا غکوفیالنارکرن ےکی 
قٍ کی جالکتی ہیتزدددہ ہیں جن کا کر فو دا ىگی رق ال علی نے لو ںکیاے: 
وا یل ا َال :إِی تَا یل درا ء وَقَذ قالَ دک قَال فِيُ مَجلسِ 
عليْ من اي ال فَأمر یہ لی فَشِٹ لق خکی ذلک الشيمغ کی 
الین يد اعَظیٔم المْذِرِيٰ رَحْمَة الله علیہ فی حَوَاغِي الشْسَي, 
نی کوناجا نیل ہ ےکیکحب بن اشرف دوکہ تتے کیاگیاء الیک مرحی یٹ نے 
بجی باتسیدنا کی لن الی طااب پناس م کی نو سید لی بة ےم سے ا سک یکردن 
ُڑ اد یکئی ٦‏ بات امام زی الد ین برای من ری حم ال علیہ نے سطلع ابی داود کے حاشیہ 
یش میا فربائی ے'۔ 
(السیف المسلول علی من سب الرسول ص٣٣۳)‏ 
ادکی ءم ہدرگ اور-ود؟ 
مھا جربین وانصاراوردوسرے الا فکرام یہ مح کات اورشحخیبات بھی اجقاب فرماتے گر 
آپ تق ران ہوں گےک جن کے بارے می ”الم مه ماد م-ِٰ کی دعاے نوک مل کاوگوکیکیا 
جات ہے ان کےسا نی نز کےسوداورترام ہونے کےیتعلقیص رس فرامین مہ بھی پیٹ کے جات نوہ 
تاد یلا تکر ن ےک جات ۔ ال لے می لب مآپ کے سان ےکتب تار ےی بل رکب حدبیٹث سے چنرشواہر 
رکررےیں۔ 
ا ام سلم رع اع کھت ہیں: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ طا‎ 2131331. 


'ابوظاب ما نکر تے ہی ںکہ می لک شام ‏ لوکو ںکی ای کس مس جیا ہوا تھاکہ 
اپوالا شدث نش ربیف ا ۓ ملک سکینے گے :اوالماشدث اہوالاشحت ہ ہا لم کک دہ بی ےت 
یس نے اُننیں عو ضکیازاے ہمارے بھائی: آپ میں عبادہ بن صاص ت کا حد یٹ بیان 
فرماہیں ۔آنہوں ےکا اں: م نے ایک چھاوکیایس میں محاوریلوگوں کےامی رت سکیل 
بہت مال مت عامصل ہوا أ س می ل ایک چا نٹ یکا بت بھی تھا جاب محادی نے ای ہن کو 
عم د اکا سکولوگوں میں ؤُ نک یذ ا: کے عو فر وخ تکرددولوگ ا لکوخر یدنے میں جلدگگ 
کرنے گے۔ یٹ تفر تعبادورکن صامت تل ہکو یذ وک ےہوکرفرمانے گے: 
تيْسَمِفث رَُوْلَ الله لیَنْھلی غنْ یع الع بالذبِ وَالْْصّةِ 
لْفْصَةء وَالبْرب مر پالڈمیرء ٹر بائٹر زالملج لمج إا 


مَنْ زَا أُوإِزذَاةَ قد ری ء قَوَڈ الس مَا أَخْلُوْ 





َبُغ ذلکَ مُعَاوِيَة ام حَطِْيَ َال : الا ما َال رِجَالٍِ يَمَحَقُونَ عَن رَسُوْلِ الله 
۸ أخادیث ‏ قد كُن نَمْهھَذُه وَنَضَْعبْۂُفَلم نسمَمُھ ينهءلَقمَ غَادَأبْنْ 
الشایت فَأاد الصة ء تم فَال:لْحَدِقَنبمَا سَمغن مِنْ رَسُولِ الله ہل وإِنْ کرٰۃ 
مُعَارِيَةًء ُوقَال: وَإِن رَغِمء مَاأَليٰ ال أصْحَیا فِي جُنوِلبلةُسَوْذَاء 

”مر نے رسول اللہ می کوفرماتے ہو اھ آپ نے سو ےکواسونے ؛ چاندا 
کو چا نی کن مکوکنمم: جوکو جو گجورکیجوراون کفکانک ہے نے ھب سے٢‏ عکیگر برابر 
داماد ان حوش نے زریادودیاازا دواد ودکامگپ ہوا۔ لی لے ھ 
پچجولیا تاس بکاسب وائہ ںکردیا۔ا لکی اطلاح محاد یکن نود خطبردینے کے لی ےکیڑزے 
ہوے اورکیا: لوگو ںکوکیا کیا ےکردہ رسول الد خٹََ کی احاد یٹ بیا نکر ناش رو کرد ہے 
ہیں؟ ہم ن بج یآ پکامشاہ دکیاہے ادرآ پکاصحبت مر ہے نان ہم نےآپ سے یہ 
اعادیی مل ساس پرسیدنا عیادہ لد ۓےکھڑرے ہوکردویادہ سی حد بی ثکاعادہکیاء چھر 
فرمایا: ہم ضرورہاللضروردہ احعادىیث جا نکر بس گے جوم نے رسول الل می س ےکی ہیں٠‏ 
اکر چردہمحاد یکا نا ند ہول یاف اکا لک ران :- تگال با ت کون پرداد لکشل 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


09۵ 
اس کیاکی سیاورات شل ترہول“۔ 
(صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعة ء باب الصرف وبیع الھب بالورق نقدأءص ٢٤٣۷ء‏ 
حدیث )۱٥۱۸۷‏ 
جات عام 
سید عبادہ بن صاصت لہ سے عہ یٹ سے پر رڈ الام تھا حا( لوکوں نے جو پھولیاتھاوالییں 
کردا )یر میں اتی حا رص اد عل کھت ہیں : 
بل عَلی قشخ هذہ ابع اْقَاِدة 
نواٹ کر نے کا لاس فا سدق یدوفر وشت کے سادا تک رتا ہے 
(اکمال المعلم ج٥‏ ص۸٦٦)‏ 
نووی ای جملہ کےعح ت کھت ہیں: 
هد ذلِْلْ لی ا الیم المَدُكُورَبَاطِل. 
”ىہ رکوروخر یدوفروشت کے اٹل ہون ےکی ریکل ہے“۔ 
(المنھاج شرح صحیح مسلم بن الحجاجءج۱۱ص۱۹) 
اوفلوگوں نے جو اس بر کشر ید نے یس جلد کی :اس پرا ما اوا لحاس رٹ کھت ہیں: 
َمْوَیَڈلُ علیٰایة َء ء وأ الاحُترَالْجَْال الا تری مُعاوَ یہ 
قنذ مھ ڈلک مع صخبیہ ء وکؤنہ من کاب الوَخي ء وَيَخْحَملَ أنْيقَالَ:إِنٔ 
مُعَاوِیَة تا لا بمری را الَصْلِ کان عَّاسِ وَعَيْرہ. وَالّوََ أظْهَرْمِنْ مَسَاقی 
ذلک. 
”نی جلد زی علا ءکیقلت اورجہلا ء یکرت پرداال تکرکی سے کیاتم معاویہ یچ کو 
میں بت کر دوسحاپی اورکاتیان وقی یش سے ہونے کے پاوجوداس مہ سے چائل رے۔ 
اقال کہ یہاں کہا جا ےک مواو یہر ہلل می سور جک تھ :جج اکہائن عیاس 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ لجا‎ 2131331. 


ویرہبنکن پہلاقول عدیت کمت نکی رو سے زیادہ اہر ہے لاق بھی افص می ںو رکرو 
کیو اس میں تر ےک ماد اس ملس می چوک یملس تو“_ 
(المفھم لأبی العباس القرطبي ج٤‏ ص٤۷٤١)‏ 
معاویرنے جو یکاکہع بھی رسول اللہ م کی امحبت مم ر ہے اورآپ سے اعاد ٹن ہم نے 
آپ نر سے بعد یٹ ک۔اس پاب حدیت عال ہف یلان مبا ورک کھت ہیں: 
لکن عَثمْمَایہ لاس ايل علی عذم سُدرْرقا من رسُزلاللفقء 
کم صَدر من ف8 من فو أُفغلٍِ لم َنْهَذۂ مُعَاَِهوَلميَرَهوَلمْيَسْمَمْة 
''حما يک ضور رق ے ال عدٹگاعدم ما ال با تک رد لها ل/برحد مٹ 
رسول ال نَم سے صادرحیننیس ہہوئی۔ بہت چج رآپ لق سےقول وش لکی صورت یل 
صادرہوا چیک معاد راس وقت حا ضرتھا نأ ن ےآ پکود یھ تھا اون یآ پکو اتا“ 
(منة المنعم ففي شرح صحیح مسلم ؛ج٣ص۷٦)‏ 
زیادہہرابیت پرکون ‏ ادگ مہدییارمایا؟ 
اس سے علوم ہواک راس اط لف یدوفروشت کے وقتلوکوں نے ”ادا مهدیا اد یہ“ کی رایت 
بس پک سیدناعبادہ ین صاعت حپلدکی شی کرد حد یث بی لکیاءاس سے وائ بواکرمحاو کی رعایا کپ 
لوک ان سے زیادہ ہریت پر تھ اورسیدہعبادہ جن صاصت انصا رکی گی رعایائیں سےایک تھے 
کیاو ٹیل القدرعلا وی سے کمے؟ 
یلک ای عدمدے ”الم عَلَمْ مُعَاوِيَةَ الَْابَ''(اےاللرامعاو یلق رآ نگھادے )کا 
بیطلا ن بی وا 2 ہوگیااور بھی جایت ہیا کہ ووشیل القدرعلاء ٹس ےنیس تھے بلمہ دوسرےجعقرات ان سے 
پڑےعا لے 
مض زاین یاداْتین نے دفا حکرتے ہو ےکی نہک ٹوا کھائی ہیں کی ن ےکہا :وہ اس صورت 
می موی س کھت تھے گوا کرای[ لوگ انی منصب اہتجاد پر وکا نا اچچ میں ۔ککیا ن ےکھا:دہ چلال 
حدی ٹکو جات ےنیس تے۔ می سکہتا ہوں :اگرونی جات تاور بیقر ننس جا تھے ھکیس چا یی تھاکہ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ طا‎ 2131331. 






وولوگو ںک کی ےکن الال رک جاؤ الیک عد یث سا تنا ئی ہے جس مس جےفنک ہے نی نکر لیت ہیں بعداز 
تی ھا جا ےگا کس پبلد پ۰ لکیاجاۓ لکن انیس تق حاص لی تی .اکر چان کےعلمکاڈھنزورا 
پا جاا ےگ یہاں ان کاعلم جواب د ےگیااوا نہوں نے بلاحا ٹل السابقون الا ولون جس سے ایک نقیبپ 
انار صحال یک کن بک ڈالی اورحد یث نوک لی رو انی نہک ۔ ایک حدیث ملتیہا ںک کآیا ےک 
سید عبادہکن صامت لہ نے حد بث ئن کیو محاد یر ےکہا: 

ندال َهُژلُ یت ِعَاة . فَقالَ عبَادةُ :إَِی وَالله لا لی ا لا کون بازض 

وم لها معَاوَِة أفْهَد اتی سَیمث رَسُول اللہ بَقُزلَ ڈیلک. 

”رسول ال شال نے ىہ بات عباد زیڈ لکی۔ااس پرسیدن عیادہ یچ نے ربا :ال کم بے 

پروانئی سک می اس زین می نہرہوں جہاں معادیہ ہوء لگوائی دیتا ہو کہ مل نے رسول 

الد لم کوہیفرماتے ہو ےنات“ 






(سنداحمدج٦١‏ ص٤٤٣٤‏ حدیث٢‏ ٢٦۲۲؛سٹن‏ النسائي المجتبیٰ ج۷ ص ۲۷٢‏ وط: ج٤‏ ص 
۹ حدیث ۸۰٥٥؛السنن‏ الکبری للبيھقي ج٥‏ ص۲۷۸ ءوط: ج٥‏ ص٤٥٥‏ حدیث١۸١۱۰)‏ 

ایک ادرعقام پ ےک معادمینے سید عادو دہاز 

اش عَن ہھذا الْحَدِیْث لَلَانَدُکُرٰۂ ء فَقَالَ لغبَادَۂ: بلی ء وَإِن رَِم ان 

”ناس حدیث کے با سے نا می افقیارکرءاس پرسیدنا عیادہ لد نے فرمایا :کیو ںی !جم 

بیا نکی کےاگر چمعاو یل روِال ہو 

(تاریخ دمشق ج٦۲‏ ص۱۹۹؛تکملة فتح الملھم ج١ص٥٥٤)‏ 

اد ہدک ادرعدبیث پر ذائی راۓ گور یا 

ای احادبیٹ پبامام سنیگی رقنۃال علیہ نے پیل دقول معاد یکابططان داش کیا ہے :اور جوأنہوں نے 
ٹوٹ یکیا:”قذ تنا ه٥‏ وَْضحمة فم نشمغھا من“ (ہر ےکی تضور ملاق لم کودیھا ہے اورآ پکی 
صحبت شر ہے یں ایک ن ہم ن ےآپ سے مہ با تل کیاکی پہ یو لت روکیاے: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


مٰذَادَلِیْلُ بعَئم الْعِلُم لی عذم الشَيٰءِ ء وَهُو بَاطِل باَفَاق الْعقَلاعِ 
فَلامٰیڈلالْ ہوئلہ عیب ءوَاْقجیبْنهَقَع من ِنْلمَرَكيَة کم رَوَاہفی 
السُوَصٌافيْ قَصیه مَع ابی الڈرداء ء فَإلَه ری عَُِّۂ حَدِیٔک الب لَقَال : لكي 
اه ججابزاء از نَخوٰۃ ءال الُعدیِك بمعَزد الرَاي ء کل دک عََأَعَفَر 
الله نَا وه 
”از ک ےلم ندہونے پرأس یز کےعدم وج دکی دی ہےءاوریہ اق اب لنقل 
ال ہے۔اس یسے اتد لالی تب ہے ہمز جب بی ہکان سے الیاددع ریہ ہواجی کہ 
موطا یش سید اابوالد دا ٹیۂ کے سا تح ا نکاواقعہہوا وی نے الع کے سا سے عد شور ایا 
یی کی وو ہکن کے :لین می ا سکوچائ بت ہو ؛ یااس ججی کو یکل ہکہا۔ ٹول حد یٹ اس 
مق ہہ پل راۓ بی سکردی اور یسب شطا ہے +ادتھاٹی ہارگی اور نکی مخفر تفر مائے۔ 
(حاشیة السندي علیٰ صحیح مسلم ص۸۸٥)‏ 
عدیے نیو لق یم جرات 
جول کت ہیں :” ٹخطاو گناہ بحفرت معا وی کیادہ لا نان دگرب ےکیفر مان نبکا لپ 
ال را ۓکوتر یع دا اورحا یکو بیان عد یٹ سے ر وکا سکھاتے میس جات گا؟ امام سندرگی نے نویک سے 
زم زمرہ اس واقدکواوراس می شش لکردہتاو یلا کول ذلیک سط کےالفاظط سے خطاقراردیاے۔ 
کن ےک پچلوگ ادا سنیھی رح ا علیکوفر یپ ال سنت جات ہوئ ان کےتقول پر دھیان دی :ھا 
ام رابلی نت ضرورارشاوفر ای سک ا ن کا دس متل ہم سکیاموقف ہے؟ جا یے جار الناس اس متلہ ش لکیا 
ریں؟ آیا م ضوع حدیٹ'اہنستابیٰکاننجم پنظرکرتے ہوئے ان کےمحدد رح اد رھدک ذ ا راۓ پ 
کی یاعدیٹ وی حق ہہ اگرامیعلل سنت فیضان مین شی عدیث نوک لپ لکرنےکاگم 
فا میں ساتجد جیب دضاحہت ضرورف ماد کہ ال ملہ یل فیضان سیدناامیرمحادمہ جے کو سکھات یس ڈالا 
جائے؟ امام سنلگی مت ال علیہ نے خحریپ ال نت ہونے کے باوجوزنکامظاہ ہکرت ہوئۓ اس متلہ 
می فیضان دنام ماد لن کوان الفاط یی رکیاہے: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


:۳ الآحادیث الموضوعةفی فضائل معاویة __ 
هد رفیذی جرَأة عَطيمَةيَغفر الله زا 
یہ گی بے ہاکی ہےءاللدتعالی ہمارکی اور نکی مففرتفرماے“'۔ 
(زھرالربی شرح سنن النسائي المجتبیٰ ج۷ ص٥۲۷‏ ءوط: ج٤‏ ص۱۷٣۳حدیث )٥٥٤٤‏ 
لن نک و وریپ ال سنت تھے اذا ہم اس منلہمی امی را سطت سیق کےختظرر ہیں گے_ 
اس جرات پرٹنف مح دش نکاباب قائ مکنا 
ائی مل لے م ایک حد یٹ ہن این ماج ش لبج یآ کی ہے اراس پر یوں یاب قائمک ایا ”اب تَغظیْم 
خحدث زَسُولِ اللہ ل عبط لی من عارصک“ (رسول اللر شَ کی حد یٹک یکشمت اورجوٹش 
حد بی کی علض تک ےأ سی رفص رک نےکاباب )امام ان مل رم الد علیہ انی مد کےسات ھککھت ہیں: 
رسول اللہ مأڈ کے مھا ینیب الا صا رسیدن عباد بن صامت خلس رز جن روم یل 
معادیہ کے ساتھ ججبادس شریک ہو نے ےا غبوں نے دبیکھاکرد سو نے کےگکڑ و ںکوو یاروں 
اورچانری کےگڑو ںکوورہموں ے بد لے مل خر یدوفر وش تکررے ہیں قف مایا لوگواتم سور 
کھارہے ہویش نے رسول الد مم کوفرماتے ہو سناتھا:سونا سونے کے پر نے یں 
برا پچ اس کول یکی اور اد ہواورنہ تی ادارہو۔ال پرمعادیے ن ےکہا:اے الولولپر! 
اس یں سو وش تا لا ےکرادھار ہا پ تقر تعباد لن نے فرمایا: 
ا اماک با لک عَليْ فا إِئرَةُء لع قَقل لق بالمَييَةء فان لا 
مر بُیْ الْحَطٌاب : مَا اک با ابا ولیہ فَقَصل عَلیه اص وَمَاقَالَ بن 
مُسَاكَیه ء فَقَال : ارجم یا ایا اَی ! إلیٰ ار ضٍک : قَقِ الله ار لَسُت فَیْهَ 
وَأَقَالک ءوَكُمَبَ إلی مُعَاوِبَة :لا إِمَُكَ لُک عَلَيْه ء وَاخملِ الَاسَ عَلی مَا 
قَالء لَإلهُهُوَالائر 
می ہیں رسول الل خَقل کی عدیت میا نکرتاہول اورق جے ابی را بی یکرتے 
وہ اگ رابتعا ی گے یہاں سے نکلنےکا موق ردے فوفس اس زین می سکیس رہو ںگا جہاں جگھ پر 


.2131331 لطا ۶۲۵۰۵۳۱۵۷۸ 


7 
تہاری علومت ہوہ روہ لوٹے فو مد ینہمنورہ چے گے ۔سید نا عمرین خطاب طند نے ان سے 
وھا: ابوالولیرآ پکیوں دای ںآ ے؟ اُنہوں نے پوداقصہ یا نکیا او را نے دہال ضدرت ےگا 
وی جائی نو سید عم لی نے فر مایا اے ابوالولیآپ اپٹی رن لگا کی رف لوٹ جا ےا 
خداأل ز می نکوخرا بکرے ججہا ںآپ اورآپ یی حعفرات ثہ ہو ءاورمحاو کی طر فلگھ 
بھی اک ان بہار یکوئی عکومتننیں اورلوگو ںکواسی مسنلہ پرگاع نکرو جوا نہوں (عاد )نے 
با نکیا ینیقی ہے“ 
(سنن ابن ماجه ص١١‏ حدیث ۱۸) 
محاو یگوٹھ ک ےکاالیماایک داقن رس ابوالدرداءانصماریی لہ ےبھی منقول ہے :لی اک امام سندیھی نے 
فرمااہ اس بل بھی ےکا کہوں نے ماد یف بایا: 

سَمفث رَسُوْلَ الله يَنھیٰ عنْ نل هذا لا ملا بِمعل۔ 
”نم نے رسول اللہ شلََہ سے سنا تھا آپ نے ال طر حعکیخ یدوفروشت سے روک تھ نگ راک 
جیئنس دوس یجن کے برابر برا“ 

اس بر محاد ہن کیا: 
مَااری مل هذا بَا 
”نم ا ل تھی خر یدوف وشت م لکول 7 کی ںھتا“'_ 


اس پرسیدناابوالدرداء ٹچ نے فربایا: 
1 


هي مُغاويَة؟ خر عئ رَسُوْلِ اللہ لا وَبْخْبِرِی عَن ریہ 

”معادیہ کے بارے می کون معفرور چھےگا؟ یں ا سکورسول اش من کی عد یت سثاتا 

ہول اور دہ ےا پٹی را سنا ہے“ 

سی ناابوالدرداء لن ن بھی پرھم ہوکرفبایا: ”میس اس ز ین میس رہو ںگا ہا تو ہوگا'۔ پچھرد ہبی 
سیدناعم خل کے پا لے گن سید تا عر جہن ا نکی حا تفر مائی اورمحاو رک لھچا 


فكَمَبَ غمَو بن الحطاب إِلی مُعَاویَة : الا تَِيْعَ ذِک الا ملا بِمغْل وَوَزنا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





7 ا ا 7 ا 
لونک :یفن کےساتھ۔ 


(الموطالللومام مالك ج٣‏ ص۳۹۱ حدیث١١٤٣٤۱:مسند‏ الامام الشافعی مع شرحہ الشافي لابن 


الأئیرالجزري ج٤‏ ص۹۷؛السدن للامام الشافعي ج١‏ ص۳۱۸ حدیث ۲۱۸ ؛الرسالة للإمام 
الشافعي ص٤٣٤فقرۃ۲۸٢۲٢۱؛تھذیب‏ الکمال ج۷ص١١۱١٦٥٦۱)‏ 

ا سکا مطلب ہہ س ےکرسیدناابواللدرداء لہ کے حدیث نیو ما کے سنان ےکا امیرشام پرکوئی اٹ نہ ہوا 
اوردہذائی راۓ پرڈ لے رذ سیدناابوالدرداء خاددل برداشت ہوکرشام سے چے گے بی سید ناعمرچ ڈو 
معاو کی طرف خھناپڑا۔ 

علامہاہوالولیدالیا تی اماگی سیدہاابوالدردا لہ کے الفاظ ”من بهْذُرني من مُعاویَة الخ “رج 
سکھھت ہیں: 

لگا بنه غلی معاِیَة ء برا يُعالف ال وَلمْيحْبلْ کک 
مُقَاویة لی الَأٍِٰ ء وَإِنَهَ عَملةنة علی َ الِیٔثِ اي 
”بب نک طرف سے مادیہ گی ر ہے أس نے راۓ لح کی نال تکی :ا ہوں 
نے ا لکومحاد ےکی تا بگی یل مھ مہ را سے عد ی ےکؤستردکر نا مھا ہے 
(المنتقیٰ شرح موطأج٦ص٣۲۳)‏ 
اہر ےک یٹ ردبروہ ینگ کے اتار چڑھا اور چرے کےآ مار( باڈی لیگ کا مشاہ کرد هو 
وی انداز کرک ےک سماتۓ والانٹ ا کی بی شکردودی لکواہمیت دےر اہ پانیس ءاندادوسرےلوگو ںکی 
تاو یلا ت اید وکی بت یکا مشاہرہادندقی خی ہوگی- 
جرآتعظیمہ پا آوازپویٍآواز؟ 

امام سی را علیہ نے جس با تکوایک عظام پرخطاادردوسرے مقام پر بر نشی ہکہاہے :اک رگ 
لپٹی سےکام ندلیاجاے اورسی خی رخی انا نکی حعص تکانقسورنہکیاجاے و ری نیوئی کے مقا یہی اہی 
رر ۓےکوا جس جرات خی نیس ہآواز وی اقآ داز بل کر اہے۔چنامچرامیرشام دیزید کیم کیل 





۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ طا‎ 2131331. 


قاضی ابدسکراین الع بی اک کھت ہیں: 
خحزمَة اي فلہ نیما کُحَْرْمیہ عَبا ء وَکُلامۂ المَُوْرْبَعَد مویہ فی الََةمنلُ 


لاد المَسمُوغ ْ آفظہلذقُِی گلا وجب علیٰ کل عایر ايك 








وَقَذ کة الله تعَانیٰ لی قوام الْرْمَة المَدْكوَْة علی مُرُورِالّزمَةَء بقزلہ 
تَعَالیٰ: طوَإِذاقرِیٗ اْقرْانُ فَاسْمَممُوْالَه وَالصِنوْا پ4 وَكَلامُ اي فلة من الْرَخيء 


”من یکرمم ٹہ کی مفمت بعداز دصا لپچھ یآ پکی حا تک رح ہے او رآ پک اعادیٹ 
آپ کے وصال کے ببحدرفعت می أ یکا مکی ماخ ہیں جو پ کے دو یروآ پ کے الفاظ ٹل 
سناگیا۔ سج بآ پکاکلام پڑ ھاجاۓ تو پرحاضر پر داب ہ ےکراس پراپقیآواز بلندنہ 
کے اورقرال سے روروا یکر ہے +جلی ہآ پکیائکس یآ پ کےکلامفرماتے وقت ہے 
اب لاز تھا اور یلک الد تعاٹی نت ےکفی زا ےگز رجانے کے پاوجود ڈکودوظمت کے دوام پہ 
جیف مائی ہےءارشادفرمابا: اور جب ت رآن پڑھاجاے نغور سےسفواورخا مو رہو کم 
پر مکی جاۓ چاو ٹیک ریم پت کا کلام دی ہے اورا کی دی مظمت ہے جوق رآان یدک 
ان 
(احکام القرآن لابن العربي المالکي ج٤‏ ص٤٣٤١؛تفسیرالقرطبي‏ ج٦٠‏ ص ٢۲۰٢‏ ؛الجواھر 
الحسان ج۳٣ص١ ٢۹‏ المواہب اللدنیة ج٢‏ ص ۰۲۰۴۰٣‏ ۳!؛التفسیرالمنی ج٢٢‏ ص١٤٥)‏ 
اا وا لی رہ اش علیغاتے ہیں: 
ِا تا رف الّصوَاتِ قَوّق صَونہ مُوجب عو الَعمَالِ قالط برَکُع 
الَرَاء وناج الافُگارِ عَلٰی سُنيهوَمَا جَاءَ ہہ؟.۔ 
”اور ج بآ وازو لگا پک یآ واز یر بلن کر نا عما کی بباد یکا موجب ہےن پگ رآ راء اور 
نظریا تک پک اعاد یٹ اورق رآ لن پر یی دینے کے بارے می مہا راکیاخال ے؟“- 


(المواہب اللدنیةج۲١ص۴۵۸)‏ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ طا‎ 2131331. 


(۹ئ الأحادیث الموض وع فی فضائل معاویة 
جمیں اور جرمن وسلکوبمیش ایمان داسلام رقائم ددائم ر ے اورحے اتال سےتفوظا رھ _ 
آ ینا م آکین! 
کیااہتا رأ اعت وحد این ے؟ 
علا کرام نے حدیث کے مق بلہ یش ذائی را ےکو بدعت شارکیا ہے پلک خود یک ریمخ نے اتی سنت 
کے منائی ہر لکو بدعت ادرمردووقراردیاے اورارشا ایا ےل اُحَْسَیْ الهَذي هذيٰ مُحَمَدوقڈ“ 
من تین حد ایت ہ برای ب ری نے سواگرامیرشام کےیقن ٹپ کی جانے دای عد مث "اللْهُمْ 
اع ادا تهب اد ب4“ وضو نہہوثی اوران کن یں ای ای جائع دعا اگ یگئی ہوتی ق کر نکا 
سر موچگی ہداہت نیو خہ سے ہ کر برع تکی طرف جا اکیوگرنکن ہوتا؟ عل کرام نے اس اد ام معاو یگ 
بدنح تکہاہے اود ا بی پت تلق اورت رک کا مکی ویل حاص لکی ہے۔ چنا امام ا نکپرالبراورامام 
سیدڈی رق اللمکجانے ال حد یر کشر جس بدعتد معاد اوس یسید عیادہ بن امت دولدک گا پہ 
نگ کرت ہو ےکک سے 
وَصْدُوْر الْمُلمَا تَضِیْق عِند مع هذاء هو ِنْهُمْ عَظِيْم رذ السْنَيِ 
ارآ ء قال : :مز اه تهجرمَنْلَمَسمَع نَم طف لیس هد 
من الْهِجَرٰة الْمَكرٰومَةء الا تری أ رَسُول اللہ ل ار الس الا كلَموٍ 
عبت مالک حِین نعل عْ وک ء قال : وَهةَا أصلَِنة لممَاء فی 
مُجَاليومَیْ اع وَمِجْرَیہ وَقظع الگلام َء وَقذ رنی اب مَسْعْوو رجا 
َصْحَک فِي جََازَوفَقال : وَاللہل ألَنُک ادا 
”اس شی باقوں پرعلاء کے سن نگ ہو جاتے ہیں+آن کے نز ویک بی متام نیم ہے 
نت کرای راے سے دکیاجائے۔أنہوں نے رما :انان کے لیے چان ےک جوا کی 
تن بات نے اورنہتی مانےتذدہ ا سے تیر اذکرردے :اود ڈانلتی نابہند دہ باتقں می سے 
نیش ہے ۔کیات نیل جا کرسول اللہ قب توک ے وائی ںتش ریف لا ۓ فو لوکو ںکو 
فر ما کہ ودکعب من ماک ےکام شک یں۔أہوں نے فر مایا علماء کے نز یک ررحدبیٹ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


0 

بفنش سےکنار ہش :اس سے دوریی:اوراس کےسات بول ال یش مک ن ےک اصل ہے۔ 

سیدناین سحودڑلادنے ای کہ کو جناز وی نے ہو ئۓ دبیکھاقذفر ایا:غدای ام می ںتہارے 

سات نج یھ یکلام سکرو یگا“_ 
(العمھید لابن عبدالبر ج٤‏ ص٦۸۷۰۸:تشویسرالحوالك‏ للسیوطي ج٢‏ ص١۱۳‏ ؛اُوجزالمسالك 
ئل کریاکاندھلوي ج١۱١ص )٥٥٥‏ 

پولیے!اگر وی یش کت می حادئی ہدک اور اس بب“ جیےالفا ظط دعاحابت ہو اس 
سے بیترک متس زد ہکن ہےکددہذائی را سے سن تکوستروکرتے ہہوئے کےے: ضا اُریا بجِئُلِ هذابَأمَا“ 
(مم اس جیے معا لہ سکوئی تر نیس بھتا )اگ رای دعھا کے مصداقی ے ای مرک تس رز نی تی و پکرشٹس 
سے سخ تکواست رو رن ےکی مرک ت مرزد وی ال کے بارے مس ”الم اه ادا مُهيب اد “کی 
صحت برض دچھود جج اوراپ ےآ تا ا کیکظمتکاخیال ینا دض لاز مآ ےگا یش نٹ کے می سآ قاء 
ددھالم خپافرنے یوں دعافرمالیای :”الم اڈ ھاف.....“ وواپن نیکریم ا کی سن تکس وکرتے 
ہو اس ہپ ذانی را ۓےکوت ید ناتھا۔ 
کا بن شر زا راےۓ ےرہ 

سینا عبادہ بن امت خثلنۂ کے ساتےذ معادیہ نے نر حد بی کا طرف رجو کیا اورنہ جیکوئی لُک 
ندکھائی اکر وٹھوڈ یک یبھی کیک دکھاتےےتذ سید عباد وی کشم سے مر بیدمنورہ نہ جا ناپڑتا۔سوالی پیراہوتا ےک 
آ پا أنہوں نے سینا عھر لد کے خط کے بعدرجو ںعکرلیاٹھایا اپنے جی اہتتجادپ رڈ نے ر ہے تے؟ اس پر نکادناع 
ککرنے والے مھ شین نے ر جو کااحال قو یا نکیا ےا نکوئیبھی محر نی شجوت پیٹ ین سک بکا می بھی 
ایر ور اعم رجو رپ با تکرنے مم زیادودنینیس ہےء الہ یہاں ہم بیمواز نیٹ کر ضرور بت ہیں 
کہاکابسحا ہکرام می کے ات جبکوئی ای شرگیفھ تی جو پیل ان ک ےکم یس نرہ وق نواس پر نکاروکل 
کیا ہوتا تھا۔ 

ہے تی دوا تھا تکوش لکر نے کل ہم یہید کوک رنا ماس ب جک ہیں اک یمعلوم ہوک ےک 
ب نکی طرف رج رن ےک ای سعادت ےک سکوٹحییب ہوئی بےاورکیو تیب ہولی ے؟ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


شعارالدی اتی د ل کا اتی 
ال تھاکی نے پل متام پق رن مجید کے تارف کے سللے بی رمیا ےک یہ بلند رت ہکتا ب تقین کے 
یے ہدابیت ہے ہر دوسرے مقام نک کی علاصت میا نکر تے ہے ارشاوفرمایاے: 
وَمَْيّكُمْمََایر اللَِٰنھَا مِْ فی الوب 
”اور شف مکرتا ال تھا کی نشاو ںک ت2 اس وع سے ہےکہولوں م تق کی ے“_ 
(الحج:۳۲) 
لی کےائ یت ونیک اورمقام پر یوں بین فرمایاگیاے: 
ِٔ لین يَمُسُوْن ُسوَاتهُم ند َو اللہ لیک الین شع اللللهُم 
لِللقوی۔ 
”نیک جو پت رکھتے ہیں اپ یآواز و ںکوالہ کے رسول کے سان ہبی د ولیک ہف سک ریا 
ہے ای نے ان کے ولو ںکوقو بی کے لے“ 
(الحجرات:٣)‏ 
چن ٹول ہھمککھ یے ہی ںک نیکریم اقم یلیم نس طرعآ پک ما ہرئی حیات مس ضردر یی 
أ سی طر بعد بھی ضردری ہے:اورآپ کےکلام کے ساس ےآ داز جلن کر نا ورس سے روگردال یکر نا ای طرحع 
ترام ہے ج طر آ پک نطاہرئی حیات یں ترام تلذ اب ہم اس ملہج چندمالی اییے لوگو ںکی یی 
کرت ہیں جن کے ولو ںکواولہ لی ن تقو کی کے لیے جق نلیا تھوا۔ 
بنکی طرف رج غکرنے سے دوطرتے 
ےآ پ امام ابوال ساس رٹی کے جو انے سے پڑھ گے ہی ںکہانہوں ن ےکہا: ہوک ےک معادیے 
رہل میں سودنہ بھی ہوں مج اکہ این عباس دظی رہ“ پگرخودعی نول نے معاویہ کے بارے می ال 
اخا للس ردلردیا تا مآ نکايلنادرست ےک یی عباس وقیرەرپاض لکوائ یھت جھے_لفنا ‏ وی“ 
سے نکااشار وا ن تھی اشنم اکی طرف ہے ہکیوکہ دو حعرات پیل بچی موقف رکھتے لکن جونی 
یں حد یٹ معلوم ہوئی و نہوں ن ےسیا مکی لیت یل اورق د یدرو یب کےفو رآ رج ںکرلیاتھا۔اس رجور 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


کل م یسل مس ایک وی حدی ٹہ آیاے: 
”حطرت الففضر ون سیدنابوسعید خددکی جن سے اس مستلہرشس با تک أنہوں نے 
راأفض لکونا جائدکہا۔و وک ہیں :یں نے ا۲ نکی بات ہما اوران کےسسائے ان دونوں 
(این عیاش دای مین ) کا موقف درکھا۔ اس پرابسحیدغدرکی عفن نے ان کے ساس حد ہے 
نوک لی کی ء پچ یدرس اُ نکی ما قات ای ن گنی انڈینماے ہہو گی ووداس سے رجوع 
کر گے تھے اد رین عباس درشی اشنا کے بارے میں نیس ایوالصبیا کےذربیچےمعلوم ہواکہ 
دوجگی رج کر چے ہیں“ 
(صحیح مسلم ملخصاص۸٦‏ ۷حدیث ؛ )۱٥۹‏ 
دوسر یسب حدیث می آفصی لئ ے سید ا واسحیدخدری ول خوداین عباس یٹک لے اور تی سمل 
حدیث ستائ یذ ان عیا نے فو رآ رج غکیا اور نیس ان الفا ظ ٹش دعادی: 
جاک الله یا انا سَیْة الْجَنَةَ فک ذَكَرتِيٰ اُئوا كت لَييْكةء 
اَسْتَعفِر الله وَنُوْبُ ِليّه ‏ کان یھی عَله بعد ذلک أَشَة الّقَي. 
”اے ابوسحیدا اللہ تھا یآ پکوجزاٹس جنت عطافرمائے مآپ نے بے ابےے امرکی 
رف متوجہکیاہٹس سے میس ےے قب رتھاء ٹس الڈدتاٹیٰ سے مغفرت طل بکمرتا ہوں او راس ی کی 
پارگاوشش رج حکرتابہول ءال کے دوہ خودجھی اس سودےشرت سے خکرت تھے 
(المستدرك ج٢‏ ص٤٤‏ ءوط: ج٢‏ ص ٦۹٤‏ حدیث۲۲۸۲) 
ای حدبیث یں لفظ”حزقَیي“ کت جمریس نے" موہ کی“ اود ”سی“ کات جم ری اے 
اس ےک یاک ایک اورحد یٹ ےک جب ابوسحیدخدری دن ان سے لو اکپ جوڈقئی دتتے ہیں کیا 
ال حللے سآ پ کے پا قرآن دحدیث ےکوئی دی ہے؟ ا نہوں نے صا فکھانکی بن فرایا:یش نے 
اسسامہزکنز بل سے ناس ےکم بافتط ادھا رٹل ہوتا ے_ 
(بخاريی:حدیث٦۲۱۷۷۲۲۱۷؛مسلم‏ ص ٥۹‏ ۷حدیث١۹٥۱)‏ 
ایک اورحد یٹ شمل ال ےزیاددوضاحتآ لی ہےء چنا ما دالوا ما نکر تے ہیں: 
”نمی نے فوسال سیدنا ہن عباس مدکی خسم تک ءایک مرعبران سےایکجٹص نے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


68 ۱أ 
کپ چھاک کی ایک ددہ م کے بد لے میس دودرم ینا چا ہے؟ اس پرائن عباس یل نے تن 
کر مایا نٹ چا ہا ےک ا لکوسودھطا کوں۔اس پرآ نکیجٹس کےحاض رین نے عو سکیا: 
نا کُسَ لنعملهذا ماک فقال بْْ عبّاس: قذ كُنْث اي بلک 
تی خَدلييٰ أبْوسَعِیْدِ وَائنْ عُمَرَنَ الَبيٰ 88 نھلی عَنه ء فَأنَا أنَهَاكُم عَنةٍ 
”عم آپ کےفو کی وج سے اس پش لکرتے ر ہہ اس ران عباس نے فرمایا: 
بتک می اس پ نی د تھا یہا ںک ککہ بے ابوسعیداودای ن نے میا نک اک ہن یکر خلا 
نے اس ےئ فر مایا ے الاب می بھی میں اس سے کرت ہوں'۔ 
(السنن الکبریٰ للبیھقي ج٥‏ ص۲۸۲ءوط: ج١۱١ص‏ ٦٦حدیث۱۰۷۹۸)‏ 
ادا لبرانی نے ای تر جات پپنی مد داحاد یٹ فرمائی بی 
(المعجم الکبیر ج١‏ ص ٦۱۷ء۱۷۷ءحدیث٤ )٥٥۰۱۶۸۰ ٥٥۷٥ ٥٥٤٤ ٥٥٤٤٤٥٤‏ 
کب عدیٹ یٹ برقم مقامات دکھ لیے جا میں بھی مقام پآ پکوسید نا این عیاش واین عردکی 
طرف سے وی لیت ىشن ”ضا ای با انا“ (مش اس میں حر میں جھتا وی وی نر آ ۓےگی یی 
معادیرنے سیدنا عبادوجن صاصت حلہ کے ساس لیگھی۔ 


تن نکی طرف رجو حر نے کادوس اط ربقہ 

پرایت بافیجفرات می السابقون لے ولون عفرا تکی سیر ت کا ایک نمو نوہ ہے جواد پک واج 
دوسرنمونہ ہہ ہ ےک اگ ران کے ساس ےگوئی حد یٹ شی لکی جائی اورآننی اس کے مات میں ا مل ہوتا تو دہ سے 
ایشا کر چٹ پی مس تن لکرتے تھے بگرفرباتے جےکہ پیل ما کت نکر ےپ رانیں گے۔ 
اس لل میس ئٗمیں ایک مثال اس دور کے استاذاورشگمرو کے مباح کی صورت می لق ہے۔استاذ سینا زین 
ایت انصا ری مہ ہیں اور اگ سینا ان ع یا مہاج میں ۔شاگرد نے اپے اسم کے بس فےکی دبا تذیعد 
اتی استازنے اپے شاگرد کقو لکی طرف رج کرلااورن کے چیدکاروں ن بھی کا خلاص ملا حظہ 
ف انی اامام ار رح ا علی لت ہیں : 

عَنْ عِکرمَة اع ال المَدينة سوا ان عبَاسٍ یٹ عَن إِمرَأو طافٹ ء لم 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۸ لطا‎ 2131331. 


خاصثء قال لَهُم :تعفر لزا :لا مد بقَلک وَنَد غ ول رد قال:إِفا 
”کر کے ہیں :ئل مع بیندنے اب عباکی ٹل سےا خا ون کے پارے میس بیو چھا 
جوطواف زار تکربچی ہو پر تین آ جائۓ (ن ھکیادوطواف وداع کیے اف جاگق ے؟) 
أنہوں نے فرمایا:جائحتی ہے۔لوکوں تن ےکہا :جم رت زی کےقو لکویچھوزکرآپ کےقو لکو 
نمی لیے ۔أنہوں نے فر مایا جب تم مین جا وقذاس مت ک خی نکرلیناءآنہوں نے بد یت 
کرش نکی :جن لوگوں ےا نہوں تی کی ان می سید ہام می بیس ,ءا نہیں نے اس 
پرحضرت ہنی الل رن ہاکی حد یٹ بیا نی“ 
(بخاري ص٤‏ ۲۳ حدیٹ۱۷۸) 
حد یٹصضخیہ ہار یکی حد مث ےا٣۳‏ ہےءأئس ےک 
”ام ال ون سید وص نی ریشی الشخناکوابام لان ہو گے تھے تضور زم نے ف مایا تھا: 
ال نے یں روک لیا وت شک امیا لاف زیار تک رچگی ہی تفر بایا: اکنل چلو۔شارن 
حفرات نے فر می ہے :بعدرٹش جب سیدناز یدن ایت ند تق فرمائی اورآن کے شاگرد 
نی دنا این عباس لہکاقول ایت ہوا نہوں نے پت ہوئے اپ قول سےرجوں اکر 
میاادراپنے شاگروکوفبایا: 
حدیٹ أی عر ہی اک رآ پ نے یا نکٹگ''۔ 
(ملخصاً:فتح الباري ج٤‏ ص ٢۷۲؛عمدة‏ القاري ج١۰١ص‏ ۱۳۷ء۱۳۸) 
مور یی اسیدنا زی بن خابت حلیدن ےکس خندہ ای سے اپنے شاگرد سے حد بی ٹک نکراپنے سابقہ 
مونف سے رجو جکرلیااورای رح سید نا این حیاس سا لا سال جس مونف پہقائم ر ہے جوٹی ٹنیس ان کے 
صوقف کےخلاف عد یت کی وا نہوں ن بھی دعامیس دتے ہو رجوںع کرلیا۔اییے بی سید نا عبد در گر 
ان بھی رجو ےک رلیاتھا۔ ان حعفرات نے یہ ہک اک ہہ مھی تضوراکرم ما کی اصحبت ٹیل ر ہے ہی ںان جم 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۸ جا‎ 2131331. 


نے تو ای کوئی دی نی کی اورنہ ہی غہوں نے الساجقون الاولو نکی شان وانےححا یکو اک ہآ کندہ ہے 
عد مامت میا نکرنا :فی اتکی میں بای شایں ےکا م تدلیا۔ اس نو اب سارص لپ سن خما تی 
یت ہیں: 

فُلے رَهٰداھُو الُحیٔ برفیع فان ھذًا ابر الْحبْرِ تَرْحَمَانْ اْقْرّآن ء وَهکذا 

شی لکل نان نرک رایۂ ورَأيَ یرہ ِلی سن لِيٍ صلی الله علیہ وال 

وَسَلْمٍ 

من سکپتاہوں :سی اندازبلنشان وا لے لم کےسندراورت جال ن ق رن کے شایان شان ے٠‏ 

اورایا تی جرانسا نکوکرنا ایی ؛اپٹی اوردوسرو لک را ۓےکوڑر کک کے سدبت موی ما کو 

اہااپاٹ''۔ 

(السراج الوھاج ؛ج٦ص۸٥)‏ 

ذائی مفاد کے٤‏ خلاف عد یث ےروگردالی 

شقن ےمعلوم ہوا ےک جوحد یٹ مض طلقا کے مفادکے منائی ہوٹی وہس حدیث سے من پر 
لیے تھے اوراگرکو یٹس دہ حد یٹ جیا نہکر نے لک جات تذدہ اس پخقبناک ہوجاتے تھے چنانچہ بلک ملین 
جب؛ نپی کے رای حضرتعبداطد کن مردجفد نے بغاد تکی دو حد یث یی کی جوخودان کےگردہپرصاد 
یھی و محاو یخضب ناک ہوک رکینے گے: 

الا تّھی عَنا مَجْنُونک (هھذا یا عَمَرُو؟ 

”زا ےگ ردام اپناا اگل سے ہماربی جا نکیو کی پچٹراۓ ؟“۔ 
(مسندأاحمدج٢ص٦ ٠‏ حدیث ۹۲۹٦؛الطبقات‏ لابن سعدج٣ص ۲۳٢٣‏ ؛البدایة والنھایة ج۷ ص 
۸وج٦‏ ص ۳۲۰ءوط:بتحقیق الت ر کی ج٣۰١٦ص٥٣٥٥)‏ 

یس احادبیٹ یل ےک معاویہ نے حر تن عمردجن الع لکوحدیث ستنانے پہ پاگل او رجھو ام ککہہ 
دیا۔ چنا غچعافطای نکش رھت ہی ںکہأ نہوں ن ےکھا: 

نک خَيغ اعْرّق وَلاتَرالْ تُحوث بالْحَدیٔث وأ تدع فِيتَولک. 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


”نف بڑھاتوقف ہاور یش حد یت میا نکرتار بت اہ جو انی بنقاب مش لگمسل جاجاے“ 
(البدایة والتھایةج ۷ص ٤ ٠‏ وط:بتحقیق عبد الله الت ركي ج٠١‏ ص٥٥٤)‏ 
”رق برق “کے معانی میس یوقوف ہوا یآ یا ہے اورموٹ بولتائگی_ 
(مصباح اللغات ص۱۹۸ء۱۹۹) 
ایک اورعقام پر ےک جب تفر بدا ہن عمردنے اپ دالدکوعدہیث نوک بادولا لاو تفر تگرو 
بن الحاصص نے محاد بی کلک رسفوب یبد ال رک یاکہد پاہے؟ نو معاد یرٹ ےکا: 


لاوزال اي يبد عَبَةء أنَحنْ قَلۂ 
”وو ایک کے بعددوس کی شارت دفسادک بات لاجار چا ہے؛کیا ہم نے ا لک کیاے؟“۔ 
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد ج۳ ص۱۹۱ وط: ج٣‏ ص١٣٣‏ وط: ج٣‏ ص٣‏ ۲۳ ؛البدایة والٹھایة ج۷ 
ص٤٤٣وج٦ص۳۲۱)‏ 
امام این نطوراف ریٹی نے ' قَة ‏ کامعیشرادرفسا دکیاے۔ 
(لسان العرب ج١۱١ص )٥٥١‏ 
جحفر تم رون الحائ محاوہ ےق یدوس لت ران ہوئے او بدا جن ردان ول ےکی 
پیل مسلمان ہوۓ تھے ۔خوداندازوفرمانمیں احاد یٹ یڑ لکرنے پراپنے سےسا لقن کےس تھا اسلو کفکرنااور 
خووحد بی ثکوشرارت وفسادکی بات تار بتاء رای تک یکو نک اگمے؟ 325 چتاہیں: ام اجْعَلَهُ مَادِیا 
موس“ کی سندین ہقزا حد یٹ می نذکردعا ےنبوئی اق کی متبدلی تکہا ںکئی اورامیرشام نے سید 
الامیاء شیا کی سن تین ہدایی تکوشرارت اور ضا ے کیو کی کیا۴۴۴ 
ادکی دی اور مال اٹل 
طدقا تسود یی بلک دوسرے پا لع ربقوں بھی ما لکھاتے اورکھلا تے تھے چتا نس ۳ 
گا انی ک لو یل حدیث می کیاے: 
”حضر تع بداوڈر نپ رون الا یلیر نکع یس ٹیش تھے اور لوگ اکن کے پا سج 
۔ححفرتعبدالران بن چحبدرب امرف ماتے ہیں : شی لپھی و ہیں ہین گیا دد ترک با لک 


۶۲۵۰۵۵٠٥۵ جا‎ 2131331. 


تلق اورشرسے :یی اح مکرر ہے تھے اورکبرر سے تےکہ جب ایک خلیفکی میعت ہوچاے اور 
دوس رانک غلافت کے ل ےکھا ہو جاے و أس دوسر ےک یگردن اڑادو برا رمان ب نکر 
رب ال کیچ ہیں: 


فدَنوْث مِنه فلت لَ أَنشْدِکَ الله انت سُمغت هذا مِن رسُول اللهقذہ 







وی إلی اَی ولب دہ ء وَقال : سَبغفه أذنَي رََعَاۂ قَلِي ء فلت لا: 
ھذًا ابْنْ عَيَکَ مُعَاوبَ مُا ان أَكُل امُوَالنَا بالباطلِ وَنَقْل اقم ء وَاللَه 
قولُ: فیا اه الین موا لا نَأكُلوْا اموَالكُم کم بالاطل إِلّ ان تَکُونَ 
ِجَارَۂ عیْ تَرَاضِ منْحُم ولا تقو انفسكُمْإِنٌ الله کان کم رَحِمما4 قَال: 

ناس پریش حفرت بد ال نجرد کےقر جب ہوااو تن شکیا:ی لآ پکوا کش دیتا 
ہوں کیا آپ نے مہ بات رسول الہ مم سے خودکی سے؟ نر تعبداون نے ای نےکانول 
اورو لکی رف اشمار وکیااورفربایا:ش نے اپ کاوں سے سنا اور اپ دگی می ا لکویادرکھاء 
نے ائن ‏ کہا: یئم زادمعادیہ ہے ج کید تا ےک ہہ مآ ہس مل ایک دبصر ےکا 
مال ناجائزطرے س ےکھا میں او چم ایک دوصر ےکونا چان سر یں ہلل تھالیفرما جا ہے : 
اے ابیمان والو !ایک دوسر ےکا مال تاج نز لے سے عم تکھا 2ہ ہال بای رضا من دی سے 
تار ت تی ہے اورق کیک دوس ر ےکڑل شکردہ لا شرالل تال تنحم ہے پ4(النساء: ٣۲٢‏ 
راوٹی ن ےکا :پیل خر عبدادڈہب نچعمرد دی کے لیے نماموش ر ہے کلرفر مایا ئل تال یکا 
اطاعت یش أُ نف سکی اطا ح کر وا ورڈ تا کی محصیت میں ام نف کی ناف ا یکر 


(صحیح مسلم: کشاب الامارۃء باب وجوب الاأمربالوفاء ببیعةالخلفاء ءالأول فالأول۰ص۸۹۰ء 








ء۳۹۹صوء٠٦٦٣ٹیدح‎ ٣۸۰ء‎ ١۷ص‎ ۱١۱ج اأحمد بتحقیق الأرنؤوط‎ دنسم؛۱۸٣‎ ٤ثیدح‎ ۸۵٥ 
؛۳۸۲٦٢٣ثیدح٣٢ص‎ ٢٢ج لابن أبی شیبةبتحقیق محمد عوامةۃ‎ فنصملا؛٦1۷۹۳ثیدح‎ ٠ 
ص٤جدواد البدایة والٹھایة بتحقیق عبد الله التر كکي ج۳ص۹۸ء۹۹ وج۱۹ ص۰۸۹ ۹٦سنن أبي‎ 


۹ حدیثٹ٤٤٢٣٦)‏ 
21313۵1۸ لاطا ۶۲۵۶۵۲۸۵۷ 


دفا) محاو بے ای ن روید عاتزگا 

سال نے اس وقت کےاحوا لکو نظ ریت ہہوۓ جب سوا لکیا تو چونکہ دہ واقحات کین مطا بن تھا 
ان لے حر تعبرابند جن گروجؤقد ےمم ترو نکر کے زا مل می ال دیٹ می ںورک کے جلا کہ 
بادیت اودمہد یت اکی کا نام ہج ےکر لوگو ںکو ہا لع ریقہ سے ایک دوسرے کے ما لکھانے او کر ےئم 
کیاجاے؟حضرتکہداؤندی نمرد نہذ معاد یی شمان می تی ہوک تی حریث”الّْهُمْ اجْمَلة اب مَهِي“ 
سے بے نر تھے ورنہ دہکوئی توب لکرتے ہوم فرمات ےکلہ دہ بادکی اودمہدیی تھے؛ابذان کے غلاف زبان 
درازیی زرکرو ۔آپ کےساتے یی حد یٹ موجود ہے :لہا آپ بای ےک ہاگ بعد یت موضو نیل چلراں 
کی متبولی تکہاں بت یک یکر امیرشام ناط نن لکر نے اورایک دوسرےکاناتی ما لکھا ن کاعھمکر نے نک نے ؟ 
اگرآپ کےنز ویک یپ نکاھتجاد وق ان ف ریا ےک کو نے در ہےکااجتباد سے گل اجروالا یاڈٹل اجروالا؟ 


عدرہث مم ےتا بت یا 7 

حضرتکبدالرجمان نہد رب الکجہ نے جریھ با نکیاد اس دور کے ا ہے واقات تھے جن کے ددخود 
شابر تےءاورا یے بی واقعا تکوتار کہا جا اہے۔ چوک سب لح ان کے سان ہواتھااورہود ہاتھاای لیے 
جونی ای نرد یٹک زبان ےکی ہوئی حدیت کے الفا ظا ا نکائوں گرا فوو ہاگ لک رحضرت ابی کرو چ اد 
سیق ری بآ گے او برکودہ بالا مم دیدتقا لی ان کےسا نے رود بے ۔علامٹ دی اوردوسرے شاریششن ان کےکلام 
کیترع و سککھت ہیں: 

”ا سکاا مک مقصصد یہ ےک ۔کبدال ران نے حر تعبدازقدب نعمرد پل کا کلام سنا شس 

می أنہوں نے بیا نںکپیابچ پیل خیزمترہو چک ہواس سے نذا رام ہے اورخلافت کے 

دوسرے بد یکو یکردیاجاۓ فو نہوں نے لیقی نکرا اک محاویہ إانع امورکاھ رکب ہواے ؛ 

کیون اس نے سیداعی ےہ ےل ائ یکی ہے ھا لامک سید لی دک ہعت بسلےمنعقد ہدیچ یھی ٠‏ 

ببذا أنہوں نے مھا محاد کاپ لشکراو نان پرسیرناعلی لہ کے خلاف جنگ دققال ٹل 

خر جک پافل ما لکھا:ااود نان" کہہے“ 


(المنھاج للتووي ج١١‏ ص٤ ۳٢‏ ؛حاشیة مسندأحمد ج٤‏ ص ۰ ٭؛السراج الوھاج للقنوجي ج۷ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


ص٢٢٦۲‏ ؛منةالمنعم للصفی‌الرحمان مبا رکفوري ج٣‏ ص۸٥۲؛فتح‏ المنعم للموسنی شاھین لاشین 
ج۷ص٤٦٦٥)‏ 
یس ما رین سل کی خایی 
ایمانع سے با چے اکیاحفر ت عبدالرحماان نے خلط مھا تھا کیاسیدنا می یہ کے غلاف گی معاملات 
خر کرنا اوران کے خلاف اپ ےشجشی نکی وفادار یں حاص٦‏ لکرنے می مال خرر عکرناعلال تھا ؟ہرگڑہیں: 
مین رت ہے یف شوتتی عان سا حب الا لںکلا مکومتا وی کےےشن مم کھت ہیں۔ و کت ہیں: 
”فدوی رر ال علیہ کےکلام سے وا تی ہواکہقا لک راد ین سکہمعاوی بیت مال 
یس خیاختکرتے تےءالعاذ باللہیادہ رین اوراجتماد ےق یکرت تھے رج ایت لوگوں 
کا خالی ہے یقینان کے بارے یں وثوق کے ات ان ٹس ےکو بھی چنزھا بت یں ہے٠‏ 
ووفضلا ھا رٹل سے تے نل 
(تکملة فتح الملھم للتفي عثماني ج٣ص‏ ۲۸۰) 
علامہعثانی صاحب سےگذ ا ہ ےکا ما فو دی نے رت عبدالرحمان کےکلا مک تش رع فرمائی سے 
دیڈئیں۔بعلاجب أُن کیم کا مکی تردیدہفرتعبدا یلین رٹل نی لکر گے ہکوئی دوس ن۲ کس طرح 
کرسکتاہے؟باقی ہا عٹای صاح بکابیکہ کہ دہ مال یں خیاخت نمی ںکرتے تے۔ یس پو چتاہوں بت سلم کے 
من می ” یأٰ رم ان نأ أموَان بنا بلاط“ کےالفاظ یش جو کھ ان و اہے1کیاووزکراباضت ے؟ 
نکر نکی نہ ہورعی بولق ہم ای کآدت شال اورشی لکر دی ہیں۔امیرشا مک مال اس فد رم فو ب تھا وہ 
انا عاکھانہاخقاراستعا لکرتے ہوے مال مت میس سےسونے اور چا ند قکےشیم سے پی عی اپنے لیے ماس 
کر ےکاجھرفر مات تھے۔ 
دورد میادادتی یہ ےکہ بادشاہوں کے ایے احکام پ اکٹل ہو چا جا ہل محابلہ باہ رنآ تا لین اگر 
بھی ١یران‏ داراوراناخت دا زتقرالت ای اکامات پگ لکرنے سے پ ہی رک بی بات پلک مس پگ جات 
ہے۔ایائی ایک دا تد دک عحدیث ویردظیرہشٹ لآیا ہ ےکہزیاداین ارہ جب معاد ےکی طرف ےو ذکا 
گور تا نے خراسا نکی طرف ای شک رکیچااورأ سکاس براوسوب رسول سن کم بن پعمروخفار یی ہکینقرر 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


یا. نہیں نے خراسا نک کرلاارکی ا خیصت حا کیا یادنے انیل ایک خا روا ہکیاج کا مضمون 


بیھا: 





مُا بَعْذ ء فَإن امیر الْمُؤْمِيیْنَ کب إِلی ان اصَطفي لَه الصَفٰرَاء وَالِیْضَاءٌ ءفلاً 

” مابعدہ امہ رال موجن نے ممبری طرف ایک خیاکھا ےک سونا انی ان کے لیے ال فکرلیا 

جائے ؛لپذا سن چا نی نیہ بین می ایم نکیا جاۓے'۔ 

جواپ سید عم ب نع روففاری لود نے ا سکی رف ہو ںک کھہا: 

تہاراا ے" چاے مم نے اس میں امیرالھ ون نک یکتاب (خط )کا ذک رکیاے؛ جکہ 

میرے پا امیرال یش نک یکتاب (خطا )ٹل ا لک یکتاب موجود ہے اوراللہکیاشم !گر 

زشن وآ حا ن سی بند ےکوی کے لیے با ہل میں اوروو ند و خوف ای رکتا ہوقوا تھا 

اس کے نین یل پیداف ماد ہے والسلام۔ پھرسیدناجم بن عم دغفاری زدنے لوگوں مل 

اعلا نںکراد کرد ہما لیت پچ ٹ یمک ری ۔موادیرنے چوک سید اعم ین میڈیم کے 

ملق ایح مکی ا نہوں نے ا یع مکابل کی تی قیدکردیاگیااوردواسی قیدی مل 

اتقال خر ما گۓ۔ 

چس روایات شش بیڑگیا ہ ےک جب لن کے پا اس برخط چا او را نہوں نے۱ ںیقی تک ا لوپ 
نکی زبان پہ بالفاظ جاربی ہو گئ تھ: 

مناےاولدااگربیرے لے تیرے پا کوئی تیر اوھ اپےپاس یلان :رووا عرصرش 

خراسان کے علا قہ تر و میں انتا ف رما گئ۔ 
(المستدرك قدیم ج٣‏ ص ٥٤٤‏ ءوط: ج٣‏ ص٥٠٥‏ حدیث۹٦۸١٦؛الطبقات‏ الکبری لابن سعدج۹ 
ص۲۸؛ تاریخ الطبري ج٤‏ ص۲۷ ؛الاستیعاب[قدیم] ص ۷٣۳ء۸٣٥۳؛الکامل‏ فی التاریخ لابن أئیر 
ج٣‏ ص٣‏ ۳۲؛اُسدالغابة ج٢‏ ص٥٢؛معرفةالصحابة‏ لأبي نعیم ج٢‏ ص۰۸ ۷؛المنتظم لابن الجوزي 
ج٥‏ ص ٢٣۲؛صفةالصفوۃج١ص‏ ٦۷١؛تھذیب‏ الکمال ج۷ ص۱۲۷؛تذھیب تھذیب الکمال 


للذھبی ح٢‏ ص٤٤٣‏ ؛سیراعلام النبلاء ج٢‏ ص ٢٤٤٤٣٤۷٤٤‏ ؛ شرح دب القاضی لابن مازۃ حنفی سے 
ہھبي ج٢‏ ص اد زی سا ام غام با 00ا0 





١ص ۱۳١‏ ء۱۳۲؛حضرت علیاورقصاص عثمان لہ محمد عبد الرشید نعماني ص ۳۱ء۳۲) 
قا ری نکراممکوایک ام مخور ‏ ےک ہاگرد وعلا تق ای صاح بک اکا قا تو یلاس باط کی مبذب 
ول ترد ید پڑھناچا ہیں جسٹسر یٹائر ڈ کک فلا مع لکیتصنیف' 'خلافت دملوکیت پراختزاضا تک تزیسلاحظ 
اہاں 
اس مقامک تر موی شا بین لاشیان نے فخو بکی ہے۔ دوامام فو و یکاکلا طخ لکر نے کے بعدکھتے ہیں : 
”کو یا نہوں نے عبدالہ جن عرو سےکہا: آپ ایک چت کم دے رہے ہیں اور ایک 
یز ےڈ رار ہے ہیں :ننس چک آ پگ دےر ہے ہی ںآ پکا چا ادمعاد یس پرکار بنل 
ہےاورننس جیز ےآ پ ڈرار ہے ہیں اس سے دوا تا بی کرد ہے 
(تج الم ج۷ص )٠٤٤‏ 
کی سللرکی زی کٹ حدیٹ ہی ارک فظ ا فینکحت سا آیاہے ال سے مراد ےگرعفرتکبر 
انی ن رد مال کےسوال پر ود کے لیے امش ر ہے ۔ا کشر ہس شا موی شا نی کھت ہیں: 
تمڑزیی در کے لیے امش رہ سو پت د ‏ ےک کیا جواب دبیں؟ معاطلہ سیا کا 
جوا بکا ایت اکرارڈہ تا یبھی راضی رے اورد وخضب معاومیکانشا نشی ننی'''_ 
(فتح المنعم ج ۷ص )٥٦٤٤‏ 
امام ابوال پا ق رٹ یکی خدمت مشل 
ایام ابوالہ اس قرٹھی رر الع شاب اس مضلہ می تقاُن سےآ گا ویش تھے ؛کیونک ضر تعبدال مات 
کی جس جا تکوححقرت عبدالل ین عمردہہاھی مسترد کر کے أے ایام موصوف نے مستروک رن ےک یکو کی 
ہے۔ وو کھت ہیں: 
وَمَا ٥َكرَه‏ عََِة الَحْمَانِ عَنْ مُعَاوِيَة إِفيَاء فی الکلام لی حَسْبِ ظَيہِ 
اللہ َإِا وی ٹہ مرف من خالہء لا من یز شَيٰة بهاقاله لد 
”اوردہ جوحبدالرحمان نے معاومیہ کے تلق ذک رکیاہے مرن کے ضیال دتاویلی کے 
مطال قکلام شس ز یادتی ہے ورتہرمھاد یہ لا کے عال ویرت سے اد یکوئی نیس جا یگئی جھ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


أنوں نے ان کے پارے می لکی“۔ 
(المفھم لأبی العباس القرطبي ج٤ص٥٠)‏ 

پیاام ابوا لحاس مق اللرعلیکی خوش ھی ہے٠‏ ودنہ ماد کے اہسے احوال سےکتائی ںبھرکی پٹ کی ہیں- 
گزشت“فیات یس بس ربن الی ارطا کے جومظالم بین سیے گے د٤‏ سب سینا عی لہ کے دو یخلاخت مل بی ان 
سیقین ؤین پبڑھاۓ گے ے مکیکرمہ ہد یدمورداورین می انی ا کیاکی ان کے نا با ہو ںکز 
کیاگیاء ا نکامالل لوٹامگمیااورا نکی خوا ت٠‏ نکولونڑکی پناک با زاریش فروشتت کے لی ےکھ راک یاگیا۔جی دہ ا ہنی 
تماق ہیں جوححضرت عبدال مان بن عبدرب الہ نے ضر تعبدابقہ جن عرد یڈہ کے سا سے رھے تو وہ آنڑیں 
مستردندکر گے ہیا حوال اگ رفا تار کی یکناب می ہو تے فو انیس ارڈ کپےکرمست ردکردیاجاتءاب جولہ 
بن حول کت کر مسلم می 7کیا نو تو یلا تکاشردغ ہیس جب تاشاہےک مین بات وق عقوت 
محادبیکادرجرد ےد ماگیاے: 
اد ان کے مظال خی رکاذک رکب تار نیش ہوق جار فی رممجر 
۲× اگ رم کب حدیت میں ہوقو خطاے اماری 
٣۔‏ ورتتاوبل اورگویت! 


شمامیو ںکی چستی اورعراقیو ںک یس یکاراز 

ئل مکی زی یٹ حدیث سے بیدا زی یآ شا +وگیا کشا فوج چس تاورعراقی فو سس کیوںنی؟ 
شاب فو خکوسدہاعی لہ کی نک یآ بادیوں پر چڑحائی کے لے بھیجاجاح نان نی دہاں ےبھی مال نیت 
اورلوٹیاں ات تی یس جی اک ہآپ بس جن الا ارطا ۃ کے عالات میں پڑھ پچ ہیں ۔ننزحافظ ائی نکش راور 
علامہا وا نی ند یککھت ہیں: 

”می ال موس نٹ کوھالات نے بہتکدرکردباتاء نکی فوج می بےے اور دای انل عراق 

نے ا نکی خلت شرو ںکرد یی ہن کے سا تمادن سےکتزار سے تھے:أھرشامیو ںکی 

قوت زور یڑ یھی :اب وودامیں میں تےکر تے اورلوٹ مارمیارے ج۔ 

(البدایة والنھایةۃج۷ص٣۳۲ءمکتبةالمعارف؛المرتضی‏ لأُبی الحسن ندوي ص۲۷۰۰۲۷۸) 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





سید علی بھیقےانے ایک مرج انی فو نک یست برآ نیس تنویکرتے ہد جوق یرف ما یگھی اس می بھی 
کر ےک شائی فویج نے سیدنعلی لہ ےگورترحسان ین ضا نک کاو رمسلرافوں کے ما لکولونا سید می 
ایل کےطو یل خطاب سے ایک اقتاس لا حظفراے ا غہوں نے دودالن خطابفرمایا: 
فی غامد کےآد یک فو جن ”الائییسساز “ہ چنڑھائ یکی ءال کےگور رصان ین 
سا نا یکر دیہان کے ساتہکتیرے مردوں اود کو لا ککیاءایک اد یگ رکش 
کرمسلمران انان پاذتی نماندا نکیعورت کےکان سےا کی بالیاں اور چیروں ہے اس کے 
پاز یب أتارکرامیناان سے چلا جا جا ہے؛ اور برسب فو گی لوٹ کے ما یہرے ہوئے ا رح 
دای جات می ںک یکو ایک خر ھی گنر 
(الکامل فی اللغة واللادب لابن المبردج١‏ ص ٦۷‏ ۸؛المرتضیٰ لابی الحسن ند وي ص ۲۷۷) 
مطلب ہہ ہےکدد یو ما سے شائیفجیو ںکی پا نچو گی مم یل :و فا ملک تے ‏ ببھی مال 
ات اور مو یی اق کین ڈتان پر ت ےکر تے مب بھی مال سیت رین دوس ری طرف سید یق نت 
تم یلان پاخیو ںکا نما لیا جا گا اودنہقی ان کے مردول اورگورف سکوغلام اورلونڈیال بنایا چائ ۓگا۔ 
انس وج سےگ اتی لوگ ست پٹ گے تھے ما لک ضرور تک سکڑیں ہونی راس پک ز٤‏ أحدییش الین 
ری تکاسبب د وی لا کے علادءکیا تھا ؟ لٹ تی نے ما ہکرام خخےکاصاف صاف فرماد ھا 
نگم مَْ بُرڈ الڈنَا نم مَن بريڈ الاجوَة. 
”تم سکوئی دناچ تا تھاادرت ہ کوک یآخرت چابتاق“۔ 
(آل عمران:١٥۱)‏ 
اس ےم ات ساتھ یھی ایک تقیقت ےک سلمف جیوں کے جذ بیس نود ہرکی حیات وک لق ش 
بجی ضح فآ میا تھا۔ چنا نچرسور 7ال نذا لکی ا ی تفہ ر۴۵ میں فر ما اگ ایت نٹ سے شی افراددوسولوگوں پر غالب 
یں گےاورآ ی تک ر٦‏ یں فر مایا اب ارتا لی نتم تصحف ان لیارلہذا بت یل سے ایک سوا راودوسو 
لوگوں پرادرایک پزارافراددو را رلوگوں پرخااب آکمیں گے ۔خوددی سو ین کہ بوریں بیضع فکتتابدھا ہوگا؟ 
سید نائی ا کےبھو کے سای سسلم باضیوں کےخلاف لی مال پانی کا خر بتک لڑ تے ؟ ا نکی ہتیں بت 
ہولئیں اوردوسری طرف کےفو جو ںکو چونکہ ہرصورت میں مال پانی عاصل ہوتا تاوس لے نبوں نےجؾی وپاصل 


۶۲۵۰۵۵۱٥۷ لطا‎ 2131331. 





کی یف ری بی رخو ب ڑا یکی رت کاو کا سا ا لیے دیاتھاک ہنیس دی 
ستتبل کے سہانے خواب وکھاۓ مع تھے ۔لیطورنسوت ف ایک واق پش خدمت ہے ۔علامہ بلاذ گی اپتی سند 
کےس ات کھت ہیں : 
المَذَابِیيٰ عَیْ مَسْلَمْةقلَ :قال ل رَجُل مِیْ وَلد أئَةين خَلَف الْعَنجيٴ, 
لِمُعَارِبَة إِنتَرَكُن الْعَقٌ وَعَليْيدغون ِلیه ءوَبَایَقَاک علی مَانَعْلَمْ فََمَ 
َمَشذت الُمُوْر مث انا وزْة: میڈ اص وَعَمَرُون الا 
السُهْميٰء وَمرُزان بن اللحگم ؛ وَالمِيرَة بن هُغَةَء وَترَكُتَا. 
”امام مداننی خرت سلصہ سے روا ت۷ر تے ہی سک ہآنہوں نے بیا نکیا :ام جن طلف 
تھی پک اولادریش سے اییینش نے معاویکہا: عم نج نکوچھوڑ ا وا لانکییئمیس ام کی طرف 
بلاتے رہےاورینس بات پرہم ن ےآ پکا میس تکی دوآپ چان ہیں ۔ رج بآپ کے 
یےقمام معاللا تآسمان ہو گنت آپ نے دنیاکو چا راشائص کے لے یٹوچ سک رلیا:سعیربن 
الا ہر بن العائ ھی مردان ین اف ماومخیرہ ین شعبہ ہج نی ںآ پ نےبچوڑدیا'۔ 
(انساب الأشراف للبلاذري ج٥‏ ص ۱۳۲) 
انداز:فرمایے ! کی ےکسے لوک اُ نکی فوج میس شائل تے اورووکن امبیروں کے ساتھ بیع تکرتے اور 
جگیں لڑتۓے بے .آ ج کک دنو ساسندان ا کی پالیی پرگانزن ہیں اور وی فاظ سے دین بن دطبقات > 
غخال ب بھی ہیں۔ وی کامیالی کے بگرسیدا می می گی یس من جن ہستو ںکوقرم قدم پاپ خرت 
رظ رہودوا ےگ اسقعالنچو سک یکرئیں_ 
پادکی مدکی اوررشخوت 
معادیونے اپے بعد یی پلیدکی دک عہدکی کے ےکی سال چیہ شی شرو کرد نیہ برش رکے 
گور بات کہ دو اس لے می راہ جموا رکرے_مردان متون اش وئت ع بین مو +کاگوررتھاء اس ن بھی 
اس سلسلے می کش کی اورسجنویی شربیف میں ایک تق ریچواڑدی: جس جشمول امام ہفارئی رت اللعلی نجرد 
ٹین نے ذک کیا اورددریے : 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ص۵ ہا اآحادیث الم وضوعةفی فضائل معاویة 


ان اہی شی اڈ ماکورشوت 
امام بفار کھت ہیں : 
”لوسف بن مامک یل یا نکر تت می ںکہمردان جماز مقدس پرگوررتھا ءا سکومعادیے 
نے مقر کیا تھا ال نے خطبرد بات زی بن معاد یکا ذکچیٹردیا کال کے پاپ کے بدال 
کی یس تکی جاے ۔اس پرسیدن عبد اشن بین الو لن نے کوگی بام گی تو مردات تےکھا: 
ا سکو پل یں سی عبدالرشن سید وع نشی ارذ نبا ےگ رداٹل ہو گنو ولیک ان پہقادر 
نو کے ۔مروان ‏ ےکہا: دہ ہج کی غرمت می اللتھالی نے نازل فرب یا:هوَالَّذِي قَالَ 
الہ ات لاچ اس پرا مال وشن عا تشصد یق شی اللخنبانے پرد و کے جچیچے سےف مایا 
الدتھالی نے ہمارے بارے بیس یس نانر لف مایاءماسوامرئی اک دامتی کے“ 
(بخاري ص٤‏ ۸٢حدیث۸۲۷٣‏ ؛الجمع بین الصحیحین ج٤‏ ص٢١۰٣‏ حدیث )۳۳٣٣‏ 
یہاں باریس پچ ذو فکردیاگیا اس ٹف شارشان نےکھا: 
قَذ اخْتَصَرَۂُفَأَفْسَلَۂ 
”امام باری نے اخنتقارکیانویات باڑدی“۔ 
(فتح الباري ج۹ ص۸١٥٢)‏ 
می سا ہوں :ودای ت کا تح لف لک نے پرشھی امام ہار دح علیہ ہمارے “کور ہیں او ہمان کے 
ش اکر ہیں :ہہ رحال د+محزوف جملہ ریھک خال الموشن(یشرط جواز )سیدرناعبدالرمان ین ال یکر چٹ نے فرایا: 
برسنت صد گن یس بلک ٹل وقیصکی سنت سے تفصبیل کے لییے لا حظہو: 
(تفسیرالنسائي ج٢‏ ص٠‏ ۲۹ حدیث ٥٥٥‏ ؛السٹن الکبری للنسائي ج١٠‏ ص ۲٥٢۷‏ حدیث ٦۱۱٢۲۷‏ 
المستدرك ج٤ص۸۰٣وط:‏ ج۵ ص٤۷١‏ حدیث ۸۵۰۳۰؛تفسیراین کثیر ج٤‏ ص۱۷۲ ؛الکافی 
الشاف ص ٥١‏ ۲؟؛الإصابةج٤‏ ص٦٤۲۷‏ الدر المنثورج۷ص٤٤٤‏ وط: ج۱۳ ص۳۲۸؛فتح 
القدیر للش وکاني جچ٥ص٢٦۲؛فتح‏ البیان للقنوجي ج ١١‏ ص٤۲؛روح‏ المعاني ج٣۱ص۴۲)‏ 
سید تا عبدالران بین ال یبر ےکی اش یکودورکرنے اور نیل نر مکرنے کے لیے محاویہ نے ُ نک 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


طرف جگھ پپ ےگ دبے۔ چنا را نکی راوردوصرےحفرا تککعت ہیں: 
فک مُقاَةإِلی عَبد الرَحْمَانِيرِ اي کر بمالَةاف درم ء َفد ا ابی 
زیڈ بن مُعَاوِيةء فرَفا غَيْد الرّحْمَان وَابیٰ ا بَأَخْلهاء وقال : ابی یی 
3 ٍِ 
”معاویہ نے سینا عبدالرحمان بن اپ یبکریٹشدکی طرف ایک لاکھ ددم یی بعداس ک ےک 
أنہوں نے بیز یدکی ہبیعت سے ا کرد یاتھا فا غہوں نے دودربھممستردکرد نے اوران کے لے 
سےامکارکردیااورفر مایا :کیائیش اپن دی نکودنیاکے بد لے بیس پچ دو ں؟“'_ 








(الہ۔دایةوالٹھایة[قطر ]ج۸ ص ۲۹ ؛الصابة ج٤‏ ص ٦۲۷؛الاستیعاب‏ ج٢‏ ص ۹٦۳؛مختصرتاریخ‏ 
دمشق ج١٤۱ص٢۲۸؛تھذیب‏ الأسما واللغات للنووي ج١‏ ص٥۲۹٢‏ شذرات الذھب ج٢‏ ص 


٢١ٌتییان‏ القرآن للعلامةغلام رسول سعیدي ج۱۱ص٤۹۰۰۹)‏ 
امن گھررشی الکن ااورشوت 
مال ال وین (بش رما جواز )سید عبد اللہ نعمررشی اعت ہاکویھی ای طرع رشوت دی ےک یکوشن لک گی 


تھی چنا امام این سع دک بر ہیں تاب رت ان ےد دا کر تے یی 
ام مُعَاوِيَةبَعَک إلی اہن غُمَر بِجالَة الب : فَلَما أرَادَا 





قال: ری اک أرَاد ء إن وِبىي عِنَدِي إِذَا لَرَيْص. 
”محاویہ نے سید ناای نگرزشی ایڈرکنہاکی رف ایک لاک یی :نچ رجب معا وی نے 
چا کہدہ یز یدکی یس تکر یا نہوں نے فربایا :اب مبچھاہوں می سک ہراس دقم سے ا لکیہ 
ارادونھاء تب نو میب راد ین بڑامستا ‏ '_ 
(الطبتم۴ات الکبری لاہن سعدج٤‏ ص۱۷۰ :سیر اعلام النبلاء ج٣‏ ص٢٢٢‏ ؛الکامل فی التاریخ 
للجزري ج٣ص )۳٥٣٣‏ 
عافطائ نت ستلالی نے اس با تکو ہار یک عد ٹہ راااےے ک تحت ز یادووضاحت سے لھا ے: 
(فتح الباري ج۳٣‏ ص٠۰‏ ۷ءوط: ج٦۱١ص )٠٥٥‏ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 


سیراعلام الْنبلاء کےیتھقین نے اس وا کی ستدکوقج قراردیاے۔ 


عیحت بیز کے لیے مال اورز شی نکی رشوت 

دوسرےمقام پرامامابن سعداپٹی مند کے سا کھت ہیں : 

”معادین ردب العائ کی ڈیو ٹی لاک یکوہمعلو مکر ےک( خخال الم وشن ای نگم 
ند کے ول میں خلافت کے معا لہ می سکیاخیال ہےآیادہ اس معاملہ تال جات ہیں 
ای ؟ ی مرو ین الحائس نے ان ےکھا:اےایوصبدال ران ! آ پکیو یش ہک مآپ 
کی بیع تکرمیںءآپ رسول الد شا کےسھالی اورامی رکون کے فرزند ہیں اوراس معاممہ 
یں تمام لوگوں سے زیادہ تقدار ہیں .سید ناا نگم نشی ایڈش انف مایا جو ےق مکپر ہے ہ وکیا 
لوگ اس پر ہو جائجیں گے این الا ن ےکہا:اں ماسواچنداف را کے.أ نہوں نے فر مایا :گر 
سب لوگ میریی یی تکرلی ما سوا تن زدورول کے بج ببھی بے اس محاللہ شی لکوئی دی 
یں ۔ جب ان العائش نے جال یاک انی اس معا ہہ سکوئی یی تو وہ کی لگا: 

مل لُک ان تَايِع لِمَنْ قد کا الْاسُ ا يجْتَمغوا عله ء وَبَكُنْبْ لُک 
بن الرْضِیْن ومن الّموَالِ ء مَالاتَحْتَ جات وَلا ولک إِلی مَا بَفذۂ ؛ َقال : 
ات لک: اُشْرُغ بی عصْیِي ءثُملانَخْلْ لی ء زنک إِك دِٔي لیس 
با رِكم وَلَاِرْحَكُم ء وَإِنَي ارجُو ا أَخْرُج من الڈلَ رَیَدي بَیْصَاء قب 

کیا آپ امش کی بیع تک ریس گے جس پنتقریب سب لوک نع ہونے وانے 
ہیںہپ کے لے ات رت اوراموا لکھ دپے جانشیں م ےکہ اس کے بح دآپ اورآ پک 
ادلا اخ نیس ر ےگ ؟ اس پر نہوں نے فر مایا تھھ پانسوں ہے + دن ہوجاییاں ے! بر 
ابآ ن ےکی جراُت ندکرناہتم بلاک ہو جا امبراد ین تھہارےد ینارودد ہم کے بد لے میں 
ہے یریت خوایل ہےکمیں دنا سے رقصت ہوں نو میرے اتوصاف ہول“۔ 

(الطیقات الکبریٰ لابن سعدج٤‏ ص۳٥۰۱٣٥۱؛سیر‏ اأعلام النبلاء ج٣۴‏ ص۲۲۸) 


سیآ لام الا س ےشقن نے اس داقکی سن دی یق اردیاہے۔ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





مین شع ے چادلہ رشوت 
محادریرنے ایک مر یرہ بن شع کون ےکی امارت سےمعزو لکر کےا سکاکی ہیاک ہیں معزد لکر 
دیاگیاہقم فورامیہرے پاس نچ ہجوت خمرسے پچ معادینے پچ مچھانقم نے تا کیو ںکا؟ ا نہوں ن ےکہا: 
میں ایک ام شگہم میں شفول تھا ء دہ ےک آپ بوڈ ھ ہو چچے ہیں اور نے چا پاکہلوگو ںکو یز دک وک عہدری 
کے لے تیارکروں ءا اسی وج سےت خی رہوئی ۔ ماد یر ےکہا: پچگرتم اپینے منص بک طرف لوٹ چاؤاور ا ںکا کو 
جنگ ل کرو۔دووائیل مگ ءوہاں دی افراولیں راردرم د ےکر ال جات پراش کیا اکردومحادیہ کے پا چا 
ری یدکودلی عمہدمف رک ن ےکی جال تک یں۔ ان لوگوں کے ساتھمغی رو نے اپتے ٹیے موی بن مخیرہکواھی میا 
جب دہ اصع بات ہو2 معادیرنے ائانمنی ےپ ھا: 
کم اشتَری أبُوک من ولا دِتَهُم ؟ قال : بِقلاِین اف قال : لفة مان عَلَهمْ 
”تھھہارے باپ نے ان لوگو کاو بین کت می خر یدا؟ ال نے با یا نکی بٹرارٹش ۔معاوریرنے 
کہا ز تب تا نکاد ین ا نکی نگاویش بہت ہکا '۔ 
(الکامل فی التاریخ لابن أٹیرالجزري ‌ملخصاًج٣ص (٥٣٣٣۳٣٤‏ 
میں برا کے ذکر کے بغی روا قعرھا فظائ نکی اوران خلدرون نے بھی جیا نکیاہے- 
(البدایة والنھایة [قطر]ج۸ ص ۱٦٢۱١١‏ ۱؛تاریخ این خلدون ج٣ص۱۹)‏ 
2 تق رحمۃ اللہ علیرنے اس جیعت کے سعاملہ جس پیل ماد یکذب بیالی ددع کی اود چرس کے 
اسباب بیان کے اورأس مم أُضہوں نے دوا لیے سحایو ںکوفساد بھی قراردد یا جوموادہ کے تی تھے چتائردہ 
کھت ہیں: 
”خر تجسن بھری ہکا بیان ہے: لوگوں جس فنہ وفسادکی آگ سلگانے والے 
صرف ددآدٹی ہیں جن مٹش سے ایک عمرو بین عائش ہیں جنہوں نے امی رمعاو یکو نزوں پر 
تق رآ نکرم) انان ےکامشورودیااو رق رآ نکر نیزوں پاٹ اۓے یئے۔اد راع قراءکاقول ے 
فا رد ںکوانہوں نے تی خالت بنا یاتھااور ید دٹالٹ تج نکاج چ قیامتکک رےگا- 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





ضمادیوں یس سے دوس ر شش مغیرہ بن شعبہ ہیں ج کہ ام رمعاودیہ ک ےگورن تھے جن 

کے نام امیرمعاد یکا یف مان پٹچتھاکرا کےعم نام ہکی وصولیالی اورخوان کی کے بخم خووکو 

معزدلکچھواورکوف سےفرآہھارے در بارش حاضریی دو یلکن یرون جم م روبق (حاخر) 

کی اور تو بی در بارٹ کی پرامیرمعادینے حول یکا سبب پو ھا جواب دیاک ایک معال 

پیٹ تھا یت ےسکھانے اورمفیطلب بنان ےکی وجہ سے دم ہوئی سام رمعادیے نے پ پچھا کیا 

معالہتھا؟ ا۶ا مخیرہ نے جواب دیا:آپ کے بعد یذ یدکی بیعت کے لیے زین جھوارگر رپا 

تھا۔دد افتکا آیائم نے یہ پوداکرلیا؟ جواب دیا: کیاکی ۔ یدک نکرامی ماد یئ ےکھا:اچھا 

اپ یگورٹری پر دای جا اورپ سالبق فرلض انام دو۔ یہاں سےلو فک جب یرد اپچے 

اجاب کے پائں او انہوں نے پہ چھا تا کی رتی؟ مغیرہ ن ےکہا: یش نے محاویہ کے 

پل أس ناداقفیت کے کاب ممل رود یے ہیں جس میس قاممتکک دوگ رر ہیں گی“ 
(سائت بالسنة مترجم ص۳۸ءوعربي:ملحق بمترجم:ص ٤٢۲؛سیرأاعلام‏ البلاء ج٤‏ ص ۳۹؛ 
تاریخ الخلفاء اردو؛نفیس اکیڈمی ص ۲۰۷) 

تا یے !اپ مو جودی بس بزیدکی بیعت کے لے لوگ کور تی٠‏ پاٹ :بر ےاور مال د ےگران کے 
تیر ںکا سوداگر نا پادئی اور ہیی ہون ےکیکو نک یحم ہے او راگ ریا تاد ہا در ےکا ے؟' 


پادگی؛ ہدی اونٹراب 
ماما رس الف عل کھت ہیں: 





دخْلۓ ان وَأبيْ لی معَارَِة فَأَجلسَنا لی اْقَرشِ تمُا بالطّغام اکنا ء تم 
ُا باشّرَابِ قرب معاوِبَةً ء تم نو اب ثُم ال : ما َرِيه نڈُ عون رَسْزْلَ 

” سید نا عبداش رین پر ید ہو شی اڈشنمابیا نکر تے ہی ںک یی اورمیرے والدمحادی کے 
پاں مع ت2 أنہوں نے بھی مستریرتٹھایاء بھرجمارے لی ےکھا نال بایان بھم نےکھایابچ شراب 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


افاعادیث الموضوعذفی فضہانل معاوبۃ ےی 90" 
لا یک نذ معادی نے پپء گرمیرے واللد نے یڑ یت کہا زجب سے رسول اللہ خ ام نے اسے 
تر مکیاےتب سے من نے ا لکونش پیا 
(مسندأحمد(شاکر] ج٦٥‏ ص٤٤١حدیث۲۲۸۳۷؛وط:بتحقیق‏ الأرنؤط وغیرہء ج۳۸٣ص ٣۲٢‏ 
٦‏ تاریخ دمشق ج۲۷ ص۱۲۷)؛مختصرتاریخ دمشق ج٢٣‏ ص٤‏ ٤٤٤٥؛جامع‏ المسانید والسنن 
لابن کثیر بتحقیق عبد المعطي أمین قلعجی ج٢‏ ص ۱۸۷حدیث ٢١٥‏ ۷:أطراف المسند المعتلي 
باطراف المسند الحنبلي للعسقلاني ج١‏ ص ٦٦٦حدیث۸٢۱۲)‏ 
حافظلورالد گنی ری اب علیہ نے ال حدی ٹکو ”مجمع الزوائد“ نلیا ہاو رما ےک ال 
کوامام اجھ نے راوی تگیا ےاورآن کےتمام داد یج حدیث کے رادئی ہیں لگن ننہوں نے اس ”ملکوعد یٹ 
کےاندرےطذ فکردپاہے:” ما شب من حوۂ رَسول اللہ . (جب سے سول اللہ مم نے ا سے 
تام کیاےےجب سے مل نے ا لکوکیس پیا اورخوداعترا فکر تے ہو ےککھا ہے : 
”محاوی کلام لکوئی ین سکویش نے چھوڑدی“۔ 
(مجمع الزوائدج٥ص )٥٦٤‏ 
الیباقی ا ہوں نے اپنی ا کتاب می لپ یکیاہے نیس می غہوں نے مندات کی دو احاد یث نکی ہیں 
جیحاب ست کے علادہ ہیں- 
(غایة المقصد في زوائد المسند ج٤‏ ص١١۱‏ حدیث٤٤٤٥)‏ 
بح فڈڈنی ر2 الد علکی دیاخت دارئی ہے ا نہول نے خوددی اد اک اہول نے دوجملعذ فگردیا 
ہے جس سے معاد کی شراب وٹی خابت ہوی ہے۔نوال پیدا ہا ہ ےکآ خرأغوں نے ای اکیو ںکیاجَ ان ے 
تک اس حدی کی س نیع ے؟ کیاکوئ مال کا جانے ولف لاگ بادشاوجن جائے او کرد ک یکر گناہ 
کا رکب ہول اس پر پردہڈالناورا کی نما راعاددی یٹ مج سے لے حذ فکرن شر یم ہے؟ اگ ریہ بمذعزف 
کنا تماض روریی ہو جات لکوسیدرا عمبدالڈ جن بر ید ور٘ی ال ۂشہمااورن کے بعددا لے راو ول نے حز فکیاہوتا- 
قارٗی کرام مک اطلاع کے لیکش ہےکہی ہمہ ”سجمع الزوائد “کے قرغ سےا عحذوف ے 
مگروارالفگراوردا التب العلیۃ ہبوت کےےعفقان نے اس جم یندا سے نےکرپھر' ”مجمے الزوائد“ 


.2131331 ۷نا ۶۷۵۰۰۵۵۱۵۷۸ 





می شا لکردیا رتو سین کےا ندرٹیکن شی نی نیم اسد یقت سے جوشی ال داد شاک ہوئی ےس مسج 
مصوف نے ال جملکوناپہند ید وت اردیا ہے ۔ می پو چا ہوں :امیرشام کےمتحلق جن موصوف کت جملوںکو 
الپندیدوتراردیی گے؟ہم ری نین لیم اسدالدارالٰیٰ یفن ےشائحع شمدم ندال مل اوج زور 
سےا یے نا پہند ید جملو ںکی نشا مد یکرناشرو خکری توچ موصوف سپ کر بی جانہیں گے۔ 
لففاشراب نشور“ فی میں 

ا لق کی و ہریت مکلوک وشتتہ چیزوں ےبھی اتا بکرتے می ںان ادھرحالی ہہ ہےکمسیدنابریدہ 
لد نے جس چزکےتام ہونے پرعد یش نیوک شی فرمائی ‏ معاد رکا یک سے اجقاب نیس ھا۔ او لے "الله 
اع تماد مه کیمتبولیتکہاںئی؟ 

ریس کک یرب لف غاب “نے کےعفی می پوتا از یہاں ا کور دوز ان دانے 
شراب کے من جس کیو ںلیاگیا؟ 

ال کا جواب سیب ید وہ کے ان الفاظموجودے”مَا خَرِيله مد عَرمَة رَسُوْلَ الله 4“ 
(جب سے رسعول الد اَل نے اسےترا مکیاہ ےجب سے مم نے ال ںیکس پیا تا یے !و وکو نکی چ سے جو 
عرب مواشروی پل پی ایی او ررسول اوہ نے ام لکنا تراممکردیا؟ عطادداز یں عرب اور ٹش 
لف شراب نآ ور شاب“ کے عفی می بھی تتعمل ہوتا ہے۔ چنا رنیب بفدادی راو یک عدال تک یتمریف 
می سککھت ہیں: 

سیل اہی الْمبَارکِ خر العَذلِ فَقَال : منْ کان یه حَمْسُ جضالِ : 
َفهَد الْكَمَاغةء و يَشْرَبُ هذا الشرَات ء وَلَانَگُوی فِي دہ عَزبَةء ولا 
ِب َلَايَكؤن في عَلَله ي٤‏ 
”امام ان السبارک سے عادگل راوئی کے بارے شںسوال کیاگمیات ا نہوں نے فرمایا: 

جس میں پان نصلتیں ہوں: جدراعت ہیں حاضرہوتاہوہ اس شرا بکونہ پیا ہہس کے دی 

می ںکوئی خرالی نہہوہ دہ ھوٹ نپوا ہواورا سک یپقل می کوک ھی نہ“ 
(الکفایة في علم الروایۃص )۷٢‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ دا‎ 2131331. 





ال عبارت مس افظاشر! انث 7.0 ب کے میں استعا لکیا ےڈ-7252 
رت ال علیہ نے شمجورآ یقت کا َقربوا الصّاۃ ونم شکاری 4 (النساہ: ١٣‏ پکیفیرمی فطاشراباٹھر 
کے نکی اتا لکیاے۔ 


(احکام القرآن للطحاوي ج۱١ص۱۱۳)‏ 
گی ء مدکی او ریا کون چاتز ڑچ یاں 
بای شر فکاطوہلی حدبیٹ یس ہکایک مر میعت کےسلسلے م سکوئی میٹنگ ہو ریا ءام 
الین سیدہ ضصہ بنت عمرشی اد رکنمانے سیدہا عبدانشد ین عمرخلہپرز وددیاکہ دہ ال می ضرورش یک 
ہوں۔دوفرماتے ہیں :نجس أس میں شیک ہوا تو معاویہ نے تق کرت ہو ےکہا: 
”وٹ بھی امارت یاد عہر کے موابلرہ زبا نکھولنا ا تا ہے٠‏ دو ذرا نا ینک تذ 
وم اکرے۔ہ مل سے اودرس کے باپ گی ڈیاد+امارت کے تخل ہیں ۔عبیب من 
مُسارہ نے (جوحضرت ای نگمرخلی سے بد وشیداکن ر ہے تھے )اپ چھاکہآپ نے معاہ یل 
جوا بکیوں ضردیا؟ رت اب ن گرخہ نے فرماا یش نے اپکی اد کی اورارادہکیاتھا 
کہ ان ےکہو :”نتم سے زیادہامار تکاتفن داد دہ ہے جس نےتم سے اورتہارے پاپ 
ابوسفیان سے اسلا کی خاط را لکیا ریس ڈرگیاکرمی ری بات سے (یادوت بی پداہوگی ٠‏ 
تم اکیخودں رت کیک او بت جا گی اورمیرکی بات ےکوگی دوسرادی مطلب اغ کیا با ےگا 
یں یں نے جنت می اپ اجرکویاوکیال(اورخاموٹی برک )۔عی بککینے لک آپ نے اپنے 
آپکگوطریہ چاپی“۔ 
(بخاري ص ٦٣٥٥‏ حدیٹك۸٤۱٦)‏ 
یاواتی معاد فدہ خاکی سیدنعرأورن کے فرزند ے خلا ف تکازیادوقی دارتھا؟ انیل تھا ا سکا یر 
گوئی اور کی ہدایت سے بالات ئن ہ ےک کوک گنس ا سکوا جا وق ار ےکرال پراجروظ اب خاب تکر 
ڈانے بین اس مقام رض ا رکم نے تن بات جا نکردئیاے۔چتا رای عدیث ملف علایکپرایڈ ول 
کی آھیں: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





ا ا کے ر ہے اورأغہوں نے 
معاو خل کوشا مک اگورزریی بتایا کم بفار کاب المغازی عدیث ۴۰۸ میں دکھییںک 
رحوات کے سا تسین عمرجچدکی می نکی“ 


(شرح أربعین إمام حسین خ٭ەدص )۱٥١‏ 

خلا ے اسیدناعرطلہ اوران کےصسوئی عزا جع فرز نکی ت می نںکرنااورآننیں دم د ناءکیا یہ ”الله 
ال ماد مد“ کی ٹرکاتے؟ 
ادییا ہدک او ناضق 

امیرشام نے اپے دورمی نا جاتزہ نات اور بٹےتصورکافی لوگو ںو کراا کٹ رلوگو ںکوحیتم تو یکی 
پاش مآ کرای اس سللل جس انچائی باتک اور طول واتیات ہیںگرراقمالحروف فتظا دو واقعا تک آپ 
کےمامےلاناچابتاے: 
آ تنم امرشام سی نالیارطا کی بد بر یت 
٢سد‏ رین حدی اوران ے۔اتھیو ںکاقتل ناصؾن 

ان میش سے اول الذکرکی برب بی تکاتذکرہ یل سےکل' اس رین ای ارطا کے مال کےعنوان سے 
چک ہےادرمة خرال کات کرد یہاں شی یکرتاہوں- 


سید نا تجریکن ع دی اہ اورآن کے رفتا 7ہ ای 

سینا رین عدری من اورآن کے رفا کی شہاد تکاواق کی طول ہے اور تد وکنب یل موجودہے_ 
پل نکاشق تارف پھر نکی شہادتکاواقطاحظرفر میں 

بیشن کے علاتے کند کے پاشندے تھے ایک وف کے اھ بارگاورسالت کاب یں حاض مور 
مرف باسلام ہوۓ تے۔ح با سید :ای دیس سے تے. ا نکی تا جنگوں یس ش ریک ر ہے تھے ہآ خ رم سکوفہ 
می سکونت پذ مہو گۓ تھے امام این سح درککھت ہیں : 

در بَغض رُوَاۃ العلم اه وَفة إِلی اي ف مع اه قانی بن غدي۔ 

حدبیث کے راویوں نے ڈوک رکیاہ کرد اپنے بھائی حالی بن عدکی کے ساتھ بارگاونوی 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





یس حاض رہوج 


(الطبقات الکبریٰ لابن سعدج۸ص ۳۳۷) 
لامعا اکم مال علیہ نے ای با تکومل سن کے ساتموکھاہے اورامام ذ بی نے اس پرنماموٹی اخقیار 
ف ائی سے نیزامام عاکھرنے ان کت احادییے پر یی ںکنوانقا مکیاے: 
ذِکز مَتَاقبِ خُجر بن عدىٍ ٭ل وَهُو زَاجِبٰ اَسْخَابِ مُحَمَّدِ ق رَمَقَلهِ 
سید تجرمن عدکی تل کے من قب٠‏ جوکسید تام پا کے اصحاب می درولیش تاور نکی 
تکیکا اکر 
(المستدرك للحاکم ج٣‏ ص۸٦١‏ ءوط: ج٣‏ ص ٣٥٢٥٢٥٤٢٥‏ حدیث ٢٣‏ ۹۷) 
ا اکن اش رجزرئی اورحافطائ تج رسقلا لی ن بھی ای طر حککھاہے- 
(أآسدالغابة ج١‏ ص۹۷٦؛الصایۃج۲ص۳۲)‏ 
امام اہ نعبدا رم او عل یلجت ہیں : 
”یدناج جن عدی فلا سا کرام بی ٹس سے تھے اورک کن ہونے کے باوجود 
اکا برییں خارہوتے تھے '۔ 
(الاستیعاب ج١‏ ص ۱۹۷؛بغیة الطلب فی تاریخ حلب ج٥‏ ص٠‏ مه 
امام ذئیی اوردوس ہے علا گرا مھت ہیں: 
ولِحُجرِ صُحْبَة وَِقَافَة وَجھَاد وَعِبَافَةٌ 
تج عبت زیارتہ چہادادرحیادرت سے الامال تج“ 
(العبرفی خبرمن غبر ج١‏ ص٥٦‏ ؛تاریخ الاسلام للذھبي ج٤‏ ص۱۹۳؛شذرات الذھب لابن العماد 
ج١‏ ص٤۷١۲‏ ؛درالسحابة في ذکر شھداء الصحابة ج٣‏ ص۱۸۲) 
اک ڑح شی کرام نیس صھالی ما سے ہیں اور ض حا لئ یک ہیں نان سب انی لی مزابرہ عابد صاحب 
امتتقامت مامر با لحروف اورتیمعن انکر کاخوگ رما ہیں۔ چنا خجہ امام ااوالعرب مین ا ین تیم متوگ 
٣٣۳‏ یکل سن کےس ات کھت ہیں : 
”نج ربمن عدی یٹ ہکندی ءکندہ کے رنے وانے تھے اعیادتگز ار تھے +وائم] با وقسورجے 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 






والے تھےء ج ب بھی بے وقسو ہو تےےتذفورأوض ور تے اورہم تی الوضوپڑ جت“'_ 
(کتاب المحن لأبی العرب التمیمي ص )۱٢١‏ 
اامنی اکھت ہیں: 
وَکَان شَرِيْفَاء أبيْرَا مُطَائا مرا بالمَمْروْفِ ء مُقَيمَا عَلَی الإنگارِء ین 
شِقة عَيٰ رَضی اللَهَُنْهمَاء هَھد مِفَیْن یڑا ء کان ڈا لاج وََعبِ 
”وومعزز تھے بقبول میڈ رت ہکثزت سے بھلائ یکا مکر نے وانے اور بڑھ پچ ےکر 
برائی سے رو کے وانے تھے :سید علی شی ایہم اکے پیردکاروں میس سے تے بن مفین میں 
پیشیت ام رشریک ہوۓ جھاورنکی دعبادت کے پر ۓے 
(سیراعلام النبلاء ج٣‏ ص٤٤٦‏ ؛درالسحابة في ذ کر شھداء الصحابة ج۳٣‏ ص۱۸۳) 
عافد ام نکش رلھھت ہیں: 
”یمام لوگوں سے زیادہ عباد تگزاراو راہ تھے ءاپٹی دالدہ سے ببت بھلائی ے 
ٹپ نے وانے تھے اورنماز وروز ہک یکثر کرت تھ ۔ا وٹ رسکیچے ہیں :دوج بجھی بے 
وضوہوتۓ وو رأوضوکر تے اوردورکعت نماز پڑ ھت ۔ یہ بات بہت وگول نے بیا نکیا ہے '۔ 
(البدایة والنھایة بتحقیق عید الله الت ر كي ج١۱١ص‏ ۲۲۹) 
سینا من عر یج یشہاد تکا سب بکیاتھا؟ 
علاوکرام نے نکی شہاد تک وجہیگھی ےک ووکوفہ سےگورٹرزیاترا یکواس وق تھے تھے جب دہ 
سور کےمتب سید نائلی لکوت بش مکرت تھا.زیادنے ا نکی ا جرأ تکا تج کرہامیرشا موک بھیجاءامیرشام 
نے انیس ساتھیوںسیتطل بکیاادرمقام عذراءپ ضا لکرادیا۔ چنانچاماذئ یلکھت ہیں: 
وَکَان ابداً صَالِکا ء لا زم الوّصُوْءَء وَبُکیز من الَمْر بالمَغرُوْفِ وَالنَهي عَن 
المنگر گان ُكلِبُ این یه لیر لی الْمبَر وَحَضَبَ مَوَةء فَكتَبَ نہ ِلیٰ 


ا با ری تھے پیش سوسے رہچے تےءہکشت ام پاحروف اور 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





خی جن اکر 72 2۴21ات رر عت ا اک طرف 
تنک یا ں بیس اس نے اس سلسلہرمیں محاو یلگ ھیچا...؟“ 


تاریخ الاسلام للذھبي ج١٤‏ ص۱۹۳) 

عوالل پی دا ہوتا ےک جب زیادائن اہین یہو تھا سی ناتجمربن عدکی اس دلدالرکوکیو ںٹو سک تے؟ 

اس لے ٹو سے تےکمنوامیہ کے خطباء مسا ہد کےمنیروں پرسید نال الرشی اط اعت اورست بش مکرتے 

تھے زیادابن اہی ےل جن کو ذف اگورنرقاو وی اپ یگورنریکوقائم رکنے کے لیے بی دحند ہکرت تھا ورنے 
ےگھیٹو کے تے۔ چنا فچرعافطائ نک رھت ہیں: 

َإِذَا کان الْمُِيرَةبْْهُعبَة لی الكؤْقَةإِذًا ذَكر عَل فی 

بَعْدَمَدح عُنمَان وَفِیْعَیه ءفَيَقْضِبٔ خُجْرٌهذاء وَبکر الانگاز عَليه ء وَلکِنْ 

کان الْميْرَة یه حِلم وَانَاةُ ء فگان یَقُصَحْ عَنه رَيعطّة ما بَا َء وَبْعَذِرْهْ 

غَبٌ هذا الصییٔع ء فإِنْ مَعَارِضَة السُلطُانِ شَدِيوَبََْا لم يَرّحمٌ عُجْرْعَنْ 

ذلک, 

”جب مفیروبن شع کوفہ کےگورز تق دداپے خب رٹ سیدن عثان مجن عفان خقاداور 

ان کے پیر کارو کی مد کے بحرسید نی یٹ دی نیع کر تے تھے نذا پرسیدنا تج جن عد 

خلد غحضب ناک ہوجاتے تھے اورن پہ بر پڑت ھے:مفیروٹش بردباری اور برداش تی “و 

ووان سے ورگذرکر جات تھے اوداپے ہا یْعل کی نبرا نیل بجھاتے تھے اوراس کے انام 

ےأننیں ڈراتے تےکہ بادشاہ کے رو لکا وبا لیخت ہوتا ہے اکن سید تمر لد ال ے باز 


ضاے'۔ 








(البدایة والٹھایة بتحقیق محسن الت رکي ج١١۱ص‏ ۲۲۹) 
سید باعی اک یی سکرامیر بین شع کاحوب شف نی تا لین با نکگورنر کی بنا کے لیے 
لاڈ تاب کعلاء نے سند کے سا توککھا ےک محادیہ نے جب أُ نکی لکورنرہنا ناپ نیل بطو ضا وعیت 
کرای او رکیاتھا: 
چاہتاتھاک میں بہ تک بیزوں کے بارے مس عیب تکروںت ہم یش ان پان ںکو 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


تہاریتفل مندری کے بی فظ تر ککردباہوںلین یں 1یک با تکوت کن سکرہا:لا ترک 

شٰم لی وم اَم علی فا الا فاز لک (عکوست پشظمکرا ود کی 

ممصتکر نا اوران کے ےی رم کی دع اکر نااورآن کے لےمغفرت مانگزا نجچھوڑ “ 
(الکامل فی التاریخ لابن أثیر جزري ج٣ص۹٦؛اُنساب‏ الأشراف للبلاذري ج٥‏ ص ٢٥۲؛مرأة‏ 
الزمان لسبط ابن الجوزي ج۷ص )۲٢۴‏ 

سوأنہوں نے اس وصی تکوخوب نچھایااورخودیھی اورکرایہ کے خطبا رلیھی ا سکم پر لکادیا۔ شا وو 2 
کی کہ تارج کی اٹ ہیں پنراا نکاکوئی ابا ریس تو جناب والاست پش مکی اس وعیت برجم طرح مفیرہ بن 
شع نے ل کیا کات کر امام ۱ہام مابوداودیطا سی ءامام انال شیب امام نسائی امام ایٹتلی امام ای نحبان 
اورامام این الی اعم نے اپچی اچ کنب عدیث می لکیاے اور جکل کے تر شقن نے ان اعادی ٹکو قرار 
دی ہے۔ا سکاگم تق کے لیے راقمالھرو فکیکتا بت لا تَنْتوا اُمخابیٰ “(میرےعھابکوبراگو) کا 
مطالف انئیں- 

مرو بین شعب کو اس نا پاک جمارت ‏ ےگئی با رکش ہاشرو یس شا لپنف س معقرات نے ٹوا بھی تھا سوجب 
دو ال ناز یا 7کت سے باز ہآ ۓ و سید نا رین یع ن گر سےکہاں بازآنے وا نے ے؟ پھر جب مفیرہ رن 
شع وفات پا گنن کے بحدزیادائکن اببکووہا لکاگون ہناد یگیا_ 
ایک بی طلاتقا تک مار 

ابھی اچھ یپ نے پڑھ اک مغیرہ بن شعبکووصی تکرتے ہوۓ معاویہ نے دوسریی یتو کو مفیرہ کن 
شع کی ذ با کی وجہ سے تر ککردیاتھاگ رش علی اور یہی کی وع تکو رک نمی کیا تھا لب خودسو ہچ کک کیا 
یق تع کی جات ےک نہوں نے ذ او نی وصیت نکی ہو ء ہرککی بللہدہہرکورگو ینا پاک دعیمت 
کربالازم مھت تھے یی وج ےکا نکاہرکورنزست شم می پوراپوداحص لیا تھا اورجھ (ہمل ےگ یدک رتا تھا 
أ سےمحزو لگردیا جتھا۔ چنا ماما بشل رم اف علیہاپنی ند کے ساتح کھت ہیں کیم رن اسحاقی نل ےکہا: 

کا مَرُوَان أْرأعَليَا بت بین وَكاَ یسب عَليا کل جمعَةء لم غزل ۰لم 


۶۲۵۰۵۳٠٥١ طا‎ 2131331. 


”ردان پچرسمال ہم پرگورزمتمررر ہاور دہ چرچ یکوسیدنا صلی لن پر سب پش مکرتا تا کر ے 
معزو لکرد گیا پچ رسعیرین العائ کوعانل بنااگیاقذددسب یش سکرتے ےہ پچھردوبارہ 
روا نکوانشررکیگ یا قد وت پش مکرت ھا“_ 
(کتاب العلل للومام أحمدج٣‏ ص٢٦۱۷‏ ؛تاریخ دمشق ج۲۱ ص۱۲۹ءوج۷٣٥ص ٢٤٤‏ ٢؛تاریخ‏ 
الاسلام للذهبي ج٥‏ ص٣۲۳۲۰۲۳؛:سیر‏ اأعلام النبلاء للذھبي ج٣‏ ص ٥٦۷۸۶ ١۷۷‏ البدایة والتھایة 
ج۱ ص۳۱۸ءوج ۸ص٣٣٦۳؛إتحاف‏ الخیرۃالمھرة ج۸ص۸۲حدیث ۷٥٥٢‏ ؛المطالب العالیة 
ج٤‏ ص۳۲۹ ٣۰٣۳وط:‏ ج۸١‏ ص٢٦۲‏ حدیث )٥٤٥٤٢٤‏ 
ىہ بات ا کاب می بھی موجود ہے جوائیر شا مکی شان اوردفا مس انچائی ا مکھی انی ہے اورل 
می ا سکی ند کے را ویو ںکوشی تک ایا ے۔ 
(تطھیرالجنان لابن حجرمکي ص )۲٢٢‏ 
مطلب یہ ےکہبرناپاک جسارت امیروصوف کے ہرگورن کےفرس می یں شا ھی بجی وجہ ہے 
کہ عافظطائین تج رمسقلا نی رتمۃ الیل علیہ نےککھاے: 
َانْعْذُوْالعنَة غَلی الْمَابرِ سُنَة 
”ا نہوں نے منہروں پرسید علیہ اع کیک حول بنا یت“ 
(فتح الباري ج۷ ص ٣٤٤‏ ءوط: ج۸ ص )٥٤٤‏ 
سو کیینکن ہ ےکہزبادائین اب یکوکوفاورلھ رہ دوخول عقا مکیگورنری د یکفی ہواورڈ سے ا دعیت 
نہک گنی ہو۔ یق بھی ذات پاک من یحوب فداٰصعلفی شی رخداقہیرسب بت مکی فا لقی نک کی 
ا کی دائع دحل ہہ ہےکہزیاداین امہ پل سد لی کی جماعت یں تھااورسید نا تج رین عدی جک نال 
دوس تھا۔ جب سید امام تس نکی ای نے دو رخلاقت کے افقام پر اص تکی نما راققہ ار معاد می کے سپ ردکردیا 
سید نا رن عدکی ءزیادادران کے باتی ساتھیوں نے مور ہک کراب د ہک اک بی ؟ بالا خر نہوں نے ٹکیا 
معادیرےامالن لے لیے ہیں۔ اس کے لیے سب نے زیاوکخت بکیاکمردہ جاک با تکرے۔ وو بات کر ن گیا 
خودشکار گاہس پرھادیی اورمہد کی ہدرایت اورکرامت دونوں ا اظراز گئیں۔ نام چپ وہ أھرے 
دای ںآ یا 2 تھوڑ ہہ میس لس برل چک تھا کہ یو ںکہنا ای کیا کی اصلیتہمایاں ہی ءا کوکش میں 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


867 ۴×00 ] ائ سو ہو کہاجا جا ہے۔ ایک می ملاقجات میں و ہکیسے بدلا؟ذ راخوددی پڑھ مج : 
”نچ جب دوکوفہآا نال نے تربع عدکی جپ دکو جلاک کہا اے ال وعبدالرجمان !تم 
جا ہذگی ط8د سے میری عحب تکھی ہے؟ انہوں نےکہازشد ید ہے۔ ال ن ےکہا :اب دہ 
مار قکی سار عبت نم ہوکرفن میں بر لک لہا اب مھ سے ای بات ص تکرن جو بے 
نان ہو می لی ںآ گاوکردہاہوں .کے 





(کتاب المحن ص١٢٥)‏ 

طبقات این سعدوظیرہ می تو یہا لک کآیا ےک ز ادن ےگورنرجن جانے کے بدسید نا تجرجن عدکی خی 
س ےکھا: 

دش ہیں معلوم ےک ہ۲س ہہیں ھی ط رح جا ا ہوں مس چابتا ہو ںک بد ہار تو نکا 

ایک طردجھی زکرنے پائے تم اپ زبا نکوقابومیں درکھنااودرزیادو رگم د جناہ چوک یل 

تمہاری جلد بای ےتخوب واتف ہوں۔ہ یی ےتہاری قام ضروریا تک پ را میراکام ہے 

اوراگرخووکوکنٹرول میں رکوسکوقو مب رائنتقہارینشستگاہ ہوگا''_ 
(الطبتمات الکبریٰ لاین سعدج۸ص۳۳۷؛تاریخ دمشق ج٢١‏ ص٢٤٤۲‏ سیرأعلام اللبلاء ج٣‏ 
ص٤٤٦‏ ؛بغیةالطلب ج٥‏ ص۲۱۲۱) 

جال زیادن غبھی مفیرہ بن شع کی عطرراست تم الا سمل شرو کر دیاتة سی تج بن عدی لن جھ 
”اڑا بالممشرذفِ ‏ مهدما خلی الإنگاِ“ کے بر تھا ری نا پا ک مرک تپ کے امو رو سے ے؟ 
نہوں ن بھی اپنی روک ٹو کا سلسلہ جو ںکانوں چاری رکھا نہ دتی ایانس سےمخیرہ ین شعبہ تب کیا 
کرتے تےکہ پادشاءکا رش لجخنت ہوتا ہے اوروعی ہوک رد ہا۔ چنا چرام لی ءامام این حسراکرہ حافطای نک راور 
دوسرےمخرات کی ہیں: 

”یا دن سیر نے سی لی بن ال طااب چ ےکا ضجرپ ذکرکیا و تجرین عدکی نے جک یو ںک شی 

رک رسکی طر ف یی پرآن کے س پاس کےلوکوں ن بھی ز با کی طر کر یا ںپچھکگیں ٠‏ 

قزہارنے محاو یکلکی ہی اک ججرنے ججھےلک یاں مارک ہیں درآں عائیکہ مم نب رھ“ 


(دلائل النبوۃ للبیھقي ج٦‏ ص٤٥٥٤‏ ؛تاریخ دمشق ج١‏ ص۲۱۷ ؛البدایة والتھایة ج۹ص٢٢۲)‏ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





ش الیل نین کی ”البدایة والھایۃ“ کے حاش یی لککھت ہں: 
اي کر بس عَلّی النر 
نیز یاد نم سید یلیکا کر برائی ےکی“ 


(حاشیة: ٥‏ :البدایة والٹھایة ج۹ص )۲٢ ٢‏ 
امام ان بدا ادرامام این !شی رز رکی رق ایڈکہا کے ہیں: 
وَلَمُ وَلٰی مُعَارِيَة رارق وَمَا وَرَاء ھا ء وَأطظْهَرَ من اللشة رَسْزءِ 
اليَيْرَةِمَا اظْھَرٌَ 
”اور جب مواویہ نے زیاووخراتی اوردوسرے علاقو لکاگودنر بنیاءاورال نے دو اور 
برکاعادت نا ہرکی جھگ'۔ 
(الاستیعاب ج١‏ ص۱۹۷:اُسدالغابة ج١‏ ص ۹۷٦؛بغیةالطلب‏ فی تاریخ حلب ج٥ص )۲١۱٢‏ 
خووسو نے !امساجہد کمنروں پرامیرشام سےگورنرو لکی اس بے حیائی اود بدمعاش یکوسید نا جن عدل 
خلنہ کب برداشتکر کت تھے؟ چیا نک قوتیایدانی ڈنکیس برا یکوبھلائی مم تبدی لکر نے کے اولین ‏ ربیوں یہ 
ھا یی تل ز] أ ں کان تی وی لن تاج جابرسلطان کے ساتھ تم باندکرنے پرلکلاکرتا ہے۔ چنا نچ 
اختقسار کے ساتھ ٹل ہ ےک جب سید مرن عدری اوران کے ساقیو ںکوشام چا اگ یا ان کے سا دو 
٦‏ مس کی کئیں۔ 
مل سے بززار ہو جا درن تار وچاہٗ 
ان سےمطالبرکیامگ یا ہاگرد لی سے ینزاری کا انکہا کرد یت انیس معا فکردیاجا ۓےگا۔ چنا ایام 
بلاذ رئیا وردوصرےےتعفرا کھت بی ںک ای کآد یکو اگیااور ےکھاگیا: 
وَأَرٰه ا یدهوْهُمْإِلی الْرَة من عَليٰ هار لغیہء وید نعل ذلِکَ اُنْ 
سکوکم دیاک دہ ان لوگو ںکنل سے برا ت اور پل صن تک ن ےکی طرف پلاۓے اوران 
سے وعد کر ےک ہج نٹ نے ایماکیا تا سے جچوڑدیا جا گااورشٹ نے ایما کیا ئوہ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


۳۸ الأحادیث العوضوعذفی فضائل معاوید 
و 
(أنساب الأشراف ج٥‏ ص٢٢٦۲‏ ؛کتاب المحن ص١۲۰۱۲٢۱۲؛الکامل‏ فی التاریخ ج٣ص۷۹؛‏ 
تاریخ الاسلام للذعبي ج٤‏ ص ١۱۹؛مرآةالزمان‏ لسبط ابن الجوزي ج۷ص٤۲۳٢؛تاریخ‏ دمشق ج 
٣ص‏ ۲۲۲)؛مختصرتاریخ دمشق ج٦‏ ص ۲٤٢‏ ؛بغیةالطلب ج٥ص )۲۱۲٢‏ 
پچھولوکوں نے ایارک ذو لکردیے گے اوھ نے ا نک مطال نو رکر اتوہ پچ گن رتا ہم ٹول 
سینا رن عدکی یل مات اف رادکوشہیرکردیاگیا۔ 


معاوییلوٹیش ابی حال می مو ںگا 

تد د مل کرام نےکگھاے: 

زیادنے محاو یکو شکا یت مھ راخط روا کیا تا سے وائیل جوا بآ با کت رن عد یکو 

لو کی بیڑنوں می باند کر ماری طر فک دو۔امام این عبدرالی رن ککھھا ےکس ب کول ہے 

سے اندھاگیا۔ جافائ نکی رکے ماب اروا خرا وس عال بابدس دڈٹس رید 

چچے کے ےن چودوافرادہ گے ۔ ان یں سے مات لیک یاگیاادرسا تکچموڑدیاگیا۔ جب 

جلا یکوار چلا نے گان سرن تم رپیدنے وص تفر مائی: 

ا تطْلِقُوا عَيٌ عَدیا ء ولا تفلا عیيٰ قعاً ءَإِيْ مُلاق مُعَاوِيَةيَوم اَِْائَد 

عَلّی الْجَافةء زَإَِي مُعاصِم. 

”عدازوفات جج سے بیڑ یاں شکھولناءمیراخون نہ دھو نا ءکیونک می میدا کٹ رش ای عال شڈل 

معاویہ سے مو ںگااورا تا کرو ںگا''_ 
(کتاب المحن للتمیمي ص ۱٢٤٢۱٢۳‏ ؛اُنساب الأشراف للبلاذري ج٥‏ ص ۲٦٢۹‏ ؛الاستیعاب ج 
۸۱ص۱۹۸:اسدالغابة ج١‏ ص1۹۸)؛المنتظم لابن الجوزي ج٥‏ ص ٢٤٢؛تاریخ‏ دمشق ج١٢۱‏ ص 
١ة٥٠۹)‏ مرآةالزمان ج۷ ص۳٣۳٣٣٣۲۳؛تاریخ‏ الاسلام تلذھبي ج٤‏ ص١‏ ۱۹؛سیر 
اعلام النبلاء ج٣ص٤٤٣؛تاریخ‏ این خلدون ج٣‏ ص۷١‏ ؛اإاصابة ج٢‏ ص۳۳؛بغیةالطلب في 
تاریخ حلب ج٥ص٢۹٦۲)‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


حعافظدای نکش کھت ہیں: 
نسیدنامامتن م نی (یقول ای نکر زیاد ہک یہ ےک۔اا مین چون لوگوں 
سے لہ چھاکیا ا سک نمازجنازہ پڑھ یگئی اور اس سکوہیڑییں کے ساتھ ڈ نک یاگیا؟/نہوں نے 


عون کیا:ہاں مفر مایا خداک یحم اوہ مت قائ مک رگی“'۔ 


(البدایة والنھایة ج١١‏ ص٢۳٢‏ ؛ تاریخ دمشق ج٢۲١ص )۲٢٢‏ 


شہاد تج رین عدریی جن سےا نایا مل 
جس رح سید امام عالی متام نے جضرت چجرجن دک ند کے بارے فرب اک دہ مت قائم 
کرگیااسی رح سد ناما تن بھ ریپ ےبھی نول ےکہأنہوں ن بھی اس یع رع فر مایا تاور ہوا ےنقباء 
کرام ن بھی اس واققدہ سے ای رح ما لکاا تخب کیلاہے :ننس میس سیدن مرن عدی <ت درا عدل اورن 
کے انل نکونی عاد لکپاہے۔ چنا خچرامام ری تقی رج اللدعلیہ نے جہاں با ٹی کے بارے میس بیگکھاہ کہ 
”لایس ولا لی لی :دا ےس دیاجاےگاادرنہعی ا ںکاجناز ہپ ھاجا ےگا و ہیں ال عدلی کے 
پر ےم کھاہے .ا نک نماز جناز ہا پڑھی جا ےگیدگرآ نہیں سکیس داجانےگا۔ووفرماتے میں : 
وَلَما امھ عَمار بَا بصِقیْ قال:لا تفِْلوا یی ما وا تِْعَوَاعَييٰ 
وا نيقي مع يَة باْجَاذةء وَهکذا نُقل عَنْ عُجْرِئنِ عَي. 
”جب سید ئمارین باصر ینک مصفین میں شبیدرہونے کے نف ایا نمیراخون نہ 
عو نااورمیر ےکپیٹے نأ تا رناء شی ای حال یل معاورہ سے میدرا نکش ری ملا قا تکرو ںگاء 
اورایط رح سید تج ربمن عدی لد ےبھی٥نقول‏ ہے 
(المبسوط للس رخسی ج٢‏ ص )٠٥‏ 
امام سو ف ایک اودمقام ی سکھت ہیں : 
یع بقل ال النڈلِ ما سم بالشّهید ‏ لايْمسلون صلی عَلَيْهم ‏ 
عَدِيٍ وَزیْ بن صَوْحَان ط حِیْنَ اسْمْمْهدُوْا ء وَقَذ رَوَبَاهُفِي کتاب الصّلاؤ : 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





ول يصَلّی علیٰقَعلیٰ اه اي 
”اورجولوک ائل عدل می ےڈ ہوں تو ان کے ساتداسی طرح موا م ہکیاجا ۓ گا 
جیا شہداء کے ات ھکیاجا تا ے؛ای رح سیدنعلی نے اپنے ملین کے سات دکیا تھا 
اورسیدنا خرن باس ربج رن عدگی اورز یبن صسوحالنحلۃ نے ا کی وھد کی او مکتاب 
صا می بیا نکر گے ہی ںکہباخیوں ک ےم لی نکی نمازجناز یل پڑھی جا گی“ 
(المبسوط للسر خسي ج۱۰١ص۱۳۱)‏ 
امام این مازہ ارک فی ن بھی بجی مکی بیا نکیا : 


تخقی شب یدک تریں 

فتباءکرام نے ضابلہ با نکیا ےکی ( ہک یگھا )شید سے نے ضردری ہ کہ دہوائل بل سے 
تو گی ہواورد سی مواملریش جم نہہو گرا پامظلوع ہو۔ چنا امام ابن از شی رم لعل ”فی بیسان 
الاسباب المسقطة لفسل المیت'(می کل نہد نے کےاسباب ہے بیان مض ) گمت ہ ںزخّق شبیر 
لیس دبا جا ےگا تیقی شی ےکچ ہیں؟ ا سک تشم د کھت ہیں 

لفُهیة ش لکل نلم تک اور عِة اي عَقَةَرَحنۂ الله قَيلکُلمَ ِيْ 

َال قلاث : ِا َغ فی ارب , او اخل اي ء ازع اع ایی 

”امام ابوعیفہ رخ ال علیہ کے زدیکشمبید ہرس مکلف دپاک سلمکانام ہے ج وشن صورتوں 

ےکی ایک عصورت شی کیا جا :ال قرب کے ساتھ ابا خیول کےہاتھ یاڈاکووں 

کے ساتج ال یں 


(المحیط البرھاني ج٢‏ ص۰ ۱۷) 


(المحیط البرهاني ج٢‏ ص )٥١١‏ 
اما مکا سای رصن ال عل کھت ہیں: 
وه ایکون لوا عنی لَفُيلَ بح فی فاص أورَجْ ہلا يَكود هَهیْڈا. 
”اوران اقسام یش سے بی ہکوہ راپامقلوم ہج ک ہاگرد قصائش کےےتق ارجم یآ یکیا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۸ طا‎ 2131331. 


)۳ 
جاے ودہش ہیں ہوگال 
(بدائع الصنائع ج٢‏ ص )٣٣۰‏ 
اما ندوری رمۃ ال علی کت یں: 
شود تی قَله اش رکز أزؤجة فی لنٹ گدزیہ ا اَْراعةء 
نی ظُلمَاء وَلع تَجبْ بِقعله دِيَةء فَيْكقُی وَبصَلّی عَليهء را 





”شبیدردہ ہے ج سکونشرکا ناك کی +یادہ میدان جھادٹش پایاجاے اور رٹ 
ہو کااٹر ہو یا سے مسلمانوں نے ظا اض کیا ہوہاورس سیل ےدیت واجپ نہوئی 
ہوسوأ ےکفم دباجا ےگا نماز جنازہ یھی جا ۓگ اوک نی دیام ا ےگاٴ۔ 
(مختصرالقد وري+ص۱۱۳) 
ان فتہا ری عبارت سے نماہرہواکہاگروولڑتے ہو ے ماراجائے فو کودوصودقوں میس ےکی ایک 
صورت کا ہو ضروریی سے اوراگرلڑ ےق کیا جا قے بج مکی حییت ےئیل پگی ماس موم ہون ےکی صورت 
رق لکیاجاے _ایے مت لکل نیس دیاجائےگااورا سے اٹ یکپڑوں مس ف نکیا جا ےگا۔ ان صورقوں کے 
پان کے بعدااممکاسالی نے ایام شانہی رم نماک ددقووں یل سےایکتول بن لکیا ےکن کے نز دیک 
اش پیل دیاجا ےگا برح کی طرف سے ولیل دیے ہو ےککھاہے : 
وَلَنَا : مَا زُوٍيٍ عَنْ عَمَارِ اه ما نفد 
فَقَال: ا تَفْيِلُوٰاعَييٰ ما ء ولا تََرِغُوا عَني نو 1 
راع اَل أغلِ اي . علیٰ ما قال ال ظ2 ”نفک اڈ لی“ 
”ری ہلل دو ہے جوسیدن مار لد سے روابی کک مک جب دو بتک مین یں سید نصی جلہ 
کے پرچم سے شید شمبیدہونے ےت ف مایا :مرتحم سے تو دجو نااورقہی مر ےکیٹرےاجارناء 
یرم اورمیاو رمیدالیکٹرمس بی عال ریس گے۔ دہ باخیوں کے تھو ںی ہوۓ 
تھے یہ اکا ال پارغارنویق لان کےا ف یکر دا یکر ےگا مشاہ ہے“۔ 


(بدائع الصنائع ج۲ص٣٦۳)‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 






تخت زا علي لد ؛ 


وَمَُاِيةبالْجَافةِء 





ید72 ےکھت ہیں: 

وَکُذلِک مَن قُيلَ فی َال ال الْعْي لن نَا حَارَبَ لإغزازِ ون اللِ 
تغالی ء فَصَار كالْتُحَارِبِ مَم ال الْعَرّبِ ؛ وَقة ضَخ ان عَمَاز بن َابر ایل 
سی فَقَالَ :لا تَنْرخُوا َييٰقواء ولا تَفلُواعييٰدمَاء وَإِزتَسُرْنيفِی 
شراب زمض ء فوقی َل معاج اج اريم الياَةء دن سَرْخان 
یل یَوْم مل فقان :لا ترغزا یی لڑناء لا تَفیل را عَيَیٰ دا ,لی 
مُحَاصصمُھُمْ یَوْم الَْاَةء وَعَنْ مَْررحُجر)ئن عَدِيٍ ان قَلهمُعَارِيَةًء رُکان 
مُفَيّا فقَال : لا وا عَيٰقوْبا ء و لا تَهِسلُوا عَيي ما ء لی ومْعَارِيَةُمُلتَیٰ 
َومْ الََْامَة عَلَی الْعافق 

”ورای رح دو ج باخیوں کےساتھ جنگ شر کیا جاۓ ؛کیوک اس نے خت 
دن ال کےغلکی خاطر جن ککی ہق دہائل قرب کے ساتولڑ نے دالو ںکی طرع ہوگیا اور 
کی حدیٹ ئل ہےکصسید نا ارن باسر لہ نے صلی نکی جنگ می یلا لکیا قرف باج ے 
میرال ال جداکرنااورقہدی میرے بدن سے خون عو نااورامی حال یس بھی مج دی کرد ینا 
کیوکمہ می اتاع اکرنے ولا ہوں:قیامت کے دن معادے کے رات تنڑو ںگاءاورسیرنا 
یدن صوعان دج لکی بتک می گی سیے گے تفر مایا: جھ سے میرا اس میداکرنا ور نہ دی 
میراخون وعوناء ٹش قیاصت کے دن ان کے ساتھ بج کرو گا ءاورسی :ا ص”تر جم بن عدرکی 
لہ کےکتعلتی نول ےک انیس معادیہ نف لکیاردرآخعالیکہ وو جکڑے ہو ےق ُنہوں 
نےےفرمایا:جھے سے می ال بال چداکرنااورضہہی میرے بدلن سے توان وعوناء یل اور ماد می ان 
ھشرمی ںآ مناسا مز ری گے 


(المحیط البرھاني ج١ص١٦۱)‏ 
فقہا وک را مکی ان عبارات ش ل خو دیو رفما می کہ جب دہسید ا تج ربمن حدری پ کول عدل اورائ لتق 
سے النار ہے ہیں رن کےنۃ ویک ان کے انی نکیا رارپائے؟ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


الأحادیث الموضوعة فی فضائل معاؤیة ۳۳۳ 

مل ازخہا دت دوگاننماز 

اس سےمعلوم ہو اک سید ہمجن عدی تق پر تھے اور نکا اتل خی عاول دظا لم تھا۔سیدنا رین عدگ 
لد قد قرم پآ خر تکوونظرر کے ہوۓ تھے۔ چن مآ خری وت ہی أنیل تصرف بیکہ دہ حد یش یادددی ٹل 
ہ ےک شی ت نکو اس سےپپڑوں اورخون کےساتھ بل ش نکیاسبائے بلن اس وقت جب ان پنکوار 
بلندکیٗ لئی تب بھی وہ خرت خجات دہند ہم لکیگکرں تے۔ چنا غچرامن سعداوردوسرےئلا وکرام کی ہیں: 

”راکنف لکوایک ایک شا می کے جو ال ےکیاگیا کہ دو ات لککرے۔ ای فآ دئی یدناج رین 

عدکی ڈ کی طرف بڑھا ‏ أنہوں نے فرمایا: بے دورکحعت نماز پڑ ھن کی مبلت دو۔ اس نے 

ہلت دے دی نو سہونا مرج نے وضموکیا دوگاضہاداکیااوردیرلگا دی نذ ول ک لے گے بتم نے 

تبراہ کی وجہ ے نما زگ کرد ی؟ ا نہوں نے فرماا :رٹ نے زندگی می ج ببھی دضوکیا تو 

دوگازیضروراداکیاا ویش نے اس دوگانے سیق دوگ یھ یبھ نیس ڑا ءا شی راس ے 

ہو نکمہیی د کور باہو ں یوار بے نیام ےشن یلا ہوا ہےادرتبکدی ہوئی ے“۔ 
(الطبقات الکیریٰ لابن سعد ج۸ ص ۳۳۹؛الاستیعاب ج۱ ص۱۹۸ اُسدالغابة ج۱ ص۹۸٦٣‏ یغیة 
الطلب ج٥‏ ص٤ ١١١‏ ؛البدایة والتھایةج۸ص ٤٣۲؛‏ تاریخ دمشق ج٢١‏ ص٢٢٢‏ ؛تاریخ ابن 
خلدون حج٣ص٦‏ لہ 

اماممجھ بن سیر بین سے جب سوا لکیاجاکروفات کے وقت دورکعت پڑھناکیسا؟ تو وف مات : 

صَلَاممَا عَُْبْ وَحُجْرٌء َمُمَا فاجلان۔ 

”دکتیس سید ناخیب اور پٹ نے پڑمی ایس ءاوروودوفوں بڑے عا مت“ 


(الاستیعاب ج۱ ص۱۹۸:اسدالغابةۃج١ص۹۸٦؛یغیةالطلب‏ ج٥‏ ص )۲١۱۱‏ 


رین عری لہ کےکل پراکارکائ حضہ 

چونکسیدن تجرن عدی لن جہاں ایک طرف بے تصورتھ قودوسریی طرف اضچائی صاحء عابدہ زاب امم 
روف اورت یگ ن اکر مج بھی بی شرت رکتے تےءاس لے محابہ تین کے دلوں ںا نکی بڑ یکفرت 
تھی ۔آ نکی شہادت کے وقت جننٹھینشبوراکا بر مو جود تھے اورآ نتک اکن یقن نات نکیخ رک یی با انی ری 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵۱ طا‎ 2131331. 


بیے چانے کےیمنصو رک اطلا گی ان پر ہت شا گن راتھا۔أس دور۴ ام ال جن سیدہعانقصد تن 
انرعنہاسے بو وکرکون می خصیت تق ناس اورقدآورہوگی انی جب معلوم ہوا ا نہوں نے فو رای کی یکو 
تید ےگردوانفرمایا۔ 
ام لین عا کشصد یق شی اون ای ناراشگی 
علام سید مناظ رف نگیلانی کھت ہیں: 
”رین عدیکی جال شا نکااکی سے انداز ہی ےککوضہ سے شا مگ رفنارکر کے بی 
گئے اور یق رید ین پیا کشرصد بقہ ریش الشرعتسانے کی وقت ام رمحاویی شی اللعنہ کے 
پا قاصددوڑایا کیج رک ہرگزٹنل ندکرن یک ن قاصدراس وقت پخیاجب و شود ہو ےج 
(تد وین حدیثٹ ص )٥٤٤‏ 
علامہمناظ ران نے بدا ران سحد ے لکیاہے۔ای ط رح اس واقہکوددصرے امہ ن بھی ذک رکیا 
ےمان ہ مض ارد کیپ کے حوالہ جات در نعکرد ہے ہیں کہ اردددالقارنین کے لے استفاد ہآ سان ہو- 
اس واقکوعلا ےمان ند وئی نے و ں ڈگ رکیاے: 
”تج رکاصحا ہش اس وفت تہایت اققرار (حرتبہ] خھاءاسل لیے اس واقکرقمام تک 
یش اگواری کے ساتھ سنامگمیاء قبائل کے رکیسوں نے ان کےعن یس سفا ری لکی میا ن قیول شر 
ہوئیء مد یف کی و ححفرت عائکشہ شی ارڈ عتہانے انی طرف سے ایک قاصدآ نک سفال 
کے لیے ردان خر مابابان افنسو ںکہقاصد کے بن سے پیل تج رکا کا م تما ہو چکا تھا اس وت 
جب ام رمواویہ لد ےآۓ بحعفرت عائیش شی ازڈرعتبانے سب سے پھلے جوککوآن سے 
کی دہ شی:'محاو اج رکے سعاللہ می تمہار ا لکہاں تاج رکاگل رق خداے تہڈرے؟ 
ام رمعاویہ نے جواب دیا: ال میں می رافمو یں ,قصورن کا ہے جنہوں ن ےگوای دگی- 
دوسرئی ردایت یل ہ ےک امیرمعادیہ لٹ ےکہایاام الین اکوئی صاحب الراے میرے 
ایا مو جو یل تھا۔ 
مسروق تا بجی راوئی ہی ںکحفرت ما ئک یی الڈختہافر ما ی تھی ںکہ: 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لجا‎ 2131331. 


غدای ام :گر معاو یلیمعلوم ہو اککوفہ یس یھی جرآت اورخوددارکی باقی سے بھی 
ددشروان کےسات لاک رشام ری نکر تے یک نفک رخوار بندکابہ چبانے وای] کے 
بے نے اکچھیعر حول یاکہ اب لوگ ٹھگ ؛خداک یم اکوفہ شا وخودداری وانےعرب 
ریسو ںکاسکن تھا ابیرنے پ کہہے : 


قب بای اي وَبقنث فيٗ عَلب مد الْجْرَب 
لَايَنْفَعُوْن وَلَابْرُجی عَبْرْهُم وَبْعَابُ قَائِلُهُمْ وِإِك لُمْبتَعَبْ 


وولوگ چے گے جن کے سا یس زندگی وسرکی اتی ہے ءاب ابیے اخلاف کے 
درمیان روگیاہوں جو نخارگی اون فک یکھا لکی رب ہیںا- 
وأ ہچاتے ہیں ء نان سے بھلا کی امیر ہے :ان سے بات کر نے والو ںکی 
عیب کیک جائی ے'۔ 
(سیرتِ عائشے رضی ال عنھاءللندوي ص۱۲۸ء۱۲۹؛الاستیعاب ج۱ ص۱۹۹٦انساب‏ 
الأاشراف للبلاذري ج٥‏ ص۲۷۲؛تاریخ این خلدونمختصراًج٣‏ ص۱۷ ؛الکامل فی التاریخ ج٣‏ 
ص۸۳؛مرآة الزمان ج۷ ص ۲۳۷) 
کیا تج رین عدکی کےخلا فگوابی تا ہویش ؟ 
ام الین سیدہ ما ئک تی اوڈرعنبانے جومادمہ کے ات مکالمیف مایا گرآپ ال کے پل اورآخری 
جیے میں ورف ما می ںتذ معلوم گا ہام الین شی انڈرختہامادیہ کے جواب سے مھت نیس ہہوٌی یس ءاو یی 
یقت ہے کیک محادیہ نے جو کہاکیس نےش ینمی کیب ہگواہوں نےن لکی اہ بی ساس اف حقیقت 
ےہا لی ےک ددہارسحاوییمی طز ین کے سا سن ےگواہیاں قائ نی ہہوگ ینید ہگیاز یا دکاگواہیاں قائ مکرنا تو 
ا لک یکوئی ہیی نیش ہیوک زیادائن اب کی حثیت مدگیک تی او یرس نے یتس براودباڈڈا لکر جھ 
گوایاں نیس دوجھوٹ پڑڑتسں۔ 
زیادکائچھو ‏ ےگواہ تا رکرنا 
یش نےگھوٹ یگوای ال ل کہ اکہذ اد ےگواہیاں دی واثےے جن ا وگول کے نام مک کرروانہ سے ے٠‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ان می فیعض اییے لوگوں کے نام مبھ یک دپے تھے جنبوں نے رای دی اورنی دہ گواہیاںآم بنرکرتے 
وقت موجود تے_أان میں ایک مو شخصیت تی شرع بن حار کی اورد وس ۔ ےن کے ہم نام شرع ین حا 
تھے ۔تاضی شی ن ےت کھا: 
سَالييٰ عَنَه ء فَاخْيَرنه اه کان صَرَامَ قَوَامًا. 
”زیادنے بجھ ےج رکے تماق پو پچھاتھا نز نے اس ےکہاتھا دہ ببت زیادہ روزے رک 
دانےاوربہت زیادہ قیا مر نے والے ہیں“_ 
(تاریخ الملوك والأمم لابن جریرالطبري ج٥‏ ص٠‏ ۲۷ ؛البدایة والنھایة ج١١‏ ص ۲۳۲) 
رہے شرع بن ھالی توجب ا نکومعلوم ہواکہزیاد نے ا نکا نا چھ یکواہوں می اکھد یاہےتذ أنہوں نے 
معاد ےکی طرف خلکھااورا ےت بن عدکی اوران کے ساتھیو ںکو نے جانے وا نے ان میس ای کیٹ کش رین 
شا بکوتھااء ا نے پو پچھا :ال می کیا ے؟ ُہوں نے ف مایا یرصت نواس مٹل می ری ضرورت ہے۔ ای 
نے نے جانے سے اڈکارکردیا۔اس کے بعددووائل بن تج رکے پاش فدہ نے جانے پرآمادہ ہو گے جب دد ہار 
معادیش ذ اد بفادگاگھی ہوف یھ یق آخ ریش واکل بن تھرنے دو خاش کیا۔ اس مس وضاحت کے 
سات ھا ہواتھا: 
اه هي ا اذا كْبَإِلیک بِشَ دی علی خُجر بن عَدِيٰ 
وأ خَهَاققي علیٰ حُجر ان مِمنْقیْم الصّلاةء وَیزِٔی الرْكاة ء وََدیْم الْعَغٌ 
وَالْمرة مار بالمعْروْفِ : وََّھٰی ن المنگر ‏ عَرَام الم وَالْعَالِ, فَإنْ جِنْتَ 
الله ء زان نٹ تغۂ . فَرَأ کاب عالی زائلِ بن خحجر وَکیر ‏ فَقَال: ما ری 
هذاإِلا قد حرج نَفمَه مِنْ خَهَاْيَكُم, 
” ابعدہ مج معلوم ہوا ےک ہز ادنے می یگواہ یبھی جج ر کے خلافکیودتی ہے؛ عالاکہ 
رکے بارے یس می ری یگواہی بی ےک دونمازقائمکرتے ہیں ءزکو 7اد اکر تے ہیں پیش ھرہ 
کرتے ہیں :ام رالمعروف اورنیگ نامگ ر کرت ہیں۔ ان کے فو ومال پردست دراز یقکرنا 
عم ہے۔آ پک مت خو اہ ےئ کی ما مچوڑیں۔معادیہ نے ا لت میکودال من ہھراور 
رین شہاب کے سا نے پڑ جن کے بح دکہا: مسبت ہوں: نٹ نے خو ہار ےشہادت 


۶۲۵۰۵۵٠۵۷ جا‎ 2131331. 





نام ےنال یاے'۔ 


(تاریخ الملوك والأمم ج٥‏ ص۲۷۲:انساب الأشراف للبلاذري ج٥‏ ص٢٦۲؛الکامل‏ فی التاریخ 
ج۳ص۷۹)؛مر آة الزمان ج۷ ص٣۳٢‏ ؛تاریخ این خلدون ج١٣ص١٠)‏ 

اس خطاکی مد ت نف راویوں نے شرع بن ھالیٰ کی طرف اورلنفل نے قاصی شرع بن حار ٹکی طرف 
کی ہے برحالی اسا کاالقیاس احعادی کی سندی بھی ہوجاجا ہے :نیا جس شرع کابھی ت کم انی ا نکی اس 
ویضاحت سے پیانداز وب ی گیا جاسکنا ےکہ باقی لیکو ںکیاگوا یا ںبھی اسی ط رح مجھوٹ پڑنی ہو گی ؟ 

شرع بن عالی سے بی نقول ہ ےکآ نہوں نے زیادکڑگی لام تکیھی۔ چنا امام این جرطبرک اور 
امام ان اش رجزریککھتے ہیں: 

َأما شْرَیْخ بُنْ مَانِئ الحَارِليٰ فان بَقُول : ا شَھڈ ء و لقذ بَلَييْ نف 

”شر بن حا یکہاکرتے تھ :یں نےگواج یمیس یھی جھے معلوم ہوا کرمی رک یکواہیککی دی 

گی 2ش نے یاد یکذ ی بکییجی اور ںکوطام کی 

(تاریخ الرسل والملوك والأمم ج٥‏ ص ٠‏ ۲۷؛الکامل فی التاریخ ج۳٢ص۷۸)‏ 

یہاں قا ری نکرا مکی ذ ان تک یآ ز انی ہے :دو ای کشر کے خ کو ھمنے کے بعد بادشاوسلامت 
نے جو یکھا: 

نمس جھتاہوں :اکٹ نے ٹو ہار ے شہادت نامہ سے ڈکال لیاے“۔ 

پرکہنادرست تھابالو ںکہنادرست تا اہ 

”جب انف ےگوا یی دی رز یادنے اہ ںکگواہی ڈالی ج یکو ں؟'“ 

اقم الھرو فوخ شکرتاہ کہ جب شر نے خووکوگاہوں میں شائل یی کیا تھااورائع طور پلک چا 
قا ولغ ان اذا کب لیف بشاذتیٰٔ لی محر“ (جھن رکٹ ےک پک طرف نیادے مرک 
واج بھیکلیکبکی ہے )تو جب دہ پل سے ہیکواہوں می شائل میں ےچک رآ نہوں نے خو ٹاک ے؟ لیکن 
پادشاودر ریفکت سے اتد ہُٹھاتے ہو جرح جاہتے میں با تکوکحماد نے ہیں اوکواسمکی جب رک یامفاد 
کی خامزٹ یکو نکی بے دقو نی ھت ہیں حا لائ رس یبھی دو کے در یاری ادرحاض رین اتا ساد یں ہوتے_ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





شرع بن ھا یک یکواہیکی طر تقاصمی شرع بن عار ٹکی خیرم ج دی مم بھی زیادنے ا نک گواہ یبھی 
ڈال دتی۔چنا ام بلاذر کھت ہیں: 

وَكْبَ ریا شَهَافَة شُرَْج بن الَاِثِ الكَدِي الْقَاضِیْ وَهُو العاِبُ. 

”اورزیادنے قاشیی شرع بن حار ٹکندئ یک یگواہیچھیککیددی یھی ء عالائکہ ددم جوڈکیل جھ'_ 


(أنساب الأشراف للبلاذري ج٥ص٢٢۲)‏ 
علادو از بی امام این جرمطہرکی رم ال علیہ نے سس گی بن دقاص عارثی کے بارے می کھدا ےک دی 
موجو یس تھا اور سکی شہاد تبھیککدد کی تار بن الیعبیداو رر دو ان مخیرہ ین شع کوگواہی کے لے بلایا 
گی اھر دٗکھنک سے تے۔ نم ین اسوڈأتی میذزر تگرتا پاگرأم سکیکواہ یبھ یوک د کی _ 
(تاریخ الملوك والأمم ملتقطاج٥ص‏ ۹٦۲ء۰‏ ۲۷؛اُنساب الأشراف ج٥ص )۲٢۳‏ 
علادہ از یی جن لوگوں ن ےگوای داش ان میس ےبھی اکٹرنے دبا خوف اورد یھی میں ری 
تھی۔ چنا نچ دی کے جن لوکوں ن ےکوی د یھی جب ان سے ا نک قوم کے لوکویں نے ہہ چھا تم نے 
کیو ںگوای دی ےا نہوں ت ےکہا: دوس رےلوگوں ن ےگوای دیذم ن بھی دے دی۔ چنا چرام ئن ججرمطب ری 
کھت ہیں: 
قَفسِبَث رَبیکَة لی هرلاء اللُھُود الِّيْنَ ھا مِن رَبَِعَة وَقَلْزَا لَهُمْ: هَهِللُمْ 
علیٰأَوِيََا وَعْلفََِ ؟ لقَالوا: َانَحیْإِلَا من الا ء وق شَهة عَلَيهِمْ نس مِنْ 
” نںگواہوں می جولوک مور بییہ سے تھے وم ر یہن خقبناک ہوئی اوران کہا 
نے مار ے دوستوں اورعلفا و کےخلاف بیگوادی دے دی ؟ا غنہوں نے جاپ دیا: خورؤ نکی 
قوم میش ہیں نے ان کے خلا گواہی دری ہے اوہ میا نکی رح آ خر دی ہی ہیں“ 
(تاریخ الملوك والأمم ج٥‏ ص ۰ ۲۷ءومترجم اردوج٤‏ ص۹۰) 
سی سک ہا ہآخ رم پچ یکواہ یمکیوں مدد ہے ؟ بلمہدہکہا جھکہا۔اس کے باوجود بادشا +سلاصت زیا دی چا 
کے رے.ادر ہر تک دہ بای دمہری جھےگرد شرع کے خاکی طرف متوجہ نہ ہو ےکرجب ا نے باقاعدہ 
خط کے ذر یی ےآ گاءکردیاتھا تحت یکر لی ےک بات کیاے؟ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


))۰..9 8 ۶ 

ےکوی بات دہ دلاو ھا 

گزشت سور سیدسلیمان خددئی سے جوککا مت لکیاکیاے٠أس‏ یس ہےکہ جب ام الم|ن سید وعا تق 
صد یق شی ال ہنہانے محادبیکوس زنش فر مایا نہوں نے جواب دیا:'کوئی صاحب الراۓ مییرے پا موجود 
تخس تھا یہ ان الفاظکات جمدرے ”لم خحصرنی رنڈ شی دکاسعفی ہے شددہرایتدد بے دالا۔شل ہہ چتا 
ہوں :گر معاد یہ کے لے بنائی ہوئی عد یٹ ”'اللهُمْ اجْعَنْهُمَادًِ مدفا “جح وت پھر ان سے بداکوئی 
صاحب ورشددہرایت ىیکوگَّ نہ ہوتا۔“وجولوگ ال حد ي ٹل اقاي امتقدلال یھت ہیں ٠وہ‏ اتی سک اس 
دعاۓ نکی مال کی تا خیرکبا نکی ؟ اگ رکہاجا ےک مشورہکاحھ مق ن یکوھی ہوا :تج سکہو ںگاکہ ما وہ نے 
بھی نخس سےکیس کہ اتی ری کابینہ سے مخوروطل بکیا تھا اور آن مس س ےن نے بین مشورے 
د بھی تیگ رگن سی اھ شور کا ٹنیس ہواتھا یکن لوگوں نے مشورود تا ہوے یہا ںک ککہاتھا: 

ا یر الْموِين انت رَاعِىْنا ونَحیْ رَعِيّتَک : ون رُكَْا وَلحىْ عِمَاذک ء 


اک کے ہیں سے دا 


فَإؤ عاقبِتَ فُلسَا: اُصْبْتَ ء وَإِن عَفَوْت فلا : أَخْسَنْتَ ء وَالقو ارب إِلی 

نکیا ٠‏ کل راج مستول ن زیم 

منماامیرال نشین ! آپ جمارے حا ہیں اورہ مآ پک رھایایں آپ جار سردار ٹیل او رم 

آپ کےمفبوطستون ہیں ہاگ رآپ نے ماد ت2 ہمکایل گے : آپ نےٹھی ککیاءاوراگرآپ 

نے سوا فکردہا تم ہیں گے: آپ نے بہ تہ رکیا اورمحا فکرد ہنا تق ىی سے زیاددقریب 

ہے اور ہرھاگم اپ رعایاکے باارے شس جواب دوہوگا“'_ 
(المستدرك للحاکم ج٣‏ ص ٣٥٣٥‏ حدیث ۷۷٦؛تاریخ‏ دمشق ج١٢١ص‏ ٢٢۲؛بغیة‏ الطلب جَ 
ص١٦۱۱۲۷۰۱۱۲)‏ 

ذرامشیبر معادمہ کے الفاظ می نورق فرمایے !اس نے ماد ےکی صورت می ںکسے الفا ظط اتعا لکر نے 
اکب معا فکر نکی صورت می کیا الفا ظط اتا لمکر ن ےکا اد رفا تق بات یہ ہ ےکہ ال نےآخ ریش 
”افو اب إِلی الشوی'' کےہاتھات' تل زاج مسمٰول عن زہ “ کےالفا اگ یکر دئےہ 
لین رت ہ کہا کے پاوجودھادیی ود کی ہدایت نے انکڑائی تک نہ کی .سور لبق وکی کی یت یش 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





ےک کاب تین کے لیے حد ایت ہے اورشیرنے افو اب لی الو“ کےالفاظ ے بادشاەکی 
را طرف مبذو لکرن چا دیاش گرا نکی اندرکی ہداییتشٹ سے کک نول ۔خودانصاف فر ما ےک گر 
کسی کے میس وا ”الم اَل ادا مب “ کےالفاظ شی دعاے نوک شال غابت وو وصاب 
مھورہ کے باوجود ہریت کےا لی در ہے سےکیرو مر سکتا ہے؟ 


طز ری عدی )یی 
آپ پان گے ہی ںکیرسیدنا تم رن عدئ مل زیادائن اہب کے سان اس لیہکھٹرے ہودجاتے جھےکہدہ 
خی یٹس بیس منبرسیدنعلی دک برائ یکرت تھا۔اس پرزیادنے محاد یک شکای لگ تی اس باظظ ے (یاد 
گی ہوااورسید تجرجن عدکی اوران کے یملز مان ہے ۔سوال پیدا تا ےکہماد یر تے زیاددگ کاخ اور 
اس می مقوم وا بیو ںکوپڑ گنما نکوج ان ماب تکر نے کے بعد کیاتھا یا پگے؟دوسرے الفاظ بل ہیں 
کہا الکن ےک انہوں نے ما نکیپھ یی ماگل ؟ 
میرےمطال کے مطای معاورینے ا سمل می ان سے باتک کی لک بکہن سے لا تپھیائٹش 
کی۔ چنا امام بلاذر کھت ہیں: 
وَالْمْجْعمَعٌعَليْه نلم يَدخُلْ علی مُعَاویَة 
”اس ہاقاقی ےک دودربارمحادی شی یل گۓ''۔ 
(انساب الأشراف ج٥‏ ص )۲٦۹‏ 
اکر بلاذ ری کےالفاظ پراختاد ہکیایاۓ اوران جارینی روایا تکومانا جاے جن یں نرکور ےک محاویر 
متقام مرج العذ راو سیدا تج رین عدکی اوران کے سراقیوں سے لے اورک ای کلم ےا کا نام چھا 
تارج بن عدیی ے ا نکی عرپہ یھی او رکا :تم کسے ہواورآ کل عودقو ںکاکیا ال ہوگا؟ اس کے بعدکن 
دےکرآد یی دے تے۔ 
(تاریخ دمشق ج۱۲ص٢۲۲۲)‏ 
ا کے اوہ اصسل متقرمہ کے پارے میں قح کوئی ایک اق بھی منقو لیس ہوا حا اکلہ حد یث ش ریف 
میں ےک رف رق نکی نے اف رفیصلہ کیا جاے۔ چنا مچرارشاوندی حا ہے: 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 


٥اا‎ ۱ 

سمفث بن الَّاوَلِ ء فَإلَک إِذَا قَّتَ ذلِک تن لک الْقَضَاء 

”جب تہارے پا دن اپنی انی ایت نےکر ہیں فوخ اس دق ت کک ا نکافیصلہ کنا 

جبک ککیقم دوس ر٠‏ کا یان ام رح قجہ سے نہکنلوجی اکہ پیل کائن چے تے. یں 

جب تم اس اصول پگ لکرو صتخم رٹیم کی اص لحقیقت د١‏ تج ہو جا گی 
(السنن الکبری للنسائي ج۷ص١ ٣٢‏ حدیث٣٦۸۳وط:‏ ج٥‏ ص۱۷ ١۹‏ حدیث ۰ ۲٢۸:مسندأحمد‏ 
ج١‏ ص٠‏ ۹ حدیٹ+ ۹ وص١١١حدیث١ ٠٦‏ وص ۱٥١‏ حدیث ۱۳۸۵۱۱۲۸۲۰۱۲۸۱۲۱۱۲۸۰ء 
؛مسند أبي داود الطیالسی ص۱۹ حدیث١۱۲وط:‏ ج۱ ص۷۸ حدیث ۱۲۷:سنن أَبي داود حدیث 
٢سن‏ الرمذي ص ٣٣۳حدیث ٢۳۳١‏ ؛المستدرك للحاکم ج٤‏ ص ۹۲حدیث ۰۷ ٦۱۷‏ 
المصنف لابن أبي شیبةج٦‏ ص۱۳ حدیث۲۹۰۸۸؛تحفةالأخیاربترتیب شرح مشکل الآثار ج٥‏ 
ص۸حدیث۳۰۸۰۰۳۰۷۸)مسنداأبی یعلیٰ ج١‏ ص۱۹۲ حدیث۷٦۳ء‏ وط: ج١‏ ص٣۳۰‏ حدیث 
١:؛ٗالطبقات‏ الکبریٰ لاہن سعدج٦‏ ص٤٢٣‏ ؛السٹن الکبریٰ للببھقي ج١١ص٦۸‏ حدیث 
٦٣‏ وص١١٤١٤٤٣۱‏ حدیث ٥۸٤‏ ۲۰ء۸۷٣٤۲؛‏ مشکاۃ ج٢‏ ص ۱۰۷۰ ۷حدیث ۳۷۳۸) 

بیراورال کے علادہ بھی احادیٹث دآار ہیںبگرمعاوہہ نے عائم اوریچدہونے کے پاوجود ان پنگل 
تی سکیا ۔کیا الم ال تماد مدکی دعاکوان کےےقن مس جع بے دالے جات ہی سک کی موت 
دحیات کافیھل ہکرت وقت انیس بی لق کیوںن ہوئیکہ دہ مان سےبھی وھ لیے کہ ان پان 
اکور رکیوں فا ہاور أنچی گن کےکورنر سکیا ورگ“ غات ے؟ 
ہمار ےمد یگزیاد یچاے 

معاد مان ےکیوں و چتے ہن کے نزد یک نز یاددی صدقی وصفاکا پک رتھا۔ دو اوران کے۔راتھیوں 
کک نے کے محالہ تز یذ بکاشکارۃ ضردر تیگ رز ما نںکہینیں پان اج تے۔ چنانانہوں نے ایک 
ھب بکرذ یدگ طرف زین حجیدٹجی کے ذر بے ایک خیامیچاجس کا تک لبھی ا نک لکرنے میں 
ری بت ہوں انی موا فکرد ین می :ما کہم کیا کروں؟زیادنے والپی کیاکی ن ےآ پک 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


تر پڑھ کی ہے اورٹش جب ران ہو مک یآ پ تاحال اشتبا وش سکیوں پڑے ہو نے ہیں؟ 

ان اث لک عَاجَا فی ھا ابشرِفَلاتَرِڈ خُجَرَوَأضْت0إلیٰ 

”اگ رآ پکواس شی ضرورت یتو تجراورن کے راقو ںکومریطرف نگینا“'_ 

یکن چیہ وا ںآ اق مقام عذداء گذ رادرس نے سید ہجراورن کے ساتھیوں کہا ا ےو م! 
اب بی الیاخطال اہو نکیا ذ نی .تی می ںک سط رم فاحدہ پچچا سکیا ہوں اکر اس معالمہش 
کش لکروں؟ سید جم رجن عدیی لد کہا نتم معاوبیکہنا:”انسا سی بس“ (ہم ای میعت پرقائمیں) 
ہمارےخلاف جہارے مان اور برگمانوں تن ےگواہیاض دکی ہیں اددزیاد ن بھی خلا نٹ بہت زیادلی کیا ے۔ 
چس یز یدن چیہ نے معاو بیو یز یا دکاخخا کیا ا دربن عد یکا پا سنا یا معاد یرت ےکھا: 

يد سدق عَِدنَامِنْ حُجْر 

ہار ے نز د یز یادئرےزیادوچاے'۔ 

(تاریخ طبري ج٥‏ ص۲۷۳؛مرآةالزمان ج۷ ص ۲۳۱) 

شش ای ے'اللهُمْ اخعلة خادبا مهدي' ٣‏ رز ان کے پیام پل میان ےاوردی 
انی اپ در ارم طل بکرن ےکی عاجت رین ان کاگورنرذ یا وخییث ان کے نزد بک سیدنا رین عدی خلہ 
سےزیاد ہا واہءوادء گے بادشاہ! 

می سکتاہوں: ووطزمان سے پیان لیت ب یکیوں ‏ چک ہایس موم کہ الن لوگو ںکوزیاد سے جوشکابہت 
سے؛أاس می زادگ اتیل یھی نی ٹیپچھنی لی چہی مرک یھی ہیی اکپ بڑھ پچ ہی ںکزیاوق خو دا نکی 
ہایات پہکار بندھاءئچی وج ہکرس نے گورنر نے کےفو راب تج رن عدکی پر داش کرد یاتھاکردوذ با نک بندرکھا 
کر ہیوک اب اس (زیاد کول مم عبت مشو کی یف آپکاہے۔ یآ پ مرک پ لی کےجوالے 
سے بی ڑج پچ ہیں رسعیرمن الع مت بحم ےگ ری کرت تا معز لکردیاگیااو را لک کم ردان 
کون ہناد گیا ہیوک اس میں ابل بی تکرام یوکوستِ چش کر ن ےک کوٹ پددج اقم موجوڑھی سو جب سیدنا 
تج بن عدی یف ادر دسر ےلزما نکاجزم عی یتھکر دہ ز الو نکوسیدناعی حول رست یش مکرنے پرٹو کت ھ 
جیٹس میں ان مز مان ے بیا نکیوگرلیاجاتا؟ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ اط‎ 2131331. 





پان چچٹرا ا ضگل 

سیداتمرین عدی قد اوران کے ساتھیو ںکاشل نام اس حدرتک ظالماتہاورتا تق تھاکہمعادی ا کی 
قےجی یی لکرنے سے قاصرتھے_ چنا ےرام اشن سید ہ عا نشرصدبیقہ رش الڈعنہانے سیدنا تج رین عدکی خد کے 
قح نان پرمعادیہ سے بات چچیت شرو ںی تودہ ہت طول ہی بتک ماد کو جان چا نامشکل ہوگیا اور 
ال خرأ نی ہی ںکناپڑا: 

یی َخجْزا عَیلَقي عنةرَا. 

” شھے اد جرکور ند ی٠‏ یہا ںک کک ام اپنے ر بک بارگاوٹ حاضرہوں“_ 
(کتاب المحن ص۱۲۳؛الاستیعاب ج۱ص۱۹۸:اأسدالغابةۃج١‏ ص۹۸٦‏ مر آةالزمان ج۷ ص 
۷ ک؟تاریخ دمشق ج١٢۱‏ ص۲۲۹ ؛البدایة والنھایة ج۹ ص٢٢۲ء‏ وج١١‏ ص٤٤۲؛‏ بغیة الطلب ج 
۵ص۲۱۲۹) 
سینا ام نگ رکا چیمارکررونا 

پنیویس ہ کب دای تر مکی باداش مزاپاجائے اس کول نمو ںکرتاہے اور 
یکو یکس پرروٹی ہے دنن ج بک نکیا اق لکردیاجاے ذس پرافسو لبھ کیا جا تاہے اورردانی چاتا 
ہے۔ چیک سید جرین عدیی جل ہکا بھی سرام ملاس ےن کے مس جہاںشعرارکرام نے اپا الام 
کیا او ہیں اک پل نان پر بڑی وی ہستیو ںکی می ںبھ یک لکیتھیں۔ چنا امام حم حضرت نان نز سے 
روا یی تکرتے ہی سک ہا غوں نے فرایا: 

لها گان لال بک خُجْر إِلی مُقاوَةء جَعَل الام رون وََقوَويَ: 
مَا مل حجر ؛ ای عَبْرْه ان عم َمز مُحتِىۃ فی السُوق :ََأُلَق عَبرَنَ 
وَوََبَ ء وَالْطَلَق فَجَعَلث أُسْمَع تَحية رَموَمُوَلِ. 
”ہن راقوں میں چرچ ماد کی طر فکیچاگیا ت2 لوک تجران ہو ہوک پا ھت تھے جم 
کاکیامنا؟ گر نکی خمرسیدناائ نع ریچ کے پا آئی ہچجکہ دہ زاریش ٹاگوں او دکھ رش چادر 
پی ٹک ہوۓ چےووہ چادرگول راگ لک کی ے ہو گے او ربچ پل پڑے سوجب وہ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


پشت پگ رکر جار ہے نوج ان کے جج کر رون ےکیآواز نار ھا 
(المستدرك للحاکم ج٣ص٥٢۳٦حدیث٥۹۷٦؛‏ کتاب المحن ص۱۲۲ انساب الأشراف 
للبلاذري ج٥‏ ص ٣٤۲۷۰‏ ۲۷؛ الاستیعاب ج۱ص۱۹۸:اسدالغابة ج١‏ ص ۸‪ تاریخ دمشق ج 


۲ص ۲۲۷؛سیراعلام النبلاء ج٣‏ ص٦٤٤٥‏ ؛الاصابة ج٢‏ ص٦۸٣‏ ؛البدایة والتھایة ج١۱‏ ص )٤٢٢‏ 


تل جج سید نااین عباس یٹ کاگرب یکنا 

تر مان قرآن سید ع داہن عپاں یڈ بر رس ال مان کاٹ اس ق ہوا کہ دہج ببھی اس واق کا 
ذکرکرتے گر بیفاتے۔ چنا نر ابوالمفیر ہیا نکرتے ہیں: 

فَكانَ ابْنْعَبَاسٍ اد يَُوّث بهّذا الحَیِیٔثِ ِا بُکی بَكاءُ شُدِيْذا. 

”سید نان عیال مل ج بجی بد اقعہ میا نکر تے تشد یدق نگم ریف ماتے“۔ 


(تاریخ دمشق ج٢١‏ ص٢٢۲‏ ؛بغیةالطلب ج٥‏ ص۲۱۲۷) 


اما سن بصری یل ہکااظماررں 

امام سن ھری نے دنماف کی مات پسیدنا جج رین عدی لہ سیل اج لف الفاظٹش 
انھارر نف مایا۔ چنا نچ ارک من فضالہ ہیا نکرتے ہیں: 

بث الْعَس یق : وڈ ڈگر معارِية وَََه حُجْرَا وََمْحَاَه : ول لعَنْ 

قعَلَ خُجْرأ وَأْصْحَابَ خُجْر۔ 7 

”نمی نےتسن بھی یچ دکوسناء نیہ نہوں نے معاد یکا اور کا جراورآن کے سسانھیو کول 

رن ےکاؤکرکیا نوف مایا :جن عدکی اورآن کے اصحاب چٹ کے قائل کے لیے بلکت ہے 
(الاستیعاب ج۱ ص۹ ۹ یغیقالطلب ج٥‏ ص ١١۱٢‏ ؛الأنساب الأشراف للبلاذري ج٥ص۲۷۳)‏ 

امام ان اش رجزر کھت ہیں: 

وَكَانَ الْحَسَنْ البَضرِييَقمقَلَ عُجْرِوَأصعابهٍ 

”ا مامصسن بصری سینا ججرمن حدری اوران کےساتھیوں کے لکو ہو اسان کھت تھے وٹ 


(أسد الغابة ج١‏ ص۹۸٦)‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


نیا ما تن بص ری تل ےکائمشمہورقول ہے: 
اَم :حضالِ کٗفِيْ معایَةءلكم يك یه منهنْإِّ وَنَۂ لكانَتُ 
سُربقة: زا ۂ لی دو الک با سفھَاء عتی اتَا نَا یر مَشْرَرََينهمْ 
َلِْهم بَا لسَحَابَة وَذُرالْفسِيلَةَ ء ِِسمعْلاه بن بعد یر حَميْرا لس 
الْحَرِیْر وَیْضْرِبُ بالطََبیْر ء وَإِدغَاء هُزيَاذاء وَقَذقَالَ رَسُوْل اللہ 8 : الد 
رش ء وَلِلَاھر الْعَجَر ء وَقللهخجراء وَيَلالَهِنْ عُجر مَرََیِ. 
”جار ہق معاو شی پٗیلءاگرآن مش سے فاکوئی ایک با تکھی ان یش ہوتی تو 
نکی ہلاکت کے کان ہوئی: 
ا أُنکاامت پ بلامشودہ بے وقوف لوکو کوچ ھاد ینہ یہا ںت کک ہا غہوں نے ام تکا 
ز بر ذقی پان لیاء یہت یں بقایا ھا براورار باب فضیل تبھی موجود تھے _ 
۲۔ نکااپنے عداپےشّی اویشرالی ےکوخلیفہبنانا وو رم پا تھااورمزامی ریا متا 
٣۔ ‏ أ نکازیادائن اہیکواجی فیا نکا ٹیا اد نا ؛جی رسول ال مم کاارشاد ہے :پیٹ رکا 
ہوتاہےاودزالی کے لیے چھرہوتے ہیں 
۳۔ اور نکاسید جھرین عدی لو یکر ناجرین عدل دی وج سے ان کے لے 
دو ہیی ہلاکت ے۔ 





(تاریخ الرسل والملوك والأمم ج٥‏ ص ۲۷۹؛مرآة الزمان ج۷ ص۲۳۸؛الکامل فی التاریخ ج٣‏ 
ص۸۲؛البدایة والتھایة ج۱١۱ص )٦۲٤‏ 
خودگورزمعاو یی بی 

رگ بن زیادشراسمان مل معاوبہ کےگورن تھے جب انی حر ت تبسن عدکی خلہ کیٹ نات نکی خیر 
یو ا نکیادل بھرکیااورا نوں نے مزیددنیاشدد جناپیند کیا اوراپتی دورا ند یی سے ایک ایی شی یکوگی فا 
گے جو یعدری شن وشن پپوری ہہوئی۔ ان کے واقدکویبت سے مو رشن نے ڈکرکیا ےلکن میس مزا مقر کے 
شی نظ علا مان خلدرون کے الفا می ٹن لکرر اہول ۔و+ وک ہیں: 


.2131331 لطا ۶۲۵۰۵۳۱۵۷ 


71--اوکت 


فی ا فو 


نک از 





عِمْدک غعَیْرَفَفِطٰیي الیک تاجلاء وَأمُن الا . فُم خَرَج لم نَائرث پیا 
ختیٰ سَقط.... وَمَاتَ مِنْ يَومہ. 
”جب رق بن ز یاوخراسمان پل جج رکی خ کی قدہ نارا ہوئے اورف مایا :ال 
کے بعدعرب پیش ہہیانطود بن سی جا ہیں گےہاگ رآ نہوں نے ای داز بلندکی ہوی تو 
ودخو لو اکر یک ہوتے دن وہ و خوش ر تو ذلت ا نکا مقر ہی بج رآ نہوں نے 
ان کی ایام می نمازجمعہ کے بعدلوگو ںکوق مایا میرادل زنرگی ےھر چکاہے :یس د ارتا ہوں 
او ای نکہو. پھرآیہوں نے بارگاوالڑی می پاتھ بن کر ےم کیا اے الگ تیر باگاہ 
یش میرے لیے بج نیرت بے جلددی انی طرف اُٹھالے بلوکوں نےآی نکہا۔ئچلردہ اہر 
کےا ےسیو ںکون سنبال پاۓ ےکک گے سوا نئیں) ٹاک ران کےکھ رپایاگیا :اور ی 
دن ددوفات پگ“ 
(تاریخ ابن خلد ون ج٣ص۱۷؛تاریخ‏ الطبري ج٥‏ ص١‏ ۹الکامل فی التاریخ ج۳ص۸۹؛ مرآۃ 
الزمان ج۷ ص ۰٠‏ ۲۹؛ البدایة والٹتھایة ج١۱‏ ص )۲٥۹‏ 
امام بلاڈی کے ہاں جضرت رن بن زیاد کے جوالفاط ہیں ہن سے نا برہوتا ےک اسلام یس انس سے 
تل یا (مغی ,فی رعداود بل جزم ماک نی ہوت تھا۔ دوفرماتے ہیں: 
لا ِن لیَة قد انث نون زلم یکن قٹ لب 
نواس ےیل ف تد تھا لیکن ظارا :مال ہوت ای ھا“ 
(انساب الأشراف ج٥‏ ص )۲۷٦۶۲۷ ٥‏ 
علا مان خلدرولن کے الا انی ای تق تکو بیا ن۷رر سے ہیں:”لَاضَزالُ الْعَرَبْتُقَلْبَعذَۂُ 
ضیزا“ (زاس کے بعدعرب پیش ہہیا نود پگ سے جانمیں گے اس سے حابت ہو اک اسلام مش ”صَيوَا“ 7 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


کر ےکا منوس وصوجداسلا ما وشن بادشاہ ہے اوردو معاوے ے- 
تم رین عدی ٹہ کےنٍ ناضن پردل برداشتۃ ہوک رر بن زیاد لہ کے دعاما گن ےکا کرام این مد ابر 
ایا این ای ری + امام یی ۶امام :بی ءعافطای نک راورحافظ سان نج کیا ہے- 
(الاستیعاب ج۱ ص۱۹۹؛اسدالغابةج١‏ ص۹۸٣؛تھذیب‏ الکمال ج۹ص۷۹؛تاریخ الاسلام 
للذھبي ج٤‏ ص٢۲۰؛تذھیب‏ تھذیب الکمال ج٣‏ ص٢٢٢‏ ؛البدایة والتھایةج ١۱ص‏ ۹٥۲؛تھذیب‏ 
التھذیب ج٢‏ ص )٥٤٤‏ 
خیال ر ےک جخرت رق بن زیادد کل خراسان کےگوززرسیدناحم نم ردمفاری دش تہ أنہوں 
ن بھی موا کےبض ناجاز تام سے تن کہ کر مو تکی دعا اگ یی جوکیقول ہوگ یی ۔ ا جن مکشاواق کا 
کو پا حوالہ یھ کے لیے ہار یکناب ”الصحَابَهوَالطّلَفاء کا مطال گیا جاۓ۔ 
سیدنا ترک یکرامات اورسعادتےشہادت 
سیدن تج رین عدی یل تاب الد عاء تے(اُ نکی دعاقبول ہوقی تھی )امام احفرباتے ہیں :یش نے مگ 
بن سلیمان سے پچھا: 
َبَلَْک ان جا کَاي مُسْعَجَاب المغوَة ؟فَال : َعَمء وکا مِن أَاضلِ 
اُسْعَابٍ الٔبي 8 
کی آ پکویہ با تی ہکرس تاب الدعاء تے؟ أغوں نےفمایا: ال ءاوردہاسحاب بی 
اہ کے ناضلین میں سے تھے“۔ 
(الاستیعاب ج١‏ ص۱۹۹؛اسدالغایة ج١‏ ص۹۸٥؛بغیقالطلب‏ ج٥‏ ص )۲۱۱٢‏ 
متتحددعلا کرام نےککھاہے: 
”جب سیدن تج رین عدی اوران کے رفقاء یٹ کوکوضہ سے شام نے جایاجار باتھاف سیدنا 
تر یکس لک ضردرت بٹ یآئی۔أنہوں نے سای ےکہا:جھے میرے پینکاساراپالٰی نا 
ہی دے دک لقم بجی پالی ندد ریا نےکہا:جھےاند یش ےکآ پ پیا سے م رجات کے 
اورمحاویہ ا کرد ےگ۔ اس پرأنہوں نے بارگا ویش دعاکی و بادل بر نے گا نہیں 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طط‎ 2131331. 


.ےت اؤکحادیٹ الموضوعةقفی فضائل معاوبۃ 
نے اپنی ضردر تکاپانی لے لیا۔ یدک وک رن کے سانیوں تن ےکہا: آپ دعافر بای کاڈ تھا 
یں ال مشکل ےنات عطافرمائے۔أہوں نے عو کیا: 
ال خرلتا, 
اےالل دا یں ری عطاف ا“ 
چس وواورن کے سراھیشوی کرد بے گے“ 
(الاصابةج٢‏ ص٣۴؛فیض‏ القدیر ج٤‏ ص١٣٤٢؛جامع‏ کرامات الأولیاء ج١‏ ص ۱۳۱) 
لی کےُتعلق ا نکی ایک اورکراص تچھی ہے+ دہ ےک ایک مرجہ چہاوکے یشک جار اتھکر در یاے 
وج لگہورکر مکل ہوگیاءلیگ سوج وبچاررٹش ےک سید حجرین عدئی مال یقن کے ساتآکے بو ھت 
مک لآ مان ہی چنا نام ئن الی اتماوردوسرےجخرا ھت ہیں : 
”عیب ببان یا نکرتے می ںک ملا فوں م سے ای ۰ٹ نٹ ےکہاءاور رین 
عدکی تھے :یں یش نکی طرف جانے ےگس بیز نے روک رکھا ےا لف لڑنی وجلہ نے ؟ 
لا حان انف ان غزت کاڈ الہ بنا ماد (و زی رن سککرزٹش 
رمےء لقیراللدکی احیازت کے ہکھا ہواہے ( مو ت کا مقررووقت )زآل عمران:١٤۱]‏ پھر 
ُنہوں نے اپ ےکھوڑ ےکودد یا ئے د جل ہر ڈال دادور ےلو کب یکود پڑے۔ جب وشن 
قومم نے برمطفگردیکھا تق کین گے: جن بھو تآ گے ین بھو تآ گے ؛ یک ہوئۓ وو سب 
لوک بواک گے“ 
(تفسیرالضرآن العظیم لابن أبي حانم ج۳ ص۷۷۹؛المقامات العلیة لکرامات الجلیة لابن سید 
الناس ص٤۸٥٥۸:‏ تفسیرابن کثیر ج٢‏ ص۱۲۹ ؛حیاۃ الصحابة ج٥‏ ص ۰۰۲٦۹‏ ۲۷؛ دلائل النبوۃ 
لأبي نعیم ج۲ ص۰۷۸ ء۷۹٦‏ ؛دلائل النبوۃ تلبيھقي ج٦‏ ص٤٥۶‏ ٥؛؛تاریخ‏ الطبري ج٤‏ ص۱۳) 
ات تج رحب ال اذ اورائ لآسما ںکاغضب 
چحن مرسل اور ف9 رم احادییٹ یں نکی شی لکوت یآئی ‏ ےک عذراءکے مقام پرسات افراوخا اف لکیا 
جا ۓگا۔ چناخچرامامنموی اوردوسرےمح شی نکرا بدا بن رذ بن انی سے روا تکرتے ہی ںکہآنہوں نے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


الأحادیت الم وضوعة فی فضائلمعاؤیة_. ٥(‏ دی 





مقث عَلٗ بن اي الب یو :یا ال الرَاق سیق ِنكمْ سَبْعةَقربِغَذرَۃَء 
َنَلَّهُمْ کم ااشخاب الْحْدودءلَقيل حُجْر بن دی وَأضْعَبة 
”نی نے سیدنی بن ای طااب مرکو ما نکرتے ہہوتئے سنا:اے ائل عراق ا خنق رب تم میس 
سےسات اقراوکوعذراء کے مقظام بن یکا جا ےگا نکی عثال ای ےتلصی اصحاپ الا خدود 
کی یں سیدن جرب عدی اوران کے فی سے گے 
(المعرفة والتاریخ ج٣‏ ص٤٤٣‏ ؛تاریخ دمشق ج١٢۱ص )۲٢۷‏ 
نوردہ 


۱ اصسحاب الا خددءکاد لپ داقسورۃالبرد کی چش یآ یت کےتحت امیر لاف ایے- 
اما لی رہ اض علیڈر مات ہیں: 
لٹ : عَلیٰ لہ َایقول نل نذا إَِ بن گن سَیغة ِ رَسُولِ الله فق 
وَقَذ رُوِيَ عَنْ عَاِشَة يإِسْنَادِ مرُسَلِ مَرْفُوعًاِ 
”می کا ہوں :سید نی دای با تنج لکبہ کت اسوااسل کےکہأ ٹول نے رسول 
ال می سے سنا ہد ء اور یک الما سی ہ عا نت صد بیقہ رشی ادڈ نا بھی مل سند کے ساتھ 
عروماروای تکیاگیا ہے '۔ 
(دلائل البوۃ للبیھقي ج٦‏ ص )٠٤٤‏ 
حافظطائ نکر امام یوٹی اورعلا یی ہندئی نے امام پبقی سےیقو لکومقررر اے: 
الیدایةوالتھایةج۹ ص ۲٤٢‏ ؛الخصائص الکیری ج٢‏ ص ٤٤۲؛وط:بتحقیق‏ خلیل ھراسءج٢‏ ص 
٠ ْ‏ کنزالعمال ج٢۱۲‏ ص٥ ٠‏ حدیث۴۳۷٣۴۰)‏ 
امام صایلی رس اللرعلینے سید می ایا کے موق فقو لکوینس مرف دمرل حدیث ےق یت دہ ےکا 
توف مایا ددرے: 
عَْ ابی السَوّد قَال: دََل مُعَارِيَة لی عَابََِفقَلْ :ما عَبَلک 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ دا‎ 2131331. 






غلی قَْلِ ال عَذْرَاءَ خُجْر وَاصْحابه؛ فَقَال: َامْالْزہ 

إِصْلاک لِلفَةء رَأج بَفَانهُمْ فَسساد ء ققاك : مث رَمُزل اللہ و بَفُزل : 

سَیْقَل ِء نام يفْضِبُ الله لهُم ول السُمَاءِ 

”حضرت ایوالاسود با نکر تے می سک محاو یرم ال نیشن سییدہ حا نکش رٛشی ارڈ رعنہا کے 

ہاں حاضرہویے ےا ٹہوں نے فرمایاہشھیل کس بات نے ائل عذ را تججراورآن کے ساتھیوں کے 

ئل پرابھارا؟آنہوں ن کہا ام الین ای نے ُن ےکی می امس تکی اصلاح اور نکی 

تام یش امم تکا فا د کچھ تھا فر مایا :ٹس نے رسول الد ضف کوفرماتے ہو سنا تھا:خنظریب 

عذراء کے مقام پرپھلیگ فی سیے جامیں گے نکی وجہ سے اید تولی اورائ لآ سان فضب 

ناک ہوں ج“۔ 
(المعرفة والتاریخ ج٣‏ ص٤١٦‏ ؛دلائل النبوۃ للبیھقي ج٦‏ ص٤٦‏ ؛تاریخ دمشق ج٢١٢ص‏ ۲۲۷؛ 
البدایةوالنھایة ج۹ ص٢٢۲؛الخصائص‏ الکبری ج٢‏ ص ٢٤٥؛‏ وط:بتحقیق خلیل هراس؛ ج٢‏ ص 
۰سبل الھدی ج١۰١ص١٥۱؛کنزالعمال‏ ج١۱‏ ص١٢٣‏ حدیث ۳۰۸۸۷ وص ۱۹١‏ حدیٹ 
۳۲ "ج۱۳ ص۰۸۸ حدیث ۰ ۳۷۵۱) 

خذ رگناہ بدترازگناء ءا بتک مال ران ای پالی پا عزن ہیں و اپنے خلاف أ شن وا یآ دازت کو 
د ان کی نا روگ ںکونا ھک لکہ تے ہیں اور بہانہہنات ہی ںکہر یاس تک اصلا کی اط رای ا//: :گز رتھا: 
تی الم وا ہا دخلنطاء کے ا لے نالمانہاققداممکآن کے چا اوس حوارکی اورعلا سو ء خطا ئے اجشتبادی ناد نے ہیں 
مگ ذکور پا کالہ می اع ال من شی اننرکنہا نے من خطا ۓے اہہتمادکی کے ددوا ےکوحد یث پک من اکر بمیشہ 
کے لیے بنرکرد اہ اورواش فرمادیا ےکہ بر اصلا نیس بمہ ای افساد سے جوبیِ آساں اور خال قآساں خالے 
وونوں ک ٤فض‏ بکا جب ے۔ 
یڑا ۓ ظاہربیکائول 

سیدن جن عدی اوران کےرفتا ویل کےل برخاقی اما ء لے اورائ لآساں فص بکا سج بکیاے؟ 
اٹل حد یٹ رات کے پیٹواکے مطابقی سیب حضب فتا یی جک ہنی سی رم کے ایر کیا ای لے ام 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


لین زی ال متا :ا را ہوگیھیں۔ نا خچ ھا مان تم معاہ بی کے عالا تم لککھت ہیں: 

زفیٰ اثایم خزصزت الْمْسْمْطْيةء یل عجز بن عَبيٍ وَأمْعاب 
ضرا ار دِمَشْق ایس ء بن الغن للإضلام ان بقل من رای ابی 8ل من 
غَْر رِهةوَلا لی بَعذ إِخضَانِ ء وَلِعاَِةفِيْفنَيهھمْ کلام حفْزظ.ِ 

”ان کے دورمی لعل ہکا اص گیا سد رن عدک اوران کےرفتا یل 
بھی ظا رم زشق کمضافات م نی کے دوش گی سی گن ۔ با سلام مم کرد یکا سجب ہے 
ک رخ رش نے بکرم تو کودیکھاہوأے مرج ہدے یراو شادی کے بعد زپ سے ایر 
تل کیا جاے .ان ک ےےل می سید :ھا کش شی انرک نہ کا کلام مفوظط ہے '۔ 


(أسماء الخلفاء والولاۃ وذکرمددھم ءمع جوامع السیرۃص )۳٣٥۷‏ 


و 81 برموصوف ے ‏ عریث 
ج بآ پ اہ تا تین فوداراکیی لور محاو رپاوقہا کی تر با کی رشن بل جان ہے ہی ںکہ 
سید نا تم ربین ع دیج اوران کے اتھیو کال سراس :جن تھا تق یہاں ایک ای عد یٹ بھی ساعت فرماتے جلے 
جس کےےراوئی خودامہ راب سنت کےمحدوع مواو ری ہیں ۔امام اص بنٹٗل رم انڈرعل یھت ہیں : 
غْ اي فیس قالَ مغ مُاِیَة کان قإِیْل الْحدیٔث عَن رَسُولِ الله 
بل قال: یك زشول اللهق رََر بَمُزل: کل ذلٍ سی الله أْيقَرَ ہل 
لَّجلَْمُوث كافزا أُِالِرَجلْبَقَْل من مُعَمََا. 
”ابوادرشش با نکر تے ہی کہ ننہوں نے معاویہ سے ستااوردہ رسول القہ ڑے 
روای کرنے می رکیل الیدریث تہ أنہوں ن ےکہایش نے رسول اللہ ما کوفرباتے 
وے از اید ےک الہ قائیٰ ہرگتا کرش در ےگا سوا ٹیس کے جوف مرا یآ یخس 
کے جس نے جان بوجےک ری مز نک لکیا۔ 
(مسنداحمدج٤‏ ص۹۹ ءوط:بتحقیق اأُحمدشاکر ج۱۳ ص ۱۹۷ حدیث ۹٤٣۸٦۱؛سنن‏ النسائي 
ج٤‏ ص۹۳حدیث٥۳۹۹؛المستدرك‏ للحاکم ج٤‏ ص٣٣‏ ۳؛المعجم ؛لکبیر ج۱۹ ص٣ ۳٣٣٣٣٣‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۸ لجا‎ 2131331. 


حدیث٦۸۵۷۰۸۵ء۸۵۸۷؛الکبائرللذھهبي‏ ص )٥٤‏ 
بعد بیث سید ناابوالدردا من ےئجینقول ے_ 
(سنن أبي داود بتحقیق شعیب الأرنؤوطء ج٦‏ ص ۳۲٣‏ حدیثٹ ٠۰‏ ٤؛المستدرك‏ للحاکم چ ٤‏ 
ص٣٥۳؛صحیح‏ ابن حبان ج۱۳ ص۳۱۸حدیث )٤۹۸۰‏ 
ضا دہ ےک۔کیائزکی فرصت شرک پیک ادشٹلِ تق دوسرسےبرآ+اے۔ 
یح ریا می شا کا پچچتتانا 
سید رن عدی لد ک ےن نات نکای وا اختقصارکی خوائشل کے باوجود یھت چلگیاے لپن ا عنوان 
کےتحت جوددچارردایاتآئی ہیں انی کمن لکرن ےکی جیا فتق ار ,کر کے گنت ہوں_ 
ہی اح سمل ان کاپنی تق بکمتاء ہا دہ رہ روکرسو پت ےک ۔آیانہوں نے یدرس تکیاے 
یافلط اس پرأنوں نے مروان ی نگ مکوخیاکھاک ہیل ای اک رج یٹ ہوں قة اس نے جواپالکی کی امت ہار یکقل اور 
ضلمہکہاں لے گے تے؟ 
(تاریخ مدینة مشق ج٢١١ص‏ ۲۳۰) 
۲ جماکہ بدا ڈگ انہوں نے سی اووٹں خودزیاد یہک تیر ےبھے پریش تج رین حد یکل کر 
بیٹاین اب اس کے بارے شی میرے ہے افطراب ہے :ہام مہرے پا ںی صاں ش٢ش‏ لکویچو ہم 
اس ما مہیش اس سے تاد“ خی لکروں ۔ز یاد نے عمبدال مان این ای یکو چاو کہا :خجردا اوس معابلہ 
ا نکی را ےکی قباس تکوآن پرعیاں نےکر ٠ء‏ درشیش تم لکرادو ںگا۔دوشام پچ نی سکہاگیا: یسل 
کر کے پر ے بد لکو۔دوجاز دم ہوک رت پرآ یشھےا معاد ہاور نکالیوں کال ہوا: 
”می خواپ لیج یکم تج گی زدکرتایش چاتاتھ اکا کواورس کے ساتھیو ںکو 
قیرٹ ءکتاء یا نیس شام کےمخلف مقامات پپنمبراد تا یا نٹ محا فکرکے ان کے رشن 
دارول پراصا نآردیا- 
عبدالرمان بن ای ھی کی ہیں:ش ن ےکھا ہکا آپ نے ان تین باتوں مم 
سے کاایک بات پگ لکیا تاد کچ ہیں :کر دہاں سے وائں ہواءاور بے زیا سے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


لاق تکرنا بہت مو تھااوریس نے تک رکا تھاکہ ردپ ہوجائوںگا۔سوجب میں ےکوفہ 
کرٹ سا چدمی خاز ای تذایکیشت لک زان سے ناک ذیادعرکاہے۔ یک نکر جھے بے 
عدخونی ہوئی“'۔ 
(أنساب الأشراف ج٥ص۲۷۵)‏ 
ڑی ناز سے جب دعا ے مھ یك 
مل انصاف دایان ے پا ہے !اگ ینف کےین یش وق یوب خدااورووَتَا يَنْهلیْ غن 
لو یپ کی شان وانے صمش فی شا ے ”الله مل هادِیا مهيبًا“ کےالفاظا ٹم رعامتول ہو گیا 
سے ایی بے ڈ گے اورطالمانہ ٹیل صادر ہو ستے ہیں جن پردوخودی ن بب ہو؟ ہم اس ےکی حد یش ش ریف 
نف کر چے ہیں ری یی دعارڈیش بوئی ۔بھرسیدالاخیاء ا کی دھاکیو کرردہ کی ہے ای نے بہت 
خوب کرات 
تو .نے لی بی وہ بات ہو ہے ری 
ون کو کیا شب و رات ہو سے ری 
اع حضرت رح الش عل کھت ہیں: 
جو بیس اجابت ‏ خواصی مل رھت بڑش یکس تک سے دھائے مھ من 


اجارت نے نج کک گے سے لگایا بڑھی ناز سے جب دجعاۓ مھ نپ 
اجابت کا راہ عنایت کا سر لان من کے گی دعاے مر ا 


(حدائق بخشش ص٤٤٤٤٥)‏ 

تقیقت یہ ےک چو داودرا بن کاو یک اہ پا جاے تا لکیکای پٹ جائی ہے جیہخا لوگوں نے 

دا ےھر من کو فداق ہتارکھا ہےء یر یتلکن ہےک ری ےکی دواےۓ ینام مو ہو جائے ا وب ان 

ےکن نی جیے بھی ج کگنا بھی سرزدہوں ؟ ینس کے شس داقتی ہداب کی دع ہوچاے نو طعا مک نی ں 

وہ ہدایت کے منائی قدم ہی اٹھا کے ۔آ ےاج حدیث سے خابت شمدہ دعاے یی ط مکی شان ملاظ 
فراۓ! وب خدا ایم نے ایک موقعہ پسید یکو یوں دعاد اتی : 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





الله سَيَهِئقلبّکَ وَبََِ لِسَانَک. 

”یقن ا تھال یتہار ےد لکوہدایت د ےگا اورشہاری ز با نکغابت ر ےگا“ _ 

(السنن الکبری للنسائي ج۷ ص٤٤٣‏ حدیث ٣٦۸۳؛مسندأحمد‏ ج١‏ ص ۹۰حدیث )١۹۰‏ 

بد عاان الا ای بھی منقول ے: 

اللَّهْم هد قَلبه رَسَدَذ لِسَائة 

”اےالشد !اس کےقل بکوہدابیت دے اور کی ز با نکوسلاصت رکا '۔ 

سیدنائی لف رماتے ہیں: 

نا فگگٹ فی لسَاو تن الین 

”اس کے بععدمیش دنصوں(بافریچوں )کے این فی لکرتے ہو ۓ کن ککا ایس ہوا“ 

(خصائص علیي ظلہ بتحقیق البلوشي ص۷٦‏ حدیث٤۳؛سٹن‏ ابن ماجہ ص٥‏ ۳۹حدیث ۰ ۲۴۱) 
خفےمصفی دی مقر انت طلتاء؟ 

میراایمان ےکرینس انان کےقن میں 'السككع اجضلۂ ادا مد" کےالفاط شی دجاۓ نوی 
شڑلاصادرہوجاے اس ےنگ اب یاگنا کی و لحاس زڈیش ہکا ؟ مرعیان عش مصطفی پل ولب باجح رھ 
کر لی ںککیان کےنز یک ا کن ہے؟اکرلکن ہج اعاد ی کی رہشنی کوک یی کی کان 
کےمحدوں کے علاو وی اورازمان کےتقی می ای دع ایت ہواو گرا سس سے گودأ و آءپا:چچاً کہا کا صیدور 
بھی ہواہو۔اگروہ ای یکوئی نظ ری لکر نے سے اص ہو ں تو ڈنکیس ای روہ اپنے ماصوں کےےتن ٹس دعاۓ 
نکی ماف کڑھڑھایانے سے بازآ میں ! 

ج نکی شان میس اتی دعاے دی ٹا نول ہےءأ نہوں نے بڑے بڑ ےھ رکے پلہس تن 
بی سک یک آیاجھ بد اقم دہ ُٹھا گے ہیں دو درس تھی ہے پانل ؟ چنا سید می ون جب خوار خکوتۃ کر کے 
ار ہوۓ فوبعدرمیش اناو جیو ںکوفایا: 

”جا واؤن لوگو ںکینشوں میں جا شکروءاگکران میں ذوائ سی( آد ھ پازو والے 
شس ۷ کی ضس موجودہوققم نے بدتر بین لوگو ںکو یکیامے ودنہ پبت رین لوگ ںکومارنے کے 





۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





مرککب ہو گے ہہو۔ لوکوں نے انی ںکیا لیس و وائیں ہک مرف قکیا:آن میں اڑ یت یں 
ہے اوراہیا تین مرح ہکیا۔ مولی لی الپ نے فرمایا :نہ ہم مچھو نے ہیں اورنہ جی مچموٹے تقرار 
پا ہیں۔ بج رآ پ ختریف ےگا رن کفڑ لگ 


(السنن الکبری للنسائی ج۷ ص۷۷١‏ حدیث ۸۶۱۷؛المصنف لابن أبي شیبةج١١‏ ص۳۱۱ وط: 





ج١‏ ص٤٤٣ ٣٤٤٤‏ حدیث ۰۰۴ ۳۹؛مسند الہزار ج٢‏ ص ۱۹٦‏ حدیث )٤١۸۰‏ 

ینیل کے لیے ملا تفر باتمیں:”شرح خصائص علي ہہ “الطبعة الخامسة ص ١٢۱۰ء‏ 
٥‏ حدیث نمبر۱۸۰۰۱۱۷۹۲۰۱۷وغیرھامہ 

چیک دوسربی طر فجن ہیں '' الله اَل خادیا مد“ کا مصدا ق ھاجاجا ےا نک رگ رایت ال 
وق تبھی نہ پھرکی جب اُننیں خوا نی کےلوگوں نے مضہ ہکہددیا کی تجرہدایت کے مناٹی ہے۔ چنا فی علامہ 
بل ذ رک کت ےکی محاو یہ نے عبدالرحمان بن اسودزھ ری یکو بلایااو رکہا: 

اقب فَاْل حُجَْا وَأَصْحَابَۂ ء فقَال: اما وَجذث رَجُلا أجُھَل باللہِ وأنغمیٰ غنْ 

”جائ! تچراوران کے ساتھیو ںو یکر دوہ اس ن کہا :کیا آپکو این ہیں ما جوا نال 

اوراسل کے ام کے معاممہ یں تھے ز یادہ چائل اوراندجاہو؟“'۔ 


اتاد إم؟ 


سید نا جن عدی اوران کے رفقاء یچ کے پارے یل ا ب کک جوکھ ایا ہے أ کا خلا صہ بی ہ ےکن 
کےف لکوم نین رسیرت مار عو رشن ,فقہا کرام مالین عظام :ھا کرام اورا ماد بیث سبیدرالا نام علیہ للا 
والسلام م٢‏ ںیک گیا سے اور ای وج ےنتا ء نے تج رن مدکی تکوش یدقراردباہےاورد اش فر مایا ےکم سلمائوں 
کے پاتھوں جوسلمان قصاض یاحد کےطود پڑئیس پیج خا رات کیا جا ے ذو شید ہت ہے اوراییے بی شبیدکو ای 
عال می و نکیا جات ےجس عال میں وہمقتول ہوا۔اسی ےنتا رکرام نے با قاعدد ان کہ ناج اور نکی 
آ خری وعیت کےالفاظاکو نظ رک ہوۓ مسا لکاا تما کیاے۔ 


(أنساب الأشراف ج٥ص۸٦۲)‏ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


:لے ۱ 
”اللهم اع ہادیا مد گیبحت کے این سےسوال ےکران کے ندرک تل نان باد یت 
ومبد یت سے پاعلم وس کیت؟ اجتبادی خطا سے یا ضطالت وو ایت؟ مجاد ہہ کے اپ ےگورنراو را نکی مایا کے بت 
لوکویں نے تو ا یٹ لکو ضس “(ب مال )قرارد یا ورام لو نکی عد یٹ کے مطابق قحب باب یکا 
بب ہے لالم مة غا وی داکصحت کدعیان زای کر ول بل اپ جم 
کے لی ےکعنااجر وھ اب ما یت فرماتے ہیں؟ 
جرت خالدین ولید ید ماوعلا لع( لوکو کال ہوک ھن یکرمم راہ نے فور باگا و لی جس 
عون ضکیاھا: 
للْكُم نی ابا إلیک ما ضَنْع اڈ 
”اےاللد!جوخاللد ن ےکیای۳ شس سے بر ہو“ 
(بخاري ص ٦۰۹۰‏ حدیث ٣٣٤۹‏ وص ۹۸۹ حدیث ۷۱۸۹) 
عالان۰۔تحفرت خمالمد بن ول دکوشہ ہو اتھاہکیونک ہا نہوں نے جنوجذ بییہ کے لوگو ںکوفر ما یاتھا: الام نل ےآ ۶! 
ُنوں نے جوا کباتا”صَبأا٣(‏ ہم اپند ین سے رگ )انی لکہنا چا یی تھاکہ ” الما( پماسلام لے 
ے)شارین عد یٹ نےاکھاہے ہمشرک ش١‏ علا قو لکر۳ تھا تق ے دوس رےۂش کین صال ی کے تھے :اس 
ےا نلوکوں ن بھی ٣ضب‏ اف“ کےالفاظط ول دے۔ عفر ت خمالمد ین ولید نے کچھ اک شایدد٤اسلام‏ سے پھر 
گے ؛ کرو اس ےےل مسلران تھ یں جس اس خلڈی مشحفرت خالرین وید سے ول ہو سے 77 
قللانے ان کال سے براءتکاانکہارف ماد ایر ماد یوق سیدنا جم رن حدی دن انی سے بن وتت 
ٹل اتا عدہ پا پیا اک ”انا علیٰ مل ہم اتی مت بقائ ہیں لین موصو کو نکی بات پرلقین ن 
آواورکا: ”زا اق عِنْذا من حْ “(ہمارے نز دیک زیادجرسےزیاد دا ہے )اد گان ٤لک‏ 
مم دے دیاء لان یم یہ ےک لگ رکوئی مر کبھیموار دس ےک عایت جنگ مج سکلمہ پڑ تک جاے وأ ےکبھی 
ت یکر جرم ہے۔ چن ف تد دداعاد یٹ می آ یا ےکن مشرکیان نے بین وقت کہ یڑ لیا :"سی 
مساع“(میسلمان ہوں )اوراس کے اوجود ا ے لکرد گیا نیکریم نے قاع لکوفرایا: 
”تم نے کر دی یہد وکہہچکاتھاک ری سلم ہوں ؟عر کیا یارسول اللد ال نے بے 
کے ےکہا تھا ف مایا 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


2 
کیم نے أ سکادل چچ کرد ھا؟“۔ 
(نفسیرابن أبي حاتم ج٣‏ ص ٣١۰۳۹‏ جامع البیان ج۷ ص۹٣‏ ۳؛تفسیراین کثیرج٤‏ ص۱۹۳ الدر 
المنٹور ج٤‏ ص۷٦١ء۸٦٣)‏ 
ای اتضارنولی ٹپ کے مطابق سوا لکیاجاسکتا ےکہ جب سید تجربن عدی لن نے فرمایاتھاک ہم 
انی بجعت پرقائم ہی چجرمعاوی نے انی سکیو ںآ یکیاتھا کیا اس نے ُ نکادل چچےکر دک لیاتھاکہ وہ چے 
تھوئے اورفری ہیں؟ 


حص ر حاضرمیل تقادیت تر لہ کے تواہر 

سیدن مرن عدیی خلہ کے نی شبیدہونے اورمعادیہ کے ممقایلہ یش ُن کے من ہو ن ےکی واقعاٰی 
شبادت ہارے اس دورلژنی می 2013ء میں اس وقت خظاہرہوئی جب لپن دہش گر بتلیموں نے عذراء 
( مو جودہ نام عدداء )کے مقام پر بارودیی لہ سے ا نکی مسودرومارکواڑاد یا چودوسوسا لگمزرجانے کے پاوجود 
ا نکا عم وتازہرآعدہوا۔ چنا نچرانٹنیٹ پر نکی پڈڑیا نیس بین دکھایاگیا تن کے چرے پیٹ یک پنک 
عیاںہجی۔ عم آن کے سم مبارککونا معلوممقام پ نے جا یگیا۔ 

امو ںکامقام ےک اسلام کبس اون بادشاہ نے سید تین عدی بی ہکوفتقدال لی لکراد اوہ 
شا تاب مولا من کوٹ کے تھے :اوراس سےزیادداغسول ان :اصبوں اوراند ھھےاوگوں پہ سے جو وشن بادشاہ 
کے فیضان ےی ہونے کے وا ہشمند ہیں۔ 

علاد٤از‏ یی متادیہ ک ےم سے ہونے وا ےیل نا کے اوریھی متحددواقیات ہیں جن ہیں ہم ل الال 
کر نمدارکرر سے ہیں ءکوکہ ہما رامطلوب ا لیے قیام مظالم دواتعا تکااستعا ب نٹ بلہیہ کھطا یتقو ےک گر 
یٹس کے می ”الع ال ادا مكدِ “ایی جامع دعامنقول ہوقر اس ےرشمت:برعت ال 
نا وفیروافعا لق یکا صدور لکن ہوجااے ابنداملمانو لکوچای کہ و وس یکی موی خلت کے اشبات ٹل 
ضا ل ہیارک کر یک ںحصصت دی و لاہ +ف لآرا؟ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ا _ لمادیث الم وضوعدفی فضائل معاوید_ ا 





”ودب“ کاچ انز 

”ؤاد بی“ (اوراس کےذر ہی اورو کو رایت دے )ال لف ظکا یت جم لا لی صاح بک ا قرو 
سے ماخوز ہے جوا غہوں نے 2013ء یں ابوان ات( * لا ور لکیتی۔اس پافل عدیتٹ کےآ خر ح صکا 
جائزہ لیے کے یمیس زیادجحف تک ضردرت نیس ہے ؛کیوکلہ زی پایرموصو فکانجتی ا :ا کو جو اپ بایا 
سے ہدابیتکگی دو سب کے ساتے ہے۔انن شاء ال ہم یز یدکو اس کے پاپ سے حاصسل شدہہدایت بڑفصل 
فک تاب ''سیدناإمام حسین ایظذ می سکرس کے۔ یہاں فقتاسچ وا سا جمزأف لکرتاہوں جو < وَامْدِ 
ہہ “ےم وضو ول جم یکھول د نے کے لی ےےکاقی ہے ۔ا ما بی :بد تارف م کھت ہیں : 

وُکان نَاصِبیٔاء فُظُا ء عَلِیطاء جَلِفا ء َتَاوَلَ المْسکر ء رَتَعَل الشکرء رلَْع 

َولََه مق اید لسن ء وَاِحسَمَهَا باقع الَْرة 

دہ اص (شن ئل بیت ) تھا :ند عزارمع بخت دل ‏ تا ”ارہ عادئی شی اور برائی کاخوکرتھا۔ 

نے انی عکوم تک آغازشبیر بین ( نے کی سےکیااور ا سکاخقام واقع زم :کی 








(سیراعلام النبلاء للذھبي ج٤‏ ص )۳۷۰۳٦‏ 
اگ ری کلت دا نکو :سو جھےکہ ا می یذ ید کے با پکاکیاتصور ےپآ خرحضرت نوع دا کٹا بھی تو 
بے ہدا یت تھا؟ت یں وت لکرو لگا مغیرہ بن شعبہہز یادائن ہی مروان بن الم اوربس ین ال ارطا و وظی روک 
کےکورنر تھے؟ اورکیادوسب سیدنا لی اوردوسرے اب بی تکر امہ السلام پراپنی مرتی سےست بژتخمکرتے تھے 
مماجد کےٹشبروں پرکنزرے ہوکراحنتکرنااوراسی ناک مدکی اط تح“ عید نکوشھی ذما زعید رمق مکر اکس 
ک یکم یاایھاء پر ہواتھا؟1گگورنروں نے ناک سلسلہازخودشرو کرد یاات” اد بب“ کےمصداقی نے 
انی ر کا کیو ہیں تھا؟ لیس سال سے سلس لوم تکرنے وانے بای ہم ہدک اور ”و الد یہک کے پان کیا 
اتی پا وییی ٹج یک دوای کم سے انی زندگی کےآ خر ایام می ا احن تک کرجا تے ؟ ہام دوسا لکوت 
میس سید عم ہی نعبدالت زی ہک گے ددان ہےکمیوں نہ ہو کا؟ موا نا عمبدالسلام ند وئ کھت ہیں : 
”'خلفاءجنوامیہ نے برہب کے متحلی سب سے بڑی بدعت جواجیادکیھی دہ رٹ یک 
حر لی ہپ علا می خ لے اشن وٹع نکر تے تھے ماود چون ہلوگ ا سکاسن ناو رای ںکرتے 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لجا‎ 2131331. 


تھے اورخطبہ نے سے یىی اٹھ جا اکر تے تھے ؛اس یه امیرمحاہ بین نما زعید ین ے پیل 
ہی خطیہ پڑھناشرو عکیاجودوسرئی بددتچھی بن ضر عمرن عمبدال نے تھا مگورنروں 
کے نام فر مان ارت یکیااورضطے میں ححضرت لی کے تلق ہوا ملائم الفاظطشڑا لکردیے ےج 
نکوکلواد اور نکی یق رآن یدک ىآ مت طإِ الله ار باْڈلِ وَالإخسان...)> 
وا لکردی جو کک باب ڑھی چالی کے '۔ 
(سیرت عمربن عبدالعزیزللندوي‌ ص ۱۳۹ ؛ تاریخ انخلفاء للسیوطي ص٤‏ ۳۹)؛مناقب عمربن عبد 
العزیزلابن الجوزىي‌ص۳۳۳۴) 
علام.آ لی ریت ان دعلیہا ںآ ی تکی جامعیت بیاا نکر تے ہو ئے بھی ہیں : 
وَلِحَمهھا ما جَمقَث ھا غمربیْ بد رر جن لب العِلافهُِلَِ 
فقام فا کان اَی غطَب الله لی علَهِمْ _ يمْعَلوَه فی أزاجر مُطَبهِمْ من 
سب لی وم الله تَقالیٰ وَجَة ء ولف کُمَْ بَقَطَه سب کان ڈلک ہن 
أُظم تار - 
” اور ںآ ی کی جامحی تک وجہ سے سینا عمری ندال ینہ نے ا ںکواپئی خلانت 
کے دوری اس مقام پررکھاچہال حوامی ۔الشد تا ی ان بحضب نازل فرماے۔ اپ خطبوں 
کے؟ خ ری سدہاعلی برست کر تے جےء او تھالی سید اع لکی ذا ت کوک فرمائۓ اوران کے 
ملین وشامین پرلعنت فراۓ۔ فرتعم ری نعیدالعزیز کی کارناموں سے ہے 
(روح المعاني ج٤‏ ۱١ص۲۷۳۴)‏ 
ددرمحادی ے شروم ہونے والی ىہ بدحعت سیعہ ال ق درا ەشا لع ادرعام ہو یھ یک راس سے خودسید 
عم کبدالعز یٹنیس پا کے تھے ۔ چنا چرسابقہ دورٛ بھی دوھی سیدناعلی لدبرست بش مکرتے جھےہ 
رأ نیس عیدا بن عصبداوشہ جن علیہ نے نحسحت فرمائی نے با زآ گے تھے مو رفر ماک یی اورخلاقت سنا کے کے بعر 
اس بدحعت سی کٹخ ھی فرمادیاتھا 
(الکامل فی التاریخ ج٤‏ ص۹۹۰۹۸) 
یدکا بن وع کی طرح قراردر ےکر معاد یکا دفا عکرنے وا نے لوگ جلائمی کہ پچ تہارے بقول 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


۴ 
یز دق پرنو ںکیطر حکھبرااوردہ "و سد بے '' کی تا خی رےفرومر پر محاہ یگ حیات لان کے ڈکورہپالا 
گورنروں سے ن ےک رححقرتعمری نعبد ال زی ین کے دور کےآ نا زکک جوھ وی لوک ست پش مکرتے مر سے ہو 

کیوں ”اط بی کے مصدا کی ہرایت وت خر ےجرد رے؟ 
خودلوک بنوامیہ کےٹیض ولا ء کےکم سے بیہا ںت کن لیا حر تہ عم ری عبدالھ یز اورمعاد یہ کن 
کے علاووتمام لوک منوامہ ناصھی تے۔ چناخچرعافطڈای نکش رکھتے ہیں : 


و او وع اپ کے سیک 2 7 پا 7 ا ا 
وُکَُلهْمْفَذ کازنایٹٴ لا الإ سام مز الصقیٗسا 
تعَارِیْ ثُم بَْْایَرَبْة وَائنْ ایًٔیے مُعَارِی السيبْد 


”دوسب کے سب اص تھے اسوااما گنی ےہ 
محاد برا لکابینای: یداورا کا پوتا معادبیچا“۔ 
(البدایة والٹھایةبتحقیق محسن التر کي ج۱۷١ص‏ ۳۷۵) 
ا کلام یز بی کے معاو یکو ”ممسدیعدہ یا ال ل ےکہاگ اس نے اپ دادااور با پکوفاا 
تراردیاتھااورآن دوفوں کے بارے میس ”فضاز فی قبْہ ریا يہ کےالفاطاستمال سے تھے :سینا 
عی ورای مس نپلیکالسلا م کو تق لی مکی تھا جی اک علا داہن تجرگی نے ای لاب ”الصواعق المحرق“ 
رکھاے۔ 
ؤاد بہ “ کامصدات پگ ربرعات؟ 
کش رتقداورٹش ایے بز رک ہوک رے ہیں جو نت نی لے کےخلاف ایک قد چم ینمی اٹھاتے ت٠‏ 
عالاکرآن کےوتن می ”السكه ماخ ادا مه+دبا اد بہ مل دعامنقو لیس ہوک :تی مد ہہ“ ے 
نا نہادمصدا قکامحاطہ یرد پاکہ دوترامکک کے مسب ہو :ملا شراب سودءرشوت وی رہ ۔تچلرووسنت ٹل 
کی یی اورتبد بی کےبھی مسب ہو ے _شل امام وٹ ککھتے ہیں: 
قال سَغِیْه بی السَیّبِ :أُؤلمَنْ أنحذث الأدانَ فی اد معَاوِيةُ أُحرَجَة ان 
اي شَييَةء وَقال: ول مَنْنقَص الكبيْر معَاويَةٌُ 
”پٹ جس نے عیدیش اذا نکی جدعت ای معادی ہے۔ ال کواا مان ال شر نے روایت 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 


کیاہے:اورفرماپڑے:اولٗ یس نیس نے یی کسی ری مکی یس دوھی معادیے'۔ 
(تاریخ الخلفاء للسیوطي ص ۳۳۲) 
بزعت برا لعنت 
تصرف بیکہ ذکودہبدعت ثا اتی بگعید ین کے خطہ یی مازعید بین سے پیل پڑہناشرو ںکردیاتھا- 
چنا نہرھا فطائ ن جج رمسقلالی اورامام سیون کھت ہیں: 
عن الؤّهريٍ : أَولْ مَنْ اخدث الْحْطَيَة قَبْلَ الصّلاۃ فی الد مُعَاویَةُ 
”مم ھک فماتے ہیں :ا ولچ جس نےعیدک مز کٹل خط کی بعت خلا دومحادیے''۔ 
(فتح الباري ج٣‏ ص ۲۷۸ ؛تاریخ الخلفاء للسیوطي ص ۳۳۱) 
اس نازیم خطہ کا مقصدتمول رضاے الب نی تھا سید ناعلی یہ برست تم او رصن تکرنامقصو تال 
پیل می ناپاک سلسل ید ین کے بحدی ہوت تھااو رط خیدی نکاپڑ ھن مازعیدین کے بعدسنت ہے مان چوکنہ 
صالین اورپ ہی زگا راوگ خطبا ہام یی اما تک نک نکر کآ می تھےاوردونمازکید پٹ ےکرفو اھر ںکو چلے 
جات تےء اس لیے ان ا کموں نے خطیہکوفمازعید بین پرمقد مکرد یاتھا تک لوک جب مجبوراخطبہ نے کے لیے 
بھی گنول حا نیس ا نکی جوا ات واشویا تج مننا پٹ کی ۔ چنا امام عطل لد بی ن کا سای ضیرم ال 
علیہککھت ہیں: 
ححطييهمْبمَا لا يَجلُ وکا الَاسُ لا َجْلِسُوْنَ بَفذ الصّلاة لِِمًاھا ء َأَعْتثْرّقَا 
قَبْلَ الضَاۃ لِیْسمعَهَا الس . 
”ماز(مید )سے پیل خ رد ےکی برقت موأمیرنے انی اس لک دو اپ 
خلبہ مس ابی پت کر تے تھ جوعطا لک یس ,اور کک ای ات نے کے لے بت 


کھیں تھے اس نے انوں نے خطبہکونما زحید سے پیل شرو کر دیا تاکز بر ذقی لوگو ںکوستایا 
امن ان 
(بدائع الصنائع للکاسانيالحنفي ج٢؟ص١ "٤‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





تقاضی عیاتض ریت ال عل گت ہیں: 
”پٹ علاء نے ہنا می کے ایک ل کا مقصد می بیا نکیاہے اور ای پانقا قکیا بکہ 
نام نے دوفو ںخطپوں میں ؤن ہستیوں انت بین کی بدعت کال ڈای جن انت کین 
جا نی تا یں جوٹی رازگمل ہوتی تو لوک دوڑزگاد تے اورأ نی تھا سچھوڑ جاتے سو اس لیے 
أنہوں نے خطہکوعقد مکردیا“۔ 
(إکمال المعلم ج٣ص‏ ۲۹۰) 
اس ست دم او زان کی نما نطب عیدی کڈ یبن پر قد مک ن ےکی لدع تکا مو کون تھا؟ آپ 
ڑچ ہی ںکہمعاد یی تھا یتح لوک سک ہی ںکہمروان اورزیادنے ہہ بدعت با لیتیلیکن ہکیوگ رتو رکیا جا 
کنا ےکرصدر کےعم کے بفیگورززائی بی تبدپ کر سے ہیں؟ ا ویر ک ےرڈ ر کے بغیرا الکن یٹنیس :ای 
لیے ای عواض اورحاذ ای نتج رحسقلا لی کھت ہیں اورالفا ظا حافط کے ہیں: 
ولا َعاقَةَيَ ین ری و أئر ران ء لان کان ران ِزناذ 
کا ایا ِمغاَِةء فَيْحْمَلْ لی نَا ڈلک وَبَعة عُمالَةٌ 
ون دونو ں تو اوں اوراش مردان کے درمیا نکوگی انتا فیس ؛کیونگہمردان اورزیاد 
دونوں معاو یہ کےگورخر تھے ؛لہفرا اس بح تکواس و لیکیا جات کہا کی ابتقدا ماد بے نے 
کیچجی اوراس کےگورنروں نے ال کی پر وٹ یھی '۔ 
(فتح الباري ج۳٣‏ ص۲۷۸؛کمال المعلم ج٣ص‏ ۲۹۰) 
بن اعقال جیڈئیس پل تقیقت ےکہ اس بدعت سیکا آغازمعادمیرنے پیکیاتھاءکینکہ و کی پردگا 
ذف اگورنہ ینم ردان اورگورکوفہز ادج یی لکرر سے تھے بگ ام خطیاء پرلاز تھاک دو اک پل لک یں ۔ چنا نچ 
توالت عبداوغرینبدانقادرالید یھت ہیں: 
”نوا می کے دورمی مت ربزارسےزائممنبر جھے جن پرسیدناعی یقت لعنتکی جا یھی 
(الأنوارالباھرۃص )٠٤‏ 
اا مخز یکھھت ہیں: 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


”رتا مج ہدر یو ںکاا رما ہےکہ می کک سید نی یج پننہروں پرست شف مکیاگیا“_ 
(سرالعالمَین وکشف مافی الدارین [مجموعةر سائل للغزالي]ص١٣)‏ 

سلسلرسید حر عیدالزیز لی کے دورنگک چاری ء باادرگرآن کےعم ےم ہوا:جی ا کآپ پڑھ 
گے میں مالپاا یمان داتصاف سے جلا ‏ ےکہسید ناعلی اوردوسرے اب بی تکرام خ پرست یتم اوران تکر نے 
کے یےسنت نیو می کی نت بک می اضافراورسنتہنبوکی ما مس تید ب کنا کیا یسب ہدامت ہے اورکیایے 
”اللْهْمْ اجْفَلة ماد تهب اہی بہ“ کی رکا تکاظہارے؟ 
بز یدیق ریسفت یابدعت؟ 

علاعد یٹ کاکرنا ےکراورقرا سلمامہپرنالملوکیتکا سای سنتہ وی تبد بکیج سے 
بواءاورا لکارکا ب بھی ا میٹ ے ہوا ج اد بیو“ کامصدا قتراردیا جا ا ہے۔ چنا خی بن الی عاص کت 
ہی ںکیتحخرت الوذ ر غٹلندنے با نک یاکشش نے رسول الد طَِكم کوفرماتے ہہوئے ستا: 

ال مَََْْر مُي رَجْل مَن َي یڈ 

”'اولی جومیری سن تکوتبد لک ےگا ہنوامی ے ہوگا“_ 
(الڈوائل لابن اأبي عاصم ص۷۷ حدیث ٦٦‏ ؛المصنف لابن أبي شیة ج۱۹ ص٥٤ ٤٥٥٥٥٥‏ حدیث 
۰۰۵۸,۵۷" )۲ 

اما سز کی ”اس جامع الصغیر“ یش ببعدیث ”وی ہا ”نل کےافظ سے ہے۔علامہ 
الا نے دہاش اعد ل٣‏ نکھاے۔ 
(صحیح الجامع الصغیرللألباني ٤‏ ٥٠حدیث٢۸٥۲؛جمع‏ الجوامع للسیوطي ج٣‏ ص ۲٥٠٢‏ 
حدیٹ۸۸۱۹) 

مض راویوں نے اس حدیٹ کے؟ غرم ”اذ :زیڈ“ کےالطا ظطکااضا لن کیا ہے :شا بدا ے 
ا نکامتقصمد وس حدبیٹکامصداقی صن نکرن ہوگایکن جب زین محادی کل سنت نکی می سک تید یلال ہو 
یھی اورخود یز یدکاقت اریھی انیس دیو ںکا نت تھا پچ کی حد یٹ یس ابی اضان سے جات ہوسکتے ہیں 
جن نکی وج سے وی بی ںکوئی وا تعائی خقاکی کے مطا بی نہہو۔ بلاشبرمنامی ٹس سے مرن معاو بک خی رسنت 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ی٥‏ 
ا مب بوالئ نا ملس م دہ ہاشھ نی ہے بکہ پاٹ ا سکاباپ ہے۔ چنا خی شبو ری مصنف علا 
مھ بن اس ایل الامی رالصدا نی باٹی کور واضائیٰ افا ظط کے بح کھت ہیں : 
"وڈ بنتراسِ“ باضلعاق زناد نی أنہءوَاشَأَر علی انار رَعََْرَمبة 
رسُول اللہ فا فِيْهم ‏ َبَاع ِقَبَةِْفّقبِ وَوَزقِ بأكُتَر من وَڑنهَا۔ 
نم سکاہوں :مار ےسا نے تقیقت ہہ ےکہائل سے مرادمعادیہ ہے + ال لی کہ 
انہوںنے بہتسی سو ںکوتبدی لکیا جی مرح یت ”الو لق اش “کوزیادائن اہ کے 
تلحاقی سےتب کیا انصار یٹ پردوسرو ںکو تی دی :ان کے پارے میں وصتیب نی ما 
کتبدی کرد یااورسونے اورچا دک کے بر نواس کےاصل ون سے ز امش یچ“ 
اس عد یٹ کشر کےآ خ ری علامینعانی نے باگاکھھاے: 
وَوْرُوْۃ النْص بأَه انل مَجَال لِلنظُر 
نف کی مو جودگی می سک راس سےا نکابییامراد ے؛قا گنک کی 
(ائتنویرشرح الجامع الصغیر ج٤‏ ص٣٣۳)‏ 
کن بای انف ریس ”فیقسال أه یڈ تیر جم درج موم ہوتاہے :می وجہ ہےکہ ا لکوبھ 
رشن نال می لکیا۔ چنا امام ین عدی یًے ماہمحدٹ کےکلام ےبھی ینا ڑا کالفا ظط یکر 
سے نول ہیں اورنجی پیسیدنابد رید سے ثابت ہیں مہ ی کی اوش نے اپٹیطرف سے دضاحنا شائل 
کردبے ہیں وو کین ہیں: 
و فِي بَمُضٍ لحْبَار مُفَسَرَا زَادَيِقَاللَهُ يَرِيْدُ 
تنلچض روایات میں وضا تی اضافہ ہ ےک ا لکو یز کہاجا ےگا“ 
(الکامل في ضعفاء الرجال ج٤‏ ص۹۷) 
بعد ری ان الفاظ کے شا لکن ےکی ١پم‏ دیمل ایک اورحد یت سےلقی ہے۔ جم کا قلاصہیہ ہ ےک 
”جب بذ یدرین ابوسفیان شام پرامی اق مطمافوں نے ایک جن ککی :اس میں جھ 
مال غیت ات ھآیا أس میں 1یک خوبصورت لڑک یھی جوسی ملمان کے حص ہش ںآ کی یدن 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ےی 
اسخیان نے ا لکواپچنے پا منوالا ان وس سیدنابوذر ین شام جس تے.ا ٹن نے 
ان کے ہاں شکای تک نو سد ناابوذ دنہ ا کی مد کے لیے یذ یبن ال مفیان کے پااس گے 
موس مت سی 
فا گرم وٹین ایاکرت ہوم نے لال لہ کوفرماتے ہویۓ تا 


ئ 


او مَنْ یل سج رَجُل مِن بَيي ام 

ہباخش جومیرکی سن تکوتبد بلک ےگا وو ہنوامیرے ہوگا- 

پیکہرکرد ول دی بیجن ال فان ان کے چچچےگیا او کہا :ٹ سآ پکوالل کید تا 
ہوںمکیادوشش ہوں؟ فماانیں۔ائس پر سز ید نے دولوظی أ نف سکولومادی'_ 


اپ ےج 


(تاریخ دمشق ج٦٦‏ ص ٢٥۲؛إتحاف‏ الخیرۃالمھرة ج٦‏ ص۸٤٥‏ حدیث )١٣٦٦٦‏ 
4 
کیا بوالعالیراوراہوذ رخ لدکی ملا قات ہو ؟ 
تح لوگوں نے س یو ًووسپ ہچ 


مکل ہے یکن بی نکی مخالطآفررٹی یا خاڈٹھی ہے ؛کیوککہ ان دوندں حعخرا کی پا جم لا تا قاتنابت ہے۔ چان 
امام ذءبی رم ال عل کھت ہیں: 


ال حَالةوالْمُهاجر ء عن أبی الغالیة: نت بالشام مع اي کر 
”اب والمہا جر الد تخضرت ابوالحالیہ سے روا یت کر تے مہ ہی کہا غوں نے فرمایا: شی شظام یش سینا 
اور کے سا ت تھ۔ 

(سیرأعلام النبلاء جح٤‏ ص۰۹ ك0 
ا تل انام ذ ہیا نکاسید:ابدذر لہ سےحا پت لکر پگ ہیں .ان کے الا یں : 
زضوع من غغمَر وَعلي ء وَأني, وَاِي فو 
”اور نہوں نے سید عم بی أسی بنکحب اورابوز ینہ سے سناے“۔ 

(سیراعلام النبلاء ج٤‏ ص ۲۰۷) 


رس سےمعلوم ہداکہ وق فان آه : ییزینہ“ کےالفاظ بعک اہیاد ہیں ۔اگ ری یکرمم نے 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


عدیث می کسی أموئینفن کون م وکیا ہوتاتة سیدناالوذ ری جو اس عدنگک صاف اوردا یع با تےکر نے کے عادی 
ےک رتو ریت ریئش اورکناری وفیرہ کے ردادایگینیں تہ ووضرور یز یبن ال سفیا نکوف ماد ی کہ ہال رسول 
اللہ اہ نے سی یز یدکا نا ول یتلکن یلوم مکی سک دوقم ہو ہاکوئی اور خیال رہ ےکسیدناابوذ رخ ہکاوصال 
۳ ي۳۴ یش ہواتھااوراس وت پذ یدن محاد ےکی عم رچرسات سا لکیچی اوردہ اس وق تکوئی قائل ڈکر چچز 
نیس تاس سےمعلوم ہوا ہے کہ بعدییش جب ا سے اقق ار لا اوراس کے پر زے ےشن ا سکی اصلیت 
ا ہر ہوک نو یسب ود یھ کے بعینفس لوکوں نے" بےفال آے : ری“ کےالفاظکا ضاقکردباء دض اصلابر 
الما لاسید نا وذ ر ٹپل سے ٹاہ تجیں ئإں- 
ات بآوورا ششت میں اس ےبدلا؟ 

علامہالمبا نی اہی ملف محرث ن بھی اس اضا یکو اب کتاب”السلصلة الصحیحة*' ملا نکی 
زم ت یں ف مائی اور أغہوں نے کی سکانام لیے درا سٹو سکوسنت نکی می تبد پگ یکر نے ولا کہا ےس 
نے نظام اتا بکودداشت می تب کیا۔ چنا خی نہوں نے پیل ین أُخلام نب بل ال“ یرم 
ا نی خ ری دنا ) کاعنوان قائ مکیاہے ,پھر بجی حد یٹ لکر کککھاے : 

وََلالْمْرَاۃ بالْحَدِیٔث تَعیْر نام اِخَُتَارِالَلاة رَجَعَله ورالَةٌ 

”شایداس حدبیث سےمراداتقا ب خلا تکو بدلنااوراےموروثی انا “۔ 


(السلسلةاللأحادیث الصحیحة لللباي ج٤‏ ص ۰۰۳۲۹ ٣۳حدیث ٣۹‏ ۱۷) 


اس بد پ یکا بھ اک انام 
اہر ےکر خطاطت راشدہ کے بعدبٹس نے اقطرارکائر رخ ربق اتب سے وراع تک طرف موڑادہ 
معاوپ من ال فان ہے اور نکا با یدن کے ا ال می سے ایل ہے۔ سض نو یکویمہد ی لک۷ر ےکا 
اققہ امس کر رط ناک اور بھیا اتک تھا؟ ا کا پچھانداز و فاضل دیو بندعلامرسعیدراحداکہرآبادکی کے ان الفاظا سے 
ایا جاسکتا ہے۔ دوککت ہیں: 
”ایرمعاوینے انی زندگی ‏ عی اپے بے زی کے لیے مت خلافت ن ےگ را 
ط رز لوم تکوایبااستوارکرد یآ تک ا لک جفیاد یں قائم ہیں۔اس وت محاب ہش اوران 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 


اأدادیث الموضوعافی فدائل تماوة ]) 4ھ 
کے علاو تا نان می قش الیے افرادموجود ت ےک اگ رحخرت معاو ران ٹل سے مطر تعرکی 
طرع عفرا کا یا حفرت ابو رکی طر حکسی ای کنٹف کا تقافر اک ربطو ریت ان کے 
تن مم خلاف تکی سفغارر لکرجاتے نو بے شبہ دوفساد پیدان ہوتا جو یز یدکوخلیفہ بنانے سے پیا 
ہواءاورٹس کے باعحعت باوشا ہ تیج ایک ناندائی ور ہوک رر گئی ۔غلیطہ کے لفظ می دی 
اقترا رکاملہو بھی شائل تھاءاس لیے ہنوامی نے اس لق بکوت رکنم کیا ن تقیقت بی ےکہ 
خلابت ا ب نتم ہوچگ یی اور ج یی تھا یک ر یب اصطاح سے زیادہ اوررئ وقم ڑل 
رکتاتھا۔ 
امیرمواویہ نے جس ط رح عکوم بج حاص٥‏ لک تھی ءا رح بزیدکی بعت خلافت 
بھی مرن یگنیء جومفرات دل سے ا لکوپپندن لکرتے جھےەا نکویھی بیعت کے لیے پاتحد 
ٹھاداپڑا بلوکیت پاتخھ یحکومتکاسب سےزیادہ برااش می ہوتا ےککوام می تری گگراور 
آ زادگی ہیا نکانخاضہ ہوجا ہے اورق, وخلہاورامقبدادوشددک فرادالی ہو ای ہے۔ ہنوامیشل 
مکی ت کے پیقمام رانیم پاۓ جات تھے 
(مسلمانوں کا عروج وزوال ص٥٥)‏ 
یہاں پیل سید نج رہ ندال اورام ون سد وا مس ونلوکاددقول نظ رکھے جوم اس ےک ال 
کہ یچک ہی ںکہأنہوں نے خودعتں مجاو یلیج لال تقرارد انجمااو ربچ جو رآ یع تک رجگ تی ءاورپچھرانرازہ 
لگا ئے رجش نے خودیھی جنگ وہدال کے ذر بیجککومت عاص لکی اوراپنے ی ےکی بی تکھی جب ردامقبداد 
سے حاص لکر کے نام خلاخ تک اتال ی سن تکوجبرددرات میں تبد بی لکردیاء اس کے بارے می کس پاورکیاجا 
سنا ےک راس کےےتق می ”الم اَل ادا مهدِا اہم به“ کے شتلالفاظ پرہدھاے نیو یکی عد یٹ 
خی رموضوع ہے؟کیاماذ ال ٢یو‏ ں مھا جا سک ےک موصوف کے لے نیک ریم نے جودع فرمائ یی اس 
کے اندددوسرکی بدعات اورست تم کےعلاو خلا تکولوکیت مس بد ےکی طا اتکی دعائھ یی ؟ 


تقر ریز یرٹ جمارےلوکو ںک یک تآف بی 


یز ید دی جس ول عبری اور فجن یکین ی حقرات اورعلاء دلو بن نے جج فماداورسنت شبو نکی تبد گی 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ طا‎ 2131331. 


۸ء 
٣222‏ 20۴2ا 72۷22 یکو ھا تباعخا رق یا کن گنز 
یں ؟ ے۔ چنا خ ام انل سلت ایک مقام پر شیطانی وسوس اود یگ خویش ام سک نت کن یک کوٹ می کھت ہیں٠‏ 

'وسوے :حرت امیرمواد یی اللتوالی عنہ نے اپنے بے یز یکو اشن مرف مایا 

اجوہ برک رنادرستاہیں۔ 
اب : ٹیٹے ٹیٹھے اسلا ھی بھا سیوا لسم 

کاے سس کیونکہ لے خلیض کا دوس ر ےکوا پنانھڑ میس خلیفک رما درست ہے 
چنا نچ ضتی ا یا خا نی رم الہ توالی علی ال وسو ےک یکا فکرتے ہوئے ارشاوغریاتے 
ہیں:خلاف تکی پروی کے چندطرقتقے ہیں۔۔(ا)راے عامہ سے خلیفہ بنا جیے ااوکرصد لی 
شی ال تھاٹی عنرکی خلافت (۴) یپ خلیفہ کے استخاب سے فلافت جی ”رت عمرفار وقی شی 
الیل تھالی نکی خطافت (۳) خزائص اب لعل وعقد کے اسقاب سے خلافت جیے حطر ت عثان بل 
شی الد تھائ یکنا کی خلاقت۔ 
اک پرکور ہو احت رات کی وج ے (حضرت )ام رمواو ہہ (رشی الد تعالی عنہ ) تصور وار ہی تو نی 
امحترئش حفرت اوک رص بی ( ری افتھالی عنہ )نآ گا۔ 

اپے بی ےکواپنا جن نکراک یآیت باحد یٹک رو سےمنو نیل اکریمنوع ہے قودہ 
آ یت اعد یث یٹ کرو ۔آ ج جا طودبریصوفا شا لان انی او لا لود ین اپنا اشن 
بات ہی ںکیاان مشا ا حصوفیارکرا وف حکہو گے؟ 
ون شکداپی اوماوکواپنا ای نکر نامک آ یت وعدی ٹک رو سے ججرمکیں۔ااس سے پل امام 
سن (ریشی الہ تھالی عنہ ) ححضرتتیلی (رضی الہ تعالی عنہ )کے غلیضربن ےت بی ےکا خلیفہ 
نما ححضرت سن ( ری او نھالی عنہ اح و ہوا۔ 

ححضرتے موی ( می )نے دعاک کہ موک میرے بھائی پارون ( اذ کومیراوزے بنا 
دے وَاخجْعَلْ لي وَزِیْرَا َنْ ال مَازون أخي :اُشْذذ یہ أزرِيَ:وَأَشْرِکُه فی 
أُموِيٰ. ترجمه کنزالایمان۔ 0 9 - 0-0ھ0]/ 
کون یو اپھائی پارون اس سے می رمک رمخبو کر اورا سے میرےکام یش ری ککر۔آ پکیا می 


:2131381 اط ۶۲۵۶۵۸۸۵۷ 





8 
دعاتبول ف ما یگئی رب نےآپ پرناراشی تہفرمال یق اینوں کے لیےکوشن کیو ںکرتے ہو۔ 
حضرت سید نازکر انت انے رب الا لین سے فرزمدما گا اورد ھا ک دہ میرابڑٹام را نشی ہو 
بد عاقبول ہوئی ربفر بے اسب لِي مِنْ لَهُنْکَ وَلِیسا يَرتُي وَیَرِث مِن ال 
قب . ترحمہ کنزالایمان: تق شاپ پاس کوک اییادے ڈالل جومیراکام اٹھانےء 


وم راچا خی ہواوراوڑا تقو پکاوارۓ ہو“ 
خی شکہاپنافر زنداپنے بھائی اپ ایل قر اب تکواپنانا ح بکرنانہقرام سے زیکروہ رنہ 
ا سکیکوشش کر ا کی دخ اکر نااخمیاء سے غایت ہے 


(فیضان امیرمعاویہ رضی الله تعالیٰ عنه ص۲۱۹٢٠٢٢٢٢٠٢۲۲)‏ 


امیرائل سن تک یتآ فرب یکا چائزہ 
ال عبارتش پان دلاکی دے ھے ہیں: 
اد میدناادکرصد بی بل کا جضرتگ رو دکوفلیز بنانا 
۴ قرآان وسنت یس بی ےکوخلیضہ بنا نکی ماع تکا یہو 
-۲- صوفیاءمشا رن سای نکا نی ادا وو نشین انا اشن بنانا 
بی ےکا خلغہ فا حخرت سن (ریشی الف تھی عنہ ےجرد ہوا 
۵ انی رکرا مہ السلا مک اپنے لیے اتی ولا ووٹور چان ماسنا 
سے انچ کے پا مچوں دلالی نصرف بےک رتا حگبدت بھی زیادہکنزور ہیں کک ہکتاب وسن تکی رشن 
می مردودد ا بھی ہیں۔ 
ا امیرائی سض تک سب سے ہی دیل ہے: 
”سید الاک رصد یح کا رتگ رج فکوخیز بناع“_ 
یگل اس نی مردودہال ہس ےکسیدن عرجصسید ا یکرصدلبقی ےہ کے ٹیس تھے پان دونوں 
کا مرا بھی ایک نیس تھا۔اول الک ہنوعدری سے تھے ادر ای الذکرہنتم سے چیہ وسوس یااخت را کی وج نے 
کواپتی زندگی می خیفہ جانا ہے۔ گر بھی یادرکھنا چا یک سیداابوکر نہ نے ہہ فیصل جانا لکیا اہ ول 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





سلسلہمی ا نہوں نے مد دا کاب ریا 2 
ایرایل سض کی دوسری دلل ے: 

”قرآن وسنت میں ےکوخلیفہ بنا ےکی مالح ت کات ہوا“'_ 

پل بھی مردددوال ہے+اس لی ےک ماب وسنت مس اماضو ںکولاکی لوگوں کے سروک رن ےنلم ہہ 
اورمعادی نے اپ نال گرا نی دفات ےگ بقل اناد عہھ بنا ےک یکوششی شر ںکردیپھیں ۔ اکر 
مو نشین نےککھا ےکہ انت می نول نے ہیعت بذی کے نی شہروں کے دورےشرو کرد بے تھے او رای 
مقدکی خاطروومککرماورید یدمود ہج یآۓ تھے- 


(تاریخ خلیفةبن خیاط ص٢۲۱۳)‏ 
دود ید منورواو مکی انز میں قذاس مقص کی نما طر۱ن میں 1ے تھےمگرددسرے مقامات پردہ بی 
اس یکل شرو حکر چے تھے کیوکہ بز کو عہد بیانے مس انہوں نے یرہ ین شع کامشور وی قو لکیاتھا 
ویر ہکی وفات*+ میس ہو یی اور کرای مور ہی بدوات مغ وکتا حا تگورنرئی پر با کرد اگیاتھا:ءلہا 
اہر ہےکریمفیردکی وفات شی ۵۰ھ تتکل می مکی دا مدکی کے لے بھ اگ دوڑشرو عکردییی۔لام 
این اش جزرئی نےککھا ہ ےک۵۷ میں لوگوں نے پ: یدکی دی ع بد کی بی تک لی اورأ کی امیر من 
شع ے ہولتی۔ جیکہاماماین اراس کل ہہ ۵ ھی خفیروکی وفات اگ پچ ہیں- 
(الکامل فی التاریخ ج٣‏ ص ۹۷۰۵۹) 
تی امام ای ندال ہر حر ا علیہ نےککھاہے: 
وَکان مُعَاوِيةُ قد أَخارَ بالیَة إلیٰ رید فی عَيَاةَ الْحَسَنِ ء وَعَرٌّض بَا 
وَلکَه لع َکفِقھا وا عَزمَعََيْهَإَِ هد مَوتِ الْحَسَي. 
””محاویہامام نکی کی حیات ممل جیب دی بیع تک رف اشارے اور 
کنا ےکر تے یلیک نأ نہوں نے اس چا ہ تک بر طاایاراو رز مم امام رن ضقبیلدکی شبات 
کےہو یا“ 
(الاستیعاب ج١‏ ص )۲٢٢‏ 


سے بات سےا لکی دک بی ےکر محاو یسید تماما نکی کی شہادت پرفو ہد تے .جیما 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


8ز 
7 2 وھ ہہ وہ 
ہیں۔ امام اجن اش رادرحافظط ای نکر نے اما من کی شادت ۴۹ حم رای سے 
(الکامل فی التاریخ ج٣‏ ص۶۸ ؛البدایة والتھایة ج۸ ص ۳۲) 
جکہمعاو ےکی وفات ٦٦ع‏ پیش ہوئی اس سے معلوم ہواکہ وک از اپنی وفات سے دی ںگیاروسال 
یل ہی یز یدخھی کی یعت کے یےکوشاں ہو سے تے۔ ایمان دانصاف سے بای ےک کیا ل وقت وید پیر 
ےہترلوک موجوڑئیسں تھے؟ اکر تھے اور یق جھےتذ لکن حا کیو کر بلک نف سکوسلمانو ںکی اگ ڈو رتا 
د ینا ق رآن دنت سے دروگردائی یلاو رکیا سے؟ 
ادرک ےک اس ولی عہدرئیکوسیدناا وگ خی کے فرز ندخمال الموششن سینا عبدالرعمان ین ال یکر جا نے 
ھی ط رو قرارد ا تھا جاک تدحو دن وف ربیکرام نے ذکرکیاہے۔ملاحظفرمائے: 
(نفسیرالنسائي ج٢‏ ص۰ ۲۹ حدیث٥٥٥؛السنن‏ الکبری للنسائي ج١١‏ ص ٢١۷‏ حدیث ٦۱۱١٤۲۷‏ 
المستدرك ج٤‏ ص۸۰٣وط:‏ ج٥‏ ص۷۸٦‏ حدییث ۳۰٥۸؛تفسیرابن‏ کثیر ج٤‏ ص۱۷۲ ؛الکافی 
الشاف ص٢٢٣‏ ؛الدرالمنٹور ج۷ ص ٤٤٤‏ وط: ج۱۳١ص‏ ۳۲۸؛فتح القدیرللش و كاني ج٥‏ ص٢۲٦‏ 
فتح البیان للقنوجي ج٢١‏ ص١٦۲؛روح‏ المعاتي ج٤‏ ۱ص۳۲) 
نیزخال الہوین (بشرط جواز )سینا عبدالرحمان بن ای جکریٹدنے اس وٹی عبد کوبت پپددگی کا 
شاخسا زجج یھر ارد یاہے۔ چنا ےن کے الفاط ہیں : 
وَمَا جَغلَهَ مُعَاوِيةإِلَا كرَامَة ول 
”معاو نے می محاط فقط اپنے بے کے وقار کے ےکی سے“ 
(تفسیراین أبيحاشم ج١۱‏ ص٥‏ ۳۲۹؛:تفسیرابن کثیر ج٤‏ ص۱۷۱ ؛الکافی الشاف ص ٢٥۲؛‏ 
تاریخ الخلفاء ص١٥۱)‏ 
اس تی تکوعافظاہ نکر نے وں اد کیا ے 
وَذاک مِنْ شِدة مَحَتَة الال لیم 
”اور یسب پچھوالدکی اپ ولد( بب ) ےشدیگبت کے باع ث تھا 
زالبدایة والٹھایة لاہن کثیر ج۸ص١۱۱)‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طط‎ 2131331. 


اللأحادیث الموضوعۃفی فضائل معاویة مج ا 





ا کال نار کین میں یں ے: 


رمعاہ پاش اپتے ی ےگوا ۶زاز جات ہیں''۔ 
(حادثۂ کربلاکاپس منظرص ۲۸۰) 
علامہاین خلدرو نکتک ن لھا ے 
تکُمْ اض طَبیْغَة الْمُلکِ الانْفراذ بالمجد وَاِسْعلکار الْاحد یم وَلمْ یکن 
لِمُغاوِيَة أےْيَذَفع ڈلک غَنْ تفم وَقؤیہ. 
علا اہ اس نی ند وکی نے ان الا کا تر جم ہو ںکیا ے: 
”رط تک ناصہ بی س ےکآ دی تھمااپنے لیے ال کا طل بگکا ہوا ہے اورائ کو 
بے لی ےتفوظ کنا چا بت اے عحقرت مواویہ کے انخقیارٹس ن تھاکہاس خماصیس ککواپی ذات 
اوراپ یقوم سےا لن کرد ے''۔ 
(مقدمة ابن خلدون ج۱١‏ ص۲۲۸ :المرتضی لندوي‌ص )۲٥١٢‏ 
غرضیکہ ید +ھدی خوائ لفضمائی اتی ءاگرامی اٹل سن تکوا بب یبجھون 1ی ہو دوذ راحافطہ ای نیکییر 
کی در رج ذ یل تھی سفورکر میں و وکھتے ہیں : 
زی کے لیے راہ پھوارکر نے پرسعید جن خثان رن عفان نے معادییکوخا بکیااورالن' 
سے مطال کیااک دہ ی: ریمجا نکومق رکم ی یت کہ ریگ کہ اکرمیرے والد( عثا نف ون کی 
تم پہلڑئی عنا یں ہیں اوران عی عنایقو کی بدو تم انل مرج کو پچ ہوہ اورتم نے بجھ پاپ 
بی ےکومقد نرہ اہے؟ عالائنہ یٹ اپنے مال باب ادراپٹی ذات کےلحاظ سے اس سے >ہترہویں۔ 
اس پر ماد یر نے جا کیاھم نے جوجھ پراپنے پاپ کے اسا نک ذکرکیا ہے ا کا انکا نیس 
کیا جاسکم ءاورتہارے با پکا یز بد کے باپ سے ببزرہونا چھ تق بات سے ءاوڑضہارگی ما کا 
بدکی ماں سے بت ہو ابی فی بات ہ ےکم تماد ما لق شی ہے اور یز یدکی ما ںکلعیہ اوہ 
اس سے مر ہے اورد ترایز ید سےمہ رہون: 
فو الله لُوْمْلِنَتُ إِلي الو رِجَالامنْلک کان يَرِيْه ا٘خبٌ إِليْ ِنكُمْ كَلْکُم 
”تال کی کک رمی ےسا تن ےفو ط(شام یس ایک کہ )کیقمار یش ٹخنصوں سےجھردیاجاے 


۶۲۵٥٥۵۷۱۵۵ لطا‎ 2131991. 


بھی یز ید ان سب سے زیادیکیوب ہوگا'- 
(البدایة والتھایةلابن کثیر ج۸ ص١ )۱۱٦۶١١١‏ 
ان مر لی الفاط م۲ فو رف ما ےکن کے جب میں لی یی خاش ۹ اکرخواہ ٹیو یق رآن جیدے 
خلاف ہے ہکروکہ وڈ نے انا وک راس مالسلا سج ککوا شا وف مایا : 
ا ذاوۂ إِنَا جَعَلَنَاکَ خَلِیْقَة فی الّزْض فَاحْکُم بین الس بالحَق وَلا تع 
”ا داود بے کک ہم نے سے ز شین میں نا بکیانذلوگوں میس سیا مکراورخوا ہش کے تچ 
جا کہ تھے اللرکی را سے ببکاد گی '۔(تر جمه کنزالایمان ) 
(ص:٢٢)‏ 
جب ہے بات حابت ہیٹ یک ماد یکااپے نی کواپٹی زندگی میں ولی مہ دم ر کر ن ےکی سج یکر خواانش 
انی پٹنی تھا برا نکا اق ام سراسرقہآن می کےخلاف ہوا ءکیوکق ربنن می خوائشش سام ےکی اتجاح سے 
اعت کی ے؟ گرا می راو سن تکوا نار ہوکہ یخوا ہت قمالی نی بی ران سےسوال سے ہنس وی حہدکی 
کیاکیل کے لے مواویی نے رشوتی ںکروں د یتھیں تخل کے یز شنیصفات میا کی مہدی اوررشوت'“ 
کاعنوان ماف ماتئیں۔ 
زوس خلاف شرع کا مکی کیل کے لے موصوف نے ما ہکرام ےو کیا لجھی دئ تھی اورکنزب 
بای بھ یک تھی ۔ اس ملس مس مس شا بدا محرث دہلوی رم ال علیراوددوس رے“ھتلد گرا مکی تر یجات 
”نہ یدکی ییصت اتا 1 سان؟ کےعنوان کے جح تکگز رچگی ہیں - 
پز یدگی وٹی دی :خوائل یا سنت؟ 
ہمارےلوگوں نے تو یی اٹل وکی عہ در یکوسنت اخیاء یا ڈالا ہے کن خداکی قدرت د یھ کہ ال 
ھا نے خود یز یدکے با پک ذبان سے ” سو“( خوائش ) نکالخظاصادرکرادیاتھا۔ چناخیمصحب ز بر موق 
۶۳۷ کھت ہیں: ۱ 
وکا معاوَهَقوْلَ: لوا انی فی يَرِيَدَلَأْصَرُث طَريْقئ. 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ جا‎ 2131331. 





”محاو یی کماکرتے :گر یز می کے بارے مس میریی خوائش نہ ہوتی فو انی راو لی“ 
(نسب قریش ص۲۷١؛تاریخ‏ دمشق ج٥۵٦‏ ص۳۹۵) 
”انی راہ دک لیا ےکیام راد ہے؟ اس سے مراد ہے توائش سس ےتفوظاربتااوراعتزال دمیان رو قائم 
رکوکتا۔ اہ کی دی یہ ہ ےکر امام این م اکر کے ال لفظ ظ یق کی ہجاۓ لفظ” قَضدِي“'ے:اورا لکا 
معئی ہے میاضہددیقرآن یرس ےک رحفرت لا نگعم ددانے اپن ےو شی ف اہی ان میں 
اکفححت بنگگی: 
وَاقِة فی مُشْيک۔(اقمان:۱۹) 
”اورمیاشہپال گل ۔[تر جمہ کنزالایمان] 
مال بین فیروزڈ اد کھت ہیں: 
الْقَصة:اِسِْقَامَة الطَرِيْق...وَضڈ الإفْراط. 
”قد سئی ہے :سیر راو اور اف را کی ضد ہے“ 
(القاموس المحیط ص۱۳۲۸) 
علامہ بلاذری نے ذاےالطا ١ل‏ سیے ہی ںکںسیتشر کی عاجت ینیس درپتی ۔ دوولکھت ہی نک امیرشام 
نے پوت وفات ایک مکل مروان من ان کوک تھا: 
ولا هَوَاي فی يَرِيدَلَأْضَرْث رُخْدِيٌ. 
”اگ رموری خوائٹ لآ ڑےشآنی تو یش زی کے معالل ہیں ہداب تک تا 
(أنساب الأشراف للبلاذري ج٥‏ ص )۳٣‏ 
یادرہےکہ یہ جملہایک طول روایت سے ایاگ یاسے اور کی سند مہ کلام ہے ۔علامہابن جرگ دیرہ 
کےنزدیک دو روا یت قا ئل قبوٹل ہے۔ سو جولوک اس سے استند لا لکر تے ہیں ووخودسو بی سک موصو فکوآن کے 
لت یکر ید پایدک عبت ن ےکہاں پنپادا؟ھ ولا تع اَی فَیِضِلَک عنْ سَْلِ اللد4 
۳۔ ‏ یرایل سن تک یتس ری ول ے: 
”سوا ءم تار سای نکا اتی اولا لنشین اپنا چان بناج“ _ 
جناب والاصوقیہ؛مشا ا اورسلاشین کیل سے ش رمع نیس خی اوس بھی ہے صونی نے بھی بھی 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ ا‎ 2131331. 


دوسرےائگل لوگوں پت تی دتے ہدئے اپنی اولا وکوخلی نی بنا یااو اگ رسی نام فا یصوثی نے ای اکیا وق قین أس 
کا راد ام عدرل کےمنائی ہون کی وج سے مردودد اٹل ہے_ 
تر رت 
”ےکا یف ہنا حرت تن( دن الال مہ اےشر دو 
جناب دالا: اگ رامی ال سن بھی مغالطہآفررتی سےکام یں وخ با اٹل سن تکی را نما یکو نکھرے 
گا یبال بات ہودکیا ےکی پاپ اپے بی ےکوخلیفہ ہے“ بنا ازخودین جائۓ باعوام سے شتقبکر یی ىہ 
زم پٹ یی ۔سدناعی ایک نے تلع پنے بی ےکوخلیننٹ ہناپاتھا بجی انیس درخو اس ک گت یقکرکس یکو 
اپ زندگی م اپنا خلیغ ہم ررفرماجانیں و درخواست کے باوجودیی ا نہوں نے صاف انیارفمادیاتھ۔ چنانچایام 
اتحاوردوس ےو شی نکرا مککصت ہیں: 
” عبدالل جن کن لہ با نکرتے ہیں :یش نے سیدنائی لق کو یان فر مات ہوۓے 
سنا: خنتقریب ضمرورمیرکی یہ ڈاشھی می ےس کے نون کے ہوگی۔لوگوں نے مت کیا :امیر 
المنین! ہیں اس بنرے کےثتحل یآ اف یں ہم أ سکیس لکویھی مناد یی کے فرماا: پر 
تم میرے نرقائ لک کرد گے۔ 
لوا سَْخْلِف عَلَیْنَا. قال :لا ء لکن اْرَکُكُمْ لی مَاتَرَككُم إلَیهِ 
رَسُوْلُ الله 84 فالُوْا ما نول لرَبَک إِذا انَیْتَة ؟ وقال رَكیغ مَرَة : بِذَالفيتَا ؛ 
قمال: افو : لم تََكتَييْ ِْهم نا بدالک ء لم قتطتِيإِلیک وَأئك فََهم ء 
ان نٹ أصْلَعُمْرَإِن نٹ ندم 
”یں نے عو کی آپ ہم لیف مق رف ماد یی فرما یں این می نہیں اس 
ذات کے سپ ردکرتا ہوں جس کے سپ ہیں رسول اللہ عق ن ےکیاتھا۔أ نہوں نے عوت کیا :تو 
ُلرج بآپ اپنے رب کے سور جا ہیں ےت کیاجواب دی گے؟فر بای کن کرو ںگا: 
اے القان نے جھے ُن یس ج ب کک چا تھا ارت نے جھے اپنے پاس جلا لیا اد کی ذات 
نم موجودرجی۔ یں تربی مخ ت کرت انیس سنواردے انیس گاڑپر رپ دے'۔ 


(مسندأحمد بتحقیق الأرنؤط ج٢‏ ص ٥٤٤ صو١۰۷۸ثیدح۳۲ ٣‏ حدیث ١٣۱۳؛مسنداً‏ 
.2131331 لطا ۶۲۵۹۵۵۸۵١‏ 


۱ پل آلاحادیت المرصوعدفی فدائل معاوید 
یعلی ج١‏ ص٤٤٤‏ حدیث۹۰٥ءوص ۲۸٤٢‏ حدیث ٣٣۳)؛مسندالیزار‏ ج٣‏ ص ۹۳۰۹۲ حدیث ۸۷۱؛ 
ےوتف لاسن أبي شییةڑمحمدعوامة]ج٠‏ ٭ص۹٦٦ء٦٦حدیث‏ ۳۸۲۵۳ءوج٢٢‏ ص٢۱۷‏ 
حدیث۳۸۵۷۹؛کشف الأستارعن زوائدالبزار ج٣ص ٣٢۰٠٢٢٢ ٢‏ حدیث۲ ۲۰۷ ؛أُمیرالمؤمنین 
الحسن بن علي للصلابي ص۱۹۱) 
امیرائگل نت صاحب اج بآپ خودتی امیرائل نت ہیقب رآپ انیقی یٹ ف ای بن سماء 
ای سن یئ براعتا وف نہیں ۔ جناب دالائجی و ونیم الاصت ہیں جنہوں نے انی ددتتابوں یں رسول الد 
پا ےکس یبھی سان ےکوخال الم تی نکہناممنو قرارویااورج بن علقاء کے دفاع می س کنا بکییے ٹیٹھ نز 
اس وت تی منور بات چان ہو ۔کیاد بات داری اورخداخوئی ا یکوچ ہیں؟؟ 
خداوندا ترےسادودل بند ےکم جال 
کرددو یی بھی عیارکی ہے :سلطالی بھی عیا ری ! 
(بالی جبریل ص۳۷) 
لف کی بات یہ ےک رامیرائل سن تم جا نکرٹس با تکوسنتہ ایا ا کر ن ےکس نامطکور میں 
مشفول ہیں سی با تکومعاو ین ابوسفیان کے ہپوتے معاد بن یز دن گنا در ارد ورای نے اپ باپ 
پزیداوراپے دادامعادیردفو ںکواپنی اق قبرہ گنا ہو ںکی وجہ سےگ رفا رکہاتھا۔ چنا نچ ال نے الگ انگ اپنے 
پاپ اورداداکے لیے رالفاظ استعال سے ہیں : 
فَصَار فِي قرو رَمِينَا بذُوّبهِ 
فذوہاپ اتہر رٹ اپ ےگناہوں کے ساتگرقیار ہے“ 
(الصواعق المحرقةص ٤‏ ۲۲ءوط:ص٣٠٤٦حیاۃ‏ الحیوان ج١‏ ص )۲٢٢٢۲٢٢‏ 
نا جائمزدفا شی مت مار یکن 
۵ یرایل تک پانچو ی دلیل ے: 
فیا رکر امہ الا کا ے لیے انی اوا وو اشن گن“ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


دیاۓ استدرلالی کے ہنی لوگو! وش وخروکوحا ضر رکوکر نیل اخ ہک يگکرو۔سیدنا موی نے جودعا ای 
تی اس می نو نے اپنی زندگی میں اپنے لیے دز ( ہو جاٹھانے والا ما گا تھا۔أ غہوں نے اپنے وصال کے 
بعد اش نیس مان تھا۔بھر! نہوں نے بیردعا اس وقت ماگ تھی جب ان کےساتج ہکوئ بھی دوس شس اون 
حددگازئیل تھا ء دوش ن تھا تھے نس وق ت کک ا نہوں ‏ ۓکوئ نے خر ما تھی ءتہا نک یکوئی امتتتی اورنہ دی 
انی سکوئ یکا بک یی ۔ انی فنوی ٹل سے بی اس رانک لک یآ زادی کے ےکا جار ہا تھا ُنہوں نے اپ 
یی ایک معاون ماک لیا تھا کی یک مقول وج بھی بارگاہ لی میں مر ضکیتی۔ دہ یک ہکن می انگارہ 
زان پردکدد ین ےکی وج سےا نکی ز بان سبارک مس پوکنتی ؟ گی اس لے نہوں نے مر سکیا تھا: 

وَُجیْ ارُزن هُز فُضخ من لِسَا اه تی رِذأبُصَدقيِيْأُحاف أنْبُ 

ودرا پھائی ہارون ا لک ز بان بھھ سے ز یاد صاف ہنا سے مر عدد کے لیے رسول بنا 

کہم رک تعدب کرےء شھے ڈر دہ ٹھج میں گے (القصص:٣۳]‏ 

تا ےا نہوں نے اپنی گی می اپنے لے مددگا رگ تایااپنے بحداپنا اشن مان ھا؟اگرآ پہیں 
کہاپنے بعد نشی کے لیےما نات رآ پ "ا عليٰ انت می بمَللَة تار من موس “دک کی تا ول 
ہیں گے؟ ا می ال نت صا حب !جب سیدنا موی پییڈانے اچے لیے اپنے بھ یکولو روز مرو ددگارم زگ ھت 
اس وت أُن کا ز بیت بافہکوئی دو شی ناجیہ یز ید پلیدکوس وقت ز بردتی ول عجد ایاج تھا ال 
وقت أ نل خیش سے لاکھوں مرن اخ اوصوجود تھے _ 

اسی ضرع سیدنازک ایی کی دماکے الفاظ سےبھی نا ہر ےکم أ خی سکوئی ایا لان آ دی میس ریس تھا جھ 
ن کا اود بت اسرائُ لککاوارث با نکی دعاکے الفاظ جو جناب ناف سیے ہیں یہ ہیں : 

فهَبْ لِيٴ مِن لک وَِيّا. برثی رٹ من ال يغقُوّبَ. 

”تیج اپے پاس ےکوی اییادےڈال جومی راکام اٹھانے ٠وہ‏ میرا نشین ہواوراولا تقورب 





ون 


کاوارث ہو ۔[مریم:٦]‏ 

7 ہیں ون سے کس ۶ اع 7 کے رھ 

اک رکا جا ےکی اس وقت دوسرے لال نو بھی موجود جھگ را غہوں نے اپنے خو نکا ھی رشدار 
ہی مر کی کی ا خ ٠‏ رز 
ا تھا نبا یک وا اک سینا کر پا ن بھی رت دار کےطور پر اما لگا اورسیدنا موی لی نے بی رت وار 


کےطور پر بھائی ما کات بر شی لوگ ںکارونا عو اط قر ار پا ےگا کیونکرسید نمی اق تصرف کی رخ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


پک الأحادیث الموضوعذفی فضائل معاو ےا 


دای یش ن یریم ا کے بھائی تھے بکددہ مواجات کےلحاط بھی دخیاوآخرت سآ پ کے بھائی تے۔ نیز 
کین ےآ فو نبوت می لآ نے اورداماد نے ےکی وعہ سے بی کی ماخندیی تےسعَالكُمْ كَیْف تَحُْکُمُوْن؟ 
ممععین سن تکون ‏ خلغاءراشد بن یامعاوے؟ 

اکر ا نآ یا تکوآپ کےاستندلالی کےمطا اق اہر پررکھا جا ےچ رسوال پیدا ہوا ےکس سنت اخیاء 
پہفلفا ار ہہ ول ےکیوں زی لکیا کی ا ق رآ ن بھی 7اا ولگ رای ق آ نکی انی توچ را نہوں نے 
تق رآن ید سے عمدروگ روا یکیو ںک؟ ھالائندوہ چاروں تحقرات صاحب اولاد اوران س بک الا دن ے 
دصالل کے وقت عاقل وبا خی اوری ید پپیر ےبھی ہی ہآ خر نہوں نے انی ءکرا مالسلا مکی سنت سے 
کیوں منموڑا؟ نیزخود یکریم ا نے انم ءکرا مہم السلام کے اس ط یق پ لکیوں نہفر ایاج ہآ پکو 
قرآن یمیس مکراف ما گیا ےکآ پ ا نکی راہ چلو۔ چنا یسور 7ا نعا مآ ی تل ر۴ ۹۰۸یس (ے٣]‏ انا گرام 
یم السلا مک وکرکیاگیااہے :تن می حضرت موی دزکر یلہا اسلام کے نا بھی ہیں :رف مااہے : 

الیک الَذِیْنْ دی الله بد هُم اَی 

”نمی ہیں ج نکوالہ نے برای کیم انی سکی راد چو( ال نعام: 0 

مفمری کرام نے ا سآ یت کےق ھا ےک انم رکرا مہم السلا مک یکو ای خو یی جن سکون یک رم 
ٹم نے اپنایا نہ ہو از سو نکر لا ےک اک را نمیا رکرا مہ السلا مکی دای اور میقی مھ یی کیا حضور 
اکم شی نے اس پگ لکیااورک نکی طرح دعا ماگ ؟اگرجواب اشبات می ہو تا جے دہ دعاقول ہل یی ل؟ 
اک کہا جائۓے یتو لیچیس ہوئی تو درخ ذ یگ حد یٹک یگ یب +وث ے: 

كُلتِيبعَابُ وَفي رِواَة: مُججاب. 

گید اقول ول جا 
(المستدرك للحاکم ج١‏ ص٣۳حدیث۱۰۹‏ وج٢‏ ص ۳۷٣٥‏ حدیث٦۳۹۹ءوج٤‏ ص۸۹ حدیث 
٤‏ ؛تحفقة الأخیاربترتیب شرح مشکل الأثار ج٦‏ ص١ ٠٥‏ حدیث ٣١۹‏ ؛مشکاة المصابیح 
ص۳۸حدیث۱۰۹) 


اوراگ رکہا جا ےک دعا اگ یبھ یگئی ا ورقو لبھی ہوئی قچھرسوال پیداہوگا کس کےتن می قبدل ہوک ءاور 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 


جس کےجی ہیں قبول ہوئی ا سے ن یکریم ا نے انی زندگی میں نام زوف رک رواش کیوں نف مادیا؟ اگ رسحابہ 
کرام پہدعا اکا د1 مصداؤیٹٹش وا تا رسقی مس عد وٹ پت پنگرارکی فو ہ تکیو ںآ تی؟ 
اتجاغ یس مقد کون ہآ قالط یاسا انی شی اسلام؟ 

یہاں ایک سوال بیکھی پیداہوتا ےک محادیہ نے اپ نی( کی سنت پرکیوں نگ لکیا؟ جب 
ہوارے ب یک ریم سیدالاخمیاء ول مرن لن اتی انشنی کے کے بٹام یا ورش ھی جو کی ماد وامادواور 
دوسری مت ہستہو ںکوا نی ز نرگی می انا خلیفہ ام زدفمایا تق آ خرکیا جبودر یھ یکہمحادمہ نے نی الانمیاء ال کی 
سنت سے روگردال یکرت ہو ہے بنی اسان کے انی وکرا مہم السلا مکی سن تکواپنالیا؟ہمارے لیے اتا یل 
مقدنم امام الا نمیا ء ول رین سد الا گی نٹ رسول للہا ہیں پاسابقہا نمیا رک رام مہم السلام؟ جکوش وش نے انی 
کر حم ارشادغ مار سے ہیں: 

َالّذِيٌ تقَِي دہ لن مُوسیٰ کان حَي ما وَبعَة لن يََِيي. 

”اس ذا تک تم ایس کے قرضہ قررت مس میریی جان ہے :اگ ر موی ایق زندہ ہو 2 

نیش میرک اتا سے فیرکوئی جار کارن+وت“'- 
(مسنداحمدج٣ص‏ ۳۳۸۰۳۸۷وط:[شاکر] ج٢١‏ ص٥۸٦٦۸حدیث٤‏ ۰۹٥۱ء‏ وج١١‏ ص٥٠٥٠‏ 
حدیث١١٤٥۱؛مسندأبي‏ یعلیٰ جح٤‏ ص١۰٠‏ حدیث ٢٤٣١۲؛شرح‏ السنةج١ص ٢۲۷۰‏ حدیٹ 
٦‏ کشف الأستار ج١‏ ص۷۸ء ۷۹ حدیث ۱۲١‏ جامع بیان العلم وفضله ج٢‏ ص ۸۰۱۰۸۰۵ 
حدیث۹۷٢۱؛مجمع‏ الزوائدج۱١ص۱۷۳ءوج۸ص‏ ٢٢٦۲وط:بتحقیق‏ حسین سلیم أسدج٢ص‏ 
٦‏ حدیث ۸۱۸۰۸۱۷؛إرواغ الغلیل لللباني ج٦ص٣‏ ٣حدیث )۱٥۸۹‏ 

اک ادرحدیٹ کے 

لی نَفَسيْ بٔدم لز أشنع فنکم زمی ثم نو تر لَسَللمٍ 

”اس ذا کشم ینس کے قبض: فدرت مج میرک جان ہے : اگر موی متا بتہارے 

درمیا نآ جائیں اورق جھے چو زکرآُ نکی یبرو کر نےکلو دک یگمراجی کے مب ہوچا گ٠‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ہت 

پیقک امتوں یں تم می را حصہہواوریوں میس سے می ل تمہ راحصہہول'- 
(مسندأحمد ج٣ص٤۷٣‏ حدیث۸۰۸٥۱؛المصنف‏ اعبدالرزاق ج٦ص۳١۱حدیث ٦۱٤۱٦٢‏ 
الجامع لشعب الایمان ج۷ ص ۱۷۰ء۱۷۱ حدیث ۸۳٣‏ ؛مجمع الزوائدج ۱١ص٣٤۱۷‏ ءوط: ج١‏ 
ص٤٤٣حدیث۸۱۰‏ وط: ج٢‏ ص۷٦۲٢۸٦۲حدیث۸۱۹؛جامع‏ بیان العلم وفضله ج٢‏ ص 
۵۶۵ ۸ حدیث١ ١٣٤‏ ؛إرواغ الغلیل للأألباني ج٦‏ ص ۳۷حدیث )۱٥۸۹‏ 

اس سے معلوم ہواکہامیرائل نت کے استد لال کے مطابق ان کے مرو سابق داجیا مک را مہ السلا مکی 
سن تکواپاکرامامال خمیاء ملف کی سنت سے روگردانی کے م رککب ہو ئے۔ 

یہاں ىہ بات ذ نشین ر ےک سور الا تہ یں اْعام بات ہستو لکی راہ پہ چک کی دعاسکھا یگئی ے٠‏ 
اورامیا کرام ہم السلام انام یافت لیقات می مرفہرست ہیں کن تام انی رکرا مہم للا مکااصول می دن 
ایک ےگ رشرلیتیں س بک جداجداہیں :ایک کہا جاسکناکہمعاودی نے یذ یدکی دی ہدک شی سابقہانیاءگرام 
مالسلا مکی سنت پک لک کے اتھام یافۃاستیو کی یرد کی ہے۔ 
اتا امیا ء ماق رآن ے روگروا ی ؟ 

ال سے ایک اور با تجھ یی ہے٠‏ وہ کہ امیرابیل سفت کے محدوع (امرشام سے دووجوہ ےت رآن 
ریم متروک میا 
ا۔ الا سر حکک یق ھکآن می دا ۶م ےکرسول الد نی ت یں جود یی أ سے نےگوء اور چوک رسول الد 
لد نے ای سنت وسر کی صورت یس بی رٹل عطاف ما اک ہآپ نےسیپچھی ٹف سکوانا اشن نام ز نل 
مایا انام اٹل سنت کے محدوع نے امام الاخیاء والم رین خ ا کی سنت سے منرموڈکردرتقیق تق رآن ہیر 
سےروگردال کی ے۔ 
۴۔ خانآااس طر حک رن یک رم شڈ نے خلغا داش بین یٹ کی سن تکوائل اسلام پر لا مقر مایا ہے اورامی رائل 
سنت کےمدوح نے غلفاارابعہ کی سنت سے روگ روا یکر کے بیک وقت ارشاویوئی نپ اورق رآن می ردونوں 
سے روگردائی کی ہے۔اس بات ات یطرح نے کے سے یہاں اگ رامام شانقی رق ال علی ‏ کے ایک اتد لا یکو 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


"لآ 
رنظررکھا جا ےتذمناسب ہوگا اما م یی اورامام را زئی رم کہا کھت ہیں : 
”امام شا فی رح ا علیہ نے ایک مرجبہ دوک فرما اقم نس چچنز کے بارے می چاہو 
جھ سے پپچیوہ میں ہیں ق رآن سے عاب تکردو ںا الوگوں ن کہ :اترام مکی حالت می لپ 
(زنورہ ون )کومارنا جاننز ہے؟ فرماازہاں ۔أغہوں نے عت کیا :میڈ ران شی لکہاں ہے؟ فرمایا: 
ران ی آیاے:هازما ناکم السول فعْذوْۂم(انحشر :)اورسول الد پوپ نے 
فر مایا سے :رم مییرے بعدا ہوک ورڈ دی اق اکر ءاورسد نا عمرئ نے عالممتد اترام می لپ کو 
مرن کاجھرف مایا ے۔ 
(ملخصا:السٹن الکبری للبیھقي ج٥‏ ص ۲۱۲ وط: ج٥‏ ص۷٣٤۳‏ حدیث٥ ٣٠٦ ۰٥‏ ٦۱۰۰۵ء‏ 
۷ اقب الشافعی للبیھقي ج١‏ ص ٣٣۳؛مناقب‏ الشافعي للرازي ص ٤٤‏ ٤٤٤٣۳!؛الاتقان‏ 
للسیوطي ص۱۹۰۸) 
خووقرآن یرک نس سے خابت ہ ےک مہا جم ین داصار کے بعدایمان لانے وانے تام لوگوں پے 
ہاج ین دانصا ری اع شرط ہے :یی اک سور ات کی آبیت [ ۱۰١‏ میس فرع ہے ۔تمام خلفاء راشدبین پ 
مہا جر تے اورآن کے وصال سے پیل ان کے سا نے ا نکی عاقل و ہلغ اولا دموج ھی رآنہوں نے ان میں سے 
کس یکوا پا نشین مق نی فر ما یاءلہزا من طما رکا اپ خوییشالڑ ےکوانی زندی یس انی عبد اود نشین مقر 
کر ق ران سدت نیدی نوف اورخلغا ‏ راشد ین کی سن ت کی ص ر0 خلاف ورزئی ہے۔خیالی رہ ےک فا بگھ 
خر یب پریجٹراس مت ثکالناکیوکہجھھ سے پیٹ اکا لا ہکرام امی شا مکوتا رک کاب وسنت تقر ار دے جچے 
ہیں لی اک اع ی:قارکی وغی رہ ہتفصیل کے لیے ہار ےرسالہ ”حدیث :الاک می طاحطفرمائمیں۔ 
اچاب نتیاضاد؟ 
یہاں میگ خیال ر ےکرجس ناما نوک ہد یکوامی اب نت نے سد انیاؤ ہملس کہ ماراہ ایکوش 
عبدان محرث دبلوی رم اد علیہ نے فسا کہا سے اورشلن شس صحا ہہ نے اس وی عبدری کے لیے راہ جموارک تی 
انیس فسادیکھاہے۔د یھن ا نک یکتاب "اضاقت بسالشتَة فی لام الس کناب لہ علارد بن کے 
تر جمہ کے ساتھ من کے ماہ وسالی' کے نام سے شائع ہو ہے۔اس کے ابتائی صفحیات میس ما ونم ارام 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


کے واقیات کےشعن می یتر موجود ہے ۔ یش صفیات میں 'عفیرہ بن شعبہ سے ما ول“ رشوت “کے 
عنوان ک ےت بی میا قتا أئ لکیاجاچکاے- 
اتا ریسفت یا منالم ایمان؟ 

امیہ ال سزت نے بس ظاماندولیعہ دی یکوسدت ایا تر اردرے ڈالاء د دق رکی خلا ف ش ریت وو ی ےکی 
تین امیرشام نے ا لکوخود پر مز یدشدیدکرلیتھا۔ دو ا طر عکہآنہوں نے سید نا مام تس نکڑکی ط9 کے 
ساتق ای کہ کی معاہد ہک کےا خروی لحاظ سے اہ ےآ پکومز ید پنسالیا تھا۔ أس معاہدو نٹ دوسرکی شتوں کے 
ساتھاییشن بییگگی: 

ھا ما صَائع عَلیْه الْحَسَیْ بن عليٍ ہل مُعَاوَة بن أبيْ سُفانَ ء ضَالۂ لی ان 

سم ره وِاَة ملین علیٰ ا مل فِْھم بکتاب الله َال وَسنّرَمُرلِ 

اللہ فلا وَِمْرَۃ لق الاحِیین الهَدنَ ‏ زلیس لِفعاریة یی مان ان 

هد إلیٰ اد مَْ فدہ عَهُذاء تل کون المْريِنْبَهدم شُوْری بین الُلميْنَ. 

”نام ہے نس بین بن ٹیڈ نے معاد ین ابوسغیان کے سات کیا ےہا نہوں نے 

ال بات پان کے کی ےکہوہمسلافو ںکیعلومتۂ ٹیس سونپ دیں گےء اس شر رط پگردہ 

ملمانوں می سکاب لی ؛سحتت نبوئی اور ہدایت بافتۃ غطا را شی نکی سیرت کے مطاب گل 

کر یں گے,اورمعادم من ابوسفیا نکوبہ اخقیا رٹل ہوگاکہ دو سی سے اپنے بعد دی ہد کا 

متاہ روک یں بکہیمعاللہان کے بحدمسلمافو ںک یکس شورکی یس نے ہوگا''۔ 

(الصواعق المحرقةص۳۹۹۰۳۹۸ءوط:ص ۳۹۹) 

اس عبارت میس اکر فقت اتا کو ہو کہ ماد ےکن الوسفیا نکتاب دستت اورخلفطاءراشمد بی نکی سرت کے 
طا نگ لکر میں مت بھی محادیہ پرلازم ہوک دواپنی ذ ندگی مس اپن یی ےکوا نیع دمترر زگ یں ہکونگہ 
خطاءراشد بن میں ےکی ن بھی ا ہنی اوا وکواناو کی یی بنیاتھکن انس ععبارت و بآ عدوالفاظشائل 
بی گے ہی ںکردو اپ بعدسی ےکوئی معاہ نی سکرمی ک ےجکرافسو کیا ہوں نے انی دفات ےگ میک انل 
اپنے بی ےکی ول عبد کی ریعت لیا شرو عکرد ھی ۔ یں دداقاعدہ ای ککھے ہوۓ محاہر کت رک مامت 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


خلاف تکوناال کے سپ ردکرنے اورعمدنینی دوفو ںگناہہوں کے مرککب ہے تے۔اب مر خلاءق سے دہ یافت 
فرا و ےک معاہریکونڑ نے کےےتحلقی جوویداتی شرع کی ہیں ا نک طلاقی تمام مسلمافوں پریکماں ہوتا ہے یاکوئی 
طبقداورفر دن سے شف بھی ہے؟ مل ایک حد یث بل ہے: 
ا إِنمانَ ِمَیْ لا أََانَةَلَه ولا دِينْ ِمَنْ لا هد له 
”وپ ابیمان داریش جات دارنیس اوروود ہن دارکنل جووقا وا“ 
(صحیح ابن حبان ج١‏ ص٢ ٣٢٤٤٤٤‏ حدیث٤‏ ۱۹ ؛الجامع الصغیر حدیث )۹٦۸۵‏ 
ایک اورحدبیث !لن الفاظ ےبھیآکی ے: 
آيَهُ لاق قلاث:إِذا دث کَذّبَ مَوَإِذَا وَغد أخْلَفَ ءوَإِذَا امن حا 
”مناف کی تن نشاہیاں ہیں :جب بام تکرے لو جھوٹ بونے جب وعد ءکر ےتانس کے 
خلا فک ےاورجبأ سے اماضت دک جا ےو خیاضت کر ۓ '- 
(بخاري ص ١١‏ حدیث۳۳) 
یسل یس میالفا شی میں : 
َإِ ضَامَ صلی رَرْعَم أنهُئُلم 
”اکر چردوروز ےر کے نما زپڑ ھاورخوووسلرا نے“ 
(صحیح مسلم ص٤۷٣‏ حدیث۱۰۹١۰١۱؛مشکاة‏ المصابیح ج١‏ ص٣۳٢‏ حدیث٥٤)‏ 
قارکی کرام ا من خلا رق سے ضرورمعلوم بی گابنکن ےک سی عال مق سے ا یٹس کے انتا کا 
حوالیل جاۓے جس نے سیدالانمیاء خ ‏ کی اق ای نماز نی ہو ہآ پکاز باج اق ے ”صَیغ الله ِمَنْ 
تاب وادرجاب ٹل ”بَا لک الْحمْذُکہاہء_ 
ھی مناصب ا لاضتوالہے؟ 
حکومت کے مناصب دوارت ال ہیں ینان مفت یم شف عانی صاحب نے سور7النسا یآ یت پان 
لن یئم أئ مزا الات لی مك ہہ(۸ہ) ای رکرتے ہد قائمکیاے۔ال کے بعدانہوں 
نے پیکنوانقائ مکیااہے :”نی منصب خی رای لکویٹھانے والا حون ہے ۔ ھا ے: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ر۰ ‪ ََ 
وی لیت ت والا سب شرا زی کا جم عکوئی نہ لے نو موجودولوگوں شی ققابلیت اوراماشت داری 
کے انار سے جوسب سے زیادہ فاکئی ہوا کو نک دی جائے ۔ ایک عدیث بی رسو لک رم 
کاارشاد ےک رج نٹ کوعا ممسلدانو ںکیکوئی ذمہ دای سپرد یکقی ہراس ن ےکوی 
عہد میٹ کو دؤی جع کی م میس فیا بیتہمعلوم سے ہو دے دیس پرالریاحعنت 
ہے نأ سکافزضمتقبول ہے نل :یہ ںک کک وا]نم مم دائل ہوجائے۔ 
روایات میس ہ ےک ہج رٹ ن ےکوئی عہد ینس کے سر کیا حا لان اس کے 
علم میس تھاکہدد را آدنی اس عبدہ کے لیے اس سے زیادہ قائل ورای ہے تال نے انلدکی 
خیاضتکی اوررسول ا کی اورسبملمانو کی 
(معارف القرآن للعثماني ج٢‏ ص٤١٤٤٤٤٤٥)‏ 
مفتی صاح بکراخ لکردواحاد یٹ سے صھاپی کوٹ بھی مسلدان ضف ہو مل بگکر بر یلوی کے امیرایل 
سنت سے بالیس اوردوسرےتمام مکاح ب اکر کےعلماء سے لو مگنازشی ہ ےک دہ انثا ےآ گاوضرور 
فرراتیں! 
کیادویز ید ےلت وی ردسے پت رحے؟ 
”کی دجد یدن ناکما امت یزید پل یتر یہو سا لنٹ دم عبد ہنانے پردفا ا معاو یی کے 
ہی ںکأس وقت ان پرج:یدکافق دفو رعیاںکئں تاس یے یں مور والرا مك کہ رایاجاجا۔ ا۲ ن ماع اصت 
سے پ چھاجا ۓےکیکیا اس وقت ا نمی ییمعلو ق ھا نکا با اس وقت کے تما ال اسلام سے یاد لی اورال 
تہ ا نیس یلو تو اأس دوری شُن کے بی سے یادواو لکویہخف بھی موجو کی تھا؟ ذرافورفر ما مفتی 
مشفی علانی صاح بک پیٹ فرمودہ دوسری حدبیٹ میں ہےک”جھ ننس نےکوئی عہد وس یٹس کے سپ ردکیا 
حعالاکک اس ک ےلم یس تھاکہ دوسراآ دش ا ںعبدہ کے لے اس سے یاد *قاٹل اورابی یذ ال نے ال رکی خیاضت 
کی اوررسول مکی اورسب یم لاو ںکی “اگ رانیش زی سے زیادوا ڈنف سکا مک توااو بھی نہوں نے 
زی دکواقارسونپ دیاقوومدااللہ خہرسول اوق مف اور وشن کے خائن ہوۓ او اگ نی میس اھر 
سوال پدا ہوا ےک أ یس سیدناا حم سن ہسید اہن عباس سید ای نعمراورمیز با“ دنا ابا وب انصاری جا 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لجا‎ 2131331. 


۱ 0" 
دخی ری ایے ال حعفرا کیوں دنک رآ ۓ؟ 
ای کرام !تید وسطورمیں اس سوا لکاجواب خوڑحنض وکا ۓ مموکی کی اڑسی رر ے معلوم ہو 
جات ۓگاس میس دوا نکادفا حر ت ےکر تے فرع تک رھئے۔ 


لم فی رس دوفوں کے مرو 
قارٗی نکرام !جیب بات ہ ےک ایک طرف جس خیش رو وی عہدکی اور جبری خلاف تکوہمارے امم 
ای سشت اوخ نما وامتءسختدانمیا ءقراردننے پر مے ہوئۓ ہیں دوسری طرف أُسی جا تکو خی رسلم اق ام 
انان یش مفیدجحتی ہیں اور ای وعہ سے دو متا یکوا پان اور ہیردیھت ہیں۔ا ن کم نا ےک رما ین 
ہو تے رک الام اورک بی ت گیل جانی ۔ چنا یم کے جو رت بین عا لم لا جج رشید ضا رصن الیل عل یککعت ہیں : 
وھ وسر و تی الْمْسلمیْن وَفِيْهِم أحَد شُرَقَاءِ 





. نا أئ تیم َال الذّخب لِمعَاِيَة بن اي فان فی فَيْدان 
نذا من عَاصِمَیا رمَزْلین) قَیْلَ لَه لِماذًا ؛ فا لن هُو الوِي عَوّل بََامَ الحُکم 
الإضّلامي غَنْ قَایذیہ الدیمَقَرَالطيَةإِلی غضبمة العلبِ ؛ وَلَؤلا ذلِک عم 
الإمّلامُ الم كُلَهء وَلک تی اللمان وَمَائز شُغوْبَ اُورْنا غربا مین 
”جن کےٹچض اابریروفسرز نے عثا مت کے دارا للا فی سپ ابل اسلام کہا اور 
ان یش پی ش رفا ءم بھی موجود تھے :میس ای کہم اپ ٹل ون کےفلاں چوک میس 
محاد یبن ابو فیا نکائجسمہقائ مک یں۔ُن سے پپو چھا گیا کیوں؟ ا نہوں ن ےکہا :اس لی کہ 
وین ہیں جنہوں نے خلاطت الام کے ظا مکا رخ جھہور یت سےخلہعصببی تک طرف موڑ ا 
تا اوداگردہ نہ ہو تے رد تے ز لن پراسلا کیل جاجا اور ہم جن اور پورپ کے تام قال 
عربمصلمان ہو ہے“ 
(تفسیرالمنارء ج١‏ (ص٢٢۲)‏ 
حالی عی میں شی علاء مریراہن سیاست سآ نے ہیں اور نکانترہ ےک اسلام ج بتک کت رنہ ہوا 
اتل ہین سے پ ھا جا ۓےکراسلام وت سے اتا راس نے تھا؟ انیس معلوم ہونا چا یکل ای نے اجارا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


تھا سکاطرزسیاست لوپ کے کی ر7 سو ںکواورکر پٹ :سس افو کو کک برارپندے۔ 
تیب بات ہےکہ ہا رے کک پاک می نف ٹک ران عقاد کے اط سے مولائی ر ہے میں رآ نہوں نے 
وم مولا تی طرز یی سکی مو ای نے ج سط رز پک ریف مائ یی اس می سی ناب لآ دی یک گناک تی 
اورتہت کہ پرورییککاتقصورتھاء جس خطافت راشمدہ کے اخام کے بعد سے لن ےک رآ نک( ما شا ءال )انی 
مسل تی چل ربی ہیں جسلم فی رسفم س بکوپہندہیں۔ہاں ارسی خی سم پاکر یف سلل لیڈ رک نیک 
کوئی اکا معن سذ وو خلاشت راشد ہکی رز کاب وسنتکانظام ہے۔ جیہاں سےشھی الیے نظا مک یآ داز بن ہو 
خی رسلم اورکر یٹ مسلمان یک ہوک را کک وازکودبانے کے ل یےکرربستہ ہوجاتے ہیں - بچجودے دلاکردہآواز 
دب جائے ہاور ہگلادہانے اورابدئی خینرسلانے می بھ یکوئی دی کی جائی ۔اگرا یی آواز لد نہ ہو بچھر 
اوکھوں تکیاکروڑوں عالمول ‏ صوفوں ہماز یں اورھا تو ںکی عبادت شبات اور یل جلوسوں سے انیس بج 
فر نیس پڑت کر پ فک ران ای پچواضتصوفیراور ہکا علا رکاپ سی دڑبوں یس پا لے ہیں اورجب 
ضردرت پواتی ہیں قوہ را لکرآن سے اپ ےن مم چوں چو ںکرا لیے ہیں ۔آاۓ روز جمارے دور ک ےکر پٹ 
ران جوصونی از مکاراگ الاپچتے رت ہیں اس می بھی ُ نکی مہ یجس تکا رف ماہے۔ دوسرکی طرف علماء سوء 
اورنام نہ سو فیہایے بیو پاری تھرافوں کےتصیرے پڑت رہجے ہیں اوراپے پبی کی دص تکود بین اسلا مکی 
خفدمت تقصورکرتے ہوۓ ان کے لے سیپ رر جے ہیں ۔ا بی ہی یی علام وی کے پارے می ٹک راسلام 
رم اش علی نے فرمایاتھا 
ویرت کی اعت یں ے توت بازہ 
بل طیں کچھ مم یں معلل خر داد 
مل کو جھ سے بند مم ہدے گا ابازت 
اراں ہے تا ے 1- الام ہے آزاہ 
(ضرب کلیم ص٣٣٣٦۳)‏ 
امیا سنت کے محدو کے نز دی کبھی نمازی اورشب زط و دارلوگمعخڑٹیس تیگ رآ نہیں دولوک ہرگز 
پنڈس تھے جوا نکی ملوکیت کے لے خطرہ تے۔ چنا می نت طدقاء نے تو ڑا تا ہأنہوں نے جنیں اس لیے 
یں بر پاکی ںک یلیگ از دروزو اور دڈکااداکر یی چگیاس لیے پپالا لک قتزارحاص٥‏ لکیاجا کے :جیماک ہم 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 


اس تل با ان لکر بے ہیں۔ 
نوا م کاوصیت ہی مو کی دعجیاں اڑانا 

ان لوگوں نے مصرف یکس نت نو یکوتپ دب لکیا بسن تک مخالشتکرتے ہوم فر مان یی طف کے 
ای ےھ چنا ماد مداشلینٹورسمد “نی رت یم خرن لج“ ئن 
ہی سککیہیں: 

وع دک فَقَابل بُو اي یم ذو الْحقْرُقِبالَخَالفةَوَالْقزقِ ءلسفگُڑا 

بن ال الْْتِ وِقَاء هُمْ وَمَبُوْا نِسَاء هُم َأمَرُْا مِغَارَّهُم وَعَرَبُوا دارم 

رَحَحَدوَا ضْرَفهُمْ وَفَضْلهُم وَِسَتَخُْا مَبْهُمْ وَلَمَهُمْءَحَالفُو النشعی 

صلی الله علیہ وآله وسلم ِئ وَصییہ وَفَبَلة بَقیٔضِ مَفصودو وَأمیَیہء 

قوَاحَجَلَهُمْإِذا وَتَقُوْابَيَْيديه ء وی فَضِيْحَنْهُمَوْميُرَصُوْنَ عَلیْوٍ 

”رف مان کے باوجود امیر نے مقابلکیاءان کےےشیتقوقی کے بلس نے اورنافر مال یکی۔ 

ہیں أنہوں نے ئل بی تکرا مہم السلا مکاخون بہایاءآ نکی خوا تن اوربپچو ںکوقیرکیاءن کے 

گھرو کب کین ک شرف فضیلتکانکارکیااورن پرست دشتم ادن تکومبا حکیا۔ھ 

أنہوں ملف پک کی وع تک خخا پش تکی اورآپ کے تصوداورآرز کے خلا فکیا ٹیل 

دوس ل خلت کاسا من اکر میں کے ج بآپ نر کے سا سن ےکٹرے ہوں کے او کت سوا 

ہوں کے ج بآ پ کے ات یی کے جامیں گے 








(فیض القدیر شرح الجامع الصغیر ج٣‏ ص ١١‏ حدیث٣٢٦۲)‏ 
فو ںکرجن لوگوں نے فرامین نوہ کو تصرف بک رفر امو لکردیا ہن فراشن کے نگ سکیا 


تقرر یپوٹ امام این تج رگ یکی تادیلات 
علامہائین جرگ ایک طو یل روابیت ‏ ہے جملدلا ے ہی ںکسامیرشام ٹےکہا: 
لا موا فی یرد لََبضَرّث قَصْدِئ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





”اگ بیز یھ کے بارے میں می ؟ بی خوائش نہہوثی تو یس راواعترال دک لت“ ت 
(تطھیرالجنان ص۹۲؛مختصر تطھیرالجتان ص ۸۰) 
مولا ج عبداشنک وی نے اس تچ کات جم یو ںکیاے: 
”گر یز کےساتھ مشعبت نہ وی نتم میرے انصا فک یکیفیت د بج“ 
(مناقب سیدناامیرمعاویه لہ ءترجمه تطھیرالجنان ص٥٦)‏ 
صولوئ یش مباہرعطا رکی نے ال ج] ےکا ت جمہ بیو ںکیاے: 
”گر یز ید کے پارے میں میری خوایش نہوثی نوم را تصرفرو رجواہ'۔ 
(شانِ حضرت امیر معاویەخثچہ ءترجمه تطھیرالجنان ص۹۰) 
اول الذکرت جھیکواگر درس تتیضلی مکیاجاے فو اس سے ہہ بات دا ہولی کہ چوکمہ جھے یز ید ےحبت 
ہے ءا نہیں میرے انصا فک یکیفیت یھ ےکویڑس ل ےکی ؛اورانی ال کرت ج کامفبو طالف دا تربین سے 
کہ بیز ید ے مب تکی وجہ سے میا قد ایل اندھاہے۔ علا مدان تجرگی نے ال یل لک نشرک مس جوا بترائی 
افا ظط کے ہیں ان سے می مطلب دا می تا ہے۔ یہاں؟م ا نکیل عبارت علا یع بدالکو ھتوی کے تج کے 
ساتحن می اق لکرر ہے ہیں۔ دوک ہیں 
وَقَوْله : وَلَوْا هَوَايٰ... الخ فیْہ َاَةُ اْسْجِیْلِ لی نَقُيم بأئ مَريْ 
مَعیّیم لْرِیٔة ء مث عَلَيه طَرِیق الھدی ء وَأَوَب لاس بََذۂمَع ڈلک 
الْفَایسق المَارقِ في الرِدی ؛ لْكِْ فضَاء اِنْعَْمْ وَقَدراِرَمَ فَسَلبَ عَقْلَه 
الْکَامِل ء وَعلْمۂ الشَامِل ء وَفَقَاء ۂ الِّيَ کان یرب بو امک ء وَزیْنَلَهُمِنْ 
يَرِيْد عُسْیالْعَمَلِ ء زعَتم لان جرف وَالْعلل .کل ڈلک لِمَا أَفْرَإِليْهِ 
الصاق الْمَصْدوْقٰ 8 من أنَّه : إِذا ار اللَهُرثُ رو سَلَبَ دُوي الْقُزْلِ 
غَفُوْلهُمْ ء خی قد مَا اُرَا٥َه‏ تال ء فُمعاوِيَُمَمدُوْر ِيْمَا وَقَع مه لِْْ 7 
مُت عِنْدۂ تس یہ ء بل کا يَِيڈ یس علی أيیهمَْبُحَيَْهخالةء عَنی 
اغتَفَد نہ ای مِن اَبَاءِبَقية أولادِ الصّحَابَة كُلَهِمْ ءلَقَدَمَة عَلَيْهمْ تُصَرَحاً 
پیلک الأولَوٍئةء اي تَحيْلهَ مِمَنْ سُلط عَليیْه یه لهء وَاِخْتَارَة لاس 


2131391۸ لاطا ۶۲۵۹۵۲۸۵۷ 
















اکا الفحادیث الموضوعتف فسائل مماوا م) 
نوہ وَلو لت عِنَْۂ اڈنی در و 
وَکُل ذلک ذَلث علیہ ذہ الْكلِمة الْجَایعَة المَاعَة رَجِيٰ َو : وَوّلاهَوَايي 
فِي يَزٍْ اُبصَرث قَصْدِئ ء فامُلْ ذلک لْحئط مِنۂ بمَا دكَزنَهء وفع لک 
بَابَ مَا بَقَي فی گلایہ مِن الإشَارَاتِ وَإلا غَُارَاتِ ء وَاللَهُ سُبْحَاَة الهادِي إِلی 
سَواء سیل وَنَسْأهاُنْ لا يرین نا ما نگؤن سب للاهُجراف عَنْ سَُي الْرْمَانِ 
وَالدِیْلِ. ۱ 

”حضرت معاد یکا بیکہناکہ اکر بزید سے شےمحبت نہ ہوتی..... برخوددہ اپن کو 
ارام د ےر سے ہی سکہ بز یدگ عحبت نے بہت صاف بافو کو جھ پرتا ری ککردیا ورای وجہ سے 
اس فاس نابکارکخلا تی :ٹس سے لوگ ہلت میں پڑ ےکم بی ایک اھ رمقدور ہو چک تھاء 
اییدہےا نل لکائل اورا نکا عم شال سلب ہوگیااورا نکی اصابت رائے جوضرب ال 
تھی انی ری اور ی: ےکی طرف سےا نک زان پداہواادرا لکوقام برائوں ے اک صاف 
کولیا۔ حد ین شریف می آیا ےکہ جب اللہ تال ان اکوگ یکا مکرنا چا ہتا ےن بڑ ےعتل 
ہنرو ںک یگل زائل ہوجائی ہے اور جوخداچاہتا سے دہ پوراہوجاتا سے ۔ لی یزید کےتحلی 
حضرت مواویہ سے جو کک داع ہوا اس می حضرت معاو رمع در موہ ییڑ لکول برانَی 
رت معاو کے نز یک ماب تن ہہوگی۔ بد نے بہت سے لوک اپ ود کے پا خائل 
ا یکام کے لیے مقر سے ھےکدہبیز بد کے مہ عامات ان سے بیا نک میی۔ ای وج سے 
جحضرت معا وین یز دکودوسرے “ما ہہ کے بیٹوں سے ال کھت تے ال ہوں نے بن یوکوسب 
تی کی اوروگوں نے جو :دی خلاقت سے ناپیند کی اجکی نکی و ود ی ہت 
ےک بیز یدفاس سے بلک ہے تےکہ یز ید سے لوکو ںکوصد ہے۔ عحضرت محاوی کے نز د یک 
زیریس ذرہ برابرگھ ی كت پک یکو یناہ خابت ہو جا نوہ ہرگز یز کوغلیف ت تے ۔حفرت 
معادریرنے یہ بات ایگ انی جائ ہما کہ کال سے تام قد ےعل ہو گے مت 
کلام شی بہت سے اشھارات باقی ہیں ۔الشتھاٹی را راس تکی بای تک نے والاے او رم1 


۶۲٥۰۵۵٥۹ 4 13139٥ 


سے د اکر تے ہی ںکہائمی با نو ںکوہمارے ولوں مل م وب شکرےبجن کےصبب سےچهم راہ 
رات سےہہٹ ج ایی“ 
(تطھیرالجنان واللسان ص٣‏ ۹۰۹؛ومختصرتطھیرالجنان ۸۳۰۸۲) 

ہا دکلا مکی کی بے سی 

نو ںکہ ا کلام کےآ خرس جوعلامدائن تجرگی رعمع العلیہ نے دعا کی ہے دو دعاخودآن کےیجن مل 
قول یں ہوئی کوک ہا نکا سار الام حقاکتی کےخلاف ہے۔ پر چندکہ ووشفیم عالم :فتیراو یرٹ یلکن ان 
سے اس مستل بی الما ہوناتی ھا ینہ اہول نے کاب ایک بادشا 'ہمایوں اکب رسلطان الہن کی خوابنل پہ 
لکھی اوروو ال تا بکا پیک رن ےکی نحاط رم وو روایات اور پل تاو یلا ت بیس تکاسہارا لت رے۔ 

ارس صاح بکویرا رہ اگوا سو بود باہو انیل چا یک دن مقامات می تورفراسیں جن پر 
بم نےکی تچ کی ہے۔ ہم با جاری ان مقابات ہفوک تے ہیں اورالیعم دانصاف سے ان می وروگ 
کمرن ےکی الک تے ہیں ءلگر جار یکو یگذ اش درست ون قیول فرمایے ور نہد لال کے س ات روکرناہ رای ککا 
ے۔ ١‏ 


و 02ر 8 بھی تا ل درحت؟ 
1۔ ُنخاشربااں سے کی بات دہ ےج سکوامیرشام نے ان الفاظ مس اداکیا: 

لوا مَوَاي فی یرد لَابصَرْث قَصْدِيٰ. 

٠‏ اگری بد کے پارے میس می ری خوابش نہ ہوتی ت یں راواعتترال دک لت“ 

یں وت ضکرتاہو ںکہ جب امی شا خو داحتا فکرد ہے می کہ بیز ید کے مواملہ یش دو خوا ہت کا کارہو 
ےا یہ بات ا لت ری کس ے ہوئی ؟ تق رآن وسنت ‏ ”نھوی “(خوائش پک پیرو کی رص ت کی ہے تک 
تض احادیث می ا لکومنای ا یما نچی رما گیا ہے۔ چناغچیححخر تعبداوندی ن ردان جیا نکر تے ہی ںکرسول 
ال ٹپل نے فرمایا: 

”تم می سےکوئی نس اس وق کک مز نیس ہاج بتک را سک خواپشل اس چز ے 


۶٣۵۰۵۳٠۵۵ ۷ط‎ 2131331. 





جائع ضہہوجاۓ سے میں لایا“۔ 
(شرح السنةج١ص ١٣١‏ حدیث٤‏ ۱۰ کتاب السنة لابن أبي عاصم ص ١١حدیث١١؛تاریخ‏ 
بغدادج٥ص۱۳۳؛مختصر‏ الحجة لأبی الفتح المقدسی ص ٣١٣‏ حدیث ٢٢‏ ؛ کتاب الأر بعین 
البلدانیةلأبي طاہرالسلفي ص ۱۷۷؛جامع العلوم والحکم لابن رجب ج۲ ص۳۹۳ وط:ص 
٤ء‏ مشکاة حدیث۷٦ا‏ ؛التعیین في شرح الأربعین للطوفي ص۳۳۱) 

ایک اورحعد یٹ ش ریف مس ارشادنیوکی ما ے: 

قلاث مُھُلکاٹ :وی مُميَم وَشُخ ماع وَإِغجَاب الْمَزُو بتلیہ 

”نشین نہیں ہلا ککرنے والی ہیں :ودخو اش ج٘ کی چب رو یکی جاۓ کنل جح سکی اطاعح تکی 

جا اورنودرپنری“_ 

(صحیح الجامع الصغیرللألباني ج١‏ ص٥۸٣٦‏ حدیث ۰۳۹ ۳؛ضیاء القرآن ج٥‏ ص۸۷٥)‏ 

تق رآن بی سورۃالناز عا تک یآیت +۱۱۳ کات جم اور فور پڑ ےگ رخودفیصل سک علامدائن 
جرگ کے در بالاککا مک یکیاحیثیت ہے؟ نز گی ذہن نشین رہ کرش خوائت کی ابن گی کے دوج نے 
پیر و یکی ا ںکاتمان فتط ‏ نکی ذات کک محروی تھا نہ وہ متعدیی فسادھااور ہے ۔ اس با تکوخوعلامہ 
موصوف ن ےپھیاسلی کیا ہے جی اکن کےکلام کے تر جھ یآ پ میا لطاظ مھ کے ہیں: 

”نی دک معحبیت نے بہت صاف باف ںکوھ پہتاری کک دیا اورائی وجہ سے اس اس اکا رکا 

خلاف تی ءٹنس سے لوک ہلت میس پڑے“۔ 

پا چتاہوں مض طلقا مکی دہ اون خواہش جس کےاشراتجب سے ا بک سلمل جاری ٹیل ءکیا 
سیکا دفا ]کر کاب وسنت اعم ے؟ 
دکیپ بناج یکرخرا حطلب! 
2 ان خلکشیدہ ہاقوں ٹش سے دوسرک بات یرے: 
”یز یدک عبت نے بہتصاف بات لکیجھ پتا ریگ دیا 

ورای وجہ سے اسل فالق نا پکارکوخلافتٹی'_ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





خورفرماۓے اصرف'صاف بات" رت ھی موصوف ہیاک دی ۔اگر 
اککشراف ٤ن‏ میس معالل ہراس قد رتا ریک ہوجاے نے ق ران وسض کی زبان می ا سکونظ یں بک ایر کا فصور 
رما ایا ہے۔ ایک عد شش ریف ٹل ے: 

یس الّغمی مَْ می بَضَرٰةء نَم الاغمی مَنْ تی بَصِيْرَنَّةهٍ 

”و دا اتی جم سکی میں ان یھی ہوں راندھا نوہ ےنم سکی پصیرت انی ہو“ 
(نوادرالاصول ج۱ص۳۷۱ءوج٦ص ۱٥۷‏ حدیث ۱۳۸۷؛شعب الایمان ٦‏ ھ8(" 
لشعب الایمان ج۲ ص ٠٠٥۰٦۹۹‏ حدیث ۴۰۹ا ؛الدرالمنٹور ج٦‏ ص٦٦‏ وط: ج١۰١ص ٤٠٥‏ 
الجامع الصغیر حدیث )۷۵٥٢۹‏ 

میق تکوق رآن مجیرٹش یوں میان فا یاگیاے: 

تھا لا نمی اضر ولک تَعمی الوب الي فی الصُدُوْر 

”عقیقت یی ےک جھھیں انی ہوتی جن سینوں یش جودل ہیں دواند ہت ہوجاتے ہیں''- 


(الحج٤٤٥)‏ 
جب خواہشا ‏ تکی پر وک می ول اند تھے ہوجا ت ہی ں انان کل کم کے پاوجوداندھا ہو چا تا ہے۔ 


چنانارشادباری تال ے: 
افرائٹ می تُعَذإَِيَۂ مَوَاۂ وَاصْله الله علی لم وَعَم لی سنہ 
َقله َجَعَل علی بضره غِفَاوَةفمْ تھی ین مد الله اقلامَدکرُوئ. 
۱ ' ہل روٹس نے اتی خوائ کوا ا خداھرالیاا دشر نے سے پا و یلم کے 
گرا وکیا اورال کےکان اورول پرعہ ردگادی اور پک یھو پر پردو ڈای دیا :اٹہ کے بعد 
کون ا سے راووکھا ۓق کیا تم دھیا نکش لکرتے“-[تر جمة: کنزالایمان] 





(الجائیة:۲۳) 
جی قلپ بنا رن لکل می طرحع داع ہوجا جا ےج سطرع کک کے سان ےآ خاب۔ نا خر عطا این 
روز ین کھت یں: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





ٍ تقلب( جات کویوں متا ےت طر7 اب ہے 


(إغاثة اللهفان ج١‏ ص ۸۰) 


ایک اورمقام پرعلامہ وف قلب بین ای شان | کھت ہیں: 
ِذَ فَوِي نُوْرٰه وَإِشْرَاف اِنکضفث لم صوَز الُمَفْونَاتِ وَعَقَابقھا علی مَاجِي 
”جب د لک نوراور ا لکی نک تو کی ہو جاے قو اس پرمعلوما کی صورتیں اور نکی یق 
یں شف ہومبائی ہیی اکددہ ہو یں“ 
(إغاثة اللھفان ج۱ص۲۱) 
ای تیخق تک ول بھی میا نکیاگیاے 
مل زدہ و یزار ہو>ْْٴ رح 
بندے کو عطا رت ہیں جم گریں اور 
اعال و ىقات پر مقف سے وی بی 
ہر فظد سے سالک کا زاں اود میاں اور 
(باِ جبریل ص۱۳۳) 
سوقا تر میٹ دو ہوا ےج سکاقلب اتا وک أس پا ں کان ودرد وسر لکاد گی اورُ خر دی 
وع وضررانی ال صورت یس یوں داع ہوجا ےجنس طرع ہک کے سات ا قاب :او رض نٹ تادل ا تدع ہو 
تقد ”ا ئل تھی فیس ہو کیوک ول کااندحای نہک کے اند ھے ین سے زیاددمھنر ہت ہے۔ چنا علا مہ این تم 
الجوزیخل یککھصت ہیں: 
فَالْفَلبْ يَرىا نَم رََغمی وَبصِمء وَعَمَاۂ وَصَمَم ۂاَبلغِنْ عئی الَصَر 
وَصمَمه۔ 
”نس لب دک بھی سے اورسختا بھی رانرھا بجی بہوتا ہے اور ہراچھی راو ںادان اور 
اکن اھ کان تھے پل او کال کے بہرے پن سے یاددٹعنر ہو تا ے'۔ 


(مدارج السالکین لابن قیم ج٦‏ ص )۳٤٣٣‏ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


ض۵ 
اب ایل فی نی آیاتءاعاد یبد ہباوراقو ا لکویس اوردوس رک طرف علام رای نجرگی کے ان 
الخا ریس جوا نہوں نے اپنے حدوع کےجن مس ہوں ادا سے ہیں 
با مرِيْ مَحَبیه لِيرِيْد ء انم عَليه طَریق الْهُدی ۔ 
'ححی یز یدکیبحبت نے بہتصاف افو کون پہتاریکگردیا''۔ 
اور ان الفاظگوےگی: 
فَسَلَبَ عَقْله الْكابلٔ ء وَعِلْمۂ الشَابلُ ء وَفَقَاء ٤‏ اذِيٰ کان يُضرَبُ باعل 


نہیں : نکیکقل کال اویل شال سلب وکیا درا نکی اصابت راۓ جوضرب اش ھی جائی ری" 





اور زی نال سک علامہ این ججرگی اپنے مرو وموصو فک فحضیلت اب ت کرد ہے ہیں ءا نکادفا ےکر 


ر ہے ہیں یاالطاُن کے خلا فنجوت سیا رر ہے ہیں؟ 

عحبت اندعا۲رد ا سے 

3۔ ان خلکشیدہباقوں میس سےتسرک بات ہیر ے: 

”سی وج سےا نک یق ل کال ودرا نکاعم شال سلب ہوگیااورا نکی اصابت راۓے 

جویضرب اش تھی جاتی رجی اور یز بدکی طرف سے ا نکوکننن پدا ہوااورال لکوتمام برائوں 
سے پاک صا فبگویا''۔ 
پیل ا کلام کو ار بار ہے یع بلردرج ذ یل حد یت می مو رفا یے۔ارشاونیوی مک ے: 
کسی چ تل( حد سےزیادد )چا ہنا انداادرببراکردتا ج“- 


(سنن بی داودج٥‏ ص۲۱۸ حدیث )٢١١٥٢‏ 


بچروہاں ایک عبت نئیں پک ہک متس جع ہوئیجہیں: ما لک عحبتہ جا وجلا لک محبت :اپ ہی خاندان 


(نوامے )ئس اقزا رک لس لکعبت اوراولریعبت۔ لا أموَالکم وأؤل تم نچ تا مت دہ 
ہیں تن کا سور الو بک یآ یتہر ہائیش ذکر ہے ۔جب بی ار یتس تع وی مت سو کی بصیرت 
سلب ہوگئی اوران ےق رآن وسنت اورخاغا ہراشد ین یکا أ سووسب پت روک ہوگیا- 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لجا‎ 2131331. 





سم لس لیا ا 


وسر ٢ے‏ مر ا مم دا 
نف زیکابانہ 
4. ان خکشیدہ انوس یش سے شی بات ہرے: 
”حد یٹ ریف مآ یا ےکہ جب الطدتھالی اپناکوئ یکا مکنا چابتاے و بڑ ےتقل مندو ںکی 
صن زائل ہچائی ہاو جوخدا اتا دہ ہر ہو جا تاے“- 
ال لغملے میں گی بات ہہ ہ ےک علامہائن جرگ رح ار علیہ سے صب دستور نا چا ئحزوفارم ٹس رفا 
خی ہوئی کہ نہوں نے اپتی با توم۶ وکا نے کے لے جوعد ےیل لک ہے دہ م وو ذڈعی ہے۔اس حدیٹ 
کوامام قضاگی نے رواب تکیاے۔ 
(مسند الشھاب ج٢‏ ص٣٣۳حدیٹث۸١٣۱)‏ 
انس شی ایک راد جھ جن سعیدال دب ہے۔امامذببی نےکھاہے: 
”ما لکوس جاننا اور ایک مگ روایت لا پاےء ھی روا تأخ لک کے ف رمیا یآفت 
مدب نے خودیا اس کے نے ڈڑھائی ہے'۔ 


میزان الاعتدال ج٦‏ ص )۳۲٣‏ 
حافظڈائ نج رم سقلای ن بھی اس با تکومق رر رکھا ے- 


(لسان المیزان ج۷ ص٤۸۲٥)‏ 
امام یوٹی رت اللعلیہ نے سس حدی کودیٹی سے روای تکاس اوراس پرکوئ جھ میس _گایا ان اام 
مناوئی اورلفی ھا بین اساعیل صندانی ےککھاہے: 
الله َو بی اکب بن رب مَْرؤَک کُذاب ء گان الاؤلیٰ عَذقة من الْكَاب۔ 
”ا سکی نی سعبین اک من قرب متردک اورمھوٹا ہے ؛ ال حدیٹکاکتاب سے عذزف 


ونام زاس ب ھا 


(فییض القدیرج١‏ ص ۷٦۲ء۸٦۲‏ حدیث٤٠ ٤‏ ؛التنویرفي شرح الجامع الصغیرللأمیرالصنعاني ج١‏ 
ص٤١٤ ٥٥٤٤٥‏ حدیث٤٤٥)‏ 


اکر روا تچ بھی ہوئی نچ بھی اما ن جرگ کے اتندلال پر چندسوالات واردہوے: 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





ا لت ےو کے لیے کی ہیں یاد تا کر کے 
تام اہن اقدامات اور ال شی کر نے والے دوسرے بادشاہوں اور باقیلوگوں کے ل بھی ہیں؟ 

٢۔‏ انا کرلک رتا یلات سب کے لیے ہیں بچرانسان کے مکلف وختارہو ن کاکیامطلب ہے ہکتاب 
وسنت کے ناززل ون کاکیافائتدہ سے اوراوام وو اد یکاکیا مقر ہے؟ علامہہاقال رتمتۃ اش علیہ ن ےکیا ہی خوب 


فرااک 

اق لیے ەہ اضق ٌا؟ 

رپ مط مففل ہیں بے مر ید 

اک ۲ن میں س پر بل بل ے ےی 

سے بس کم مٹقلد بھی خوق. ھی سر 

فظی ہے پل جات وادات 

ہین لد سام لی کا سے پا 

(ضربِ کلیم ص٦٦‏ ءکلیاتِ اقبال اردوص٥٥٥)‏ 

۳۔ جا کہ جناب معاو کی دفات ۶٤ھ‏ می ہوئی روہ پیا ہجرئی ےک لی ط لیقوں سے اور ای 
ججرکی کے بتدشی الاعلان حدت یز مد کے لی ےکوشاں ہو گے تھے کیا نک یق لکائل اویل شال سلسل و سال 
سے زان ص تکس ب۶ پا؟ 
۳ رابعآ کہا ہوں نے یز یدگی وی عہدکی کے لشوس دیں ہی اکہ ہم اسنادحستہ او رجیعہ سے غاب تک 
جچےے ہیں سکیا١‏ تماما موریھی ان کےےلم شال او ریت پکائل کےسلب ہو سان کی وب سےسرزدہوتے رے؟ 
ول مرو ںکاگگراءز بردستتاشا! 
۵ ناسآ یک اگ اس موضوع دی کواورعلا ماب نچ رشن ی کی ہ ال تا و لکی۱لی مک رلیاجاۓ و نصرف یہک 
پان کےا موتف سےکمرائی سے بلگ ا نکی بی لکردہ دوسرکی موضوع صدیٹ ےھ یگ اتی سے :او رھ ان 
دونوں موضوع حد یو ںکاکر و ددتقزبروں کےکگرا کی شکل اتی رکر جا ما ہے۔د کے ؟1 ہے!بہ عاجزتعیل 
لکرہاے: 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





علامہمخصوف کےنزد یک وضو حدمث ”اللْهُمْ اْعلۂ هادِیا مَهُدِیا“ 7 ہے۔أنہوں نے 
حد یٹیأئ لک کے کہا ےک راگ رمحاویہ اس لاکتی نہہوتے تن یکریم مان کے لے دعا یکیو ںکرتے ؟ چناغجہ 
وہ لیج ئیں: 


قَمَأَمُلْ هٰذا الدُعَاءَ مِنَ السا المصْنُرْقِر بقل ء وآ اذعَِمَۂ تیم لَايِيْمَا 





هٰذًا الدُغماء لِمٰعَاوِیَةء فُجَعَلَه هَاِي لاس مَهُدب فی تفم ء وَمَنْ جَمَعَلَهَبَیْنَ 
مَدَیْن المَرْتَتَیْي ء یق بتَعَمْلفْه ما تَفُولَه لیم المْطِلون وَرَصْمَۂ بہ 
الْمُعَابدُوم ء مقاذ الله لایدعُو رَسُولْ اللہ 8 پھدا الدُغاء الْجابع لِععَالٰی 
انی وَالآخِرَةء المازع لِکُلِ َقُِ + نَسَبَتةِلَيه الطَاِفَةالْمَارِفَةالْمَاجِرَةُإِللِمَنْ 
لم 8 انال لِذٰلِک ء خَقِيْق بِمَا مُنالک. 

فان لت : ھذان اللفْطُانِ 5 اْيي مَادِیا مُهُدِيا_ مَُرَاِفَانِ أْلازِمَان, 
لم عم اَی ال بَيهَمَ ؟ قُلّٹ : یس بَيمَهمَ تراذت لا تلازم رن النْسَان 
َذ کون تيب فی فی ءوَلاَكسَدِيغْرَبہ...فجْلِ هذا لب 88 
لِمُعَاوبَة عَيَاَةِ مَاتیْنِ الْسرتَيَِِْ ال کون مَهي یق ادا 
لاس ء وَذالُا لَهُمْ لی مَعالی الخْلاق وَالَعَمَالِ۔ 

” آپ صادق دمصدوق اَل کی اس دعاش فو رکر یہ بلاش بآ پکی دعایں امت 
کے یتوص آپ کےما ہہ کے ییےمقبول ہیں مردوڈکیس و ان جانفیں گ ےکہالل تا نے 
رسول اللہ کی بی دعامعاد یہ کے میں قبول فر مکی تو نی شلوگو کو ہرابی تکر نے والا اور 
فی سم ہدایت یا بنادیا۔اوراللتعالی ج نٹ کے لے بیدفوں م رہ ےت فرمادے تال 
کے بارے میں دہ خیالا تکیوگردرست ہو سکت ہیں جون کےخلاف پل پرست لوگ بناۓے 
اورمعا ند ین ان ےطسو بکرتے ہیں؟ معاذ انشد۔رسول الہ ای دعاجودجیاوآخرتکی 
فففیالو کو جامع ہواور برا یش شک مان ہوجو بے د بین دفا جرلوگ ا نکی طف فضبد تےکر تے 
ہیں ہیں گی گر رٹ کے لے جس کے بارے جآپ خر یلم وک دواس دعا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 








کال اوشگی فی مق دارے۔ 
ارم موک دونوںلفظ 'ھادي “اور ”مد ي “ماوق اورتلا زمامی ہیں چھر 

حضور دم نے انیس شع کیوں فرمادیا؟ می کت ہوں :ون دوخول کے درمیا نکوئَ تر اوف اور 
علازمیس ےکوی انان خودہدایت ماف ہوتا ہکن دوس ےا سی سے ہدام تال 
پاتے ایی وددوسرد کو ہدای تےکرنے وال وت ہے اورخد ایت بافی نیس ہوتا۔ پل ای وج 
سےآپ نپَلونے معادمہ کے لے بر دوفو پیل الق درم رجے اکٹ مانگک لے اک دہخو دی 
ہدایت ىافہ ہوں اورلوگو ںکوجھی ہراىی کر نے وانے ہوں اورا نیس بلنداخلاق اورا مال حتہ 





پأبھارنے والنے ہوں''۔ 
(تطھیرالجنان ص ٦۰۰٦٤‏ ءومترجم تطھیرالجنان للمفتي عبد الشکورلکھنوي ص ۲۷) 
تار کرام ےگنازش ہےکردہ ا کلام ین دو باوں بش می قوف بای جن برعلا م 
این گج ری ےزیارەزورداے۔ 
کل بات تیوک نیکم تا دعاا گت میا نٹ کے لے تھےجس کے بارے مج ںآ پکعلوم ہوتا 
ادوس دعا کاائل او تن ہے۔ یہ جملخود وس با کی دلیل ہےکیآپ فا کی ڈھا اس بن ےکی نے 
کے مطابی ہوگی مکیونکہ ایک تذ آپ انی خوائش ےکلاس نل فرماتے تے اورددس ا آپ پر ای امت کے 
احوا لبھی مکش فکررے مے جےاورجیس ری بات بک اللہ تاٹی نے جودھاقبو یں فرماناہو تی ا سے ا جن 
سے پیل یئن فرباد تا :اذ قول علامدای جرگ اکر بی عاقبول ہوَی و نل کے مطا نی بللہ لی ںکہتازیادہ 
مناسب سے کرس کی مم جس ط رح الا نوضدی نا صادر ہو گے دىی ال کی ری نگئی_ 
درک بات یک علاائن جرگ نے لف اد ی “اور مد يی “رارف کی بجٹ پیر یں 
با کو ہنپشأ نکران ےک یمکپیشن لک ہ ےک جب معاویہ کے ش می دعاہوفی وہ لا زم بیک وقت حادگ اور 
مہدی دوفو رپضیاتوں کے عائل ہو گے اود ہرآ شش سے منزہ وبراء ہو گے جو نکی طرف منسوب کے جاتے 
یں۔ 
ا بآپ پل ال دعا شع تثر ا خورفر ما یے ربز ید پید ک نتر کے وقت معاوب پر جوصاف باتٹل 
جا ریگ ہیں اور نعل شائل او یق کائ سلب موی جم سکوخودعلامہموصوف نے ہی بیا ن فر مایا ہےء می فور 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


8 و ق تی جا 
شادرت امش عق فسائز وید ا 


[شت ات لغم 





کرتے ہوے خوویی انصاف ذرما بے اور کا ملوکیت سےبھی ہی ےکس وقت تضوراکرم ٹپل کی اس 
جائئ دا د ھا تبولی تکہا ںگاتی؟ آن سے پاچ ےک جبتم خودی: خی تکوفاسق مار( بے دی )تلم 
کررے بواورمعاو ال کےکتقر رکا فاح لبھی ان ر سے ہول بچھریک وقت پادکی اورہدی ہونااوراےآقرر 
کافئل وناج ب ان پرراوہدایتہتارکک ہی بآ خر ون دوفوں پان ںکانتا حکیوگینکن ے؟ 
اکر وہ بی ںک تق یڑ ےکی و انیس جتاہ ےکر دعائ کٹا دب ہے اود اس پرصپ ذبل اعادیٹ 
ول ہیں: 
اد مہا بن ما لک لن میاا نکر تے ہی ںکرسول اللہ نے فرمایا: 
أُذْغُوٰاء فَإِنَ الدُعَاءَ یرد الفَضَاءَ 
”ھا ما کرد کیوک رد حا تق اکوثال د بی ہے“ 
(کتاب الدعاء للطبراني ج۱ ص۷۹۸ حدیث ۲۹) 
۴۔ سید ناسلمان پا ری لہ میا نکر تے ہی ںکہرسول الخ نےفرایا: 
لايرڈ الْفَصَاءَإِلّا الأعَاء 
”ققضاکدعای ٹا لکق ے“۔ 
(سنن الترمذي ج٤‏ ص۱۸ حدیث ۲۱۳۹ ؛ کتاب الدعاء للطبراني ج۱ ص۷۹۸ حدیث ۲۹) 
۳۔ حفرتل2 پان لہ یا کرت ہی ںکبرسول اش شف نے فرمایا: 
لَايرڈ الْقدرَإِلّ الأَاء 
”ظظیلمای ا لگ ے“۔ 
(المستدرك ج١‏ ص٤۹٣‏ ؛شرح مشکل الآثار ج۸ ص ۷۹حدیث )۳۰٦۹‏ 
امام اکم وذبی ددفوں نے ال عد ی ٹکو کہاے۔ تلایے جب ایک صا ملا نکی دوا ےت بل 
انی ےت جولولعدمث*اللْهْمْ اجْعَلةُ مَادِيا مُهدِبا اد بہ“ (اےا را لکوہرامتدقۓے والااور 
اعت یا بیادےاورددسرد لکوا کے ذر یھ ہدایت دے کوچ ماتنے ہیں ءوو لم سک سیدالا نیا وا رن 
اوریوپ رب العا لین لہ کی دعامحاوبی کےتن مںکیوں‌قول نہ ہوئی ؟کیاجی مبھاجا ےک دونظ زیو ںکا 
کگرا وک یاتھااورتحضور فہک ماگی ہوئی دعامسترد ہو تی ؟ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 





اٹ لامر رم تی ول غیت 

قا ری نکرام !خلطافلداور پل با٦‏ بی ر تا ہے ہخواہ ا سکوغا کر نے اورمنوانے کے ل ےق ودالگ 
تلیسات :او یلا تکاسہارالی یا تطربی خماکی ط رح موضوع نی اعاد یٹ نےآ حم َعدمرْا! 
ناو اپ یس یز بدکی ابچھائ یکاراز 
٦۔‏ طلامدائن تجرگ کی باقوں ش سےسا تی بات بی ہے : 

شنمزیدنے بہت سے لوک اپے والد کے پان اص ا یکام کے لیے مترر ہے تھےکددہ ینید 

کے مد حالات اع سے بیا نکر ہیں۔اکی وج سے ۱رت معاد یں یز دکواور(دوصرۓ) حاہر 

کے بیڑوں ےفضل اکھت سے لہا أغوں نے بن یدکوسب پت دی 

شاباش :شا ہاش ! محدغانہ عالماشہ اورنقمانہ یرت کاکمال ہے اکیایہ یو چھاجاسکا ےکہ جوینھ اس 
افتاس میس پڈکور ےا کت زل سے ہے پاعفل سے؟ اکنل سے جو پچلربیکہا ںککھا ہواہے اود یدک ال 
کے باپ سان انی تحری فکرنے والے لو ککون تھے؟ آیادہ یز ید کےجبیال سے تے جک یسائی تھے یا اس کے 
دویال ےا موی لیگ تھے؟ اوراگر کو پک تی اخ اع ہےتذچھ تا ےک رلوکیت کے جوا کے لیے اس 
تی پاپ نکی ض در تکیاہے؟کیاش ریت یں ا ات کےاجہ وا بک بثار تال ے؟ 


درز یلق اعادیث پبنگی عاول؟ 

عد ہو یک علا داہن تجرگی نے یہا ںککاکحددیاککہ یز بیدکی شمان می خوشا دی لو ںک تع لیتق رکربیی 
محادیہ پراس قد داش انداز ہومی ںکہووچجض ان کے وف یما تک وجہ سے مصرف کہ اپنے بی وا محا بک 
اولارےاخلَّ اب ٹیشھہ بل اس خی تک ن سب پر ج ھی دےڈالی۔ می سک ہو ںک اکر دوٹرزک یکل فک بتا 
پری: یی اس افضلیت اورق جکوفقامعاو کی دفات کے خرکی سال ے جوڑاجا ےق ئل وت حاب رک اولاد 
یں بک خودیھا ہکرام پپکھی موجود تھے جاک نال الھؤننیشن (اگر چائز ہوو) تعفر تعبدائلہ نع ر:عبدائڈ 
ینز :الس بن ما نک ادرسیدن اما ان بی وخیرہ۔ بزیدرکے ووٹر زیت یفوں ےکا ومعاو یش پیل ان 
سب ےا لیے ہہوگیا؟اوراگر یز یدکی ول عہریکیکزششو ںکاقی اس سے پیل کچھ جائۓ اور بجی تقیقت ہے 
کہمحادینے پا ججرکی سےگھ پل یدکودفی جب بنا ےک یکیشش شرو عکرد ینھی اوراس وقتکشردمشرہ 


میں سے ایک سے زا رات اوردوسرے اکابر یٹ بھی موجود تھے نچ پت ے ول علام ای نت گی اگرمواویے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





چ0 ق2 ۳ت 
وی خیثا ےب حفرات ے نف ظا تھا لکو ماد یک نظ رکال کچھاجاے یی لی کے دورز 
کا تایاور ورک کاکمال بھاجاۓیا ”اشن >ضذ وفع“ کر علامائ نرک یلگا لھا 


جائے؟ 


تا ری کرام اجب طقاء کے نا ا ئزدفاغم شس عطا مدان چجرگی وم لعل یمر ث اورفتیہ 
ول سےااس فک رتھی دست میں پچرخودانداز فا ےکہ ا نا چائزدفا می ارے دو کے أُمراءبا وی علاء 
کیا حیشیت کہ دوکو یکا مم بات ااگل؟ 
و ئل یٍست ےگخرت؟ 

علاسہاہن تورکی نے ٹووکھا ےکہ امیرشام پرٹوائشل نے ہدایتکاراستہتا ری ککردیاتھا مس پا چتا 
ہو ںک "اگ تقیقت ےت پھرخوائٹل برست ہے محبت نوع ہے۔ چتا چا شاد اک تھی ے: 

را تع من مه عْ کرک وت مَواه گان ره لرگَا. 

”اور سک اکہانہمانویش سکاول جم نے اپنی یادسے خا‌ لکردیاادردہاپنی خوائشل کے یچچ چلا 

اور کاکام عد ےل ذرگیا''۔ 

(الکھیف:۲۸) 

موزصوفسی :امت نی ہی شبات ٹل اشاروں اوکناوں شس یب پیدگیا داع دک بات 
کیاکرع تےاورا نکی شارت کے ہو رمل را شن ونس او نگیو کے ذر یا کی و ہد کی یت 
لی ےکم یی سمل چودہ بی ںکک دو اس خوائش لک پیر دی یرہ اود الا خر ا کی جامہ پناک رادم 
رساجب ود ایک نا چا زخواب لک حول می اتا ع مین رق رن کے دفا مہم ا یش نک ن ےک کیا 
ضرورت ے؟ کان سےقول ا لک سوو انا مطلوب ے؟ خداجا ےکر لوگو کو وا نی أَفْفَلتَ 
یہار ا زایٹ می شعِلھمزۂ4 زافرتار ٣:‏ ور أرَأک تی مُحدَِهةهَرَه َأصله 
اللّۂغلیٰ جِأم پ4( حانیة:٢٢]‏ نرعاآ ا تکوںف گج ھت ں؟گکیاتاب نت ملک یر آلّ 
ہ ےک یمان کہا جانے وااکوگی انسان وا کی اف رای ہیکنیس یتو می دی برہادیی پٹ ب تب خواب کی رگا 
کر ےقودہا لح مکیآیات ے ےی ہاور سکادفا کر نالازم ے؟ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


ال 


ام رائل سکیٹ دہند ہیا شُنل جونرم؟ 
امی رای نت نے اٹ تاب کا پہیجھرنے کے لیے امیرشام کےکمل نافوادہ کے عالاتکااعا کر نے 
کیکونش کی ہے جن کرس سلسل یش أ نہوں نے ا نکیا بیدئی اود زی پیدکی ماں (مےسون بنت پھر لکلی )کا 
گا فیضان یا نکردیاہاورأس کے بھارک القابات دصفا تام نک ہیں ۔ چنا رو وک ہیں: 
نون بنت بد ل بی :الیل پچ ن ےآپ رتیۃالل تال عل ہاو ہے پنانہ وف ات 
اور کیا دیپ می زگاریچی صفات سے واز ا تھا_ شر و عت کے مال می ںآ پ رم الڈعہاے 
مزا شی ۔آپ رمع اتالٰ ہا کا شارتبیات مل ہو ہے چنا یقرت سید صن بی 
فی رق ال تھا علیفرماتے ہیں :میسون بعت بحدل ام و معاہ کی زوجہ ٹل او تابحیات 
شال ہیں( ال دای دالتہایۃ ءالعباب؛لزا) 
(فیضان امیرمعاویہ رضی الله تعالیٰ عنه ص )۳٥٣٣ ٣‏ 
پل ام رای نت سے سے پو بچھا جا ے کیسون بخت بدرل کے بارے میس جو پا ہوں نے ذکرکیا 
ہے+د تار ہے باقن دعدیث؟ اگ رتا رن ہا پگ ریسون یف تی جس طرح دو ے بے“ دکرناجاے 
ہیں بکنہ یگ ای راال سن تکادی ان ہے۔نہوں نے حافطھ ای نکی رکے جوانے سے جومفپوماداکیاہے اس 
کے لی الفاظ بی ہیں: 
وَگانث عَارِمَةً عَظيْمَة لسن حَمَالا وَرِيَسَة رَعقلا دب 
”'دودانا نیم الشان ہخوصورت بسردارہ ہل متنداورد بن داہگی_ 





(البدایة والنھایة بتحقیق محسن التر کي ج١۱١ص )٥٤٤‏ 

بی حافظ ائ نکش رکی طرف سے ایی فیائصی ہے جنوران کے اپے مندرجات کےقلاف سے توب 
”َدِبْنا“ کالخظ۔حافظاہ نکی رکے جآ خذ ہیں ان مس بیافا یش ہیں ماسوااس کےکہتا ریرش می دن 
لِ, (ز یک )س جودہے۔ خداجائ ےکہای نک رک ےک مکوکیا ہو جا تا ےک جب دو ہوا می کے پارے می اک 
ولا نکش پھیتا لا جاتاے۔ لاک سقام ردامرشام ک لق سط ری عد بن لکر ہے سے 
ان سکم ”ا بَغنْبٗ خی“ کےالفاظابنیطرف سےکمودیے۔ یہا ںبھی:آن کم نے ایک 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 


زبردست فائ کی ہے۔ پیا نہوں نے اپتےطوربرییسو نکی دی دای رکف مایپ کھا: 

ھن وی الله رید لَلافةَفذ ابو 

”چس ابی وجہ سے اللرتھالی نے اس کے بیز یکس کے باپ کے بحدخطاقت سو بی 
(البدایة واٹھایةبتحقیق ؟کرم عبداللطیف البوشی ج۸ ص ۲٢٢‏ ءوبتحقیق محسن الت رکي ج١۱‏ 
ص٤٤٦‏ ءومٹرجم اردوج۸ ص ۱۸۹) 

ال کے نس جب دوائل بی تکرا مھ السلام کے بارے میس پکیر ے ہوں نوا ناکم جرح اھ 
جا ہے۔ ا کا چھ خی رک اوروا تع ایس جوم زی :الف ”شرح کصاب الأربعین في فضائل آل 
البیست الطاھرین“شام! مونیشن سیر ہما تشد یقراورسہ خ بج اککبریی رڑھی اما کے مان مناضدی 
پٹ مش ویکھی چانتی ہیں۔ 

امی اہی سنت حافظدای نیک بھی مال نے اور نہوں نے تین مر بیٹسون کے نام ساتد ”ا رحسمة 
الله تعالیٰ علیھا“ لگ وکرا ےم ڑب فضان ےاوازدیا۔ 
میسون بنت بل اوراس کےسربتا کات کی ؟ 

قارکی کرام !نے ہمآپ کے سا سے مٹسون اوس کے شوہ رک ےق کا حال اس تاب سے یی 
کر تے ہیں جس کاامیرائل نت نے حوالہ دیا۔ ا کاب کے ای مق مکی لی لور پ نو تنا بکھو لکر وھ 
سج اور بر فیصل ہی ےک جن عور تکواب نیک اور ہار ےکی رک ےنقی رام رائل سنت اس قد رارسا اکر کم 
رہے ہیں ہکیا وق وو ال پار ھی ؟ ہرک یی ۔ا کی مل ہہ ہےکرامیرشام نے میسو نکی موجودگی مٹش 
ایک اوزکورت سے شاد کی میسو نکاس ک ےنس کا موام کر نۓکاعم دبا میسون نے ا لعورتکی ش رمک وک 
کامحاننرکیا۔ چنا رام نکش رت کھت ہیں: 

”اورأغہوں معاوبی ]نے تا لہ بت ت ا ر:الکلبیر ےکی یا حکیان سکائسن نہیں 

اھا اور نہوں نے میسو بنت بدل ےکھا:چاکراٹ یک زاویکودکھو۔ ووا ندرک معادبے 

نے اس ےأس کےمتعلق پو چھا تاس نت ےکہا:دبنسن دجال می کال ہکان میں نے اس 

کیاناف کے یج ایککن دیکھا ہے اورمیراخیالی ہ ےکا لکاخاونڈنل ہوا ےگااو را کاسر 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





اک یگکود یی رکھاجا ۓگا نو ححخرت معادریرنے ا سے طلاتی دےدکیٰاورآن کے لع رجیب بن 
سلپ رٹ نے اس سے کا نک رلیائچھراس کے بعدنممالن من نشیرنے اس سے نا حعکیااوشی ہو 
گن اور نکاس ا سک یکوویی ش رکھاگیا'“_ 


(البدایة والنھایة مضرجم اردوج۸ص ۱۸۹ ءوبتحقیق أکرم عبداللطیف البوشي ج۸ ص٢۲۱‏ ءو 


بتحقیق محسن الت رکي ج١١ص٤٤٦٦)‏ 
کن حور تکا عور تکیاش رمک وکودسکھنا جا ےپ 

ال عہارت ‏ دوای پان ںکا کر ے جوش رید مھ یی اتا الکصلا چواتسلم ےخلاف ہیں: 
ا کیا عورت کے لے جا وی کہ وو دوس یمور تک ناف کے ین دیھے۔ چنا وت الا یک تن 
کےساجح ا میم ئل سنت کےحب ما ُٹچی کےککتہ سے شاک ہو نے وال کاب میں مولا نا ا مدیگی ھی رح ابر 
عل یھت ہیں: 

”تل یس ابوسعید لد ے مردی :کہ رسول ال پا نے فر ایا :ایک مرددس رےمردکی سز 

کا ہنیک ادرنیگورت دوس ری گور تک سترکی جک دب 
(بھار شریعت تخریج شدہ ج٣[الف]ص‏ ٤٤٢؛صحیح‏ مسلم کتاب الحیض ءباب تحریم النظر 
إلی العوراتء؛حدیث٤۳۳۸[۸]ءمکتبةالمدینةءباب‏ المدینة+ کراچی) 

علامہپئشھیآ کپچ لکر مکل خقبمہ می ملف۳ ےق تککت ہیں : 

حور تکاعورتکود یھنا ءا لکادد یلم ہے جوم ر:کومردکی رف نکر نف ےکا ہے ءلشنی ناف کے 

یچ سے کلت میں د یق 
(بھارشریعت تخریج شدہ ج۳[الف]ص ٤٤‏ ءلھدایةء کتاب الکراعیةءفصل فی الوط ء والنظر 
واللمسءج٢ص‏ ۰ ۳۷ ءمکتبةالمدینةءباب المدینةءکراچی) 

اح کل نذش یی تک طرف سے تاب کاارادہ رھئے دانے مردکای ا ات ہ ےک دوورت کے 
چرےکو سیکا ےکر بیکش ربعت یش جات ہ ےکنا ہوجانے کے بح کوٹ انی بی بیو ککوکم د ےوہ 
اندد کرت کو مکٹو لکردییھے ھت کی یرون نے اف کے یچ اناو لکرقدیھاتھا کت لکیھی اڑلیا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


تھ۔اس سے پنفل نویک باحیامسلیان میسو ن اوران کے شوہ کے اع قب کاانداز وک سک ہے ۔ گر پکوکھی 
بیاندازہ ہو کا ہو ایک مر چرام رائل نت کے درب ذ یل الفاظا می فور یئ : 
”ال لقن ےآ پ رحیۃالل تھا عہاکو بے پنانہم وفراست اود کی دب ہی زکاری جیصفات 
ےداز اتھا ہش رکعت کے موا لے می لآ پ قد اباب عوتا اتل“ 
(فیضان امیرمعاویه رضی الله تعالیٰ عنه ص٣٣)‏ 
بحالن ان ہہ ہے بے پنان ہم وفراست اور ید ہی زگارکی ' خودانصاف نر ما یی ےکامی راب سنت ال 
خافوادہ ک ٹیس دہندہ ہیں یا فی جییرہ؟ 
کیا :سو یبدا نںگی؟ 
٢۔‏ کودہ بالاعبارت مل دوسرکی خافئش رپ بات مہ ہ ےک مولع نے انی بن جانے والی سولن نا لہ بعت 
مار والکلی ہکا ناف کے نچ تل دہ کراپ شو جرمعاو یبن ابوسفیا نکو تا کراس کے بل سے معلوم ہوتا ےک 
اکا شو پٹ لکیاجا ۓگ اور لکاسرا سک یکودں رکھاجا ۓگا۔اس پرامیرظام نے اس عدکک لق نکراک 
سی وقت نام رکوطلاقی درے ڈالیء ھا لانکہ ناماو کے بعدععبیب بن سلمف پر کی ز وجردد ینکر وٹ ہوا اور ہی 
سکاس رن ملک یگودری س دکھامگیا۔ خداجان ےک رمداو ری سے ال فرکیوں ڈر گے جے؟اگروبٹل ہوجاتے ومؾ 
گی راوٹش جینگی ہوتے چوک دہ رت تےاورمرداہ نی بمیشہ ہا لق قوں کے پاتھوں وٹ ہواکرتے ہیں اور 
شہداء یس شال ہواتے ہیں جوافعام یاقۃ طیقات ٹس سے ایک طبقہ ہے ۔شہادت اس مد رنیم الشان رجہ ہے 
کی نیک ریم یا فرمات تھے: 
من پیندکرت ہو ںکہداوقؾ ‏ رآ کیا جا نوں پھر زندہکیا انوس ہی کیا ا ئں پھر 
(بخاري ص ١١حدیث٣٦۳؛مسلم‏ ص۹۰۷حدیث۱۸۷۹) 
گرافو ںکہأنہوں نے ابی یو یکیٹھیخ رپ ریش نکرکیاادر ”تاب مال“ خاقزن کے اما 
کر لین کے بعد کی اف کے ینایک لکوس ین یق نکرتے ہدے أسے چلناکیا کین برا نکی یوک 
کی یب دای کاس کچ لگیااور ”الم اجعَله مَادِیا مُهْدِي“ کااڑ دہگیا۔ یہاںحافظای نمراورامرالسنت 
سے پا چھاجا ۓےک۔کیا نم پرتل کےذر ٗی امور بآ گاىی ہیکت ہے اوراگرہ تی از شر اط ےس پہ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 






ات ات 
کے4 کیگے؟ 


وا پا و 7 
*”أضخابیٰ تحالہوم “بل لف راۓے! 


ام رائلی سنت کے ن2 د یک ز با نز دعام ردایت ”اَصُحَابيٰ کَالْجُوْم قب 





(میرےصعابہستارو ںکی ماعفد ہیں ہ سوقم جس کی چو یکروگے ہدایت پا جاگے) جح دوہ زراوضاحت 
فرمادی ںا اس روا تکو مد نظرر ھت ہو ۓ! رای اسلامامی شا اور بقو لآ پ کےا نکی بے پناہ ہیزگا ریوی 
کےأ سوہ لک نیت ےکی لڑکی کےساتھ اج تتٹنل یڑ بگہ اکا ہوجانے کے بعد سک ناف کے 
ین ےکک کے مقا مکو لاک می اور اگ رو ہا ںکوی تل نل موجودہوق سے چل ناک اک ریت ذکناٹو اب ےگا اور 
رای تکاکون ساوج عاصل ہوگا؟ 


تی شرتی مز ر کے اف طلا قکاگم 
اس مللے یش بات تین احاد یٹ پیش خدمت ہیں .ہوا امیر ی_شھی رم ال عل کھت ہیں : 
”حضوراقرس نے فرمایا:اے معاذاکوئی زرل (ولق ) نے خلا مآزاوکرنے 
سے زیادہ پپنلدیدہ رو زین پہ پیدانش لکی اورکوگی ے روۓ ز بن پطلاتی ے زیادہ 
اند یرہ پادی۔ 
۴ جفور نے فرما از خمامعطال چچیزوں شش خداکے نز دکیک (یادہنا ند یدوطاتیق 


ہے۔ 
۲ 


”حضور ہا نے فیا یک ایس !پا قت پان ھا تا ہے اوراپ ےنرتا ے اور 
سب سے زیادہھر یہ دا اس کے نز دیک وہ ہے جن کا تہ ڑا ہوتا ہے ان یس ای فآ رکتا 
ہے می نے مکی یرکیا۔ ات ںکتا ہت نے ےکی لکیا۔ دوس رآ تا ہے او رکا ہے میں نے مرد 
اورثورت یس جدائی ڈال دگی۔اسے انت جبک راوتا ہے او رکہتا ہے :اس ہے“ 
(بھارشریعت ج٢(الف)ص۱۰۹۰۱۰۸ءملخصاءمکتبةالمدینةءباب‏ المدینة کراچی) 
اب مردضاحت تام رائٹل سض ہیک بت ہی ںکرآ نکی ٹیش دہندہضتی ن ےم ایک تل کی وجرے جو 
طلاقی دی دو طلاقی انت لاق تس نیلاق بدیاتی یا پچراجتچا :او اگ راتا وتھات کون ساء دواجرول والا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


تس شا 





ایک اجروالا؟ 
کیا مر دوگ یکا جائڑے؟ 
الیدایروالتہابہ کے اس مقام پر شایدسون تق کو رکرنے کے لیے یک اورواقچھی منتقول ہےء 
ذرادہجھی ما جظیف ما یئ ۔حافظای نکش کھت ہیں: 
یک دوزحقرت محاو اس کے ہا لآ ے تن کے ساتھ ای کی ناد بھی تھاءاس 
نس سے پردوکااو ریگ یپ کےساتھ بویٹ ہے؟ نہوں نےکہا: یھی ہےال 
کےسا سمخ ےآ جا این کہا :الد نے جس تچ کوقرا مکیا سے مل أ سے علا لی سکرسکماءاو راس 
نے اس سے تا بکیا۔ ایک اودردایت یل ےک ہ ال نے معادیہ سےکہابج لک پککاا سے 
مطلہکردیتاہرگزدہ زاس پرعلا لم کرت جوا نے ا پرترا مکی ہے 
(البدایة والٹھایة مترجم اردوج۸ ص ۱۸۹) 
یمج عیارتکا ا کے یالفاظ"إِنْ مجر مُْليک للىْتُجلُ ما حَرمَه الله لی“ 
(آپکاالکا مشککردیناہکز دہ زاس برع لو سکرتا ہویش نے اس پوت ا مکی ہے ہجار ہے ہی ںک رس ٹن کر 
امیرشام ک ےمم ےھ یکیاکمیاتھاالندادیکناہوگاکش راس یٹ کو یکرنا ہے جاا از ؟اس بارے یل 
متحدداحاد یٹ می ںآیا کہ پیا ہکرام چدنے جبۂ عبادت دریاہضت سے سرشارہوکراڑخود چاپاکرد شی ہو 
جانمیں ہن یکریم خقل سے اجازت ماگ یت آپ نے شع فر مادیا۔ ال ملسلے مس سید عثان بن مظحون ,سیر سیر 
بن الی وقائشءارکن سعودہابو ہ رر اوردوص رےتففرات کے اسما ما کہ سٹتے ہیں۔ بفاریاشریف ”کصسساب 
النکاح ء باب ما یکرہ ھن العبتعل والخصاء“ ٹس ان اعادبیکودیھا جا کنا ہے۔اڑکی اعادبیث کے ہی 
نظ رقامنخی نذاہب م ھی ہونےکوترام ا گیا ہے۔ چنا مہم قرٹھی ماگی اورحاف ینتج رمسقافی شانتی رم 
اڈنا ہا کھت یں: 
هذا لی لی ریم زلا خلاف فی تخریم ذک فی کم 
”ہمان پت گی ہےاوزس لآ دم 1یہی ال کےترام ہونے می کوٹ اخلا فی ہے“ 
(المفھم شرح صحیح مسلم ج٤‏ ص۹۳؛فتح الباري ج۱۱ ص۳۳۸) 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 





حافظ بررالد ہی چٹ یشک ی رم اش عل کھت ہیں: 
َإِن الاحیصَاء فی الاقبي حَرَام مُطُلَقَاِ 
۶ آد یکو یکر مطلق عرام ہے“ 


(عمدة القاري ج١۲ص١١۰٠)‏ 
علا ایی نشی رقیۃ ال عل کھت ہیں: 
اضا نکوس یک رن تام ہے :ای طر) پیگڑاکرنابھی“۔ 
(بھارشریعت ج٣ص )٤٥۹۰‏ 
خلا ایل ہاو یی علماء ن بھی ا پت ری کو ہرھال مل مقر ررکھاے- 
(فتاوی اللجنةۃ الدائمة ج۱۸ ص٣۴)‏ 
یہاں یا بھی ذہ نیشن ر ہک اسلام م۲ نشی نخادم رکھے دانے پلینس معاوری دی ہیں ۔ چنا نام 
ذ بی رم ال علیہ نکی الات کے مان مز ہین اکا فلکت ہیں: 
ول .7 اتّعْ الْحْدام الَْصَیَانَ فی الإسُلام, 
”وواولینٹس میں جنہوں ےاسلام ںاھی نوکر رھ 
(سیراعلام النبلاء ج٣‏ ص ۱١۷‏ ؛الأوائل للعسکري ص٤٣‏ ۲؛ تاریخ الخلفاء للسیوطی ص ۲۳۲) 
قا شی کرام یل امی ایل سنت سے معلوم یئ کہ امیرشا من لوگ ںکڑٹی اک راکرشرگی اط سے 
عم علال بھالاتۓ تھے باترام کے مرکب ہوتے تھے یا پچ ربیآ نکی بدا نار ت کا شامکارتھا؟ نین سے سی 
بھی پو ےکوی اد اور مد ہونے کے باو جو ل تام کا م رکب وکا ے؟ 
سون بعت بکر لکاغاندان 
تقرائن واحوال سےمعلوم ہوتا ےک ایک نی گی سکوساتھ نے نے پرماسوان ہشت بر کا اپ شو ہر 7 
چڑھائ یکر نےکاسجب ا کی پارسائ یش تھا روہال سے اپے خاوشفت سے دو ا رکرنا چا ایال 
ےک دہ ایک عیسائی ور تتٹھی اور لکاامیر شام کے میا می سآ تاحیسائی مس تی کت تا ءاد رحس تت٣‏ 
ج سکونظ ری ضرور بھ یک دیاجاا سے ,أس میتی ہکا ہوناضردری نیس ہوا لہ ا کااورس کے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





ما ندا نکانجی نیس بک فی فیصلہتھا۔ یو ںی ےکہ وج فرزنرابوسفیان کےحقل نا می نیش بکہامی رام کے 
اح میں د یگ تی۔ دہ یس عقری خورکوقیری نمو ںکرکی تھی لین مقصد برآ ری کک أسے اس قیرمل رہنا 
ضروری تو وو مق رمسمانوں کے رازوں ہ ےآ گا ہونااوراپی جسمانی زین میس ایک سلم حا مک یم ریز یکر 
کے‌سلرانوں کے سوا لات می شریک ہوناتھا۔ا کی تو شع کے لے درب ذل سو ںپمورفرماپے۔ 


فاروتی نشم یکا ال لکتاب ےاجقتا بکیوں؟ 

چک ا لک بک عورقوں سے بشرطیکہ دہ ات یکتاب پرقائم ہو شاو یکرت انز ےگ پہند ید یں 
ہے+ا لی ےہا لکتاب اس وقت کک داش ینیل ہوتے ج بت کک بند ون کے رہ کا پچ وکا رنہ جاے- 
چنا نارشاد ری ھا ے: 

ون تَرضیٰ لک الیهره ولا الضاری عَلّی تم ملَهُمٍ 

”اور ہزم سے یبوداورنصارکی اش نہہوں گے جب ک کیم ان کےد نکی پروی کرو 

(البقرۃ:١٢۱ءترجمة‏ کنزالایمان) 

اہی لیے سیدنا عرضاھائ لکا بکوسلرائوں کے اور سے دور رک تھے۔ چنا رای تہ دیٹوریی سند 
کےس ات کھت ہیں: 

'عاض بن ال موی روای کر تے ہی ںکرسید نا عم نے حعفیت ابو موی اش یکوف ایا 

کا بکو لا اکیشیں دودستاویزات پھکرسناۓ جوشام ےآکی ہیں مخت امو نے 

عون کیا:د مسوم نی ںآ ےگا سید عر نے پو چھانکیادویڑچی ہے؟ أنہوں نے ون لکیا: 

نہیں انان دو حیساکی ہے۔ بیرخت بی سیدنا عم رلودنے اپنا ات بلن کر کےا نکیا ران برا قدد 

زورے ماراکیقری بتاک نکی ڈی ٹوٹ جائی ۔پچرفر مایا :نیڈ نی مار ےےممی کیا ہوگیاءکیا 

ترنے الا کا رارشائؤ ح: ا اَ>َالَدِیَ اَوَا لا تََجدُوااليهردوَامَاری 

ای42 (اےاییان والدیودونصار یکودوست ے بفا5ک1الممائد٥٥]‏ تم ن ےی مسلما نکو 

کیوں تکاتب بنایا؟ اس پرالاوی ن ےگھا: أ ںکادین اس کے ساتھ ہے اورشمی اس لک یکنابت 

سےسردکار ہے ۔سیدناعھر نےےف مایا 


.2131331 لطا ۶۲۵۰۵۳۱۵۷۸ 






کا أئ رمضم ِذ ام اللہ ولا ازم إِ الم ال ء زلا أيِهُم رذ امم 
الله 
”نما نک یکر ای سکرتاجب اللنے ا نک تن فرمائی ہےء یس انی عزت نکی اجب 
ادن نی ذ می لکیا ہے اور نیقی بنما ںکرتاجب الد ٹچلاانے انیس دورکیاے“_ 
(عیون الأخبارج١ص٤٣؛تاریخ‏ عمرین الخطاب لابن الجوزي ص۱۱۹ ؛محض الصواب في 
مناقب عمربن الخطابءلابن المبردص )٢٢٥‏ 
امام اب ن سح کھت ہیں: 
”و ولا الا سیدناعر لہ ک ایک خلام سے روا ےکرتے ہیں رن سکانام/ ناد 
ای ےکا: مرن خطا بکاغلام فماا می عیسائی تھا۔ دہ یھ اسلا مکی دکوت دتے رجے 
تھاورفرمائۓ تھے: 
نک لو اسْلمث ِمُعَعنْث پک لی أقانَييٰ ء فإلَهلا َجلُ لی ان این 
بک غَلیٰ أمانَة الْمسْلِميْنَ وَلَسْت علیٰ دِییھم ءفأْث عَليه فَقَال : پلاإ راہ 
فی اللِيٰن. 
”ناکرقم مان ہو چا ؤت2 تم سے اپٹی ابانوں کے معالہ می عددعاص لکرو گا 
یر ے نے عللینشس ہ ےک تم سےمسلمانو ںکی اماغوں میں بددلوں چیم ان کے 
دنا یں ہو نے انارکردیا تا نہوں نے مایا دینج کوئیز بر دیس پا 
(الطبقات الکبری لاہن سعد ج۸ ص ۲۷۹؛سنن سعید بن منصور ج٣‏ ص ٥۹٦٢٦‏ کتاب الأموال 
لأبي عبید ج١‏ ص ۸۳ حدیث ٠‏ ۹ کتاب الأموال لاہن زنجویە ج١‏ ص ١٣٥١‏ ؛الکشف والبیان 
لاشعلبي ج ۷ص٥ 7۲٦‏ صابةج ۱ص۳۳۸؛الدرالمنٹورجچ۳ص۹۹ ١:محض‏ الصواب في مناقب 
عمرین الخطاب ص٥٤١١)‏ 
امام انال یشیب اوردوس رے عفرا کک ہیں : 
”ابوالرحقانہ جیا نکرتے ہی ںکہ سید عم ج ٹکو لکیاگیا: یہاں تر ہکا باشندہ نیک 
لڑکر جا ہے اس جیا محافط اور چھا ھن دالانٹ دی ھ گیا ۔ اگ رپ چا ہیں لو أے اپناضنی رک 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





لیس ج بج یآ پکوضردرت ہ وگ دہ موجوہہوگا۔سینا عفن نف مایا: 
قد اِنْحْذُث إِدنْ بطَانَ من ڈُؤن الْمُوِیِنَ. 





اغی سلکواپنارازدار نا یھو ںگا““_ 
(ائمصنف لاہن أبي شیبة ج۸ ص۸٦٥٦ءوط:‏ ج۸ ص ١۷٤‏ حدیث ۷۷٢٦۲؛تفسیرالقرآن‏ العظیم 
لابن أبي حاتم ج٣‏ ص٤٣‏ ۷؛عیون الأخبارلابن قتیبة ج١‏ ص٤٣‏ ؛تفسیرالقرآن العظیم لابن کثیر ج 
١٢‏ ص ٣۰۷‏ ؛الدرالمنٹور ج۲۳ص۷۳۸) 

لف ”بَا سےسید عر لپ نے درخ ذی لآ ی تکیطرف اشاروفرمایاے: 

اھ الین وا لانتمَخِدُوا بِطَانَةمَنْ موک لأَبَأٰلونكُمْ عَبَالاوَکُوا تَا 
عَمُم قذ بذتِ الَفْصاۂمِنْ ُقَامِهِم وََاتُحْفِيْ صُدورُهمْ أْبرْفَد بنا لَکمْ 
الاياتِ بی سم تَعلري. 
” اےایھان دالوا شہ بنا کا پنارازدارخیرو کو وک نأ گال کے ہیں خرالی کہٹپانے 

ٹیس وہ پنرکرۓے ہیں جھ یں ضرررےءنظا ہر ہو کا ےنحل ان کےمموہوں ے اور چو 

چھپارکھا ےان کے ہیتوں نے دا ےچھی بڑ ا ہے ہم نے صاف بیا نکرد بی کہارے لیے 

انی عیں ار مبھدا رہ ۔(آں عمران:۱۱۸) 

اپیےئی خدشات کے یی رین عمرط یکنا کودوں سے شادی ےن فرماتے تھے ۔ چنا امام این 
ال شی تفرٹثشظیق سےردایتکرتے ہیں: 

”سینا عذیفہ نے ایک مبود برگارت ےشار ل٣ۃ‏ سید گرجزڑے ا نکی طر فک ےکچا 

کہا کوطلاقی دے دو .ا ہوں نے وا کی اہ ہاگردہوترام ہاج ا ےےطلاقی دےد تا 

بھوں .سید نا عم لن نے برک یپا امش ا ےترام نو ھی ںک تا این یھ خدش ہے“ کمن سے 

برائی ےھ و گے“ 
(المصنف لاہن أبي شییة ج۹ ص ٥۸حدیث‏ ۱۷ ٤ء‏ احکام القرآن للجصاص ج٣ص۳۲۳؛‏ 
لسن الکبریٰ للبیھقمي ج۷ ص ۲ وط: ج۷ ص ۲۸۰حدیث٣۱۳۹۸؛جامع‏ الاآٹارالقولیة 
والفعلیة الصحیحة لعمربن الخطابءللعاطف بن عبد الوھعاب حمادص ۱۹۱) 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۱ لطا‎ 2131331. 


”ہرس تی 


امام مبدالرزاقی صتعالی رص انقرعلیہ کے ہاں ہےک سید اع چلندنے جوخنانکھا اس میں ذرکورتھا: 
”ا سکوطلاقی دےدواوواثگار ہے“ 
(المصنف لالامام عبدالرزاق ج٦ص۷۸حدیث۱۰۰۷ء‏ وج۷ ص ۱۷۷ حدیث۸٦٦۱۲)‏ 
مرکودہ پالا روابی تکی رح اس رواہت میں بھی ماد خطو ماکاک سے اور ریمنقول ے ےک سیدناعذ ینہ کہ 
نے جس م لاق شردئی ئن بعدری طلاقی دے دیچھی۔ بعدرم ں طاق کیوں دک ہوگیا؟ دوسری رولیات رے 
معلوم ہوتا ےکرسیی نا عم یدن مخت اکیدفرمائیی۔ چنا خچراما مھ جن سن شوبالی رم انل علیہ نے جوردبیت 
ذکرفرمائی ےأس می ںکئی بارجاول شطوط کے بعد برکور ہے: 
ازم عَلََک أن لا تَضْم بََابِی عتُعلی ھا نی أغاث ان 
يَقسَیِيٌ بک المُسِمُون فَيعْمَرُوا يسا ال الم لِعَمَاِهِن ء کی بلک 
مز یں کیدکرتاہو ںکتم میراخط پا ھکر رنے سے پیل عور تکوچ کرو 
بے نوف ہےکیہملمانتہاری پردی می ای اکر نے تک گے قو دہ ذمیو لک عورقو کون کے 
بنا وسگھدارکی وجہ سے پہنرکر نیس گےاورمسلرانو کی خوا تین کے لیے ریفقکائی ہوگا“۔ 
(کتاب الاثارلالامام محمد ج١‏ ص٤‏ ۳۹حدیث٤٤٥)‏ 
ایام این الہما ممتٹی رم ال علیبائ لکنا بکیاگورقوں کے سا تنا کا جوازبیا نکر تے ہو ےکھت ہیں 
قَمی الْمَُرَوَجِیْنَ خُلَيَةُوَطَلعَةوَكَفبْ بی مالک , رَعطْبَ عُمَرْ 
فَقَالوٰا : تطلْي ابر المُؤٰبیَْ . وَإِنمَا کان غَطَبْهلَعََطة الکافرۃ بالْمُزٰینِ 
وَغزفِ اللَْة علی الد ء اه فی مِمر؛ألزمَِیہ۔ 
”ال لکنا بکیعوروں سے شاو یکر نے والوں یں نحضرت حز یف جلہاورکعب مین 
مالک کے :ا مآتے ہیں ۔سید عرجان بحضب ناک ہوئے تو انبوں نے عون کیا 
تھا: ام اشن ہم طلاقی دے دتنے ہیں ۔سید نا عر چوکا خصہفط ایک غی سکم کے ساتھھم کن 
کیک لکررب ےکی ادرئےپخوف فقدکی وجہ ےتھاءکیوکہ ےکا کی نا کی ماں کے ساتھ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


وابست ہوتا ے'- 
(فتحج القدیرشرح الھدایة ج٣‏ ص٠‏ ۲۲" 
ان تام احادیٹ می فو رگکرکرنے سے معلوم ہوتا ےکہ سد اعم نے گر ا لاب کی ظروں 
ےا حکوترا ٹف ما یایکن دوسری خراہہوں کے ائد بی کی وجہ سے ا لکوا تا نان بد وق ارداک تن حابگرام 
لد نے ان کے دورریش ایے کا سیے تے امیس ان مور ںکویچوڈ نا پڑا۔آپ ہا بارخورفرما ےک ہآفرسیدنا عم 
دن ےکنیحورت کےساتح نا حکواھی فقنہبھی برائ یکا سبب اودیگی ا گا 1کیول خر بای ہوگا؟ 


علال بوجو :تام مچھی ہوکتاے 
نکورالص رتخحیل ےآپ چان ہے ہی ںک ہکتال یکورتوں سے کا مطاق ترام میں ہے بن گر دوس ری 
خرابیوں کے پیراہوجان کا حرش ہو کچھ رنہ صصرف ی کہ ناجا تزموکاے ب تا بھی ہکا ہے۔خا اگ رای 
عورت ےگوئی لمران ذکا کر نا اہ اور خدشہہوکہ ا ںعورت کے ذر یج مسلمانوں کے صربستۃ راز غیر 
ملسو ںکک پچنا سان ہوجانمیں تو ای صورت ٹل اس سے لکاحع تام ہو جات ۓگا۔ چنا سور الماندوکی 
سآ یت می کا یگورتوں سے شادی یکرت ےکوعطا لکہاگاہے ا یک خی میس مولا ناماو ری کا ندعلوبی صاحب 
کیست ہیں: 
”ا یتما بک گودرقوں سے لح ذاحد کا جا ئز سے بش رک خار گی اشرات اورعالات 
ےکی معخرت اورمفمد و کاخ یہن ہو ءاورخ انف استہ یران میق ہوک ہگن کے ال می کن کر 
اپ دن اوردنیاکوتا کہ ےگا تقو ان حالات ش لکتابیات سے اکا کیا علت مبرل بیقرمت و 
جا ۓگی۔ جو شرع علال ہاگ را عطالل ہے شع ہونے ( دو ڈٹھانے )یس ترام کاراب 
کر نا پڑ ےووہ علا لجھ تام موجا جا ہے“ 
(معارف القرآن للکاندھلوي ج٢‏ ص٤٤٥)‏ 
ملتی مھ شف عثانی صاح بککھت ہیں : 
”نجمبورابہ وتا لین کے نزد یک اکر چہاز دو ےق ران ال لکتا بک عوروں سے لی 
فض لاح عطال ہے نین ان سے نا ںکر نے بی جودوصرے مفاسدادرقرابیاں اپ لے اور 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





انی اولاد کے لیے بلہ وی امت اسلامیہ کے لے ارہ فےتجربلا زئی طورسے پیداہو گی ء 
ان کی ہناپ را لکنا بکیائورقول ے میا حکوو یھ یرو کھت تھے“ 


(معارف القرآن للعثماني ج٣ص )٦٦‏ 
اس لے بی پش کر شماوالا ز ہرک صاحب نے ہت خو باککھاے: 
”یہاں یہ بات یادد ےکبق رن نے جوعطال فر مایا و ا سکامطلب یہ سے کی 
حور تکاصرف یہودی پانھرانیٰ ہونا ا کی حم تکاباعثننی نین اگ را کی وج ے اور 
خرایاں روپڑءول ہو ں نو رترممت ففیر و خابت ہو جائۓے گی۔ ی عام لود پردیکھاگیاے“ 7 
جن لوگوں نے ای عورقوں سے شاد کی کن کےگھریوں یں ودی رز محاشرت دا٘ل ہوگئی_ 
دی بے پردگی ءوجی خیرمردوں ے اشتلاطاسلائی عبادات سے بے مق اوراخلاقی وآواب 
سے بےزفی راو بک بجی اثر ا نکی او دی بھی چلا جا ہے .ار نی ای مثالی کشر ت لتق 
ہی ںکہ یودگی اوھ انی عورقں نے مسلرافوں کے اییے ایی ےداز ان و کک پچچائے جس سے 
ملمائو ںکوختنتصانات سے دوچ رہوناپڑا۔اں لیے اکر ان وج بات کے باعحث ایا ئورتل 
سے کا ںکرنے پہ پابندی لگادی جاے و کی نکلمت ہے“ 
(ضیاء القرآن ج١‏ ص٤٤٠)‏ 
امیرشاماوراہ کاب 
ری نکرام ا آپ سے اتال ہ ےک ایک طر فآ پ نذکورالصد رفس ری نکرا مکی مشاہدات دنر بات 
پر کواپنے ساٹ رگنل اوردوسی طرفسیدنا مر کےفراست پی ارشاداتکواپن ساٹ رکوکرسویل 
ک راکرس ینف کوقام عالم اسلام مک کر نے کا موقل جا اور روگ کال کورت نا کے ذ ریس 
کےبست کک کے م کا ساب ہوا ود وکیا کیا لکھلا ۓگ ؟ 
سید عمرلننے فذائل اسلام کےرازوں کے افظاء کے دش کے پیش نظ چٹ اب یکو بھی ذمدارکی 
کسی خی سسلمکوسواہگوارا نف مکی ین معاویہ نے زمرہ شادی طعبیب :شی ا اوردر بای شا تک اب لکتاب 
لوکوں بنارکھاتھا۔ چنا خچربل حد بی ٹ فی عالم مو ناشحراسحاق مد صاح بککھے ہیں: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





”ام رہحاو یی کے خیسائی وز در بارگ: 

پعاوزہظم 

ابن ا مال شاتی یب 

سرجون ین تصورروی حیسائی ہنی رای- 
این انل( پک نعل )درباری شا۶“۔ 


(مقصد حسین ظلدص ۲۹۲) 


این شا لکاامی رام کے لے مفیرہونا 

دسر ےر رین شاحیطلبیپ(ای نآ حا پ:انسال ) کا ورس ر ےج٠‏ نی رای کاذکر ہے سے 
دووں امیرشام کے دوک اقترار کے لیے بہت مفیدرمابت ہو تھے۔ای نآ ال انہائی قائل طمیب نماء سے 
معادبہ کے اقترا کے لی خطردبن کین دانے سر یر وردولوگو ںکوخا مو طط رق ےتبرستا نکک پاچ تا تھا :کہ 
سرجون بن منصورعیسائی گی م ہو ںکاماہرھ؛ وواسلح کے ذر یہقاطن معاویکوٹکانے لگانےکامشورودت تھا 
یہاں اہم پیل شائی بی بکاذکرکرتے ہیں چھرشائی می رکے بارے می بتا یں گے۔ علامہا لن اقاس خی 
مع روف پان ال اصع موٹی ۱۹۸ ۔ٹیوں کے تعارف ٹناب کتاب ج کھت ہیں: 


”ای نآ ال تق ین اطپا میس سے متا زضیشی تکا حائل لیب تواء ریش کا باشند دا 


اون ران الم ز ہب تھا۔ جب محاو یجن الو فان بادشاہ بین قذ ا لکواپنا زا لطبیپ بالیااور 
ںکومراعات سے وازا۔وہ بہت زیادہ ال ںکوطل بکرتے تہ اس سےعحب تکرتے خھے اور 
دن رات اس کے ساج کپ شپکرتے تھے ای نآخال مفردات مع رکبات اورآ نکی و ا زا 
جا ریکل بافخ رت اون می ے جواددیات زی ہقاض نجس ا نکاماہرتھا۔(اسگ الفا کی 
عر لا ظفرا) 


ای مُعايأَْزه لک کَیْڑا مات فِيٗ ام اه جمَاعة کر 


ِن اُگابر الّاسِ وَالمَرَاء من الْْسلِمیْنَبِالسم 


”اورمعاوے ای بمھوےأے بہت قریب رکتا تھا ءاورمحاویہ کے دورمل لرائوں 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 


کے بہت سے اکا براورقا نان صطاحیت کے حائل لوگ ز ہرس وفات پگ '_ 
(عیون الأنباء في طبقات الأطباء ج١‏ ص١۱۱ء۱۱۷)‏ 
اس کے بدامن ای اصیبعہ نے طول سند کے ساتحبدالرجمان دن خاللد جن ولیدکوز ہرد لے چان ےکاواقیر 
تھا ہہت ہمان تیأ لک کنب ےت لکردہے ہیں ۔اما مان اشی ری رق الڈعلیہ تر وَفا عَبد 
الڑخھممان بن ال بن اَی“ کاعنوان قائمکر ےکھت ہیں: 
وکا سَبَبْ مَوْنہ اه کان قذ عَظُمَْأنَه ند ال الام ء وَمَالُواإِلَيهلِمَا 
عِنْتمُغ من آنار ابد ء وَلِشنَالہ فی بلادِ الرُؤم ء رَلِيِڈو نام ء فَحَاَة تعَارِيَةُ 
وَخَيِيْ مِسُۂء وَأَرَ ان َال لنضرَاني ا یَختَال فِي قلله ‏ رَصَمنلَهأن يَسَمٌ 
وَأْ لی جَية راج جمصّ . فَلَما قَيم عَبد الرَحْمَان 
بن الرٴؤم دس إِله اہ َال شربَةمسْمُومَةمَعبعُض مَعَالِِک ء فَشِِْبَهَا فمَاكَ 
بحم ء قَوَفی لَهمُعَاوَِةيِمَا صَمِنْلَه 
”نکی دفاتکاسبب ‏ یتھاکرائل شام یں ا نکیشمت دتولیت بڑ کی ءودان 
کی طرف .ال ہو گے :اس ےکن کے والد کےبھی شام یس ای اشرات جے اورخودن 
ک یھی بلا روم میں ا یکا رکردیھی :اور نکی بہادریکھی اس متقبولی تکاسب بھی _ پل محاویہ 
ان سے خائف ہو گے اورڈ سے ءاورنہوں نے ای نآ مال تھا یکوکم دیاکرددآن کےا کا 
کو حیلہکرےاوراس سے دعد ۲کیا تاحیات ےکس س ےت کردیاچاۓےگاا وت کا 
0۲ ۹0۷8۳۲ (اغس مال بھی أسے منادیاجاےگا۔لیں جب عبدالرمان مین 
خالد جن ولیدروم سے وا ںآ ےذای نآ ماگ نے انیس ان کٹ خلاموں کےساتھھذ ہریلا 
شربت پلادیا تدش میں می وفات پا گے تھے ادرمحاویہ نے ام نآ ال کے سات وکیا +واوعدہ 
پراکریاھا“ 





(الکامل فی التاریخ ج٣ص٥٤٢؛تاریخ‏ الطبري ج٥‏ ص۲۲۷؛مرآة الزمان لسبط این الجوزي ج۷ 
ص۹؛زبدةالحلب من تاریخ حلب ص٢٢)‏ 
ارام کے ول میس مو ں نو حر بت بد الران بن الم رک متبولیتگعکتی ہی رڑیاھ پگ راس وقت 2 سی 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ جا‎ 2131331. 


ہو تھی جب لوگوں نے انیس ا نکی تذ تع کے نس جواب دیاتھا۔ چنانچراام این مال امام ین اشی جرگ 
اوردوسرےحفرات أس واقہکینفصیل بیانکرتے ہو ےکھت ہیں : 
عبدالرہمان مین خخالمد جن ولیق ریش کے شسوارول اور پیادروں ٹل ے تے٠وہ‏ 
صن ہدایت فضیلت دانے اورصاح بکرم ےنکر اپ پھائی مہ ج جن خالدکی تد شی سید می 
ای اورہن شم سےمخحرف تہ بر ححظرت مہا جر بن خالدسیدنا لی اھ کے حت تے اور 
جک مل بصفین میں ڈن کے اھ تے اورعبدالرحمان معادیہ کے ساتھ تھے چم رجب معادیے 
نے بز یدکی وی عپدییکاارادہکیا و لوگو ںکوخطاب ش سکھا:اے اہ شام ایس بوڑ ھا ہو چا ہوں 
اور میری ال قر یبآ نلگی ہے اود مم ہش سے بی ایکٰش ہوں۔ یس اتا ہو کی 
شی سکو وی عہد ہنادوں تا کتہارانظقام چلتارہے :اقم مھ اپی داے ہ ےآ گاوکرد۔ ای پہ 
سب کے سب نے بی کگآواکھا: ہم عبدال مان بن خالدکو لپن کر تے ہیں یی جواب معاد یلا 
ٹاگوا رگن رات ُنہوں نے ا ںکواپۓ دل میں رک لیاء پچ رمبدالرجمان بہار و ئے تو معاو یر نے 
اپنے جیب ای نآ ما لکوگم د اکرددا لکاکام قا مکردے۔أس نے انیل ز ہرپلادیا نذا نکا 
انقال ہوگی“_ 
(الاستیعاب ج١‏ ص۹۹٦‏ ؛اسدالغابةج٣‏ ص٤٣٣‏ ؛أنساب الأشراف للبلاذري ج٥‏ ص۸٤١٦‏ 
الأوائل للعسکريٍص٣٣۲؛المننظم‏ لابن الجوزي ج٥‏ ص ۲۱۷؛مرآة الزمان لسبط ابن الجوزي 
ج۷ص١۱۹۵عیون‏ الأنباء ضي طبمات الأطباء ج١‏ ص ١١۷‏ ؛الوافي بالوفیات ج۱۸١ص٦۸؛العقد‏ 
الٹمین فی تاریخ البلدالأمین ج٥‏ ص٤٣‏ ۳؛شذرات الذھب ج١ص‏ ۲۳۹) 
حافظ اہ نکر نےلکھاے: 
”نل لوگوں ےکا ےکسا نآ مال نے بیکا ماد کے ام کیافا لیکن ری نی ہے 
(البدایة والٹھایة ج۱١۱٦ص١۱۷)‏ 
می لکپتاہول: حافظای نکش راو نکی ماخددوسرےکذا رطلقا ہلرمعلوم ہن امب کہ یرداتگل ”مل یا 
'فیسالو“ صیضہ ا ے تریس ےنقو لی بیج حعنرات نے ا سکیمل سندی۰خ لکی ہے جی اکراین 
ع ماک اوران ای الصوبعہ ہبی س این الجوزئی نے ال پرعلا ءکا اتا ق نأ لکیا ہے :اپذاحافظدای نکی راگ را کی سر 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





پر بجر نکر کےکوئ یحم لات نکاقول قائل قبول ہوتا ثتجب ےک اکٹ مقامات پر حافط ای نیک ین طلقا کے 
ناچائزدفاغ]بٹ اختا لکی عدودوپچلانگ جاتے ہیں ۔ نیزجب دہ ان ہی لوگو ںک یت بیفکرتے ہیں آکمیں 
بنرکر لیے ہیں ا وچ تیم م فر ق نی کرتے ۔ چنا نآ پ ان کے وہالفاظ بڑھ گے ہیں جوا غہوں نے میسون 
کے بارے می اپنی طرف سےلکھھڈانے ۔ ایک مرج رن الفا ظا می خورغر کرای کرک دیاشت داریکااندازہ 
کین اد ام یز ییسون بنت بل کے یق کو یا نکر نے کے بح دککھتے ہیں : 

”چس ای وجہ سے اللدتھالی نے مس کے بیز یدکو اس کے اپ کے بعدخلافت سو بی '_ 


(البدایة والتھایةبحقیق آکرم عبداللطیف البوشي ج۸ ص٢۲۱‏ ءوبتحقیق محسن الت ر كي ج١١‏ 
ص٤٤٦‏ ءومترجم اردوج۸ ص ۱۸۹) 

میس پچ پت ہوں :کیاائ نکی رکوالہام ہواکہ بیز یھی ٹکو کی مال میسون ک ےق کی بدوات خافت 
1 ھی ؟ اتال جح کو چا چتاہے ملک دے دا ہے کیا سی نے نمرددوف رو نکوا نکی ماں کےتقب کی وجہ ے 
تک دیاتھا؟ای نیک روخ وکومعلوم ہونا ای ےک ہمد لمران بن خال دز ہردیےے جان کا واقعر ہے راودا کی 
سح تک ولمل بر ےک محاد یکو ہرد اتا جس کے بارے می د ھت خ ےکن کےم نے کے بعد ے 
اق ا ٹا اسکتا سے بجی وجہ ےک ودسید ناما تس نکی نکی شہادت پرنوشل ہواتھا جیا ہم طن ال داور 
فی رو کے ھوائے ےت عدی یٹ لکر چے ہیں اہرادووں واقیات میا کو نل منداورانتصاف پپنن رخ فور 
کر ےگا تو دونوں یں علت واحدہ ا ے ضمرور ال تیق کک پپچچادر ےکی اک کیوں خر تعبدالرحمان من خالد 
بن ولیدگوز پردلایاگیا؟ 
عیسمائو ںکی اق ار نوامیشیل شرکلت 

سرجون بنٹنصورمیسائی ام رشامکاوزمرمالیات اورشی ایی تھا۔ چنا رای نکی خی ر کھت ہیں : 

گا گالیه وَضَاجب ارہ سَْجوُْْْ تنْصُور الرُيیٰ. 

”اور محادیکاوزم مال اورمشی ای سرجون بن نصورردٹی تھا_ 

(البدایة والنھایةزقطر]ج۸ص۸وص ٢٤۲؛اٹرأھل‏ الکتاب فی الفتن ص٤٤٣)‏ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 


عیدرا نک بلا شی ائل می تکرام مم السلام رما لم ڈانے کے لےیےکون سا انی کا رآ مدثابیت ہوگا؟ ال 
سلسلے میں اسیملعون کےمشورے پا لک اک یاتھا۔ جب سیدن لم بن شی ین الی طالب جل رگ رضتہکرنے مل 
جضرتنتمان بن پش نے مدان یکاظاہر ءا نی مد لکر کےا نکی سی دوس رٹ کور رکر نے 
2 پارے مل سو دیچارشرو ہوئی تو یز یدنے ای خیث کےمشورہ پر نکی کہ بریھیداول بن زیارکوگجاھا- 
چنا ناب کیٹ کھت ہیں: 
فعَزل النْعْمَائ غي الكرقة وَسمْھَا لی مد الله یناد َع الَصْر4. 
وذلک بِِضارَة سَرجونَ موی مُعَاوِیَةء وکا یو 
تحت قَابلا من مُعَارِيَة ما أغَارَ به لَوّکَانَ حَا؟قَالَ : عم قال: اقب مِني فَإله 
یس کول عيية الله بن رادِأَرَإِّھا. 
یں یزیر نے نما نکوکوفر ےمھزد لکردیااوربھرہ کے سا تم ےکو فک یگورنرییبھی عبیر 
الیل جن ز یاوکورے دی ء اور ےمعا وہ کے دوستصرجون بین منصور کے اشمارے سےکیا۔ بیز یھ 





اس سےمشور لیا تھاءس جون نے بز کوکہا:اگرمعاد بی زندہہوتے اور ہآ پکواس بارے ٹل 

کوئی اشارہکرتے و آپ قول مر تے ؟ سی لن ےکہا :پالم .رہ جون ن ےکہا:چھرمی رامشور بھی 

قو لیے اکوکوحبیدالڈین ز یادد یھی کک رسک ےڑا سے جی دہا ںکاگورز رجاے'۔ 
(البدایة والنه۹ایة ج۸ ص ۲۲۱ءوط:ج١‏ ۸ص۸۱:؛اشرأھل الکتاب فی الفتن ص٤٤٣١؛شرج‏ 
اربعین إمام حسین ظله للعبد الله دانش ص۳٢۲)‏ 

اس ےمعلوم ہواکرجون بن نصور نے پزیکواپے ےکیطرح مچھاادر ید نے یکواپ با پگ 
رح تچھااور با پکی رح ام لاف مانجرادد یکا۔ 
کیا ام ینید (میسون) ملا ںتی؟ 

جیارےم وشن اورعلاءا ناب میں ےکی نے بھی میسون کے سلران ہو ےکی تص نی کی ءماسوا 
رس ک ےک علا صغائیٰلہورکی نے أ سے تاب یککھاہے اہر ےکہبیانہوں نے وت اصطظاتی طورپکھاے ورنہ 
عخندالش بے اس کےشو ہی تاتین بالاحمان میں یں تھے :جیا ہمذ شنیمفحات مم اشار کر گے ہیں 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


اما الاحادیٹ الم وضوعۃ لی پسائل ہماوید 
اورہجار تاب ”التب الا “'مش ا کیم تخل موجود ہے۔اس کے پنک ساس کے 
ہدنے کےشواہرزیادہ ہیں۔ چنا خی اک رضوا نی ندویمشبورست رخ فلپٹی کے جوانے ےکھت ہیں : 
”ز یدک ماں کے جوانے سے یہ بات تام ق می مب تذار رای ہوئی ےک ووشام کے 
عرب تل کاب (جنس کے اکٹرلوک ق مم سے میسائی ہو گے تھے )کے ایک سردارکی بی 
میسو بشت بد نی ۔ ہار ےمء درخ ال کے فرہ بکاتھ رز نمی ںکر ےلین لوان کے اس 
سال عرب نےقرح کی ےک و ورای تی_ 
(حدیث قسطنطنيهءحقائق واوهامء؛ص۱۱۸) 
علامہ ڈ اکن سید سوا ععلی خدوئی رح الد عیہکاکحنادرست ہ ےک اک کنب مم میسون کے نرہ بک 
تح نی تی تا ہم _ا ہر یہ ےک دہعیسائی تیتی۔ چنا نچ جامعداسلامی مد ینمنودہ کے استاؤ رکشل عبداڈ 
مرکا می رشام کے رف دارہونے کے باوجودکھت ہیں : 
انا الرٌوَایج بالْكََابيّاتِ زم الْمرِینَ قد زا وَأَفَاؤث هذہ الشُامرَۃ ای 
تَخْقِیقي شَيْءمِنْ الَجَائُِ وَالسمَاْلِ بین جَماعاتِ ف الکَابِ وَالْمْسْلِمِیْنَ. وَفيُ 
زم ار اشِدِینْ تَ تروع سَعِیْذ بی الا جِند بنْت فَرَافضَة اللصَرَانيْ الكلييٌ 
وَنَرَرُع عنْمَا مه نَابِلة گا گلپ ايل لسرانّدفی ار 
الرَهیَةِاليٰ ال الَمُہُ بِالمُسلِمین وَلاليِقاؤِ غَلي وَمعَارِيَةء رَقَذ حَاوَلَ 
مُعَاِيِهُبِدزرِأه يُوْكَد َصَاله يِقِلَة کلپ ء فَحَطْبَ َلة فوفس برع 
”اق ان کنا بک ئورقوں کے ساتھزکاح کامحام دہ أموہوں کے دورنش بڑ ہگیا تاور 
یس تملرھلا شا بیاہگی وج سےمسلمانوں اورائ کاب کے درمیان ہنی اد ہاب یچچ 
بڑ تی ۔غطاء راشد بن کے دوریش یبن الحائل نے بند بن تتراقصہ ھرا کے رے 
شاد کی اورضرت خثان یہ نے ا کی بن نامک سے شاد کت یکل ہک خواک 
معلطات مل مشادرت شائل ہوئی جن نے مسطمانو سکیف سے دوچ رکیااورسیدناعی حا 
اورسحادیہ کے مان دداڑ پیداکردی۔ معادیہ نے اپنے دورٹ ای ذر یج سے قبیلہ بوقلب 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ طا‎ 2131331. 


_اأحادیث الموضوعة فی فضائل معاویة ٣‏ 
سےدؤ قکمخبو کرت ہو نال ےن یکی بلروو تر ککرد یی کرد ا سی نھرانی کی 
دوس ری کور تمیسون بنت بدرلی ےکا بعک یی '- 
(اثرأمل الکتاب فی الفتن والحروب الأعلیةص )٥٤٤‏ 
اوانشام میسو نک یآ مداوراس کےاثرات 
معلوم ہوا جس طرع اقتارہنوامیہ کے لیے ای نآ ال اور رجون بن منصورمیسمائ کی ترکات جار 
ر یسیع ام یز یییسون بنت بر لک ترک تگچھ یکارفر مار ہیں ۔اگرامی رام کے الوان کے باہریسائی اور 
دی مشیر یکا ممکردجی اتی ون کےایوان کےاندریھی بجی ذہاخت صروف سان تی 
اس تکی برستی دی چک ایک طرفشرالقائل قبیل(ہوامیہ )تحت پرتھاقددسرکی طرف ا نکیکابیزش 
اورکھ یس اشمناان اسلاممیسائی اور یہددکی ٹیش ہوۓے تھے ہک ياطظُلمَات عق فرْق بَعضِ یہ والاممالتھا۔ 
خوصسو اک جب ما حول ایما وق رسلا مکی خیراورمسلمانوں کے نیک یآ لکی خِکانضو ریو رگیا مکزا ے؟ 
غالل لو کچھ ہی ںک ہا لکتا بکی عو رت مسلرانوں کے شاب یا ت می یئ خا تن ا ہکی حیثیت 
ےآ تی ہیںنان فاروقی انم خثل کے خدشا تآپ ملاحظہفرمالیگے ہی ںکہ ایی عورف کا 1ن یا ھچاجا گر 
سازشو ںکا نہ ہوتا ہے :تحصو ا کلیری عہرے رک وانے مسلرانوں کےگھرول یس ای عورقوں کے وروو کے 
کید دورزس سازش ہوٹی ہےےءاسی لیے ز بن فاردتی نے ای کور تک ”موہ“ انار وتراردیاھا 
کیاا لوان شابی می میسو ن کا آنااتقائی تھا؟ 
مت خالل تیج ےک میسو نکااوان شابی می ؤ رود ںکایا اس کےسر براپا نکانی فیصلہتھ نیس بلہ ہے 
ان ماف ی فیص لہ تھا۔ بچی وج ےک رود ایک مقصدکی بی لکی زا ط رآ یمر ہمہ وت شائ یگل می رے کے 
بادجود پاقرارر یھی کروکہ دہ انی مت ےکی سآ یی ؛بچی وہ ےک سےا کاد یبال ما حول اردہا ں۷ 
مواشقےمخطرب رکا او اوقات ا کین یکفیت زبان کے ذر یج نطا ہیی ہو چان تیا۔ چنا چعلامداین 
عماکراوردوسرےععفرا کھت ہی ںکردوییںگشکنائیی: 
ليْْنَعْیِاَررَغ نے َُبْٔإلیہ شر ثیند 
”ای اھ ریس کےچھریکوں سے ہوایں شا میں شا کی کی ہو ءجھے بلدو الال سے زیاد وب سے 


۶۲۵۰۵۳٠۵۵۸ لطا‎ 2131331. 






ولب يشُخ الشْراق عَيَي ابی مق از 
اوراہ کا جورا کو ہج پربھو کے٠‏ وہ یھےبعب تکرنے وا بی سے زیاد روب سے 
وَنَكَر تم الُظعَاہصَفبَ اع لیب ْبَفْإِرَمُوْفِ 
اوراہیاجوان افج کاارنشٹی کے یی چلنامشکل ہوہ جج تیزدوڑنے وال ےنچ سے زیاد وب ہے 
وََرقیرْنَبيٴْعَمَینْحنْت ‏ کَاُلئٰبملچغیف 
اورمیرے پتا کی اولادےای ککتر ور اور بے وو فآ دی یھےسو نے اور پیش سے زیاد وب سے 
وَأصوَث الَرَيْساِبَِکرِلج الو بینم الثْزف 
اور ہررف ےآ نیش گکیآوازو ںکاآ نا ےد کک یآ داز سےزیاد ہروپ ۓ“_ 
(تاریخ دمشق ج٠٣۷ص١۱۳؛خزانة‏ الدب ج۸ص٤٤٤:٥:‏ 
کپ میں چو تشم کے الطاظط یوں ہیں: 
وَتَعْلٌ مِیْبَىِيْ غ_َمَي صَعِیْ اب إِليْ ہی نل یی 
”اوریرے پتچاکی اولاد ےکنردرشو ہے طا تقر بادشاہ سے زیادیکیوب ۓے“۔ 


ہہ 
0 


(موسوعة الوفا في اخبارالنساء ءللقاسم عاشورص١۱۳)‏ 
میسون بت بدلی کے ا ع بی متقو مکلام یس شاہ یل مم ر نے کے باوجودایک طرف جس بے 
تار یکااوردوس ری طف پش کی نگار یکا ج ذک ٠أ‏ کو ردوز پان یش مو ں مھا جا متا 
خال ہوں کسی اور کاء جھے سو چا کوئی اور ے 
مر ینہ را گس سے میں آئنہ کئی ابر سے 
رای کے دست طلب میں ہوں توکس کے حرف رعاش 
میں تیب ہوں کی اور کاء یھ اکنا کوئی اور سے 
جب اعقباد و بے انقاری کے مان ے نھگ 
یں قریب ہو ںکی اود کہ بے اتا کرئی اود ے 
(سلیم کوٹرپ 
مفاضلہومواز تہ اورپ وقراق پینی بیاشارایک مرترامی رام نے خوون لیو بہت بریم ہہوئے اور سی 


.2131331 لطا ۵۵ا۶۲۵۰۵۵ 





لے ا سکوطلاقی دے دی او کہا 
زا مت بھرل !تو خش یس ہے بت یکنونے بج عصلیج ل ۷با )کہ دیاے۔ 
اپنے نے گی جاہ یل أ سے طلاقی دے دی اوردہاپنے مال باپ کے پا پگ گیا موق پہ 
امیرشام نے ا ےکھا: نت یت“ ( خی پھرجدا ہی )اس ےکہا” اللہ ما سنا 
ِا تسا وکا أِغن ِا بنا“( خداکیاش !ہم ہونے پرخوش تھاورنعی جدائی ہاضرددیں) 
کھاجا اہ ےکبأس وقت یز ید ک ےنم می تھ راس نے سے دیبات یس جاک رت دا 
(خزانة الدب ج۸ ص٦٠‏ ٥؛تاریخ‏ دمشق ج٠‏ ۷ص١٣۱)‏ 
میسون کے نام کےسات شی اوڈخنہا و خی پلک نکیما؟ 
نون کے پیٹ سے بی کے علا ٤دوس‏ ری اولا دکاقول درس ت نٹ ہے۔امی ئل سنت ے”الکامل 
فی الصاریخ“ کے جوالے ےب بد کےعلادہدیسون کے پیٹ سے نان اود چو ںکا جو ذک رکیا ہے دو درس ت کیل ۔ 
امام ان ایرنے فق امت رب المشمارق'' کا ذکرکیاہے اوردویھی صیغ یتم یش سے ان کے الفا الا حظہہوں: 
وَيْلَ: وَلَڈٹ بنا اِسمُهَا هب الْمَفَارِقِ۔ 
کہاکیاے :میسون نے ای کلکی ہیی ین کا نام مس رب الشار قھ'' 
(الکامل فی التاریخ ج٣ص۳۷۲)‏ 
امام ان جج برک رم ال علی ہلت ہیں : 
وَلَميَدُگُرا َشَامٌفي أولادِ مُعَاوِيَة 
”شام نے أ لکاذکراولارممادییٹ شف لیا“_ 
(تاریخ الطبري ج٥ص۳۲۹)‏ 
علامہابکن مس اکر نےکھا ہےکیجھوڈے ہی عرص ہل أم کا یگ رگ یاتھا۔ ان کے الفاظ ہیں : 
تَرَرْج مُعايبةُ اي فان مَْسُوْن بت َخدلِ الْکلِمةَأم بی قب 
ِدۂ نید ْسَيمَنة نَا تَقزلَ رَعَنث إلیٰ وَهَیها۔ 


ممعاو یبن ابوسفغیان نے میسون منت بکدل اُم یز ید سے شماد یک فو دو ان کے سا تھ 





۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 


۳ ۱ 
تقری مرت ری پگ رآ لکاجیکجرکیاقوو وو نک اکر کے اشعا یی 
(تاریخ دمشق ج۰ ۷ص۱۳۳) 
فداجا ےکرامیرائل سنت نے حمت کے پیش نکد اک ہمعاو یک کر ادلادئٹسون سے ہے ججلہ 
بالفا سی بھی مرخ ن ےکی سکڑھے؟ شایددہ ام کا معادیہ کے ساتجھزیادہ حرصر ہنا خاہ کر کے اس کے لیے 
' رص الہ تعالیٰ علیہاء بارش اللعتہا کے الفا ظط کاجوازھاب تکرنا چا تج ہوں امن أُنجیںمعلوم ہون چا کم 
پز یسل ئی تی اوراس کے٢‏ مسا شی ال خنہا' وخ رہ روالفائولکمنا نواص بک طریقہ ہے۔ چنا نیڈ اک رضوان 
عی ندو لککھت ہیں: 
”خداراکرے فو اص ب کا یف ٹف سی نکی وج سے ای محھرائی خانہ بش حیساکی عور تکو 
جناب سیدویسون بی ارڈ کنہا کھت ہیں 
(حدیث قسطنطميه ءحقائق وأوھام ص۱۱۹) 
تجب ‏ ےکہ کچھ مدرعیا نعشق قرب مواو ےکی وج ے میسو نکر رح او تھالی عیہا'' کے الفاظ سے 
نوازتے ہیںگگرننص 0س یکو یکریم نہ کے کین سے لن ےکر پک عم ر کے پپچاسو یں سا یک قربت حاصسل 
ری جنہوں نے آہ کی سلسل طفاطت فرائی مآ پکواولاد سے (یادہ چا ەآپ کےمش نکی کامیالی کے لیے 
تقر پایاں وس شحب الی طال بک سور اورفا تے کا ٹے ۰ای سمارکی الا وو پکا بن ارتا پکیشان شٹل 
تیر ےکک تر حیدا بی نو مکلامپھوڑااوردیاوآ خر تک عز تکوآپ کے ساتھدداینگی پرموقوف تقر اردیاەن 
جانا نمی سکیو ںیرام کےتتم اورتشی وغی ر ہکات ن مھا جاتا۔ فیا ملأآصف! 
جب اندر بابرا لکتاب ا تے؟ 
اس لکھماجا کا ےکہامی شا مک یکایزرٹش اہ ل کاب شال تھےادرائج یآپ نے بپڑ اکن کے 
رب بھی ا ل تاب پچ ہوۓ تھے وای مرف ام شا مکی رات کا آخرکی حصداپی س میسائی یدک کے 
ساتموگز رتا تھا ژ کی خی خمروںکک وولق۲ نکر تح تت2 دوس کی طرف ا نکی رات کا اول حصعیسائی دانشورول 
کےس اترگ رتاتھا۔ چنا نچ بد ین ینیرٹ کےاستا کت ری لپ بداوڈشھرک کھت ہیں٠‏ 
وکا مُعَاِية طس کییرڑا َع ال الکتَاب بُعتلَُنَه سید من أعَاويهِمفِیُ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





”مواو ینتا لکتاب کےساتح ٹیٹھت تھے ءا لکتاب نی باقن بتاتےےتذووابٹی سیاست 
چلانے می نکی باقوں سےستفیدہوتے تھ۔ 


مزیککھاے: 
سَامَْرُوا مُعَاوَِةَ اللَالي الطْرَال. 
دو مھا دہ کے ات طول رانوں می سکنفگوکر ہے“ 
(أثرأھل الکتاب فی الفتن والحروب الأعلیةص )٦۷۸‏ 
معاو جب راقو ںکی وی لنھنگو کے بعدران!ہ لکنا بکیجلس ےا ٹکرک رآ تے فا نہیں ان کے بستز 
پر ایک نویصور تکتالیئور یی ء بجی دوکور تیج نے بزیدخبیث یے اش دیتھ۔ بر کی بات ہے 
ےک بی ہکات تکنندوادرس ود بھی میسائی ھا چنا یڈ اک شی لعبدایڈمعر یھت ہیں : 
فا مُوقِب یرب بن مَُاوِيَةنضرَانیًا. 
”نر یزیدرین معاوریکا مد بچھی ایک فھ رای ھ“_ 
اث رأھل الکتاب فی الفتن ص۷٤٤٦)‏ 
ذ راس پچ کہ ال مود بکواس نے مقر رکیاہوگا؟ :ید کنفوالی نے بامحادی نے ؟ اکر یز ید ک ایال 
نے مقر رکیا گان اس می یز دکے والکی موی شائل ہوگی با ؟ اکر ید کے والدکی رضاشائل نی جائےتذ 
رن کاپ ادلا گی تر یت سےممخافل ہونل مآ ہے اوراگ رگ نکی می شا ل بھی جا ےت ”ؤاد بھ“" 
( اس کے ذر یج اورو ںکوہرا یت دے )کی ت خ رپ الات پیداہو تے ہیں ۔ برعا لکاشاننۂ محاد کے با ہیی 
ای لاب .أس کے اندریی ائ لکتابء ےکی شکل میں جوا نی تم روما اس می بھی ای تاب شخائل اور ےکی 
تبیت می بھی ا کاب شائل ق پھرخودسو ہی ےک نت کیا رآمد ہوگا؟ جو شی بآم ہوا کا پھھانداز وآ پ علاء 
دیو ریش سےایک اہی الم دی نکیک رر سے لگا سکت ہیں جوامیرشا مکادفا ںکر نے کے باوجودیو کی گے : 
منرت معاویہ نے اپنے زمانے ‏ دیوان فراع می کا مکرنے کے لےبنش 
نصرانی متصرنموں (ا ظا ٹی محا ا کو چلانے وانے )او رکاتجول کی خدمات عاص٥‏ لکیں: نان 
شنیس کےخرا کی وجصوی کے لے این اھال فھرالیکورکھا نی زس رجون ین منصورردٹی مکی 


۶۲۵۰۵۵٠۵۷ طا‎ 2131331. 


)/ اافمادیث الموضوعتفی فضائل مماوہا ) 
حضرت معادمہ کے دیون خراجع کا کاب تھا یس ححقرت مواویء زی ءمواوی کن بزیدہ 
ردان ب نگم اد میلک بن مردان کے ز مان ےکک شام کے دیوان خراج کا ٹم ایی راہ 
( سکاب الو را جھشیارکی )ا درا کے مات ٹھ انی تملہکی ایک مکی جھا عحتیتھی :اس لیے اس 
کااٹودسوغ بڑھاادر بی یدکامشی رنیب نگیاءاوردہاپناعتال واھراء کےعزل ونصب میں انل 
ےمشور کر نے لگا یق رو یحکوم تک زمانہ د یھن وا کاب اپ خرہب پرقائ تھااور 
اہ سلما نحلوتکا ملا زم بی نکر بین رو مکی چئ یحلوس کا طرف دارتھا اوران رو یما لگ 
پر اسلائی فذحات سے رائٴی نہ تھا۔ ایا دی کب کچ مشورہ ر ےسک ھااوراسلا گی موا لات 
فور امسلمانو کی بابی خان شی می ان دی کی با ت کی ےکرک تھا ووت اڑا واو کور 
کروکی ق یم روٹی پالھس یکا آدی تھا۔ چنامچ اس نے اور اس کے ساتھیوں نے مسلمانوں ے 
لیے کے لی اریے مو ں غیت مھا مض مم یکر فعر بکیا سب سے بلڑکی طاقت 
(ہنوامبیہ )ہو ہاوردوسرکی طرف ناندان رسمالت اوس کے طرف دارد یتیج یہ کے ساتھ 
ہوں“۔ 
(سیدینا علي وحسین رضي الله عنھماءللقاضي اٌطھرمبارك پوري ص )۱۷۷۰۱۷٦‏ 
اس کے بعدرقاشی صاحب نے لبطو :تہ این زیاد یکوفہ می لتق رریی کے مشورہکااورامام عالی ظا مکی 
شہادت کا کرک ہے ۔قاضی صاحب کے خاکشیدہ الف ئل تقجہ ہیں ۔أ بول نے اپچیک رر ہام یور بک 
لات کہا یئل می تکرا می ہم السلام اوران کےطرف دارو ںکود بی جذ بے کے حا نکہاہے۔ 


کیا لتنا بک دوتی ہف بھی ہوتی ے؟ 

پچچھآپ بپڑھ پچ ہی ںکہامیرشام نے انیو تک مقبدٹی کے لے ولب قبیل سے وت کی اور ھر 
قیہ سے شادیبھ کی ئل بھیرتملمان تی ںکہکیائی ا کاب ن ےکی سل رکومت کے ساتھ با 
خرس دو کی ہے ؟ کیا ٹہوں نےصسی لم عاک مکی لوت و بن م+1 0018 0و۵ کی ہے ؟کیامارے 
دور کےا لکاب نےعراق کے ما ہی۲ سکو بی کی دو بلاغ مت کی کیادوسحود کی مدد بلاغ کرد ہے ہیں ؟کیا 
دو رؤیں کے متقابکہ جس پاکتا نکی عدد بلاغ کرت رہے؟ چھرکیادہ طالبان کے ممقامہ مس پاکتا نک عدد بلا 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





خرن لکرر ہے ہیں؟کیاوہ پاکنتان پا بھی سسلمم یاصت کے لبرل اوددین ززارلوگو ںک ایت بلاغ ق لکرتے 
ہیں؟اگر جوا ےی می ہو چلردو امیر شام کے ساتھ ےلوٹ دوت یکیو ںکرتے اور بلخیش وش ان کے یا 
میں اپنی چیا ںکیوں دی ؟ ال لاب کے تماماقدامات کے چیچیے ان کے اہراف وق صدہوتے ہیں او حکومت 
محادیہ کے ساتھ بھی ان کے مفادات وابستۃ تھے اوردہ ان کےتعمول می لکامیا ب بھی ہو تے۔ چناخچرائل 
حد یٹ تی عالم ین علا می بدایٹر وا کھت ہیں: 
” تیصردوم اپنی چال چتا ربا مدکی ایم کے تحت امیرمعاوبہ سےگھرعیسائی عورت 
میسو نکوسلمان بنا کے دا ل کیا ای سے یز ید پدرا ہوا( سکی پرورش عیسائی تل ایال ش 
ہوئی۔اس فرسلم یو یکوا می رمعا دی نے طلا یھی دے د یی عیسائیو لک بی سان تی 
کہ مرکزی مسه معلومت میس اپنے مشنرکی لوگ داخ لکبرے۔اتی مج سے ب رفص لی مشیر 
مس رجون' بھی تھا جن نے :کون زادکا مود د ےک گور رکوفہ بتایااورمیدا نکر بلائٹل 
خادان و کول دبااوریسائیدنیااپنےمبابلہکی جریتکااتقام لین ہ کامیاب ہو" 
(شرح اربعین امام حسین‌شلگہ ص٤‏ ۲۱۳) 
علامرعاذطش رف ارڈ شف دیو بند یککھت ہیں: 
”مو رین نےککھھا ےکہ جب ععخرت معادرشظام کےگورنرمقررہو ئے تو ھوں نے 
انی علومت ممفبو کر نے کے لیے شام کے سب سے طاقت ور تل ہنوکل بکی ایک نان 
مھ سدن(۱۸8۷۷0۴) سے شاد کی ہ یز ید انی کین سے پیدابہوامیسون خو دق مسلمان ہی 
شی :کن ان کے ع زی واقارب بستورعیسائی رہے۔ یذ یدایک طرف اپ ےگھ مس اسلائی 
ماش رت ادر بت یبیغ جیا د کت تق دوسربی عطرف جب د۲خھیال جا نان میسائیتبز یب 
ون کے مظا ہرد یکنا تھء ہیں ا تن ےگھڑسواریی اورشا عربی ھی 
یہاں تک خر یتجی بش نآکے بد کراس نے ای مشاغ لبھی سیھ لیے جو اسلائی 
قں ات کےمنانی تھے ہیل اکا لک سیر تت٦‏ ہونی پت یکئی۔(ما ونام اردوڈاجّۓ'“ 
مارح ۰۲۰۰۳ص:۸۵) 
عیسائی تب یب وقدن ےآشنا کیٹ راک رات اہم معالے یش ینید نے ای کت یش رے 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





مور وکیا ا وچ الپ لپ یکیا۔ 

واعا کی ا نکڑ یو ںکوسلایا جا نے خیا لن ےکک بلا جس ہچتیوں نے ایک تو 
مبا ےکی کی تکا اتقام لیا ٠‏ دوسرے وحعدتتگ کو پادہ پاد ہک دیاءاود رسب چچتھ ان کے 
پاتھوں ۓےگروایاہ جوا ےکہلاتے ہیں۔ائ یکا ناس سمازش ہے ہلھرانٰی سان !''۔ 


(امام حسین ظلہاورواقعه کربلاص:۳۷۲) 

ان دونوں حعقرا کال کون م لان ہو تی ئل نظ ہے ۔اک را ںکابظاہ مان ہوناجابت ہو 
بھی جا ۓتکوئی بک با تی مکیونکہ اب لکتاب اپنے مفادا کی اط رسب چچنوکر لی ہیں۔ 
”َمْرَ٤“(اڈگار‏ )شع لکے ہا؟ 

ابآ پسیدافاروق اعم لہ کےأس ارشا دی ایک مر بچرخورفر اہ جوم پھسلو ز لاق کر پچ 
ہیں .أنہوں نے ائ لکنا بکیعورت سے شاد یکو ” جمسرة “(اثگارہ)فمایاتھا۔ یمان الک لق خابت ہواء 
چناٹیمیسون کےتسم ےک لکردوادگا دا شع بناک اگل بیت نیو تکوجلاکر رکودیا وق تر وش مد یدمنور ہکا 
جارا کیا گیا :ہوک می لکھوڑے اد ھھے گے اورکئی روزکک اذان وڈمازمعمٹل رعی او ربچ رمک اک رہ پمیر 
ےک معظمہ بخفق سے پٹ ربرسائے لئے یکس خلا یکعبہاوردوسر۔ ےرات ج٠‏ لکرراک ہو ۔ برسب اھ 
اس :ید کے پاتھوں ہواجویسونئیسی '” جو “اش عل تھا .جب ےک امیرائل نت ای میسو نک قد انل 
تعالی لہا“ کےالفاظط ےو ازرے ؤں- 

ذراسو ےتسب کال تاب ءمنوامی معادیراورٹسون کے ملاپ سے بی یدک شکل مج ںکیماشعلہ پیھا 
ہواکراس س ےم الام یس ایآ تگجوڑک شی جوا بکک بک نا میس نے رد اورردز بروزیلتی بی جا 
ری ہے ۔تقاضی اطبرمبارک وی دیو بند کھت ہیں : 

”افو ںکحغرت موا یٹ یآکھ بند ہدوت ہی شا مکی طرف سے جس فسلیستاورردیطرز 

سیاست الام پقم لآ ورہوئی اوران اخیلہ (چھوکروں )کے اٹ واققار کے دو پاسے پروان 

چڑ نے کا زی موق ات ھآمگیاء جونوام کیج یکلومت کے قیام دبقاکے ليیے بیز ید ردان اعبیر 

الد بن زیاد رن سعدکی ط رح سئی سیاست دانو کو یککام یش لاۓ :]سک ہابت روہ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ جا‎ 2131331. 


خبورواقۂہکر بلاکیشکل یں ہوااورحیت نے و ہکا مکیاک ہآ تک الائی دیادست ور پان 
نک رآری ے'۔ 
(سیدیتا علي وحسین رضي الله عنھما٥ )۱۷٦۶۱۷‏ 

قاصی اطہرصاحب سے ددیاف تکیاجا ےک ہوامیرادرحیت کے اس بمکا موجرکون ہے؟ جناب والا! 
جم سکوآپ بچانا جاے ہیںأ نہوں نے بی ىہ جم بنایاتھاءبعدوالوں نے صرف ا کاٹ نآ نکیا تھااور ا نکی 
میں بندکرنے کے چھماوبحدووسب ۷ر بادی موی جو پکھ چے ہیں- 

سو کر بتایے !ہمارے چچجلنمیں ایس سال دورش پاکمتان مس سان زیادوں پ جو بے درف 
نار گرب ہوئی کیا ا سکاسبب فا دہ چھوکرے ہیں جوکلا شکوف اورگن چلاتے ر سے یادوکروکھنڑا لبھی ہیں جو 
ایی لوک ںکو پید اکر گے ؟ یادرکنا ایی کہا لکتابتذ ہار ےشن ہیں چیک رجن سک مھ رانوں کے ذر یت ال 
کاب انی روہ پالیسیاں میدا نل یں لا تے ہیں دہممل تما نبھی ہمارے ای رم وشن ہیں ۔خودانصاف 
فرما ہے اھالی جی میس (2017 ء یس ان لکنا بکی خوائش وایماء پر سیل نشم وت پر ہحمل ہکیاگیا کیا اس جم 
ہار ےجگمران برابر کے ش ری ک نویس اکن تر ہوا رے علا ہکرام اورائگل ا سلا وا مکا ال کا بک ال 
سازش لکی وج سےکلومت پاکتا نکومور والرا مہ را:اورً لپاٗ کککولا ہو کیما؟ 

کاش افاروقی پم یہ کے ارشادات پگ لکیاجاجااورائ لکنا بکواپتاقر یب زہکیاجاتاادرآ نکی گورل 
کواپےگھروں می نرلا یا جا تکس کونب سےا بکک بدلن تدد ھن پڑتے۔ 
"الله اخمَله ماد کا کلام 

حدیث ”الم اَل ادا تهب اخ بو' کم وضو ہونے پر جنمی د لال پیش سے گے ء 
آ خی ایک مرج ران کے خاصہی لورفر ا مج 
١‏ اسلام می سر خوا تی نکولونی ہناااورا ننس پازادرٹش برا ےفروش تک ڑاکرنا 
٢۔‏ -سمیکرمہ مھ یمنورداو دجن وظی رہ عقامات پرافعا ل تی کاارطا بنا 
سیدنااہکن عیااس لہ کے نا بائغ ٹیو ںکونا نف لک رانا 
ب- سینا اماغ تن کی شہادرت فاج ہکوعیبت ھا 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





70 


۵۔ 


اوت 


ےا۔- 


نکی دصا لک خرپرنول ہوا 
انیس ا نگارہ کین دانےکوڈ ا ےکی ہجاے پییےد یا 
مات نوک پا کے باوج سوناءرشماوردرنرو ںک یکھا لو ںکااستعا لک رتا 
انار ظچ کے بارے مل اعت ہنہوی پا کے باوجودان پردوسرو ںلوز ید یا 
میز پان صلی شا سد اواب انصاری نہ پر جاک نااور بےےاعقائ یک کےا نکی می نکرنا 
حضوراکرم ا کی طرف دوک فہد تکرنے پرخا مو ر بنا 
صحاہرکرام ڈلکوزکیاں ریا 
اپنے ساب نف سھاہرکرا مو ضھے کےساتھ پان لکہنا 
حعد یٹ نو یکو ”ھنة “فسادی پا تکتا 
رشوت لیاد یتال( مفی ہین شعبہ سے چاول رشو تکر٤)‏ 
ال عم ری سے ما لکھانا 
نا نل۸ 
بیعست زیر کے موامل جم لکل بندو ںجھوٹ إولڑا 
ون 
عید بین سے پل اذا نکی برع تکارگب ہونا 
گی رات کید ین ی سک کنا 
لع ھدوا زکید ین پرمقد مکنا 


2 مساجید کیمنبروں پرسب حم اوران تگرنکرانا 
- یز دگی ولیعبدی یں ق رآن وسنت اورغلفاءراش رہ نکی خلاف ورزی//نا 


اج کے بعدادریٹی سکُل بیوٹی کے پور ےس مکامحاسکرانا 

بیو یکیشرمگاہ کے نیچ لکی وج سےا سے طلاقی دےدیا 

نم پت لکیاوجہ یز یدک ماں میسو نکا شی خیرد یناور موصو ف کا اس پل ن/ا 
فا میسو نکی خی کی وجہ ے اپنی جاز وو ےکوطلاق دےڈالنا 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 


۲۸_ آریو ںیھ یکرانا 
۹۔ قرآن ہیی خلاف درزییکرتے ہو ال لکتا بکواپتارادار بتانا 
٭*۔ نفھرالی طبیب سےمسلرافوں کےسر بر وردولوگو ںکوز ہرد لاک را نیل راہ ے ہٹانا 

ایمان وانصاف سے باب ےک رج نف کےج می حھادی اورمہدی ہون ےکی دعاے مہوکی تہ کا 
وک کیا گیا ہوہکیا ال سے درب پالاکیانرءارمؤکاب تام منالیع عرل وانصاف محاحطات اور بدعات پیش اُمور 
سرزدہو مت یں؟ 
سید عم ندال یلد خی“ راش کے ہۓ؟ 

کیاوجہہہوئ ی کہ امیرشا مکاشارسحالی مکاحب وتی٠خال‏ المونشین اورتضسور حل کے نما زی ہونے کے 
پاوجودغلطا و راشد بین یس وسکاء جآ نکی وفات سے ایک یا جن سال بحد پیدا ہو نے والا نوامی یکا لیک 
ٹس ۹۹م یس ۳۵ا ۳۸سا لکی مرج خلیہ بنااوردوڈھائی سال کے اندداندرعدل وانصاف اوررشدوہرات پ 
خی ایانظام ےد اکراصت مسلم. بالا نفاق انیس سد امام تس نکی یو کے بحدخلیدہ راشر صلی مکرنے پور 
بی 
مین مال یز چپ انل یامعاوے؟ 

کیا الگ شی سکہمداو ڈی سا لگورزاورٹیس سا لحمل حا نشی سید عم رین عبدالعز یز یگل 
عھرےبھی زیادو رص موم تکر نے کے باجودنطافت راشمد ہکی رح نظام تردے ‏ ےجیک سید نا عم ری نعبدالھ زی 
لندنے یی سال یل أ سم ارک دورکولواد یا لوک کھت کین اورپ جن پرجبور ہد گےکسید نا عمری نعبد 
العزی: یل ہیں بامعاوی؟ ال دا بی ہی ںکہ ذ بنوں می ا سوا لک پیداہونام٢مول‏ با تن بل بہت 
اہم بات سے اورپ را کا ز باوں پناس ےبھی زیادد اہی تکاعائل ہے ۔کھا اتا ہ ےک امام ان البارگ 
رن ال علیہ سے میسو لکیاگمیاق أنہوں نے فرمایا: 

راب دحل يف مُعَاويَةزعء) مَع رَسُوْلِ الف خَیْرَأُواَفضَلْمِنْ عُمَرَينِ 

عَبُد الْمَرِيْر 

”نخبارجورسول اللہ مل کی معیت میں محاومہ زیم کی ناک یش واٹل ہواوہ عھرین عبر 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


زیچ سے ہت ال ۓے'۔ 
(الشریعة لل؟جري ج٥‏ ص ٢٤٤٤۲؛‏ فیضان امیرمعاویه ص۱۹۰) 

”الس یعة مآ جریي“ ک ےعلق کے بقول ام قو لکی سند می پچ ول مت روک راو ہیں ان ٹل 
کت ہو :امام این السبارک رقیۃاللہ علیہ ایے دانا کاقول ہویں ہوسا.ذراسوال وجواب مس فور تو 
فرما ہے !سوال مطاق صعالی اورتا تی کے ما ضلہ پیل ؛کوکلہ بت2 ہو ںکڑیی معلوم ہ ےک صھالی جالچی سے 
اخل ہوے۔ پسوالارصی دپخصیتوں ک یتح ہے جواپنے اپنے وقت مس اقتزار ہرد ہیں۔ 

لاج اگرسوا لکیاجا ۓک پکششیت عدل واماخت اوررشدو ہداب گر یع بدال زی :کی خلابنت فض لی 
امعاد یکین ذکیاجواب ہوگا؟اگر جوا کہا جا ےک معاو یہ کے شی سامہاققہ ار سے عمرینعبدالزی: کے دوڑائی 
سال انل تا پھرسوا لقائم ہو جات اک ایا کیو ہوا؟' 

سکوبوں بے اگر دس ینف کوتضوراکرم نپ کی معیت می کسی خزووی شیک ہونا نیب ہوا 
ہواوروو میدران پچھوڑکر پھا گت ہوء دو نما ز می لآ پ کا مقنل کی بنا ہو کاپ وی رپا ہوہاپنی آگھوں سے عدالت 
مصطفوی نایم کا مشاہ ؛کرتار با ہہ رد خلا ء راشمد بین یڈ کے دو رکا مشادہجھ یکرتار ہاہواور !نس کے پاورد 
رشدوہدایت اورعدل واتصاف مل ا کا تقائل ایک تا بجی سےکیاجانے گے ا کا مطلب بہ ےک کل وچ 
ہوراے'۔ 

اس تقیقت یو ںبھ یمبچھا جاسکتا ہے۔ ملاک رکا نات پست وہالا می ایم ترین ادارہ یلیم یافکسی 
فس۷ نال بعد کے اہیےےپو جوان ‏ ےکیا جانے گے جم کو س ادا ہم ق دم رکنابھ یتسب نہ ہوا ہو ال شل 
فصو رکا ہوگاءاوارکایا ٹف کا ؟مطلب ہے جک بعدوانےتو جوا نکو نا مع مکا جات مل کی عحبت 
وتر بی ت نیب ہو اور ہی أ سکس دور کےعطل کرام یچ جی ےط ہکی سکلت دمعیت نعیب ہوگی وا دو نظ 
اس اداد ہکاکگورسں دوس رےححقرات سے پڑ تک کر عدل ورشدکی ارس سند نے می لکامیاب ہوگیاٹس سے اس 
کےأنض پیشرپحرد ر ہب نگل دج ہوراے'والامتاللہ ہ ےکیکیل؟ 

ما ری نکرام !اگ رآپ نگل ور ہوراۓ کو جاننا چا ہیں ق امام این ال ارک رت ال علیہ )١(‏ کے 


(؛> م ٥ف‏ ے۴ ءاو ر۸" پاام اہن المبارک رح اللکاایک ادرقو لبج یکر چچکاے. اس دوبار ودک ج- 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





قول کن تو ج ا می کو رفرمانمیں چوک مکتاب 
لزا کے مقدمہمی سم“ ٣(‏ ]پٹ لکرچچے ہیں۔ 
غلافت راشثردے کیو ںروم؟ 
موہ ایی نشی رم ال عل کھت ہیں: 
”منماع وت پر خلافتہ حق داش یں سال رجی مک سید ناماس نکی تل کے چھ 
میے نتم ہوئی پل رام ومن نعر: ین عمبدالھ :شی الطدتعا لی ع نکی غلافبت راشدہ ہو اور 
رز انی حضرت سی نا ایام ہدری شی الد تھی عنہ ہوں گے“ 
(بھارِ شریعت ج١‏ حصە(الف)ص ۲۰۷ ءمکتبةالمدینةء کراچي) 
تا ئے اووخلافن راشد وک فرست می لآنے سےکیول رہ گن ؟ می راایمان ہ کہاگ رحد یٹ ''اللْهُمْ 
اعلۂ خاد...“ خیرم وضو ہوئی تو رن ے بڑاخلیدہ را شور :وت کِو كيا وضو دی جا دعا 
خلا راشل بن :اپ مس سےصسی کےون می ںبھی منقو ل نی لان سب سے بڑ کرت کیا نکاشا رت غلنطا داش بن 
می یس ہواء کان سے لیس سال بعد ار پانے دالے فا داش بن یڈ شار ہوتے ہیں۔ 
ادا رتو رفر مات ےکییھا یت ٠وت‏ یک گکتابت :خال ال یش نک نت ایراللهمٌ اجعَلَه َادي ھدب 
اخ یہ“ دعاکی٥تبولیتکہاںگی؟‏ 


عدمٹ أُم7ام اورامرغام 

تام ترام بت لھا ن ری الشکنہا سےنقول مینی نکی ایک حدبیث سے امیرشام کے لیے نقبت لہ 
نت ہاب کی جانی ہے+أس سےنظرس راک رآ ےنگل جانا میر تی رک ےبھی خلاف ہے اورامات داری ے 
بھی منانی ہےءاس لے می1 خ رم اس پرکفشوکرنا ضردر ی تا ہوں۔ چوک اس حد یکو نین فیضالن امیر 
معاو ان بھی نشرک در خکیاے :لہا تی کےالفاظی فلس یدد تا ہوں۔ و وھ ہیں: 

”حفرت سیا ام حرام دش اندتھالی عتہا فرمای ہی ںکہ مس نے رسول اوڈ ی٥ی‏ ایل 
تعالی علیوالہ ول مکوفر ماتے ہو ۓ من :ہیریی ام تکا پہاشکر جوسحند رجش چھادکر ےگا ءن 
( اہ رین کے لی (جنت)واجب ے۔(بخاري: کتاب الجھاد والسیر باب ماقیل 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 





فی قتال الروم۲۸۸/۲۰حدیث: ٣‏ ۲۹۲) 


خرت ست نا م,کّب اللہ تالی علیہاسل عدیٹ پاک کے تحت فرماتے ہیں :ال 
رواایت سے نظرت سینا معاوے شی الف تھا لی حن کی فضیلت ظاہرہونی ےکیوکہانہوں نے 
سسندریی رات سے پہلا چہادکیاتھا: جن سکی ال نے ب یکر ی ری اتی علیہ والہ بل مکو 
خواب مس ارت د تی اور جن لوگوں نے ححضرت سیا معادے شی الڈدتھا ی عدد کے پیم 
کے چہادکیا تھا نکورسول ا صلی ال تھی علیہوالہ مم نے انی نت رارد یا ءعلا عویرت نےکیھا 
ےکہبیبیا ہین نرت عثال گنی شی اتال عنہ کےز مان میس تھے ۔نعقرت سٹ راز بی رین 
یکر رۃ ال تال علیہ نے فرمای:امی ومن جضرت ستن عثا نکنی شی ال تھی عن کی 
خلافت میں حضرت سرن ام رمعاو یہ ری اڈ تھی عنہ نے مسلمافو کی قیاد تکرتے ہوئۓ 
ٹل می چہا دی تھا وت ا شب دو بین امت زی ا تھی عنہکی ز وج جفرت سی را امام 
شی ار تھی عنہا بھی ان کے سا تھی ۔ جب 9 سمندری مفر ے وا ھی شی کی جھازرے 
ات یتشچ رپسوار ہی اورال سےگرکرشبیدہولئیں ۔ابن لی نے یا نکیا ےکہ ینزو 
اٹھائوس جچجری ال ہواتھا۔ (شرح ابن بطالء کتاب الجھاد والسیر ءباب الجھاد 
والشھادة الخ٥٥/۱۱ءتحت‏ الحدیث )۲۹۲٢‏ 
(فیضانِ امیرمعاویه ص۱۷۲) 
ان حفرات نے بفاری کےجس مقام سے بیحد یٹ لی ہے ا ںکائمل حوالہ انہوں نے دے دیاے 
ایک مر پور سے دکیلیش ۔اس مقام بر جوسند ےس شی سیوا ترام ریش اڈ دعنہا سے روا تر نے وانے 
جن راوئی ہیں سب کے سب شامی ہیں ۔ چتاغچاما چینی اورحافطکسقلا لی ھت ہیں: 
الاسْنَادُ 19 شَامِیْونَ. 
”ا سکی سن کےتمام کےتمام راد شا ئیں“۔ 
(عمدۃالقاري ج٤‏ ۱ص۲۷۷؛فتح الباري ج ۷ص ۱۹۰) 
فص بھی ہیںء چناچرزالدین معدان اورڈ رین یز ید دوفو ہصی ہیں اودہم ا تل این زیادالبالی 
کے عالات کہ چے ہی ںکریضل کے لوگ سب سے بڈ ھکرسید لی یچ کے وشن تھے ۔ببی وج ےرمک 


۶۲۵۰۵۳٠۱۵۵ ا‎ 2131331. 


الرکریشی نو رین یز یدکواکر چرعد یٹ مس کہ امیا ےگ را سکاشار شما می لچھی ہوتاہے۔ چنا تچ امام ان 
سحدء حا فظ رنج اکر حافظط جمال الد گن عرئی اور حا فطاع سقلاثیٰ کت ہژں: 
”ا سکاداداکِ مین می عبت مواو یہ می اشک رم تی کے اتھوں ما راگ یاتھا ءال 

لیے دوج بھی سیداصی کا ذکرکرما کنا لا اجب زج قعلی یی “(زئی ا رہن کو 

پنڈئی شک رتا جس نے میرے داد کی “_ 
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد ج۹ ص٤۷١‏ ؛تاریخ دمشق ج١١ص١٦۱۸؛تھذیب‏ الکمال ج٤‏ ص 
١‏ ؛تھذیب التھذیب جح۱١ص۳٣ ٥‏ مختصرتاریخ دمشق ج٥‏ ص )۳٥٣‏ 

اس سےمعلوم ہواک دو نع تھااورکابو طذ اک ش روم یآ پ امام ای نیل اوردوسرے علاء 
گرام کے والدے پڑھ کے ہی سک سید نیقی کے رشن ا پٹ کو چڑھاتے رج تھے جس نے سید ای 
لیا کے سا تھ جنک یم وہہ بفارکیککاراوکی ہے اذا ات دم مان د کیا عبال؟' بخاری میں 
جس راو یکا نا مآگمیاد وس رکعمت پاگیاء الہ بفاری می امہ ایل بی تک یکو یگ کی شی کہ دد سی (امام 
فرص دق یق )جوصدقی وصناکی وب ے ماد نکہلا فی تی امام بای نے ان ےبھی روا یتیل لی 


ہق بک ا نکرد کک ل تج قول ے؟ 
مین ”فیضان امیرمعادی 'نے ال عد یٹک تشم ائن بطالل کے حوالہ سے جومہق بک یتشرحح 
یی ہے کیا وۂکک ل خر انیس تا قبول ہوگی مبقب ای عدی کی روسے فقط ماد پکانڑیں بللہ پزیھ 
بی کی فضیلت کاب قائل ہے۔ چناچرحا فطداینچجرمسقلای اورامام چڑنی رحمد ہا کت یں: 
قبال الْمهَلبْ : فی هذا الْحییْث متْقَة َِعَارَِةَِه او من عَزا ابر 
مه ِلد تَرِيِد :َال مَنْ عَر مَيبَة يضر 
ہس ا ےہا ال حدیث مل معاو یک منقیت ہے کینکہ وہ پلہنش ہیں چنوں 
سمندری غزدہکیاءاورآن کے ےب یدک تقیت ہ کوک دہ پاٹ ہے جم نے می ٹر 
کاخزدہی“_ 
(فتح الباري ج ۷ص٦۹ ١‏ عمدۃالقاري ج١‏ ۱ص۲۷۸) 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 





ہن بکاریقل علامائن بطال نے گان لکاے- 
(شرح صحیح البخاری لابن بطال ج٥١٥ص‏ ۱۰۷) 

شی ضا مرسعار ےکاخ 

علاما ئن بطال نے معادبیادر یزیروو ںی نخیلت خ لجل بکاية ل أ ‏ حدمٹ ےق تن لکیاے 
ج باب نا قلی فئ قعَالِ ازم ں ےشن حد یثم ۲۹۲۳۴ مین فیضان امیرسحادیانے اپ یکتاب 
میں عد یثق اف لکی ےگ شر ایک اورعد ی ٹک دن اکر دہی ہے اورحوالحد ی ےگ ۲۹۲۳ کا داے-۔ان 
کے در خکردوحوالکاباقی حرج یکن حدیث کان نکی ہے ان حصفرات نے این بطا لکی جولی شرح 
نف کی ہے دہ ہفار کی حدیثٹ ۲۹۲۴ کےق نیس بح ینہ ۴۶۸۸ کے تحت ہے۔ لی الہ یک ہا نہوں نے 
”فیضان امیر ساد ایی جوحد یف لک ہے ا لک تر می ہاب نے معاو یہ کے ساتحرآن کے بے نید 
بھی منقیت با نکی ہے لہاان سے معلو مکیا جا ےکک کیادہ یز یدکی فضیلت کےبھی ال ہیں ؟ اگ ال ہوں ت 
پھر 'فذ أؤٰ جوا کا ج فی أنہوں نکیا دوی: ید کے بھی مانفاپڑ ےگا اور ظا الیک یکھا لی ہے نس یس 
”فان امیرمعاو یا کے م وشن تل بہت اگ بے ہیں۔ 
تمل٣۳اسال‏ موا ف کیا پاکتانی عداات ے؟ 

تق سےکرحخرت حا نف وہ کے دہ رخطافت یش ۴۸ھ یس امیرشا مکا برک میڑے پہغزدوکرنا 
نکی ایک خی ان اس نزدو یں شرک تکوآن کے لیے وجوب جنتکا سی بکہناس دم لکی بنا یہ ے؟ ۸ھ 
سے نےکر٭۹ ہ تک ۳۲ سالوں یس جو پان سے +واومَبَاء مور ہو جا ۓگا؟ 

عدیث”اللْهْمُ ال تماد مد“ کے خام یی جوموئی موٹیمیں(۳*۴) با تیں پی کک سکیاو 
سی ازصدور ۸ یی می موا فکرد یھی ؟ تق رن توف بحاے:هِفْمَنْ بُمْمَلْ مال فَروالع )> 
رکگرتسو کرک یاگیاک ۱۸ نی ے۹۰ تک سب معا ف؟کیا تی لک جک فزد بد ری ماننی؟ 
۸ عھ میں جنت اور ے۳٣‏ مل :ار 

پل ۸ میں تہ آپ نے انی تقر ادرے د ین ۳۴ح یش جوانس اون کے اتی کو کک 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


طرف بلانے والاکہامگمیاء اس ک ےت یآ پکیافرماتے ہیں؟ امام ار کھت ہیں : 
حیْ عمكرقة ءال لغب ولیہ علي اك بی اي سعنّد ء فَاسْمَقَا مِیْ 
خدئیبء فَانْطَلَقء فإذَاهُو في خابط یُصْلِحُة :اذ رِداء ۂ فاختبیٰ الم انا 
ثُسَاءخعیٰ ای ذِتر بنَاء المَسجبِلَقَالَ: کا مل لِنَة وَعَماز لہ 

کہ لی 39ء فَسَفَسَ اشْرَابَ عَنۂ وَقَال : زع ما تل لْنة 
لخَِهہ يدُعُوهُم إلی الج وَیَدُغٰونهإِلی ار 

”فک رمہ ما نکرتے ہی ںکیسید نان عیال ول نے بج سے اوراپنے ٹٹےعلی سےفرمیا: 
تم دوفو ل نحضرت ابوسعید اد کے پاش جا ادران سے عد بی ٹکاسما غکروہ لی ١م‏ دونوں گئ ؛ 
اس وق نضرت ابوسعید لہ اپے با گی اصلا حکرر ہے تہ دہ اپٹی اد کے سات اپ یگھر 
اورکھٹٹو ںکو ہا ند ےکر ٹیٹھے :پل رنمیں عدیٹ نانے مآ تق کی دک تی رکاذک رآ اق انہوں نے 
کہا: م ایک ایک اینٹ اھکر مار ہے تے اد رخرت مار دودواشٹیں اٹک لا ر ہے تھے ۔ نی 
ریم حیلم نے نیس اس حال مل دیکھا تن ےی مھا کی اورفرماا: مار پردرمت ہہوہ ا ںکو 
ایک بای بجعت لکر ےکی ہیر نکوجن تکی طرف بل ےگااوردہ ا لکودوز غ کی طرف 
بلائیں گے 


(بخاري ص۷۸ حدیث ٦٤٤‏ ؛وص ٦٤٤‏ حدیث۲۸۱۲؛مسندأحمدج۳ص۹۱وط: ج٤‏ ص ۲۲۷ 





حلیث۱۸۸۳ ١‏ صحیح ابن حیان ج٥١٥ص‏ ٥۷۷۹٥٥٥٤حدیث۷۸ء۱‏ ۰۷ء ۷؛الجمع ہین 
الصحیحین ج ١‏ ص٤٦‏ حدیث٤‏ ۱۷۹ ؛البدایة والنھایة ج٥‏ ص ۴۳۷۱) 

وپ دسالا ۲۸ھ رٹ ت٣‏ ش لچ وی پر سالار ہے ۔۔وہال انیس تاویل سےجھتی بنا ےک یکوشٹ لکی 
فی اور یہاں ا ںمر با”الدَاغوْنَ لی الا “'کہامیا ہے ذ را مطابقت کے بیا نف ادگے! 

بی یاد ره کہ کر غزدہکی فضیلتکاذکر ہار ٹل ہے جکہ بیعت روا نکا کرت رآن می سآ یا ے 
اورساتحدی فرما اگ یاہے :امن کت فینح لیف (ت جس نےعہ دق ڑا نے اپ 
بڑےع کو اک رالل تی نے بپتنییہ تفر مائی ہوئی فذچھر یھنا باہو تاکہ مت رضوان کےشرکاء بعد جو 
چا ںکرتے پھر ان ےکوئی مواخز وکیس ہوگا نان جب بی کی قذ اب ای اکنا ران کےخلاف ے۔ 


۶٣۵۰۰۵۷۸۵۷۸ دا‎ 2131331. 


اد رک ۓگا!یدت رضدوان کے شرکاء میں ےن صھا خر عثان بن عفان لہ کے اتمین کے س رخنرلوگوں 
میس سے تھے ری اک یمبدال مان بن عدرمس۔آ پکا ان کے بارے شلکیاخال ے؟ 


ےا بی می لپن اکاب را کااظہار 
”العمَال بالُوَ اتیٔم“ باا ش۸ ھ یش ہرک جیڑ ےکا کارنا ایک خولی ہےاوری کاخ یکاافارے 
انصاقی ہے فواو واج بن لیس کی خو لیج یکیوں نہ ہوریکن ے٣‏ < مس اُ نکی ایک خلا“ راشدکی اطاعت ہے 
روگردا یکر نے ء ران سے بر پپکار ہدوت ےکولاوقن نے معموی ننس مھاہانہوں نے اس روگر دای اور جک کو 
کاب وسنت سے روگر دای کے متراوف قرارد ہا ہے ۔ اس مقام پرھی ری ز با ن نک ہے ٹل پچ سک کی بمت 
نی رک1تا: الہ ٹس اک بر کے الغا نذش لکرد بت ہوں ۔ ماع یا ری رم ا علیرعد یٹ ”الم ال اض مل 
نٹ کر نے کے بحدہ خرمیں :تیاغ کر تے ہو ےکھت ہیں : 
بن پھنڈا أَه تکان فی الاطن بَاظیا ء فی الطّاه ِئْنَسُیِرَابدم عُنْمَان 
مُرَاعِبٔا مُرَاہّا ء فَجِاءَ ھهذا الْحَدِیٔث عَلَيْه نَاعِیًا ء وَعَنْ عغَمَه نَامِیا ء لکنْ کان 
ذلک فی الکتاب مَسُطُورَاء فَضَاز ِْدۂ کل من فی اْقرْآن وَالَْدِیْث مَهجُورا. 
َرَجم اللَهمن انضَق وَلَميَعَصّبْ وَلَمعَسّف ء وَتَوَلَی الافیضَاۃ فی الاغیقادِ ء 
لیقع فی اي سیل راد نار وَحَِ بأيُجبٔ جَميْم لال 
وَالصٌحَبٍ. 
”نپ اس سے نظاہرہواکہ دہ بالن میں باٹی تھے اورطا ہرأاقصاصس عان(یچد کی آڑ 
نےکر وکھاواکرنے وانے تے۔بیل برحد یث الن پیل نکر نے والی ہے اورا نکی اتا سے 
رو نے والی ہے ملین وتی کر پا جونھش لککھا تماق ان کے نز دریک جو پت رآن وعد یٹ 
یس مر تا سب موک ویا۔ ہاوفا کی شس پرشت ہدجس نے انصا فکیاادر 
تحصب و بے راہ روکی سےکنار کیااور اختقاد می ا تا لکوکبوب دکھا مک وہ زشمد کے رات 
سے ہہ ٹک ررافریت وتاصوییں میس جا نہ ہواو رش آل واصحاب سےحب تک ۓے '۔ 
(مرقاۃ شرح مشکاۃج٠‏ ۱ص۰ ٢٢۶٠۲۰ءوط:‏ ج۱۱ ص۱۸۰۱۷) 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


[ الافضت اتیو سر سان نعل مار اتا 

”فضاز جندۂ تل من ھی القرآن لی م>جوا“ (تزان کےنزدیک جو ہق رآن وعدیثٹ 
مرقو تھا سب متروک وکیا کاجملہز بان ےئل جاتاتذ آسان ےک نگم ےککھنا سا ننیل۔ وہ ایا 
نے پرکیوں جورہوے ؟ یس لیک انی سعلو مھا صلی یع الْشزآن وَالقرآئ مع خلیٰ“ ےڑا 
قرآن سے منرموڑن اور خی مع اللعحق ای مع خی“ سے ارا فک ناقرآن ےتخرف ہوناے٠‏ 
وب نیں بییی معلوم ھکیلی سے بے ےک رسنتکابچھ یکوئی ا لیس مکیوک ا مالین رشی ارڈ عتبا نے ف مایا تھا: 

عم اس اد 

”نسیدنا می لودقاملوکوں سے بڑ کرسنت کےعاکم ہیں“۔ 
(تاریخ مدینقدمشق ج٤١‏ ص۰۸٣‏ ؛مختصرتاریخ دمشق ج۱۸ ص٢٤‏ ؛الاستیعاب ج٣‏ ص ٦٢٠٦‏ 
الریاض النضرۃ ج٤‏ ص۱۳۷ ؛المناقب للخوارزمي ص۹۱؛موسوعة العشرۃ المبشرۃج۱۱ص۷۷) 

ابی لیے طای ار رم الشرعلیہنے موصو فک رآن وحدیث ددقو کا جار ککپاے۔ 

تب ہ ےکئی ای کطرف اپنے اسلاف سے اس ق ریت ہ ےک ہم چو دمو سی صدبی کی اسلاف 
کے افکارونظریات سے روگردا ی کوسیں سے روگردائی کے متراو ف چر ارد ہی ہیںءاوردصری طرف أ ٥ل‏ 
سے روگرادل یر ےکوفط خطا ے اجتچاد کہ دا ا جاہے وش نکو پش تک ناق رآ نکو یش کر ناہے ؛ جن سے من 
پیر ق کن سے من پیا ہے :جن نکو چا ہنا تضور حا کدچا بناہے :جن نکوازیت پہپچاا حضور یم کوازیت 
انا ہے بن سے مود تک کا لی سے صودت ہے اورشکن سے عدراو تآ یہ سے ندادت ہے ۔ارے 
بھی وق افصاف فر ا میں :جس استی ےعب تکوا یمان اورفش لکومنافقن تکہاگماہے اس ستیکاا ڈیا کے ایک 
عا لم دین کے برابریھی مرج ٗی ؟ ا یا کے مو لان سے اختلا فکر نے وال خ رخ ازائل سنت ہو جا اورسولا ۓے 
کانات لیے اختلا کرنے والاء جن ککر نے والاءأُخیس پربیشا نکر نے والا ا خی اذ یت پاچچائے ولا 
أن کی نک کر نے والا اویشہروں پر یس ست شتمکرنے والاج رکا تن قرارپاۓ؟فیا للعجب! 

۸ھ یل بگرئی غزد ہکا جو سال راہ ے۳ ھ ٹس دی پرسالا رکہا لکھاتھا؟ اس بارے می پچ یکنا بے 
ڈوک کے و کا روک نیس :اض اہسے انا بر کے الفا نف لکرنے مج سلامتی بت ہوں جوکہ سے نےکر 
ھ یمور وتک تھا چر شی کے احوال ‏ عادات اورسبرت وفطرت ے پا خرتے۔ ہی نکوخیطان سےتق ون قر, نایاگیا 7 
جن یں راپا یا نکہاگیااو تھی ںی داش کے درمیان حدفاص لت راردیگیا۔ چنا خچرھا نی کھت ہیں: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷۸ جا‎ 2131331. 


2 سرت گا 
أمْرهُمْ وَآمر الم فان :زاللہِتا لٹ زار اث شْنلئن وَأمَرُوا ڈو از 
لم رَأز عَليه أغوَانً اُظھَرُوْۂ 
”سید ناسح جن حذ یفہ شی اش مایا نکر تے ہی ںک سینا مار ین سس 
کے دن فرمایا۔اورسعد بن عذ یف نے بی کردا نکی نک او مکی مکامعا لہ با نکرتے ہو ئے 
کیا۔ لپ نار نے فرماا :ا کشم اوہ اسلامیں لا ےمان اسلا مکاانظہارکیااورکفرک چھپاا نر 
جب أنہوں نے سپ مددگار پا لیے ا سے خظاہرکردیا'“۔ 
(مجمع الزوائد قدیم ج(١[ص۱۱۳)‏ 
اف شی اس عد یف لکرنے کے بعدکھت ہیں: 
وا اَی فی الگییر ‏ وَتَفذ بْ خُلَيْقَةَماْزمنْتََجَمَة. 
س ا سںکطمرانی ن ےکی ریس روای تکیا سے ء اور سحد بن ملیف کے احوال ےآ گا یں ہو ےا 
إاں+عانڈ شی رت لعل کسی نا سعد جن عذ یف شی اٹم کے عالمات دستیاب نیل ہو کے ہوں 
ےلین دوبیپولیس ہیں ۔ چنا خ امام این الیفیشہ رمۃ الڈعلی نے سیدناعذ ضبن بین <دگ ادا دٹش ا نکا 
ذکرکیاے اورو ہیں نکا ہاش( قول صحالی )جھی ذکرکیاہے۔امام بخادکی نے اپ تار یں ُ نکا لک رکا اور 
ان پکوئی جرح وقحد نی سک :ای مرح امام این الی حاتم نےبھ یس یاض کی جرح وتعد بی کے پیر نکاذک رکیا 
ہےاورامام این ان نے ا نکا 2ک رجات شی کیا ہے۔ 
(تاریخ این أبي خیشمةۃص۹۹۱؛ التاریخ الکبیرللبخاري ج٤‏ ص٤٥؛‏ الجرح والتعدیل لابن أبي 
حاتم ج٤‏ ص۸۱؛کتاب الٹقات لابن حبان ج٤‏ ص٤‏ ۲۹؛تقریب الٹقات للشیحاص )٦۰۷‏ 
خیای ر ےکسیدننمارن یا ریش انڈ نارمع طرش بہتتتا طادرایمان سےملو جےءای یےانہوں 
نے مطاقشامیو ںککاف کے ےئم کیاسے اورفر بای ےک ہنیس الم اورفاس کوک نکافرم تکھو۔ ا کا 
تفیل ہہار یکتاب ”الف اَْا ںآ گی ۔ان شا ءا شتھالیٰ- 
یہہاں یب ینوٹ ا طرر ہےکرسیدنعمارین یاص نے مس با تکاا ماف مایاہے أل کےاشمارے 
تتودردا حاد یٹ شی بھی لت ہیںء یہاںلیلو نمو خ تا ایک حدیث بی خدصت ہے۔ارشمادنوکی ما ے: 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





ا الاویٹ الم ضوعاغ 
اَسْلَم الس وَآمَنَ عَمَرُو بن العاص۔ 
لگ اسلام ما ے ادج ومن امحائ این لایا۔ 
(سنن الترمذي ج٦‏ ص۸٥۱‏ حدیث٤٤‏ ۳۸) 
اکس حد یٹ شی ”الام“ ےون لوگ مراد ہیں؟ علام ہی اوردوص ےھ شی کرا مھت ہیں : 
فَوْلَۂ:”٣ُسْلَم‏ الَسٰ“التْهِیْف لِلْعَهْدِه وَالْمَمهْرْد مُسْلِمَة اح من افلِ 
َء وَأَسلمَ عَمرر قبل انم طاقا زَاظب مَُاجرإِی المَيبَة َفَزل لا هذ١‏ 
تیم غلی لهُمْ الما رَفبَةء ئن عَفرُو ربا ءلإِ سام َحم لان 
یشُوْنَ كَرَاةء وَالمَا لاَگونْإِلَا عَْ رَخُيْدوَطَرَاعةِ 
”ارشاویوی ”اسم الناس “شس الف لام بی (ز مان ) ہے اورائل ےمراد 
ش کہ لان ہیں بحخرت رد کس ڈنل اطاعت ہرقبت ادرد یندکیطر فکو خکرتے 
ہو ایان لات تھے۔ ارشاووئی خق اس ام ریہ ہ ےک ہن مک کےلوگ خوف سے 
اومروبن الحا بھیشوق سے اسلاملا ے تھے۔بلاشہاسلاملانے می نا پپند یگ یک یآ می 
کا اتال ہوا ہے جیا یمان فت رقبت وطامعت سے ہوتا ہے“ 
(شرح الطیبي علی المشکاةۃج۱۳ ص۸٣‏ ۳۹؛مرقاۃالمفاتیح ج۱ص۳۸۱؛تحفقالأحوذي ج١١‏ 
ص٤٤٣٣٣٣٣۳؛جائزة‏ الأاحوذي ج٤‏ ص٦٦٠)‏ 
ام ماد ٔ ات ہیں: 
والْمشتی: أنهاسلم قبل الفٌج بِسَنَوِأَْمَتَْيٍ ء وَقَاجر لی المَیبَة 
مزع نَا رَرفَةء کان سم مم انلم نت الشف ء آزاشیلاءِ 
الْمَسلِمیْنَ عَلَی الم وَدِيارِہ. 
معن مہ ہ ےک دو ٹن کہ سےایک جادوسما لن اسلام لاے تھے اوراپٹی رضا وت 
سے مھ یکا رخ کیاتھاءاوردوسرے لو کموار کے ساۓ می اسلام لا ے تھے ءیادہ اپنے ال 
وعیال اورک ریارپسلماوں کےخال بآ ان کا وجہ سے اسلام لاۓ تے'- 
(تحفة الأبرارشرح مصابیح السنة للبیضاوي ج٣ص )٦۷۷‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


مول نا رشیداح گنوج کت ہیں : 
وَالمرَاڈ الس مُوَويَوْمَ الج ء لم کن امام لاو فی ظاجر الاثر سیف 
”الناس“ سے مرادیوم ےمان ہیں ءأ نکااسلام نا رک طوپنکوارہی کےسی ب تھا“ 
(الکوکب الدري علی جامع الترمذي ج؛ ص۸٣٣)‏ 
بدا مرث دولویہمولا :اجکی سہار نود اورش مکی کاندعلو کت ہیں: 
وَلْمْرَاۂ بالّاس مَنْ أسْلميَوْمَ اح مِنْ مُگ َإْهُمْ اسَْمُوا جَْ را رَکھرا, 
”الناس“(لوگوں )مرا کہ کے دن اسلام لانے وا ل ےی ہیں سوہ وی اورلا چاری 
اسلاملا ئے تھے رن یں سے جس سکوا تی نے چا پا تذ ا سکااسلاماسچھا وگ یا“ 
(لمعات التنقیح ج۹ص٦۷۷؛‏ اشعة اللمعات ج٤‏ ص٤٠٥؛‏ حواشي علی الترمذي للسھارنفوري 
ج٢‏ ص ٦۸۱‏ ؛تعلیق :الکوکب الدريللذ کریاسھارنفوري ج٤‏ ص۸٣٣٥)‏ 
اق کے ہبلغ آ پک فص یج کے سفن ہیں شع خشن شلام من خاء ال بل (ھر 
ان می سے جس کو الد تھالی نے ات ںکااسلام اپچھا وکیا ۔اگرآپ اس حدیث اور ا لںکیتٹرت سیر 
عماد جن بقل سے ملاک بڑھیس گا ضرو نیہ پچ جانہیں گے۔ 


اظظارتشگر اورهُعا 

أللذفقط کی بیجدجھ ےک اس نے بھ ماج زک یک بکونخی مو متقبولیت عطاف مکی ہے :اورساتھد ہی 
اس کےُن دو ںکاشکرگزارہوں اوران کے می دعاگوہوں جو میرے حاون ین اورقارمکین ہیں_ ال 
ھا بی اورآنکیس داری نکی ہرخ رعطافرماۓ برشرےگفوظ ر کے اورہم سب کےعوزی: وا ار بک بلا صاب 
مقر ت فرہاے ادزہیں ایل بت سیدال کی مالسلا اوران کی معی تنب فررائے۔آمن! 

سُْحَائ رَيَک رَتِ از عم يصِفُون.وَمَلام لی الْمرَمَلِیْنَ 
وَالْحَمْد ِلَه رَبَ اْعَالَمینَ ۔ 
وەووووچيت 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





ا 


مآخذ ومراجع 


ھ 


حدیت 


الأباطیل والمناکیر والصحاح والمشاھیر: بوعبداللّہ الحسین بن ژبراھیم الجوزقانيء 
متوفی ٥٥٥ھ‏ ءدارالفکرءبیروتءالطبعةالأولی ١٤٢۱ء‏ وط:إدارۃ البحوث الاسلامیةء 
بنارس الھندالطبعقالأولیٰ ١١٤ھ‏ 

الآحاد والمثاني: إسام أبوبکراأحمد بن عمروین أٌبيعاصم:متوفٌٔیٰ ۲۸۷ھء دارالرایةء 
الریاضءالطبعةالأولیٰ ١٤٢۱ھ‏ 

إتحاف الخیرۃ المھرۃ بزوائد المسانید العشرۃ: احمد بن أَبي ‌بکربن إسماعیل 
الب وصیريمشوقّیٰ ۰٤۸ھءدارالوطنءالریاضءالطبعةالأولیٰ‏ ١٤٤٥ھ‏ . وط:مکتبقالرشدء 
الریاض؛الطبعةالأولیٰ ۹١١٤ھ‏ 

اأحادیث مختارۃ من موضوعات الجورقاني وابن الجوزي: محمد بن أحمد بن عثان 
الذھبيمتوقٌیٰ۸٣‏ ۷ھ ءمکتبة الدار بالمدینة المنورۃالطبعة الأولیٰ ١٤٤۱ھ‏ 

الاحادیٹ المختارۃ مما لیس فی الصحیحین: ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد 
الحنبليء متوقیٰ ٦٦٥ھ‏ ءمکتبة النھضة الحدیثیةءمکةالمکرمةء الطبعة الأولیٰ ٥٣٤١‏ ھ۔ 
الإحسان بترتیب صحیح این حبان: أبوحاتم محمدین حبان البستي عتوفّیٰ٣‏ ٣۳ھء‏ 
مؤسسدةالرسالةء بیروتءالطبعة الٹالثة ۸١٤۱ھ‏ 

الأاسرار المرفوعة فی الأخبارالموضوعة:علی بن سلطان محمدالمشھوربملاعلي 
القاري,متوقًیٰ ٤۱۰۱ھ‏ المکتب الإاسلاميءبیروتءالطبعقالثائیة٦‏ ١١٤١ھ‏ 

اطراف المسند المعتلي بأطراف المسند الحنبلي:حافظ أحمد بن علي بن حجر 
العسقلانيءمتوفٔیٰ ۲٥۸ھ‏ ءدارابن کثیر دمشقءالطبعة الأولیٰ ١‏ ١٣٤۱ھ۔‏ 


البحرالزخارالمعروف ہمسند الیزار:إمام أحمد عمرو بن عید الخالق الہزار ء متوقیٰ 


.2131331 ا ۶:۱۵۰۰۵۵۸۵۷ 





نظ 


یں 


۳ 


گے 


نیک 


پت 


ایت 


)۸ھ 


۲ھ مکتبة العلوم والحکم ءالمدینةالمنورۃءالطبعة الأولیٰ ١٤٣۱ھ‏ 

بغیة الباحث في زوائد مسند الحارث: نور الدین علي بن أبي بکر الھیثمي؛ 
متوفیٰ۸۰۷ھءم رکزخدمة السنة والسیرۃ النبویةء المدینةالمنورةء الطبعة الأأویٰ ١١٤۱ھ‏ 
تحفة الأحیاربترتیب شرح مشکل الآثار: إسام اأبوجعفرأحمدین محمد الطحاويء 
متوفیٰ ۳۲۱ھ ءداربلنسیةء مکةالمکرمةءالطبعة الأولیٰ١١٤٥ھ.‏ 

تلخیص کتاب العلل المتناھیة:إسام شمس الدین محمد بن عثمان الذهبيء متوفٌیٰ 
۷۸ھءمکتبة الرشدءالریاض ءالطبعة الأولی ۹١١١۱ھ.‏ 

تنزیە الشریعة المرفوعة عن الأاحادیث الشنیعة الموضوعة: أبوالحسن علي بن 
محمدین عراق الکناني متوفیٰ ۳٦۹ھ‏ ءدارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالانیة١١٤٤۱ھ.‏ 

جامع ال‌ثارالقولیة الفعلیة الصحیحة لأمیرالمؤمنین عمر بن الخطابثچہ:عاطف بن 
عبد الوهاب حماد دارالھدي النبويءمصرءالطبعة الأولیٰ ۹١٤٣۱ھ.‏ 

الجامع الصحیح المسند من حدیث رسول الاڈ وسنتہ وأیامہ: (بخاري)إمام 
محمد بن إسمعیل البخاري ؛متوفٔیٰ ٢٥۲ھ‏ ءدارالسلامءالریاض۔ءالطبعة الثانیة۹١١٤۱ھ.‏ 

الجامع الصغیرفي احادیث البشیرالنذیر: جلال الدین عبدالرحمان بن أبي بکر 
السیوطي متوفٌیٰ۹۱۱ھءمکتبةنزارالمصطفیٰ الباز؛مکةالمکرمةءالطبعةالأولی ۸٤٣۱ھ‏ 

الجامع وھوسٹن الترمذدي:إمام أبوعیسیٰ محمدین عیسیٰ الترمذيءمتوفیٰ ۲۷۹ھء دار 
السلامء الریاضء الطبعةالأولیٰ ١١٤١ھء۔‏ 

جامع المسائید: ابوالفرج عبدالرحمن بن ع لی الجوزي‌الحنبليءمتوقی ١۹۷‏ ھء مکتبة 
الرشدءالریاضءالطبعةالأولیٰ١٤١٤٥ھ۔‏ 

جامع المسانید والسنن: أبوالفداإسماعیل بن کثیرالشافعيءمتوقّیٰ ۷۷ھء دار الفکرء 
بیروت١١٤٤٢۱ھ۔.‏ 

الجامع لشعب الإیمان: إمام أبو بکرأحمدین حسین البیھقيء متوقٌیٰ ۸٤٤ھءمکتبةالرشد‏ 
الریاضءالطیعةالأولی ١٤٤٥ھ۔‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ طا‎ 2131331. 


١ 


تپ 


وین 


1 


لگ 


۸ 


گ- 


و 


الجمع بین الصحیحین:محمدیبن فتوح الححمیدي: متوقٌی۸۸٦ھء‏ دارابن 
حزمءبیروتءالطبعةالأولی ١٤١٤۱ھ۔‏ 

جمع الجوامع: حافظ جلال الدین عبدالرحمان بن أٌيي یکرالسیوطيءمتوفٌیٰ ۹۱۱ھء 
دارالسعادۃءمصر ١٤٣۱ھ‏ 

خصائص آامیرالمؤمنین علی بن أبي طالب :سام أبوعبدالرحمان أحمدبن شعیب 
النسسائيءمتوفٌٔی ۳٣۳ھ‏ ءدارالکتاب العربيءبیروتءالطبعة الثانیة ۷١١۱ھ‏ . وط:بتحقیق 
الہلوشیمکتبةالمعلیٰ ؛الکویٹ:الطیعةالأولیٰ ١٤٣٤١ھ۔‏ 

الزیادات علی الموضوعات: إہام جلال الدین السسوطي ءعتوفٔیٰ۹۱۱ھءمکتبة 
المعارفءالریاضءالطبعة الأولیٰ ١٤٣٤۱ھ.‏ 

السلسلة الصحیحة:محمدناصرالدین الألباني :متوفیٰ ١١١٥ھ‏ مکتبةالمعارف 
الریاض؛الطبعةالأولی ١‏ ١١٤۱ھ.‏ 

السنة:[مام أحمدین عمرو بن أبي عاصم الشیبانیمتوقیٰ ۲۸۷ھء المکتب الاسلامي؛ 
بیروتالطبعة الثالثة ١١٢١م‏ ءوط: دارالصمیعيءالریاضءالطبعةالاًولیٰ ۹١١۱ھ‏ 

سنن ابن ماجة: إسام ابوعبد الله محمد بن یزید متوقٌیٰ ۲۷۳ھءدارالمعرفةء بیبروتء 
الطبعة الثانیة ۸٤١٤۱ھ۔‏ 


رادءھ۲۷٥ٔف‎ 





سنن أبي داود: إمام ابوداود سلیمان بن الأشعث السجستانيء 
المعرفةءبیروتءالطبعةالاًولیٰ ۱٣١٤١‏ ءوط: دارابن حزمءبیروتءالطبعقالأولیٰ۸٤٤۱ھ.‏ 
سنن الدارمی: إسام أبوعبداللہ عبدالرحمان الدارميمتوفٔیٰ ٢٥۲ھء‏ دارالکتب العلمیةء 
بیروتءالطبعةالأولیٰ ۷١٤٥ھ‏ 

سنن سعید بن منصور: إمام سعید بن منصورخراساني مكيء؛متوفٌیٰ ۷٢۲ھء‏ دارالکتب 
العلمیةءبیروت؛الطیعة الأوٰیٰ ١٤٥٤١ھ۔‏ 

السٹن: إسام صحمد بسن إدریس الشافعيء متوفٔی ٢٢٢ھءدارالقبلة‏ الثقافة الاسلامیة ء 
جدةالطیعةالأولیٰ ۹١٤٢۱ھ۔‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





5 


2-0 


کے 


۔٥٣‎ 


اش 


۷۔ 


۸۔ 


و 


“٤ 


۔٤‎ 


بے 


السنن الکیریا:|مام ابوعبد الرحمن اأحمد بن شعیب النسائي ء متوفٌیٰ ٣۰٥ھ‏ ء مؤسسة 
الرسالةءبیروت:الطیعقالاأولٰیٰ ١٤٣١ھ‏ وط: دارالکتب العلمیةءبیروت؛الطبعةالأولیٰ ١١‏ ١۱ھ,‏ 
السشن الکبریٰ :إمام یو بکر احمد بن حسین البیھقيء متوفیٰ ۸٤٢ھ‏ ءدارالکتب 
العلمیةءبیروتءالطبعةالأولیٰ ١١٢٥ھ‏ ۰ وط:م رکزھجرللبحوث والدراسات العربیة 
والإاسلامیةءالقاعرۃءالطبعةالأولیٰ ١٤٤٤ھ‏ 

السنن المجعبی (سنن النسائی): إمام أبو عبد الرحمن أحمد بن شعیب النسائيء 
متوفٌیٰ ۳٣۳ھ‏ ء دارالمعرفةء بیروت >الطبعة الثالثة ١١٤١ھ.‏ 

شرح السنة: إسام حسین بن مسعود الفراء البغوي‌الشافعيمتوفی٥١٦ھء‏ دارالفکرء 
بیروت١١١٢۱ھ۔‏ 

شرح مشکل الآثار:إمام اب وجعف رأحمدین محمدالطحاويءمتوفٌیٰ۳۲۱ھءمؤسسة 
الرسالةءبیروتءالطبعةالاأولیٰ ١١٣۱ھ۔‏ 

شرح معاني الآثار: [سام أبو جعفرأحمدبن محمدالطحاوي‌متوفیٰ۳۲۱ھءعالم الکتبء 
بیروتء الطبعةالأولیٰ ١٤١١٤٥ھ ٠‏ 

الشریعة:أبوبکرمحمدین حسین بن عبدالله الجريءمتوقیٰ ٣٣٥ھ‏ ءدارالکتاب العربي 
بیروتءالطیعةالثائیة ٠‏ ١٣٤۱ھ‏ وط: دارالوطنءالریاض؛الطبعةالأولیٰ ۸١٤۱ھ‏ 

شعب الإیمان : إمام اُبو بک رأحمدین حسین البيھقيء متوفٔیٰ۸٤٣ھ+دارالکتب‏ العلمیةء 
بیروتءالطبعةالأولیٰ ١١٣٤۱ھ.‏ 

صحیح الجامع الصغیر وزیادتہ: سحصمدناصرالدین الأَلبانيمتوفٌیٰ ١١٣۱ھ‏ المکتب 
الإ اسلاميءبیروت الطبعةالغالئة۸ ٤١٤١ھ‏ 

الطیوریات: أبوطاھ رأحمد بن محمد الأصبھانيمتوفٔیٰ٦۷٦ھءمکتبة‏ أضواء السصلف+ 
الریاض الطبعة الأولیٰ ١٤٤٥ھ‏ 

العلل المتناھیة فی الأحادیث الواهیة: أبوالفرج عبد الرحمان بن علي ابن الجوزيء 
متوٹٰی ۹۷٦ھ‏ دارالکتب العلمیةء بیروتءالطبعة الأولیٰ ١١٤٣٤۱ھ۔‏ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


یں 


کن 


۔٤‎ 


-ھم 


ا 


۸ے 


۹۔ 


ا 


۔٦٥٦‎ 


٭ر 


“1 





غایة المقصد فی زوائد المسند: حافظ نورالدین علي بن أبي بکرالھیثميء متوفیٰ 
۷ ءھارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالأولی ١٤١١ھ‏ 

فتح المنان شرح وتحقیق لسنن الدارعي: السیدابوعاصم نبیل بن ھاشمءالغمريء دار 
البشائرالإسلامیةءبیروتءالطبعقةالأولیٰ ۹٤٢۱ھ‏ 


ضردوس الأخبار:حافظ شیرویه بن شھردارابن شیرویەءالدیلميءمتوفٔیٰ ٥٥٥ھءدار‏ 
الریانءالقاهرۃءالطبعةالأولیٰ۸٤٤٥ھ.‏ 

الفردوس بماثور الخطاب: حافظ شیرویے بن شھردارابن شیرویەء الدیلمي 
متوفٔیٰ۹٥٢ھءدار‏ الکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالثانیة ٠‏ ۰۲۱ء. 

الفوائد المجموعة فی الأحادیث الموضوعة: محمدبن علی الش وكانيءمتوفٔیٰ 
٠ھ‏ ءدارالکتاب العربيبیروتءالطبعةالًولی ١٤٣۱ھ‏ 

الکافي الشاف في تخریج أحادیث الکشاف: حافظ احمدبن علي بن حجر 
العسقلانيءمتوقٌی۲٥۸ھ‏ ء دارإحیاء التراث العربي بیروت ءالطبعةالأولیٰ ۸١١۱ھ‏ 
کتاب الآثار: إسام سحمد بن الحسن الشیبانيمتوفیٰ۱۸۹ھءدارالنوادر دمشقءالطبعة 
الأولی ١٤٤٥ھ‏ 

کتعاب الأربعین البلدائیة: حافظ أبواحمد بن محمد السلفيءمتوفٔیٰ ٦ءء‏ مکتبة 
دارالبیروتيءدمشقءالطبعة الأولیٰ ١٤٣٥ھ.‏ 

کتاب الأموال: إمام اُبوعبید القاسم بن سلامءمتوفٌیٰ ٢٢۲ھ‏ +دارالھدي النبويء مصرء 
الطبعة الأولیٰ۸٤٤ھ۔‏ 

کتاب الأموال: إمام حمید بن زنجویەءمتوفٌیٰ ٢٥۲ھ‏ ءم رکزالملك فیصل للبحوث 
والدراسات الاسلامیةءالریاضءالطبعة الأولیٰ ١٤٣٤٥ھ٠‏ 

کتاب الدعاء: إسام اُبوالماسم سلیمان بن أحمدالطبرانيءهتوقیٰ ۳٣۰‏ ھءدارالکتب 
العلمیةء بیروتءالطبعة الأولٰی ١١٤١ھ‏ 

کتاب السنة:أبویکر أحمد بن محمد الخلالءمتوفًی ۳۱۱ھ ءدارالرایةءالریاض ءالطبعة 


۶۲۵۰۵۵٠۵۷ تا‎ 2131331. 





۔٦‎ 


۷۔ 


۸۔ 


۹ئ 


>3 


۔ك۔٦‎ 


۔ھ۱٤٤١ٰیلوألا‎ 

کتاب الضعفاء الکبیر : ابو جعفرمحمدین عمروالعقیلي متوفٌٔیٰ ٣۳۲ھ‏ ءدار الصمیعيء 
الریاضءالطبعةالأولیٰ ١٤٤۱ھ‏ ۔ 

کشف الأستارعن زوائدالیزار:حافظ نور الدین علي بن أبي بکرالھیٹميءمتوفٌیٰ 
۷ھ ء مر سسقةالرسالةءبیروتءالطبعةالأولیٰ ٤١‏ ١١٤٥ھ.‏ 

کشف الخفاء ومزیل الألیاس:علامة(سمعیل بن محمدالعجلونيمتوفٌیٰ ١٤٦۱۱ھء‏ دار 
الکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالأولیٰ ۸١٣۱ھ‏ 

کنزالعمال فی سنن الأقوال والأفعال : علامة علي متقي بن حسام الدین برهانبوريء 
متوفٔیٰ ٥‏ ۹۷ھءم و سسةالر سالةءبیروتءالطبعةالأولیٰ ١١٤٠ھ‏ 

اللالی المصنوعة فی الأحادیث الموضوعة: حافظ جلال الدین عبد الرحمان بن أبي 
بکرالسیوطيءمتوفیٰ۹۱۱ھءدارالکتب العلمیةءبیروت؛الطبعةالاأًولی ۷٤١٤۱ھ.‏ 

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: حصافظ نورالدین علي بن أبي بکرالھیٹميء 
متوفٔیٰ ۸۰۷ھءدارالفکرءبیروتءالطبعةالأولیٰ ١٤٣٤۱ھ.‏ وط:دارالکتب العلمیةء بیروتء 
الطبعةالثانیة ۲۰۰۹ کوط:دارالمتھاجءجدةءالطبعةالأولیٰ ١‏ ٤٣٤۱ھ‏ 

مختصر زوائد مسند الیزار: حافظ أحمد بن علي بن حجرالعسقلانيءمتوفٔیٰ۸۵۲ھء 
مؤسسةالکتب الثقافیة ءالصنائع الطبعةالثالئة٤‏ ١١٤۱ھ.‏ 

مختصر سنن أبي داود : حافظ عبد العظیم بن عبد القوي المنذريمتوفٔیٰ ٦٦٥ھء‏ 
مکتبة المعارف؛ءالریاضءالطبعة الأولیٰ ١٤٢٥ھ‏ 

المستدرک علی الصحیحین: إمام اأبوعبد ال محمد بن عبداللّه الحاکم نیشاپوري 
متوفٌیٰ٤٤٠ھءدارالمع‏ رفةءبیروتءالطبعقالأولیٰ۸٤١٣۱دءوط:‏ قدیمةء دارالمعرفةء 
بیروتءوط: دارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالثانیة٢‏ ١١٤١ھ‏ 

مسند أبی یعلی الموصلي: إمام أحمد بن علی المثنی التمیميءمتوقٌیٰ۰۷ ۳ھ ءدارالکتب 


العلمیةءبیروتءالطبعةالأًولیٰ ۸٤٣۱ھ‏ وط:دارالمامونء دمشقءالطبعةالاولی ١‏ ١١٤۱ھ.‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ ا‎ 2131331. 


ئن 


۸۔ 





المسند: إمام أحمد بن حنبلءمتوقٌیٰ ٢٢٤۲ھء‏ عالم الکتبء بیروتءالطبعةالأًولیٰ ١٤٣۱ھ‏ 


وط:دارالحدیت القاھرۃءالطبعةالأولیٰ١٤٣۱ھء‏ وط:مؤسسقةالر سالةءبیروتء الطبعة 
الأولیٰ ١٤١٤١ھءوط:دارالمٹھاجءالریاض١١٤٣۱ھ۔‏ 

مسند الشافعی مع شرح الشافي لابن الأثیر: إسام محمد بن إدریس الشافعي عتوفیٔ 
٤ھ‏ مکتبة الرشدءالریاضءالطبعة الأولیٰ ٥٢‏ ١٤٦ھ‏ 

مسند الشامیین: إمام أبوالماسم سلیمان بن أحمدالطبرانيمتوفٌیٰ ٣٦۳ھءمؤسسة‏ 
الرسالةءبیروتءالطبعةالأولیٰ ١٤٣۱ھ.‏ 

مسند الشھاب: إمام محمد بن سلامة بن جعفرالشافعي القضاعيء متوفیٰ ٤٤٥ھء‏ 
مؤسسة الرسالةءبیروتءالطبعةالًولیٰ ١١٤٣٤۱ھ.‏ 

مسند فاطمة الزھراء علیھاالسلام: إمام جلال الدین سیوطيءمتوفٔیٰ۹۱۱ھء مؤسسة 
الکتب الثقافیةءالصنائع ءالطبعة الأولیٰ١١٤٥ھ.‏ 

المسند: إ سام سلیمان بن داود بن جارود الطیالسيءمتوقٌیٰ ٢١٢٢ء‏ دارالمعرقةءبیروت. 
وط: دارالکتب العلمیةءالطبعةالأولیٰ١١٤۱مءوط:‏ 

مشکاۃ المصابیح: إمام عبداللّہ محمدین عبداللّه الخطیب التبریزيمتوفًیٰ١٢۷ھء‏ دار 
الأرقمءبیروت.وط: المکتب الاسلاميءبیروتءالطبعةالثانیۃ۱۳۹۹ھ. 

مصابیح السنة: صحي الدین حسین بن مسعودالفراء البغويءمتوفٔیٰ٥٥٦ھءدارالمعرفةء‏ 
بیروتءالطبعةالأولیٰ ٤٣٤۱ھ‏ 

المصف :إمام عبد الرزاق بن ھمام الصنعانيمتوفٔیٰ ٢١۲ھ‏ ءدارالکتب العلمیةءبیروتء 
الطبعةالأولیٰ ١٤٢١ھ‏ وط:المجلس العلميءجنوب إفریقةءالطبعةالأولیٰ ۰ ۱۳۹ھ. 
المصنّف : إمام أبوبکرعبدالله بن محمدین أبي شییةءمتوفٌیٰ٣‏ ۲۳ھ ءدارالکتب العلمیةء 
بیروتءالطبعةالأولیٰ ١٤٣۱ھ‏ وط:مکتبةالرشدءالریاضءالطبعقالأولیٰ ١٤٤٥ھ‏ 
المصنوع في معرفة الحدیث الموضوع : علي بن سلطان محمد المعروف بمُلا علي 
القاريٍءمتوقٌیٰ ١١٤٥ھ‏ ءدارالیشائراللاسلامیةء بیروتءالطبعةالخامسة٤‏ ١٤ھ‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 


۷۔ 


۸۔ 


۸۰۔ 





المطالب العالیة بزوائد المسانید الثمانیة : حمد بن علي بن حجر العسقلانيء 


متوفّیٰ۸۵۲ھءدار العاصمةءالریاضءالطبعةالأولیٰ ١٤٤٥ھ‏ 

المعجم الأوسط: إمام أبوالقاسم سلیمان بن أحمدالطبراني متوقٌیٰ ٣٣٥ھء‏ مکتبة 
المعارفءالریاض١١٥٤٥٠ھ۔‏ 

المعجم الصغیر(الروض الدانی) :إسام ابوالقاسم سلیمان بن أحمد الطبرانيمتوقٌی 
٠ھ‏ )المکتب الاسلاميءبیروتءالطبعة الأولی ١٤٤۱ء‏ وط:دارالکتب العلمیةء 
بیروتء ١٤٤٤ھ‏ 

المعجم الکبیر: أبوالقاسم سلیمان بن أحمدالطبرانيءمتوفٔیٰ ٣٣٦ھ‏ ء دارإحیاء التراث 
العربیءبیروتءوط:مکتبة ابن تیمیةءالقاھرۃ. 

المقاصد الحسنة فی بیان کٹیرمن الأاحادیث المشتھرۃ علی الألسنة: شمس الدین 
محمد عبد الرحمان السخاوي الشافعي ءمتوفٌیٰ۹۰۲ھءدارالکتاب العربيءبیروتء 
الطبعة الأولیٰ ١٤٤٠ھ۔‏ 

المنارالمنیف فی الصحیح والضعیف: أبوعید الله محمد بن أبي بکر ابن قیم الجوزیة 
الحنبليءمتوقی۱٥۷ھ‏ ءدارعالم الفوائدءمکةالمکرمةءالطبعةالأولیٰ۸٤٣۱ھء‏ وط: 
المکتب الاسلامی ءبیروتءالطیعةالأولیٰ ٠‏ ۱۳۹ھ. 

الموضوعات: بوالفرج عبد الرحمان ابن الجوزيتوفًیٰ ۹۷٥ھ؛المکبةالسلفیةء‏ 
المدینةالمنورةءالطبعةالاأًولیٰ٦۱۳۸ھءوط:‏ مکتبة اضواء السلف الریاضء الطبعة 
الأولیٰ۸٤١٢۱ھ‏ 

الموطً:إمام مالك بن ُنسەمتوفی ۱۷۱ھ ءمجموعة الفرقان التجاریةءدبي ١١‏ ٤٢۱ھ.‏ 
المھذب فی اختصار السٹن الکبیر:؟ إسام أبوعبد الله محمد بن أحمد الذھبيءمتوفٌیٰ 
۵۸ھ دارالوطنءالطبعةالأولیٰ ١٤٤٦ھ‏ 

نوادر الأأاصول في أحادیث الرسول:اأبو عبدالل محمد الحکیم الثرمذيء متوقّیٰ 


۰٠٘ھءدارالنوادر‏ ءدمشقءالطبعة الأولیٰ ١٤١٤١ھ۔‏ 
.213163۵1 اط ۶۲۱٥۰۵۵۸۵١۱‏ 


۔٦‎ 


۷۔ 


۹۰۔ 


و 


۴) 


ھ٦‎ 


و کت 


تفسیر 
احکام القرآن الکریم: إسام أبوجعفرأحمد بن محمد بن سلامةالطحاوي؛متوقی 
٢۲ھ‏ ءم رکزالبحوث الإاسلامیةءاستانبول ءالطبعقالاأولیٰ۸٤١٢۱ھ.‏ 
احکام القرآن: حجة الاسلام إسام أبوبکرأحمد بن علي الرازي الجصاص متوفٌیٰ 
۰ھ ءدار إحیاء التراث العربيءبیروت١٤١٤١١٤٣ھ.‏ 
تبیان القرآن:علامةغلام رسول سعیدیمتوفٌیٰ ٦۲۰۱.ءفریدبك‏ سالء لاھور. 
تفسیر القرآن العزیز: إسام عبد الرحمن بن محمد إدریس بن أيي حاتم الرازيء متوفٔی 
۷ھ ءمکتبةنزارمصطفی الباز؛مکةالمک رمةءالطبعةالثانیة۹١١٤۱ھ.‏ 
تفسیرالفر آن العظیم:عماد الدین إسماعیل بن عمرین کثیرالشافعيءمتوفٰیٰ٤‏ ۷۷ھء 
دارطیبةءالریاضءالطبعةالثانیة٠‏ ١٣٤١ھء‏ وط::مؤسسة قرطبةء الطبعة الأولی ١٤٣٤۱ھ۔‏ 
تفسیر المنار:شیخ محمد رشید رضاءمتوفٔیٰ ١٣۱۳ھ‏ ءالمکتبة التوفیقیةءالقاھرۃ. 
النفسیرالمنیر: دکشوروھبة الز حیليءمتوقیٰ ٢۲۰۱ءءدارالفکر‏ ؛دمشقءالطبعة الأولیٰ 
۳۲ھ 
تفسیرالنسائي: إمام أبوعبدالرحمان أحمد بن شعیب النسائي (صاحب السنن) متوفٔیٰ 
۳ھ ءمؤسسةالکتب الثقافیةء بیروتءالطیعةالأولی ١١٤۱ھ‏ 
جامع البیان عن تاویل آي القر آن: إسام اہو جعفضر محمد بن جریرالطبري؛متوفٔیٰ 
۰ھ دارھجرءجیزۃءالطبعةالأولیٰ ١٤١٤۱ھ.‏ 
الجامع لأحکام القرآن: اأبوعبد الله محمدین اأحمد المالکي القرطبيءمتوقًیٰ۸٦٥ھ ٥‏ 
مؤسسةالر سالةء بیروتءالطیعةالأولیٰ ١٤١٥ھ ٠‏ 
جلالین: إمام جلال الدین محمد بن أحمد بن محمد المحليءمتوقی ٦٤٦۸ھء‏ وجلال 
الدین عبد الرحمان بن أَبي بکرالسیوطيءمتوفیٰ۹۱۱ھءدارابن کثیردمشق۔ 
الجواھرالحسان في تفسیرالقرآن: عبد الرحمان بن محمد بن مخلوف الثعالبي 
المالکیءمتوفٔیٰ ۸۷۵ھ ءدار إحیاء التراث العربيءبیروتءالطیعةالاًولیٰ۸١٣٤۱ھ۔‏ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷۸ لطا‎ 2131331. 





۸۔ 


۹۔ 


۔٠٥۰‎ 


وہ 


الندرالمنٹورفی التفسیربالماثور:إسام جلال الدین السیوطيء متوقٌیٰ۹۱۱ھء م رکز 
هجرللبحوث والدراسات العربیةوالاسلامیةء القاھرۃء الطبعة الأولی ٤١‏ ١١٤٥ھ۔‏ 
روح المعاني فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی: أبوالفضل سیدمحمودآلوسي 
حنفي بغداديءمتوفٔیٰ ٠‏ ۱۲۷ھء مؤسسةالر سائةءبیروتءالطبعةالأولیٰ ١٤٣١ھ۔‏ 


ضیاء القرآن: جسٹس علامة پیسرمحمد کرم شاہ الأزھريءمتوفٌیٰ ۸٤١۱ھء‏ ضیاء 
القرآن پبلی کیشنزء لاھور۔ 

فتح البیان في مقاصد القر آن: سیدمحمد صدیق حسن خان بھوپاليءمتوفٔیٰ۱۳۰۷ھء 
المکتبةالعصریةء بیروتءالطبعة ١٤٢ھ‏ 

فتح القدیر: قاضي محمدبن علي الشوكانيءمتوفٌیٰ ۱۲٥١‏ ءدارابن کثیرءدمشقءالطیعة 
الأولیٰ ١٤٤١١۱ھ۔‏ 

الکشف والبیسان(نفسیرالنعلبي) أبوإسحاق اأحمدالثعلبيمتوفیٰ ٤۷٤٣ھ‏ دارالتفسیر 
جدةءالطبعقالأًولیٰ ١٤٣٥ھ۔‏ 

لباب الداویل فی معانی التتزیل: علي بن سحمدالبغدادي‌الشھیرہا لخازن:متوفیٰ 
۲ھ دارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعة الأأولیٰ ١١٤۱ھ.‏ 

معارف القرآن:مفتي محمد إدریس کاندھلويمتوفیٰ٤‏ ۱۳۹ھءمکتبة المعارفء 
شھداد پور سندھء؛طبع دوم١٤١٥ھ۔‏ 

معارف القرآن:مفتي محمد شفیع عثماني دیوبندي:متوقیٰ ۱۳۹۹ھ ءمکتبةمعارف 
القرآنء کراچی١‏ ١١٤٥ھ.‏ 

معالم الٹنزیل فی التفسیر والتاویل:إسام اأبومسحمد الحسین بن مسعود الفراء 
البغويءمتوفّیٰ ٥١٥٥ء‏ دا رطیبةءالریاض ١٤٢٥ھ‏ 

الوسیط فی تفسیرالقرآن المجید: ابو الحسن علي بن أحمد الواحدي النیشابوريء 
متوفٔیٰ ۸٦٦ھ‏ دارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعة الأولیٰ ١١٣۱ھ‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


الشحادث الموضوعةفی فضائل مات و 
لوم فآ 

۹۔- الإتقان في علوم القرآن:الامام الحافظ جلال الدین عبدالرحمان بن أبي بکرالسیوطيء 

متوفٔیٰ۹۱۱ھءوزارۃالشؤون الاسلامیة مجمع الملك فھدءالمملکةالعر بیةالسعودیة, 
شوج حصائید 

٠۔‏ إرواء الغلیل فی تخریج أحادیث منارالسبیل:مصحمد ناصرالدین الألباني؛ متوفیٰء 
المکتب الاسلامي بیروتءالطبعة الاولیٰ ۱۳۹۹ھ. 

١۔‏ اشعة اللمعات فی شرح المشکاۃ: الشیخ عبدالحق محدث دھلويٍء متوفیٰ ١١٠٥ھء‏ 
مکتبةنوریةرضویةءسکھر. 

۲٣۔‏ ِکمالُ إکمالِ المُغُلم :أبوعبد اللہ محمدبن خلیفةالوشتانی المالکیءمتوفیٰ ۸۲۸ھء 
دارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالًولیٰ ۹١٣۱ھ۔‏ 

۳٣۔‏ (ِکمال المعلم بفوائد مسلم : قاضي عیاض بن موسیٰ مالکیالأندلسيءمتوفٔیٰ ٥٥٥ھء‏ 
دارالوفاءالمنصورۃءالطبعةالًولیٰ ١١٤۱ھ‏ ۔ 

٤۹۔-۔‏ أوجزالمسالک إلیٰ موطأمالک: محمد زکریاکاندھلوي١١٤٣۱ھء‏ دارالقلمء 
دمشقءالطبعةالأولیٰ ١‏ ١٤۱ھ.‏ 

٥۔‏ بذل المجھود فی حل أبي داود: علامة خلیل أحمد سھارنپوريء متوفیٰ ١٣۱۳ھ‏ 
دارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعة الثانیة ٤٤١ھ‏ 

٦-۔‏ تحفة الابرارشرح مصابیح السنة: ناصرالدین عبدالله بن عمر البیضاويء متوفیٰ 
٥ػ۵‏ ءادارۃالثقافیةاإ(سلامیةءالطبعةالأولیٰ ٣٤٣‏ اہ 

۷۔ تحفة الأ حوذي بشرح الجامع الترمذي :عبد الرحمن مبا رکہوريء متوفٌیٰ ١۱۳۲ء‏ 
دارإحیاء التراث العربي بیروتء الطبعة الاولیٰ ۹٤٢۱ھءوط:دارالفکرءببروت.‏ 

۸۔ تشریحاتِ بخاري: مولانارشید أحمد گنگوهيء ومولانامحمد ‏ زکریا کاندھلويء 
ترتیب :مولانامحمد عبد القادرقاسميء کتب خانه مجیدیه ملتان۔ 


۹۔ تعلیق: علی الکوکب الدرتی فی شرح الجاع الترمذع : شیع سح یکپ کاؤ ای ےم 





‌ 


دی 


ایک 


۸۔ 


۹۔ 


پا 


متوقیٰ ١٤٤٠ھ‏ ءمطبعة ندوۃ العلماءءلکھنؤ؛ھند ٥۱۳۹ھ‏ 


_ التعیین ففي شرح الأریعین : نجم الدین سلیمان بن عبد القوي الطوفي الحنبلي ء متوقٌیٰ 


٦ھءمؤسس‏ الریانءبیروتءالطبعة الأولیٰ ١٤٣٥ھ‏ 

التمھیدلمافی الموطأمن المعاني والمسانید: حافظ أبوعمریوسف بن عبدالبر الئمري 

الأاندلسيیءمتوفٌیٰ ٤٤٦ھ‏ ءمطبوع:۷٦۱۹ء۔‏ 

تضویر الحوالک شرح علی موطا مالک: إسام جلال الدین سیوطيءمتوفٔیٰ۹۱۱ھء 

دار إحیاء الکتب العربیةءمصر 

امش مسرحومسمسششتہ ۱ھ 

مکتبةدارالسلامءالریاض ءالطبعةالاولیٰ ١٤٣٤۱ھ.‏ 

العوشیخ شرح الجامع الصحیح: جلال الدین عبد الرحمان بن أبي بکرالسیوطيء 

متوفٰی ۹۱۱ھء ءمکتبة الرشدہ الریاضءالطبعة الأأولیٔ ١٤٣۱ھ‏ 

تیسیر الباری شرح صحیح البخاري: علامةوحید الزمانءمتوفیٰ۱۳۲۸ھءتاج 

کمہئيءپاکستان. 

جائزۃ الأحوذي فی التعلیقات علی سنن الترمذي: ابوالنصرثناء الله مدنی بن عیسیٰ 

خانءإدارۃ البحوث الاسلامیةءینار س ءھندءالطبعةالأولیٰ١٤٣٥ھ.‏ 

جامع العلوم والحکم في شرح حمسین حدیداُمن جوامع الکلم: حافظ عبد الرحمان 

بن رجب الحنبليءمتوقٌیٰ ۷۹۰ھ ءمؤسسةالرسالةءبیروتءالطیعةالایعة٢١١٤۱ھ۔‏ 

حاشیة السندھي علیٰ صحیح مسلم: اأُبوالحسن محمدین عبد الھادي السنديء 
لتتويءمتوفًیٰٴ۱۱۳۸ھءال(مارات العربیة المتحدةءالطیعة الأولیٰ ١٤٣٠ھ‏ 

حاشیة السندھي علی النسائي: ابو الحسن محمد بن عبد الھادي السنديء التتويء 

متوفٔی ۱۱۳۸ھ ءدارالمعرفقء بیروتالطبعةالٹالئة٤‏ ١٤ھ‏ 

حاشیة السندھي علیٰ مسند أحمد: ابوالحسن محمدبن عبد الھادي السنديء متوفٔیٰ 

۸ھ وزارۃالوقاف والشؤون ن الاسلامیةءقطرءالطبعةالاولیٰ ۸ھ 


۶۲۵۰۵۵٠٥۷ طا‎ 213133۱ 





9ئ 


7ے 


۳۔-۔ 


ھ٤‎ 


۳۵۔ 


میں 


۷٣ 


۸۔ 


۶۲۹ص 


بتک 


5 


حاشیة علی الترمذي:أحمد علي سھارنفوريءمتوفٌیٰ ۱۲۹۷ھءالطاف اینڈمن زکراچی. 
زھرالربی علی المجتبی(شرح سنن الدسائي): جلال الدین عبدالرحمٰن بن أبي بکو 
السیوطی ءمتوقٌیٰ۹۱۱ءدارالمعرفةءبیروتءالطبعةالثالئة٤‏ ١٤۱ھ‏ 

السراج الوهاج من کشف مطالب صحیح مسلم بن الحجاج: أبوالطیب صدیق بن 


حسن خان القنوجی ءمتوفٌیٰ ۱۳۰۷ھ ءوزارۃالأوقاف وشؤون الاسلامیةءقطر ۷٤١٣۱ھ.‏ 


شرح صحیح مسلم: علامةغلام رسول سعیديءمتوقی ٦۲۰۱ءءفریدبك‏ سٹالء 
لاھور۔ 

عمدة القاري شرح صحیح البخاري:حافظ بدرالدین محمود بن أحمد العیني 
الحنفيء متوفیٰ ۸٥٥‏ ءدارالکتب العلمیةء بیروتءالطبعةالاأولیٰ ١٤٣۱ء‏ وط: السْخار 
للطباعة والنشرءالقاعرۃءالطبعة الأولیٰ. 

عون المعبود شرح سنن أبي داود: شمس الحق عظیم آباديءمتوقٌیٰ ۱۳۲۹ھ ء؛دارابن 
حزمءبمروتءالطبعة الأولی ١٤٣۱ھ‏ وط:المکتبة السلفیةءالمدینة المنورۃءالطبعة 
الثانیة۱۳۸۹ھ۔ 

فتح الباري شرح صحیح البخاري: أحمد بن علي بن حجرالعسقلاني:متوفٰیٔ 
۲ھ دارالفکرءبیروتءالطبعةالأولیٰ ١١٢۱ھ‏ . وط: دارطیبةءالریاض ؛:الطبعةالأًولیٰ 
٦ھ‏ 

فصح الملھم بشرح إمام المسلم: علامةشبیر أحمدعثمانيءدار إحیاء التراث العربي 
بیروتءالطبعةالأولیٰ ١٤٤٥ھ‏ 

فتح المنعم شرح صحیح مسلم: دکسور موسیٰ شاھین لاشینء دارالشروقء مصر؛ 
الطبعةالأژولیٰ ١٤٤٠ھ‏ 

الفجر الساطع علی الصحیح الجامع: محمد الفضیل بن الفاطمي المالکيء متوفی 
۸۰ھ ءمحتبة الرشدءالریاضءالطبعة الاولیٰ ١٤٤ھ۔‏ 


فیض الباري شرح صحیح البخاري: محمد انورشاہ الکشمیريمتوفیٰ ۱۳٣١‏ ھء دار 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


.00۰ر ساس الآحادیث الموضوعۃقی فضائل‌معاؤیة 


ئ٢‎ 


]اڈ 


٤ 


۔٥‎ 


یا ہے 


۔١‎ 


٢‏ ۔ 


الکتب العلمیةء بیروتءالطبعقالأولیٰ ١٤٣٤١ھ.‏ 

فیض القدیر شرح الجامع الصغیر: محمد عبد الرؤف المناوي ء متوفٌیٰ۳١۱۰ھء‏ دار 
المعرفةءبیروتءالطبعةالثائیة ۱۳۹۱ھ 

قوت المغتذي علی جامع الترمذدي: جلال الدین عبدالرحمن بن أبي بکر السیوطيء 
متوقٌیٰ۹۱۱ ءدارالنوادر ؛سوریةءالطبعقالأولی ١٤٤٢ھ.‏ 

کشف المشکل من حدیث الصحیحین: أبوالفرج عبد الرحمان ابن الجوزي متوقیٰ 
۷ھ دارالوطنالریاض۔ 

الکاشف عن حقائق السنن(شرح الطیبي علی المشکوق):شرف الدین حسین بن 
محمد الطیبيءمتوفٌیٰ ٣٤‏ ۷مءمکتبةنزارمصطفیٰ الباز؛مکةالمکرمةءالطبعةالأولیٰ ۷١١۱ھ‏ 
الکوٹر الجاري الی ریاض احادیث البخاري: أحمدین اِسماعیل الکورانيءالشافعي 
ثم الحنفيءمتوقٔیٰ۸۹۳ھءدار إحیاء التراث العربیءبیروتءالطبعة الأولیٰ ١٤٣٢۱ھ‏ 
الکو کب الدریٍعلی جامع الترمذي:الشیخ محمدیحییٰ الکاندھلويمطبعة ندوۃ 
العلماءءلکھنؤءھند٤٥‏ ۱۳۹ھ 


_ الکوکب الوھاج والروض البھاج في شرح صحیح مسلم بن الحجاج: محمدأمین 


بن عبد الله الّرمي الھرريءدارالممھاجءالطبعة الأولیٰ ١‏ ١٤٥ھ.‏ 

لمعات التتقیح فی شرح مشکاة المصابیح: الشیخ عبدالحق محدث دھلوي؛ متوقٌیٰ 
۲٣ھ‏ ءدارالنوادر ءدمشقءالطبعقةالأولیٰ ١٤١٤۱ھ.‏ 

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاة المصابیح: ملاعلي القاريءمتوفیٰ ١۱۰۱ھء‏ المکتبة 
التجاریةءمکةالمکرمةءوط:دارالکتب العلمیةءبیروت الطبعة الأوٰی ١٤١٤١ھ.‏ 

معالم السٹن شرح سنن ابی داود:أبوسلیمان حمد بن محمد الخطابيمتوقیٰ ۳۸۸ھء 
المطبعة العلمیة بحلبء الطیعة الأولیٰ ١٣۱۳ھ‏ 

المفاتیح شرح المصابیح: مظھرالدین الحسین بن محمود الزیداني الکوفي الحنفي٠‏ 
متوقیٰ ۷۲۷دءإدارۃالثقافة اللاسلامیةءالطبعة الأولیٰ ٣٤٣٤۱ھ۔‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





ارت ا 


٥٤‏ ۔ 


"٥ 


۔٦‎ 


۶۸۔ 


۹ ۔ 


+ے 


9ھ 


2ئ 


المفھم لما أشکل من تلخیص کتاب مسلم: إسام بوا لعباس احمد بن عمرالقرطبي 
المالکيءمتوفٌٔیٰ٦٦ھءداراین‏ کثیرءبیروتءالطبعقالاًولیٰ ۷١٤١٤۱ھ۔‏ 

مکمل إکمال الأکمال: علامة صحمد بن محمد السنوسي المالکی ءمتوفٔیٰ ۸۹۰ھء 
دار الکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالأًولیٰ ١٤٣٤ھ۔‏ 

منة المنعم فی شرح صحیح مسلم:صفی الدین المبا رکبوريءدارالسلامء الریاض+ 
الطبعةالأولیٰ١١٤۱ھ۔‏ 

المنعیٰ شرح موطاً: قصاضي أبوالولید سلیسمان بن خلف الباجيمتوفیٰ 
٤۹ھ‏ ہدارالکتب العلمیةءبیروت؛الطبعةالأولیٰ ١٤٤۱ھ‏ 

إشراق مصابیح السیرۃ المحمدیة بم زج أسرار المواھب اللدنیة (شرح الزرقاني 
علی المواھب): محمد عبد الباقي الزرقانيءمتوقٌی ۱۱۲ھ ءدارالکتب العلمیةء بیروتء 
الطبعةالأژولیٰ ١٤١۱ھ۔‏ 

دلائل النبوۃ ومعرفة أحوال صاحب الشریعة: إسام أبوبکرأحمدین حسین الببھقيء 
متوفیٰ ۸٥۵ھ‏ ء دارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالأولیٰ ١٤٤٥ھ‏ . 

دلائل النبوق: أبونُعیٔم أحمد بن عبد الله الأصفھانيءمتوفٔیٰ ۰٤٢ھ‏ دارالنفائسء بیروت+ 
الطبعة الغالٹف١٤٤٥ھ‏ ۔ 

زاد المعاد في ھدي خیر العباد : شمس الدین محمد بن أبي بکر این القیم الجوزیةء 
متوفٔیٰ۱٥۷ھءموسسةالرسالةء‏ بیروتءالطیعة الثالئة۹١٤٥ھ‏ ۔ 

سبل الدیٰ والرشاد في سیرۃ خحیرالعباد: إسام محمد بن یوسف الصالحی‌الشاميء 
متوفٌیٰ ٣٤‏ ۹ھءدارالکتب العلمیةء بیروت:الطبعةالأولیٰ ١١٤۱ھ‏ 


۔ سیرة البي: علامة شبلي نعمانيء علامة سیدسلیمان الندويءالفیصل ناشران وتاجران 


کتبءلاھور۔ 
شرح الشفا:علی بن سلطان القاريءمتوقیٰ ١۱۰۱ھ‏ ءدارالکتب العلمیةء ببروتء الطبعة 


2191331 ۷طا ۶۷۵۰۵۶۵۵ 


الأولیٰ ١٤١٤۱ھ.‏ 

٦٤۔‏ شرف المصطفی گڈ : امام الحافظ ابو سعد عبد الملك بن أُبي عثمان محمد بن إبراھیم 
الخ ر کوشیالنیسابوريءمتوفٔی ٤٤٥ھ‏ ءدارالبشائراإاسلامیةءبیروتءالطیعةالأولی ١٤١۱ھ‏ 

٦‏ الطبقات الکیریٰ :محمد بن سعدین من منیع الظھريءمتوفٌیٰ ٠‏ ٠ھ‏ ہار إحیاء التراٹ 
العربيبیروتءالطبعةالاًولیٰ ۷٤٢۱ھ.‏ وط:مکتبةالخانجی القاھرۃءالطبعةالأولیٰ١‏ ٢ھ‏ 
٭وط:دارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالثانیة ٣‏ ٤٣٤١ھ.‏ 

٦۔‏ کفایة الطالب اللبیب في خصائص الحبیب (الخصائص الکبریٰ)جلال الدین عبد 
الرحمان بن أبي بکرالسیوطيءمتوقیٰ۹۱۱ھءدارالکتب الحدیثیةءالقاھرةۃ. 

۷۔ مدارج الخبوۃ فارسي:شیخ عبد الحق محدث دھلويمتوفٔیٰ ١٠۱۰ھءنوریةرضویة‏ 
پبلشنگ کمپنيءلاھورءطبع دوم۱۹۹۷ء۔. 

۸۔ المواہب اللدنیة بالمنح المحمدیة: إسام أحمدبن محمدالقسطلاني:متوقیٰ ۹۲۳ھ٣‏ 
المکتب الاسلاميء بیروتءالطعقالأولیٰ ١١٣۱ھ‏ 

اُصُولِ خیئٔث 

۹۔ الإسٹاد من الدین: شیخ عبدالفتاح اأبوغدةءتوفی ١٤١۱ھ‏ ءمکتب المطبوعات 
الإاسلامیة بحلبءالطبعة الأولیٰ ١٤١٣۱ھ۔‏ 

ى٠_‏ دب الإملاء والاستملاء:الإمام أبي سعدعبدالکریم بن محمدین منصورالتمیمي 
السمعانيءمتوقٌیٰ ٥٥٦ھ‏ ءدارومکتبةالھلال الطبعقالأولیٰ ۹٤٤۱ھ‏ 

١۱۔‏ بلغة الأریب في مصطلح آثارالحبیب: إسام الحافظ سیدمرتضیٰ الحسینی الزبیديء 
متوقًیٰ ١۱۲۰ھ‏ ءدارالبشائرالاسلامیةءبیروت الطبعةالثائیة۸ ١١٤۱ھ‏ 

٢ی‏ التبصرۃ والتذ کرۃ: الحافظ الٹ الشیخ ‏ زکریابن محمد الأنصاري السنكي)متوفٌیٰ ۹۲۵ھ٤‏ 
دارالکتب العلمیةبیروت۔ 

٣۔‏ تدریب الراوي في شرح تقریب النواوي: إمام جلال الدین عبدالرحمن بن اي 
بکرالسیوطي متوقی ۹۱۱ھ ءمکتیةالکوٹرءالریاضءالطبعةالثانیة٥‏ ١٤٦ھ‏ 


۶۲۵۰۵۳٠۵۷ طا‎ 2131331. 





٤‏ التقریب والتیسیرلأحادیث البشیرالنذیر: ابو زکریامحی الدین یحی بن شرف النوويء 


متوفٌیٰ ٦۷١ھ‏ ءمکتبةالمعارفءالریاض؛الطبعقالاًولی ١٤٤ھ‏ 


۶۰۔ تقیید العلم: أبوبکرأحمد بن علي الخطیب البغداديءمتوفٔیٰء دارالاستقامةءالقاھرۃء 


الطبعةالأولیٰ ۹٤٢٥ھ‏ 


٦ں‏ التقیید والإیضاح لما أطلق وأغلق من مقدمة ابن الصلاح: إمام زین الدین عبدالرحیم 


بن الحسین العراقي ءمتوقًیٰ٦۸۰ھءمؤسسة‏ الکتب الثقافیةءالطبعةالرابعة٦‏ ١٣۱ھ‏ 


۷۔ الرسالة: إسام محمد بن إدریس الشافعيمتوقی ٢٠٢ھءمظبعةمصطفیٰ‏ البابي الحلبيء 


۔ھ۱۳٣۸ٰیلوألاةعبطلاءرصم‎ 


۸۔ الرفع والتکمیل فی الجرح والتعدیل: محسد عبد الحي اللکنوي الھندي متوقٌیٰ 


٦ھ‏ ءءکتب المطبوعات الاسلامیةء بحلبءالطبعةالثالثة ۸٤٤۱ھ ٠‏ 


۹۔ الشنذ الفیاح من علوم ابن الصلاح:الشیح برھان الدین الأبناسيمتوفٔی ۸۰۲ھ مکتبة 


الرشدءالریاضءالطبعةالأولیٰ ۸٤٣٤۱ھ۔‏ 


۰٠۔‏ ظفرالأمالي بشرح مختصرالسید الشریف الجرجانيی: أُبوالحسنات محمدعید الحيء 


اللکتوي؛متوفٌیٰ١‏ ۱۳۰م ءمکتب المطبوعات الاسلامیةءحلبءالطبعةالثالثة٦١١٤۱ھ.‏ 


۱۔ علوم الحدیث: اب وعمروعثمان بن عبد الرحمان الشھرزوري؛متوفٰٔی ٦٦٥ھءبتحقیق‏ 


نورالدین عتر؛دارالفکرءدمشق١١٤٣۱ھ۔.‏ 


۲۔ فصح المغیث شرح الفیة الحدیث:شمس الدین محمد بن عبد الرحمن السخاوي؛ 


متوفیٰ ۹۰۲ھء دارالکتب العلمیةء بیروتءالطبعةالاولیٰ ١٤٣۱ھ‏ ءمکتبة دار المٹھاج؛ 


الریاضءالطبعة الأولیٰ١٤١٤۱ھ۔‏ 


۳.۔ الفصل للوصل المدرج فی النقل: حافظ احمد بن أبي بکرالخطیب البقداديء متوفیٰ 


٣ھ‏ دارالھجرہءالریاضءالطبعة الأولیٰ ۸٤٢۱ھ‏ 


٤۔‏ الکشف الحثیث عمن رمي بوضع الحدیث: ابوالوفاء إیراھیم بن محمدالمعروف 


ببرھان الدین الحلبيمتوقٌیٰ١‏ ٤ءء‏ عالم الکتبء بیروتء الطبعة الأولیٰ ۷٣١٤٦ھ۔‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





٥.۔.‏ الکفایة فی علم الروایة: أبوبںکراحمد بن علي بن ثابت الخطیب البغداديمتوفیٰ ٤٤٦ھء‏ 
دارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالأولی ۷٤٢۱ھ‏ 


٦‏ المدخل في اصول الحدیث: إمام ابوعبداللہ الحاکم النیسابوريءمتوفٌٔیٰ ٤٤٤ھ‏ داراین 
حزمءالطبعةالأولیٰ۸٤٣۱ھ۔‏ 

۷۔ معرفة أنواع علم الحدیث: بتحقیق الفحلء اأبوعمروعثمان بن عبدالرحمان المشھور 
بابن الصلاحءمتوفٔیٰ ٦٤٦٥ھ‏ ءدار الکتب العلمیةء بیروتءالطیعة الأولیٰ ١٤٤٥ھ.‏ 

۸۔ مقدمة ابن الصلاح مع التقید والإیضاح: إمام أبوعمروعشمان بن عبدالرحمان 
المشھوربابن الصلاحءمتوفٔیٰ ٤٤٦ھ‏ ءمؤسسقالکتب الثقافیةءالطبعةالرابعة٦١٤۱ھ.‏ 

۹۔ موسوعة علوم الحدیث وفنونہ: سید عبد الماجد الغوريءدارابن کثیر ؛دمشق بیروتء 
الطبعةالأولیٰ ۸٤٣٤ھ‏ 

۰۔ الموقظة فی علم مصطلح الحدیث:شمس الدین محمدین أحمدالذھبي:متوفٔیٰ 
۸ء دارالبشائرالاسلامیةءبیروت؛الطبعة الثانیة ٢١١٤ھ ٠‏ 

۱۔ نخبة الفکرفي مصطلح أھل الأر: حافظ شھاب الدین احمد بن علي بن حجر 
العسقلانيءمتوفٌیٰ ٢۸م‏ ءدارابن الجوزيءالدمامءالطبعة الأولیٰ ١‏ ٤٣٤٥ھ۔‏ 

۲۔ النکت:حافظ شھاب الدین أحمد بن علي بن حجرالعسقلانيءمتوفی٥٥۸ھءدار‏ 
الکتب العلحیةء بیروتءالطبعة الأولیٰ ١٤١٣٤۱مءوط:المجلس‏ العلميءالجامعة 
الاسلامیةءالمدینة المنورۃءالطبعة الأولیٰ ١١٤۱ھ‏ 

۳۔ الوضع فی الحدیث:دکتور عمرین حسن عثمان فلاتہ مکتبةالغزالي ؛دمشق١١٤٣ھ.‏ 

اسماء الرَبال 

٤۔‏ الاستیعاب في معرفة الأصحاب: إمام ابوعمرویوسف بن عبد الله بن محمدین عید 
الیسس السقس رط سي تسوفقئ ٤٤٣ھ‏ دارال سکب 
العلمیةءبیروتءالطبعقالأولیٰ ١٤٣٤۱ھءوط:دارالفکرء‏ بیروت١١٤٢٤٥ھ۔‏ 


٥۔‏ الإصابة فی تمییز الصحابة:حافظ شھاب الدین أحمد بن علي بن حجرالعسقلانيء 


۶۲۵۰۵٢٠٥۷ طا‎ 2131331. 





5ھ 


۸۔ 


متوقٌیٰ۲٥۸ھ‏ ءدارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالاأولیٰ ١١٢٥ھ‏ .وط:م رکزھجرللبحوث 
والدراسات العربیة والإاسلامیةءالقاھرۃَءالطبعةالأولیٰ ۸٤٤١ھ‏ 

الإنابة إلیٰ معرفة المختلف فیھم من الصحابة:ًبوعبداللہ علاؤالدین بن قلیج الحنفيء 
متوفیٰ ٢٦۷ھ‏ ءمکتبةالرشدءالریاض۔ءالطبعقالأولیٰ ١١٣٤۱ھ۔‏ 

سد الغابة في معرفة الصحابة : إمام أبو الحسن علي بن محمدالمعروف بابن الأئیر 
الجزريءمتوقٌیٰ ٦٦٣ھ‏ ءدار إحیاء التراث العربيء بیروتءالطبعقالأولیٰ ۷٤٢۱ھ‏ 
!إکمال تھذیب الکمال في أُسماء الرجال: حافظ علاؤ الدین مغلطائي بن قلیج 


الحفيء متوفیٰ ٢٦۷ھ‏ ءدارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالأولیٰ ٢۲۰۱ء.‏ 

تاریخ الثقات: حافظ أحمد بن عبد الله بن صالح العجليءمتوفٔیٰ ٢٦۲ھ‏ ءدارالکتب 
العلمیةءبیروتءالطبعةالاژولیٰ ١١٤۱ھ.‏ 

التاریخ الصغیر: إمام محمدین إسماعیل البخاريمتوقیٰ ٢٥۲ھءدارالمعرفةء‏ بیروٹء 
الطبعةالأولیٰ١٤٤٥ھ.‏ 


۔ التاریخ الکبیر:إمام محمد بن إسماعیل البخاري:متوقی ٢٥۲ھءبدون‏ مطبعة وتاریخ۔ 


تحریرتقریب التھذیب: دکتوربشارعوادمعروف:الشیخ شعیب الأرنؤوطءمؤسسة 
الرسالةءبیروتءالطبعة الأولیٰ ۷٤٢۱ھ‏ 

تذھیب تھذیب الکمال في أسماء الرجال: شمس الدین محمدبن أحمد الذهبيء 
متوفیٰ ٣۸‏ ۷ھ ءالفاروق الحدیثیةءالقاھرۃءالطبعةالاولیٰ ١١٤۱ھ‏ 

تقریب التھذیب: حافظ شھاب الدین أحمد بن علي بن حجرالعسقلانيمتوفی 
۲ھ ءدارالفکر ءبیروتءالطبعةالاًولیٰ ١٤٣٥ھ ٠‏ 

تقریب الثقات لابن حبان: دکتورخلیل بن مامون شیحاءدارالمعرفۃءبیروتء الطبعة 
الأولیٰ۲۸٤١٤۱ھ۔‏ 

تھذیب التھذیب: حافظ شھاب الدین أحمد بن علي بن حجرالعسقلانيء متوفٔیٰ 
۲ھ دارالکتب العلمیةء بیروتءالطبیعةالأولیٰ ١٤٤٥ھ‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





٦۔‏ تھذیب الکمال فی أسماء الرجال: حافظ جمال الدین یوسف المزي‌متوفٌیٰ ١٤‏ ۷ھء 


مؤسسةالر سالةءبیروتءالطبعقالثانیة ٢١١٤ھ‏ 

۷. الکامل في ضعفاء ال رجال: إہام الحافظ أبي أحمد عبد الله بن عدي 
الجرجانيءالمتوقّیٰ ٣٣۳م‏ ءدارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعقالاأًولیٰ۸٤٣۱ھ.‏ 

۸- کتاب الفقات: حافظ محمد بن حیان الیستي ءمتوفٔی ٣٣٥ھ‏ ءدائرۃالمعارف العثمانیةء 
حیدرآباد دکنءالطبعة الأولیٰ ۱۳۹۳ھ 

۹- کتاب العلل :حافظ اأبوسحمد عبد الرحمان بن أبي حاتم الحنظلي الرازي منوفٔی 
۷ء ءمکتبة ملك الفھدءالریاض؛الطبعة الأولیٰ ١٤١٢ھ‏ 

۰۔ کتاب العلل ومعرفة الرجال:إمام احمد بن حنبل ءمتوفٌیٰ ٢٤۲ھء‏ دار الخانيء الریاض+ 
الطبعةالثانیة ٢‏ ٤١٤١ھ‏ 

۱۔ کتاب المجروحین: إسام محمد بن حبان البستي ؛متوقیٰ ٣٣۳ھ‏ ءدارالصمیعيءالریاض٭ 
الطبعةالأولیٰ ١٤٤٥ھ‏ 

۲۔ لسان المیزان:أحمد بن علي بن حجر العسقلاني؛متوقیٰ ٥۸ھ‏ دار البشائر 
الإاسلامیةءبیروتءالطیعةالأولیٰ ١٤١١٤٥ھ.‏ 

٣۔‏ معرفة الثقات: حافظ احمد بن عبد الله بن صالح العجلی ءمتوقّیٰ ٢٦۲ھءدراسةوتحقیق‏ 
عبد العلیم عبد العظیم البستوي۔ 

٤‏ معرفة الصحابة: احمد بن عبد الله بن احمد أبونعیم الأصبھاني ءمتوفٔیٰ ٤٤٥ھء‏ دار 
الوطن ءالریاضءالطبعة الأولیٰ ۹٤١٤۱ھ.‏ 

٥۔‏ المغي فی الضعفاء: شمس الدین محمد بن أحمد الذھیيءمتوقیٰ ۸٣۷ھء‏ إدارة إحیاء 
التراث الاسلامي ءقطر۔ 

٦۔‏ میزان الاعتدال في نقدالرجال: شمس الدین محمد بن أحمد الذھیيمتوفٌیٰ ۸٣۷ھء‏ 
دارالکتب العلمیةءبیروتءالطیعةالاأولیٰ ١٤٣٤۱ھ۔‏ 


۷۔ یحیي بن معین وکتایه التاریخ:دکتور أحمد محمد نورسیف م رکز البحث العلمي 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ لطا‎ 2131331. 





07 


۷ھ 


۔٥‎ 


۔٦‎ 


وی یہ 


وإحیاء التراث الإاسلامي مکةالمکرمةءالطبعة الأولیٰ ۱۳۹۹ھ. 

7 عقازمدوضلاء 
إغاثة اللھفان فی مصائد الشیطان: محمد بن أبي بکرابن قیم الجوزیةء متوفیٰ٢٥۷ھء‏ 
دار عالم الفوائدءالریاض٠‏ 


تحفةاثناعشریة: شاہ عبد العزیزمحدث دھلويی٢۲۲۹‏ ۱ھ میرمحمد کتب خانهءآرام 


باغ کراچي۔ 

تطھیرالجنان واللسان عن ثلب معاویة بن اأبي سفیان: علامةأأحمد بن حجرالھیثمي 
المکيالشافعيءمتوفٌیٰ۹۷۵ھءدارالصحابة للتراث بطنطاءالطبعة الأولیٰ ١١٤۱ھ‏ 
تکمیل الإیمان فارسی: شیخ عبد الحق محدث دھلويمتوقٌی ١٥۱۰ھ‏ ؛الرحیم 
اكیڈميءلیاقت آبادکراچي١١٤٢۱ھءومترجم‏ اردو؛الموسوم :نعیم العرفان ترجمة 
تکمیل الایمان>مکتبە اعلیٰ حضرتءلاھور٣٢۲۰۰ء.‏ 

حادثة کربلاء کاپس منظر:علامة محمدعبد الرشیدالنعماني مکتبةالحسنءلاھور. 
حضرت علي اورقصاص عثمان غنی: علامة عبد الرشید نعمانيءمکتبةاھل سنت 
وجماعتءلیاقت آبادکراچي۔ 

الروض الباسم فی الذب عن سنة أبی القاسم: محمد بن إبراھیم الوزیرالیمانيء متوفیٰ 
۸۰ دار عالم الفوائدءالریاض۔ 

سیدیٹا علي وحسین رضي الله عنھما:قاضي أطھرمبارك پوري:مکتبة سید أحمد 
شھیدءلاھورءاشاعت أُول ١‏ ١١٤۱ھ‏ 

السیف المسلول عَلی من سب الرسول كق:الشیخ تق الدین علي بن عبد الکافي 
الكيءمتوفیٰ ١٥۷ھ‏ دارابن حزمء بیروتءالطبعةالاأًولی١٤٣٤٥ھءوط:دارالغتح‏ 
عمانءالأردنءالطبعةالأولیٰ ١٤٣٤١ھ.‏ 

شر العقائد النسفیة:إمام مسعودین عمرسعدالدین تفتازانيءمتوفٔی ۷۹۰ھء مکتبة 
رشیدیةء کوئلہءوط:مکتبة الحسن ءلاھور؛وط:مکتیقالمدینةء کراچي۔ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 21313316 





و کک 


۹۶ے 


بک ون 


-۔-۔٣‎ 


مو۰ 


۔٥۰۷‎ 


۔٦‎ 


۷۔ 


۸۔ 


۵1ء2 


الصارم المسلول علی شاتم الرسول فلگا:علامۃاحمدین عبدالحلیم ابن تیمیةءمتوفٔی 
۸ھ ءالمکتب الاسلامي ءبیروتءالطبعةالاًولیٰ ١‏ ١٤۱ھ.‏ 

الصواعق المحرقة فی الرد علی اُھل البدع والزندقة : علامةأحمد بن حجرالھیٹمي 
ال مکي الشافعي ءمتوفٌیٰ ۹۷۵ھ ءمکتبقفیاض منصورةءالطبعةالأولیٰ ١٤١۱ء‏ وط: دار 
الوطنالریاضءالطبعةالأولییٰ ۷١٣۱ھ‏ وط:مکتبةالقاھرۃءالطبعةالثانیةہ ۱۳۸ھ 

العلم الشامخ في تفضیل الحق علی الّباء والمشایخ: صالح بن مھدي المقبلي؛ 
متوفًیٰ۱۱۰۸ھء طبع بمصرءالطبعةالأًولیٰ۱۳۲۸ھ. 

العواصم من القواصم: ابوبکربن العربی‌المالکي ءمتوفٔیٰ٥٥٥ھءدارالکتب‏ العلمیة ء 
بیروتءالطبعةالثالثة٥ہ‏ ١٤١ھ‏ 

العواصم والقواصم فی الذب عن سنة أبی القاسم: محمد بن إبراهیم الوزیر الیماني؛ 
متوفٌیٰ ۸۰ھ مؤسسة الرسالةءبیروتءالطیعة الثانیة ١‏ ١٤۱ھ۔‏ 

فیضانِ امیرمعاویة تثچچہ:مجلس المدینةالعلمیةءمکتبةالمدینة کراچيءباراول ٦۲۰۱ء۔‏ 
مختصر تطھیر الجنان: اختصرہ:سلیمان بن صالح الخراشيءدارعلوم السنةء الریاضء 
الطبعة الأولیٰ ١٤١٤٥ھ.‏ 

مختصرالحجة علیٰ تارک المحچة: أبوالفتح نصرین إبراھیم المقدسيء متوفیٰ 
۰ءء أضواء السلفءالریاض ۔ 

مقصد حسین علل:مولانامحمد إسحاق مدني ءمتوفی ٢۲۰۱ءءسلطان‏ العلماء اکیڈميء 
فیصل آباد, 

بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع:أبوبکربن مسعودالکاسانيءمتوقیٰ ۸۷٦٥ء‏ دارالکتب 
العلمیةءبیروتءالطبعةالاأولی ۸١٣۱ھ‏ 

بھار شریعت:[تخریج شدہ ایڈیشن]مولانامحمد أمجد علي اأعظمیء متوفٌیٰ ۱۳۷ھء 
مکتبة المدینةء کراچي۔ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ لطا‎ 2131331. 





کے یی 


۔٣‎ 


4 


"٤ 


یج 


۷ 


شرح أدب القاضيی:حسام الدین عمرین عبد العزیزبن مازۃالبخاريءالمعروف بالصدر 


الشھیدءمتوفٌی ٥٥٢ھ‏ ءمطبعة الارشادءبغدادءالطیعة الأولیٰ۱۳۹۷ھ۔ 
فتاوی عزیزي:شاہ عبد العزیزمحدث دھلويء۱۲۲۹ھءایچ ایم سعید کمپني کراچی+ 
سنة الطبع ۷ھ 
فتح القدیر فی شرح الھدایة: إمام کمال الدین محمدین عبدالواحدالمعروف بابن 
الھمام متوقٌیٰ١‏ ۸٣ھ‏ ءدارالکتب العلمیةء بیروتءالطبعقالأًولیٰ ١١٤٥ھ‏ 
المبسوط: شمی الأئمة أبوںکرمحمدین احمدین أبي سھل السرخسي)متوقٌیٰ ۰٤٠ھء‏ 
دارالکتب العلمیةءبیروت؛الطبعةالأولیٰ ١٤٣۱ھ‏ ءوط: دارالمعرفةءبیروت, 
المحیط البرحاني فی الفقه النعماني:برھان الدین ابوالمعالي محمود بن اُحمد بن عبد 
العزیزابن مازۃالبخاريءمتوفیٰ ٦٦٢ھ‏ ءدارالکتب العلمیةء بیروتءالطبعةالأولیٰ ١‏ ١١٤٥ھ.‏ 
مختصرالقدوري: إمام ابوالحسین أحمد بن محمد المعروف بالقدوريء متوفٔی 
۸ءھ دارالریان ء؛بیروتءالطبعة الأولیٰ ١٤٤٥ھ‏ 
الٹھر الفائق شرح کنز الدقائق: سراج الدین عمرین إبراھیم ابن نجیم الحنفيء 
متوفیٰ١١٠٥ھءدارالکتب‏ العلمیةءبیروت:الطبعةالأولیٰ ١٤١۱ھ‏ 

فقه شافعو 
فتاوی ومسائل ابن الصلاح:تقي الندین ابوعمروعثمان این المفتي صلاح الدینء 
الموصلیي ءمتوفیٰ ٦٦١ھ‏ ءدارالمعرفةءبیروت؛الطبعة الأولیٰ ١٤٤٥ھ‏ 

ققه حنبلؤ 
أحکام أھل الذمة: ُبوعبدالل محسدین أبي بکر ابن قیم الجوزیة الحتبلي متوفی 
۱٦ھ‏ ءرمادي للنشر ءالدمامءالسعودیةءالطبعةالاًولیٰ ۸٤٣٤ھ‏ 
فتاوی اللجنة الدائمة: جمع وترتیب:أحمد بن عبد الرزاق الدرویش دار المؤیدء 
الریاضء الطبعة الأولیٰ ٤١‏ ١٤۱ھ‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


۔٥٠‎ 


ث٭‌ھ 


۔٦٣‎ 


٤ 


۔٥‎ 


۔٦‎ 


۷-۔ 


۔٥۸‎ 


ا 


مع ا ہیں 

عون القدیرمن فتاوی ورسائل ابن الأمیر:محمد بن إسماعیل الأمیرالصنعانيء 
متوقًیٰ ۱۱۸۲ھ ءدارابن کثیرءدمشقءالطبعةالأولیٰ ١٤٣۱ھ۔‏ 
فتاوی نذیریة: سید محمد نذیرحسین محدث دھلويمتوفیٰ ۱۳۲۰ھ ءمکتبةأاصحاب 
الحدیثءلاھور ۲۰۱۰ء 
کنوزالحقائق من فقه حیرالخلائق: علامةوحید الزمان ءمتوفیٰ۱۳۲۸ھءمطبع شوکت 
الاسلامءبنگلور ھندوستان ۱۳۳۲۰ھ۔ 

توغیں وتر لیب 
جامع بیان العلم وفضلہ:إمام ہو عمرویوسف بن عبد الله بن محمدین عبد 
البرالقرطبی ءمتوفٔیٰ ٤٤٥ھ‏ دارإبن الجوزيءالدمامءالطبعةالرابعة۹١٤١۱ھ.‏ 
سفرالسعادة: مجدالدین محمد بن یعقوب الفیرو زآبادي:عتوقًیٰ٦۸۲ھ؛دارالقلمء‏ 
بیروتءالطبعةالأولیٰ١٤٤٥ھ.‏ 
الکبائر:أبوعبدالله محمد بن عثمان الذھبيءمتوفٌٔیٰ۸٣۷ھءداراین‏ کثیر ؛دمشق۔ 
ما ثبت بالسنةعن أعمال السنة:عربي واردو: شیخ عبدالحق محدث دھلويءمتوفٔیٰ 
٢٣ھ‏ د۔دارالاشاعت: کراچي ١٤٣٤۱ھ.‏ 
مدارج السالکین: محمد بن أبي بکرابن قیم الجوزیةءەتوفٔی۱٥۷ھء‏ دار الصمیعي+ 
الریاضءالطبعة الأویٰ ١٤١٤٦ھ۔‏ 
الأاحادیث الواردة في فضائل الصحابة : د کتورسعود بن عید بن عمیرالصاعديء 
الجامعةالاسلامیةءالمدینةالمٹورۃءالطبعةالاًولیٰ ١٤١۱ھ‏ 
إمام حسین ظداور واقعة کربلا: حافظ محمد ظفرالله شفیقءمعاصرءإدارہ صراط 


مستقیملاھور۔ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 


دشر س سی گال ا ات 


+۶ 


تو 


و ا 


۔٢٤٢‎ 


ا لم 


کے 


چاو 


ہیک 


۹ئ 


*ھ۰٠٣6ك7٢‎ 


الانوار الباھرۃ بفضائل أھل البیت النبوي والذریة الطاھرة: أبوالفتوح عبد الله بن 
عبد القادر التلیدي ءمکتبة الامام الشافعي ءالریاض؛ءالطبعة الأولیٰ۷٤١٢۱ھ۔‏ 

جامع کرامات الأولیاء: إسام یوسف بن اِسماعیل النبھانيءمتوقیٰ ١٣۱۳ھ‏ ءدارالکتب 
العلمیة ءبیروتءالطبعةالولیٰ ۷١١٣۱ھ۔‏ 

حدائق بخشش: إمام أحمدرضاحنفيءمتوقی ١٣۱۳ھ‏ ءمسلم کتابويءلاھور. 

در السحابة في ذکر شھداء الصحابة: دکٹورالسید بن حسین العفانيءمعاصرء دار 
العفانيالقاھرۃءالطبعة الأولیٰ ١٤١٤١ھ۔‏ 

در السحابة في مناقب القرابة والصحابة: قاضی محمدین علی الش وکاني؛ متونّیٰ 
٠۰‏ دارالفکر ءدمشقءالطبعةالأاولیٰ ١٤١٤٥ھ۔‏ 

الریاض النضرۃ في مناقب العشرۃ: صحب الدین أحمدالطبريءمتوفی ٤‏ ۱۹ء دارالغرب 
الاسلاميءبیروت:الطبعقالأولیٰ۱۹۹۲ءوط:دارالمعرفةءیروت:الطبعةالأولی ۸١٤۱ھ‏ 
سرت عائشة رضي الله عٹھا: سید سلیمان الندوي:متوقٌیٰ ۱۹۵۳ءءمکتبة إسلامیةء 
لاھور ٥٢‏ ٢۲۰۰ء‏ 

سیرت عمربن عبد العزیز:مولاناعبد السلام ندويءدارالشاعتء کراچي۶٠۲۰۰ء.‏ 
سیرت ومناقب عمرین عبد العزیز : حافظ جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمان بن 
الجوزيمتوفٔیٰ۹۷٦ھءدارالکتب‏ العلمیةءبیروت١١٤٣٥ھ۔‏ 

شان سیدنا امیرمعاویدءتر جمة:تطھیرالجنان: محمد مجاھد العطاری القادريءأکبر 
بك سیلرزءلاھورء٤‏ ۹٢۲۰ء.‏ 

شرح أُربعین إمام حسین شلہ:شسخ عبد اللے دانشءمعاصرءالعاصم إسلامك 
بکسلاھور ٥٢۲۰۱ء۔‏ 

صفة الصفوۃ:عبد الرحمان این الجوزيءمتوقّیٰ ۹۷٦ھءدارالحدیث‏ القاھرۃء١‏ ٤٤٥ھ‏ 
فضائل الصحابة:إمام أبوعبدالل أحمدین محمدین حنیلءعتوقٌیٰ ٢٤٢ھ‏ داراین 
الجوزيءالدمامءالطبعةالثالثة٦٤١٤١ھ۔‏ 


۶۲۵۰۵۳٠٥۷ طا‎ 2131331. 





از نیک 


وہ 


۔:۶٥‎ 


۹ھ 


بک 


۵۸ػ۔ 


کی 


۔٥٠۰‎ 


۹ھ 


۱۲۔ 


-۔-٣۳‎ 


فضائل الصحابة: إمام اُبوعبدالرحمان أحمدبن شعیب النسائي متوفٔیٰ٣۳۰ھء‏ دار 


الکتب العلمیةءبیروتالطبعةالأولیٰ ١٤٤١ھ‏ 

محض الصواب في فضائل عمربن الخطاب شچہ:یوسف بن الحسن بن عبد الھادي 
الدمشقي ءمتوفٔی۹ ۰ھءمکتبة أضواہ السلفءالریاضءالطبعة الأولی ١٤٤٦ھ‏ 
المرتضیٰ:علامةاًبوالحسن علي الندويء متوفٔیٰ ١٤٤٥ھءدارالقلم‏ دمشقء الطبعة 
الثانیة۹٤١٤۱ھءوط:مترجم‏ اردوءمجلس نشریاتِ اسلامءناظم آبادء کراچي ١٤١۱ھ.‏ 
المقامات العلیة فی الکرامات الجلیة: أبوالفدح محمد بن محمد بن سید الناسء 
متوفٌٔیٰ ٣۷۳م‏ ءدارالملاح للطباعة والنشرءالطبعة الأولیٰ ١٤٣۱ھ‏ 

مناقب الامام أحمد: أبوالفرج عبد الرحمان ابن الجوزيءمتوقیٰ ۹۷٥ھءمکتبة‏ 
الخانجیءمصرءالطیعقالأولیٰ۹۹٢۱ھ.‏ 

مناقب الژام الشافعی: إسام فخرالدین محمدین عمرین الحسینالرازي؛متوفیٰ 
٦ھءمکتبةالکلیات‏ الأزھریةءالقاھرۃءالطبعقالأولیٰ١٣٤١٤۱ھ.‏ 

مناقب الإمام الشافعی : حافظ أبو الفداء (سما عیل بن کثیرالشافعیءمتوقیٰ٤‏ ۷۷ھء 
مکتبةالإمام الشافعیءالریاضءالطبعةالأولی ١٤١۱ھ.‏ 

مناقب الشافعي:[مام أبوبکر أحمد بن الحسین البيهقي ء متوفیٰ ۸٥٥ھ‏ دار التراثء 
القاھرةءالطبعةالأولیٰ ۰ ۱۳۹ھ 

مناقب سیدنا امیرمعاویه لہ : شرجمة:تطھیر الجنان:مولاناعبد الشکور لكھنوي؛ 
مکتبة امداديهءملتان۔ 

تھهذیب الٔأسماء واللغات: علامة یحییٰ بن شرف النوويمتوفٌیٰ ٦۷١ھ‏ ءدارالفکر . 
بیروتءالطیعةالأولیٰ١٤٣٤۱ھءوط:إدارة‏ الطباعة المنیریة۔ 

خزانة الأدب ولب لباب لسان العرب:عبدالقادربن عمر البغداديء 
متوقٔیٰ۰۹۳ ١ھءمکتبة‏ الخانجي بالقاھرۃءالطبعة الرابعق۸١٤٦ھء‏ 


۶۲۵۰۵۵٠۵۷ لطا‎ 2131331. 


لحادیث الم وضوعةفی فتضائل معاوید ل7 مسا 06ا2 


۹۶۔ 


۔۵٥۰:‎ 


۔٥٠٦‎ 


-۷۱ 


۰۸۔ 


۹۔ 


۔٣‎ 


کا بک 


ھ٤‎ 


الکامل فی اللغة والآدب: إسام أبوالعیاس محمد المبردہ متوفی ۲۸۵ھ ءوزارةالأوقاف 

والشؤون الاسلامیةء السعودیة. 

لسان العرب: إمام محمدین مکرم المعروف بابن منظورالأفریقيمتوفی۷۱۱ھءدار 

إحیاء التراث العربيء بیروتءالطبعة الأولیٰ ١٤٣٤٦ھ.‏ 

مجمع بحار الأنوار: مطبعة مجلس دائرۃ المعارف العثمانیة بحیدر آباد دکنء ھندء 

الطبعة الاولیٰ ۱۳۷۸ھ 

مصباح اللفات:عبدالحفیظ بلیاوي ءمدینةپیلشنگ کمپنیءکراچیءالطبعةالاأولیٰ۱۹۸۲ء. 
سی تارذ 

أثرأھل الکتاب فی الفتن والحروب الأھلیةءفی القرن الأول الھجري: دکتورجمیل 

عبد الله المصريءمکتبة الداربالمدینة المنورۃ١١٤١٢٥ھ۔‏ 

إزالة الخفاء عن خلافة الخلفاء:شاہ ولی اللّه دھلوي ءمتوفٔی ٦۱۱۷ھ‏ قدیميکتب 

خانه آرام باغء کراچی. 

آسماء الخلفاء والولاۃ وذکر مددھم:ملحق بجوامع السیرۃ: بومحمد علي بن 

اُحمد بن سعید بن حزمءمتوقی ٤٥٢ھ‏ ءدارالمعارف بمصر۔ 

أمیرالمؤمنین الحسن بن علي بن أبي طالب: دکتور علي محمد الصلَابيء دار التوزیع 

القاھرۃ ء الطبعةالأولیٰ ١٤٤۱ھ.‏ 

الانساب: اأبوسعد عبدالکریم بن محمد بن منصورالسمعانيمتوفٌیٰ ٥٦٥٦٥ھء‏ دار 

الجنانءبیروتءالطبعةالأولیٰ ۸٤٤٥ھ‏ ۔ 

اُنساب الأشراف: أحمد بن یحۓ المعروف بالبلاذريەمتوفی۲۷۹ھء دارالفکرء 

بیروتءالطبعةالأولیٰ ۷١١٤۱ھ۔‏ 

الدایة والٹھایة:إِسماعیل بن عمرین کثیرالشافعيءمتوقیٰ ۷۷١‏ ھءدارابن کثیرء 

دمشقءالطبعة الأولی ۸٤٣۱م‏ ءوط: دارھجرءالطبعقالاًولیٰ ۷١١۱ھءوط:مترجم‏ اردوء 


نفیس اکیڈمي کراچيءطبع اوّل ۱۹۸۷ء 


۶۲۵۰۵۳٠٥۵ طا‎ 2131331. 





"۷ 


۹۔ 


٠ 


۔٣٦‎ 


بستان المحدثین:شاہ عبد العزیزمحدث دھلويءمتوفٌیٰ۱۲۲۹ھءایچ ایم سعید 
کمہني ؛کراچي. 

بغیة الطلب فی تاریخ حلب: کمال الدین عمرین أحمد المعروف بابن العدیم ء 
٦٠ھ‏ دارالفکرءبیروت۔ 

العاج المکلل من جوھرماآثرالطرازالآخروالأاول: سیدمحمد صدیق بن حسن 


القنوجی ءمتوقیٰ ۱۳۰۷ھ ءدارالسلامءالریاضءالطبعةالأولیٰ ١٤٣۱ھ.‏ 


تاریخ ابن خلدون: عبد الرحمان بن خلدونءمتوفیٰ۸۰۸ھء دارالفکر؛ بیروتء 
۷۳ھ 

تاریخ الإسلام ووفیات المشاہیروالأعلام: إسام شمس الدین محمدبن احمدبن 
عثمان الذھبي متوفیٰ۸٣۷ھ‏ ءدارالکتاب العربيءبیروت؛ الطبعة الثانیة ١١١۱ھ‏ 
تاریخ بغدا۵: حافظ أبوبکر أحمد بن علي بن ثابت الخطیب البغداديءمتوفیٰ ٤٤٦ھء‏ 
دارالکتب العلمیةءبیروتءوط: أیضادارالکتب العلمیةءبیروتءالطبعةالأًولیٰ ١٤١۱ھ۔‏ 
تاریخ الخلفاء: الامام الحافظ جلال الدین عبدالرحمان بن أبي بکر السیوطي؛متوفٔیٰ 
ہہ ھءوزارۃالشؤون ال ۔سلامیةءقطرءالطبعةالثائیة٤‏ ١٤٥ھ‏ 

تاریخ الأمم والملوک : إمام أبو جعفر محمد بن جریر الطبري ء متوفٌیٰ ٣۰٣۳ء‏ دار 
الکتب العلمیةالطبعةالأولیٰ ١٤٣٤٥ھءوط:دارالمعارفءمصرالطبعةالثانیة۱۳۸۷ھ.‏ 
تاریخ خلیفه بن خیاط : إسام العلامة أبي عمرو خلیفة بن خیٍّاط العصفريٍء متوفٰیٰ 
٤٠ھ‏ ءدارطیبةءالریاضءالطبعةالثائیة ١٤٥٤٦ھ.‏ 

تاریخ عمربن الخطاب طچہ: أبوالفرج عبدالرحمان ابن الجوزي متوفٌیٰ ۹۷٦ھ‏ دار 
المعرفةءبیروتالطبعةالأولیٰ١٤٣٤١ھءوط:المکتبة‏ التجاریة الکبری